Translater
05 دسمبر 2020
ڈوبتے بینکوں نے پریشانی بڑھائی !
بین الا قوامی مالیاتی ٹیسٹنگ ایجنسی موڈیز نے حال میں ابھرتے بازاروں کی مالیا تی اداروں کی حالت پر تازہ رپورٹ پیش کی ہے اس نے کہا ہے کہ آنے والے دو برسوں میں بھارت اور سری لنکا میں بینکوں کے سرمایہ سطح میں گراوٹ دیکھنے کو ملے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کو نیا سرمایا نہیں ملا تو سرمایہ میں گراوٹ ہونے کے سبب بینکوں کے پاس قرض دینے کے وسائل کم رہیں گے جب بینک قرض نہیں دے گا تو بینک مشکل میں پھنسیں گے بھارت کے کئی سرکاری بینک اس مشکل میں پہلے ہی پھنس چکے ہیں ڈوبتے بینکوں میں اور زیادہ سرمایا ڈا ل کر سرمائے کو ڈوبونے کی طرف دھکیلنے کا اندیشہ پیدا ہوجا تا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ پیسہ ڈالنے کے بعد بھی بینکوں کی مالیاتی پوزیشن میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے کل ملاکر کورونا نے تمام چیلینج پیش کردئے ہیں اور بینکنگ دنیا کی چنوتی ان میں سے ایک ہے وسائل محدود ہیں ڈوبتے بینکوں میں جھوکا جائے اور ان کو بریک کرکے وسائل حاصل کیئے جائیں سرکار کو جلد اس مسئلے پر گہرا محاسبہ کرنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
کیجریوال سرکار کا زرعی قانون لاگو کرنے پر چھڑا تنازعہ!
مرکزی سرکار کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف چل رہی تحریک درمیان دہلی حکومت نے ایک قانون کو نوٹی فائی کردیا ہے اس قانون کے تحت اب دہلی کے کسان منڈی کے باہر بھی اپنا اناج پھل سبزی بیچ سکتے ہیں ۔ دراصل دہلی میں پہلے سے ہی زرعی اجناس بازار کمیٹی قانون نافذ ہے ۔ اس ایکٹ کے تحت 2014سے ہی منڈی کے باہر پھل سبزی وغیرہ بیچنے کی سہولت تھی حکام کا کہنا ہے دہلی میں نیا قانون لاگو ہونے سے کسان اب اپنی دوسری فصل بھی منڈی کے باہر بیچ سکتے ہیں ۔ اس کا خاص اثر اناج پر پڑے گا نئے نوٹیفیکشن میں کسانوں کو منڈی سے باہر اپنا سامان بیچنے کی سہولت ہوگی ادھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کسان آندولن کو لیکر دہلی میں آپ سرکار کے دوہرے رویہ پر حیرانی ظاہر کی ہے ۔ عآپ حکومت کی جانب سے زرعی قانون کو نافذ کرنے سے اس کے ساتھ اس کے کسان کے ساتھ کھڑے ہونے کے دعووں سے پردہ اٹھ گیا ہے ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن نے کہا کہ ایک طرف عآپ سرکار آندولن چلا رہے کسانوں کی حمایت کا دعوی ٰ کر رہی ہے وہیں دوسری طرف گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کر ان کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے ۔ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کیجریوال گونمنٹ نے مرکزی قوانین کو بے اثر کرنے کے لئے پنجاب کی طرز پر دہلی میں کوئی ترمیم بل پاس کرنے میں ناکام رہے ۔ دہلی سرکارکی طرف سے اس قدم سے عآپ کی نیت اور آئیڈیولوجی کا پردہ فاش ہوگیا وہیں دہلی سرکار طرف سے نافذ ہونے پر بھاجپا بھی حملہ آور ہے پارٹی کے ایم پی منوج تیواری کا کہنا کہ نوٹیفیکشن کیجریوال سرکارک ی عقل کوا جاگر کرتی ہے اب وہ کسانوں کو گمراہ کرکے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے وہیں عآپ نے کہا بھاجپا ملک مخالف مہم کونہیں سلجھا پارہی ہے انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کو گمرا ہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے عآپ کا کہنا ہے کہ کسانوں سے گھرنے کے بعد بھاجپا کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر جاری تحریک سے کیسے نمٹیں ؟ اس کے چلتے وہ اشو سے بھٹکانے کے کام کر رہی ہے ۔دہلی سرکارکا جو نوٹیفیکشن ہے وہ کسانوں کو باہر کہیں بھی سبزی بیچنے کا حق دیتا ہے ۔ دہلی میں سبزیوں کو لیکر پہلے سے ہی یہ سسٹم رائج ہے اب اناج پر بھی یہ لاگو کردیا گیا ہے سرکار منڈی نہیں ختم کرنے جارہی ہے کسان اس کے خلاف ہیں ۔
(انل نریندر)
تنازعہ خاتمے کےلئے سو دیشی جاگرن منچ کے چار سجھاو!
نئے زرعی قوانین پر مرکزی سرکار اپنی اتحادی جماعت اکالی دل کو نہیں منا پائی اس وجہ سے اس نے این ڈی سے باہر ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے بعد این ڈی کی دوسری اتحادی جماعت راشٹریہ لوک تانترک پارٹی نے بھی کسان آندولن کے درمیان مرکزی سرکار کو دھمکی دے ڈالی ہے پارٹی کے ایم پی ہنومان بینی وال نے این ڈی چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی طاقت کسان اور فوجی ہیں اگر مودی سرکار کوئی فوری کاروائی نہیں کرتی ہے تو مجھے این ڈی کے اتحادی ہونے پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے ۔ اس درمیان خبر ہے آر ایس ایس سے وابستہ دو تنظیمیں بھارتی کسان سنگھ اور سو دیشی جاگرن منچ نے بھی زرعی قوانین سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے ۔منچ کے قومی کنوینر اشونی مہاجن نے کہا کہ ہمیں بھی نئے زرعی قوانین میں کچھ خامیاں نظر آرہی ہیں انہیں لگتا ہے کہ اس میں اصلاح ہونی چاہئے کسان آندولن کا کیسے حل نکلے گا اس مسئلے پر بی بی سی نے منگل کے روز ویبنا رکے ذریعے مباحثے کا انعقاد کیا تھا۔ اس مباحثہ میں سو دیشی جاگرن منچ کے قومی معاون صدر اشونی مہاجن نے کہا کہ یہ نئے قوانین کسانوں کے مفاد میں تو ہیں لیکن کوئی بھی نیا قانون آئے تو اس میں اصلاح کی گنجائش رہتی اس سلسلے میں وہ چار اصلاحات بتاتے ہیں اصلاح نمبر۱۔اگر سرکار کسان کو اناج منڈی سے الگ کر رہی ہے تو نئے پرائیویٹ تاجر جو کسانوں کی اجناس خریدیں گے وہ اپنے کرٹل نہ بنا لیں اس کو روکنے کے لئے قانون میں اصلاح ضروری ہے اصلاح نمبر ۲۔بھارت کو غذائی سیکورٹی یقینی بنانی ہے تو سرکار کو کساکو بھی محفوظ رکھنا ہوگا اس لئے کسان کو اپنی اجناس کی لاگت سے بیس سے تیس فیصدی اونچے دام ملیں سرکار کو یہ یقینی بنانا چاہئے یہ سسٹم قانون کے ذریعے ہی یقینی ہوپائے گا۔ مرکزی سرکار کو اس کے لئے فلور پرائز طے کرنی چاہئے ۔اصلاح نمبر ۳۔نئے زرعی قوانین میں کنٹریکٹ فارمنگ کا انتظام کیا گیا ہے لیکن کسان کسی بھی تنازع کی صورت میں معاملے کو اے ڈی ایم کے پاس لے جاسکتا ہے لیکش اشونی مہاجن کی رائے میں کنٹریکٹ فارمنگ میں اگر کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے تو اے ڈی ایم کے پاس جانے کے بجائے الگ سے کسان عدالت ہونی چاہئے اس کے پیچھے دو وجہ بھی بتاتے ہیں ان کے مطابق عام کسان ایس ڈی ایم تک پہونچ نہیں ہوتی ۔اصلاح نمبر ۴۔کنٹریکٹ فارمنگ میں کسان کو اپنی فصل کی قیمت تب ملتی ہے جب فصل کی کٹائی ہوجاتی ہے ۔مرکزی سرکار کو ایسا سسٹم کرنا چاہئے کہ کچھ وقت کے بعد قستوں میں کل طے قیمت کی ادائیگی کسان کو ہوتی رہے ۔ اس لئے ایک بار جب کسان اور پرائیوٹ پارٹی کے درمیان کنٹریکٹ ہوجاتا ہے تو بیج بونے ،کیڑے مار دوا کے چھڑکا و سے اور سینچائی تک میں کسان کو بہت پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے ایک نئے سسٹم میں اب دلال نہیں جنہیں خود بی جے پی نیتا کسان کا اے ٹی ایم کہتے آئے ہیں تو سرکار کو ان کے لئے نئے اے ٹی ایم سسٹم طے کرناچاہئے ایم ایس پی کوئی فارمولہ سرکار نکال سکتی ہے اشونی نے اصلاح نمبر دو میں جس فلور پرائز کی بات کہی ہے دراصل کسان اسے ہی کم سے کم مارجنل قیمت کہہ رہی ہے ۔ کسانوں کی مانگ ہے کہ مرکزی سرکار تحریر میں انہیں یقین دہانی کرائے کی ایم ایس پی جاری رہے گی اور سرکار ی خرید بھی اسی مسئلے پر مرکزی سرکار اور کسانوں کے درمیان سب سے زیادہ اختلافات ہیں امید کی جاتی ہے وہ کسانوں کی جائز مانگوں پر غورکرکے نئے قانون میں ترمیم کرے گی اگر ایسا ہوتا ہے تعطل ختم ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)
04 دسمبر 2020
آ ر ٹی پی سی آر جانچ اب 800روپئے میں !
راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن کے حالات سنگین ہونے کے دیکھتے ہوئے پرائیوٹ لیب اور اسپتالوں میں آ ر ٹی پی سی آر جانچ اور ٹیسٹ کے دام کم کرنے کے دہلی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم ہے اب یہ ٹیسٹ 2400روپئے سے گھٹا کر 800روپئے کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیسٹ کراسکیں گے اگر گھر میں بلاکر سیمپل دیا جائے گا تو اس کے لئے 1200روپئے ادا کرنے ہونگے دہلی سرکار کے اس حکم کا فائدہ ان لوگوں کو ضرور ہوگا جو پرائیوٹ لیب میں جانچ کرواتے ہیں اس کے علاوہ لیب کو اپنے یہاں جانچ کی قیمت دیئے جانے کا حکم دکھانے کا بھی کہا گیا ہے قابل ذکر ہے کووڈ جب شروع ہواتھا تب آر ٹی پی سی آر جانچ کی قیمت 4500روپئے تھی عدالت نے بعد میں اس کی قیمت 2400طے کردی تھی ۔ دہلی میں جس طرح کورونا انفیکشن پھیلا ہوا ہے اسے کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے سرکاری لوگ اس کی بھروسہ مند جانچ کرائیں اگر ایسا ہوتا ہے تو انفیکشن پر کنٹرول کیا جاسکے گا ۔
(انل نریندر)
کورونا مریضوں کے گھر پر پوسٹر لگانا منا سب نہیں!
سپریم کورٹ نے کہاکورونا مریضوں کے گھروں کے باہر پوسٹر چپکانے سے غلط نظریہ بن جاتا ہے ۔ دوسرے لوگ ان کے ساتھ اچھوت جیسا رویہ اپنا نے لگتے ہیں عدالت کا یہ تبصرہ اس عرضی پر سماعت کے دوران آیا جس میں پوسٹر نہیں لگانے کو لیکر گائیڈ لائنس دیکھنے کی مانگ کی گئی تھی اب معاملے کی اگلی سماعت 3دسمبر طے کی گئی تھی اداریہ لکھے جانے تک عدالت نے کیا فیصلہ دیا ہے اس کی رپورٹ نہیں آسکی تھی جسٹس اشوک بھوشن جسٹس آر شبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ جب ایک بار یہ پوسٹر کسی کے گھر پر لگ جاتا ہے تو بنیاد ی سطح پر کچھ اور ہی حقیقت دکھائی پڑتی ہے مرکزی سرکارکی طرف سے پیش وکیل تشا ر مہتا نے کورٹ کو بتایا کہ یہ قاعدہ مرکزی سرکار نے نہیں بنایا اور اس کی کورونا مریض کو داغ دار کرنے کی کوئی منشا نہیں ہے بلکہ پوسٹر لگانے کا مقصد لوگوں کی حفاظت کرنا ہے اگر اس سے ان کے وقار کو ٹھینس پہونچتی ہے تو سرکار اس کے حق میں نہیں ہے بنچ نے عرضی گزار کو مرکز کے جواب کا محاسبہ کرنے کے بعد اپنی رائے رکھنے کو کہا عرضی گزار کے وکیل کشل کالرا نے عرضی میں کہا ہے کہ ایسے پوسٹر لگانا پرائیویسی کے علاوہ باوقار زندگی گزار نے کے حق کی خلاف ورزی ہے عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ سبھی ریاست اور مرکزی حکمراں ریاستوں کو پوسٹر لگانے کے فیصلے کومنسوخ کرنے کی ہدایت دی جائے ۔ ساتھ ہی ریجیڈینٹ ویل فیئر اشوشیشن نوکے ذریعے کووڈ 19سے متاثر مریضو ں کے نام واٹسپ گروپ پر ڈالنے پر بھی پابندی لگائی جائے عرضی گزار کہنا ہے گھروں کے باہر پوسٹر لگانے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اس طرف مرکوز ہوجاتی ہے اور لوگ اس گھر کے مکینوں سے بچنے لگتے ہیں ۔ عدالت نے مرکزی سرکار سے پوچھا تھا کہ کیوں نہ ملک گیر گائیڈ لائنس لاکر مریضو ں کے گھروں کے باہر پوسٹر چپکانے کے رواز کو ختم کردیا جانا چاہئے بنچ نے اس دن عرضی کے طئیں سرکاری وکیل مہیا کرانے کو کہا تھا جس سے مرکزی سرکار کا اس معاملے میں موقف رکھ سکیں۔ہم سپریم کورٹ کی رائے سے متفق ہیں پوسٹر لگانے سے نہ صرف دہشت کا ماحول پیدا ہوتا ہے بلکہ مریض کو اچھوت ماننے کے ایک ٹرینڈ پیدا ہو جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
کسانوں کے آندولن پر کینڈا کے وزیر اعظم کا غیر مناسب تبصرہ!
یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ کینڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نئے زرعی قانون کے احتجاج پر نا مناسب تبصرہ کیا ہے ۔ ٹروڈو نے بھار ت میں جاری کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے اور کہا کینڈا پر امن مظاہروں کے حق کا ہمیشہ بچاو¿ کرے گا گرونانک دیو کی 551ویں سالہ جینتی کے موقع پر ایک آن لائن پروگرام کے دوران کہا کہ حالات بے حد قابل تشویش ہیں اور ہم پریوار اور دوستوں کو لیکر پریشان ہیں ۔ہمیں پتہ ہے کہ یہ کئی لوگوں کے لئے سچائی ہے ۔ آپ کو یاد دلا دوں پر امن مظاہرے کے حق کی حفاظت میں کینڈا ہمیشہ کھڑا رہے گا کینڈا میں بھاری تعداد میں ہندوستانی رہتے ہیں زیادہ تر ان میں پنجاب سے ہیں ۔ ٹروڈو نے اپنے ٹویٹراکاو¿نٹ میں پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں کہا ہم بات چیت میں یقین کرتے ہیں اور ہم نے ہندوستانی حکام کے سامنے اپنی تشویشات رکھی ہیں ۔ واضح ہو ٹروڈو پہلے بھی سیاسی وجوہات کے سبب بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کرچکے ہیں اس کا دونوں ملکوں کے رشتوں پر اثر پڑ رہا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ ارگنایزیشن(WTO) کی میٹنگ میں کینڈا بھارت سرکار کی ایم ایس پی دینے کی پالیسی کی مخالفت کرتا رہا ہے ،جبکہ کسانوں کی بڑی مانگ رہی ہے کہ آگے بھی ایم ایس پی کی گارنٹی چاہئے ٹروڈو کے کیبنٹ ساتھی و وزیر دفاع ہر جیت سجن نے بھی ایک دن پہلے ٹویٹ کیا تھا کہ کسانوں کے پر امن مظاہروں کو بھارت کی طرف سے کچلنا کافی تشویش ناک ہیں ہم اپنے پریوار کی حفاظت کو لیکر فکر مند ہیں انہوں نے جمہوری اقدار کی دوہائی دی تھی اس کے چلتے وہ بھارت کے رویے سے بھی دو چار ہوچکی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مقامی سیاسی تجزیوں کو اپنے حساب سے بنانے کے زور میں کینڈا کو بھارت سے رشتوں کی پرواہ نہیں ہے کینڈا سرکار کی رویئے جتنی بھی نقطہ چینی کی گئی وہ اس کے لئے خود ہی ذمہ دار ہیں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جس طرح اپنی ڈپلیومیٹک حدود سے آگے جاکر تبصرے کئے وہ بھارت کے اندرونی معاملوں میں غیر مناسب ہی نہیں بلکہ ایک اقتصادی اور سیاسی معاملے کو ایک کٹر مذہبی نظریہ سے دیکھنے کی نیت بھی ہے اس سے ٹروڈو کے بچنا چاہئے تھا اور ایسے غیر مناسب تبصروں سے صرف دونوں ملکوں کے رشتوں کے خراب ہونے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوگا اپنے گھریلو سیاسی نفع نقصان کے لئے کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملوں میں اس طرح کی دخل اندازی صحیح نہیں ہے ۔
(ان نریندر)
03 دسمبر 2020
کیا ولادیمیر پوتن کو کینسر ہو گیا ؟
اگر میڈیا کی رپورٹوں پر یقین کیا جائے تو کینسر کی وجہ سے پوتن صدر کاعہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوسکتے ہیں؟روسی صدر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے 2036اس عہدے پر بنے رہنے کے لئے اہل ہوگئے تھے حالانکہ ایک سیاسی تجزیہ نگار نے ان کے مستقبل کے بارے میں حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ پوتن اگلے برس کے آغاز میں صدر کا عہدہ چھوڑ دیں گے ۔یہ اس کی وجہ ان کی صحت ہے پوتن کی کٹر سیاسی حریف ویرلی سلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کینسر سے متاثر ہیں ۔ اب زراعے کے حوالے سے دعویٰ کی تصدیق کی گئی ہے واقعی ان کی طبیعت خراب ہے انہوں نے ایک اخبار کو بتایا کہ ان کو دو بیماریا ں ہیں اب انہیں اخلاقی طور سے بتانے کا حق نہیں ہے لیکن اس سال فروری میں پوتن کا آپریشن ہواتھا جس وجہ سے انہیں ستمبر میں نگرانی میں رکھا گیا تھا وہ اپوزیشن پارٹی کی ممبر ورلی کا کہنا ہے کی سرکی گرفتاری کے احتجاج نے وہ لوگوں کے ساتھ مارچ کر رہے تھے ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خبرغلط ہو اور پوتن کی لمبی عمر ہو بہر حال آنے والے دنوں میں پوتن کی صحت کے بارے میں اصلیت سامنے آجائے گی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!
الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...