Translater
05 ستمبر 2024
بہار میں کیا کھیلا چل رہا ہے ؟
بہار میں کوئی نا کوئی کھیلا ضرورچل رہا ہے کم سے کم جنتا دل یونائیٹڈ میں تو ضرور چل رہا ہے ۔حکمراں جنتا دل یونائیٹڈ کے وزیراشوک چودھری کے بیان پر پارٹی ایک رائے نہیں ہے بلکہ کہیں تو بٹی ہوئی ہے اشوک چودھری کا ایک ویڈیو کلپ شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ درپردہ طور سے جہاں آباد لوک سبھا سیٹ پر پارٹی کی ہار کے لئے بھومیار برادری کو ذمہ دار مان رہے ہیں جہان آباد میں ورکروں سے خطاب میں اشوک چودھری علاقہ کے دبنگ بھومیار لیڈر ہیں ۔بھومیار لیڈر جگدیش شرما کو نشانہ پر لے رہے تھے ۔دلت نیتا اشوک چودھری نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں نے جے ڈی یو کی حمایت نہیں کی ۔انہوں نے جہان آباد کی شیٹ پر جے ڈی یو امیدوار چندریشوری کی ہار کے لئے بھومیاروں کو قصوروار ٹھہرایا تھا انہوں نے کہا جو صرف کچھ پانے کے لئے نیتا جی کے ساتھ رہتے ہیں ہمیں ویسے نیتا نہیں چاہیے ہم بھومیاروں کو اچھی طرح جانتے ہیں اس سال لو ک سبھا چناو¿ میں جے ڈی یو کے بڑے لیڈر بھنور پرساد چندر ورشی راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار سریندر یادو سے ہار گئے تھے ۔خبر کے مطابق جگدیش شرما اس سیٹ پر اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے ۔جنتا دل یونائیٹڈ کے اندر حالیہ دنوں میں کئی باتیں سننے کو ملی ہیں ۔2024 کے لوک سبھا چناو¿ کے بعد جے ڈی یو کے کئی نیتاو¿ں نے کئی برادریوں پر ووٹ نا دینے کا الزام لگایا ہے ۔اس کے بعد کے سی تیاگی نے جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔حالیہ دنوں میں کے سی تیاگی این ڈی اے کا حصہ رہتے بی جے پی کی پالیسیوں کی کھل کر نکتہ چینی کررہے تھے ۔مانا جارہا ہے کہ کے سی تیاگی کو اسی وجہ سے جانا پڑا ۔یہ سب ایسے وقت پر ہورہا ہے جب وہار کی سیاسی پارٹیاں ریاستی اسمبلی چناو¿ کیلئے تیاریاں کررہی ہیں ۔اسی سال لوک سبھا چناو¿ میں بارہ سیٹیں جیت کر نتیش کمار نے کئی سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا تھا لیکن ان کی اس جیت کا سہرا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو بھی جاتا ہے بہارمیں بھومیار نتیش کمار کو ہی ووٹ دیتے ہیں ۔للن سنگھ بھومیار برادری سے ہیں جنہیں نتیش نے مودی کیبنیٹ میں شامل کروایا ۔للن سنگھ کا مسلمان یادو کی مد د نا کرنے والا بیان کی نتیش کی سیاست سے میل کھاتا ہے ؟ جہان آباد کے بھومیار اور یادو برادریوں کا چناو¿ میں بڑا اثر رہا ہے ۔اشوک چودھری کے بیان پر نئے ترجمان راجیو رنجن پرساد کہتے ہیں اب اس پر کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا ہے کیوں کہ انہوں نے وضاحت کر دی ہے ۔جنتا باضمیر ہے ۔بہار کے ذات پات سروے کے اعداد شمار کے مطابق ریاست میں بھومیار آبادی تین فیصدی سے تھوڑی کم ہے لیکن باقی برادریوں کے مقابلے میں بھومیار اقتصادی اور سیاسی طور سے خوشحال طبقہ ہے ۔چودھری کے بیان پر ترجمان اور بہار ودھا ن پریشدنیرج کمار نے بھی اس پر تنقید ہے ۔جس کے بعد جے ڈی یو کے اندر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا ۔نیرج کمار خود بھی ایک بھومیار برادری سے آتے ہیں ۔حالانک ایسا پہلی بار نہیں جب جے ڈی یو نیتا نے اس سال کے لوک سبھا چناو¿ میں ووٹ نا دینے کے لئے کسی برادری یا مذہب کے لوگوں پر طنز نہ کیا ہو۔اس سے پہلے سیتا مڑی سے ایم پی دیویش چندر ٹھاکر نے لوک سبھا نتیجہ آنے کے بعد کہا تھا کہ یادو اور مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا ہے اس لئے وہ ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے ۔بہار میں اسمبلی چناو¿ اگلے سال ہونے ہیں ۔جنتا دل کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے کئی مور چوں پر لڑائی چھڑی ہوئی ہے جو نتیش کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
03 ستمبر 2024
ہریانہ چناو ¿ کی کمان سنگھ کے ہاتھ !
آنے والی 4 اکتوبر کو ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کو ہیٹ ٹرک دلوانے کے لئے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس نے کمان چناو¿ کی سنبھال لی ہے ۔سنگھ کے سبھی سسٹر انجمنیں پوری طاقت کے ساتھ بھاجپا کے ساتھ کھڑی ہوں گی ۔چناو¿ میں ٹکٹ تقسیم کو لے کر حکمت عملی تیار کرنے جیسے سبھی معاملوں میں سنگھ سے رائے مشورہ کیا جارہا ہے ۔بھاجپا کی جیت یقینی کرنے کے لئے سنگھ زور شور سے ووٹ فیصد بڑھانے اور 60 فیصدی سیٹوں پر حریفوں سے بڑھت حاصل کرنے کا نشانہ ہے اس کے لئے سنگھ میں بھاجپا ہائی کمان کو 70 فیصدی سیٹوں پر نئے چہروں کو ٹکٹ دینے کا موقع دئیے جانے کی صلاح دی ہے ۔سنگھ کے ذرائع کے مطابق لوک سبھاچناو¿ میں بھاجپا کی مایوس کن پرفارمنس کی وسیع جائزہ میں پایا گیا کہ ورکروں کی ناراضگی اندرونی رسہ کشی اور بے بھروسہ اور بہتر تال میل کی کمی کے سبب پارٹی آدھے سے زیادہ بوتوں پر اپنے سیاسی حریفوں سے پیچھے رہ گئی تھی ۔جن بوتھوں پر پارٹی امیدوار پیچھے رہے وہاں لچر انتظام اور ورکروں کی ٹال مٹولی سب سے بڑی وجہ رہی ۔سنگھ نے طے کیا ہے کہ سبھی بوتوں پر بھاجپا کے ساتھ سنگھ کے ورکر بھی سرگرم رہیں گے ۔پولنگ سے پہلے ہر حال میں ایک ایک پریوار سے رابطہ قائم کیا جائے گا۔لوک سبھاچناو¿ میں پارٹی 19 ہزار 812 ووتوں میں سے 10072 بوتوں پر پیچھے رہ گئی اسکیم 11 ہزار بوتوں پر بڑھت حاصل کرنے کی ہے اس کے لئے رابطہ مہم میں سنگھ کی سبھی انجمنیں حصہ لیں گی ۔ادھر ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے ٹھیک پہلے ہوئے ایک پری پول سروے آیا ہے اس کے مطابق 90 اسمبلی سیٹوں والی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے ساتھ بنا کھیلا ہوسکتا ہے ۔ہریانہ کو لے کر لوک پول نے سروے کیا ہے اس پری پول سروے میں کسے کتنی سیٹیں ملنے والی ہیں اس کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے ۔یہ پری پول سروے 30 اگست 2024 کو نو بھارت ٹائمس میں شائع ہوا ہے ۔اوپینین پول کا سائز 67500 ہے یعنی اس میں ہریانہ کے 67500 لوگوں سے رائے لی گئی تھی اس کے مطابق ہریانہ میں اس بار کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر واپسی کرے گی ۔کانگریس کو اس چناو¿ میں 88 سے 65 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے ۔اس چناو¿ میں کانگریس کا ووٹ شیئر 46سے 48 فیصد ہو سکتا ہے ۔وہیں بھاجپا کی بات کریں تو اسے 20سے 29سیٹیں مل سکتی ہیں ۔ا س کا ووٹ شیئر 35سے 37 فیصد رہ سکتا ہے ۔سروے کے مطابق 5 سیٹیں دیگر کے حصے میں جاسکتی ہیں ۔ہریانہ میں اہم مقابلہ کانگریس اور بھاجپا میں رہے گا۔ جے جے پی اور آئی ایل این ڈی جیسی علاقائی پارٹیوں کا اثر نا کے بربار رہے گا ۔لوک پول نے 26 جولائی سے 24 اگست 2024 کے درمیان سروے کیا تھا ۔جس کا سیمپل سائز 67500 تھا پورٹیول ڈیوائس پر لوگوں سے رائے لی گئی ۔فیس انٹر ویو کئے گئے تھے ۔اس سروے کو مان لیا جائے تو سکھ اور جاٹ بڑی سطح پر کانگریس کی حمایت میں جائیں گے ۔اینٹی انکم پینسی فیکٹر کا اثر بھی بی جے پی پڑ رہا ہے ۔
(انل نریندر)
کروڑوں میں بنیں شیواجی کی مورتی 8 ماہ میں ڈھہ گئی !
مہاراشٹر کے مالواہ میں سمندری ساحل پر آٹھ مہینے پہلے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے بنوائی گئی چھترپتی شیواجی مہاراج کی مورتی پیر کو ٹوٹ کر اچانک ڈھہ گئی ۔شیواجی مہاراج کی 35 فٹ اونچی مورتی کے ڈھہ جانے کے واقعہ صرف اسلئے تکلیف دہ نہیں ہے بلکہ یہ پرتیما ہمارے ایک مہا نائک کی عظیم یادگاروں میں سے جڑی تھی اور اس سے ہندوستانی بحریہ کی ساکھ بھی وابسطہ تھی بلکہ یہ اس لئے بھی شدید تشویش کا موضوع ہے کہ ہمارے پبلک تعمیراتی کاموں کی کوالٹی کی کلائی بھی کھل گئی ہے ۔غور کیجئے اس مجسمہ کے بنانے میں کروڑوں روپے کی لاگت آئی تھی اور اسی 4 دسمبر کو نیوی ڈے پر اس کی نقاب کشائی وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ کی گئی تھی اس واقعہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے شیواجی سے معافی مانگی ۔انہوں نے جمعہ کو ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعہ پر سر جھکا کر معافی مانگتا ہوں ۔ہمارے لئے شیواجی ایک ادادھیہ دیو ہیں ۔انہوں نے یہ بیان جمعہ کو ریاست کے پال گھر ضلع میں ودھاون بندرگاہ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد سماروہ کے دوران دیا تھا ۔اس سے پہلے ریاست کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندھے نے بھی کہا تھا کہ وہ اس واقعہ پر 100 بار معافی مانگنے کو تیار ہیں ۔وہیں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار بھی اس واقعہ کے لئے معافی مانگ چکے ہیں ۔پی ایم مودی کی جانب سے معافی مانگنے کے باوجود اپوزیشن کے ان پر کٹاش جاری ہیں ۔اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ کرپشن کی وجہ سے مورتی گری ہے ۔اس لئے وزیراعلیٰ شندھے اور دونوں ڈپٹی سی ایم کو ہٹایا جائے اور جلد ہی اسمبلی کے چناو¿ ہونے جارہے ہیں ۔بھاجپا اور ان کے ساتھیوں کی پہلے سے ہی حالت پتلی ہے جیساکہ لوک سبھا چناو¿ نتائج نے دکھا دیا ہے ۔اخبار نویشوں سے بات کر تے ہوئے جینت پاٹل نے کہا صرف آٹھ مہینے پہلے بنائی گئی مورتی گر گئی ہے یہ مورتی نہیں گری ہے بلکہ مہاراشٹر کی شان گری ہے ۔وزیراعلیٰ کہتے ہیں تیز ہوا چل رہی تھی اس لئے مورتی گری اگر ایسا ہوتا تو دو یا تین پیڑ بھی گر جاتے وہیں لگے ناریل کے پیڑوں سے لٹکے ناریل بھی گرجاتے لیکن ایسا کچھ ہوانہیں صرف مورتی ہی کیوں گری ؟ اس کا مطلب ہے کہ مورتی کا کام صحیح طریقہ سے نہیں ہوا ۔مورتی کا کام کم تجربہ والے شخص کو دیا گیا تھا ۔جسے دو فٹ کی مورتی بنانے کا تجربہ نہیں ہے ۔اسے 35 فٹ کی مورتی بنانے کا کام دے دیا گیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کروڑوں روپے کا کرپشن ہوا ہے ۔پردیش کے نائب وزیراعلیٰ دیونر فڑنویش نے اپوزیشن پر اس حملے کو لیکر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا ۔اس پر پریس کانفرنس میں شردپوار نے کہا اس میں ساست کہاں ہے ۔شیواجی مہاراج کے عہد کے دوران جب ایک لڑکی کی آبروریزی ہوئی تو شیواجی نے شخص کے ہاتھ اور پاو¿ کٹوا دئیے تھے ۔انہوں نے لوگوں کے سامنے جرم کو لے کر اتنا سخت رخ اپنایا تھا ۔لیکن آج کرپشن ہوا ہے وہ بھی شیواجی مہارا ج کی مورتی بنانے کے فیصلے میں انہوں نے کہا جہاں جہاں وزیراعظم خود گئے ہیں وہاں وہاں مورتیاں گری ہیں ۔ا س سے پتہ چلتا ہے کہ کرپشن کس حد تک پہونچ گیا ہے ۔مورتی بنانے میں جلد بازی کی گئی اس میں جتنا وقت لگنا چاہیے تھا وہ نہیں دیا گیا اور جلد بازی میں بنا دی گئی تاکہ اسمبلی چناو¿میں اس کا سیاسی فائدہ مل سکے ۔سیاسی فائدہ تو دور کی بات ہے اور تو اور نقصان کا تجزیہ کرنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
29 اگست 2024
کسان آندولن میں ریپ ہورہے تھے لاشیں ٹانگ رہے تھے!
یہ کہنا ہے بڑ بولی ہماچل پردیش کے منڈی علاقہ سے بھاجپا ایم پی اور فلمی ایکٹریس سے بنی سیاستداں کنگنا رناوت کا تھا اس بیان پر تنازعہ تو چھڑنا ہی تھا ۔بات کچھ ایسی کہہ دی کنگنا جی نے ۔دراصل ممبئی میں دینک بھاسکر کو دئیے ایک انٹر ویو میں کنگنا نے کسان اندولن پر کئی الزام لگائے اور کہا کہ آندولن کے دوران بلواہوا وہاں بدفعلی اور قتل بھی ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہماری سینئر لیڈر شپ مضبوط نہیں رہتی تو کسان آندولن کے دوران پنجاب کو بھی بنگلہ دیش بنا دیا جاتا ۔یہاں کسان آندولن کے دوران کیا ہوا وہ سب نے دیکھا کیسے احتجاج کے نام پر تشدد برپا کیاگیا۔وہاں ریپ ہو رہے تھے مار کر لوگوں کو لٹکایا جارہا تھا ۔جب اس بل کو واپس لے لیا گیا تو یہ بلوائی چونک گئے کیوں کہ ان کی پلاننگ تو بہت لمبی تھی ۔ان پر وقت رہتے کنٹرول کر لیا گیا ۔ورنہ کچھ بھی ہو سکتاتھا ۔دراصل ان لوگوں کو کچھ جانکاری ہی نہیں ہے یہ فلم انڈسٹری والے بس اپنی دھن میں سوار رہتے ہیں ۔صبح سے میک اپ کرکے بیٹھ جاتے ہیں دیش دنیا میں کیا ہورہا ہے اس سے ان کو کوئی مطلب نہیں ۔ان کو لگتا ہے کام اپنا چلتا رہے دیش جائے بھاڑ میں ،یہ بھول جاتے ہیں کہ دیش کو کچھ ہوا تو انہیں بھی نقصان پہنچے گا ۔آپ ہر وقت بے خوف ہو کر بولتی ہیں اس سے نقصان نہیں کیا ؟ جواب دیکھئے میرے رشتہ دار بہت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں انہیں کسی طرح کا لالچ نہیں ہے وہ تو بلکہ خوش ہیں کہ اب میں آبائی وطن منڈی سے میں زیادہ سے زیادہ قت گزار رہی ہوں ۔اس کے علاوہ کچھ خیر خواہ ضرور ایسا کہتے ہیں کہ آپ کو ہر چیز میں فائٹ نہیں کرنا چاہیے ۔ان کی بات کچھ حد تک صحیح بھی ہے ۔میں اب ہر چیز میں اکیلے تو نہیں لڑ پاو¿ں گی ۔آپ میںخود اندرا جی کی کچھ یکسانیت دیکھ پاتی ہیں؟ اس پر ایمرجنسی والے چیپٹر کو اگر بھول جائیں تو ان کی شخصیت کی ایک خاصیت تھی کہ وہ اپنے دیش سے بہت پیار کرتی تھیں وہ سچ میں کچھ بدلاو¿ بھی چاہتی تھیں ۔آ ج کے نیتاو¿ں میں اقتدار کی بھوک تو ہے لیکن انہیں دیش سے پریم نہیں ہے ۔اندرا جی کی خراب لگنے والی بات یہ ہے کہ وہ خود کی فیملی کو ہی آگے بڑھانا چاہتی تھیں جو صحیح نہیں ۔کنگارناوت پتہ نہیں بھاجپا کے لئے اثر دار ہیں یا ایک لائیو لٹی ہیں ۔ایسے وقت جب ہریانہ اسمبلی چناو¿ سر پر ہیں آپ کسانوں کے خلاف اس طرح کا بیہودہ بیان دے رہی ہیں ؟ کنگنا ایم پی ہیں ذمہ داری و عقل سے بولنا چاہیے کبھی کہتی ہیں بھارت 2014 میں آزاد ہوا تھا تو کبھی کہتی ہیں کہ دیش کا پہلا پردھان منتری سبھاش چندر بوس تھے ۔پہلے سے پریشان کسانوں کے زخموں پر نمک نہ ڈالیں ۔آندولن اس لئے ہے کہ سرکار اپنے وعدوں پر کھری نہیں اتری ۔کنگنا کس کے اشارے پر بول رہی ہیں ۔بھاجپا کو اس پر صفائی دینی چاہیے ۔ایس جی پی سی نے مانگ کی ہے کنگنا پر ایف آئی آر درج ہو ۔فلم ایمرجنسیکے ذریعے سکھوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کا کیس درج کرنا چاہیے ۔ٹیلر سے صاف ہے کہ اس میں جان بوجھ کر سکھوں کے کردار کو دہشت گردی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے ۔ہرجندر سنگھ فارما،صدر شرومنی گورودوارنہ پربندھک کمیٹی ۔
(انل نریندر)
اور اب آسام میں گینگ ریپ!
ریپ کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔روزمرہ کہیں نا کہیں بدفعلی کی خبر آتی رہتی ہیں۔پتہ نہیں ہمارے دیش واسیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ابھی کولکاتہ کے بدلا پور معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا کہ اب آسام سے گینگ ریپ ہونے کی خبر آئی ہے ۔آسام کے نوانگ ضلع کا چھینگ علاقہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب 2018 میں اس چھوٹے سے شہر میں رہنے والی ہندوستانی مادک ہما داس نے آئی اے اے ایف ورلڈ انڈر 20 ایتھلیکٹک چمپئن شپ کی 400 میٹر کی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا تھا وہ اس ریکارڈ کو حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں لیکن گزشتہ دو دن سے چھینگ کی مہیلائیں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کے سبب غصہ اور آگ بگولہ سڑکوں پر اتر آئی ہیں ۔ان خواتین کے ہاتھ میں تختیاں تھیں جن پر لکھا تھا ہمیں انصاف چاہیے خواتین کو سرکشا دو اور آبرو ریزی کرنے والوں کو مارڈالو ۔ان نعرون نے جیسے ان کے اندر مانو ایک بہادری جگہ دی ہو جو اپنے سمان کی سرکشا کے لئے کسی سے بھی لڑ جائیں گی ۔اس واردات کو لے کر ریاست کے مختلف شہروں میں متاثرہ کو انصاف دلانے کی مانگ پر لوگ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں ۔تھانہ میں د رج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کا یہ واقعہ 20 اگست بدھوار کی شام قریب 6.30 بجے کا ہے ۔اسکول میں زیر تعلیم متاثرہ بدھوار کی شام جب ٹیوشن سے پڑھ کر اپنی سائیکل سے گھر لوٹ رہی تھی اسی دوران ایک سنسان راستے کے پاس تین لڑکوں نے اس پر حملہ کر دیا ۔بعد میں ا نہوں نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر آبروریزی کی ۔پولیس کے مطابق تینوں ملزم واردات کے بعد لڑکی کو نیم بے ہوشی میں چھوڑ بھاگے ۔مقامی لوگوں نے متاثرہ کو ہسپتال پہنچایا ۔اس کو نوگاو¿ں میڈیکل کالج ہاسپٹل میں بھرتی کرایا گیا ۔اس درمیان اجتماعی آبروریزی کے واقعہ میں گرفتار ہوئے ایک ملزم کی سنیچر کی رات پولیس حراست میں موت ہو گئی ۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کو سنیچر کی صبح سین کریئیٹ کرنے کے لئے آبروریزی کی جگہ لے جایا گیا تھا ۔جہاں اس نے مبینہ طور پر بھاگنے کی کوشش کی اس کوشش میں وہ پاس کے ایک تالاب میں گر گیا جس کے سبب موت ہو گئی ۔24 سالہ اس ملزم کو نام تفضل اسلام بتایا گیا ہے ۔ملزم نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ آبروریزی کے تین ملزمان میں سے ایک تھا جس وقت اس کی لاش تالاب سے نکالی گئی تو اس کے دونوں ہاتھ ہتھکڑی سے بندھے ہوئے تھے ۔متاثرہ کے گھر والے چاہتے ہیں پولیس باقی کے دو ملزمان کو بھی پکڑے تاکہ انہیں سزا مل سکے ۔وہیں اس واردات میں تفضل اسلام کے گھر والوں نے پولیس حراست میں ہوئی موت کو لے کر سوال کھڑے کئے ہیں ۔حالانکہ اس درمیان ملزم کے گاو¿ں والوں نے اعلان کیا ہے کہ دو ملزم کے خاندان کا سماجی وائیکاٹ کریں گے اس مبینہ آبرو ریزی کے واقعہ کے بعد آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا جن جرائم پیشہ نے لڑکی کے ساتھ گھناو¿نا جرم کرنے کی ہمت کی انہیں قانون نہیں چھوڑے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا پچھلے لوک سبھا چناو¿ کے بعد آسام میں اس طرح کے 22 واقعات ہوئے ہیں ۔لوک سبھاچناو¿ کے بعد کچھ گھناو¿نی ذہنیت کے لوگ ایسی وارادت کے لئے حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے آگے کہا جن علاقوں میں ہمارے ملکی کھلاڑیوں (لوگ اقلیت میں آئے ہیں )وہاں ہمارے لوگوں کو ا س طرح کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ہمارے ملکی لوگ بنگالی مارواڑیوں ،ہندی زبان بولنے کی چنتا رہتی ہے کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ؟
(انل نریندر)
27 اگست 2024
........اور اس بار پیپر لیک نہیں ہوا
اتر پردیش پولیس میں کانسٹیبل کی نوکری کے لیے امتحان 23 اگست سے شروع ہو گیا ہے۔ پولیس کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے یہ امتحان 23، 24، 25، 30 اور 31 اگست تک چلے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یوپی پولیس میں 60 ہزار 244 آسامیوں کے لیے منعقد ہونے والے اس امتحان میں 6 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی ہے۔ امتحان کے لیے 67 اضلاع میں 1174 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ امتحان اس سال فروری میں ہوا تھا لیکن سوالیہ پرچہ لیک ہونے کی وجہ سے امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے، یوپی کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) پرشانت کمار نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ امتحان میں کوئی بے ضابطگی نہ ہو۔ اس کے لیے چھوٹے پہلوو¿ں پر توجہ دی گئی ہے۔ نہ صرف امتحانی مرکز بلکہ راستوں کی بھی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یوپی پولیس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ریاست کے مختلف مقامات کی پولیس نے انتظامات کے بارے میں جانکاری دی اور تیاریوں کے بارے میں بتایا۔ ساتھ ہی، یوپی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پیپر لیک کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا تو اس شخص کے خلاف نئے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، جس میں ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ اور عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ . پیپر لیک کو روکنے کے لیے یوگی حکومت نے اتر پردیش پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف غیر منصفانہ) آرڈیننس 2024 لایا تھا۔ اس کے تحت امتحان میں غیر منصفانہ ذرائع کا استعمال، نقل کرنا یا نقل کرنا اور سوالیہ پرچوں کو لیک کرنا جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت نے پیپر لیک کو روکنے کے لیے بہت سی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ امتحان میں شرکت کرنے والوں کے لیے مفت بس سروس کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم اس کے لیے امیدوار کو اپنا ایڈمٹ کارڈ دکھانا ہوگا۔ امتحانی مرکز میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور پولیس کی تعیناتی کے علاوہ پیپر لیک ہونے سے بچنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ امیدوار کی KYC تصدیق امتحانی مرکز میں کی جائے گی۔ امیدوار کا بائیو میٹرکس لیا جائے گا اور آدھار کارڈ کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایس ٹی ایف کو بھی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ امتحانی مرکز کی نگرانی کی ذمہ داری سیکٹر مجسٹریٹ کو دی گئی ہے۔ سوالیہ پرچے ٹریڑری آفس سے سیکٹر مجسٹریٹ کی نگرانی میں پولیس کی حفاظت میں سنٹر تک لائے جائیں گے۔ درحقیقت، یوپی میں اس سال فروری میں ہوئے پولس بھرتی امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کے الزامات کے بعد، ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اس امتحان کو منسوخ کر دیا اور اسے چھ ماہ کے اندر منعقد کر دیا۔امتحان کے انعقاد کی بات ہوئی۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی نے بھی پیپر لیک واقعہ کو لے کر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ ابھی تک پیپر لیک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اگر لیکس پر قابو پایا جا سکتا ہے تو ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی یوپی حکومت سے سبق لینا چاہیے۔
انل نریندر
جموں و کشمیر میں دس سال بعد انتخابات
جموں و کشمیر میں آخری اسمبلی انتخابات 2014 میں ہوئے تھے۔ 2014 اور 2024 کے درمیان یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ یہاں 20 دسمبر 2018 سے صدر راج نافذ ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد یہاں پہلی بار اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں 87 سیٹیں تھیں جن میں سے 4 لداخ سے تھیں۔ اب لداخ کی سیٹیں کم کر کے 90 کر دی گئی ہیں، کیونکہ لداخ ایک الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ ان 90 میں سے 43 جموں ڈویڑن اور 47 کشمیر ڈویڑن سے ہیں۔ ان میں سے 7 سیٹیں ایس سی اور 9 سیٹیں ایس ٹی کے لیے ریزرو ہیں۔ حلقہ بندی کے بعد جن 7 اسمبلی سیٹوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں سے 6 جموں اور ایک کشمیر میں ہے۔ جمعرات کی شام کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے کہا، انشائ اللہ، کانگریس کے ساتھ ہمارا اتحاد اچھا رہے گا۔ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ اس قبل از انتخابات اتحاد کا اعلان راہول گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن نے اپنے دورہ کشمیر کے دوران کیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام (90) سیٹوں پر پری پول الائنس تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اس اتحاد میں شامل ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر عام لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں گے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو 2019 سے جس صورتحال کا سامنا ہے۔ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ آج جموں و کشمیر بھی بہت پریشان ہے، وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاست کا درجہ واپس کیا جائے گا، لیکن ابھی تک وفا نہیں ہوا۔ حلقہ بندیوں کے بعد بھی الیکشن نہیں کرائے گئے۔ ہماری کوشش ہے کہ سیکولر حکومت بنائی جائے اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں۔ اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحاد پر گھیر لیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، آرٹیکل 370 اور 35A کو ہٹانے کے بعد مودی حکومت نے دلتوں، قبائلیوں، پہاڑیوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کیا ہے اور انہیں ریزرویشن فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ کیا راہل گاندھی جے کے این سی کے منشور میں مذکور دلتوں، گجروں، بکروالوں اور پہاڑیوں کے لیے ریزرویشن ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں؟ نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کو ملک کے سامنے اپنی ریزرویشن پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ کشمیر کے ایک سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اس بار اتحاد کانگریس نیشنل کانفرنس کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ ایک دانستہ اقدام ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اتحاد میں جموں میں مسلم ووٹوں میں اضافے کا امکان کم ہو جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس اتحاد سے بی جے پی کے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ اس اتحاد نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو خاص طور پر وادی کشمیر میں یہ پیغام بھی دیا ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں بی جے پی کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔ وادی میں بی جے پی کا حال ایسا ہی ہے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی اپنا امیدوار بھی کھڑا نہیں کر سکی۔ بی جے پی کا زور جموں ڈویڑن میں زیادہ ہے جہاں ان کا ووٹ بینک محفوظ ہے۔ تاہم، اس بار بی جے پی وادی میں بھی اتحاد بنا کر کچھ امیدوار اتار سکتی ہے۔
انل نریندر
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!
شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...