Translater

20 اکتوبر 2023

ورلڈ وار کا خطرہ منڈرانے لگا ہے !

حماس کے حملے نے مغربی ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔اب اسرائیل بدلا لے رہا ہے ۔اگر دوسری طاقتیں بھی اس جنگ میں کود جاتی ہیں لیکن ایسا ہو پائے گا ؟ دنیا کی بڑی طاقتوں کو تحمل برتنا چاہیے اور زمینی حالات جیسے بن رہے ہیں ان سے ورلڈ وار کی تشویش بڑھنا فطری ہے ۔مسئلہ تو زیادہ سنگین ہو گیا ہے جب غزہ کے ایک ہسپتال پر زبردست بمباری ہوئی ہے اور اس بمباری میں 500 سے زیادہ بے قصور افراد جاں بحق ہو گئے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں وہیں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حماس نے کیا ہے ان کی میزائل غلطی سے اسپتال پر جا گری ۔وہیں حماس اور باقی اسلامی ملکوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت غزہ کے اہلی ہسپتال پر حملہ کیا ہے ۔حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ نے حملے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیل کو اس کی جارحیت کو سرپرستی دی ہے ۔ہنیہ نے یہ بھی کہا کہ اسپتال میں ہوا قتل عام دشمن کی ظالم اور اس کی ہار کے احساس کو ظاہر کرتا ہے ۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین ،مصر ،اردن اور ترقی نے بھی اسرائیل کا غزہ شہر میں الاہلی عرب اسپتال پر بمباری کا الزام لگایا ہے ۔حالانکہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ان اموات کے لئے غزہ میں سرگرم کٹر دہشت گرد ذمہ دار ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے اسپتال پر حملہ کرنے والے غزہ کے ہی کٹر دہشت گرد ہیں نہ کہ اسرائیل اسرائیل ڈیفنس فورسز ادھر ایران نے اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والے ملکوں کو زبردست وارننگ دے دی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے منگلوار کو کہا اگر غزہ پر اسرائیل کے جنگی جرائم نہیں رکے تو پھر دنیا بھر کے مسلمان اس جنگ میں اتریں گے ،کوئی بھی دنیا بھر کی مسلم افواج اور ایران کی فورسز کو روک نہیں سکے گا۔مانا جاتا ہے کہ حماس اور حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ایران کو درپردہ حمایت دیتا ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ حسین امیر بحوللہ حیان نے کہا کہ اسرائیل اگر غزہ میں زمینی کاروائی کرتا ہے اسے نتیجے بھگتنے ہوں گے ۔آنے والے وقت میں ایران کی طرف سے وسیع پیمانے پر کاروائی ہو سکتی ہے ۔دوسری طرف امریکہ ،برطانیہ ،جرمنی ،فرانس ،آسٹریلیا ،کنیڈا،پولینڈ ،اسپین اور یوروپی یونین سمیت دیگر ملکوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے ۔انہوں نے اسرائیل پر حماس کے حملے کو بربریت آمیز بتایا ہے ۔اسرائیل اور حمایت ،حزب اللہ کی جنگ جارحانہ ہوتی جا رہی ہے ۔اس درمیان دنیا بھر کے نیتا اسرائیل پہونچنے لگے ہیں ،جرمنی کے چانسلر اولاف اسرائیل گئے ہیں ۔امریکی صدر جو بائیڈن بھی اسرائیل جا چکے ہیں ۔فرانس کے صدر ایمونل میکرون بھی اسرئیل جا چکے ہیں اس کے علاوہ برطانیہ کے وزیراعظم رشی سنگ بھی اسرائیل جانے والے ہیں ۔ادھر حماس دہشت گرد گروپ کی مصلحہ برانچ القسم بریگیڈ نے کہاہے کہ غزہ میں 200/250 اسرئیلی یرغمال اس کے قبضے میں انہیں 7اکتوبر کے حملے کے بعد پکڑا گیا تھا ۔یرغمالوں میں امریکہ اور مغربی ممالک کے شہری بھی ہیں ۔اگر چھوٹی سی بھی چنگاری اور لگی تو یہ تیسرے ورلڈ وار کی شروعات نہ ہو جائے ۔ (انل نریندر)

19 اکتوبر 2023

تہاڑ جیل پہنچ گئے سنجے سنگھ!

شراب کی متنازعہ پالیسی نے بالآخر AAP ایم پی سنجے سنگھ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ تفتیشی ایجنسی کی درخواست پر عدالت نے انہیں 27 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ عدالت نے انہیں 16 کتابیں جیل لے جانے کا حکم دیا ہے۔ اجازت دے دی گئی ہے اور انہیں جیل نمبر 2 میں جگہ دی گئی ہے۔ شراب گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے راؤ کی اس بیان پر سخت نکتہ چینی کی۔ خصوصی جج اے کے ناگپال نے سنجے سنگھ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا۔ کہ اگر آپ کو اس معاملے میں کچھ کہنا ہے تو کہنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔ عدالت نے زبانی کہا کہ یہ بیان قابل قبول نہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کی پیشی کا حکم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیا جائے گا۔ عدالت نے یہ تبصرہ سماعت کے دوران اس وقت کیا جب سنجے سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اڈانی کے خلاف گھوٹالوں کی جانچ کے لیے ای ڈی سے شکایت کی تھی، لیکن جانچ نہیں ہوئی۔ عدالت نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے مودی اور اڈانی کے خلاف یہی بیانات دینے ہیں تو میں اب سے کروں گا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنا پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ گیا اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ ملزمین کا آمنا سامنا ہو سکے، لیکن اس دوران ای ڈی نے صرف ایک شخص کا سامنا کیا اور اس سے 8 دن تک روزانہ 2 سے 3 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی اور اس میں بھی کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ معاملے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو 10,000 روپے کیوں بھیجے۔ اس نے والد سے ادھار لیے گئے اور بچے کے علاج کے لیے دیے گئے ایک لاکھ روپے کے بارے میں پوچھا۔ سنجے سنگھ کے وکیل نے کہا کہ ای ڈی نے ان کے موکل کے خلاف رائے قائم کرنے کے لیے 8 دن کی اجازت مانگی تھی۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے شراب گھوٹالہ میں ای ڈی کے ذریعہ گرفتار سنجے سنگھ کی درخواست پر ای ڈی کو جواب دیا۔ ریمنڈ کو فیصلہ کس نے دیا؟ جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے ای ڈی کو نوٹس جاری کیا اور اسے اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ وہ کیا تھا؟ لارجر بنچ نے کیس کی فوری سماعت کی اجازت دے دی۔ ای ڈی نے کہا کہ نچلی عدالت نے سنجے سنگھ کو عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے اور جواب داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے ای ڈی کو حکم دیا۔ درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ (انیل نریندر)

حماس سرنگوں!

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنا رہا ہے جسے حماس نے تیار کیا ہے۔ چیلنج دو سرنگوں کا ہے جو اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ غزہ کی بالائی تہہ پر عام شہری رہتے ہیں۔ اس کے نیچے ایک اور تہہ ہے جسے حماس استعمال کرتی ہے۔ ہم فی الحال اس دوسری تہہ میں ہیں۔ غزہ میں زیر زمین پرت کو نشانہ بنانا۔ یہ بنکر عام شہریوں کے لیے نہیں ہیں، یہ صرف حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہیں جو خود کو اسرائیلی راکٹوں سے بچانے اور اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے ہیں۔ , اسرائیل پر حملے جاری غزہ میں سرنگوں کے نیٹ ورک کے سائز کا تجزیہ کرنا مشکل ہے۔ اسرائیل حماس کی سرنگوں کو غزہ میٹرو کہتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پورے غزہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے غزہ میں 100 کلومیٹر طویل سرنگیں تباہ کر دی ہیں تاہم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں 500 کلومیٹر طویل سرنگیں بنائی ہیں اور اسرائیلی حملے میں صرف 5 فیصد سرنگیں تباہ ہوئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق لندن میں زیر زمین میٹرو کا پھیلاؤ صرف 400 کلومیٹر ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ زمین سے اوپر ہے۔ 2005 میں اسرائیلی افواج اور یہودی باشندوں نے غزہ سے انخلا کیا جس کے بعد سرنگ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ لیکن 2 سال بعد حماس نے غزہ پر قبضہ کر لیا اور پھر سرنگوں کا جال تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔ حماس کے اقتدار میں آتے ہی اسرائیل اور مصر نے اپنی سرحدوں کے پار سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ جواب میں حماس نے سرنگوں پر توجہ دینا شروع کر دی۔ حماس کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 500 کلومیٹر لمبی سرنگیں ہیں۔ 2006 میں یہودی اسرائیل کی سرحد عبور کرنے والی ایک سرنگ کے ذریعے اسرائیل میں گھس آئے۔ فوجیوں کو مار ڈالو۔ ایک فوجی کو اغوا کر کے 5 سال تک قید رکھا گیا۔ 2013 میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے اپنے ایک محافظ کے ذریعے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے 18 میٹر گہری اور 1.6 کلومیٹر لمبی سرنگ دریافت کی۔ اگلے سال اسرائیل نے 30 سرنگیں تباہ کیں لیکن دہشت گردوں کے حملے میں 4 فوجی بھی مارے گئے۔ غزہ کے اندر سرنگوں کا مقصد عام سرنگوں سے مختلف ہے۔ وہ جینا چاہتے ہیں، ان کا انتظام ہے تاکہ وہ اپنی زندگی گزار سکیں، ان کے لیڈر وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی ہے۔ نقل و حمل کے علاوہ یہ سرنگیں رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان میں بجلی بھی ہے اور ریل ٹیکسیوں کی سہولت بھی ہے، آپ ان میں پیدل جا سکتے ہیں۔ حماس نے سرنگیں کھودنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اس نے یہ فن شامی جنگجوؤں سے سیکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غزہ میں سرنگیں زمین سے 30 میٹر نیچے ہیں۔ اور ان میں داخل ہونے کے لیے وہ کمروں سے گزرتے ہیں۔ گھروں، سرنگوں، مساجد، سکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر داخل ہو سکتے ہیں۔ (انیل نریندر)

28 ستمبر 2023

برج بھوشن کے خلاف کافی ثبوت !

لیڈی پہلوان جنسی اذیت معاملے میں ملزم ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر و بھاجپا کے ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف الزام طے کرنے کو لیکر سنیچر کو راو¿ز اونیو کورٹ میں سماعت ہوئی ۔سماعت کے دوران دہلی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کیس چلانے کیلئے کافی ثبوت ہیں ۔ جانچ میں ملے ثبوتوں کی بنیاد پر دہلی پولیس نے سنیچر کو کورٹ میں سماعت کے دوران کہا کہ معاملے میں ملزم پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے ۔ کورٹ میں دہلی پولیس نے کہا کہ برج بھوشن شرن سنگھ کو جب بھی موقع ملتا تھا وہ لیڈی پہلوانوں کے ساتھ حرکت کرتا تھا۔ ایسے میں ان پر مقدمہ چلنا چاہئے اور اس پر مقدمہ چلانے کیلئے کافی ثبوت نے لیڈی پہلوان اذیت معاملے کی جانچ میں پایا کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور جب بھی اسے موقع ملتا وہ لیڈی پہلوان کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ متاثر لڑکی نے کوئی رد عمل ظاہر کیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ غلط کیا گیا ۔ جو ثبوت اور دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ الزام طے کرنے کیلئے کافی ہیں۔ معاملے کی سماعت کے دوران شکایت کنندگان کے ساتھ ورلڈ کشتی فیڈریشن کے دفتر میں ہوئے واقعے کا ذکر کیا اور ان شکایتوں کا دائرہ اختیار دہلی بنتا ہے ۔ایک خاتون پہلوان کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں ہوئے ایک ایونٹ کے دوران برج بھوشن نے شکایت کنندہ کو بلایا اور اس کو زبردستی گلے لگایا جب اس کی مخالفت کی تو برج بھوشن نے کہا کہ وہ ٹیچر کی طرح اسے گلے لگارہا تھا۔ اس سے صا ف پتا چلتا ہے کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریت ہردیپ سنگھ جسپال نے تفصیل سے پولیس کی دلیلیں سنیں اور آگے کی کاروائی کیلئے 7اکتوبر تاریخ طے کردی ۔ پولیس نے اپنی دلیل کی حمایت میں تین فیصلوں کی کاپی رکھی ۔ جنوری 2023جب برج بھوشن شرن سنگھ پر پہلی بار جنسی استحصال کا الزام لگا تو ان کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ ویڈیومیں وہ کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ سے ایک قتل ہوا تھا۔ لوگ کچھ بھی کہیں میں نے ایک قتل کیا ہے۔ اتوار کو جس آدمی نے مارا ہے میں نے ہاتھ چھڑا کر اس کو فوراً رائفل سے اس کی پیٹھ پر رکھ پر مار ڈالا تھا اور وہ مارا گیا۔ سورج سنگھ سپا نیتا ہیں اس کے چاچا پنڈت سنگھ اکھلیش یادو سرکارمیں منتری رہ چکے ہیں۔ جس آدمی کو قتل کرنے کی بات برج بھوشن شرن سنگھ کیمرے پر کہہ رہے ہیں کہ وہ رویندر سورج سنگھ کے پیتا ہیں ۔برج بھوشن سنگھ پر 1997میں داو¿د ابراہیم کے چار ساتھیوں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگا تھا۔ 1997میں بر ج بھوشن شرن سنگھ چھ مہینے دہلی کے تہاڑ جیل میں بھی گئے تھے ان پر ٹاڈا کے تحت مقدمہ چلاتھا۔ (انل نریندر)

بیرون ملک میں ٹارگیٹ کلنگ کا سوال!

پچھلے دنوںکینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا کہ خالصتانی جنگجوں ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔اس سنگین الزام کے بعد بھارت اور کینیڈا کے رشتوںمیں دراڑ پڑ گئی ہے ۔ بھارت نے ٹروڈو کے اس دعوے کو سرے سے خارج کردیا ہے ۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے 18ستمبر کو کینیڈا کی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ زمین پر کینیڈا ئی شہری کے قتل میں کسی بھی غیر ملکی حکومت کی کسی بھی طرح کا کردار ہماری سرداری کی ایسی خلاف ورزی ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ پچھلے دوہفتے پہلے دہلی میں میں نے خود وزیراعظم مودی کو اس بارے میں شخصی طور پر سیدھے الفاظ میں معلومات دی تھی۔ خالصتانی علیحدی پسند لیڈر کوئی دھارمک اور سماجی شخص نہیں تھا۔ بلکہ وہ ایک آتنک وادی تھا۔ وہ آتنکی کیمپ چلانے اور آتنکی سرگرمیوںکی فنڈ نگ میں شامل تھا۔ ہتھیاروں اور گولہ بارود بنانے میں مہارت حاسل کرنے کیلئے نجر 2012میں پاکستا ن بھی گیا تھا۔ اس پر 10لاکھ روپے کا نقد انعام رکھا گیا تھا۔ نجر بھارت میں پولیس کے ذریعے گرفتاری کے ڈر سے 1996 کینیڈا بھاگ گیا تھا۔ اس لئے یہ تو ثابٹ جو چکا ہے کہ ہر دیپ سنگھ نجر ایک دہشت گرد تھا جو بھارت کے خلاف جنگ میں شامل تھا۔ رہی بات بیرن ملک میں دہشت گروں کے قتل کاتو امریکہ انگلینڈ اور اسرائل میں ایسی درجنوں مثالیں ہیں جہاں انہوںنے دیش کے دشمنوں اوردہشت گردوں کو مارا ہے ۔ امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجسی سی آئی اے اس کام میں ماہر ہے ۔ پوری دنیامیں اس ایجنسی نے درجنوں قتل کرائے ہیں اور وہ بھی دوسرے ملکوںمیں امریکہ ،اسرائل ،روس ،انگلینڈ کی جا نب سے اپنے مبینہ دشمنوں کو غیر ملکی زمین پر مار گرانے کے واقعات کے بعد سوال پوچھا جا رہا ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں،کیا وہ جائز ہے ؟ بین الاقوامی قانون کیا ایسے قتلوںمیں اجازت دیتا ہے؟ ان قوانین کے حساب سے کسی دیش میں غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے جان لینے کیلئے ٹارگیٹ کلینگ اس ملک کی سالمیت کے خلاف ہے ہی مانی جا ئے گی۔ 2011میں امریکہ نے پاکستا ن القاعدہ کے چیف اسامہ بن لادین پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مار گرایا تھا۔ اس کے دس بعد امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار گرایا تھا۔ اسرائل کا بھی خیا ل ہے کہ اس نے ٹارگیٹ کلنگ کے تحت کئی فلسطینیوں کو مار گرایا ہے ۔اسرائل ایران کے کچھ نیو کلیائی سائنسدانوں کو مارنے کا بھی الزام ہے ۔ کیا ایسے قتلوں کو یہ کہہ کر حمایت کی جاسکتی ہے کہ کسی دیش کو اپنے دشمنوں یا شدت پسند حملہ آوروں کو مارنے کا حق ہے ؟ امریکہ نے اسامہ بن لادین سلیمانی دونوں کو قتل کے وقت یہ دلیل دی گئی تھی کہ یہ اس کیلئے خطرہ تھا۔ انہوںنے اپنی حفاظت میں ان کا قتل کیا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔امریکہ نے پاکستان ،سومالیہ ،یمن ،کیوبا اور دوسری جگہوں پر اس طرح کی ٹارگیٹ کلنگ کو انجام دیا ہے۔ (انل نریندر)

26 ستمبر 2023

نئی دہلی پارلیمنٹ کی پوترتا بھنگ کر دی !

دیش کی سڑکیں جب گونگی یا سنسان ہو جاتی ہیں تو اس دیش کی پارلیمنٹ آوارہ اور بے اثر ہو جاتی ہیں ۔ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے سڑک اور پارلیمنٹ کے مسلسل رشتوں پر یہ بات اس دور میں کہی تھی جب دیش کی سڑکوں پر سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے جھنڈے تلے ہونے والے کانگریس مخالف آندولن کی چہل پہل بنی رہتی تھی ۔اور دیش کی پارلیمنٹ میں بھی عوام کے توقعات گونجتی تھیں ۔چھ دہائی پہلے دی گئی لوہیا کی یہ آگاہی پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل تعبیر ہوتی نظر آرہی ہے ۔پارلیمانی جمہوریت کے امرت کال میں 21د سمبر کوپارلیمنٹ کے اسپیشل سیشن کے دوران تو یہ بات نئے وسیع شکل میں ظاہر ہوئی ۔پارلیمانی کاروائی کے دوران ممبران کے درمیان تلخ لہجے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی ہونا عام بات ہے ۔اور کبھی کبھی بے ہودہ زبان کا استعمال بھی ہوتا ہے جس پر اسپیکر وارننگ دیتے ہیں،قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے نکلوا دیتے ہیں تو کبھی کبھی متعلقہ ممبر کو ایوان سے معطل بھی کردیتے ہیں ۔لیکن 21 ستمبرکو لوک سبھامیں جو کچھ ہوا وہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے اور دیش نے پہلی بار دیکھا ۔مون مشن 3- کی کامیابی پر بحث کے دوران جنوبی دہلی سے چنے گئے بھاجپا ایم پی رمیش بدھوڑی نے امروہہ کے بہوجن سماج وادی پارٹی سے چن کر ایم پی کنور دانش علی کے لئے جیسے بے ہودہ اور دیش کے سب سے بڑے اقلیتی فرقہ کے تئیں فرقہ وارنہ نفرت سے بھرے الفاظ کا استعمال کیا ۔انہیں ایوان سے باہر نکل کر دیکھ لینے تک کی دھمکی بھی دی ۔ایوان میں موجود وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بدھوڑی کے قابل اعتراض پر الفاظ ایوان سے معافی تو مانگی لیکن سوال یہ ہے کہ بدھوڑی کی اتنی ہمت کیسے ہوئی؟ بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو بے ہودہ الفاظ پورے دیش نے سنے اور اب اس کا ویڈیو پوری دنیا میں وائرل ہو گیا اس کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے کہا بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو الفاظ انہیں میں ٹھیک سے نہیں سن پایا، پھر بھی اگر اپوزیشن ان کی باتوں سے اپنے آپ کو ٹھیس محسوس کرتی ہے تو میں افسوس ظاہر کرتاہوں ۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے ایک عام ایم پی نہیں ہیں بلکہ وہ دہلی کے سب سے پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ والے اور دبدبہ والے علاقے ساو¿تھ دہلی پارلیمانی حلقہ سے مسلسل دوبار چنے گئے ہیں اور تین بار دلی اسمبلی کے ممبر بھی رہے ہیں ۔مودی جی جب غیر ملکی دورہ سے لوٹتے ہیں تو دہلی ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کیلئے رمیش بدھوڑی ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ دہلی میں مودی کی کوئی ریلی اور روڈ شو کیلئے بھیڑ کا انتظام کا ذمہ بدھوڑی اٹھاتے ہیں اس ناطے وہ وزیراعظم کے چہیتے ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک ہیں ۔حالانکہ بدھوڑی کے بے ہودہ الفاظ پر ابھی تک نا تو وزیراعظم اور نہ ہی آر ایس ایس کا کوئی رد عمل سامنے آیا ہے ۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کے قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے ہٹانے کا حکم دیا ہے ۔حالانکہ پارلیمنٹ کی کاروائی کا سیدھا ٹیلی کاشٹ کے دور میں ایسی کاروائی کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے ۔بدھوڑی نے ایم پی دانش علی کے خلاف جس قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ پورے دیش میں چھایہ ہوا ہے ۔اور یہ تاریخ میں درج ہو کر پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہو گئے ہیں ۔ویڈیو کلپ کے ذریعے پوری دنیا میں یہ بے ہودہ الفاظ پھیل چلے ہیں ۔چھوٹی موٹی باتوں پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کو پورے اجلاس کے لئے معطل کر دینے والے اسپیکر اوم برلا اس معاملے میں بدھوڑی کو صرف وارننگ دی ہے ۔اگر انہوں نے ایوان میں ایسا برتاو¿ کیا تو ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔غور طلب ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور اجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ جب منی پور کے معاملے میں وزیراعظم سے بیان دینے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی شیٹ سے اٹھ کر اسپیکر کے پاس بنی ویل میں پہونچ گئے تھے تو دونوں ممبران کو پورے سیشن کے لئے معطل کر دیا گیا تھا ۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے ایسے کئی معاملے راجیہ سبھا اور اس 17 ویں لوک سبھا میںدیکھے گئے ہیں جبکہ بدھوڑی کا معاملہ ان سب معاملے کے سامنے بے حد سنگین ہے۔یہ صحیح ہے کہ آئین کے سیکشن 105 (2 ) کے مطابق ایوان میں کہی بات یا کسی برتاو¿ کیلئے کوئی بھی ایم پی کسی بھی عدالت کے تئیں جواب دہ نہیں ہوتا ۔اس کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہو سکتا ہے ۔اور نا ہی کسی طرح کی کاروائی ہوسکتی ہے ایسے معاملوں لوک سبھا کی ردعمل اور کام چلانے کیلئے قواعد کے تحت اسپیکر کو ہی کاروائی کرنے کا اختیار ہے ۔ایسے میں سوال ہے کہ کیا کوئی ایم پی اپنے استحقاق حق کے تحت کسی دیگر ایم پی کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال یا گالی گلوج بھی کر سکتا ہے ؟ اس بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر اور سابق لوک سبھا اسپیکر کا رد عمل بھی کم حیران کرنے والا نہیں ہے جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اسپیکر کو کیا کرنا چاہیے ۔اگر ان کے وقت میں یہ معاملہ ہوا ہوتا تو کیا کرتی ۔تو انہوںنے اول تو اس پورے معاملے میں ہی بولنے میں معذوری ظاہر کی یہی نہیں انہوںنے رمیش بدھوڑی اور دانش علی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔جب کہ بدھوڑی تو ان کے لوک سبھا اسپیکر رہتے ہوئے پانچ سال تک لوک سبھا کے ایم پی رہے ہیں ۔بہر حال بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھوڑی کو وجہ بتاو¿ نوٹس دے کر ان سے 15 دنوں میں جواب دینے کو کہا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسے نوٹس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بدھوڑی نوٹس کے جواب میں محض معذرت ہی ظاہر کردیں گے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے گا۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے پہلے ایسے نیتا نہیں ہیں ۔جنہوں نے اقلیتی فرقہ کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی لیڈرشپ اپنے ایم پی رمیش بدھوڑی کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھا پائے گی جس سے پارٹی لائن کراس کرنے والے دوسرے لیڈروں کو سبق ملے ؟ (انل نریندر)

21 ستمبر 2023

40فیصد ممبران پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمے !

جمہوریت میں پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر کہا جاتا ہے جہاں سے پورے دیش کیلئے قانون بنانا ہوتا ہے ۔اور اگر پارلیمنٹ میں ایسے ایم پی بیٹھے ہوں جن کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہوں تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری جمہوریت کتنی مضبوط ہوگی؟ دیش قریب 40فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں ۔ان میں 25فیصدی پر قتل ،اقدام قتل ،اغوا اور خواتین پر زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں ۔چناو¿ حق نکام (اے ڈی آر ) نے اس کی جانکاری دی ہے ۔ اے ڈی آر کہا کہ لوک سبھا اورراجیہ سبھا کے ہر ایم پی کی پروپرٹی اوسطاً 38.33کروڑ روپے ہے جبکہ 53ارب پتی ہیں۔ ایوسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم ( اے ڈی آر ) اور نیشنل الیکشن واچ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی 776سیٹوںمیں سے 763موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔ اور یہ اعداد وشمار ممبران پارلیمنٹ سے اپنے پچھلے چناو¿ یا اس کے بعد کا کوئی بھی ضمنی چناو¿ لڑنے سے پہلے دائر کئے گئے حلف ناموں سے نکالے گئے ہیں۔ لوک سبھا کی چارسیٹوں اور راجیہ سبھا کی ایک سیٹ خالی ہے ۔ جبکہ جموں وکشمیر یا راجیہ سبھا سیٹیںابھی عمل نہیں ہیں۔ ایک لوک سبھا ایم پی اور تین راجیہ سبھا ایم پی کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ دستاویز دستیاب نہیں ہیں ۔ تجزیہ کے مطابق 763موجودہ ایم پی میں سے 316( 40فیصد) پر مجرمانہ معاملے جبکہ 194( 25فیصد) موجودہ ایم پی نے اپنے خلاف سنگین مجرمانہ کیسیز کی جانکاری دی ہے ۔ ان میں قتل ،قدام قتل اور خواتین کے خلاف مجرمانہ معاملے ہیں ۔ بھاجپا کے 385ممبران پارلیمنٹ میں سے 139( 36فیصد) کانگریس 85ممبران میں سے 43(53فیصد) ترنمول کانگریس 36ممبران پارلیمنٹ میں سے 14( 39فیصد) آر جے ڈی کے 6ممبران پارلیمنٹ میں سے 5( 85فیصد) بھاجپا کے 8ایم پی میں سے 6(75فیصد ) عام آدمی پارٹی کے 11 ممبران پارلیمنٹ میں سے 3( 27فیصد) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 31ممبران میں سے 13(42فیصد) اور این سی پی کے 8ایم پی میں سے 3( 38فیصد) ممبران پارلیمنٹ نے حلف ناموںمیں ان کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہونے کی جانکاری دی ہے ۔ تلنگانا کے ایم پی سب سے امیر ہیں ۔ ہر ایم پی کافی اوسطاً پروپرٹی والا راجیہ تلنگانا ( 24ایم پی ) جن اوسطاً پروپرٹی 262.26کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد آندھرا پردیش ( 36ایم پی ) ہیں۔جن کی اوسطاً پروپرٹی 150.76کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد پنجاب (20ایم پی ) آتا ہے جہاں اوسط پروپرٹی 28.94کروڑ روپے ہے۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...