Translater
23 دسمبر 2022
بڑھتی جھڑپیں بڑھتی تجارت !
بھار ت اور چین کی سرحدوں پر ایک بار پھر سے کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ اس مرتبہ کشید گی کے مرکز میں لداخ کی جگہ اروناچل پردیش کی سرحدیں ہیں ۔ اس کی وجہ کہ 9دسمبر کی صبح توانگ سیکٹر کے ینگسٹر س میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں۔ اس جھڑپ میں کچھ ہندوستانی فوجیوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ اس سے پہلے گلوان وادی میں خونی جھڑپ میں 20ہندوستانی جوانوںکی موت ہو گئی تھی ۔ اس بعد دونوں ملکوںمیں کشید گی انتہا ءپر پہنچ گئی تھی۔ گلوان سے پہلے دونوں دیش دوکلام میں قریب ڈھائی مہینے تک ایک دوسرے کے سامنے تنے کھڑے رہے ۔پچھلے سال چین اور بھارت کے درمیان ایک طرف جہاں تعطل بڑھا ہے وہیں دوسری طرف چین پر بھارت کے انحصار میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس درمیان چین سے سامان خریدنے میں بھارت نے قریب 60فیصد تجارت میں اضافہ کردیا ہے۔ آسان لفظوںمیں کہیں تو سال 2014میں بھارت اور چین سے سامان خریدنے پر 100روپے خرچ ہوتا تھا آج یہ بڑھ کر 160روپے ہوگئے ہیں۔ ڈپلومیسی میں کہتے ہیں جس ملک سے خطرہ محسوس ہو اس پر انحصار کم کرلینا چاہئے ۔ایسے ہی وعدے حالیہ دنوںمیں روس یوکرین جنگ کے بعد مغربی ملکوںنے بھی کئے ہیں۔ وہ روس پر اپنی انحصار کو کم کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ چین کے ساتھ سرحدوں پر ٹکراو¿ کے باوجود بھارت اپنا انحصار کم نہیں کر رہا ہے؟ وہ کون سے سامان ہیں جو بھار ت میں چین سے سب سے زیادہ خریدے جاتے ہیں؟ اس راستے پر اگر بھارت چلتا رہا تو اسے مستقبل میں کئی طرح کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ بھارت نے سال2021-22میں دنیا بھر کے 216ملکوں اور علاقوںسے سامان خریدا ہے جس پر بھارت نے 61305کروڑ امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں۔ بھارت کے تجارت و صنعت وزارت کے اعداد وشمار کے مطابق اس خرچ میں سب سے زیادہ فائدہ چین کو ملا۔بھار ت کے کچھ در آمدات نے چین کی حصہ داری 15.42فیصد رہی ٹاپ کے دس ملکوںمیں چین کے علاوہ متحدہ عرب امارات،امریکہ ،عراق ،سعودی عرب ،سوٹزر لین، ہانگ کانگ ،سنگاپور،انڈونیشیا اور کوریا شامل ہیں ۔بھارت چین تازہ تنازعہ کے درمیان کل درآمدات میں کس دیش کا کتنا فیصدی حصہ ہے ؟ چین پر بھارت کے انحصار کے پیچھے ماہر اقتصادیات صنعتی پالیسی نہ ہونے کو ایک بڑی وجہ مانتے ہیں۔ بی بی سی ہندی سے بات چیت میں ماہر اقتصادیات سنتوش نیرمان کہتے ہیںپچھلی سرکار نے 2011میںنئی مینوفیکچرنگ حکمت عملی بنائی تھی اسے وہ لاگو نہیں کرپائی ۔ 1992سے 2014تک بھارت کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا تناسب 17فیصد بنا رہا لیکن 2014کے بعد اس میں 203فیصد کمی درج کی گئی ۔ آسان لفظوں میںکہیں تو 100روپے میں سے 15روپے کا سامان بھارت اکیلے چین سے خرید تا ہے ۔ اس میں الیکٹریکل ،مکینیکل مشینری ،کل پرزے ساو¿نڈ ریکارڈ ،ٹیلی ویژن اور دوسری کئی چیزیں شامل ہیں۔ ٹاپ 10چیزوں کی بات کریں تو اس میں الیکٹرونک سامان کے بعد نیو کلیر ریئکٹرس ،بائلر آرگینک کیمیکل پلاسٹک کا سامان ،کھاد اور گاڑیوں سے جڑا سامان ،کیمیکل سامان آئرن اسٹیل کا سامان اور الومینیم شامل ہیں اگر تجارت کی بات کریں تو یہ سال 2014-15میں قریب 48ارب ڈالر کا تھا جو سال 2021-22میں بڑھ کر قریب 73ارب ڈالر کا ہو گیا ۔ ہمیں چین پر انحصاریت گھٹانی ہوگی اور جنتا کو چینی سامان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، بھلے ہی دیشی مہنگا سامان کیوں نہ خرید نا پڑے ۔
(انل نریند)
20 دسمبر 2022
20منٹ کی فلائٹ اور مشقت 5گھنٹے کی !
ایک طرف تو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فلانا ہائیوے بنادیا گیا ہے اور آپ اس ہائیوے سے دو گھنٹے میں دہلی سے ڈیڑھ گھنٹے میں آگرہ ،دو گھنٹے میں دہرادون ،چار گھنٹے میں جے پور ،چنڈی گڑھ سے شملہ پہنچ سکتے ہیں ۔وہیں انہیں شہروں کیلئے محض 50منٹ کی فلائٹ کیلئے وزراءکو پانچ سے چھ گھنٹے لگ رہے ہیں۔ہوائی اڈوں پر کافی وقت تک انتظار کرنے کی بڑھتی شکایتوں کے درمیان ایئر لائنز کمپنیوں نے اب مسافروں کو کم سے کم ساڑھے تین گھنٹے پہلے پہنچنے اور جانچ پڑتال کرانے اور تیز رفتار سے کام کاج کے نپٹارے کیلئے صرف ایک ہینڈ بیگ ساتھ رکھنے کی صلاح دے ڈالی ۔ انڈیگونے گھریلو مسافروں سے کہا کہ ڈیپارچر سے ساڑھے تین گھنٹے پہلے دہلی ایئر پورٹ پہنچیں ،ہینڈ بیگ کا وزن سات کلو سے زیادہ نہ ہو۔ وستارا نے مسافروں سے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کی اپیل کی ۔اسپائس جیٹ نے بھی ایسے ہی شرط لگائی ہے اس نے ممبئی ایئر پورٹ سے فلائٹ پکڑنے والے گھریلو مسافروں کو ڈیپارچر سے ڈھائی گھنٹے پہلے اور انٹر نیشل فلائٹ لینے والوں کو ساڑھے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کیلئے کہا ۔ ادھر منگل روز بھی مسافروں کو دہلی ایئر پورٹ پر بد انتظامی کی شکایت جھیلنی پڑی وزارت ہوا بازی نے ایئر لائنز کو مین رن اور بیگج کاو¿نٹروں پر کافی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایئر لائنز سے کہا گیا ہے کہ انتظار کرنے والے مسافروں کو وقت کے بارے میں سوشل میڈیا پر جانکاری دیں ۔اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر بڑھتی ہوائی ٹریفک کے درمیان مسافروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں جا رہی ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس مسئلے کے پیچھے ہوائی سفر کا کووڈ سے پہلے کی طرح بحال ہو جا نا ہے ۔جبکہ کووڈ سے پہلے تو مسافروں کی سفر بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فضول کی بہانے بازی کی جار ہی ہے۔ مسئلہ کہیں اور ہے اور اس کا حل کرنے کے بجائے اول جلول بہانے کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں بے شک ایئر ٹریفک بڑھ رہا ہے ۔لیکن اب بھی نیو یارک لندن پیرس جیسے شہروں کا ہم مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ وہاں انتظام کتنے چست درست ہیں۔ ہم ایئر پورٹ تو بنا لیتے ہیں لیکن اس میں ضروری سہولیات کا خیال نہیں رکھتے کئی دنوں سے چلے آرہے مسئلے کو دیکھتے ہوئے آخر سرکار کچھ چوکس ہوئی ہے۔وزیر شہری ہوا بازی جیوتر آدتیہ سندھیا نے ہوائی اڈے پر انتظامات کا جائزہ لیا ہے اس کے بعد عام مسافروں کیلئے کچھ اور گیٹ کھولے گئے ہیں تاکہ جانچ کیلئے سی آئی ایس ایف فاضل جوانوں کی تعیناتی کی جار ہی ہے۔ اور سامان کی جانچ کیلئے چار مزید اکسرے مشینیں لگائی جا رہی ہےں ۔بھارت میں ٹورسٹ سیزن شروع ہو گیا ہے اور ایئر ٹریفک بڑھے گا ۔بہتر ہے کہ جنگی سطح پر کام ہو تاکہ مسافروں کا وقت ضرورت سے زیادہ برباد نہ ہو۔
(انل نریندر)
ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ شخصی آزادی کی مثال پر اگرقدم نہیں اٹھاتے تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ بڑی عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جڑے معاملوں میںکاروائی نہیں کرتی تو یہ آئین کی دفعہ 136کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہوگی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کو خارج کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ اگر ہم اپنی ضمیر کی نہیں سنتے ہیں بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی بھی معاملہ چھوٹا نہیں ہوتا ۔اگر ہم شخصی آزادی سے جڑے معاملوں میں کاروائی نہیں کرتے اور راحت نہیں دیتے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سی جے آئی چندر چوڑ نے یہ رائے زنی بجلی چوری کے ایک ملزم کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران کی ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی معاملہ چھوٹا نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کی اس رائے زنی کو وزیر قانون کیرن رجیجو کو جواز سمجھا جا رہا ہے ۔ کیوں کہ انہوںنے ایک دن پہلے ہی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو ضمانت جیسے معاملوں کی سماعت نہیں کرنی چاہئے بلکہ آئینی معاملوںکی سماعت تک محدود رہنا چاہئے۔معاملوں میں عرضی گزار کو بجلی چوری کے نو معاملوںمیں ہر میں دو دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔بنچ نے فیصلہ کیا کہ سزائیں الگ الگ چلیںگی اس سے اس کی کچھ سزا 18سال ہو گئی ۔عرضی گزار اس کے خلاف بڑی عدالت پہنچا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ معاملے کے پہلو بڑی عدالت کو ہر شہری کو ملے ،زندگی شخصی آزادی کے بنیادی حقوق کے محافظ کی شکل میں اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا ایک اور موقع ہے ۔ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو ایک شہری کی آزادی ختم ہو جائے گی۔شہریوں کی شکایتوں سے جڑی چھوٹے اور ریگولر معاملوں میں اس عدالت کے دخل سے جوڈیشری ماہرین اور آئینی مسئلوں سے متعلقہ پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔سی جے آئی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نر سمہا کی بنچ نے معاملے کو چوکانے والا قرار دیا ۔بنچ نے پایا کہ اپیل گزار تین سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سزا ساتھ ساتھ چلنے کے اس کی درخواست کو نہیں مانا تب اس نے بڑی عدالت کا رخ کیا ۔ سپریم کورٹ نے اس کی فوراً رہائی کو حکم دیا ۔بنچ نے سماعت کے دوران مدراس ہائی کورٹ نے سابق جج جسٹس ایس متو کی مدد مانگی ۔وہ اتفاق سے ایک دوسرے معاملے کیلئے عدالت میں تھے ۔سینئر وکیل میتو نے اسے ایک غیر معمولی حالت بتایا اور انہوںنے ہائی کورٹ کے حکم کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بجلی چوری کیلئے ایک طرح سے عمر قید ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ اس لئے سپریم کورٹ کی ضرورت ہے۔بجلی چوری قتل کے برابر کا معاملہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)
16 دسمبر 2022
کانگریس کی ہاتھ جوڑو یاترا !
چھتیس گڑھ میں کانگریس تنظیم ایک بارپھر اسمبلی حلقوںمیں اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی تیاری میں ہے ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندی کی بھارت جوڑو یاترا کو دیش میں مل رہی کامیابی اور مقبولیت کے پیش نظر ان اشوز کو چھتیس گڑھ میں اٹھایا جا ئے گا۔وہیں مودی سرکار کی ناکامیوں بد انتظامی سے لیکر مہنگائی اور بے روزگاری کے اشو پر کانگریس گھر گھر جائے گی۔ بھارت جوڑا یاترا کی ترز پر چھتیس گڑھ کانگریس ہر اسمبلی حلقے میںہاتھ جوڑا یاترا نکالنے جا رہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے اس کا اعلان کردیا ہے کہ وہ یوم جمہوریت 26جنوری سے شروع کرے گی ۔ یاترا کے آغاز کے ساتھ ا س میںریاستی سرکار کے کارناموں اور مودی سرکار کی ناکامیوں کو جم کر اچھالا جائے گا۔ اس یاترا کے ذریعے کانگریس نیتا اور ورکر علاقے میںہر بوتھ اور ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش میںہیں۔ اس یاترا کو لیکر جلد ہی حکمت عملی کے ساتھ ایک حکمت عملی پلان طے ہو جائے گا۔چھتیس گڑھ کانگریس کی نئی انچارج کمای شیلجا کی موجودگی اور اقتدار تنظیم کے لیڈروں کی موجودگی میںہونے والی میٹنگ میں اس مسئلے پر اہم بحث ہوگی ۔ پردیش کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ہاتھ جوڑو یاترا کو لیکر غور ہوگا۔ بھارت جوڑو یاترا کی شاندار کامیابی سے حوصلہ افزا چھتیس گڑھ کانگریس ریاست میں بہتر ڈھنگ سے عمل کرنے کے موڈ میں ہے۔ دوسری طرف یہ یاترا چناوی سال میں نکلے گی ۔اور اس میں مقامی سطح کے لیڈروں کو شامل کرنے کی تیاری ہے ۔ذرائع کادعوی ٰہے کہ چناوی سال ہونے کی وجہ سے اسمبلی حلقوںمیں ایک طرح سے تنظیم کی زمین کے حالات بھی ٹٹولے جائیںگے ۔ اور اصلی تنظیم کی حالات کے تجزیہ کے ساتھ ایک طرح سے ممبران اسمبلی کی کارکردگی اور ان کی مقامی سطح پر مقبولیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس معاملے میں ورکروں کوبھی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ اس یاترا سے چھتیس گڑھ میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کے ساتھ آنے والے سال 2024میں لوک سبھا چناو¿ کی تیاریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ دیش میں بہت زیادہ مہنگائی ،بڑھتی بے روزگاری کے اشوپر ایک طرح سے کانگریس مودی سرکار اور بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ساتھ ہی اس اشو پر عام لوگوںکو کانگریس کے حق میںووٹ ڈلوانے کی کوشش کرے گی۔ اسمبلی حلقوں میںاس پد یاترا کے ذریعے ورکروں کو ہر بوتھ بوتھ تک پہنچنے کی ہدایت ہے اور مقامی ورکروں کوبوتھ کے علاوہ گھر گھر لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے احکامات دئے جارہے ہیں۔ دیکھیں یہ ہاتھ جوڑو یاترا زمین پر کتنی کھڑی اترے گی۔ ماننا ہوگا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاتراکا کانگریس کے ورکروں اور نیتاو¿ پر خاصہ اثر ہو رہاہے۔
انل نریندر)
طالبان نے بھارت سے مانگی مدد!
طالبان نے 15اگست 2021کو جب کابل پر قبضہ جمایا تھا تب سے اسے امریکہ کے ساتھ ہی ہندوستانی ڈپلومیسی کو بھی شکست کے طور دیکھا گیا تھا ۔ لیکن پچھلے 15مہینوںمیں افغانستان میں ڈپلومیٹک حالات کافی بدل گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ طالبان کے رشتے مسلسل کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ جبکہ پچھلے دنوں وہاں کے سفارت خانے میںکام کررہی ڈپلومیٹک تکنیکی ٹیم سے طالبان نے درخواست کی تھی کہ بھارت وہاں اپنے التویٰ میں پڑے پروجیکٹس کو شروع کرے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی اسکیموں کو شروع کرنے کو لیکر زیادہ ولولہ نہیں ہے ۔وزارت خارجہ کا یہ بھی خیال ہے کہ طالبان بین الاقوامی سطح پراپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے منصوبے سے بھی بھار ت کے ساتھ رشتوں کو لیکر زیادہ جوش نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے مدد مانگی گئی ہے لیکن ابھی ممکن نظر نہیں آتا ۔ اگر بھارت وہاں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ یا بجلی سپلائی سے متعلق پروجیکٹس کو شروع کرنے کا فیصلہ بھی کرتا ہے تو پہلا سوال یہ ہے کہ وہاں سازوسامان کیسے بھیجے جائیںگے ؟ اناج تو بھیجنا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے ۔ کیوںکہ پاکستان کی طرف سے مسلسل رکاوٹےں پیدا کی جا رہی ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ابھی وہاں کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ لیبرس کی حفاظت کو لیکر مطمئن ہوا جا سکے ۔طالبان کے آنے سے بھی وہاں سکھوں پر حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو وہاں سے سیکڑوں سکھو کو نکالنا پڑ رہا ہے ۔کئی طرح کی دوسری پریشانیاں بھی ہیں۔ جیسے افغانستان میں کسی طرح کی کاروبار کیلئے کوئی بیمہ سہولت ابھی دستیاب نہیں ہے ۔یہاں تک کہ وہاں بینکنگ سسٹم بھی باہری دنیا سے کٹا ہوا ہے ۔ہندوستانی ڈپلومیٹک ٹیم سے ملنے دوران طالبان میں وزیر شہری ترقی حمداللہ نعمانی نے خاص طور پر چار مطالبے رکھے ہیں ۔پہلا بھارت پروجیکٹس کو پھر سے شروع کرے ۔دوسرا کابل میںڈیولپمنٹ سے وابسطہ پروجیکٹس کو شروع کرنے کیلئے فنڈ دے ۔تیسرا افغانی طلبہ کو ویزا دینے کا کام شروع کرے ۔چوتھا ہندوستانی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے افغانی طلبہ کی مدد کرے ۔ اگست2021میں کابل سفارت خانہ خالی کرنے کے 9ماہ بعد بھارت نے طالبان سے سیدھی بات کی تھی اس کے بعد افغانستان کو انسانی ہمدردانہ بنیاد پر گیہوں ،دوائیاں بھیجی گئیں ۔ درمیان بھارت نے وہاں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ لیا ۔ حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغانستان کی خراب حالت کا اشو اٹھایا تھا ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان سے افغانستان کے رشتے برابر خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ پاکستان کی فوج اور افغان طالبان جنگ بازوں کے درمیان یمن سرحد پر زبردست گولہ باری ہوئی ہے ۔دونوں کے درمیان حملوں میں اب تک 10لوگوں کی موت ہوگئی ہے ۔ جبکہ 37لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے اور پتہ چلا ہے کہ دونوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔
(انل نریندر)
13 دسمبر 2022
اس بمپر جیت کا 2024کے عام چناو ¿ پر کیا اثر ہوگا؟
گجرات میں جیت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں آنے والے سال 2024میں ہونے والے عام چناو¿ کی تیاریوں کی جھلک دیکھنے کو ملی ۔ انہوںنے ابھی سے چناو¿ کمپین شروع کردی ہے اور جس طرح سے ورکروں سے بات کی اور ان کو سراہا اس سے لگتا ہے کہ 2024میں کیا ہونے جا رہا ہے اور مودی ابھی سے مورچہ بندی کررہے ہیں ۔ہندوستانی جمہوریت میں اقتدار سنبھال رہے نیتا ہمیشہ سرکار مخالف لہر سے ڈرے رہتے ہیں لیکن بی جے پی نے گجرات میں 27سال کی سرکارچلانے کے بعداگلے 5سال کیلئے بھی ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور ثابت کردیا ہے کہ ابھی بھارت میں بھاجپاہی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے اور اگلے کچھ برسوں تک اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ تیار بھی ہے ۔وزیر اعظم نریندرمودی مسلسل 12سال گجرات میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دہلی آئے تھے اور وہ پچھلے 8برسوں سے بھارت کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی قیادت میں کئی چناو¿ جیتے ہیں ۔ کورونا وبا کے بعد بی جے پی نے سب سے اہم ریاستوں میں سے ایک اترپردیش میں بھاری اکثریت سے چناو¿ جیتا اور آسام ،گجرات اورگوا میں بھی سرکاریں بنائیں۔انہوں نے اپنے نام پر ووٹ مانگے اور ایک طرح سے وہ گجرات کو اپنا جانشین کی شکل میں پیش کرتے رہے ہیں۔ اور ہندوستانی سیاست میں گجرات کی زبردست جیت کو ہندوستانی سیاست میں برانڈ مودی کے اور مضبوط ہونے کی شکل میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ گجرات دہلی ،ہماچل پردیش کے نتیجے آنے والے 2024کے لوک سبھا چناو¿ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ کیا ان نتیجوں کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی حکمت عملی بدلنی پڑ سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں 30سے زیادہ ریلیاں کیں بار بار گجرات کو اپنے آپ سے جوڑا اور انہوںنے گجرات کی وقار کی بات کی ۔اور ووٹروں سے خود پر اور بی جے پی پر بھروسہ کرنے کی اپیل کی ۔ گجرات چناو¿ کے دوران بی جے پی نے ہندوتو کی اپنی سیاست پر زور دیا ۔ بی جے پی کے اسٹار کمپینروں کے نشانے پر مسلمان رہے سیاسی مبصر مانتے ہیں کہ بی جے پی ہندوتو کی اپنی آئیڈیولوجی کو تو ظاہر کرتی ہے لیکن وہ صرف ہندوتو کے نام پر ہی ووٹ نہیں مانگتی بلکہ اپنے اشوز کے ذریعے بھی لوگوں کو اپنی طرف کھیچ رہی ہے ۔ اس بار عورتوں نے بھی کھل کر بھاجپا کا ساتھ دیا ۔یہ کہنا غلط ہے کہ بی جے پی صرف ہندوتو کی حکمت عملی پر چناو¿ لڑ رہی ہے ۔وہ بجلی ،پانی جیسے بنیادی اشوز کو بھی اٹھا رہی ہے سب سے زیادہ کامیاب وہیں اسکیمیں ہیں جو ان اشوز کے ارد گرد ہیں اور ان کا فائدہ اٹھانے والا طبقہ بی جے پی کے ساتھ جڑاہوا محسوس کرتا ہے ۔بی جے پی کو صرف ہندوتو کے دم پر نہیں بلکہ کام کے دم پر کامیابی ملی ہے۔ چناو¿ کا اشوز کا اثر پڑتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماچل میں سرکار نہیں بدلتی ۔ دہلی ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کو اتنی شاندار کامیابی نہیں ملتی ۔ عام آدمی کے درمیان پارٹی کا بھروسہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
بیٹیاں بھگوان کی دین ہوتیں ہیں!
روہنی کیسی ہے ؟سنگا پور میں آپریشن کے بعد ہوش میں آنے پر سب سے پہلے آر جی ڈی چیف لالو پرساد یادو نے یہی پوچھا تھا ۔یہ لفظ نہ تو آر جے ڈی چیف کے ہیں اور نہ ہی بہار کے سابق وزیر اعلیٰ کے ہیں ۔ یہ لفظ ایک والد کے ہیں جو اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ اس بیٹی کے بارے میں جس نے کچھ ہی گھنٹے پہلے اپنی کڈنی اپنے پاپا کی زندگی بچانے کیلئے ڈونیٹ کردی ۔ ایسا نہیں ہے کہ جذبات کی یہ دھار ایک طرف سے بہہ رہی ہے ۔ سنگاپور میں اپنے والد کو کڈنی دینے سے پہلے روہنی نے بھی مسلسل کئی جذباتی ٹویٹ کئے تبھی سے باپ بیٹی کے رشتوں پر خوب بحث جاری ہے ۔ جیسے ہی روہنی کو پتہ چلا کہ لالو پرساد یادو کو کڈنی دینے کیلئے وہ ڈونر بن سکتی ہیں۔ روہنی نے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ کئے گزشتہ 11نومبر کو والد لالو پرساد یادو کے ساتھ بچپن کی اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے روہنی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ماں باپ میرے لئے بھگوا ن ہیں میں ان کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔آپ سبھی کی دوعاو¿ں نے مجھے اور مضبوط بنایا ہے ۔ میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں آپ سب کا خاص پیار اور عزت مل رہی ہے ۔ میں بہت جذبات میں ہوں آپ سب کو دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں ۔روہنی نے لکھا ہے کہ زمین پر ماں باپ ہی بھگوان ہوتے ہیں اور ان کی پوجا اور خدمت کرنا ہر بچے کا فرض ہے ۔ پتا کو کڈنی دینے کے فیصلے پر روہنی نے اپنے ٹویٹر پر لکھا میرا تو خیال ہے یہ تو بس ایک چھوٹا گوشت کا ٹکڑا ہے جو میں اپنے پاپا کیلئے دینا چاہتی ہوں میں اپنے پاپا کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔ روہنی نے اپنے ٹویٹ میں سب سے گزارش کی ہے کہ آپ سب دعا کیجئے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے اور پھر سے آپ سبھی کے درمیان عوام کی آواز بلند کریں ،نیک خواہشات کیلئے ایک بار پھر سے آپ سب کا شکریہ ۔ روہنی آچاریہ کے اس فیصلے پر کئی ٹویٹر یوزر تعریف بھی کر رہے ہیں جس میں نیتا بھی پیچھے نہیں ہےں اور نہ سیاسی حریف ۔ بیگوسرائے سے ایم پی و مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے لالو کی بیٹی روہنی کے اس فیصلے پر لکھا بیٹی تو روہنی آچاریہ جیسی ہو اس پر فخر ہے ۔آ پ پر ہمیں فخر ہے آپ آنے والی نئی نسل کیلئے ایک مثال بنیںگی۔ اتنا ہی نہیں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بعد وزیر اعظم نریند مودی نے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کی طبیعت اور حال چال جاننے کیلئے تیجسوی یادو سے بات کی ۔ سینئر صحافی رویش کمار نے بھی فیس بک پر روہنی کے تعریف میں ایک لمبا پوسٹ لکھا اور وہ روہنی کی اس فیصلے پر لکھتے ہیں کہ جس طرح سے روہنی نے ٹویٹر پر اپنے والد کے تئیں فراخدلی کا اظہار کیا وہ کافی الگ ہے ۔اس میں کوئی پرچار نہیں ہے اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے اس میں صرف پاب بیٹی کا رشتہ ہے ۔روہنی بچوں میں لالو یادو کی نمبر دو کی اولاد ہیں ان کی بڑی بیٹی نیسا بھارتی ہیں ۔اس کے بعد تیج پر تاپ یادو ،تیجسوی یادو ۔ رہنی 43سال کی ہیں انہوں نے اسکول کالج میں تعلیم کے بعد میڈیکل سیکٹر میں اپنا کریئر چنا اور انہوںنے جمشید پور کے ایم جی ایم کالج سے ایم بی بی ایس کیا ۔ حالاںکہ انہوںنے کبھی ڈاکٹری کی پریکٹس نہیں کی ۔ روہنی بھاگوان ہیں اور دیوی ہیں آپ لاکھوں لوگوں کیلئے ایک مثال بن گئیںہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...