Translater

18 جون 2021

لوگوں کی جان بچانے کیلئے سپریم کورٹ کی تعریف !

کیرل کی پانچویں جماعت کی طالبہ لیڈوبنا جوزف نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو دل کو چھو لینے والا خط لکھا ہے اس میں طالبہ نے کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیتے ہوئے عام لوگوں کے علاج اور آکسیجن کی کمی کو لیکر دیئے گئے احکامات کو لیکر بڑی عدالت کی تعریف کی ہے ،ترچور کی سینٹرل اسکول کی طالبہ لیڈوینا نے خط کے ساتھ ساتھ ہاتھ سے بنائی گئی ایک ڈرائنگ تصویر بھیجی ہے اس میں چیف جسٹس کو عدالت نے اپنے بنچ پر بیٹھے دکھایا گیا ہے ۔ اس خط کا چیف جسٹس رمنا نے جواب بھی دیا ہے چیف جسٹس نے اپنے دستخط کے ساتھ آئین کی ایک کاپی طالبہ کو تحفے میں بھیجی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اس بات سے بے حد متاثر ہیں طالبہ کہ خبروں اور واقعات پر گہری نظر ہے چیف جسٹس نے لکھا ہے مجھے یقین ہے کہ آپ بڑی ہوکر ایک ہوشیار بیدار اور ذمہ دار شہری بنیں گی اور ملک کی تعمیر میں اپنا اشتراک دیں گی غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کے دخل کے بعد آکسیجن سپلائی کو لیکر مرکز اور ریاست نے دلچسپی دکھائی ہے اور وقت سے اسپتالوں میں آکسیجن و کورونا کی دواو¿ں کی سپلائی کی ہے کورٹ نے کورونا سے نمٹنے کیلئے کئی احکامات جاری کئے سپریم کورٹ کے ذریعے اٹھائے گئے حالیہ سوالات کے بعد ہی مرکزی سرکار نے ریاستوں کو مفت ویکسین انجکشن دستیاب کرانے کا اعلان کیا ہے اور قومی ویکسی نیشن پالیسی میں تبدیلی کی ہے اس سے اب 18سے 45کو بھی مفت ٹیکہ لگ سکے گا۔ (انل نریندر)

احتجاج کرنا آتنکی ساز ش نہیں ہے !

دہلی ہائی کورٹ نے نئی دہلی فساد معاملے میں تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے اختلاف کو دبا نے کی چنتا میں سرکار کی نظر میں احتجاج کرنے کو آئینی حق اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بیچ کا فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے اگر یہ ذہنیت ایسی ہی بڑھتی رہی یہ جمہوریت کیلئے کالا دن ہوگا اور خطرناک ہوگا ۔ جسٹس سدھارتھ چندل وجسٹس انوپ کی بنچ نے غیر قانونی سرگرمی روک تھام ایکٹ (UAPA)گرفتار جے این کی طلبا نتاشہ نروال ، دیوانگنا ، کالتا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال کو ضمانت دے دی بنچ نے 113صفحات 83972صفحات کے اپنے تین فیصلوں میں کہا، دہلی فسادات کی سازش کے معاملے میں ملزمان پر یو اے پی اے کے تحت جرائم میں کوئی پہلی نظر معاملہ نہیں پایا گیا ہے ضمانت کے خلاف یو اے پی اے کی سخت دفاع 43d( 5)ان ملزمان پر یہ نافذ نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ ضمانت پانے کے حق دار ہیں بنچ نے کہا پولس کی چارج سیٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے لگائے الزمات کے پیش نظر یو اے پی اے کی دفعہ 15پندرہ کی روشنی میں امکانی دہشت گرد ، دفعہ 17کے تحت آتنکی حرکت کیلئے پیسہ اکٹھا کرنے و دفعہ 18کے تحت آتنکی حرکت کرنے کی تیاری کی شکل میں دیکھا جاسکے بنچ نے ملزم طالبات کی اپیل پر نچلی عدالت کے اس حکم کو خارج کر دیا میں جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا بنچ نے ضمانت پر 18مار چ کو اپنا حکم محفوظ رکھا تھا عدالت نے کہا کہ اس پر کوئی تنازع نہیں کہ انہوں نے سی اے اے کے خلاف ہورہے مظاہروں میں شرکت کی تھی ہمارا خیال ہے کہ احتجاج کا حق اخلاقی حق ہے عدالت نے کہا طالبات کے خلاف الزام ابھر کر سامنے نہیں آرہے ہیں ایسے میں انہیں جوڈیشیل حراست میں رکھنے کی بنیاد نہیں ہے دہلی پولس نے کہا کہ ہم فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی بغاوت کو لیکر کئے گئے تبصرے کا بھی ذکر کیا عدالت نے کہا کہ سرکار اور پارلیمانی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج جائز ہے ایسے احتجاج کے پر امن ہونے کی امید کی جاتی ہے لیکن ان کا قانون طے ادارے کے باہر جانا غیر معمولی نہیں ہے ایک بار ہم مان بھی لیں کہ طالبات نے آئین کے تحت ملے حقوق کی حد کو پار کیا ہے تب بھی وہ دہشت گردانہ سازش رچنے کے برابر نہیں ہے دیوانگنا اور نتاشہ پر الزام ہے کہ انہوں نے دوسرے سازشیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بھڑکایا جس کے چلتے دنگا بڑھکا دہلی دنگوں نے کالتا پر چار اور نروال پر تین اور تانہا پر دو معاملے ہیں ۔ اب ان کے جیل سے چھوٹنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے کہ انہیں دیگر معاملے میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے ۔ (انل نریندر)

17 جون 2021

کشمیر میں بڑھیں گی آتنکی سرگرمیاں!

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ کشمیر میں آتنکی سرگرمیاں بڑھنے کا اندیشہ ہے سی این این نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، جمہوریت کی حفاظت کیلئے بنی فاو¿نڈیشن ایف ڈی ڈی سے سینئر فیلو اور لانگ وار جنرل کے مدیر بل روشیو نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے کے بعد کشمیر میں پاکستان اسپانسر دہشت گردی بڑھنے کا اندیشہ ہے پاکستان کا آتنک واد کو اسپانسر کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے یہ پالیسی طالبان کے جہادی گروپوں کو حوصلہ افزائی کرتی ہے امریکہ کے ذریعے افغانستان میں 20سال کی جنگ سے خود کو الگ کرنے لینے کے بعد کشمیر میں لڑائی کے حالات اور خراب ہوسکتے ہیں حالانکہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ امریکہ صرف افغانستان سے اپنی فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے دیش میں اپنی موجودگی ختم نہیں کرے لیکن اس کے باوجود پاکستانی خارجہ پالیسی سہہ پاکر یہ آتنکی گروپ افغانستان کا ساتھ دینے والے ملکوں کے خلاف اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتے ہیں آتنک واد کو پناہ دینے کے ساتھ پاکستان نے آتنکیوں کیلئے بھی پیسہ اکٹھا ہوتا ہے یہ دعویٰ ہے پاکستان کے اپوزیشن پارٹی نیشنل پارٹی نے کہا کہ سرکار افغان طالبان کو مسجد کے ذریعے یہاں چندہ اکٹھا کرنے کے کوشش روکنے کیلئے تیزی سے کاروائی کرے پارٹی کے سابق صوبائی ترجمان ولی خاں نے ایک مرکز میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں کہا مسجدوں میں جاری عطیہ کا اکٹھا ہونے کا انکشاف ہواہے پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی حکومت میں اتحاد ہی نہیں ہے مگر ان دنوں ایک ہی ذریعے سے احکامات مل رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی نہیں ہورہی ہے۔ (انل نریندر)

کورونا اموات کا آڈٹ ہونا چاہئے !

کورونا انفیکشن اور اس سے ہونے والی اموات کو لیکر ریاستوں کی طرف سے روزانہ جاری اعداد و شمار پچھلے کچھ دنوں سے تنازعہ کا اشو بنے ہوئے ہیں کچھ ملکی و غیرملکی میڈیا نے اپنی سطح پرکرائی گئی اسٹڈی کی بنیاد پر بتایا گیا تھا کہ ریاستوں حکومتوں کی طرف سے جاری اموات کی تعداد اور اصل تعداد میں کافی فرق ہے بہار حکومت نے کورونا سے ہوئی موتوں کی تعداد جس طرح سے ٹھیک کیا اس سے یہ شبہہ ہوتا ہے کہیں اس طرح کی غلطیاں اور دوسرے ریاستوں میں تو نہیں ہوئیں بہار کے اعداد و شمار کو لیکر شروع سے ہی شبہہ جتا یا جا رہا تھا مگر وہاں کا ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اپنے موقوف پر قائم تھا اسے لیکر پٹنہ ہائی کورٹ نے سرکار کو لتاڑ ا اور ضلع وار اصل تعداد اکٹھی کرنے کی ہدایت دی تب جا کر سرکار نے اس کیلئے ضلع وار کمیٹیاں بنائیں اور انہوں نے اسپتالوں اور دوسری جگہ ہوئے کورونا اموات کی اعداد و شمار اکٹھے کئے اس سے ظاہر ہے کہ سرکاری سطح پر کورونا سے ہوئی اموات کی تعداد صحیح نہیں بتائی گئی بھارت نے سنیچر کو اس خبر کی تردید کی جن خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا اموات کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے پانچ سے سات گنا تک زیادہ ہے بھارت میں کوویڈ سے ہونے والی اموات کے بارے میں وزارت نے انگریزی اخبار دا ایکونمسٹ کے ذریعے ضائع قیاسی طور پر انفیکشن کی تعداد کو غلط بتایا ہے ادھر کانگریس نے بھاجپا سرکار پر کوروناسے ہوئی اموات کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس دیش میں جن ریاستوں میں ان کی سرکاریں ہیں وہاں نمبروں میں ہیر پھیر ہوا اس لئے وزیرا عظم نریندر مودی کو معاملے کی جوڈیشیل انکویری کرانی چاہئے اور وہاں کے وزراءاعلیٰ کو اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دے دینا چاہئے کانگریس پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ وارنسی میں اعداد و شمار چھپانے کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ اپریل میں وہاں 127موتیں دکھائی گئی تھیں جبکہ وہاں کے شمشان گھاٹ پر اس مہینے کے ایک ہفتے میں پندرہ سو رلوگوں کا انتم سنسکار کیا گیا حالات دیکھ کر لگتا ہے گجرات ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک جیسے بھاجپا حکمراں ریاستوں کے درمیان کورونا اعداد وشمار چھپانے کا مقابلہ ہورہاہے لاکھوں ایسے مرنے والے ہیں جن کے بارے میں یہی پتہ نہیں چلا کہ ان کی موت کورونا سے ہوئی یا کسی دیگر بیماری سے ۔ ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے صلاح دی ہے کہ سبھی اسپتالوں میں کورونا دور میں ہوئے انفیکشن سے ہوئی موتوں کی تعدا د کے بارے میں آڈٹ کرائیں گلیریا نے کہا کہ اسپتالوں اور ریاستوں کوکورونا وائرس سے بھی اپنے یہاں موتوں کی تعداد کا آڈٹ کرانا چاہئے تاکہ سچائی سامنے آسکے گھروں میں ہونے والی موتوں کی تعداد جمع کرنے کی کوشش نہیں کی گئی وہ سرکاروں کی جان بوجھ کر گھپلے بازی کہی جائے گی ابھی کورونا کا خطرہ ٹلا نہیں ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روزا یک لاکھ لوگ متاثر ہورہے ہیں پانچ ہزار سے اوپر موتیں ہورہی ہیںاگر اپنی ناکامی چھپانے کی غرض سے سرکاروں کا یہی رویہ رہا تو مشکلیں اور بڑھیں گی۔ (انل نریندر)

پاسوان کی وراثت میں سنبھالنے میں ناکام رہے !

دیش کے بڑے دلت لیڈروں میں شمار رہے رام ولاس پاسوان کی دیش کی سیاست پر اتنی زبردست پکڑ تھی کی بہار کے سابق وزری اعلیٰ لالو پرساد یادو نے انہیں مذاقیہ لہذے میں ایک مرتبہ موسم سائنسداں تک کہہ ڈالا تھا لیکن رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد ان کی پارٹی پر ان کے چھوٹے بھائی نے قبضہ جما لیا اور ان کی وراثت سنبھالنے میں بیٹے چراغ پاسوان کو اس سیاسی تبدیلی کی بھنک تک نہ لگی بہار میں پاسوان کے ووٹ بینک پر قبضے کی لڑائی میں چراغ پاسوان چارو کھانوں چت ہوگئے لوگ جن شکتی پارٹی میں پھوٹ کے تازہ واقعے نے پھر ایک بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاست کی دنیا میں بہت کچھ توقعات سے معاملہ کنٹرول ہوتا ہے لیکن اکثر اس وصول اور سروکار کا پردہ ٹانگ دیا جاتا ہے ذرائع کی مانیں تو ایک بڑے سیاسی پریوار میں پیدا ہونے کے باوجود چراغ کو ابتدائی دنوں میں دہلی کے اقتدار کے گلیاروں سے ممبئی کی یاترا نگری زیادہ راس آئی ان کی ایک فلم بھی آئی ملیں نہ ملیں ہم اس فلم میں کنگنا رنوت ان کی ہیروئن تھی بتاتے ہیں کہ سال بیس سو گیار ہ میں یہ فلم ریلیز ہوئی اس فلم کے پریمیئر میں دیش کی جانی مانی ہستیاں شامل ہوئی تھیں یہ فلم رام ولاس پاسوان نے بیٹے کی فلم کا پروموشن بہت زیادہ کوشش کی تھی لیکن فلم فلاپ ہوگئی سال 2014میں چراغ اس وقت سرخیوں میں آگئے جب انہوںنے پاسوان چھوڑ کر یو پی اے چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہونے کیلئے کے راضی کیا تھا سال 2002گجرات فسادات کے ایشو پر کیبنیٹ سے استعفیٰ دینے والے پاسوان نے تب این ڈی اے کے ساتھ آکر چناو¿ لڑا تھا اور بہار کی چھ سیٹوں پر ان کی پارٹی کامیاب رہی اور چراغ بھی ایم پی چنے گئے لیکن رام ولاس پاسوان کے مرتے ہی حالات بدل گئے اور چراغ نے بہار اسمبلی کے چناو¿ میں این ڈی اے سے الگ رہ کر چناو¿ لڑنے کا فیصلہ کیا اور نتیش کے خلاف تال ٹھوک کر چناو¿ میدان میں اترے ان کی پارٹی نے 147اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے لیکن صرف ایک ہی سیٹ مل پائی حالانکہ ایسا مانا جاتا ہے لوک جن شکتی پارٹی کی وجہ سے نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ کو کم سے کم 45سیٹو ں پر ہار کا سامنا کرنا پڑا چراغ پاسوان سمیت پارٹی کے چھ میں سے پانچ ممبران پارلیمنٹ نے چاچا پشو پتی کمار پارس کی قیادت میں پارٹی کو بچانے کا نعریٰ لگا کر الگ ہونے کا اعلان کر دیا خبروں کے مطابق ایل جے پی کی اس پھوٹ میں جے ڈی یو کا بھی رول رہا اور چناو¿ کے وقت مرکزی سرکار میں کیبنیٹ میں امکانی توسیع کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ رول اداکیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ پشو پتی کمار پارس میں سے الگ ہوا گروپ جے ڈی یو یا بھاجپا میں ملنے کا راستہ چنتا ہے یاآزاد رہ کر این ڈی اے میں اپنی جگہ بناتا ہے دوسری طرف چاچا پشو پتی پارس کو منانے میں ناکام رہنے کے بعد ایک طرح سے چراغ پاسوان نہ صرف سیاست کے میدان اکیلے رہ گئے ہیں بلکہ ان کا پریوار بھی ٹوٹ گیا حالانکہ انہیں بہار میں این ڈی اے کے نیتا کی طرف سے ایک باقاعدہ پرستاو¿ ملا کہ وہ مرکزکی سیاست کریں تیجسوی یادو کے ساتھ رہیں لیکن چراغ پاسوان کا موقوف ابھی سامنے نہیں آیا ہے دیکھنا ا ب یہ ہوگا کہ ٹوٹ کے بعد رام ولاس پاسوان کی ساکھ سے جڑے ایل جے پی حمایتی جنتا چراغ پاسوان اور پشو پتی کمار پارس میں کس فریق کو چنتی ہے ۔ (انل نریندر)

16 جون 2021

ماسک ہے ضروری ہے لیکن صاف ہونا چاہئے !

ماسک ہی کورونا سے بچاو¿ میں اس وقت سب سے بڑا ہتھیار ہے لیکن صحیح طریقے سے ماسک کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے ماہرین کے مطابق ماس کی صفائی اور اس کو بدلنے کو لیکر لوگوں میں بیداری کی کمی ہے بہت سے لوگ کافی وقت تک ایک ہی ماسک کا استعمال کرتے رہتے ہیں کرتے رہتے ہیں تو کچھ ماسک صاف نہیں کرتے دوارکا کے ڈاکٹر مکیش شرما کے مطابق ماسک پہننے سے زیادہ ضروری ہے صاف ماسک لگانا گندے ماسک آپ کو کورونا سے بچانے کے بجائے آپ کو کئی دیگر بیماریوں کو ضد میں لے جائے گا ان دنوں کافی لوگ ایسے ہیں جو ماسک کئی کئی دن تک استعمال کر رہے ہیں جس وجہ سے پریشانیاں بڑھ رہی ہیں ساتھ ہی ایک ہی ماسک بہت زیادہ وقت تک استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے گلے میں درد پیٹ سے متعلق بیماریاں اور گلے میں خراس جیسی دکتیں پیدا ہوسکتی ہیں ایک ماسک سانس کو باہر نکالتا ہے اور تازہ ہوا بھی آتی ہے لیکن ماسک کے کافی عرصے تک لگے رہنے سے اس کے اندر گرد کے ذرات بھر جات ہیں جس وجہ سے سانس لینے میں دقت ہوسکتی ہے بتایا جاتا ہے کہ ماسک پہننے سے کھانسی نہیں ہوتی لیکن گنداپہننے سے ہوتی ہے ماسک دھونے کیلئے گرم پانی کریں پانچ سے دس منٹ تک اسے پانی میں ڈبو کر رکھیں اس کے بعد پانی سے دھوئیں چا ر پانچ گھنٹے تک دھوپ میں سوکھنے دیں ۔ گیلے ماسک کا استعمال نہ کریں اس سے دوسری بیماریں پنپتی ہیں پھر ماسک کو دھو کر پہنیں تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے ۔ (انل نریندر)

حکومت ہند کے کچھ قدم جمہوری اصولوںکے منافی !

امریکہ کے ایک سینئر افسر نے ممبرا ن پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ بھارت مضبوط قانون سسٹم کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا جمہوریت بنا ہوا ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں سمیت بھارت سرکار کے کچھ قدموں سے تشویشات پیدا ہو رہی ہیں جو اس کی جمہوری اقدار کی مسلسل منافی ہیں ۔ ساو¿تھ اور وسطی ایشیا کے نگراںاور معاون وزیر خارجہ ڈین تھامسن نے ایشیاو وسطی ایشیا پر ایوان کی خارجی امور کی ڈپٹی کمیٹی کو ہند مہاساگر خطے میں جمہوریت پر بحث کے دوران یہ رائے زنی کی تھامسن کا کہنا تھا بھارت مضبوط قانون و نظام اور آزاد عدلیہ کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی امریکہ کے ساتھ مضبوط اور بڑھتی حکمت عملی اور شراکت ہے حالانکہ بھارت سرکار کے کچھ اقدام نے تشویشات پیدا کر دی ہیں جو اس کے جمہوری اصولوں کے مسلسل منافی ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر بڑھتی پابندیاں اور انسانی حقوق رضا کاروں اور صحافیوں کو روس میں حراست میں لیا جا رہا ہے انہوں نے کہا امریکہ یقینی طور پر ان مسئلوں پر بات چیت کر تا رہتا ہے بہر حال بھارت نے غیر ملکی حکومتوں اور انسانی حقوق گروپوں کی ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا تھا کہ دیش میں شہری آزادی کی خلاف ورزی ہوئی ہے بھارت نے کہا اس کی اچھی طرح سے جمہوری کاروائیاں جاری ہیں اور سبھی کے حقوق کی حفاظت کیلئے مضبوط ادارے ہیں بھارت سرکار نے اس بات پر زورد یا ہے کہ ہمارا آئین انسانی حقوق کی سرپرستی کیلئے ان کے قوانین کے تحت درکار سرپرستی فراہم کرتا ہے سینیٹ کے ممبروں کے ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں صحافیوں پر کچھ پابندیوں کو لیکر امریکہ فکر مند ہے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...