Translater
04 فروری 2021
منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ کی ضرورت ہے!
سپریم کورٹ نے جمعرات کو اکسانے یا بھڑکاو¿ ٹی وی پروگراموں کو لے کر مرکزی سرکار کے لاچاری رویہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا کہ سرکار نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ہے ۔اور اس نے اس طرح کے پروگاموں کو کنٹرول کرنا نہ صرف احتیاطی قدم ہوگا بلکہ قانون و سسٹم بنائے رکھنے کے لئے یہ اہم ترین بھی ہے ۔26جنوری کو ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئے تشدد کے بعد انٹرنیٹ سروس بند کئے جانے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بووڑے کی بنچ نے کہا کہ منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ کی ضرورت ہے ۔لیکن مسئلہ تب کھڑا ہوتا ہے جب اس کا استعمال اکسانے کے لئے ہوتاہے نبچ نے سرکاری وکیل تشار مہتا سے کہا کہ بات یہ ہے کہ ٹی وی کے کئی پروگرام ایسے ہوتے ہیں جو بھڑکانے والے ہوتے ہیں لیکن سرکار اس سلسلے میں کچھ نہیں کررہی ہے ۔بنچ نے یہ خیال پچھلے برس کورونا وبا کی شروعات میں نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کو لیکر میڈیا کی بھڑکیلی رپورٹنگ کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران ظاہر کیا ہے رپورٹنگ میں اس اجلاس میں شامل لوگوں پر دیش کے الگ الگ حصوں میں کورونا پھیلانے کے الزامات لگائے گئے تھے ۔بنچ نے کہا کہ کئی پروگرام ایسے ہیں جو اشتعال پیدا کرتے ہیں ۔یا فرقہ خاص پر غلط اثر ڈالتے ہیں لیکن سرکار ان کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے ۔26جنوری کو انٹر نیٹ اور موبائل بند کردئیے گئے چونکہ کسان دہلی آرہے تھے اور ہم غیر متنازعہ لفظوں کا استعمال کررہے ہیں اس طرح کا مسئلہ کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ سے کوئی پریشانی نہیں ہے مسئلہ تو تب کھڑا ہوتا ہے جب اس میں اکسانے والی باتیں قلم بند ہوتی ہیں اسی طرح سے اہم یہ بھی ہے جس طرح سے پولیس والوںکے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے تویہ قانون و امن کو برقرار رکھنے کے لئے احتیاطی قدم ہے ۔ہماری تشویش اکسانے والے ٹی وی پروگراموں کو لیکر ہے ۔کچھ نیوز پر کنٹرول ضروری ہے ہم نے نہیں کہا کہ سرکار نے آنکھیں بند کیوں کی ہوئی ہیں ؟ ۔عدالت کا کہنا تھا ہم آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں کررہے ہیں لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔بھڑکانے والے ٹی وی پروگراموں سے غلط ٹرینڈ سامنے آتا ہے ۔ان دنوں لوگ کچھ بھی بولتے ہیں جواب میں سرکار ی وکیل مہتا نے کہا کہ بھارت سرکار کا براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن اور نیوز براڈ کاسٹ اسٹنڈرڈ اتھارٹی جیسے ادارے ہیں ان کا اپنا سسٹم ہے ہم او وی ٹی کے زمانہ میں ہیں ۔ڈی ٹی ایچ اور کیبل سروس بھی ہے ہمیں ان سبھی کے لئے کچھ سسٹم بنانے ہوں گے اس کے بعد عدالت نے فریقین کو تین ہفتہ میں حلف نامہ داخل کونے کو کہا دیش کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس کے دوران کہا سرکار نے دہلی میں دہلی آنے کی وجہ سے موبائل و انٹرنیٹ بند کر دیا ۔اس پر مرکزی سرکار کے وکیل مہتا نے ویزٹ لفظ پر اعتراض جتایا تب چیف جسٹس نے صاف کیا کہ میں جان بوجھ کر متنازعہ لفظ وزٹ کا استعمال کررہا ہوں ۔
(انل نریندر)
02 فروری 2021
نابالغ بچیوں کا ہاتھ پکڑنا ،پینٹ کی جپ کھولنا جنسی حملہ نہیں ہے !
سپریم کور ٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگادی جس میں کہا گیا تھا کہ کسی کے روابط میں آئے بنا نابالغ کے اعضاءکا چھون جنسی استحصال نہیں ہے ہائی کورٹ نے معاملے میں پاس کو ایکٹ کے تحت ملزم کو رہا کردیا تھا سینئر عدالت نے معاملے میں مہاراشٹر سرکار کو نوٹس دے کر 2ہفتے میں جواب دینے کو کہا ساتھ ہی اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کو ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے دی چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین نفری بینچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم صحیح نہیں ہے اور اس سے خطرناک نظیر قائم ہوگی بینچ نے ان کی دلیلوں کو مانتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کی ناک پور بنچ کے ذریعے ملزم کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی بنچ نے وینو گوپال کو اسپیشل اجازت عرضی دائر کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے ۔ ناک پور کی عدالت نے 19جنوری کو حکم دیا تھا کیونکہ ملزم نے بچی کے جسم کو اس کے کپڑے ہٹائے بغیر چھو ا تھا اس لئے اسے جنسی ٹارچر نہیں کہا جاسکتا اس کے بجائے یہ آئی پی سی کی دفعہ 354کے تحت عورت کے ساکھ کو ٹھیس پہونچانے کا جرم بنتا ہے ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کی تھی جس میں39سالہ شخص کو بارہ سالہ لڑکی سے جنسی ٹارچر کیلئے 3سال کی سزا ساناتے ہوئے پاسکو ایکٹ سے بری کردیا تھا۔ جسٹس پشپا گنیڈی والا نے اس سے پہلے اپنے 2فیصلوں میں کہا تھا کہ کپڑوں کے اوپر سے حساس اعضاءکو چھونا و نابالغ بچی کا ہاتھ پکڑنا اور پینٹ کی جپ کھولنا پاسکو ایکٹ کے تحت جنسی حملے کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ اسکن ٹو اسکن کے روابط کی ان کی دلیل پر سپریم کورٹ نے اعتراض جتایا تھا۔
(انل نریندر)
میڈیا کو ڈرانے و دھمکانے کی کوشش!
کسان ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد بربھڑکانے کے معاملے میں کانگریس نیتا ششی تھرور سمیت کئی صحافیوں کے خلاف بغاوت کا کیس درج کردیا گیا ہے جو نوئیڈا کے تھانے سیکٹر 20میں درج ہوا رپورٹ کے مطابق الزام ہے کہ سینئر صحافی راجدیپ سر دیشائی ،مرنال پانڈے ،ظفر آغا،پارس ناتھ ،ونودنے کسان ٹریکٹر مارچ کے دوران اکسانے والے کمینٹ سوشل میڈیا پر ڈالے تھے ان لوگوں نے جان بوجھ کر کسانوں کو مستعل کرنے کیلئے اپنے اخبارت کے ذریعے ایسی خبرین شائع کی ہیں جن کی وجہ سے دہلی این سی آر میں کسانوں نے تشد د برپا کیا ہے ساتھ ہی مدھیہ پردیش پولس نے بھی ششی تھرور اور چھ صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے وہیں ایڈیٹر گلٹس آف انڈیا سینئر مدیروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے سخت مذمت کی تھی ایک بیان میں کہا ہے یہ کاروائی میڈیا کو ڈرانے دھماکنے کی کوشش ہے گلڈ نے مانگ کی ہے ایسے معاملے فوراً واپس ہوں اور میڈیا کو بغیر کسی ڈر کے آزاد ی کے ساتھ رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے ایک مظاہرین کی موت سے جڑی واردات کی رپورٹنگ کرنا موقع واردات اور اس کی جانکاری اپنے ذاتی سوشل میڈیا ہینڈل پر اور اپنے اخبارات میں دینے پر صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جن صحافیوں کے نام ایف آئی آر میں ہیں وہ اوپر ذکر کئے گئے ہیں ۔ایک گمنام شخص کے خلاف بھی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے ایڈیٹر س گلڈ س نے کہا یہ خیا ل رہے کہ مظاہر ہ اور کاروائی والے دن موقع واردات پر موجود چشم دید گواہوں اور پولس کے جانب سے بہت سی اطلاعات ملی اور صحافیوں کے لئے ایک فطری بات تھی کہ وہ ان معلومات کی بنیا د پر ایک رپورٹ بنائیں یہ صحافت کے قواعد کے مطابق ہی تھی گلڈ نے کہا کہ وہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے پولس کے ڈرانے دھمکانے کی طریقے کی کاروائی پر مذمت کرتے ہیں ۔ جنہوں نے کسانوں کے مظاہروں اور ریلوں اور تشدد کی رپورٹنگ کرنے پر مدیروں اور صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی ان سینئر صحافیوں اور مدیروں کے سابق اور موجودہ عہدے دار بھی شامل ہیں گلڈ نے صفائی پیش کی ہے کہ ان ایف آئی آر میں الزامات لگائے گئے ہیں کہ ٹویٹ ارادةًافسوس ناک اور لال قلعہ پر ہوئے تشدد کا سبب بنے گلڈ نے پہلے کی گئی اپنی مانگ دہرائی کی سپریم کورٹ کو اس بات پر بھی نوٹس لینا چاہئے کی بغاوت جیسے کئی قوانین کا استعمال اظہار رائے کی آزادی میں خلل کیا جارہا ہے یہ یقینی کرنے کیلئے گائیڈ لائنس جاری کئے جائیں کی اس طرح کے قوانین کے کھلم کھلا اور پریس کی آزادی کے خلاف ہے اور نظریات کی آزادی پر ڈنڈا چلانے کے واقعات میں حال ہی میں بہت تیزی آئی ہے یہ بے حد خطرناک ٹرینڈ ہے بد قسمتی سے سرکاریں یا تو اس کو بڑھاوا دے رہی اب جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہیں لیکن اگر اس ٹرینڈ کو نہیں روکا گیا تو ہندوستان کی جمہوریت چھلنی ہوجائے گی ۔ کیا 21صدی میں ترقی پسند بھارت کی یہی پہچان ہونی چاہئے؟
(انل نریندر)
تکیت کے آنسوں نے آندولن میں پھونکی نئی جان!
یوم جمہوریہ کے دن کسان کی ٹریکٹر پریڈ کے دوارن کئی جگہوں پر تشدد کے بعد سے دو مہینے سے جاری کسان آندولن کے مستقبل پر سنکٹ کے بادل منڈرانے لگے تھے کیونکہ جمعرات کے دن جس طرح سے سندھو اور ٹکری وغازی پور بارڈر پر بھاری تعداد میں پولس فورس تعینا ت کی گئی کسان لیڈروں پر کیس درج کرنے اور انہیں پولس کے نوٹس بھیجے گئے ساتھ ہی لک آو¿ٹ نوٹس بھی جاری کئے گئے اس کے بعد سوال اٹھ رہے تھے کہ اگر یہ نیتا گرفتار ہوگئے تو آندولن کی کمان کون سنبھالے گا؟ لیکن جمعرات کی دیر شام غازی پور بارڈر پر بھارتی کسان یونین کے لیڈر راکیش تکیت کے پولس کے سامنے کی سرینڈ ر کرنے بھی خبریں آگئی تھی اور غازی آباد کے ایس پی و اے ڈی ایم انہیں جگہ خالی کرنے کا نوٹس دینے گئے تھے تب مانا جا رہا تھا کہ چند گھنٹوں میں غازی پور بارڈ ر خالی ہوجائے گا لیکن پھر راکیش تکیت ایک ایسا ویڈیو سامنے آیا جس نے پوری بازی ہی پلٹ دی اور محض ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو میں راکیش تکیت پھوٹ پھو ٹ کر روئے اور وہ کہہ رہے تھے گرفتاری کے نام پر کسان آندولن کو ختم کرنے اورانہیں جان سے مارنے کی سازش رچی جا رہی ہے اس کے کچھ ہی دیر پہلے بھاجپا کے ممبر اسمبلی نند کشور گجر اور سنیل شرما کی رہنمائی میں کچھ لوگ ہاتھوں میں ترنگا لئے آندولن کی جگہ پر پہونچے یہ لوگ کسانوں کو وہاں سے ہٹائے جانے کی مانگ کر رہے تھے اس دوران تحریک میں شامل کچھ لوگوں نے کسانوں کے ساتھ مار پیٹ بھی کی اور تنبو تک اکھاڑ دئے تکیت نے اسی کا حوالہ دیا تھا کہ بی جے پی کسان آندولن کو کچلنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کر ڈالا کہ وہ نہ تو اب یہاں سے ہٹیں گے اور نہ ہی گرفتاری دیں گے وہیں یوپی انتظامیہ کی جگہ سے دھرنے کی جگہ پر بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹ دی تھی اسے بڑا اشو بناتے ہوئے تکیت بھوک ہڑتا ل پر بیٹھ گئے۔ اعلان کردیا جب تک ان کے گاو¿ں سے ان کیلئے پانی نہیں آئے گا تب تک وہ پانی نہیں پئےگیں۔ راکیش تکیت کے آنسو کے سیلاب کے بعد کسان آندولن ایک بار پھر تیزی پکڑ رہا ہے غازی پور بارڈر اب کسان آندولن کا نیا مرکز بن گیا ہے ۔ مغربی اتر پردیش اور ہریانہ کے الگ الگ علاقوں سے بھاری تعداد میں کان غازی پور بارڈ ر آگئے ہیں اور دونون طرف سے یہ بارڈر بند کردیا گیا ہے تکیت نے کہا کہ اب ہم مظاہرے کی جگہ خالی نہیں کریں گے ہم اپنے اشوز پر بھارت سرکار سے بات کریں گے اور لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کر تا ہوں ۔ اس درمیان تکیت کو سیاسی پارٹیوں کی حمایت بھی ملنے لگی ہے راشٹریہ لوک دل کے نیتا جینت چودھری راکیش تکیت سے ملے اس کے بعدا نہوں نے کہا کہ سرکار کو لگتا ہے کہ وہ کسانوں کو کچل دیں گے ایسا نہیں ہوگا ۔ جب سے آدتیہ ناتھ یوگی وزیر اعلیٰ بنے ہیں یوپی میں دفعہ144لاگو ہے کسان یہاں گھر بنانے نہیں آئے ہیں بلکہ تینوں قانون کی منسوخی کیلئے آئے ہیں اوریہ اشو پارلیمنٹ کے اند ر بھی اٹھنا چاہئے اگر سرکار پیچھے ہٹتی ہے تو اسے ان کی کمزور ی نہیں جھلکے گی ادھر کسان لیڈر نریش تکیت نے کہا اگر حکومت نے بھارتی کسان یونین کے درمیان راکیش تکیت گرفتاری پولس سے کروائی تو اس کے احتجاج میں لوکھوں کسان گرفتاری دیں گے اورکسان سرکار کے کسی بھی کاروائی کے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے ۔ چودھری راکیش تکیت کے آنسوں نے سرکار کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔
(انل نریندر)
31 جنوری 2021
لاشوں کو آخری حق دلانے والے شنٹی کو پدم شری !
ہندوستانی کلچر میں سنسکار اہم ہوتے ہیں در اصل میں یہ سنسکار دھرم ہی نہیں بلکہ قوم کو بھی ایک سوت میں باندھتے ہیں ۔انسانی زندگی کے آخری دور انتم سنسکار کے بارے میں ہر کلچر اور سماج مین مانا جاتا ہے کہ یہ متوفی کے اعتماد کے مطابق پوتر ہاتھوں سے پورا کیا جائے کورونا وباءکی شروعات میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب کورونا سے مرے افراد کا انتم سنسکار سے اپنے نے ہی ہاتھ کھینچ لیا تھا ایسے وقت میں جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا انتم سنسکار ان کے اعتقاد کی بنیاد پر کیا گیا ایسے ہی لوگوں پر مبنی ہے تنترکے گڑ شرپلا ہی آخری کڑی ۔۔ایک کورونا دورمیں لوگوں نے ایسے دن بھی دیکھے جن کا تصور کرنا بھی مشکل ہے لاشوں کو کندھا پریوار کے افراد یا رشتہ دار دینے کیلئے ہوتے ہیں ۔ لیکن جب دہلی میں کورونا انفیکشن کی شروعات ہوئی اور لوگون کی تیز ی سے موتیں ہونے لگی تو پریوار کے لوگوں نے ہی اپنوں کا ہی انتم سنسکا ر کرنے سے دوری بنا لی ایسے میں شہید بھگت سنگھ سیوا دل کے بانی جتندر سنگھ بھاٹی آگے آئے ۔بیٹے نوجوت اور ان کی انجمن کے ممبروں کےساتھ ملکر وہ کورونا سے جان گنوانے والے 965کورونا سے مرے لوگوں کی لاشوں کو انتم سنسکار کی جگہ تک پہونچا چکے تھے زیادہ تر انتم سنسکار بھی اپنے ہاتھوں سے کئے شہید بھگت سنگھ سیوا دل قریب 26برس سے مفت ایمبولینس سروس دستیاب کرارہے ہیں ۔ یہ مریضوں کے گھر اسپتا ل اور اسپتال سے گھر پہونچانے کاذمہ لیا اور 2020میں جب اسپتالوں میں موتوں کے معاملے بڑھے تو سیوا دل کی طرف سے 7ایمبولینس کے لاشوں کو انتم سنسکار کی جگہ تک پہونچانے میں لگی تھی شینٹی بتاتے ہیں اس وقت خاندان کے لوگ سمسان استھل پر بھی نہیں پہونچ رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر کافی دکھ ہوتا تھا ہمیں ہماری قوت اراد ی اور مضبوط ہوگئی اور بعد میں12ایمبولینس لاشوں کو ڈھونے میں لگادی گئی اور تعداد بڑھتے بڑھتے 18ایمبولینس ہوگئی ساتھ ہی آٹھ مردہ باکس بھی تیار کئے گئے تاکہ رشتہ دار کے انتظار میں لاشیںخرا ب نہ ہوں ۔ اس دوران جتیندر سنگھ شنٹی اور ان کا پورا خاندان کورونا کی ضد میں آگیاا ن کے ایمبولینس ڈرائیو ر محمد عارف خان نے تو اپنے جان تک گنوا دی وہ شروع سے ہی ایمبولینس کے ذریعے مریضوں کو ڈھونے کی سیوا کر رہے تھے اور جتیندر شینٹی کو کورونا مریضوں کی سیو ا اور ان کی موت کے بعد انہیں سمسان گھاٹ پہونچانے والے شینٹی کو پدم شری ایوارڈ سے نوازے جانے پر ہم بھی انہیں بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح جنتا کی سیوا کرتے رہیں اور انہیں لمبی عمر دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی سیوا کر سکیں ۔
(انل نریندر)
روسی صدر پوتن کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ!
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے کٹر مخالف الیکسی نویلنی کے گرفتاری کے احتجاج میں روس کے109شہروںمیں کڑاکے کے ٹھنڈ کے درمیان مظاہرے ہوئے پولس نے اتوار تک ساڑھے تین ہزار سے زیادہ مظاہرین کو گرفتارکیا ہے ان میں نویلنی کی بیوی یولیا اور ترجمان وکیل بھی شامل ہیں ۔ پوتن کے خلاف روس میں یہ سب سے بڑا اب تک کا مظاہرہ ہے اسے لیکر پوتن نے بھی سخت رویہ اپنایا ہے مظاہرین پر قابو پانے کیلئے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند کی گئی اور موبائل نیٹورک بھی جام کئے گئے پولس نے مظاہرین کو اٹھا اٹھا کر ٹرکوںمیں بھر دیا اور انہیں کہیں دور لے جایا گیا پھر بھی بڑی تعداد میں نعرے لگا رہے تھے کہ روس آزاد ہوگا اور پوتن چور ہے کے پوسٹرر لیکر پوتن کے خلاف مظاہرے جاری ہے مظاہرین کی مانگ ہے کہ وہ اپنے کٹر حریف نولینی کو جلد سے جلد رہا کیا جائے وہیں 57ڈگری مائنس والے درجہ حرارت میں لوگوں کا جوش کم نہیں ہوا اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر اترے امریکہ اور یوروپی یونین نے پوتن کی کاروائی کی مذمت کی ہے اور 44سالہ الیکسی نولینی کرپشن مخالف تحریک چلانے والے شخص ہیں انہوں نے 2018میں صدارتی چناو¿ لڑنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ایک الزام میں قصور وار ٹھہرا کر انہیں روک دیا گیا پچھلے سال 20اگست کو اپوزیشن لیڈر نوویموف کو زہر دیئے جانے کے بعد سے وہ جرمنی میں علاج کرا رہے تھے جیسے ہی وہ 17جنوری کو ماسکو لوٹے تو انہیں ہوائی آڈے سے ہی پولس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے ان کو لوئزا نام سے بھی جانا جاتا ہے انہوںنے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر پوسٹ کی جس میں اپنی مشکلات سے بھری زندگی کے بارے میں کچھ بتایا اپوزیشن لیڈروں اور ورکروں کو چائے میں زہر ملا کر پلایا گیا تھا اور کئی مہینے جرمنی جاکر علاج کرانا پڑا پوتن کے صدر بننے کے بعد سے کٹر مخالف لوئز ا کے قیادت میں روسی صدر کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے پوتن کیسے ان مظاہروں سے نمٹتے ہیں ۔
(انل نریندر)
دیپ سدھو کی صفائی میں کسان نیتاو ¿ں کو دھمکی!
لال قلعہ پر نشان صاحب لگائے جانے کیلئے لوگوں کو بڑھکانے کا قصور وار ٹھہرائے جا رہے۔گلوکار ایکٹر دیپ سدھو نے خود کو بے گناہ بتایاہے انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لائیو آکر کسان لیڈروں کو دھمکی دی اور کہا تم نے مجھے گدار کا سرٹی فیکیٹ دے دی ہے،ا گر میں نے تمہاری پول کھولنی شروع کردی تو تمہیں دہلی سے بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا سدھو نے کہا مجھے اس لئے لائیو آنا پڑا کیونکہ میرے خلاف مجھے اس لئے لائیو آنا پڑا کیونکہ میرے خلا ف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور بہت کچھ جھوٹ پھیلا یا جا رہا ہے میں اتنے دنوں سے یہ سب سہہ رہا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے مشترکہ سنگھرس کو کوئی نقصان پہونچے ،لیکن آپ جس پڑاو¿ پر آگئے ہیں وہاں کچھ باتیں بتانا بہت ضروری ہے ۔پہلی بات تویہ ہے کہ 25تاریخ کی رات کو لڑکوں نے اسٹیج پر ناراضگی ظاہر کی تھی ،کیونکہ انہیں پنجاب سے دہلی میں پریڈ کرنے کو کہہ کر ہی بلایا گیا تھا اس کے لئے بار بار اسٹیج سے بڑے بڑے اعلان اور وعدے کئے گئے تھے ناراضگی جتا رہے نوجوانوں نے کہا کہ جب ہم دہلی آگئے تو آپ ہمیں سرکار کی طرف سے طے کردہ روٹ پر جانے کیلئے کہہ رہے ہیں، جو ہمیں منظور نہیں تھا ۔ سدھو نے ویڈیو میں کہا کہ اس دوران اسٹیج پر حالات ایسے بن گئے تھے کہ رہنمائی کر رہے کسان لیڈر وہاں سے کنارہ کشی کر کے بھیڑ کو اکسانے کا الزام:کسنا انجمنوں نے دہلی میں کسانوں کے ٹریکٹر مارچ کے دوران لال قلعے پر ہوئے تشدد کا الزام دیپ سدھو پر لگایا ہے ۔ بھارتی کسان یونین کے لیڈر گرنام سنگھ چھوڑنی نے کہا کہ کسان انجمنوں کا لال قلعے جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا دیپ سدھو نے کسانوں کو بڑھکایا اور آو¿ٹر رنگ روڈ سے لال قلعہ تک لے گئے جب لال قلعے پہونچا تب تک گیٹ ٹوٹ چکا تھا وہاں ہزاروں کی بھیڑ جمع کھڑی ہوئی تھی سینکڑوں ٹریکٹر پہلے سے ہی کھڑے تھے سدھو کا کہنا کہ میں پیدل ہی لال قلعہ کے اندر گیا تھا وہاںکوئی کسان لیڈر نہیں تھا نہ کوئی شخص تھا جو پہلے بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا سوشل میڈیا پر لائیو آکر بڑے بڑے اعلان کئے تھے کہ ہم دہلی کی گردن پر گھٹنا رکھیں گے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اس درمیان مجھے کچھ نوجوان پکڑ کر لے گئے وہاں تودو جھنڈے پڑے تھے ایک کسان جھنڈا اور دوسرا نشان صاحب ہم نے سرکار کے سامنے ناراضگی جتانے کیلئے دونوں جھنڈے وہیں لٹکادیئے ہم نے ترنگا نہیں لہرایا تھا ہمیں کوئی ڈر نہیں ہے ، کیونکہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے پولس ذرائع کی مانے دہلی پولس نے اداکار و گلوکار دیپ سدھو اور گینگ اسٹر سے سماجی کارکن بنے لکھا سنگھانا کی تلاش تیز شروع کردی ہے لال قلعے پر جھنڈا پھیرانے والوں میں 22سالہ لڑکے جگراج سنگھ کا نام بھی آرہاہے جو فی الحال فرار ہے وہ بھی پولس کے ابھی تک ہاتھ نہیں لگ سکا اور پولس اس کی تلاش میں لگی ہوئی ہے وہ پنجاب کے ترنتارن علاقے کا رہنے والا ہے ادھر پولس دیپ سدھو کے ٹیکنیکل سرویلانس کی مدد سے اس کا پتہ لگا رہی ہے ۔سدھو نے لال قلعہ پرآتے ہی اپنا فون بند کر لیا تھا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...