Translater

01 اکتوبر 2020

بہار اسمبلی چناو ¿میں چھوٹی پارٹیوں کا رول !

بہار اسمبلی چنا و¿میں سیدھا مقابلہ این ڈی اے اور اپوزیشن مہا اتحاد کے درمیان مانا جا رہا ہے ۔ ریاست کی چھوٹی سیاسی پارٹیاں یا تو این ڈی اے کے ساتھ ہیں یا پھر اپوزیشن مہا اتحاد کے ساتھ ہیں لیکن کچھ دیگر ایسی پارٹیاں ہیں جو اپنا دبدہ ہونے پر این ڈی اے اور اپوزیشن مہا اتحاد کا کھیل بگاڑ سکتی ہیں حالانکہ یہ پارٹیاں لوک سبھا چناو¿اور پچھلے اسمبلی چناو¿ میں کوئی خاص اثر نہیں دکھا پائیں غور طلب ہے کہ ایل جے پی و جیتن مانجھی کی پارٹی ہم این ڈی اے کے ساتھ ہے ۔اوپیندر کشواہا کی پارٹی کی بھی این ڈی اے میں واپسی ہو سکتی ہے ۔ دوسری طرف مکیش ساہنی کی پارٹی کچھ چھوٹی پارٹیاں مہا اتحاد کے ساتھ ہیں ۔ ویسے تو ریاست میں قریب ڈیڑھ درجن چھوٹی موٹی پارٹیاں ہیں16پارٹیوں کے ساتھ ریاست میں تیسرا مورچہ قائم کرنے کی کوشش ہیں۔ اس کا سیدھا اثر آر جے ڈی کے قیادت والے اپوزیشن مہا اتحاد کو اٹھا نا ہوگا ۔ دوسری طرف اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کی نگاہیں ریاست کے سیمانچل پر ہے جہاں کئی سیٹیں نہ صرف مسلم اکثریتیں ہیں بلکہ کئی سیٹوں پر مسلمانوں کے اوٹ کا فیصلہ کن رول ہوگا اس کے علاوہ کو شی علاقے کے یادو میں مانا جاتاہے مسلم یادو کا بڑا حصہ تین دھائیوں سے آر جے ڈی کے ساتھ ہے ۔ اگر تیسرا مورچہ یشونت سنہاکھڑا کر پائے تو یہ مورچہ سرکار سے ناراض اوٹوں کا بٹوارہ کرے گا بے وجود ہوچکی لیفٹ پارٹیاں چناو¿ میں سیدھی ریاست کی 243سیٹوں پر چناو¿ لڑ رہی ہیں ۔ پچھلے چناو¿ میں کمیونسٹ پارٹیوں کے اتحاد نے کوئی کھا تہ نہیں کھول پایا تھا حالانکہ ان پارٹیوں کو چار فیصدی اوٹ ملے تھے پچھلے لوک سبھا اور اسمبلی چناو¿ میں جاپ،اے آئی ایم آئی ایم ریاست کی سیاست پر اپنا کوئی اثر نہیں چھوڑ پائیں ۔پچھلے اسمبلی چناو¿ میں سیدھے مقابلے میں آر جے ڈی جے ڈی یو اور کانگریس اتحاد کو ووٹروں نے سرے سے مسترد کردیا تھا ۔ اس مرتبہ دونوں پارٹیوں کی خاص وجہ ہے اویسی کی پارٹی نے جہاں سابق مرکزی وزیر دیوندر یادو کی پارٹی سماج وادی جنتا دل سے چناو¿اتحاد کیا ہے ۔ وہیں جاپ کے چیف پپو یا دو لوک سبھا چناو¿ کے بعد سے بہار میں سرگرم رہے ۔اویسی کی جماعت نے 50سیٹوں پر اور پپو یا دو نے 150سیٹوں پر چناو¿ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ (انل نریندر)

30 ستمبر 2020

زیور بیچ کر وکیلوں کی فیس ادا کررہاہوں !

کسی وقت انل امبانی کا نام بھارت کے بڑے صنعت کاروں میں لیا جاتا تھا اور اب حالت یہ ہے کہ انہیں اپنے وکیلوں کی فیس دینے کے لئے اپنی بیوی کے زیور تک بیچنے پڑرہے ہیں ۔انل امبانی نے خود برطانیہ کی ایک عدالت میں کہا ان کے پاس وکیل کی فیس دینے کے لئے پیسہ نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پریوار اور بیوی ان کا خرچ اٹھا رہے ہیں ۔قرض سے لڑ رہے انل امبانی نے برطانیہ کی عدالت سے کہا کہ وہ ایک بے حد سادہ زندگی جی رہے ہیں صرف ایک کار چلاتے ہیں جنوری سے جون 2020کے درمیان اپنے سبھی زیوروں سے 9.9کروڑروپئے ملے ہیں اب ان کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں بچی ہے جب ان سے ان کی لگزری کاروں کے بیڑے کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ سب میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلائی گئی ہیں ان کے پاس کبھی کوئی عمدہ کار نہیں تھی صرف وہ ایک کار چلا رہے ہیں ۔عدالت نے 22مئی 2020کو انل امبانی کو حکم دیاتھا کہ وہ 3چینی بینکوں کا 5281کروڑ روپئے کا قرض چکائیں او ر بونڈ کی شکل میں 7کروڑ روپئے اداکریں ۔ساتھ ہی انل امبانی نے بتایا ریالائنس انوبیسن میں 1.20کروڑ کے اکویٹو شئیروں کی اب کوئی قیمت نہیں ہے ۔انل امبانی کے ترجمان نے کہا کہ ان کے طرز زندگی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔اور وہ ان کا خاندان کمپنی کے لئے وقف ہے ۔عدالت نے کریڈٹ کارڈ کے بارے میں جانکاری چاہی تو اس پر ان کی ماں کوکیلا امبانی خرچہ کرتی ہیں ۔کیا ہے تنازعہ اس میں ایک کمپنی کو 92.5کروڑڈالر کے قرض پر شخصی گارنٹی توڑنے سے جڑا ہے امبانی نے ایسی کسی بھی گارنٹی کے لئے اختیاردینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد برطانیہ کی ہائی کورٹ میں یہ معاملہ شروع ہوا کیوں کہ قرض کی شرطوں میں تنازعہ کو برطانیہ کی عدالت میں سلجھانے کی بات تھی اس نے امبانی سے کہا تھا کہ وہ چین کے تین بینکوں کو جلد سے جلد 71.70کروڑ ڈالر کی رقم کی ادائیگی کریں جس کے بعد انہوں نے اپنی پراپرٹی کی مالیت بتائی تھی ۔ (انل نریندر)

کیا نیا گل کھلائےگی فڑنویس اور شاہ ملاقات؟

ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیوند ر فڑنویس اور سیو سینا لیڈر سنجے راوت کی ڈیڑھ گھنٹے تک ہوئی بات چیت پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے حالانکہ راوت اور بھاجپا دونوں کی طرف سے اس ملاقات کے کسی سیاسی نتیجہ نکالنے کی بات نہیں کہی گئی ہے ۔لیکن فڑنویس کے قریبی اور اسمبلی کونسل میں اپوزیشن لیڈر پروین دریکر یہ کہہ کر قیاس آرائیوں کو تقویت دی کہ سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔پہلے اس با ت چیت کو روز میں رکھا گیا تھا لیکن بات چیت کا پتہ لگنے پر راوت نے وضاحت کی کہ وہ سیو سینا کے اخبار سامنا کے لئے فڑنویس کا انٹر ویو لینا چاہتے ہیں اس لئے وہ ملنے گئے تھے راوت اس اخبار کے ایگزیکٹو مدیر ہیں ۔راوت اور فڑنویس ملاقات کے ایک دن بعد اتوار کو راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات ہوئی اس سے پہلے وہ صبح میں پردیش کانگریس صدر بالا صاحب تھوریکر نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تھی ۔حالانکہ کیا بات ہوئی پتہ نہیں چل سکا اس لئے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بات چیت کا اہم نکتہ راوت اورفڑنویس ملاقات رہی ہوگی ۔اس ملاقات پر بھاجپا کی طرف سے صفائی دی جارہی ہے جبکہ فڑنیویس نے خود کہا کہ کورونا دور میں یہ سرکار جس طرح سے کام کررہی ہے اسے لیکر لوگوں میں بہت غصہ ہے ہم ایک پوزیشن کے طور پر کا م کررہے ہیں اور یہ اپنے اسباب سے ہی ایک دن یہ سرکار چرمرا جائے گی ۔جس دن یہ سرکار گرے گی اس دن ہم متبادل سرکار لانے کے لئے پہل کریں گے ہمیں اقتدار میں آنے کی جلدی نہیں ایسی سرکار کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے ۔فڑنویس کے مطابق کچھ ایسے حالات ہیں کہ ان کی ملاقات کے الگ الگ معنی لوگ نکال رہے ہیں میں جانتا ہوں اس ملاقات کا وقت الگ ہے یہ مجھے پتہ نہیں تھا لیکن اس ملاقات کے کوئی سیاسی مطلب نہیں ہے ۔راوت نے دہرایہ فڑنویس سے ہمارے سیاسی اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن ہم آپس میں دشمن نہیں ہیں ۔اور ہماری ملاقات صرف سامنا کے لئے انٹر ویو کے سلسلے میں ہوئی تھی وزیراعلیٰ کی شکل میں ادھو ٹھارکے اپنی میعاد پوری کریں گے جیساکہ سب جانتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن اتنا کہہ سکتے ہیں کہ دال میں کالا ضرور ہے ۔اندر خانے کھچڑی پک رہی ہے ۔ (انل نریندر)

اکالی بھاجپا اتحاد ٹوٹنے کا ہریانہ میں کوئی اثر پڑے گا؟

قریب ڈھائی دہائی کے بعد پنجاب کی مقامی جماعت شرومنی اکا لی دل اور بھاجپا اتحاد ٹوٹنے سے اور پارٹی کے سرکار سے الگ ہونے کے بعد اس کے سیا سی نتیجے دوسری ریاستوں میں دکھا ئی پر سکتے ہیں خاص کر ہریانہ میں۔جگ ظاہر ہے کہ بادل پریوار اور چوٹالہ پریوار کے بہت قریبی رشتے ہیں اس لئے قیا س آرائیاں ہونا فطری ہیں ۔ شرو منی اکالی دل کا وجود صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ دیش کی راجدھانی دہلی میں بھی ہے اکالی بھاجپا اتحاد کے چلتے بادل پریوار کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے خاندانی دوست اوم پرکاش چوٹالہ کے ساتھ سیاسی راستے سے الگ ہوجائیں کسی وقت شرومنی اکا لی دل اور چوٹالہ کی انڈین نیشنل لوک دل کی سیاسی دوستی کافی طاقتور رہی اور دونوں پارٹیاں ہریانہ میں ملک کر چناو¿ لڑتی رہی ہیں سبھی جانتے ہیںکہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوپ پرکاش چوٹالہ اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے کنبہ جاتی رشتے ہیں ۔ چوٹالہ پریوار دو ٹکڑے ہوکر جن نائیک جنتا پارٹی کی شکل میں سامنے آئی تو بادل نے اس سیاسی کنبہ کو بچا نے کی کافی کوشش کی اوم پرکاش اور پرکاش سنگھ بادل کی دوستی کی طرح سکھویر سنگھ بادل اور ابھے سنگھ کے رشتہ پکے ہیں ۔لیکن جچپا لیڈر کی سکھویر سنگھ بادل کے ساتھ ہوئی میٹنگ نے نئی طرح کی بحث چھیڑ دی ہے ۔زرعی بلوں پر سکھویر سنگھ بادل کی بیوی ہر سمرت کور بادل کے مودی کیبنیٹ سے استعفیٰ کے بعد دونوں پارٹیوں کے بعد ٹوٹے اتحاد کو اب پرانی سیاست کی پھر سے ابھرنے کے طور سے دیکھا جارہا ہے ۔اگر بادل اور چوٹالہ پریوار ایک ہو جاتے ہیں تو اجے چوٹالا و دشینت چوٹالہ کی جچپا کا وجود کیا رہے گا ؟ ہریانہ میں بھاجپا کی منوہر لال کھٹر کی اتحادی حکومت جن نائک پارٹی کی حمایت پر ٹکی ہے ۔ہرسمرت کور کے استعفیٰ کے بعد جن نائک پارٹی لیڈڑوں پر سیاسی دباو¿ بڑھا ہے ۔اس دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اسمبلی چناو¿ سے پہلے قریب دو درجن ممبر اسمبلی اور سابق ممبر اسمبلی بھاجپا کے ٹکٹ کے لئے پارٹی میں شامل ہوئے تھے اگر انڈین نیشنل لوک دل و اکالی دل کی دوستی ہوتی ہے ان کے سامنے اپنا سیاسی مستقبل چننے کا متبادل سامنے آسکتا ہے ابھی تک یہ اسمبلی پارٹی میں سنی نا جانے کی بات کہتے ہوئے اپنے در د کو ظاہر کررہے تھے لیکن ان کے سامنے کانگریس نے یا نیشنل لوک دل میں لوٹنے کی قباحت تھی ۔جن نائک پارٹی میں اس لئے وہ نہیں جا سکتے تھے کیوں کہ ان کے ذریعے جب بھاجپا نے ہی عزت نا ملنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو جن نائک پارٹی میں جانے کا کوئی سیاسی فائدہ نظر نہیں آئیگا ایسے میں اگر انڈین نیشنل لوک دل و اکالی دل کے درمیان کسی طرح کا اتحاد ہوتا ہے تو ٹکٹ کی چاہ میں انڈین نیشنل لوک دل چھوڑنے والے سابق ممبران اسمبلی کی گھر واپسی ہو سکتی ہے ذرعی بل پاس ہونے سے بھی جن نائک قیادت پر بھاجپا اتحاد سے الگ ہونے کا دباو¿ بڑھتا جارہا ہے دیکھیں ہریانہ کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے ؟ (انل نریندر )

29 ستمبر 2020

آکسیجن سلینڈروں کی کمی اور کالا بازاری!

دیش کے کچھ حصوں میں میڈیکل آکسیجن کی کمی ہونے کے درمیان دہلی کے وزیر صحت ستندر جین نے کہا کہ دہلی کے اسپتالوں میں آکسیجن دستیاب ہے اور سپلائی بہتر کرنے کے لئے آکسیجن سپلائی کرنے والے راجیوں سے بات چیت جاری ہے انہوں نے کہا کہ قومی راجدھانی میں وائرس انفیکشن کی کمی ہوئی ہے اس میں اگلے دو ہفتہ میں اور کمی کی امید ہے ۔جین کا کہنا ہے دہلی کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے میں نے جائزہ لیا ہے لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق مانگ کے مطابق آکسیجن سلینڈروں کی کمی سپلائی میں رکاوٹ بنی ہے اب تو اس میں بھی جم کر کالابازاری ہو رہی ہے ۔چھ سات ہزار روپئے والا سلینڈر بیس ہزار روپئے میں فروخت ہو رہا ہے ۔جمع خوری اور کالا بازاری کے چلتے سلینڈروں کی قلت بڑھ گئی ہے ۔کولکاتہ میں کالابازاری کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے ڈرے ہوئے لوگوں نے گھروں میں آکسیجن جمع کرنا شروع کر دیا ہے جس وجہ سے وہاں سپلائی کا سلسلہ چرمرا گیا ہے ۔ڈیلروں نے فائدہ اٹھا کر ایک فرضی کمی کی حالت پیدا کر دی ہے اورکالابازری تیز کر دی ہے پہلے گھر میں موجود مریضوں کے لئے آکسیجن سلینڈر آسانی سے سستے اور یومیہ کرائے پر ملتے تھے لیکن اب انہیں تین گنا قیمت پر خریدنا پڑ رہا ہے ۔بنگال کی بات کریں تو سپلائی چین بگڑنے سے ریاست کی سرکاری اسپتالوں پر بھی اثر پڑا ہے ۔اور پرائیویٹ اسپتالوں میں مہنگے علاج سے عام آدمی کا بجٹ بگڑ رہا ہے ۔اور بینٹی لیٹر پر علاج کے لئے 8سے 18ہزارروپئے تک کا بجت طے کیا ہے ۔موجودہ وقت میں شدیدبیمار مریضوں پر تین ہزار روپئے فی لیٹر آکسیجن لگ رہی ہے ۔ایسے ہی اتر پردیش میں 3500روپئے خرچ آرہا ہے جبکہ پرائیویٹ اسپتال میں یہی خرچ سات ہزار روپئے تک پہونچ رہا ہے سرکاری اسپتالوں کی طرح اسپتالوں میں ریٹ معاہد ہ نہیں ہے ایسے میں آکسیجن کی مانگ بڑھنے پر بڑھے داموں پر آکسیجن خردینی پڑ رہی ہے ۔اس سے مریضوں کو علاج کے لئے فاضل رقم خرچ کرنی پڑرہی ہے ۔انتظامیہ سے طے شرعیں پوری طرح عمل نہیں ہو پارہی ہیں۔ (انل نریندر)

جی ایس ٹی معاوضہ رقم کا بیجا استعمال ہوا!

مرکزی حکومت نے گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی )سسٹم کے عمل در آمد کے پہلے دو سال میں جی ایس ٹی معاوضہ کی رقم 47272کروڑروپئے کا غلط طریقے سے روک کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے سی اے جی کی رپو رٹ میں پتہ چلا ہے کہ سرکار نے جی ایس ٹی معاوضہ ضمنی ٹیکس کا استعمال دیگر مقاصد کے لئے کیا جو جی ایس ٹی نقصان سب ٹیکس قانون کی خلاف ورزی ہے اس رقم کا استعمال ریاستوں کو ہونے والے محصول نقصان کی بھرپائی کے لئے کیا جانا تھا ۔سرکاری کھاتوں پر جاری اپنی آڈٹ رپورٹ میں سی اے جی نے کہا ہے اس رقم کو جی ایس ٹی نقصان سب ٹیکس بھنڈار فنڈ میں ڈالا جانا تھا ۔ سال 2017سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ریاستوں کو ہونے والے محصول نقصان کی بھرپائی کے لئے یہ فنڈ بنایا گیا تھا لیکن سرکار نے ایسا نہیں کیا جو جی ایس ٹی قانون کی خلا ف ورزی ہے سی اے جی نے کہا جی ایس ٹی معاوضہ سب ٹیکس قانون 2017کے تحت ضمنی ٹیکس لگانے کی سہولت ہے جس سے ریاستوں کو جی ایس ٹی کی وجہ سے ہوئے محصول نقصان کی بھرپائی کی جاتی ہے قانون او ر اکاو¿نٹس کاروائی کے تحت اسی برس کے دوران سب ٹیکس کی شکل میں اکٹھا کی گئی رقم کوجی ایس ٹی معاوضہ سب ٹیکس فنڈ میں جمع کرا نا ہوتا ہے یہ جنتا کے کھاتے کا حصہ ہوتاہے ۔ سی اے جی نے بتایا کہ 2017-18میں 62612کروڑ روپئے کی رقم نقصان کی بھرپائی کے لئے سب ٹیکس کی شکل میں اکٹھا کی گئی اس میں سے 56146کروڑ روپئے کی رقم ہی سب ٹیکس فنڈ میں منتقل کی گئی 2017-18میں نقصان کی بھرپائی کے لئے سب ٹیکس فنڈ میں 6466کروڑ روپئے کم منتقل کئے گئے ایس ہی 2018-19میں 40806کروڑ روپئے کی رقم جمع نہیں کی گئی سی اے جی کے مطابق وزارات مالیا ت نے اس کی آڈٹ ریمارکس کو مانا ہے اور کہا ہے کہ فروری 2020میں جس رقم کو اگلے برس ڈال دیا جائے گا ۔ اور پبلک سروس کھاتے میں نہیں ڈالی گئی وزارات خزانہ سے فوری اصلاحتی قدم اٹھانے کو کہا ہے چونکہ اس کے بعد کے برسوں میں رقم کی منتقلی اس برس میں مالی وسائل کے حساب سے نمٹارا کرنا ہوگا اور اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری لینی ہوگی۔ (انل نریندر)

کسانوں کی تشویش کا رپریٹ سکنجے سے ہے!

پارلیمنٹ میں پاس زرعی بلوں کے خلاف پورے دیش کے کسان تحریک پر اتر آئے ہیں مختلف کسان انجمنوں کے چکہ جام کی اپیل اور اور سیای پارٹیوں سے ملی حمایت کے بعد دیش بھر کے کسان سڑکوں پر اتر آئے دلی، اتر پردیش ، پنجاب ، ہریانہ سے لیکر مہارشٹر اڈیشہ،مغربی بنگال ، بہار ، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو کرناٹک سمیت سبھی ریاستوں میں کسانوں نے مظاہرہ کر چکہ جام کیا۔کسان تحریک کے چلتے ریلوے نے بھی اپنی ٹرینیں منسوخ کر دی تھی اور کچھ کے روٹ بدل دیئے گئے ۔وزیر اعظم کہتے ہیں تینوں زرعی قانون کسانوں کا مستقبل بدل دینگے پارلیمنٹ میں سرکار چاہتی تو بغیر بحث کے پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیتی لیکن اب یہ بل پاس ہوکر قانون بن جائیں گے اگر قانون دیش کے 80کروڑ کسانوں کی قسمت بدلنے والی ہے تو کیا جمہوریت میں اسے بہتر انتظام نہیں کہا جاتا ایشو جنتا کے رائے سے آئے اور پارلیمنٹ میں مفصل بحث ہوتی مسئلا ایم ایس پی کا نہیں بلکہ کسانوں پر کارپوریٹ شکنجہ کے ہے اپوزیشن پارٹیاں تو ایک ہی فریقی ،مورد الزام ہے لیکن زرعی ماہرین بھی نہیں سمجھ رہے ہیں کہ خود ساختہ کسان مفاد میں بنائے گئے تین انقلابی قوانین کے بعد کسی طرح کارپوریٹ مفاد اور دیش کی زرعی معیشت کو اپنے ہاتھوں میں کٹپتلی بنا سکتے ہیں اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کسانوں کے لئے یہ قانون وردان ثابت ہوں بشرطہ کہ سرکاری قانون سہولت لائے تاکہ کم سے کم طے قیمت پر خرید کا سسٹم جاری رہے۔ کسانوں سے پرائیوٹ کاروباری اس قیمت سے نیچے کی خرید کا سمجھوتا نہ کریں اور تنازع کا نپٹارا سیدھے عدلیہ کرے نہ کی انتظامیہ کے افسران ۔ اگر ریاستی سرکاریں زرعی پیداوار انجمنیں بھی مرکز کے جذبہ کو محسوس کرکے زرعی پیداوار کی فروخت میں تعاون کرنے لگیں تو کسانوں کی قسمت بدل سکتی ہے کیونکہ پرائیویٹ سرمایہ کار اس میں پیسہ اور تکنیک کا استعمال کرے گا جس سے پیداوار بڑھے گی لیکن دوسرا خطرہ ہے مال نے نارتھ انڈیا کی چار بڑی ریاستوںمیں کچھ کارپوریٹ گھرانے مل کر کسانوں سے گیہوں کی کھیتی کے بھاو¿میں معاہدہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کسان دیگر فصلوں کو چھوڑ کر صرف گیہوں بونا شروع کردیں گے ۔ اور ان کارپوریٹ گھرانوں کو پہلے سے ہی کیسی فصل ہوگی اس کا اندازہ رہے گا کہ مغربی اتر پردیش میں اس مرتبہ آلو کہ قلت ہو گی مدھیہ پردیش میں سویا بین کہ لہذا وہ ان زرعی اجناس کو پہلے سے خرید کر رکھ لیں گے اور با زار کو اپنے حساب کنٹرول کر لیں کیونکہ تیسرا قانون ذخیرہ پر کنٹرول ختم کر رہا ہے پھر زرعی سائنس کے اصول کے مطابق کھیتی میں زیادہ کیمیا ئی کھادوں کے استعمال کے ساتھ وہ پیداوار بھی بھلے ہی بڑھا دے لیکن زمین کی پیداواری طاقت گھٹتی ہے کیا کارپو ریٹ مفاد میں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ؟طویل مدت زراعت کے لئے کھیت میں فصلوں کا بدلنا روٹیشن یا طریقے میں تبدیلی کے لئے کسانوں سے معاہدہ کرتے وقت کارپوریٹ گھرانے وہ ذاتی مفاد کے بدلے کاروباری مفاد پر دھیان رکھیں گے؟ کسان خاص کر چھوٹے اور درمیانی کسان کو وہی بوئے گا جو وہ چاہے گا کیونکہ دام اسے زیا دہ ملنے کی گارنٹی ہوگی لیکن کھیت کی حالت کچھ سالوں میں بد تر ہو جائے گی اور زرعی اجناس کی قیمتیں ان گھرانوں کی داسی بن جائےںگی ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...