Translater

31 جولائی 2020

بھارت ہی نہیں ،سبھی پڑوسی چین سے پریشان !

چین کی فروغ والی پالیسی کے سبب چین کا سرحدی تنازع صرف بھارت و بھوٹان ہی سے نہیں بلکہ سبھی 18پڑوسیوں سے ہے یہاں تک کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جیسے عالمی ادارے اور دنیا کے دباو¿ کو بھی ٹھینگا دکھا تا رہا ہے۔ اسپائلی جزیرہ تنازع میں فلپن کے حق میں آئے بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو درکنار کر رکھا ہے حکام کے مطابق لداخ میں پی ایم مودی کے فروغ وادی پالیسی ذکر کرنے پر تلملائے چین نے فوری طور پر بیان نہیں تو دیا ۔جب کہ پی ایم نے چین کا نام نہیں لیا چین نے کہا تھا کہ اس نے اپنے چار پڑو سیوں کے ساتھ سرحدی تنازع پر ا من طریقے سے سلجھا یا ہے جب کہ حقیقت میں اسکے بلکل بر عکس ہے ۔شروعات کرتے ہیں بھارت سے چین کا سرحدی تنازع۔3500کلومیٹر لمبی ایل اے سی پر ہے ۔ چین لداخ سے لیکر اروناچل پردیش تک کہیں بھی تنازع کھڑا کردیتا ہے ۔تازہ تنازع مشرقی لداخ کے چار مقامات پر ہے۔ اس کے علاوہ چین نے اکسائی چن پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہے۔بھوٹان:کچھ دن پہلے ہی بھوٹان کے مشرقی حصے میں اپنی داعویداری جتا رہا ہے ۔جاپان کے ساتھ ساو¿تھ چین ساگر ،سینکاکواور تکاو¿جزیرہ پر پرانا تنازع ہے جاپان کی ایئر فورس اور ی زیڈ کو لیکر ٹکراو¿ بنا رہتا ہے ری زیڈ ساو¿تھ چین ساگر تک پھیلا ہو ہے چین اپنی دادا گیری دکھا کر برنائی کے ری زیڈ کے خاصے حصے کو اپنا حصہ بنا چکا ہے ۔ملیشیاء:اس سے لگنے والے ساو¿تھ چین ساگر ری زیڈ کی دعوہ داری لاو¿س میں چین مالوش کو 1271سے 1567 تک راج کرنے والے اپنے یونان پرخوں کا حوالہ دیکر پورے لاو¿س کو چین کا حصہ قرار دے چکا ہے کمبوڈیا میں بھی لاو¿س کی طرح 1368سے1644تک راج کرنے والا منگ پرخے کا حوالہ دیکر اپنا حصة مانتا ہے ۔چین کی دلیل ہے اس عہد میں کمبوڈیا اور لاو¿س میں تھا تھائی لینڈ میں میکانگ نہیں یہ چین زبردستی اپنے مال بردار جہاز سے جاتا ہے چین یونان سے ساو¿تھ ایسٹ ایشیاءتک اپنا مال بھیجنے کے لئے اس روٹ کا استعمال کرےا ہے ویتنام میکالوفیلڈ ساحل ،پاراسیل اور اسپائلے جزیروں کو لیکر تنازع کے ساتھ ساو¿تھ چین ساگر میں چینی دخل کا ویتنام سخت مخالف رہا ہے۔نیپال:دو لاکھا نے دوپلر اور ماو¿نٹ ایوریسٹ علاقے میں دو پلرکو لیکر نیپال سے بھی پرانا جھگڑا ہے چین نیپال کے کچھ حصے کو تبت کا حصہ مانتاہے ۔تائیواں :لاو¿س کی طرح یونان پرخے کی بنیاد پر پورے تائیواں پر اپنی دعویداری کرتا ہے۔اور قزاخستان کے 34000مربع کلومیٹر علاقے پر دعویداری ۔ساو¿تھ کوریا :مشرقی چین ساگر میں ماو¿نٹ پک ٹو ،مال ٹنگڑی ندی پر تنازع ۔پورے نارتھ کوریا پر دعویداری ۔فی الحال 7250کلومیٹر کو لیکر کرگستان سے جھگڑا ہے ۔اور وہ فی الحال 7250مربع کلومیٹر کو لیکر تاجگستان میں کشیدگی بنا کر وہ 2002میں 1122مربع کلومیٹر اس سے زمین چھین چکا ہے ابھی کئی علاقوں میں چین کی دعویداری ہے۔ اس لئے کہنا صرف بھارت سے ہی چین کا جھگڑا ہے غلط ہوگا اس کے آگے بڑھنے کی پالیسی نے کئی دیشوں سے اسکا جھگڑا شروع کردیا ہے ۔ (انل نریندر)
جس کا ایک عرصے سے انتظار تھا آخر وہ گھڑی پوری ہو گئی جب جنگی جہاز رافیل فرانس سے 8500کلو میٹر کی اڑان بھر کر انبالا پہنچ گئے ہیں جیسے ہی گجرات میں انڈین ایئر فورس میں انٹری کی وہ سخوئی 30جنگی جیٹ نے انہیں اپنے گھریے میں لے لیا اور انبالا تک ساتھ ساتھ آئے اور کچھ سیاسی تنازع اور الزام در الزام کے پس منظر میں جدید میزائیلوں و خطر ناک بموں سے آراستہ جنگی جہاز رافیل کی پہلی خیپ کی بھارت پہونچنا قابل خیر مقدم تو ہے ہی سرحد پر چین کے ٹکراو¿ کے درمیان ہندوستان فضائیہ میں شامل کرنے کی سیاسی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ اس سے بھارت کی فوجی طاقت میں زبردست اضافہ ہونے والا ہے۔ ابھی فرانس سے پانچ جہاز آئے ہیں لیکن سبھی 36جنگی جہازوں کے اگلے سال انڈین ایئر فورس کے بیڑے میں شامل ہونے کی امید ہے۔ جب پاکستان میں بالا کوٹ میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فضائیہ نے جوابی کاروائی کی تب رافیل کی کمی محسوس ہوئی اگر اس وقت رافیل جہاز ہوتے تو وہاں اور زیادہ نقصان ہوتا یہی نہیں بعد میں رافیل فضائیہ میں شامل ہوجاے گا تو ہماری مار صلاحیت کافی بڑھ جائے گی ۔رافیل چوتھی پانچویں پیڑھی کے درمیان ایک کثیر مقصد جنگی جہاز ہیں ۔جو ایک ساتھ کئی رول ادا کرسکے گا ۔یہ میزائیلوں سے آراستہ ہونگے جو ہوا کے ساتھ ساتھ زمین پر مار کرنے میں اہل ہونگے ان میزائیلوں کی رینج اتنی زیادہ کہ دشمن کے جہاز اس کے سامنے بچاو¿ کی پوزیشن میں ہونگے ۔فرانس کے پانچ رافیل جنگی جہازوں کی آمد صرف اس لئے محدود نہیں ہے ۔صرف ہماری ایئر فورس کی مار صلاحیت اچھا اضافہ ہونے والا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ وہ ایسے وقت میں آیا ہے کی جب چین قبضہ کرنے اور اڑیل رویہ اپنائے ہوئے ہے۔حقیقت میں رافیل جہازوں کو لیکر اتنی بحث ہو رہی ہے ۔بلا شبہہ انڈین ایئر افورس کی طاقت تب اور بڑھے گی جب تمام جہاز فوج کے بیڑے میں شامل ہونگے ۔لیکن اتنا تو طے ہے کہ پانچ جنگی جہاز بھی ہماری فوج کا حوصلہ بڑھانے میں ضرور کام کریں گے ۔کیونکہ یہ سب سے جدید جنگی جہاز ہیں جس کا توڑ نا تو چین کے پاس ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس ۔فی الحال اگر پاکستان چین کے ساتھ دو سرحدوں پر جنگ چھڑی تو بھارت کو کافی تعداد میں جنگی جہازوں کی ضرورت پڑے گی ۔یہ افسوس ناک ہے کہ پچھلے برسوں میں ہتھیاروں کی خرید پر اتنی سیاست ہوئی جس سے فوج کا جدید کاری متا¿ثر ہوئی ہے رافیل بھی اس سیاست سے اچھوتا نہیں رہا ۔کوئی ضروری بات نہیں ہوگی کہ اب تمام سیاسی پارٹیوں میں رافیل کو لیکر کریڈٹ لینے کی ہوڑمچھے ۔ (انل نریندر)

30 جولائی 2020

دہلی میں بجلی کے بھاری بھرکم بل

لاک ڈاﺅن کے دوران عارضی پوری دہلی پریشان ہے اور بہت سے بجلی گراہکوں کو ہزاروں روپئے کے بل آرہے ہیں ۔جبکہ عام دنوں میں یہ سیکنڑوں میں آیا کرتے تھے آج جس کا 400روپئے کا بل آتا تھا اس کا 1200روپئے میں آرہا ہے ۔فیکٹریوں کا تو برا حال ہے اور انہیں بل لاکھوں میں آرہے ہیں یا چار مہینے کا بل اکھٹا آرہا ہے ۔بجلی کا بل نہ بھرنے پر کنکشن کاٹنے کی دھمکی دی جا رہی ہے ۔جب کاروباری ادارے بند تھے تو کس بات کا بجلی کمپنیاں بل اصول رہی ہیں ؟بجلی کے بھاری بھرم بلوں کے خلاف عوامی تحریک کے تحت بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر دھرنا دیا ۔حالانکہ پولیس نے رہائش گاہ سے تھوڑا پہلے ہی بیریکیٹ لگا کر روک دیا بعد میں سبھی مظاہرین کو حراست میں لے کر سویل لائن بھیجا اور چھوڑ دیا گیا ۔بھاجپا کے پردیش صدر آدیش گپتا نے کہا کہ تازہ مالی بحران کے وقت جب لوگ سرکار سے بجلی کے بلوں میں راحت کی امید کر رہے تھے ان کو راحت دینے کے بجائے انہیں بھاری بھرکم بل بھیج کر ان سے دھوکہ کیا انہوںنے سرکار نے مانگ کی کہ اس سال مارچ سے لے کر نومبر تک فیکس چارج معاف کیا جائے اور گھریلو گراہکوں کے لیے بجلی بلوں پر سبسڈی کو بحال کی جائے اور بلوں کی میٹر ریڈینگ کے مطابق بل بھیجے جائیں بجلی کے کنکشن کاٹنے کی وارنگ دینے والے نوٹسوں کو واپس لیا جائے اور بقایا بلوں کو قستوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے اگر ایسا نہیں ہوتا تو بی جے پی ورکر سی ایم کی رہائش گاہ کی بجلی کاٹ دیں گے ۔ (انل نریندر)

پی ایم کیئر فنڈ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا

مرکزی سرکار نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں پی ایم کیئر فنڈ کا زوردار بچاﺅ کیا اور کہا کہ کووڈ وبا سے ڈرنے کے لئے یہ ایک مرضی سے تعاون دینے کا فنڈ ہے ۔اور اسے قومی آفت اورریاستی آفت راحت فنڈ کے لئے بجٹ میں مختص رقم کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ہے جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجے کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ کے سامنے مرکز کی جانب سے سرکاری وکیل تشار مہتا نے پی ایم کیئر فنڈ کے بارے میں تفصیل رکھی بنچ نے کووڈ 19وبا کےلئے اس فنڈ کے تحت اکھٹی رقم قومی راحت فنڈ میں منتقل کرنے کے لئے غیر سرکار تنظیم کی عرضی میں درخواست پر سماعت پوری کرلی ہے ۔بنچ کا کہنا تھا کہ فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا ۔خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے 28مارچ کو پی ایم کیئر فنڈ بنایا تھا جس کا مقصد کورونا جیسی وبا سے نمٹنے کے لئے پیسہ اکھٹا کرنے اور متاثرہ لوگوں کو ریلیف دینے کا تھا وزیر اعظم اس فنڈ کے سر پرست چیئرمین ہیں اس کے علاوہ وزیر داخلہ ،وزیر دفاع اور وزیر مالیات اس کے سرپرست ممبر ہیں ۔تشار مہتا نے کہا کہ این ڈی آر ایف ،ایس ڈی آر ایف کے لئے بجٹ کے ذریعہ پیسہ مختص کی جاتا ہے ۔عرضی میں پوچھا گیا تھا کہ پی ایم کیئر فنڈ میں کتنے پیسے جمع اور کتنے خرچ کئے گئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پی ایم کیئر فنڈ میں عطیہ دینے والوں کی بھیڑ لگ گئی اور ان میں صنعتکاروں سے لے کر بالی ووڈ اداکاروں نے بھی دل کھول کر پیسہ دیا ۔عام آدمی تک کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے لئے بنائے گئے اس فنڈ میں مسلسل پیسہ آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک اس فنڈ میں ہزاروں کروڑ روپئے خرچ ہو چکے ہیں ۔وہیں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو سوال کر رہے ہیں کہ جب پہلے سے ہی پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ موجود ہے تو الگ سے پی ایم کیئر فنڈ بنانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟یا دونوں میں آخر فرق کیا ہے ؟وزارت کارپوریٹ نے کہا ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ میں جمع پیسے کو سی ایس آر مانا جائے گا ۔جبکہ سی ایم ریلیف فنڈ میں جمع رقم کو بھی سی ایم آر مانا جائے ۔لیکن کاپوریٹ وزارت نے ایسا کرنے سے منع کردیا ۔پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ کا با قاعدہ سی اے جی آڈیٹ کرتی ہے ۔جبکہ کیئر س میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے دائر عرضی میں پوچھا گیا کہ اس ٹرسٹ کا ٹرسٹی کون ہے؟اور کس طرح یہ کام کرتا ہے اس کی نگرانی کورٹ ایس آئی ٹی کرئے سپریم کورٹ میں اب معاملے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے ۔اور عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے ۔ (انل نریندر)

کورونا کے گھٹتے کیسز میں دہلی نے دکھائی امیدکی کرن

جس رفتار سے دیش میں کورونا انفیکشن کے مریض بڑھ رہے ہیں وہ خوفناک ہے یہ کہاں جا کر رکیں گے ؟کیسے رکے گاویکسین سے راحت کب ملے گی؟یہ سوالات دیش کو ستا رہے ہیں ۔لیکن قومی راجدھانی دہلی ممبئی اور احمد آباد کو چھوڑ کر دیش میں کورونا وائرس انفیکشن کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں تمل ناڈو ،کرناٹک ،اور آندھرا پردیش سمیت یوپی میں یومیہ ریکارڈ تعداد میں نئے معاملے درج کئے جا رہے ہیں ۔مہارشٹر کی حالت پہلے سے بھی سنگین بنی ہوئی ہے ۔یہاں دس ہزار سے زائد نئے کورونا معاملے سامنے آئے ہیں اور انفیکشن کے مریضوں کی تعداد 15لاکھ سے پار ہو گئی ہے ۔34ہزار لوگوں کی اب تک موت ہو چکی ہے ۔اور نو لاکھ سے زیادہ مریض ٹھیک ہو کر گھر جا چکے ہیں ۔اب تک اعداد و شمار کے مطابق 60ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں ۔کورونا کنٹرول کے معاملے میں دہلی نے اچھا کام کیا ہے ۔اور یہاں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے ۔اب دیش کو دہلی کے پورے ماڈل کو اپنانا چاہیے ۔دہلی کے کام کرنے کے طریقے کو دہلی ہائی کورٹ نے بھی سراہا ہے ۔دہلی سرکار نے کوئیڈ کے مریضوں سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس بڑھائی ہیلپ لائن بنائی اور ٹیسٹ سہولیات بڑھائی اور پلازمہ بینک قائم کرنے جیسے اچھے قدم اُٹھائے ہیں ۔دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پارٹیل جسٹس پرتیک جالان کی بنچ نے کہا کہ دہلی سرکار کی طرف سے اُٹھائے گئے قدموں کے پیش نظر وہ مفاد عامہ کی اُس عرضی پر سماعت نہیں کرئے گی جس نے کووڈ کے بڑھتے معاملوں سے نمٹنے کے لئے کام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے خود سے نوٹس لینے کو کہا اور عدالتی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی تھی ۔ (انل نریندر)

29 جولائی 2020

چین سے اسمارٹ فون کی کھسکتی مارکیٹ آئی فون اب بھارت میں !

خوش خبری !ہندوستانی بازاروں میں چینی اسمارٹ فون برانڈ کی حصہ داری اپریل جون کی سہہ ماہی میں نو فیصدی سے گھٹ کر 72فیصد رہ گئی ہے جو 81فیصد تھی اس کی بڑی وجہ ملک میں چین مخالف ماحول کا بڑھنا اور کووڈ19-سے مال کی سپلائی میں رکاوٹ ہونا ریشرچ کمپنی ،کاو¿نٹر پارٹ ریسرچ کی کی رپورٹ میں اسمارٹ فون بازار میں اوپو اور ویوو ،رئیل می جیسے چینی برانڈ کا دبدبہ ہے لیکن ان کی بازار میں مانگ گھٹی ہے کاو¿نٹر ریسر چ میں تجزیہ نگار شنپی جینگ نے دعویٰ کیاہے کہ اپریل جون 2020میں چینی اسمارٹ فون کی حصہ داری گھٹ گئی ہے سرکار نے چین کے خلاف سخت قدم اٹھائے ہیں جس میں 50سے زیادہ چینی ایپ پرپابندی لگانا اور چین سے آنے والے سامان کی حد پر زیادہ جانچ وغیرہ شامل ہے قابل ذکر ہے کہ بھارت چین کشیدگی کے بعد سے دیش میں چین مخالف ماحول بنا ہوا ہے ۔قیمت کے حساب سے بہتر پروڈکٹس اور مضبوط چینل بکری کی وجہ سے چینی کمپنیوں نے گراہکوں کے لئے کچھ متبادل چھوڑے ہیں وہیں اچھی خبر یہ ہے کہ امریکہ کی نامور کمپنی بھارت میں آئی فون 11بنانے لگی ہے ۔چنئی میں اس کا کارخانہ چالو ہو گیا ہے بھارت میں بننے سے اس کی لاگت میں کمی آنے اور اس کے سستے ہونے کی امید کی جارہی ہے وزیرتجارت پیوش گوئل نے بتایا کہ میک ان انڈیا کو اہم ترین بڑھاوا دیا جارہا ہے وہیں کمیونیکیشن الیکٹرانکس و انفورمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے بھی ٹوئیٹ کیا ہے دیش میں آئی فون بننے کی اچھی شروعات ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپٹول کے اس فیصلے سے کمپنی 22فیصدی تک ایکسائز ٹیکس بچا سکے گی اس کا فائدہ گراہکوں کو ہو سکتا ہے 9ماہ پہلے کمپنی نے آئی فون ایکس آر بنانے کا فیصلہ کیاتھا بھارت میں ایپل آئی فون کی تیاری سے پہلے فوکس کون تمل ناڈو میں کام کررہی ہے ۔اوراس نے کارخانے میں قریب 7500کروڑ روپئے لگانے کا اعلان کیاہے چھوٹے چھوٹے چین کو اقتصادی بندشوں میں گھیرا جارہاہے ۔بیشک اس سے چین کو بوکھلاہٹ ہورہی ہوگی آئی فون تیاری چین سے ہاتھ سے نکلنا عام بات نہیں ہے اور بھی چینی کمپنیوں چین میں قائم غیرملکی کمپنیوں کے بھارت آنے کی تیار ی ہے ۔ (انل نریندر)

بالادستی کی لڑائی میں کہیں باقی دنیا نا آجائے !

امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے بدھ کے روز ایک نیا موڑ آگیا ابھی تک ایک دوسرے کے حکام پر پابندی لگا رہے دونوں دیش اب ایک دوسرے کے سفارت خانے بند کرا رہے ہیں امریکہ نے ہوسٹن میں چین کے سفارت خانے کو بند کرنے کو کہا تو چین میں بھی ووہان یاہانگ کانگ میںامریکی سفارت خانے بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے وہیں ساو¿تھ چین ساگر میں چین کی بالا دستی کو چنوتی دینے کے لئے امریکہ مسلسل جگنگی رہلسل کررہا ہے جس پر چین نے سخت اعتراف جتایا ہے اب خبر آئی ہے کہ چین نے امریکہ پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے یونگ ڈو میں اس کے کونسلیٹ جنرل ہائی کمیشن کو بند کرنے کا اعلان کیاہے ۔چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس ہفتہ ہوشٹن میں چینی سفارت خانہ بند کرنے کی امریکی فیصلے کے خلاف یہ ضروری اور جائز کاروائی ہے ۔جائز رد عمل ہے ۔دراصل یونگ ڈو میں 1985میں پہلا کونسل خانہ بنایا گیا تھا جس میں 200سے زیادہ لوگ کام کرتے تھے اور یہ حکمت عملی طور سے اس لئے بھی اہم تھا کیونکہ یہ طبت کے قریب تھا وہیں امریکہ نے ویزا کے جعلسازی معاملے میں چین کے تین شہریوں کو گرفتار کیا ۔اور چوتھے چینی شہری کو بھی گرفتار کرنے کی تیاری چل رہی ہے یہ چینی خاتون ہے جو سینگ فرانسز کو میں واقع چینی سفارت خانے میں مقیم ہے چین اور امریکہ کے درمیان کئی مسئلوں کو لیکر تنازعہ جاری ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کی چین کے ساتھ تجار ت سے لیکر کورونا وائرس پر کئی بار زبانی جھڑپ بھی ہو چکی ہے ۔ساتھ ہی امریکہ نے ہانگ کانگ میں متنازعہ سکیورٹی قانون نافذ کرنے پر سخت اعتراض جتایاتھا ۔ٹرمپ انتظامیہ نے ہوسٹن سفارت خانے کو جمعہ تک بند کرنے کا حکم دیاتھا ۔الزام ہے کہ یہ بودھی وراثت کی جاسوسی کرتا ہے ۔اور ان سے چراتا ہے چینی آئینی معاملے میں دونوں دیش آپس میں ٹکرائے ۔چین اس سفارت خانے کے ذریعے امریکہ کی ملک مخالف سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا امریکہ اور چین کے درمیان رشتوں میں تعطل پچھلے تین سالوں سے بنا ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اشو بنا ہوا ہے یہ ایسا متنازعہ اور پیچیدہ اشو ہے کہ قومی مفاد کے لئے کوئی بھی دیش آسانی سے جھکنے والا نہیں ہے پچھلے سال نومبر سے دنیا میں جس تیزی سے کورونا وبا پھیلی ہوئی ہے اس کے پیچھے چین کا ہاتھ رہا ہے ۔امریکہ تو کھل کرکہہ رہا ہے کہ اس سرگرمی پر کورونا انفیکشن وائرس چین نے ہی پھیلایا ہے اس لئے پوری دنیا کو اکھٹے ہوکر چین کے خلاف لڑنا چاہیے چین اور امریکہ درمیان لڑائی بالا دستی کی ہے کہ کون دنیا کاداد ا بنے کہ کون ایک دوسرے کے پٹخنی دینے کے کھیل چل رہے ہیں اس سال نومبر میں امریکی صدر چناو¿ ہونے ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ چین کے کندوھں پر یہ چناو¿ جیتنا چاہتے ہیں اس بالا دستی کی لڑائی میں خطرہ یہ ہے کہ کہیں اس کی ضدمیں باقی دنیا نا آجائے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...