Translater
15 جولائی 2020
کورونا سے لڑائی میں دھاروی بنی مثال!
کورونا کی لڑائی میں ممبئی کی جھکی بستی دھاروی میں دنیا بھر کو راہ دکھائی ہے ۔ڈبلیو ایچ اوکے ڈائرکٹر جنرل تدروس گریوئیس نے جینوا میں کہا کہ دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں بھلے ہی وباکا قہر زبردست ہو لیکن اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ان میں سے کچھ مثالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے اٹلی اسپین ،ساو¿تھ کوریا و ممبئی میٹرو شہر کی بے حد گنجان والا علاقہ دھاروی ہے جو اس وقت اس شہر کی سب سے بڑی جھگی بستی ہے ۔ایک وقت کووڈ19-حساس قرار دیدیا گیا تھا اور اب یہاں اس کورونا وائرس کے پھیلاو¿ پر قابو پا لیا گیا ہے ۔ممبئی میٹرو شہر پالیکا (بی ایم سی )نے کہا کہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے تعاون اور اجتماعی شراکت داری کے ذریعے مہم چلائی گئی ۔اور جانچ نے اس وبا کے خلاف لڑائی میں مدد کی ۔بی ایم سے کے کے جی نارتھ وارڈ کے جوائن کمشنر کرن دیواکر نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن نے مریضوں کا انتظار کرنے اور ان کے ملنے والے لوگوں کا پتہ لگانے اور انہیں کوارنٹائن میں بھیجنے اور گھر میں الگ تھلگ کرنے سب کی اپنے روایتی نکتہ نظر میں تبدیلی کر سرگرمی سے جانچ شروع کرنے پر زور دیاگیا ۔حال ہی میں اب کووڈ 19-کے مریضوں کی تعداد 2359ہے۔اس وقت صرف 166مریض زیر علاج ہیں اور 1952مریضوں کو اب تک اسپتالوں سے چھٹی مل چکی ہے ۔دیواکر کا کہنا ہے کہ دھاروی کی کم سے کم 80فیصد آبادی اور 450کمیونٹی ٹوائلٹس پر منحصر ہے ۔اور انتظامیہ نے ایک دن میں کئی مرتبہ ان ٹوائلٹس کو وائرس سے نجات دلائی ۔ہم نے 4ٹی ٹریکنگ ،ٹسٹنگ اور ٹریٹنگ پر توجہ دیکر اس وائر س پر قابو پانے کی کوشش کی ۔اس کے علاوہ بزرگ لوگوں کی خاص طور پر دیکھ بھال کی گئی اور 8246سینئیر شہریوں پر سروے کیاگیا ۔دھاروی میں نا صرف بھارت کی دیگر ریاستوں کو کورونا مرکز کو راستہ دکھایا ہے بلکہ ساری دنیا کو ایک مثال پیش کی ہے ۔
(انل نریندر)
14 جولائی 2020
سینٹا ئزر کے سائڈ ایفیکٹ !
کورونا وبا کے چلتے سینیٹا ئزر کا استعمال کررہے لوگوں کو خراب کوالٹی کے سبب کھال سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے پریشانیاں ہورہی ہیں ۔ بھوسا کھیڑی کا باشندہ خاندان کے 2افراد کے ہاتھوں میں انفیکشن ہو گیا ہے ایسے ہی سندھی گھرانے کے باشندے کے ایک بزر گ کے ہاتھ کے اوپری حصے میں کھجلی ہو گئی ہے ایسی شکایتیں ڈاکٹروں کو پاس آرہی ہیں ایک شخص ریتیش گودھا فارچون کی دوکان پر سامان کی پیکنگ کے بعد مارکیٹ سے بار بارہاتھ سینیٹائز کرنے پڑتے ہیں جس وجہ سے انکے ہاتھوں میں کھجلی ہو گئی ہے انکے کام میں ہاتھ بٹانے کی وجہ سے انکے ہاتھوں میں کھجلی ہو گئی ہے یہی حال ایک عورت انیتا تیواری کا بھی ہوا وہ سرکاری محکمہ میں کام کرتی ہیں اور وہ لوگوںکے ہاتھوں پر سینیٹائز کرتی ہیں یہ انفیکشن سینیٹائزر میں 65سے 70فیصدی الکوہل ہوتا ہے جس وجہ سے کھال خراب ہو رہی ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ کینسر جیسے سنگین مرض کابھی سبب بن سکتا ہے بہتر یہ ہے کہ ہینڈ واش سے صاف کریں دستانے پہنیں تبھی سینیٹائز کریں اچھی کوالٹی سینیٹائزر استعمال کریں پیسہ بچانے کے چکر میں گھٹیا سینیٹائزر آپ کو نقصان پہونچا سکتا ہے۔
(انل نریندر)
کیا ہوا سے انفیکشن پھیلتا ہے ؟
ابھی تک ورلڈ ہیلتھ تنظیم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا انفیکشن کسی سطح کے رابطے میں آنے سے نہیں ہوتا اور سائنسداں اس ثبوت کی تصدیق کر رہے تھے ۔یہی وجہ تھی WHO کے حکام نے کوڈ 19بیماری کے بچاو¿ کے لئے خاص طور پر ہاتھ دھونے کی صلاح تھی لیکن اب وہ یہ کہ رہے ہیں کہ خاص حالات میں ہو امیں انفیکشن کا امکا ن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اسکا مطلب یہ ہو کہ جب لوگ ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوتے ہیں تو منھ سے سانس میں زرّات کے ذریعے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے ۔ ہو ا سے انفیکشن کا کیا مطلب ہے؟ اگر کورونا کے ہوا سے پھیلنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو حفاظتی قدم بدل جائیں گے ۔جب ہم سانس کے ذریعے جراثیم یا وائرس لیتے تو وہ ہوا میں تیر رہے زرّات کو ہم تک پہونچاتا ہے اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ بند اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر کورونا کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔امریکہ کے واشنگٹن شہر ماو¿نٹ برمن میں ایک آدمی پر کم سے کم 45 لوگوں کو متاثر کا شبہہ ہے یہ لوگ ایک گانے والی پارٹی کے ممبر تھے انہوں نے سماجی دوری کے کو ئی قائدہ نہیں توڑا تھا ۔جنوری کے آخیر میں چین کے ایک شہر میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا وہاں ایک آدمی کے ذریعے 9لوگوں کو انفیکشن پھیلانے کا شبہہ تھا سبھی لوگوں نے ایک ہی ہوٹل میں کھانا کھایا تھا۔ کچھ سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایئر کنڈیشن سے وائرس اور بھی زیادہ پھیلے گا بیماری جس طرح سے پھیلتی ہے اس سے یہ طے ہوتا کہ اسے روکنے کے لئے کیا قدم اٹھائے جائیں ۔ڈبلیو ایچ او کے قانون کے تحت نیم گرم پانی سے بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی صلاح دی گئی ہے اس کے علاوہ سماجی دوری بہت ضروری ہے لیکن کچھ سائنسدانوں کا اب یہ کہنا ہے ان احتیاطی قدموں کی اہمیت ہے لیکن ہوا سے انفیکشن پھیلانے کی صورت میں یہ ناکافی ہونگے ۔حال ہی میں 32ملکوں کے 239سائنسدانوں نے ڈبلیو ایچ او کو خلا خط لکھا تھا جس میں ہوا کے ذریعے انفیکشن پھیلنے کی احتیاط برتنے کے لئے گائڈ لائن بنانے کی اپیل کی ہے ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے ثبوتوں کی جانچ کرے گا تنظیم کے ایک دوسرے مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ ہیمین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جو ریسرچ ہو رہی ہے اس سے ایجنسی کو ٹھوس نتیجوں کی امید ہے تاکہ وائرس کی روک تھا م کے لئے نئی حکمت عملی بنائی جا سکے ۔
(انل نریندر)
کیا گہلوت اپنی سرکار بچا لیں گے؟
راجستھان میں راجیہ سبھا چناو¿ کے دوران ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کو لیکر شروع ہوئی سیاست نے اب مشکل بڑھا دی ہے۔ خریدو فروخت کے الزام میں تین آزاد ممبران کے خلاف مقدمہ اور دیگر کی گرفتاری کے بعد دن بھر کانگریس بھاجپا میں الزام تراشیوں کا دور چلتا رہا ۔ گہلوت کی کانگریس سرکا ر داو¿پر لگی رہی مدھیہ پردیش کی طرح راجستھان میں بھی ماحول بنانے کی کوشش چل رہی ہے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کو کہ بھا جپا نیتا ان کی سرکار کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انکی حکومت مضبوط ہے اور پانچ سال چلے گی ۔ اور بھاجپا کے مقامی لیڈر اپنی مرکزی لیڈر شپ کے اشارے پر سرکار گرانے اور کمزور کرنے کی سازش تیار کر رہے ہیں اور راجستھان میں بھی مدھیہ پردیش جیسا ماحول بنانے کی کوشش جاری ہے اور کانگریس ممبران کو 25 -25کروڑ روپیے کا لالچ دیا جارہا ہے واضح رہے کہ راجستھان کی 200ممبری اسمبلی میں کانگریس کے101ممبر ہیں جب کی بھاجپا کے 72اور آزاد 13و بسپا 6اور راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے 3 اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی کے 2-2ممبر ہیںجبکہ راشٹریہ لوک دل کے 1ممبر ہیں ۔ گہلوت کا کہنا ہے کی بھاجپا ریاستی صدر ستیس پنیا اور اپوزیشن لیڈر گلاب چند کٹاریا اور راجیندر راتھوڑوزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر سازش رچ رہے ہیں۔اشوک گہلوت کی سرکار کمزور کرنے کے پیچھے بنیادی وجہ ہے نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ کی اہم خواہش وہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں کیونکہ انسے چناو¿ سے پہلے کانگریس نے وعدہ کیا تھا ۔ جو پارٹی میں رسہ کشی کی وجہ سے پورا نہیں ہو پایا ۔ اب خبر ہے کہ بھاجپا نیتا جوتر ادتیہ سندھیا سے سچن پائلٹ کی ملاقات ہوئی ہے کہا جا رہا کہ سچن کے ساتھ 22ممبر اسمبلی ہیں لیکن کانگریس کے ذرائع اسکی تردید کر رہے ہیں سرکار گرانے کے لئے کم سے کم 30ممبران کی ضرورت ہو گی 8درکار ممبران کو بھاجپا توڑ سکتی ہے اگر گہلوت سرکار گرتی ہے تو اسکی سب سے بڑی وجہ کانگریس ہائی کمانڈ ہوگا نہ کی بھاجپا ۔اتنے وقت میں وہ گہلوت پائلٹ کو جھگڑے کو دور نہیں کرسے اشوک گہلوت سرکار نے اس کرونا دور میں قابل قدر کام کیا ہے راجستھاں ماڈل کی تعریف ساری دنیا میں ہو رہی ہے دیکھنا اب یہ ہے کی سیاست کے پرانے ہوشیار کھلاڑی گہلوت اپنی سرکار کو بچا پاتے یا نہیں ؟
(انل نریندر)
12 جولائی 2020
کیا آئی پی ایل اس برس ہوگا ؟
بی سی سی آئی کے چئیرمین سوربھ گانگولی کی پہلی ترجیح بھارت میں آئی پی ایل کا انعقاد کرانا ہے انہیں امید ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں سے وابسطہ تشویشات کے باوجود 2020میں اس لبھاو¿ میں ٹی ٹوئنٹی لیگ کا انعقاد ہوگا یہ بہت مقبول کھیل ہے ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل کا انعقاد 29مارچ کو ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی بیماری کے سبب اسے بے میعاد کیلئے ملتوی کر دیاگیا ۔سابق ٹیم انڈیا کے کپتان نے کہا کہ کرکٹ کا عام حالات میں لوٹنا اہم ترین ہے اور آئی پی ایل کو لیکر کوئی بھی فیصلہ بین الاقوامی کونسل ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بعد ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا انعقاد اکتوبر نومبر میں آسٹریلیا میں ہونا ہے کرکٹ شائقین کیلئے یہ اچھی خبر ہے کہ انگلینڈ میں ویسٹ انڈیز ،انگلینڈ ٹسٹ سریز کا آغاز ہوچکا ہے ۔آئی پی ایل کا انعقاد دیش سے باہر منعقد کرانے کے متبادل کے بارے میں بی سی سی آئی تلاش کررہا ہے ۔دبئی اور نیوزی لینڈ دو ایسے متبادل ہیں جہاں ستمبر سے نومبر کے درمیان انعقاد کیا جا سکتا ہے پیسے کے سبب ہی متحدہ عرب عمارات سری لنکا ،اور اب نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ نے اپنے یہاں بھی آئی پی ایل کی تجویز بی سی سی آئی کو بھیج دی ہے ۔دراصل آئی پی ایل میں اتنا پیسہ ہے اس کے ناہونے سے سرمایہ کاروں کو کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے کھلاڑی بھی گھر بیٹھے بیٹھے اتاولے ہو رہے ہیں اور ہی بات ناظرین کی وہ تو میدان میں پھر سے کرکٹ دیکھنے کے لئے پریشان بیٹھے ہیں دیکھتے ہیں بی سی سی آئی اور آئی سی سی کیا فیصلہ کرتا ہے ۔شروعات تو ہوگئی ہے انگلینڈ بنا م ویسٹ انڈیز میچ کھیلا جائیگا ۔
(انل نریندر)
رپورٹ :سونا پہلی بار 50ہزارتک پہونچا !
کورونا وائرس سے پیدا غیر یقینی ماحول می سب سے محفوظ سرمایہ کا ذریعہ سونا بتایا گیا ہے سونے کے بھاو¿ آسمان چھو رہے ہیں بدھوار کو عالمی سطح پر نیویارک میں سونے کا بھاو¿ 0.05فیصد کی تیزی کے سبب 2011کے بعد پہلی بار 1810.80ڈالر فی اونس تک اچھلا ۔پچھلے نو برسوں میں پہلی بار 1800ڈالر فی اونس کی اونچائی کو توڑا ۔کوڈیما کموڈٹی کے ڈائرکٹر اجے کوڈیما نے بتایا کہ سونے کے اس وقت سارے اثرات موجود ہیں اکوٹی بازار میں اتار چڑھاو¿ سے درکار مانگ بھی تیزی سے بڑھی ہوئی ہے اس سے دیوالی تک بھاو¿ ایم سی ایکس پر 53ہزار روپئے کے اسٹنڈرڈ کو توڑ سکتا ہے دہلی کے صرافہ بازار میں سونا بھاو¿ بدھوار کو 723روپئے کی بڑھت کے ساتھ بند ہوا اور 49ہزار آٹھ سو انٹھانوے فی دس گرام رہا حالانکہ چاندی ایک سو چار روپئے ٹوٹ کر پچاس ہزار چار سو سولہ روپئے فی گرام رہ گئی ۔بدھوار کو ڈالر کے مقابلے روپیہ نو پیسے ٹوٹ کر 75.02روپئے پر بند ہوا ۔ماہرین نے کہا کوڈ 19-کے بحران کے بعد سے لوگ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے پر پیسہ لگا رہے ہیں کیونکہ سونے کا بھاو¿ مسلسل بڑھ رہا ہے کورونا اور لاک ڈاو¿ن سے معیشت بحران میں نظر آئی اس سے سونے کے دام میں دوبارہ تیزی آئی ۔بھارت چین میں کشیدگی بڑھنے سے بڑی ابھرتی معیشت ایک نئی چنوتی میں گرتی نظر آرہی ہے سرمایہ کار مشکل وقت کے لئے سونے میں پیسہ لگا رہے ہیں پچھلے ایک سال میں 56فیصدی ریٹرن دیا ہے ۔سونے میں پچھلے چھ مہینوں کے اندر 25فیصدی سے زیادہ اضافہ سونے کے دام میں ہوا ہے ۔وقت اچھا ہے سونے پر پیسہ لگانے کے لئے ۔
(انل نریندر)
جذبہ ،حوصلہ بلند!106برس کی عمر میںکورونا پر جیت
دہلی میں کورونا کا قہر بڑھتا جا رہا ہے وہیں اس سے ٹھیک ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے کہا جاتا ہے کہ بچوں اور بزرگوں کو خاص دھیان رکھنا چاہیے کیونکہ یہ وبا ان پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے لیکن حال ہی میں دہلی میں دو تین مریض ایسے ٹھیک ہوئے ہیں جن کی عمریں 106برس و 90برس اور 87برس کی ہیں دہلی میں 100سے سال سے زیادہ عمر کے ایک بزرگ کورونا سے اپنے بیٹے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے صحتیاب ہوئے ہین ۔دلچشپ یہ ہے کہ وہ 1918میں پہلے اسپینش فلو کے وقت 4سال کے تھے ان کے بیٹے کی عمر بھی قریب 70برس ہے ۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ 106برس کے مریض کو حال ہی میں کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی چھٹی دی جا چکی ہے ۔راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال کے ڈاکٹر سو سال سے زیادہ کے شخص کے کورونا وائرس کے تیزی سے ٹھیک ہونے پر تعجب ہے کیونکہ اس وائرس سے انہیں زیادہ خطرہ تھا وہیں دہلی میں 87سال کی خاتون اور الزائمر سے متاثر ان کے 90سالہ شوہر نے کورونا وائرس کو مات دے دی ہے وہ انہیں اسپتا ل سے چھٹی دے دی گئی ہے ۔دہلی میں ٹھیک ہونے کے اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے اس میاں بیوی جوڑے کے دیگر مریضوں کیلئے آشا کی کرن ہے ۔25مئی کو 87سالہ خاتون کو کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا ان کا آپریشن کیاگیاتھا لیکن اس سے پہلے ان کی کووڈ جانچ کی گئی تو وہ کورونا متاثر پائی گئیں اور ان کے شوہر کو بھی انفیکشن پایاگیا اس کے بعد انہیں اندر پرست اپولو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا دس دنوں میں ان کی صحت میں بڑی زبردست بہتری آئی جب مہیلا جانچ میں انفیکشن نہیں پایاگیا تو ان کا کامیاب آپریشن کیا گیا ۔ہڈی کے سینئیرڈاکٹر سرجن بھتندر کھربندا نے بتایا کہ زیادہ عمر کے کورونا سے کئی بیماریوں سے متاثر لوگوں کو کوڈ سے زیادہ خطرہ ہے اور اسی وجہ سے بزرگوں کی سب سے زیادہ موتیں ہوئی ہیں اس لئے اس خاتون کو ہلکے اثرات تھے لیکن ان کی کئی بیماریوں کو دیکھتے ہوئے ہر منٹ نظر رکھنا ہمارے لئے اہم تھا ایسے معاملوں میں مریض ٹرامہ میں بھی جا سکتا ہے ۔جس سے ان کے ٹھیک ہونے کے کی کاروائی پر اثر پڑتا ہے حالانکہ سبھی پریشانیوں سے پارپاتے ہوئے ان میاں بیوی جوڑے کو 22جون سے چھٹی دے دی گئی ۔جاکو راکھے سائیاں مار سکے نا کوئی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...