Translater

14 اپریل 2020

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کو بڑھایا !

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)آج کل امریکی صدر ٹرمپ کے نشانے پر ہے ۔ڈبلیو ایچ او کو پوری طرح سے چینی کنٹرول والا قراردیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا اس عالمی ادارے نے کورونا وائرس کے آغاز میں غلط صلاح دیکر عالمی بیماری بنا دیا ہے ۔امریکہ نے الزام لگایا کہ کوروناکو لیکر دی گئی طالبان کی ابتدائی وارننگ کو نظر انداز کرکے ڈبلیو ایچ او نے عوامی صحت پر سیاست کو ترجیح دی ۔تائبان نے بھی اس مسئلے پرایک مشترکہ قومی ادارے کیطرف سے کی گئی تنقید پر ناراضگی ظاہر کی ہے ٹرمپ نے ٹوئیٹ میں کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے انفکشن کو پھیلا دیا ہے ۔کچھ اسباب سے اسے امریکہ سے سب سے زیادہ چین سے مدد ملتی ہے اس لیے وہ پوری طرح چین کے قبضے میں ہے ہم اس معاملے کو اچھی طرح سے دیکھیں گے ۔خوش نصیبی سے میں نے ان کی شروعاتی دور میں چین کے ساتھ لگی اپنی سرحدیں کھلی رکھنے کی صلاح کو مسترد کر دیا تھا آخر انہوں نے ہمیں غلط صلاح کیوں دی ۔ٹرمپ کابیان ایسے وقت آیا ہے جب پوری دنیا میں دیش ڈبلیو ایچ او کے رول پر نکتہ چینی کررہا ہے اس عالمی ادارے پرچین کی طرف داری کرنے کے سنگین الزام لگ رہے ہیں اس کے چلتے ہی کورونا کے انفکشن نے عالمی وبا کی شکل اختیار کر لی ہے ۔حالانکہ اسی دن امریکہ نے بھی چین کے دورے پرپابندی لگا دی تھی ۔اس کے باوجود امریکہ میں اس وبا سے اکیلے ہزاروں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور جاری ہے کوروناوائرس نے پوری دنیا میں امریکہ کو متاثر کیا ہے وہ ایسا پہلادیش بن گیا ہے جہاں ایک دن میں دو ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے اور اب تک 18ہزار 7سو اسی لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جب میں نے دورائے چین پر پابندی لگائی تھی تو وہ اس سے متفق نہیں تھے وہ غلط تھے ان کے پاس پہلے ہی اس وبا کے بارے میںجانکاری تھی ۔اگر وہ چاہتے تو مہینوں پہلے اس کے بارے میں بتا سکتے تھے ۔
(انل نریندر)

پشتینی پیشہ چھوڑ سبزی بیچنے پر مجبور!

کوروناوائرس کے قہر کے سبب دیش میں لاک ڈاو ¿ن کی پوزیشن ہے ۔اس حالت میں لوگ اپنے پشتینی پیشے کو چھوڑ کر طرح طرح کے دھندے کرنے پر مجبور ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کاپیٹ پال سکیں چاہے نائی ہو یادھوبی یاموچی ہو یا حلوائی ہو اپنے کئی استادوں کو زندگی گزر بسرکرنے کے لیے سبزی بیچنے کاکام کرنے پر مجبور کردیاہے۔دیش کے ہر حصے میں تقریباً یہی حالت ہے ۔لاک ڈاو ¿ن ہونے سبب اوپر دیے گئے پیشوں کی دکانیںبند ہو گئی ہیں جس کے سبب ان کے خاندان کے سامنے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے ۔اس طرح چلانے پر توازن بٹھا نے میں ماہر ہاتھ اور کپڑے پر پریس کرتے وقت چوکس دماغ اور نوکیلے اوزار سے اپنے فن کو نئی شکل دینے والے تجربہ کارہاتھوں سے لذیذکھانے تیار کرنے والے باورچی آج سبزی لیکر ٹھیلے پربیچ رہے ہیں ۔انتظامیہ کی سختی سے ناصرف سڑکیں سنسان ہیں بلکہ مندر مساجد ،گرجہ گھر ،اور گردواروں میں بیرانی چھائی ہوئی ہے ۔جو کسان پھولوں کی کھیتی کیا کرتے تھے ان سے کوئی پھول خریدنے والانہیں ہے ۔اس بارے میں دہلی میں سبزی بیچ رہے ایک شخص نے بتایاکہ وہ پیشہ سے تو نائی ہے لیکن سڑک کے چورواہے پر کرسی نہیں لگاپارہاہے۔ایسے ہی دھوبیوں اورموچی نے اور حلوائی اور کواڑی اوررکشاچلانے والوں نے بھی اسی طرح کی کہانیاں بتائی ہیں ۔ایسے ہی درجی اور مچھلی مرغا کا کاروبار کرنے والے بھی اب نئے پیشے کی تلاش میں لگ گئے ہیں تاکہ گزر بسرکر سکیں آئی پی ایکشن کے ایک اپارٹمنٹ میں ایک ضروری چیز منگانے کے لیے فون نمبر کی لسٹ دی ہے ۔اور ان فون نمبروں سے سامان منگایا جا سکتا ہے ۔قریب پندرہ بیس سال سے یہاں سبزی بیچنے والے صابرعلی نے بتایاکہ صاحب لوگوںکو کوئی دکت ناہواسی لیے سب کے پاس ٹیلی فون نمبر ہے اور وہ فون کرتے ہیں ہم سامان لا دیتے ہیں ۔جس میں خاص طور پر سبزی ،بریڈ انڈا پھل دودھ دہی وغیرہ سامان منگاتے ہیں وہ بھی پہونچادیتا ہوںآخر یہاںکافی عرصے سے دوکان لیے بیٹھے ہیں اسی لیے مدد تو کرنی ہی چاہیے ۔پولیس والے بھی کہہ رہے ہیں کہ جوسامان آپ کے پاس نہیں ہے وہ سامان بھی رکھیے ۔اورآپ کو جتنی دیر دوکان کھولنی ہے کھولیں ۔صابرعلی نے کہا کہ وہ سینی ٹائز اور وہ ماسک بھی رکھتے ہیں اورسبزی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں ۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2020

نجی لیبارٹریوں میں مفت جانچ کرنے کا سوال!

چونکہ ہر روز کورونا وائرس کے انفیکشن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحقیقات کو تیز کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے نمونے لئے جائیں۔ اس طرح ، متاثرہ افراد کی جلد شناخت ہوجائے گی اور دوسروں میں انفیکشن کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے ل them ان کو الگ تھلگ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ، سرکاری لیبز جیسے نجی لیبز میں کورونا انفیکشن کی تحقیقات کو آزاد کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم وقت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کے روز حکم دیا کہ اب سرکاری لیب کی طرح نجی لیبز میں بھی کرونا انفیکشن مفت ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے کورونا کے علاج اور تفتیش میں مصروف ڈاکٹروں اور عملے کی مناسب حفاظت کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سیکیورٹی کٹس فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اشوک بھوشن اور ایس کے۔ بدھ کے روز رویندر بھٹ کے بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کے سامنے تین درخواستیں تھیں جن میں ڈاکٹروں کی حفاظت اور نجی لیبز میں کورونا کے معائنے کے لئے 4500 روپے فیس لینے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نجی تباہ حالوں کے دوران نجی لیبوں کو 4500 روپے کورونا امتحان فیس وصول کرنے کی اجازت دینا درست نہیں ہے۔ پیسوں کی وجہ سے کسی کورونا تفتیش سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ سرکاری لیبز میں کورونا ٹیسٹنگ مفت کی جارہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ، نیب ایل کے منظور شدہ نجی لیبز میں بھی کورونا امتحان مفت ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نجی لیبارٹریوں کو مفت میں کورونا وائرس کی تحقیقات کی ہدایت کرنے کے بعد ، بہت ساری لیبارٹریوں کو امید ہے کہ حکومت اس کے طریق کار کی وضاحت کرے گی تاکہ وہ ملک میں بڑھتی مانگ کے مقابلہ میں تحقیقات کا کام جاری رکھ سکیں۔ کچھ نجی لیبارٹریوں کے مالکان نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے پاس یہ مہنگا مفت ٹیسٹ لینے کا ذریعہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر ڈانگ لیب کے سی ای او ڈاکٹر امون ڈانگ نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو قبول کرتے ہیں ، جس کا مقصد کوویڈ۔19 تحقیقات کی پہنچ کو بڑھانا اور اسے عام آدمی کے لئے سستی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا ، تاہم ، نجی تجربہ گاہیں بہت ساری چیزوں کے اخراجات طے کرتی ہیں ، جن میں ری ایجنٹس ، ہنر مند کارکنوں کا استعمال اور سامان کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تفتیش میں بھی انفیکشن کے لئے متعدد اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ، جیسے ذاتی حفاظتی سامان ، متعدی نقل و حمل کے طریقہ کار اور صفائی ستھرائی۔ ملازمین کی حفاظت ہر وقت سب سے اہم مرحلہ ہے۔ سخت حقیقت یہ ہے کہ سرکاری لیبارٹریوں کی گنجائش ہر دن ہزاروں افراد کو جانچنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ پھر یہ لیب پورے ملک میں اتنا زیادہ نہیں ہے ، یہ لیبارٹریاں صرف کچھ شہروں میں واقع ہیں۔ لہذا ، دور دراز دیہات اور قصبوں میں لوگوں کی تلاش مشکل ہے۔ ایسی صورتحال میں ، نجی لیبارٹریوں کے تعاون سے تحقیقات کو تیز کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ اور حکومت ہند کی کوششیں کارگر ثابت ہوسکتی ہیں ، تاوقت میں نجی لیب مفت ٹیسٹ دینے پر راضی ہیں۔ جب ان کی روزی روٹی رکے ہوئے ہے تو غریب افراد تفتیش کے لئے اتنی رقم نہیں دے سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

دہشت گرد ت ظیمیں کورو ا کو ایک ہتھیار ب اسکتی ہیں

اقوام متحدہ کے سکریٹری ج رل ا تو یا گتریس ے کہا کہ کووڈ۔19 کی عالمی وبا ے اس کی جھلک دکھائی ہے کہ حیاتیاتی دہشت گردی کا حملہ پوری د یا کو کس طرح تباہ کرسکتا ہے۔ جمہوریہ ڈوس ک کی زیر صدارت ویڈیو کا فر س گ کے ذریعے م عقدہ ایک میٹ گ میں ، ا ہوں ے کہا کہ اگر دہشت گرد ت ظیموں کو اس عالمی وبائی بیماری کا مہلک وائرس پایا گیا ہے ، تو وہ اسے حیاتیاتی دہشت گردی کے حملوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ دہشت گرد ت ظیمیں اس وبا کو ایک موقع کے طور پر دیکھ سکتی ہیں ، جبکہ پوری د یا کی حکومتیں کورو ا وائرس سے مٹ ے پر مرکوز ہیں۔ گتریج کی وار گ سچ ثابت ہو رہی ہے۔ حکومت ہ د اور ریاستی حکومتیں ہ دوستا میں عالمی وبائی امراض کو پھیل ے سے روک ے کے لئے ہر ممک اقدامات کررہی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، کچھ لوگ ا کوششوں کو اکام ب ا ے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرو ا کو مزید پھیلا ے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغربی چمپار (بتیاح) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پ ڈ کمار کے ایک خط کے بعد ا کشاف ہوا ہے کہ سرحد پار سے کچھ لوگ بھارت اور خاص طور پر بہار میں حکمت عملی کے طور پر کورو ا وائرس کے ا فیکش کو پھیلا ا چاہتے ہیں۔ یپال بارڈر کے ذریعے بد ام زما ہ ہتھیار اور جعلی کر سی سمگلر کے ذریعہ بھارت کو متاثرہ کورو ا وائرس بھیج ے کی اطلاع مل ے کے بعد بارڈر آرمڈ فورسز (ایس ایس بی) ے اپ ی تمام فوجیں ہتھیار ڈال دی ہیں۔ وزارت داخلہ کے عہدیداروں ے یہ معلومات جمعہ کو دی۔ ایس ایس بی کے ڈائریکٹر ج رل کمار راجیش چ د کے مطابق ، ہ دوستا اور یپال دو وں سرحدی سلامتی کو یقی ی ب ا ے کے لئے مشترکہ اقدامات کررہے ہیں۔ ا ٹلیج س اطلاعات سے ا کشاف ہوا ہے کہ مختلف ممالک میں کام کر ے والے لگ بھگ 200 ہ دوستا ی پا چ چھ پاکستا ی شہریوں کے ساتھ بارڈر کے اس پار چ دربرسہ اور خائقہ گاوں میں مساجد میں مقیم ہیں۔ اس سے قبل ، مقامی ضلعی ا تظامیہ ے بہار کے مشرقی چمپار ضلع کے رام گڑھ میں ایس ایس بی کی 47 ویں بٹالی کو ایک خط کے ذریعہ مطلع کیا تھا ، کہ سرحد پار سے ملزما کو بھارت میں داخل کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس سپر ٹ ڈ ٹ ے اپ ے خط میں کہا ہے کہ کورو ا کے مشتبہ افراد کو بھارت داخل کرایا گیا ہے۔ ا لوگوں کا مقصد ہ دوستا میں کورو ا ا فیکش پھیلا ا ہے۔ خط کے مطابق ، زلیم مکھیہ امی شخص کو ہ دوستا داخل کرایا گیا ہے۔ خو خوار ہتھیار اسمگلر ہے۔ وہ یپال کے ضلع سرووا تھا ہ کے تحت گاو ¿ں جی ااتھ پور کا رہائشی ہے۔ اس سلسلے میں ، بہار کے ہوم سکریٹری سمیر سبا ی ے کہا کہ تمام کات کی چھا بی کی جارہی ہے۔ وزارت داخلہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ اس خط کے بارے میں ، ایس ایس بی کے ڈائریکٹر ج رل ے بتایا کہ یپال کے ساتھ مل ے والی 1752 کلومیٹر طویل سرحد پر تمام فوجوں ے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ تاہم ، کویوڈ۔19 کی قل و حرکت کو سرحد پار سے روک ے کے لئے ملک میں مکمل لاک ڈاو ¿ کی وجہ سے ب د ہے۔ ا ہوں ے کہا کہ جب تک اس سازش کو بے قاب ہیں کیا جاتا ، تب تک ہم ے تمام فوجوں کو محتاط رہ ے کا کہا ہے۔ فوجیوں سے بھی گشت اور الیکٹرا ک گرا ی میں اضافہ کر ے کو کہا گیا ہے۔

(ا ل ری در)

12 اپریل 2020

لاک ڈاو ¿ن سے پاک ہوئی گنگا !

کوروناوائرس کے بڑھتے انفکشن کو روکتے ہوئے جہاں لاک ڈاو ¿ن ہے وہیں اس کا مثبت اثر ماحولیات پر بھی دیکھنے کومل رہا ہے ۔لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے جہاں ہوا کی کوالٹی میںبہتری آئی ہے وہیں نیلا آسمان نظر آرہا ہے ۔پرندے چہک رہے ہیں چاہے ہریدوار ہو یا ریتی کیش ،گنگا صاف ہوئی ہے یہ پانی پہلے سے چالیس سے پچاس فیصد صاف ہوا ہے ۔لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے دیش میں کارخانے بند ہیں ۔اس وجہ سے گنگا کی پوزیشن میں بہتری دیکھی جا رہی ہے ۔اور گنگا کے آس پاس رہنے والے لوگ خوش ہیں اگر ہریدوار کی بات کریں تو یہاں تیرتھ یاتریوں کی آمد و رفت بند ہو گئی ہے ایسے میں گنگا اشنان اور دیگر رسومات بند ہو گئی ہیں ۔اسی کے ساتھ ٹھوس کچراکم ہونے کی وجہ سے پانی کی کوالٹی بھی بہتر ہوئی ہے ساتھ ہی ہوا میں آلودگی کم ہوئی ہے کارخانوں سے گندی ہوا اور کچرا نکلنا کم ہوگیا ہے ۔آلودگی کے اثر کی وجہ سے کہیں نا کہیں گنگا کے پانی پر اثر پڑتا تھا کیونکہ گنگا میں ہونے والی کل آلودگی میں صنعتوں کی حصہ داری دس فیصد ہوتی ہے اس کے علاوہ دیگراسباب سے آلودہ ہوتی ہے ۔گوروکل کانگڑی کے سابق پروفیسر اور ماحولیاتی ماہر بیڈی جوشی کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ گنگا پہلے کی طرح پھر سے صاف ہو سکتی ہے اس کاجائزہ لیا جارہا ہے اور کچھ دنوںمیں اس کاڈیٹا سامنے آجائےگا کہ گنگا جل میں آلودگی میں کتنی کمی آئی ہے ویسے فوری طور پر گنگا کے جل میں کافی آلودگی کم ہوگئی ہے اورگنگا کاجل نرمل ہوگیا ہے ۔
(انل نریندر)

ہر کسی کے لیے سنجیونی نہیںہائیڈروکسی کلوروکوئین!

کورونا کے دور میں ملیریاکی جس دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو سنجیونی بوٹی مانا جارہا ہے وہ پوری دنیا میں ایک طرح سے دلچشپی کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔اس کااستعمال بہت ہی احتیاط سے کیے جانے کی ضرورت ہے ۔تحقیقی ماہرین اس دوا کو عام جنتا کے لیے کھلے استعمال کی اجازت دینے کو لیکر شش و پنج میں ہیں اسی لیے کچھ دنوں سے تیزی سے بڑھ رہے مریضوں کی تعداد کے باوجود دوا صرف مریضوں کے علاج میں لگے ہیلتھ ملازمین کو ہی دی جارہی ہے ۔دوسروں کے لیے ممنوع ہے ۔انڈین میڈیکل ریسرچ کونسل کے ڈاکٹر رمن گنگا کھانڈیکر کے مطابق اس دوا کے کچھ سائیڈ ایفکٹ بھی ہیں اگرکوئی شخص پہلے سے کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہے تو یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اسی طرح اس کی زیادہ مقدار بھی صحت کو زیادہ نقصان پہونچا سکتی ہے ۔اس لیے اس دوا کی کھلی بکری ممنوع ہے آئی آئی سی ایم آر کورونا وائرس کے خلاف کلوروکوئین کے اثرانداز ہونے کی اسٹڈی کر رہا ہے ۔اور نتیجہ صحیح آنے پر عام جنتا کو بھی استعمال کی اجازت دے دی جائے گی ۔ناک کان کے ڈاکٹر ونو کھنا کے آج تک کوئی وائرس دنیا سے پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے اور مرض سے لڑنے میں تبدیلی کے لحاظ سے کلوروکوین اچھی دوا ہے اور یہ عام طور پہ گلے کی خراش کی عام شکایت پر بھی شخص کو کووڈ19-کا خطرہ لگنے لگتا ہے وہ سات ہفتہ تک اس دوا کولینے پر زور دیتے ہیں ۔وہیں ایک اور ڈاکٹر کل شریشٹھ کاکہنا ہے کہ یہ دوا تین سے چار ہفتہ لی جا سکتی ہے اور معمولی خراش یا کھانسی والے لوگوں کو اس دوا سے بچنا چاہیے اورعمر دراز لوگوں میں اسدوا کا استعمال بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے ۔جیسا اندازہ لگایا جارہا تھا کہ عام ڈاکٹروں کو بیدار کرنے والے ڈاکٹر کے کے اگروال کہتے ہیں کہ لمبے عرصے تک زیادہ دوا لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے لیکن ڈاکٹر کی صلاح سے مناسب مقدار میں لینا حرض نہیں ہے ۔ہائیڈروکسی کلوروکوئین اور اے جی کورومائسین ایکساتھ دینے سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے ۔نتیجہ یہی نکلتا ہے خود علاج کرنے سے بہتر ہوگا کہ ڈاکٹر کی صلاح پر ہی اس دوا کا استعمال کریں ۔
(انل نریندر)

گھریلوتشدد اور لاک ڈاو ¿ن !

یہ بہت دکھ اور پریشانی کی بات ہے کورونا کے بعد لاک ڈاو ¿ن کے دوران گھر میں مار پیٹ کی شکایتوںمیں اضافہ ہواہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 23مارچ سے لاگو لا ک ڈاو ¿ن نافذ ہونے سے لیکر ۲اپریل تک نیشنل وومن کمیشن کو دو سے 56شکایتیں گھریلو ٹارچر ہونے کی ملی ہیں ۔ان مین سے 69شکایتیں گھریلو جھگڑوں کی ہیں ۔جو عورتوں نے کیے ۔کمیشن کا دعویٰ ہے جب سے کورونا کا قہر بڑھا ہے شکایتیں دگنی ہوگئی ہیں ۔حالات اس لیے بھی سنگین ہیں کہ شکایتیں دگنی ہو گئی ہیں ،لیکن اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے۔لیکن اس کے پیچھے کی وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس کورونالاک ڈاو ¿ن کو نافذکرانے اور آگے بھاگے ہوئے مریضوں کے پیچھے لگی ہوئی ہے ۔ایک افسر کے مطابق اگر شکایت پر کاروائی کی جاتی ہے تو معاملہ اورپیچیدہ ہو جائےگا ۔کیونکہ پہلے اسے الٹا یہ دیکھنا ہوگا کہ ملزم کو کورونا تو نہیں ہے ۔اس لیے معاملے کو توجہ نہیں دی جارہی ہے اور پھر ان واقعات میں ملوث لوگوں یاعورتوں کوجیل میں رکھنا مشکل ہے اورپھر عدالتیں بند ہیں ۔وہیں پھر جیلوںمیںسات سے چھ سال کی سزاوالے اورپچاس سال کی عمر سے زیادہ کے قیدیوں کو چھوڑنے پرغور ہو رہا ہے ۔اب بتایے کہ تین سال سے کم کی سزا والے گھریلوں ملزموں کو کیسے سزادی جائے ۔مسئلہ یہ ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کے بعد گھریلو ماریپٹ کا ملزم شوہر یا رشتہ دار اسی گھر میں ایک ساتھ رہنے کو مجبور ہے ۔ایک طرف آفس اور کام دھندے بند پڑے ہیں اس لیے وہ کام پر نہیں جا پارہے ہیں اور چوبیس گھنٹے ساتوں دن ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں جرام قانون کی ماہر ایچ پی شرما کے مطابق گھریلو ماریپیٹ کا معاملہ ایک جرم ہے اس میں کوئی وقت کی حدنہیں ہے ۔جب بھی حالات ٹھیک ہوں گے ۔تب گھریلو مارپیٹ قانون کی دفع 27کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے ۔پچھلے دنوں ڈبلیو ایچ اوکے ڈائرکٹر نے کہا تھا کہ کورونا کے سبب یوروپ میں گھریلو تشدد کے معاملوںمیں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔سماج میں باقاعدہ گھریلو مارپیٹ کی شکار عورتوں کے لیے ہوٹلوں میں انتظام کررکھے ہیں ۔بتادیں دا چائلڈانڈیاہیلپ لائن نمبر پر پچھلے گیارہ دنوںمیں بارہ ہزار کال آئیں جن میں بچوں کو مارپیٹ اور اذیت سے بچانے کی درخواست کی گئی ۔یہ مایوس کن حالات اشارہ کرتے ہیں کہ لاک ڈاو ¿ن کے سبب بہت سے بچے بھی گھر میں عد م تحفظ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔چائلڈ لائن انڈیا کی ڈپٹی ڈائرکٹر ہرلن والیا نے کہا دیش کے مختلف علاقوں سے 20سے 31مارچ کے درمیان چائلڈلائن 298پر تین لاکھ سات ہزار فون آئے جوزیادہ تر بچوں کی شکایتوں سے جڑے ہیں ۔جس میں تشدد اور اذیت سے بچاو ¿ کی مانگ کی گئی تھی ۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...