Translater

19 نومبر 2019

امت شاہ نے مودی- ادھو میں دوری بنائی !

شیو سینا ،بھاجپا کے درمیان 35سال پرانا اتحاد تقریبا ختم سا ہو گیا ہے ،بھاجپا نیتا اس کے لئے شیو سینا کے ایک اہم پہلو مانے جا رہے ہیں ،شیو سینا نیتا اور پارٹی کے اخبار سامنا کے ایگزکیٹو ایڈیٹر سنجے راوت کو خاص طور سے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ،دوسری طرف سنجے راوت اور شیو سینا کے صدر وزیر اعظم نریندر مودی سے اختلافات کے لئے بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ امت شاہ نے پی ایم مودی اور ادھو کے درمیان دوری پیدا کی ہے ،سنجے راوت کا موقوف شیو سینا کو ایسے موڑ کی طرف لے جاتا دکھائی دے رہا ہے جہاں سے بھاجپا کی طرف اس کی واپسی کے امکانات کم ہیں ،اب انہوںنے سیدھے طور پر امت شاہ پر کٹاس شروع کر دیا ہے ۔اپنی اینجیو پلاسٹی کروا کر اسپتال سے لوٹے راوت نے پریس کانفرنس میں پہلی بار امت شاہ پر سیدھا الزام لگایا لوک سبھا چناﺅ سے پہلے ادھو ٹھاکرے اور امت شاہ کے درمیان تنہائی میں ہوئی اتحاد کی شرطوں کو انہوںنے مودی تک نہیں پہنچایا راوت سے یہ بات شا ہ کے اس بیان کے جواب میں کہی کہ شاہ نے صاف کیا تھا کہ ڈھائی ڈھائی سال سی ایم کے عہدے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی ،شاہ کے مطابق چناﺅ کمپین کے دوران انہوںنے اور وزیر اعظم نے سو سے زیادہ بار اتحاد کے اقتدار کے صورت میں دیوندر فڑنیوس کو ہی پھر وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی تھی ،اس وقت شیو سینا نے ایک بار بھی اس کی مخالفت نہیں کی راوت نے شاہ کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شیو سینا صدر ادھو ٹھاکرے بھی اپنی ہر ریلی میں شیو سینا کا وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کرتے آرہے تھے ،بہر حال شیو سینا اور بھاجپا میں چل رہی سیاسی رسہ کشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ،ایک طرف جہاں کانگریس این سی پی ،شیو سینا ،کی سرکار بنتی دکھائی دے رہی ہے وہیں سرکار بنانے سے انکار کے بعد اب بھاجپا بھی سرکار بنانے کا دعوی کرنے لگی ہے ،ایسے میں سابق اتحادی پارٹی شیو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں بھاجپا پر جم کر نکتہ چینی کی ہے ،اس کے ادارے میں لکھا ہے کہ ریاست میں نئے سیاسی تجزیے بنتے دکھائی دے رہے ہیں تو اس سے کئی لوگوںکے پیٹ میں درد شروع ہو گیا ہے ،پارٹی نے کہا ہے کہ کون کیسے سرکار بناتا ہے میں دیکھتا ہوں ،درپردہ طور سے اس طرح کی زبان اور حرکتیں شروع ہو گئی ہیں ،اور شراپ بھی دئے جا رہے ہیں ،کہ اگر سرکار بن بھی گئی تو کیسے اور کتنے دن ٹکے گی دیکھتے ہیں،ایسا مستقبل بھی دکھایا جا رہا ہے ،چھ مہینے سے زیادہ سرکار نہیں ٹک سکے گی ۔شیو سینا نے اپنے تلخ لہجے میں کہا کہ ہم مہاراشٹر کے مالک ہیں اور دیش کے باپ ہیں ،ایسا کسی کو لگتا ہوگا تو وہ اس ذہنیت سے باہر آئے اور ذہنی بیماری 105والوںکی صحت کے لئے خطرناک ہے ،ایسی حالت زیادہ وقت تک رہی تو ذہنی توازن بگڑ جائے گی اور پاگل پن کی طرف سفر شروع ہو جائے گا ،شیو سینا اور بھاجپا میں اتنے اختلافات ہو گئے ہیں کہ پھر ساتھ آنا ممکن تو نہیں مشکل ضرور لگتا ہے لیکن سیاست میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

بھاجپا کے ہاتھ سے کہیں جھارکھنڈ بھی نہ کھسک جائے؟

جھارکھنڈ میں این ڈی اے کو بچائے رکھنے کے لئے استعمال تمام فارمولے ڈھیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔اتحاد ٹوٹ چکا ہے ،بھاجپا آج سو کی راہیں الگ الگ ہو رہی ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیاں اس پھوٹ کا ٹھیکرا اپنے سر لینے کو راضی نہیں جمعرات کو آج سو نے دھار شیلا سے کانگریس کے سابق صدر بلبومو پردیپ سمیت چھ امیدواروں کی ایک فہرست جاری کر بھاجپا کو ایک اور جھٹکا دے دیا ہے ،اِدھر آجسو سے چوٹ کھائی بھاجپا نے پلان بی پر عمل شروع کر دیا ہے ،خاص بات یہ ہے کہ سیٹیوں پر بھاجپا اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے ۔اب دونوں پارٹیوں میں اتحاد تو با قاعدہ طور سے ختم ہو گیا ہے ،مگر دونوں اس کے اعلان سے بچ رہی ہیں ۔آج سو کی تازہ فہرست کے بعد اب کل 19سیٹوں پر پارٹی نے امیدوار اُاتا ر دیے ہیں اب بھاجپا آج سو پندرہ سیٹوں پر آمنے سامنے ہو گئی ہیں ۔ان میں تیرہ سیٹوں پر سیدھا مقابلہ ہے ،جبکہ دو سیٹوں پر دونون آزاد امیدواروں کو اپنی حمایت دی ہے ،آج سو نے حالانکہ اب تک یہ صاف نہیں کیا ہے کہ ہو کل کتنی سیٹوں پر چناﺅ لڑے گی؟مانا جا رہا ہے کہ ابھی پارٹی اور امیدواروں کی بھی فہرست جار ی کر سکتی ہے ،اُدھر جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ مدھو پوڑا کو سپریم کورٹ نے ریاستی اسمبلی چناﺅ لڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ،2009کا لوک سبھا چناﺅ لڑنے کے خرچ کی تفصیل داخل نہ کرنے پر چناﺅ کمیشن نے 2017میں مدھو کوڑا کو 3سال کے لئے چناﺅ لڑنے سے نا اہل قرار دے دیا تھا ۔اب سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل ٹھہرائے جانے کے فیصلے پر مہرلگا دی ہے ،ہریانہ اور مہاراشٹر میں سیٹیں کم ہونے کے بعد بھاجپا کو جھارکھنڈ بھی ہاتھ سے کھسکنے کا ڈر ستانے لگا ہے ،پارٹی کے اندرونی سروے میں سیٹیں کم ہونے کی بات ابھر کر سامنے آئیں ہیں،وزیر اعلیٰ رگھور کی شخصی ساکھ کو دو بڑے داغی نیتاﺅں کو ٹکٹ دینے اور 19سال پرانے دوست آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے سے پارٹی کو نقصان ہونے کا امکان ہے اس کے بعد پارٹی صدر امت شاہ نے خود کمان سنبھال لی ہے ،اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ آجسو سے ٹوٹی بات پھر سے بن جائے ۔چناﺅ کے وقت بھاجپا اندرونی سروے کراتی ہے اسی حساب سے چناﺅ کی حکمت عملی بنتی ہے اور حالیہ ممبران اسمبلی ،وزراءکے ٹکٹ کاٹتی ہے ،اس بار چھ مہینے اور اب چناﺅ کے وقت کرائے گئے سروے میں فرق آگیا ہے ،بھاجپا کے ذرائع کے مطابق پارٹی کو 2104کے چناﺅ کے مقابلے میں کم سیٹیں مل رہی ہیں ۔پچھلی بار 81نفری اسمبلی میں بھاجپا نے 44سیٹیں اور آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین (آجسو )نے صرف تین سیٹیں جیتیں تھیں چناﺅ کے دوران ایک کرپٹ نیتا اور قتل کے ملزم کو ٹکٹ دینا بھاجپا کو بھاری پڑ رہا ہے ،جبکہ آجسو نے بھاجپا سے 19سیٹیں مانگی تھی ،لیکن بھاجپا دس کو تیار تھی اس سے ناراض ہو کر آجسو نے اپنے امیدوار اعلان کر دئے اور اکیلے چناﺅ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ،امت شاہ نے منگل کے رو ز آجسو صدر سدیش مہیتو کو دہلی بلایا اور دیر رات تک بات چیت کی ذرائع کا دعوی ہے کہ مہتو دس سیٹوں پر چناﺅ لڑنے کو تیار ہو گئے ہیں ،وہیں لوگ جن شکتی پارٹی نے پچھلی مرتبہ بھاجپا کے ساتھ مل کر چناﺅ لڑا تھا ۔لیکن اس بار وہ بھاجپا سے الگ وہ گئی ہے ،ہریانہ مہاراشٹر کے بعد اگر جھارکھنڈ بھی بھاجپا کے ہاتھ سے کھسک جاتا ہے تو یہ پارٹی کے لئے بھاری دھکہ ہوگا۔

(انل نریندر)

17 نومبر 2019

کسانوں سے زائد یومیہ اجرت مزودر خودکشی میں لگے

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی جولائی ستمبر میں جی ڈی اضافی شرح گھٹ کر 4.2فیصد پر آنے کا اندیشہ ہے ۔بھارتیہ اسٹیٹ بینک کی اقتصادی ریسرچ محکمہ کی رپورٹ نے اکنامی ریپوریٹ نے یہ اندازہ لگایا ہے ترقی شرح میں گراوٹ کے لئے بینک نے گاڑیوں کی فروخت میں کمی اور بنیادی سیکٹر میں اضافی شرح اور تعمیراتی و بنیادی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔آٹھ اہم سیکٹروں میں سے آٹھ سال میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے ۔نوٹ بندی ،جی ایس ٹی کی زیادہ مار دیہاڑی مزدوروں پر پڑی ہے سال 2016میں ریکارڈ 25164دیہاڑی مزدوروںنے خود کشی کی تھی یہ اعداد و شمار 2014سے 60فیصد زیادہ ہیں جب یومیہ اجرت والے 15737خود کشی کے معاملے درج ہوئے تھے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 2016میں کسانوں کے مقابلے دیہاڑی مزدوروں کے خود کشی کے دوگنے معاملے سامنے آئے 11379کے مقابلے میں 25164دیہاڑی مزدوروں نے خود کشی کی تھی ،حالانکہ کسان خود کشی کا 2016کا ریکارڈ 2014کے 12360معاملے سے کافی کم ہے دو سال دیر سے جاری یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔2016میں گھریلو عورتوں کی خود کشی کے معاملے 2014میں 20148سے بڑھ کر 21563ہو گئے ،دوسری بار گرہستنوں کے مقابلے دیہاڑی مزدوروں کی خود کشیاں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں ۔جے این یو کے غی منظم امور کے ماہر پروفیسر انیتا رائے چودھری نے دعوی کیا ہے کہ دیہاڑی مزدوروں کی بدحالی کے لئے غیر زرعی سیکٹر کے نرماتا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں 2014اور 2015میں مسلسل دو سال سوکھا پڑنے غیر زرعی سیکٹر میں مزدوروں کی آمد بڑھ گئی اس کا سیدھا اثر نہ صرف مزدوری بلکہ کام کرنے کی آسامی پر بھی پڑا ڈاکٹر رائے چودھری کہتی ہیں کہ سماجی محنت فورس سروے ریکارڈ میں سال 2004سے 2011اور 17تک کے درمیان بھارت نے دیہاڑی مزدوروں کے اضافے پر کمی ہونے کا دعوی کیا یہ بھی دیہاڑی مزدوروں کی بڑھتی خود کشیوں کی وجہ ذمہ دار ہو سکتی ہے پھر دہلی این سی آر میں ہوائی آلودگی کی سبھی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تعمیراتی کاموں پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔جس وجہ سے اس سیکڑ میں استعمال ہونے والی مشینوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے کام بند ہوگئے ۔اس سے دہلی ،غازی آباد ،نوئیڈا ،گریٹر نوئیڈا ،سونی پت گرور گرام ،فریدآباد وغیرہ شہروں میں بڑی تعداد میں مزدور بے روزگار بیٹھے ہیں ۔اور ان مزدوروں کو دیہاڑی کی تلاش نے سڑکوں پر چوراہوں پر بٹکتے دیکھا جا سکتا ہے ۔یہ لوگ دیہاڑی مزدوری کام نہ ملنے سے پریشان ہیں اور غازی آباد میں بڑی تعداد میں مزدور گھر لوٹنے لگے ہیں ۔یہ سبھی کے لئے خاص طور پر حکومتوں کے لئے تشویش کا باعث ہے ۔

(انل نریندر)

سوت نہ کپاس،جولاہے سے لٹھم لٹھا!

سوت نہ کپاس ،جولاہے سے لٹھم لٹھا کی کہاوت ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کے سلسلے میں صحیح نظر آتی ہے ،کیونکہ ابھی مشکل سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سات آٹھ دن بھی نہیں گزرے کہ ابھی سے رام مندر ٹرسٹ میں جگہ پانے کے لئے سنتوں میں جھگڑا چھڑ گیا ہے ۔مرکزی حکومت جہاں عدالت کے حکم پر ٹرسٹ کو لے کر ابھی غور و فکر میں لگی ہے وہیں ایودھیا میں سنتوں کے درمیان نیا واویلا کھڑا ہو گیا ہے ۔اس واویلے کی بنیاد رام جنم بھومی نیاس کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کی طرف سے دیا گیا بیان آیا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ نئے ٹرسٹ کی ضرورت نہیں ہے پہلے سے ہی پرانا ٹرسٹ بنا ہوا ہے ۔جس میں کچھ لوگوں کو شامل کر کے معاملے کو آگے بڑھایا جائے ان کے اس بیان کے برخلاف وشو ہندو پریشد لیڈر شپ نے یہ کہہ کر معاملے میں پینچ پھنسا دیا کہ رام جنم بھومی نیاس کی پراپرٹی رام مندر تعمیر کے لئے تشکیل ہونے والے ٹرسٹ کو سونپی جائے گی وی ایچ پی نے یہ مانگ بھی رکھ دی ہے کہ اسے یا نیاس کے عہدیداران کو ٹرسٹ میں جگہ ملے یا نہ ملے رام مندر تحریک میں اہم رول نبھانے والے دھرماچاریوں کو ترجیح ضرور دی جائے ۔اس درمیان اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہی ٹرسٹ کا چیر مین بنانے کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے ۔اسی کے چلتے خود ساختہ صدر کا خواب سجانے والے سنتوں کی بے چینی بڑھ گئی ہے انہیں میں ایک سابق ایم پی مہنت ڈاکٹر رام ولاس داس ویدانتی بھی شامل ہیں ۔ویدانتی نے تپسوی چھاونی کے جانشین کے چہیتے پرم ہنس داس کو فون کر کے ان سے ٹرسٹ کے لئے ان کا نام تجویز کرنے کو کہا ہے اس بات چیت کا آڈیو وائرل ہو چکا ہے ۔اس میں پرم ہنس داس نے خود کہا کہ صدر کو کئی نازیب باتیں کہیں گئی ہیں ۔آڈیو کو ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل نے دکھا بھی دیا ہے اُدھر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر بھوک ہڑتال کرنے والے تپسوی چھاونی کے جانشین مہنت پرم ہنس داس پر شری رام جنم بھومی نیاس کے پردھان مہنت نرتیہ گوپال داس کے سادھوں نے جمعرات کو حملہ کر دیا ۔اپنے آشرم کے کمرے میںچھپے ہونے کی وجہ سے وہ بچ گئے لیکن ناراض سادھوں نے ان کا گھر گھیر لیا اور کھڑکی دروازے توڑنے کی کوشش کی اس دوران موجود پولس افسران نے ناراض سادھوں کو سمجھا بجھا کر دور ہٹایا ،اور پرم ہنس داس کو گھر سے محفوظ باہر نکالا اور دوسری جگہ لے گئے ۔واضح ہو کہ ایک دن پہلے ہی پرائیوٹ نیوز چینل پر پرم ہنس داس نے مہنت نرتیہ گوپال داس پر نازیب تبصرہ کیا تھا ۔اس کے چلتے ان کے وفاداروں میں خاصی ناراضگی تھی پولس کی لاپرواہی سے ان کا غصہ بھڑک گیا ،اِدھر واردات کی جانکاری ملنے کے بعد سی او ایودھیا سریش پانڈے بھاری پولس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے ،پرم ہنس داس کے گھر سے باہر نکلتے ہی ناراض سادھو لاٹھیاں لے کر پرم ہنس داس کے پیچھے دوڑے اور پولس کی بریگیٹنگ نہیں توڑ سکے جیسا کہ میں نے کہا کہ سوت نہ کپاس جولاہے سے لٹھم لٹھا ہے کہ نہیں ؟ابھی ٹرسٹ بنا نہیں اس میں بالا دستی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔

(انل نریندر)

16 نومبر 2019

اسپیکرس کے آئینی فرائض !

کرناٹک کے دل بدلوﺅں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریاست کا سیاسی ڈرامہ دلچسپ موڑ لے چکا ہے ۔سپریم کورٹ نے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے سابق اسپیکر کے فیصلے کو تو برقرار رکھا لیکن بے معیاد ان ممبران اسمبلی کو چناﺅ لڑنے پر اسپیکر کی روک کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے پابندی ہٹا دی ہے اب وہ پانچ دسمبر کو ہونے والا ضمنی چناﺅ لڑ سکتے ہیں ۔ریاست میں سترہ میں سے پندرہ سیٹوں پر ضمنی چناﺅ ہو رہے ہیں کیونکہ دو سیٹیں مسکیں اور راجیشوری سے متعلق عرضیاں کرناٹک ہائی کورٹ میں التوا میں ہیں ۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے ریاست کی حکمراں پارٹی بی جے پی کی پریشانی ضرور بڑھنے والی ہے دراصل ڈرامائی موڑ کے تحت کچھ مہینے پہلے اپنے ہی ممبران اسمبلی کے ذریعہ پالا بدلنے سے کانگریس اور جے ڈی ایس کی اتحادی حکومت گر گئی تھی اور وزیر اعلیٰ اسمبلی میں اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ،اس کے بعد وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے استعفی دے دیا تھا ۔اسپیکر نے سترہ ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا تو بی جے پی نے آسانی سے سرکار بنا لی ۔ہوا یوں کہ ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے بعد 24ممبری اسمبلی میں ممبروں کی تعداد گھٹ کر 207رہ گئی جبکہ حکومت کے لئے 104ممبر درکار ہوتے ہیں ۔بھاجپا کے پاس 106ممبروں کی حمایت تھی جس میں اس کے صرف 105اور ایک دوسرے ممبر اس کا ساتھ تھا اس لئے سرکار بنانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ کرناٹک کی موجودہ اسمبلی کی پوری میعاد یعنی 2023تک ان ممبران کے چناﺅ لڑنے پر روک کے اسپیکر کے حکم کو اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ آئین کے تقاضوں کے مطابق اسپیکر کے پاس اس کا حق نہیں ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ نا اہلیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوبارہ ہونے والے چناﺅ میں لڑنے سے نا اہل ممبران کو روکا جائے سپریم کورٹ نے بدھوار کو کہا کہ سیاسی پارٹیوں کی خرید و فروخت اور کرپٹ کلچر میں ملوث ہونے کے علاوہ اسپیکرس بھی غیر جانبدار رہنے کے آئینی فرائض کے خلاف کا م کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔جسٹس ایس وی رمن اور جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس کرشن مراری کی بنچ نے کہا کہ اسپیکر سے غیر جانبدار شخص ہونے کی وجہ سے اس سے توقع کی جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی چلانے اور عرضیوںپر فیصلہ لیتے وقت وہ آزادانہ طریقہ سے کام کریں گے ۔عدالت نے کہا کہ اسپیکر س کو سونپی گئی آئینی ذمہ داری کا ایمانداری سے تعمیل ہو اور انصاف کرتے وقت اس کی سیاسی وابستگی آڑے نہیں آسکتی عدالت نے کہا کہ اسپیکر اپنی سیاسی پارٹی سے خو دکو الگ نہیں کریں گے اور غیر جانبدار اور آزادانہ ہو کر کام کرنے کے جذبے کے مطابق برتاﺅ نہیں کریں گے تو ایسا شخص عوامی اعتماد کے لائق نہیں ہے یہی نہیں اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ممبران اسمبلی نے جس طرح سے سپریم کورٹ کا رخ کیا عدالت نے اس کی بھی نکتہ چینی کی لہذا سیاسی نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر فیصلے کو کیا جائے عدالت کے اس تبصرے کی روشنی میں دیکھنا چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں میں آئینی آخلاقیات کی کمی ہے ۔اور حکمراں اور اپوزیشن میں رہنے پر اس کا برتاﺅ میل نہیں کھاتا ۔

(انل نریندر)

آئینی جمہوریت میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں !

سپریم کورٹ نے خو دکے بارے میں تاریخی وقار قائم کیا ہے،قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے ۔یہ تبصرہ عدالت نے ایک ایسے معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے کیا جس میںاس کے چیف جسٹس کا دفتر کو بھی آر ٹی آئی یعنی اختلاط حق قانون (آر ٹی آئی)کے دائرے میں لانے کی مانگ کی گئی تھی ۔چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی پانچ نفری ججوں کی آئینی بنچ نے بدھوار کو فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت سی جی او کا دفتر پبلک اتھارٹی ہے ،اس نے یہ بھی آگاہ کیا کہ اس کو نگرانی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا جب بھی صاف گوئی کی بات ہوگی اس وقت عدلیہ آزادی کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا بنچ نے یہ بھی کہا کہ آئینی جمہوریت میں کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں ہے ۔اور جج بھی اس سے الگ نہیں ہیں۔سی جی آئی دفتر کو یہ بتانا ہوگا کہ کالیجیم کے ذریعہ ججوں کی تقرری کے لئے کن ناموں پر غور کیا گیا ۔اور اس کے پیچھے کیا بنیاد تھی ؟اس کا خلاصہ نہیں کیا جاسکتا حالانکہ یہ عام انتظام ہے ،کہ آئین اور قانون کی کسوٹی پر دیش کے سبھی شہری اور پورے سسٹم کو چلانے والا ہر ایک شخص برابر ہے ۔بھلے ہی وہ کتنے ہی اونچے عہدے پر یا اہم ترین شخصیت کیوں نہ ہو ،مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ معاملوں میں محض تصور اور رائج روایات کی وجہ سے کسی شخص یا عہدے کو لے کر رعایت کا نظریہ اپنایا جاتا ہے ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے آفس کو آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں لایا جاے یا نہیں اسی نظریہ کی وجہ سے کئی برسوں سے شش و پنج یا غور کا موضوع بنا ہوا تھا ،لیکن بدھ کے روز سپریم کورٹ کی پانچ نفری آئینی بنچ نے یہ صاف کر دیا کہ بڑی عدالت کے چیف جسٹس کا دفتر اب آر ٹی آئی کا قانون کے دائرے میں آئے گا اس سے نہی صرف جوابدہی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عدلیہ کی مختاری بھی مضبوط ہوگی یہ بھی سچ ہے کہ پچھلے برسوں کے دوران ایسے بھی سوال اُٹھے ہیں کہ کچھ معاملوں میں آر ٹی آئی کو ہتھیار کی شکل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔اسی کے پیش نظر عدالت نے آگاہ کیا کہ عدلیہ کے معاملے میں آر ٹی آئی کے ذریعہ جانکاری مانگی جاتی ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہوگا ۔اس کا استعمال نگرانی رکھنے کی ہتھیار کی شکل میں نہیں کیا جا سکتا ۔اور شفافیت کے معاملے پر غور کرتے وقت اور عدلیہ کی آزادی کو ذہن میں رکھنا ہوگا ،کیونکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا آفس کچھ شرطوں کے ساتھ ہی اطلاعات حق قانون کے دائرے میں آئے گا۔اس لئے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس سے کیا جانکاری حاصل کی جاسکتی ہے اور کیا نہیں ؟امید تو یہی ہے کہ اس فیصلے کا اثر کالیجیم کے کام کاج میں صاف ستھر ابناے گا بلکہ جج صاحبان کی تقرری اور ترقی و تبادلے کے معاملے میں بھی کارروائی سے متعلق اطلاع دینے کے سوال کو بحث کا موضوع مانا گیا ہے یہ فیصلہ ایک ضروری پیغام دیتا ہے کوئی بھی کہیں اور بھی اور یہاں تک کہ بڑی عدالت کے جج بھی قانون سے اوپر نہیں ہو سکتے ۔

(انل نریندر)

15 نومبر 2019

اب موڈیز نے بھارت کی ریٹنگ نگیٹیو دکھائی

بین الا اقوامی کریڈیٹ ریٹینگ ایجنسی موڈیز نے بھارت کو جو آئینہ دکھایا ہے وہ دیش کی معیشت پر زبردست چوٹ ہے اور جو بات ہم کہتے رہے ہیں دیش کی معیشت کی حالت بہت نازک ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے اقتصادی مندی کو لے کر بڑھتی تشویشات اور قرض کی بنیاد کو دیکھتے ہوئے موڈیز نے بھارت کی ریٹنگ اسٹیبل سے گھٹا کر منفی کر دی ہے ،موڈیز کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے بھارت کی گروتھ رفتار مزید گرنے کا امکا ن ہے ،کارپوریٹ ٹیکس میں کٹوتی اور جی ڈی پی گروتھ کی دھیمی رفتار کو دیکھتے ہوئے موڈیز کا اندازہ ہے کہ مارچ 2020میں ختم ہوئے مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.7فیصد رہ سکتا ہے جس کا نشانہ 3.3فیصد تھا اکتوبر مسلسل بھارت کی ریٹنگ گراتا چلا آرہا ہے۔اکتوبر 2019میں موڈیز نے جی ڈی پی گروتھ کا اندازے کو گھٹا کر 5.8فیصد کر دیا تھا پہلے اس نے 6.2فیصد کا اندازہ ظاہر کیا تھا اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کی نیگیٹو ریٹنگ کے مطابق ہندوستان کی معیشت کی حالت تسلی بخش نہیں ہے اور معیشت کو لے کر طویل عرصے سے جو اندیشات بڑھ رہے تھے اور وقتا فوقتا ملک و بیرون ملک کے ماہرین اقتصادیات اور بین الا اقوامی مالی ادارے جس طرح سے آگاہ کر تے رہے ہیں موڈیز کی ریٹنگ ایک طرح سے اس پر مہر ہے ۔اس نے اقتصادی حالت کی کمزوری کی جو بڑی وجوہات پیش کی ہیں ان میں اقتصادی مندی بڑھتی بے روزگاری کئی خاندانوں پر اقتصادی دباﺅ غیر بینکنگ مال کمپنیوں میں بڑھتا نقدی بحران وغیرہ شامل ہیں موڈیز نے سب سے زیادہ تشویش اس بات کو لے کر جتائی ہے کہ اقتصادی مندی سے نمٹنے کے لئے سرکار نے پچھلے کچھ مہینوں میں جو قدم اُٹھائے ہیں وہ کارگر ثابت ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔اس سے آنے والے دنوں میں بھارت کے اقتصادی پس منظر کو لے کر جو تصویر ابھرتی ہے وہ بڑے خطرے کی طرف اشارہ ہے اس سے اقتصادی ترقی کے نچلے معیار پر بنے رہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ہندوستانی معیشت میں مندی کے اثرات سال بھر پہلے ہی نظر آنے لگے تھے لیکن حکومت نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے جب اس مالی سال کی پہلی سہہ ماہی (اپریل جون)کے لئے جی ڈی پی کے اعداد و شمار آئے تو پتہ چلا کہ جی ڈی پی اضافہ گھٹ کر 6سال میں کم از کم سطح پر پہنچ گیا کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے یہ ساکھ طے کرتے وقت سب سے پہلے ریٹنگ ایجنسیاں اصلاحات کے لئے اُٹھائے گئے قدموں اور دیش میں موجودہ اقتصادی حالات پر سب سے زیادہ غورکرتی ہیں حالانکہ بھارت سرکار ابھی سے اسے عارضی مان کر چل رہی ہے لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ یہ دور جلد ختم ہونے والا نہیں ہے دیش میں سرمایہ اور کھپت اور بچت کا جو توازن بگڑ گیا ہے اس سے نمٹنے کے قدم سرکار کو دکھائی نہیں دے رہے ہیں جب دیش ودیش میں بھارت کی اقتصادی ساکھ خراب ہوگی تو سرمایہ لگانے والا آئے گا کون؟کام دھندے تبھی چلیں گے اور روزگار تبھی ملے گا جب ملک میں سرمایہ کاری ہوگی اور وہ ہو نہیں رہی ہے۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...