Translater

10 نومبر 2019

وزیر اعلیٰ روپانی کےلئے خریدا گیا 191کروڑ کا نیا جہاز

دیش تو اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے اور صنعتی پیداوار میں گراوٹ جاری ہے بے روزگاری کی وجہ سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے اور اس میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نئے جہاز خرید رہے ہیں حکومت گجرات نے وزیر اعلیٰ وجے روپانی اور دیگر اہم شخصیتوں جیسے گورنر نائب وزیر اعلیٰ کے لئے 191کروڑ روپئے کا نیا جہاز خریدا ہے اس کی کارروائی پچھلے پانچ سال سے التوا میں تھی جو آخر کار پوری ہو گئی ہے ۔اس مہینے کے تیسرے ہفتے میں یہ جہاز آجائے گا ۔وزارت شہری جہاز رانی کے حکام نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے لئے موجودہ جس جہاز کا استعمال ہوتا ہے وہ 20سال پرانا ہو چکا ہے اس لئے نیا خریدا گیا ہے ۔محکمے کے ڈائرکٹر کیپٹن اجے چوہان کے مطابق نئے جہاز کی ڈیوری کے بعد مختلف ضروری کارروائی پوری کی جائے گی ۔اس کے دو مہینے بعد اس جہاز کا استعمال شروع ہو جائے گا ۔حال ہی میں وزیر اعلیٰ کے لئے سپر کنگ جہاز کا استعمال ہو رہا ہے جو کم دوری کے راستے کے لئے قابل استعمال ہے ۔جبکہ نیا جہاز لمبی پرواز کر سکتا ہے ۔بومب واڈئر یہ کناڈا کے یویک صوبے میں واقع جہاز کی کمپنی ہے اب تک اس نے چیلنجر سریج کے کل 11سو جہاز بنائے ہیں ادھر پی ایم مودی کے لئے بھی ایک اسپیشل جہاز بن رہا ہے ۔اب یہ خاص جہاز ائیر انڈیا کا نہ ہو کر ائیر فورس کا ہو سکتا ہے اس جہاز کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر کسی میزائل کا اثر نہیں ہوتا ۔پردھان منتری کے لئے ملنے والا یہ جہاز جون 2020تک بھارت آجائے گا ۔جو انڈین ائیر فورس کے بیڑے میں شامل ہوں گے نہ کہ ائیر انڈیا کو ملیں گے ۔اس میں اینٹی میزائل تکنیک لگی ہوگی ۔ایک خبر کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ بوئنگ 747-200Bجہاز کا استعمال کرتے ہیں اس کے بعدا ب بھارت کے وزیر اعظم کے لئے بھی بوئنگ 777-300EI جہاز لانے کی تیاری تیز ہو گئی ہے اس کی خرید کے پیچھے اہم وجہ یہ ہے کہ اس کا استعمال وزیر اعظم نریندر مودی صدر رامناتھ کووند ،نائب صدر وینکیا ءنائیڈو کریں گے ابھی تک یہ لوگ ائیر انڈیا کے بوئنگ جہاز استعمال کرتے تھے سیکورٹی کے معاملے میں یہ جہاز امریکہ کے صدر کے جہاز کی معیار کے برابر ہوگا ۔اس کی خاص بات یہ ہوگی کہ ایدھن بھرنے کے بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان سفر کو آسانی سے طے کر سکے گا ۔اس میں دو میزائل ڈیفنس سسٹم ہوں گے جو امریکہ بیچنے کے لئے راضی ہو گیا ہے۔اینٹی میزائل تکنیک کو نئے جہاز میں لگانے کے لئے قریب 19کروڑ ڈالر کا سمجھوتہ کیا گیا ہے ۔یہ ہیں بھارت کے 
حکمرانوں کے ٹھاٹھ۔
(انل نریندر)


کھاتہ داروں کو بینکوں میں اپنا پیسہ غیر محفوظ لگنے لگا

بینکوں میں دھوکہ دھڑی کے معاملے میں اتنی تیزی آئی ہے کہ آئے دن اخباروں میں خبریں آتی رہتی ہیں کہ آج فلاں بینک میں دھوکہ دھڑی کا معاملہ روشنی میں آیا ہے حال ہی میں سی بی آئی نے کناٹ پلیس میں قائم اورینٹل بینک آف کامرس اور راجیندر پلیس میں واقع آندھرا بینک میں 363.72کروڑ روپئے کے گھوٹالے کے سلسلے میں کرول باغ کے لال سنس جویلرس او ر شری ناتھ رولرس ملز کے سرمایہ کاروں اور گارنٹروں سمیت بینک کے نا معلوم افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپئے کے گھوٹالے میں شامل لال سنس جوئیلرس کے تار دبئی کے جڑے ہیں اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق اورینٹل بینک آف کامرس کے ڈی جی ایم راجیو کمار کی طرف سے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا تھا کہ کرول باغ ریگر پورہ میں واقع لال سنس جویلرس کے سرمایہ کار سونے کے کاروبار سے وابسطہ ہیں سال 1994میں کمپنی نے مشین سے زیور بنانے شروع کئے بینک کی طرف سے کمپنی کو سول بینکنک کے تحت قرض کے لئے کئی طرح کی سہولیات دی جا رہی تھیں ۔بینک نے کمپنی کو کل 222.96کروڑ روپئے کا قرض دیا تھا جو واپس نہیں لوٹایا ۔سی بی آئی کو جانچ کے دوران پتہ چلا کہ کروڑوں کے اس گھوٹالے میں لال سنس کی دبئی میں کمپنی پاسی جوئیلرس کے درمیان ساٹھ گانٹھ ہے،گھوٹالے میں دونوں کمپنیوں کے سرمایہ کاروں اور نامعلوم بینک کے کام کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔آج ہر شخص اپنے پیسے بینک میں رکھنے سے ڈرا ہوا ہے ۔یہ فطری ہے کہ پورا دیش چاہتا ہے کہ دھوکہ دھڑی پر لگام لگے اور بینک کے ملازمین قانون کے شکنجے میں آئیں ۔سی بی آئی نے حال ہی میں جعلسازی کے معاملے میں ایک ساتھ قریب 175مقامات پر دیش بھر میں چھاپہ مارا تھا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں جو سبھی معلومات سامنے آئیں ہیں اس میں 2018-19میں جعلسازی کے تقریبا سات ہزار معاملے سامنے آئے ۔اور 72ہزار کروڑ روپئے کا گھپلہ ہوا اے ٹی ایم اور کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ پیسہ نکال لینے سے لے کر سیدھا کھاتے تک سے پیسہ غائب ہو رہا ہے ۔ایسے معاملے روزناہ سننے پڑنے کو ملتے ہیں ۔قرض کے نام پر لیا گیا پیسہ اسکا کیا ہوا پتہ نہیں یہ کام بینک حکام کی ملی بھگت سے ممکن ہے ۔کچھ ایسے معاملے بھی سامنے آئے ہیں بینک کے حکام نے ڈیڈ اکاﺅنٹ سے بھی موٹے پیسے نکال لئے ۔بھارتیہ ریزرو بینک نے قائدہ بنا لیا ہے کہ کسی کھاتے سے دھوکہ دھڑی سے پیسے نکالے ہیں تو متعلقہ بینک اتنا ہی پیسہ جمع کرئے گا ۔لیکن یہ آسان ہے مگر اس کی خانہ پوری میں برسوں لگ جاتے ہیں اور بینکوں کو یہ پیسہ لوٹانے میں کھاتے داروں کو کافی چکر لگانے کے بعد ملتا ہے ۔لیکن زیادہ تر نہیں یہ صورتحال بدلنی چاہیے آج ہر شخص کے لئے اپنا جمع پیسہ بینک میں رکھنا ضروری ہے ان کے پیسے کی حفاظت بینکوں کی ذمہ داری ہے ۔اس لئے سرکار کے سامنے وقت پر سیکورٹی کا جائزہ لینا چاہیے لوگوں میں جو خوف پیدا ہو گیا ہے کہ آج بینکوں میں ان کا پیسہ کھویا تو نہیں یہ ڈر دور ہونا چاہیے ۔

(انل نریندر)

09 نومبر 2019

مدھیہ پردیش میں بھاجپا کو ایک اور جھٹکا

بارہ دن پہلے جھابوا اسمبلی ضمنی چناﺅ میں ملی کراری شکست کے بعد ریاستی بھاجپا یونٹ کو ایک اور جھٹکا لگا ہے تحصیلدار سے مار پیٹ اور بلوے کے معاملے میں بھوپال کی اسپیشل عدالت کے ذریعہ پوئی سیٹ سے بھاجپا کے ممبر اسمبلی پرھلاد لودھی کی ممبرشپ اسمبلی نے ختم کر دی ہے ،اور ساتھ ہی نوٹیفیکشن کی کارروائی کر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو پووئی سیٹ خالی ہونے کی اطلاع بھی بھیج دی ہے ۔جمعرات کو عدالت نے لودھی کو دو سال کی سزا سنائی تھی ،اس فیصلے کی کاپی اسمبلی سیکریٹریٹ کو پہنچی جہاں اسپیکر این پی پرجا پتی نے کورٹ کے فیصلے کی تعمیل میں پرھلاد لودھی کی ممبر شپ ختم کر دی ہے ،لودھی نے اس فیصلے کو تانا شاہی بتایا اور کہا کہ مجھے اس کی کوئی خبر نہیں اور اس فیصلے کو بڑی عدالت میں چیلنج کروں گا ،پرھلاد لودھی نے بتایا کہ میں نے ضلع پنچایت ممبر کا چناﺅ لڑا تو مجھے مکیش نامی شخص نے روکا اور جیتنے پر کانگریسوں نے ٹرک چڑھا کر میرے قتل کی کوشش کی ۔یہ بدلے کی کارروائی تھی آج تک مجھے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا کورٹ نے مجھے ضمانت بھی دے دی 12دسمبر تک ہائی کورٹ جانے کی چھوٹ دی گئی ۔لیکن اس کے پہلے ہی سازش کے تحت میری ممبر شپ ختم کر دی گئی جنتا میرے ساتھ ہے ۔پووئی میں میرے علاوہ کوئی نہیں جیت سکتا جس کو میں جتواﺅں گا وہی جیتے گا ،اور ممبر اسمبلی میرا ہی بنے گا اور میں ہی ایم ایل اے بنوں گا کورٹ سے انصاف مانگوں گا ،وہیں دہلی اسمبلی کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگان ایکٹ 1951کی دفعہ (3)میں صاف لکھا گیا ہے کہ اگر کسی نمائندے کو دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوتی ہے تو وہ نا اہل ہو جائے گا ،پرہلاد لودھی کی ممبر شپ ختم ہونے کے بعد بھاجپا اور کانگریس نے ٹکراﺅ ہو گیا ہے وزیر اعلیٰ کملناتھ نے کہا کہ ابھی دو تین سیٹیں اور کانگریس کے پاس آئیں گی ،15سال سے بھاجپا نیتاﺅں کے کارنامے سامنے آرہے ہیں ،ابھی تو اور آئیں گے دوپہر قریب پونے دو بجے سابق وزیر اعلیٰ شری راج سنگھ چوہان نے پریس کانفرنس بلائی اور کہا کہ کانگریس جو ہتھکنڈے اپنا رہی ہے بھاجپا کا منھ توڑ جواب دے گی انہوںنے عوامی نمائندگا ایکٹ کی جس دفعہ 191کے تحت سیٹ خالی گئی اس کا حق اسمبلی اسپیکر کو ہے ہی نہیں یہ اختیار تو گورنر کا ہے ،سیاسی فائدہ کے لئے یہ فیصلہ دیا گیا ہے ۔واضح ہو کہ 2017میں سپریم کورٹ کے ذریعہ عوامی نمائندگا ن قانون کی دفعہ 8(4)کو منسوخ کیا جا چکا ہے شری راج جی آپ قانون اور کورٹ کے حکم پر ضمیر سے کام لیجئے فی الحال تو بھاجپا کو مدھیہ پردیش میں جھٹکا لگ ہی گیا ہے ،اور کملناتھ اور طاقتور ہو کر نکلے ہیں ۔

(انل نریندر)

کرتارپور کوریڈور پاکستان کا ماسٹر اسٹروک

گورو نانک دیو جی کے 550ویں پرکاش پرب کے موقع پر کرتارکوریڈور کا آغاز ہونا سکھ شردھالووں کے لئے ایک تاریخی موقع ہوگا جہاں سکھوں کی شردھا میں ایک نیا جوش آئے گا وہیں بھارت کو اس میں تھوڑی احتیاط برتنی ضروری ہوگی ،اس تاریخی موقع پر بھی پاکستان اپنے ہتھکنڈوں سے بازنہیں آیا،کرتارپور صاحب گلیارے کے آغاز کو لے کر جاری ویڈیو میں پاکستان نے مر چکے خالستانی آتنکی جرنیل سنگھ بھنڈرا نوالے اور اس کے دو ساتھی میجر راہبیگ سنگھ اور امریت سنگھ خالسا کے پوسٹر دکھائے گئے اس کو لے کر بھارت میں تنازعہ کھڑا ہونا فطری تھا ،یہ ویڈیو حالانکہ کچھ سیکنڈ کا ہے لیکن اس میں تینوں خالستانی آتنکیوں کے پوسٹر میں ان کو ہیرو کی طرح دکھایا گیا ہے ،پنجاب کے وزیر اعلیٰ کپیٹن امریندر سنگھ اور وزارت خارجہ نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔پاکستان کی اس حرکت کو لے کر ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا کہ پاک حمایتی خالستانی آتنکی گروپوں کی سرگرمی کو لے بھارت چوکس ہے ،ویڈیو کے اشو پر سیاسی چینل کے ذریعہ اعتراض درج کرایا گیا ہے ،پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے پاکستان پر حملہ بولا وہ اس بارے میں پہلے ہی دن سے آگاہ کرتے آرہے ہیں کہ یہ پاکستان کا پوشیدہ ایجنڈا ہے ۔پاکستان کے وزیر اطلاعات ونشریات کی طرف سے جاری ویڈیو میں کئی سکھ شردھالو پاکستان کے کرتارپور صاحب میں جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔کہ 180ایکڑ کے قریب زمین پر بنایا گیا گورو دوارہ عالی شان ہے اس کو بنانے میں یا اس کو نئی شکل دینے میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس کے پیچھے ایک بہت اہم وجہ ہے یہ کوریڈور پاکستان کے لئے کشش کے نظریہ سے ایک ماسٹر اسٹروک کہا جا سکتا ہے۔کرویڈور کے کھلنے پر روزانہ پانچ ہزار شردھالو آئیں گے بعد میں یہ یومیہ دس ہزار تک بڑھانے کی اسکیم ہے ،یہاں ملک و بیرون ملک سے شردھالوں کا آنا ہوگا پاکستان ہر مسافر سے 2سو ڈالر فیس لے رہا ہے یعنی تقریبا پندرہ سو روپئے اس طرح یومیہ پاکستان کی کمائی 75لاکھ روپئے ہوگی اور تعداد بڑھنے سے آمدنی دوگنی ہو جائے گی ،پورے سال میں تقریبا 2737500سالانہ ہوگی ۔اب دس ہزار شردھالو آئیں گے تو یہ تقریبا54کروڑ روپئے سے زیادہ ہو جائے گی اس سے پاکستان کے خستہ مالی حالت پر فرق پڑئے گا ان کی تو معیشت ہی سدھر جائے گی آگے چل کر ہوٹل ،ریستوریٹ ،ڈھابے ،گائیڈ ،سروس کے علاوہ پاکستانی سامان کی بکری ہوگی اب خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے لئے کرتارپور کوریڈو ر کتنا اہم ترین ثابت ہوگا بی ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں کرتارپور کے آس پاس جگہوں پر تار باڑ لگا دئے ہیں ،کیونکہ اس علاقہ کو آتنکی ٹرینگ کیمپ کی شکل میں نشان زد کیا ہے ،رکھلاس پور اور شکور گڑھ میں آتنکیوں کی باقاعدہ سرگرمیاں ہونے کی اطلاع ہے خفیہ ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ میں ڈیرہ بابا نانک کے آس پاس آتنکوادیوں کی گھس پیٹھ کی بات کہی ہے ،جہاں پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ پاکستان کی منشاءکے تئیں درخواست کر رہے ہیں کہ ایسے میں پاکستان کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے بھارت کو چوکس اور ادھیہ مولیہ انتظام رکھنے کی بھی ضرورت ہے ،واہے گرو مہر کریں ۔

(انل نریندر)

08 نومبر 2019

آربی آئی بتائے کھاتہ داروں کی مدد کےلئے کیا قدم اُٹھاے؟

ممبئی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ریزرو بینک آف انڈیا سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس نے گھوٹالے کی مار جھیل رہے پنجاب اینڈ مہاراشٹر کواپریٹیو بینک (پی ایم سی)اکاونٹس ہولڈروں کے مفادات کی حفاظت کے لئے کیا قدم اُٹھائے ہیں ؟جسٹس ایس سی دھرم اھیکاری اور جسٹس آر آئی چھاگلہ کی بنچ نے بینک کے کھاتے داروں کی جانب سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے ۔ان کھاتے داروںنے آر بی آئی کی پیسہ نکالنے کی حد کو چیلنج کیا ہے واضح ہو کہ آر بی آئی نے پی ایم سی بینک میں مبینہ مالی دھاندھلی کے سامنے آنے کے بعد نقد نکالنے سمیت دیگر پابندیاں لگائی تھیں ۔سب سے پہلے آر بی آئی نے چھ مہینے کے لئے محض ایک ہزار روپئے کی حد طے کی تھی جسے بعد میں بڑھا کر 10ہزار اور پھر اور بڑھا کر 40ہزار روپئے کیا گیا تھا ،بنچ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ آر بی آئی نے اس معاملے میں کیا قدم اُٹھایا ہے ؟عدالت کا کہنا تھا کہ آر بی آئی کو اس بینک کے سبھی کاموں کی جانکاری ہے آر بی آئی بینکوں کا ہیڈ بینک ہے اور اس طرح کے اشوز کے لئے ایک اسپیشل باڈی ہے ہم آر بی آئی کے لئے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے اور نہی ہی ان کے افسران کو کم کرنا چاہتے ہیں ،عدالت نے کہا کہ اس طرح کے مالی گھوٹالوں میں آر بی آئی ہی جج ہوگا ،نہ عدالت عدالت نے سارے معاملے پر آر بی آئی کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے ،او ر اگلی سماعت 19نومبر کی تاریخ پر طے کی ہے ،اس لئے اس نے کسی طرح کی انترم راحت دینے سے انکا رکر دیا ۔ایک عرضی گزار نے عدالت سے اپنے گراہکوں کو اپنے لاکروں کا استعمال کی اجازت دینے کے لئے آر بی آئی کو ہدایت دینے کی مانگ کی ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ کسی طرح کا حکم دینے سے ہم لاکر تک پہنچ کا حکم نہیں دے سکتے ہم یا پھر کوئی بھی آر بی آئی کو کارروائی کرنے سے کیسے روک سکتا ہے ؟اگر آر بی آئی کہتا ہے بینک سے دور رہیں تو ایسا ہی کریں عدالت نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کھاتے دار اگر چاہیں تو بینک پر مقدمہ کر سکتے ہیں ،بنچ کا کہنا تھا کہ وکیلوں کو کھاتے داروں کو جھوٹی امید نہیں جتانی چاہیے ،عدالت اس کی مدد کرئے گی ۔جسٹس دھرم ادھیکاری نے کہا کہ عدالت جادوگر نہیں ہے اور وہ کھاتے داروں کو جھوٹی امید نہ بدھائیں ،تازہ وقعہ میں آر بی آئی نے کھاتے داروں کو تھوڑی راحت دیتے ہوئے اپنے بینک کھاتے سے چھ مہینے میں پچاس ہزار روپئے نکالنے کی اجازت دے دی ہے اب موجودہ وقت میں یہ حد چالیس ہزار روپئے تھی ۔

              (انل نریندر)

پولس بنام وکیل ٹکراﺅ انتہائی افسوسناک!

دہلی کی تیس ہزاری عدالت کمپلیکس میں پارکنگ کو لے کر ایک وکیل اور کچھ پولس والوں کے درمیان ہوئے جھگڑے نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے وہ بے حد باعث تشویش اور انتہائی افسوسناک ہے ،جن وکیلوں پر قانون کا بچاﺅ کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے انہوںنے جس طرح سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حوالات کا دروازہ توڑ کر پولس ملازمین پر حملہ کیا اور گاڑیوں کو توڑ پھوڑ اور جلایا ان کے اس عمل کو جائز نہیں مانا جا سکتا تو دوسری طرف پولس ملازم جس طرح سے ہزاروں کی تعداد میں پولس ہیڈ کوارٹرکے باہر دھرنے پر بیٹھے وہ بھی نا قابل فراموش قدم تھا ،اس طریقہ سے دھرنے پر بیٹھنا شاید پولس کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے قانون کی حکمرانی کے لئے یہ اچھا نہیں ہوا کہ دیش کی راجدھانی میں وکیلوں اور پولس کے درمیان اس طرح کا ٹکراﺅ ہو اور قانون کے محافظ اور قانون کی تشریح کر نے والے ہی اگر آپس میں اس ڈھنگ سے مار پیٹ کرنے لگیں تو عام آدمی کے لئے قانو ن کے راج کی پوزیشن کیا ہوگی ؟وکیل کو قانون کا دانشور طبقہ مانا جاتا ہے جس طرح سے وکیلوں نے تشدد اور بد امنی کا مظاہرہ کیا پولس والوں کو پیٹا سرکاری املاک کو نقصان پہچانے کا جو منظر پیش کیا اس میں کہیں بھی نہیں لگ رہا تھا کہ بھارت کا ایک ذی شعور اور با اثر طبقہ ہمارے سامنے ہے ،اور پولس کی غلطی بھی تھی تو اس کا بھی ازالہ نہیں ہو سکتا دوسری طرف پولس کا کہنا ہے کہ اس نے خود کا بچاﺅ کرنے کے لے فائرنگ کی تھی جس میں کچھ وکیل زخمی ہوئے ہیں اس کا نوٹس خود ہائی کورٹ نے لیا ،سوال یہ ہے کہ جب دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی تھی تو عزت مآب ہائی کورٹ کا صرف ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دینا سمجھ سے باہر ہے اس واقعہ کے احتجاج میں ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد بھی وکیلوں نے دہلی کی عدالتوں میں کام کاج کا بائکاٹ کیا ،ساکیت کورٹ کے باہر ایک موٹر سائکل سوار پولس والے کو پیٹا اس سے بھی لگتا ہے کہ وکیلوں اور پولس کے درمیان یہ تلخی کسی چنگاری کا اشارہ تھی ،حالانکہ بار کونسل آف انڈیا کے چیرمین نے وکیلوں کی انجمنوں کے نام خط جاری کر غنڈہ گردی کرنے والے وکیلوں کی شناخت کرنے کی درخواست کی ہے ،اور دہلی پولس کمشنر نے اپنے پولس ملازمین سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کو مانا اور ہڑتال ختم کر دی ،بھارت میں بہت سے ایسے موقع آئے ہیں جب پولس اور وکیلوں میں ٹکراﺅ ہوئے ہیں اور بد قسمتی سے ہر بار ان واردات کے لئے پولس والے ہی قصوروار ٹھہرائے گئے انہیں سزا بھی بھگتنی پڑی چاہے وہ معطلی یا برخاستگی کی شکل میں ہو ۔لیکن کسی بھی وکیل کو ان کے عمل کی سزاہوئی ہو تو شاید ہی اس کی مثال ملے ذرا سوچیئے ایک بدمعاش اس طرح پولس کو پٹتا دیکھے گا تو اس پر کیا اثر پڑے گا بلکہ پولس کا رعب بھی اس کے دماغ سے نکل جائے گا ؟اگر کل کو جرائم پیشہ یا شرپسند عناصر کا گروپ پولس ٹیم پر حملہ کرنے لگے تو قانون کا نظام کی کیا پوزیشن ہوگی ؟بے شک پولس کا برتاﺅ کبھی کبھی صحیح نہیں ہوتا لیکن سوچیئے اگر پولس حفاظت نہ کرئے تو جنتا کا کیا ہوگا؟پورے شہر میں بد امنی پھیل جائے گی ،لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس بار وکیلوں کی طرف سے پہل ہوئی آپ طاقت کی بنیاد پر پولس والے کو پیٹنے لگ جائے یہ کون سا برتاﺅ ہے ؟پولس کا سڑکوں پر اترنا اچھی بات نہیں اگر پولس کو ہی تحریک چلانی پڑے تو قانو ن و نظام کی حفاظت کون کرئے گا ؟دہلی پولس کمشنر کی اپیل پر بے شک پولس والے کام پر آگئے ہیں لیکن اس واقعہ نے ٹکراﺅ جیسا موڑ لے لیا ہے اس میں اتنا ہی کافی نہیں ہوگا کہ حقیقت میں وقت رہتے ذرا سی سمجھداری دکھائی گئی ہوتی تو یہ ٹکراﺅ اتنا خطرناک موڑ نہ لیتا ،اگر وکیلوں نے جہاں اسے ساکھ کا سوال بنا لیا ہے تو پولس بھی اپنے عزت سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے ،اس سے تو اس بات کی ضرورت ہے کہ وزیر داخلہ سارے معاملے میں براہ راست مداخلت کریں اور دونوں فریقین میں سمجھوتہ کرایا جانا چاہیے ،یہ کام اب کسی اور کے بس میں نہیں ہے ۔وکیلوں او ر پولس کی دلیل آمیز مطالبات پر سنجیدگی سے غو رکرنا ہوگا ،دیش کی راجدھانی میں یہ واقعہ ساری دنیا نے دیکھا اور دیکھ رہی ہے ،یہ نہ تو ہمارے قانون نظم کے لئے ٹھیک ہے اور نہ ہی دنیا کے سامنے کوئی اچھی تصویر پیش کر رہی ہے ،ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ وکیل برادری اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور کسی بھی صورت میں ان کاایسا برتاﺅ قبول نہیں ہو سکتا ،صاف ہے کہ قانون بغیر کسی خوف کے اپنا کام کرئے تو ہی دیش ،دنیا میں صحیح پیغام جائے گا۔

(انل نریندر)

07 نومبر 2019

ٹرمپ کےخلاف تحریک ملامت کارروائی کا آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر تنازعات میں پھنستے نظر آرہے ہیں ،امریکی پارلیمنٹ ہاﺅ س آف نمائندگان نے جمعرات کے روز صدر ٹرمپ پر تحریک ملامت (مقد مہ) کارروائی شروع کرنے کو با قاعدہ منظوری دے دی ہے ،ایوان نے اسے 196کے مقابلے 232ووٹ سے منظوری دی ،ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوںنے اپنے حریف سابق نائب صدر جوئے بیڈن اور ان کے لڑکے کے خلاف یوکیرن کی گیس کمپنی بریشا میں بے بنیاد بد عنوانی کی جانچ کے لئے یوکرین صدر پر دباﺅ ڈالا تھا اگلے مرحلے میں ہاﺅس آف انٹیلی جینس کمیٹی میں معاملے کی سماعت ہوگی ،اس میں گواہ اور دستاویزی ثبوت پیش ہوں گے ،اور ریپبلیکن ممبران کو چیلنج دینے کی اجازت ملے گی ،پھر معاملہ ہاﺅ س آف جوڈیشل کمیٹی کو جائے گا جہاں ٹرمپ ثبوتوں کو چیلنج کر سکیں گے ٹرمپ کے خلاف اگر ثبوت ہوئے تو کمیٹی با قاعدہ طور پر الزام اور تحریک ملامت سے متعلق آرٹیکل طے کرئے گی جس پر پورا ایوان ووٹ کرئے گا ،اکثریت کے خلاف رہنے پر سنٹ میں ٹرمپ پر مقدمہ چلے گا ،مقدمے کے بعد سنٹ ٹرمپ کو قصوروار قرار دے کر بر خاست کرنے کے لئے ووٹ ڈالے گی ،یہ کارروائی دسمبر تک پوری ہو سکتی ہے ،ڈیموکریٹس کے اکثریت والی ایوان نمائندگان میں الزامات کو منظوری مل جائے گی لیکن آگے سنٹ میں ریپبلکین پارٹی کی اکثریت ہے ،اگر ٹرمپ پر تحریک ملامت کا مقدمہ چلا تو وہ امریکہ کی تاریخ میں تیسرے صدر ہوں گے چونکہ 1968میں انڈریو جانسن جبکہ 130سال بعد 1998میں بلکنٹن کے خلاف مونکا لمسکی جنسی استحصال معاملے میں تحریک ملامت کا مقدمہ چلا تھا ،دونوں ہی صدر برخواستگی سے بچ گئے تھے اور اپنی معیاد پوری کی تھی ،حالانکہ صدر کے خلاف تحریک ملامت مقدمہ کی کارروائی اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کے کئی مرحلوں سے گزرتے ہوئے آخری مرحلے تک پہنچ کر پاس ہونا کافی مشکل ہوگا ،لیکن امریکی صدارتی چناﺅ کے درمیان یہ اشو تو اُٹھ ہی جائے گا 8صفحات کی تجویز میں زیادہ تک پبلیک جانچ کرنے اور اہم رول کانگریس کی خفیہ معاملوں کی کمیٹی کے چیف ایڈم رکف کو دینے کی بات کہی گئی ہے ،وائٹ ہاﺅس کی ترجمان اسے قاعدوں کو در کنا رکر لائی گئی تجویز کہہ کر خارج کر رہی ہیں ،یہ تو فطری ہے کہ کہ وائٹ ہاﺅ س نے چیر مین رکف پر لگاتار امریکی عوام سے جھوٹ بولنے اور دو مرحلوں میں یکطرفہ سماعت کر جوڈیشل کمیٹی کے لے طرفداری پر مبنی رپورٹ تیار کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ،ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے اس طرح اپنے عہدے کا بے جا استعمال کیا ،اور ان کے خلاف ان کی حریف پارٹی حملہ آور ہوئی ہے دراصل ٹرمپ نے اپنے عہد میں ایسے بہت سے قدم اُٹھائے ہیں جو امریکی روایت کے خلاف مانے جاتے ہیں ،ان کے فیصلوں سے کئی ایسے ممالک کے ساتھ امریکی رشتے خراب ہوئے ہیں جو پہلے ان کے دوست ملک ہوا کرتے تھے ،اور جن کے خلاف امریکہ سخت فیصلے سے بچتا رہا ہے ،ٹرمپ اگلے چناﺅ میں اپنا پڑلہ بھاری بنائے رکھنے کے لئے بے شک کوشش کر رہے ہیں لیکن تحریک ملامت(مقدمہ)چلانے سے متعلق تجویز کا ان کے سیاسی زندگی پر برا اثر ضرور ہوگا۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...