Translater

29 اپریل 2018

موت کے یہ ریلوے پھاٹک

صاف ستھری دھلی یونیفارم پہن کر پیٹھ پر بستہ اور ہاتھ میں پانی کی بوتل لیکر اپنے گھروں سے اسکول کے لئے نکلے یہ نونیہال کچھ ہی دیر میں خون سے لت پت بے جان پڑے تھے۔ بچوں کے ماں باپ پر تو دکھ کا پہاڑ ہی ٹوٹ گیا۔ موقعہ پر پہنچے ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ 13 اسکولی بچے اسکول کے بجائے موت کے دروازے پر پہنچ گئے جب ایک پسنجر ٹرین اترپردیش کے ہدرواہ میں بغیر پھاٹک والی کراسنگ پر ان بچوں کی اسکول وین کو ٹکر ماری اور معصوموں کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔ڈیوائن مشن اسکول میں پڑھنے والے ان بچوں کے اسکول بیگ ،کاپی،کتابیں، پانی کی بوتلیں اور ٹفن ان کے مردہ جسم کے آس پاس بکھرے پڑے تھے۔ ان کی سفید یونیفارم انہی کے خون سے لال ہوچکی تھی۔ صبح قریب 7:15 کا وقت تھا جب یہ حادثہ ہوا۔ اس ٹکر میں ہوئی ان بچوں کی موت مجرمانہ لاپروائی کے ساتھ ہی ادارہ جاتی ناکامی کا بھی معاملہ ہے۔ وین کے ڈرائیور نے کان میں ایئرفون لگا رکھا تھاوہ وہاں موجود چوکیدار کی وارننگ کو نہیں سن پایا۔ اس کے باوجود یہ سچ ہے کہ ایسے حادثوں کے لئے بنا گیٹ مین کے ریلوے پھاٹک کہیں زیادہ ذمہ دار ہے۔ دو سال پہلے جولائی 2016 میں اترپردیش کے ہی بھدوئی میں ایسی ہی ایک اسکول وین بین گیٹ مین کے ریلوے پھاٹک پر ایک ٹرین سے ٹکرا گئی تھی جس میں کئی بچوں کی موت ہوگئی تھی اس وقت بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ اس گاڑی کے ڈرائیور نے بھی گیٹ پہریدار کی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے ریلوے نے جو گیٹ متر تعینات کرنے کا انتظام کیا ہے وہ کارگر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ یہ بھیانک حادثہ بتاتا ہے کہ ریلوے انتظامیہ اور ریاستی انتظامیہ کس قدر اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ وزیر ریل نے پچھلے دسمبر میں راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ اگلے سال یعنی 2018 میں گنیش چترتھی تک سبھی بغیر گیٹ متر کے پھاٹکوں کو ختم کردیا جائے گا لیکن ان بغیر گیٹ متر ریلوے پھاٹکوں پر آئے دن اس طرح کے حادثے ہورہے ہیں اس سے ریلوے انتظامیہ کے دعوے اور وعدوں پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ سال2012ء میں انل کاکودر کمیٹی نے پانچ سال کے اندر سبھی بغیر گیٹ متر پھاٹوں کو ہٹانے کو کہا تھا۔ دوسری طرف ریلوے کا کہنا ہے وہاں تعینات کراسنگ متر نے اسکول وین کو روکنے کو کہا لیکن اس کا ڈرائیور ایئرفون پر گانا سن رہا تھا اس لئے وین کو نہیں روکا اگر واقعی ایسا ہے تو دیش بھر کے اسکولوں کے لئے یہ حادثہ ایک سبق ہونا چاہئے کہ وہ ڈرائیوروں کو اس کے لئے سخت احکامات دیں کہ گاڑی چلاتے وقت ایئر فون کا استعمال نہ کریں۔ آخر کار ایک لاپرواہی نے اتنے نونیہالوں کو حادثے میں چھین لیا۔ حالانکہ سچائی کا پتہ تو جانچ رپورٹ کے بعد ہی چلے گا۔ ایسے حادثوں سے نمٹنے کے لئے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے سیٹیلائٹ پر مبنی چپ سسٹم بنایا ہے جو ان ریلوے پھاٹکوں پر لوگوں کو آگاہ کرے گا۔ پھاٹک سے قریب 500 میٹر پہلے سائرن بجنے لگے گا اور پھاٹک کے قریب لوگ چوکس ہوجائیں گے لیکن ریلوے اسے کب استعمال کرے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔ اس واقعہ نے اسکول و سکیورٹی پیمانوں کو ٹھینگا دکھا دیا ہے ورنہ اسکول کیا ایسے لاپرواہ ڈرائیو کو رکھتا جو گیٹ متر کے منع کرنے کے بعد بھی پھاٹک پارکرنے لگا اور حادثے کو دعوت دے بیٹھا۔ زیادہ تر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جہاں ریلوے لائنیں گزرتی ہیں وہاں سکیورٹی کے لحاظ سے کوئی انتظام نہیں ہے۔ ریلوے کو جدید بنانے کی بات تو ہورہی ہے۔ بلٹ ٹرین چلانے کی بات ہورہی ہے۔ مسافروں کی سہولتوں کو ٹیکنالوجی سے لیس بھی کیا جارہا ہے لیکن موجودہ ریلوے نیٹ ورک کی سکیورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اگر اتنے بڑے حادثہ سے بھی ریلوے انتظامیہ کی نیند نہیں ٹوٹتی تو بھگوان ہی مسافروں کا مالک ہے۔
(انل نریندر)

کاسٹنگ کاؤچ سے پارلیمنٹ بھی اچھوتی نہیں

بھارت کی فلمی دنیا کی یعنی بالی ووڈ میں تو ہم نے کاسٹنگ کاؤچ کے بارے میں سنا ہے لیکن پہلی بار ہم یہ سن رہے ہیں کہ ہماری پارلیمنٹ میں بھی کاسٹنگ کاؤچ ہے اور یہ بات کسی اور نے نہیں کہی بلکہ خودایک کانگریسی نیتا نے کہیں۔ تازہ تنازعہ بالی ووڈ کی نامور کوریو گرافر سروج خان (69 سال) نے ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی میڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت کے ویڈیو کے سامنے آنے پر کہا کہ یہ بابا آدم کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ہر لڑکی کے اوپر کوئی نہ کوئی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے، سرکار کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ تم فلم انڈسٹری کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ وہ کم سے کم روٹی تو دیتی ہے، ریپ کرکے چھوڑ تو نہیں دیتے۔ ’ایک دو تین ‘ اور ’چولی کے پیچھے‘ جیسے مشہور گیتوں اور نیشنل ایوارڈ ونر کوریوگرافر نے کہا کہ محفوظ رہنے اور ایسی ہستیوں سے بچنے کی ذمہ داری عورتوں کی ہے۔ فلم صنعت کو نشانہ بنائے جانے پر کہا کہ یہ لڑکی کے اوپر ہے کہ تم کیا کرنا چاہتی ہے، تم اس کے ہاتھ میں آنا چاہتی ہو، یا نہیں آؤگی۔ تمہارے پاس آئی ہے تو تم کیا بیچو گی اپنے آپ کو؟ فلم انڈسٹری کو کچھ مت کہنا، وہ ہمارا مائی باپ ہے۔ اس بیان سے شاید حوصلہ پاکر کانگریسی نیتا رینوکا چودھری بھی اس تنازعہ میں کود گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر جگہ کاسٹنگ کاؤچ ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ بھی اس سے اچھوتی نہیں ہے۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ کاسٹنگ کاؤچ کا مسئلہ صرف فلم انڈسٹری میں ہی نہیں ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیکٹر میں ہورہا ہے اور یہ کڑوی سچائی ہے۔ کانگریسی نیتا نے کہا : ایسا مت سمجھئے کہ پارلیمنٹ اس سے اچھوتی ہے یا دیگر کام کی جگہیں اس سے بچی ہوئی ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے جب بھارت نے آواز اٹھانی شروع کی ہے اور کہا ’می ٹو‘ یعنی ہم بھارتیہ اب کاسٹنگ کاؤچ کو لیکر کھل کر سامنے آرہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ رینوکا چودھری کا کہنا تھا پارلیمنٹ میں کاسٹنگ کاؤچ کا میرا الزام غلط نہیں ہے۔ ہمارے عوامی نمائندے اسی سماج سے آتے ہیں اور بعد میں کسی عورت کی توہین کرتے ہیں تو ا س سے مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کیسے پی ایم مودی نے راجیہ سبھی میں ان کی ہنسی پر رائے زنی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہنسی سن کر انہیں رامائن سیریل کی یاد آتی ہے۔ اس کے بعد وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو نے ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا جس کا مطلب تھا کہ ان کی ہنسی رامائن کے کردار سروپ لکھا کی طرح بتائی جارہی ہے۔ محترمہ رینوکا چودھری اپنے بولڈ نظریئے اور بچاؤ کے لئے مشہور ہیں۔ پارلیمنٹ میں کاسٹنگ کاؤچ کا مطلب ہم تو سمجھ نہیں سکے،شاید رینوکا جی اور تفصیل سے بتائیں گی۔
(انل نریندر)

27 اپریل 2018

कानून बदल देने से क्या रेप रुक जाएंगे?


जिस दिन राष्ट्रपति ने बच्चियों से बलात्कार पर फांसी से संबंधित अध्यादेश पर हस्ताक्षर किए, उसी दिन देश के अलग-अलग हिस्सों में चार नाबालिगों के साथ दरिन्दगी की गई। इनमें से दो मासूम बच्चियां थीं। देश में प्रतिदिन 55 बच्चियों के साथ एक रिपोर्ट के अनुसार दुष्कर्म होता है। वर्ष 2016 के आंकड़ों के अनुसार बाल यौन उत्पीड़न के करीब एक लाख मामले अदालत में लंबित हैं। कैलाश सत्यार्थी चिल्ड्रेन फाउंडेशन की ओर से बाल यौन उत्पीड़न पर जारी ताजा रिपोर्ट में राष्ट्रीय अपराध रिकॉर्ड ब्यूरो (एनसीआरबी) के आंकड़ों के हवाले से बताया गया है कि 2013 से 2016 के दौरान तीन वर्षों में बच्चों के खिलाफ अपराध की घटनाओं में 84 प्रतिशत की वृद्धि हुई और इनमें से 34 प्रतिशत यौन उत्पीड़न के मामले हैं। वर्ष 2013 में बच्चों के खिलाफ अपराध की 58,224 वारदातें हुईं जो 2016 में बढ़कर एक लाख छह हजार 958 हो गई। बेशक सरकार ने आपराधिक कानून (संशोधन) अध्यादेश 2018 के जरिये 12 साल से कम उम्र की बच्चियों से बलात्कार के दोषियों के लिए मौत की सजा का प्रावधान किया है पर क्या इससे रेप रुकेंगे? इस प्रावधान पर दिल्ली हाई कोर्ट ने सोमवार को सवाल उठाए हैं। एक दिन पहले ही लागू हुए इस कानून पर हाई कोर्ट ने केंद्र सरकार से पूछा है कि क्या मौत की सजा से रेप को रोका जा सकता है? क्या आपने इस बारे में कोई स्टडी, रिसर्च या वैधानिक आकलन कराया है? क्या आपने सोचा है कि पीड़ित को क्या परिणाम भुगतने पड़ सकते हैं? कोर्ट ने सवाल किया कि जब रेप और मर्डर में एक समान सजा होगी तो कितने अपराधी पीड़िता को जिन्दा रहने देंगे? क्या किसी पीड़िता से पूछा गया है कि वह क्या चाहती है? रेप लॉ में 2017 में हुए बदलाव को चुनौती देने की याचिका पर सुनवाई के दौरान एक्टिंग चीफ जस्टिस गीता मित्तल की बैंच ने टिप्पणी की कि हाल में (कठुआ और उन्नाव) पर हो-हल्ले के बाद केंद्र ने कानून में संशोधन तो कर लिया, लेकिन उसके लिए न तो कोई रिसर्च की और न कोई स्टडी। सरकार असल कारणों पर गौर नहीं कर रही। इसमें रेप पीड़िता की मदद के लिए कुछ भी नहीं है। बलात्कार के आरोपी उम्रकैद के किशोरों को शिक्षित करने को भी कुछ नहीं किया जा रहा है। निर्भया कांड के बाद सरकार ने बलात्कार संबंधी कानूनी प्रावधानों को बेहद कठोर कर दिया, लेकिन रेप और महिलाओं के प्रति किए जाने वाले अन्य अपराध कम होने के बजाय बढ़ते ही जा रहे हैं। असल समस्या है थाने से ही मामला बिगाड़ दिया जाना और अदालत में मुकदमा खड़ा ही न हो पाना। शहरों में तो रेप की शिकायत दर्ज भी हो जाती है, कस्बों और गांवों में तो उलटे शिकायत दर्ज करने वाले ही गंभीर मुश्किलों में पड़ जाते हैं। फिर मामला जब अदालत में आता है तो वहां किस्मत वालों को ही इंसाफ मिल पाता है। बलात्कार के मामलों में सजा दिए जाने की दर अभी करीब 24 प्रतिशत है जबकि बच्चियों के मामले में तो यह मात्र 20 प्रतिशत ही है। एक महत्वपूर्ण पहलु है कि अदालतों में केसों में बहुत लंबा समय लगता है। बलात्कार के अनेक मामलों में तो उनके परिजनों और परिचित का ही हाथ होता है। अगर हम वाकई ही रेप पर अंकुश लगाना चाहते हैं तो हमें नए परिदृश्य में पुलिस और अदालत को अधिक सक्रिय करना होगा, ट्रायल तेजी से हो। इसका ध्यान रखना होगा कि फास्ट ट्रैक बनाने के साथ-साथ जजों की संख्या भी बढ़ानी होगी। अपीलों पर अंकुश लगाना होगा। या तो यह किया जाए कि सजा के बाद अपील सिर्प सुप्रीम कोर्ट में एक बार हो सकती है और सुप्रीम कोर्ट तीन महीने के अंदर अंतिम फैसला दे जिस पर कोई अपील न हो। इसके अलावा हमें समाज की सोच भी बदलवानी होगी, जिस समाज में जिम्मेदार पदों पर आसीन लोग अपराधों पर जब-तब संवेदनहीन टिप्पणियां करते पाए जाते हैं, वहां यह काम कठिन तो है लेकिन सख्त कानून के साथ-साथ नजरिया बदले तभी सकारात्मक बदलाव संभव है। दुष्कर्म आरोपियों के साथ सरकार को कठोरता बरतनी चाहिए और उनकी अंतिम फैसले तक जमानत नहीं होनी चाहिए। ऐसा करने से न तो वे अपने खिलाफ सबूत नष्ट कर पाएंगे और न ही गवाहों को धमका पाएंगे साथ ही दुष्कर्म के मामले में भय का वातावरण भी बनेगा।

कानून बदल देने से क्या रेप रुक जाएंगे?


On the day the President signed the ordinance related to hanging on rape, the same day, in different parts of the country, four minorities were deported. Of these two were innocent children. According to a report with 55 girls daily in the country, there is a rape. According to the figures of the year 2016, about 1 lakh cases are pending in court in the case of child sexual abuse. According to the report of National Crime Records Bureau of NCRB (NCRB) in the latest report on child sexual harassment by the Kailash Satyatti Children Foundation, it has been reported that during the period of 2013 to 2016, 84 percent increase in crime incidents against children in three years And 34 percent of these are cases of sexual harassment. In 2013, there were 58,224 cases of crime against children, which increased to 1 lakh 6 thousand 958 in 2016. Of course, the government has made death penalty for the perpetrators of the rape, under the criminal law (Amendment) Ordinance 2018, but will the rape stop? On this provision, the Delhi High Court has raised questions on Monday. On this law, a day before, the High Court has asked the Central Government whether the rap can be stopped by the death penalty. Have you made any study, research or legal assessment about this? Have you thought that the victim may have to face the consequences? The court questioned that when the rape and the order were held in the same manner, how many criminals would be allowed to live? Have you been asked to ask a victim what he wants? During the hearing on the petition challenging 2017 in the Rap Law, the bench of the Acting Chief Justice Geeta Mittal commented that in recent times (Dhua and Unnauna) should be on-the-spot after the Center revised the law, but Neither research nor any study for that. The government is not considering good reasons. There is nothing to help the victims of the rap. Nothing is being done to educate adolescents who are accused of rape. After the indecent sentence, the government has harassed rape-related legal provisions, but the rap and other crimes against women are increasing rather than being reduced. The real problem is to get rid of the matter only from the police station and the court can not be prosecuted. Even in cities, the complaint of the rap is also done, in towns and villages only those who enter the same complaint fall into serious difficulties. Then when the matter comes to the court, then there are only those who get luck. The rate of punishment in rape cases is about 24 percent, whereas only in case of girls, it is only 20 percent. There is an important aspect that cases in the courts take longer. In many cases of rape, their relatives and acquaintances are handsome. If we really want to tackle the rap, then we have to activate the police and the court more in the new scenario, the trial is fast. It has to be noted that in addition to making a fast track, the number of judges will also increase. There will be an offense on the appeal. Or should it be done that the appeal may be once again in the Supreme Court after the sentence and the Supreme Court should give the final decision within three months without any appeal. Apart from this, we have to change the thinking of the society too, in which society is found to be responsible for the indefinite comments of the people who are responsible for the offense, when there is a difficult change, but with strict laws, change in view, if positive change is possible . The government should have hardship with the wrong accused and their final decision should not be bailed. By doing this, neither will they be able to destroy evidence against themselves, nor can the witnesses get threatened, as well as the environment of fear will also be in the case of the crime.

قانون بدلنے سے کیا ریپ رک جائیں گے

جس دن صدر نے بچیوں سے آبروریزی پر پھانسی سے متعلق آرڈیننس پر دستخط کئے اسی دن دیش کے الگ الگ حصوں میں چار نابالغوں کے ساتھ درندگی کی اطلاعات ملیں۔ اس میں دو معصوم بچیاں تھیں۔ دیش میں یومیہ 25 بچیوں کے ساتھ بدفعلی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال2016 میں اطفال جنسی اذیت کے قریب 1 لاکھ سے زیادہ معاملات عدالتوں میں التوا میں ہیں۔ کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن کی جانب سے اطفال جنسی اذیت پر جاری تازہ رپورٹ میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ 2013 سے 2016 کے دوران تین برسوں میں بچیوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں84 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں 34 فیصدی جنسی استحصال کے معاملہ ہیں۔ سال2013 میں بچیوں کے خلاف کرائم کی 58224 وارداتیں ہوئیں جو 2016 میں بڑھ کر 1 لاکھ 6 ہزار 95 ہوگئیں۔ بیشک سرکار نے جرائم قانون (ترمیم) آرڈیننس 2018 کے ذریعے 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے آبروریزی کے قصورواروں کے لئے موت کی سزا کی سہولت شامل کی ہے لیکن کیا اس سے ریپ رکیں گے؟ اس سہولت پر دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو سوال اٹھائے ہیں۔ ایک دن پہلے ہی لاگو ہوئے اس قانون پر ہائی کورٹ نے سرکار سے پوچھا ہے کہ کیا موت کی سزا سے ریپ کو روکا جاسکتا ہے؟ کیا آپ نے اس بارے میں کوئی اسٹڈی ریسرچ یا آئینی تجزیہ کرایا ہے؟ کیا آپ نے سوچا ہے متاثرہ کو کیا نتیجے بھگتنے پڑ سکتے ہیں؟ کورٹ نے سوال کیا جب ریپ اور مرڈر میں یکساں سزا ہوگی تو کتنے جرائم پیشہ افراد متاثرہ کو زندہ رہنے دیں گے؟ کیا کسی متاثرہ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ ریپ قانون میں 2017 میں ہوئی ترمیم کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت کے دوران نگراں چیف جسٹس گیتا متل کی بنچ نے رائے زنی کی کہ حال ہی میں کٹھوا اور اناؤ پر ہوئے واویلہ کے بعد مرکز نے قانون میں ترمیم تو کردی لیکن اس کے لئے نہ تو کوئی ریسرچ کی اور نہ ہی کوئی اسٹڈی۔ سرکار اصل اسباب پر غور نہیں کررہی ہے۔ اس میں ریپ متاثرہ کی مدد کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ آبروریزی کے ملزم عمرقید کی سزا پائے لڑکوں کو تعلیم دینے سے متعلق بھی کچھ نہیں کیا جارہا۔ نربھیا کانڈ کے بعد سرکار نے آبروریزی سے متعلق قوانین شقوں کو بہت سخت کردیا لیکن ریپ اور عورتوں کے تئیں کئے جانے والے دیگر جرائم کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ہے تھانہ سے ہی معاملہ بگاڑ دیا جانا۔ عدالت میں مقدمہ کھڑا ہی نہیں ہوپاتا۔ شہروں میں تو ریپ کی شکایت بھی درج ہوجاتی ہے، قصبوں اور دیہات میں تو الٹے شکایت درج کرنے والے ہی سنگین مشکلوں میں پڑ جاتے ہیں۔ پھر معاملہ جب عدالت میں آتا ہے تو وہاں قسمت والوں کو ہی انصاف مل پاتا ہے۔ آبروریزی کے معاملوں میں سزا دئے جانے کی شرح ابھی قریب24 فیصدی ہے جبکہ بچیوں کے معاملے میں تو یہ محض 20 فیصدی ہے۔ ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ عدالتوں میں مقدمات میں بہت لمبا وقت لگتا ہے۔ آبروریزی کے دیگر معاملوں میں تو ان کے رشتے داروں اور واقف کاروں کا ہاتھ ہوتا ہے اگر ہم واقعی ریپ پرروک لگانا چاہتے ہیں تو ہمیں نئے پس منظر میں پولیس اور عدالت کو زیادہ سرگرم کرنا ہوگا۔ مقدمات تیزی سے ہوں اس کا دھیان رکھنا ہوگا۔ فاسٹ ٹریک عدالت بنانے کیساتھ ساتھ ججوں کی تعداد بھی بڑھانی ہوگی۔ زانیوں کو کوئی بھی عدالت کسی بھی صورت میں ضمانت نہ دے۔ اپیلوں پر بھی روک لگانی ہوگی۔ یا تو یہ کہا جائے کہ سزا کے بعد اپیل صرف سپریم کورٹ میں ایک بار ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ تین مہینے کے اندر اپنا قطعی فیصلہ دے جس پر کوئی اپیل نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہمیں سماج کی سوچ بدلنی ہوگی اور سماج کے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگ جرائم پر جب تک غیر سنجیدہ تبصرہ کرتے پائے جاتے ہیں وہاں یہ کام مشکل تو ہے لیکن سخت قانون کے ساتھ ساتھ نظریہ بدلے تبھی مثبت تبدیلی ممکن ہے۔
(انل نریندر)

جب ہمارے عزت مآب ہی خواتین جرائم کے ملزم ہیں

عورتوں اوربچیوں کے تئیں بڑھتے جرائم کے خلاف پورے دیش و سماج میں غصہ ہے اور سخت قانون بنانے کی مانگ ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریسرچ کی حال ہی میں شائع رپورٹ کی مانیں تو جن آئین سازوں پر قانون بنانے کی ذمہ داری ہے ان میں 48 عزت مآب (ایم پی ۔ ایم ایل اے) ایسے بیٹھے ہیں جو خود عورتوں کے خلاف جرائم کے مقدموں کا سامنا کررہے ہیں۔ تشویش کی صورتحال یہ ہے کہ تین ایم پی (دو لوک سبھا اور ایک راجیہ سبھا) عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کے ملزم ہیں۔ 45 ممبر اسمبلی عورتوں سے ذیادتی کے ملزم ہونے کے باوجود مختلف اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ تین ممبران پرتو آبروریزی جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر اسمبلی میں 12 ممبر اسمبلی موجود ہیں جن پر مہلاؤں سے جرائم کا مقدمہ چل رہا ہے۔ مغربی بنگال میں ایسے ممبران کی تعداد11 ہے، بہار اسمبلی میں 2 ممبر اسمبلی عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کے مقدمے لڑ رہے ہیں۔ اڑیسہ اور آندھرا اسمبلی میں 5-5 باغی ایم ایل اے ہیں ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈمیں 3-3 ممبر اسمبلی ہیں۔ کیسے کیسے جرائم : عورتوں کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش، اغوا، عورتوں کو زبردستی شادی کے لئے مجبور کرنا، بدفعلی، شوہریا رشتے داروں کے ذریعے ٹارچر کرنا، جسم فروشی کے لئے نابالغ کی خریدو فروخت وغیرہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ایسے جرائم میں پیچھے نہیں ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں 327 مہلاؤں سے جرائم کرنے کے ملزمان کو مختلف پارٹیوں نے ٹکٹ دئے۔ 118 امیدوار عورتوں کے خلاف جرائم کا مقدمہ لڑتے ہوئے چناؤ میں اترے۔ پانچ برسوں میں پارٹیوں نے 26 ایسے امیدواروں کو میدان میں اتارا جن پر بدفعلی کے سنگین معاملہ چل رہے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ اعدادو شمار کیسے نکالے۔ 776 ایم پی میں سے 768 ممبران کی طرف سے حلف نامہ جمع کرایاگیا ۔ اس حلف نامہ کا تجزیہ کیا گیا اورباریکی سے جانچ کرائی گئی اور نتیجہ نکالا گیا۔ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ جب ہمارے چنے ہوئے نمائندے ہی ایسے کردار کے ہوں گے تو یہ دیش کو انصاف کیسے دلا سکیں گے؟ عوامی نمائندہ ہزاروں لاکھوں ووٹروں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کا کردار بے داغ ہونا چاہئے۔ کم سے کم مہلا اذیت کے معاملہ میں تو ہونا ہی چاہئے لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی ایک ہی بات کو دیکھتی ہے کہ یہ امیدوار چناؤ جیت سکتا ہے یا نہیں؟ اگر جیت سکتا ہے تو اس کے سارے جرائم نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ اس میں چناؤ کمیشن کو پہل کرنی ہوگی کہ ایسے سنگین جرائم پیشہ کو چناؤ لڑنے سے محروم کیا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

26 اپریل 2018

کرناٹک میں معلق حکومت؟

کرناٹک اسمبلی چناؤ میں ووٹنگ کے محض 20 دن بچے ہیں۔ ریاست میں 12 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔ بھاجپا ، کانگریس اور جے ڈی ایس کے امیدواروں میں نامزدگی داخل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ منگل کے روز اس کا آخری دن تھا۔ کانگریس کے سی ایم 40 سال میں کرناٹک کے پہلے وزیر اعلی نے جنہوں نے اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کی ہے۔ اس دوران 15 وزیر اعلی بنے ہیں ، 5 بار صدر راج لگا ہے۔ سدارمیا کا دعوی ہے کہ وہ 165 چناوی وعدوں میں سے 156 پورے کر چکے ہیں۔ اس بار بھی ہر چناؤ کی طرح لوک سبھا چناؤمیں لوک لبھاونے اشو ہیں۔ اب تک مختلف نیوز چینل اور ایجنسیاں اپنے اپنے اوپینین پول جاری کرچکی ہیں۔ اب تک 5 بڑے اوپینین پول آئے ہیں ان میں سے4 میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت ملتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ سبھی نے ریاست میں معلق حکومت کا دعوی کیا ہے۔ بھاجپا اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ بھاجپا کو پچھلے چناؤ سے سیٹوں میں زیادہ فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ وہیں کانگریس کی سیٹیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جے ڈی ایس کنگ میکر کے رول میں ہے صرف سی فور ووٹر نے اپنے اوپینین پول میں کانگریس کو126 سیٹیں دی ہیں۔ پانچ اوپینین پول کا اوسط دیکھیں تو بھاجپا کو 87 کانگریس کو 100، جے ڈی ایس کو40 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔ سی فور نے بھاجپا کو سب سے کم 70 ، اے بی وبی پی، سی ایس ڈی ایس نے سب سے زیادہ 95 سیٹیں دی ہیں۔ کانگریس کو کم سے کم 85 سیٹیں دی ہیں۔ کرناٹک اسمبلی میں 224 سیٹیں ہیں یہ 6 چناوی علاقوں میں بٹی ہیں۔ کرناٹک کے 8 بڑے اشو ہیں کسان ۔56 فیصد لوگ کھیتی پرمنحصر ہیں۔ 213 سے217 تک ریاست میں قریب 3175 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ ریاست کی 56 فیصد آبادی کھیتی پر منحصر ہے۔ کرپشن: کرناٹک سب سے کرپٹ ریاست ۔ بھاجپا نے تین ریڈی بھائیوں میں سے دو کو ٹکٹ دیا ہے۔ کانگریس نے بھی کرپشن میں پھنسے بہت سے لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ 20 ریاستوں میں رشوت لینے میں کرناٹک نمبر ون بتایا گیا ہے۔ کنڑ پہچان: الگ جھنڈے کو تسلیم کرنا سی ایم سدا رمیا ریاست میں ہمیشہ ہندی کے مخالف اور کنڑ کو ترجیح دینے میں آگے آگے رہے ہیں۔ ان کی سرکار کرناٹک کے لئے الگ جھنڈا بل کو پاس کر چکی ہے۔ قتل: صحافی گوری لنکیش اور ایم ایم کلبرگی کے قاتلوں کو پکڑنے میں سدا رمیا سرکار کے تئیں لوگوں میں ناراضگی ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے اس کے ورکروں کو بھی ریاست میں مارا جارہا ہے۔ اقلیتی مذہت کا درجہ: ریاست میں 18سے20 فیصد لنگایت ووٹر ہیں۔ وہ 100 سیٹوں پر اثر انداز ہیں۔ سدا رمیا نے چناؤ سے ٹھیک پہلے لنگایت کو اقلیتی مذہب کا درجہ دینے کا بل پاس کر کے پرستاؤ مرکز میں بھیجا ہے۔ اس کا لنگایت گروپ میں اچھا اثر ہوگا۔ ہندوتو :مکہ مسجد بلاسٹ پر فیصلہ: ریاست میں مرکزی وزیر کمار ہیگڑے ہندوتو کے بڑے چہرے ہیں،مکہ مسجد دھماکہ میں کورٹ کا فیصلہ بھاجپا کے لئے ٹرم کارڈ بن سکتا ہے۔ پارٹی کانگریس کو گھیر رہی ہے۔ بھاجپا نے پیر کو الزام لگایا کہ کرناٹک انتظامیہ اسے کھل کر کمپین کرنے نہیں دے رہی ہے وہ چنندہ طریقے سے قواعد کو لاگو کررہی ہے تاکہ 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی چناؤ میں حکمراں کانگریس کے حق میں حالات بنائے جا سکیں۔ بھاجپا کرناٹک کے معاملوں کے انچارج جنرل سکریٹری مرلی دھر راؤ نے بنگلورو میں صحافیوں کو بتایا کہ چناؤ کمپین کے دوران پارٹی صدر امت شاہ کو بی آر امبیڈکر کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی ورکروں کو اپنے گھروں پر جھنڈے لہرانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ دیکھیں 12 مئی کو کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

ناراضگی کیا صرف چنائو کمیشن سے ہے یا ؟

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کو لیکرسرکار کی کارروائی اور مظاہرین کو جس بربریت سے روکنے کی کوشش ہوئی اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔202...