Translater

14 جون 2017

طارق فتح کے قتل کی سازش

عالمی شہرت یافتہ اسلامی دانشور طارق فتح کے قتل کی سازش کا دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے پردہ فاش کیا ہے۔ طارق فتح اپنی روشن خیالی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہیں وہ اپنی بات کہنے سے گریز نہیں کرتے چاہے وہ کسی کو کتنی بری کیوں نہ لگے۔ دہشت گردی، پاکستان کے تو خلاف وہ کھل کر بولتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ ایک اسلام وہ ہے جو پیغمبر کا اسلام ہے اور ایک اسلام وہ ہے جو مولویوں کا اسلام ہے۔ ان مولویوں نے اپنے نجی مفادات کے لئے اسلام کا بیجا استعمال کیا ہے اور کررہے ہیں۔ اپنی روشن خیالی کے لئے وہ کٹر پسند عناصر کے نشانے پر رہے ہیں۔ ہمیں تعجب نہیں ہوا جب خبر آئی کہ دہلی پولیس نے چھوٹا شکیل کے ایک گرگے کو فتح کی قتل کی سازش کے الزام میں گرفتارکیا ہے۔ انڈرورلڈ ڈان شکیل نے طارق فتح اور تہاڑ جیل میں بند انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کے قتل کی سپاری دی۔ اسکے لئے اس نے اپنے گرگے جنیدچودھری کو حوالہ اور آن لائن کے ذریعے سے رقم بھی مہیا کرائی تھی۔ یہ خلاصہ اسپیشل سی کے ہاتھ لگے جنید نے کیا ہے۔ جنیدکو اسپیشل سیل نے بدھوار کی رات نند نگری کے گگن سنیما کے پاس سے گرفتار کیا۔ طارق سے انڈر ورلڈ ڈان بھارت میںآکر اسلام پر دئے گئے بیان کو لیکر خفا تھا جبکہ چھوٹا راجن کو برسوں سے چلی آرہی رنجش کے سبب وہ ٹھکانے لگوانا چاہتا تھا۔ اس معاملے کی جانچ سے وابستہ اسپیشل سیل کے ایک سینئر افسر کے مطابق جنیدکو چھوٹا شکیل نے بھارت میں قیام کے دوران طارق فتح کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور تہاڑ جیل میں بند انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کی سرگرمیوں پر نظرر کھنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ چھوٹا راجن بیمار چل رہا ہے اس وجہ سے اسے اکثر جیل سے باہر علاج کے لئے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ چھوٹا راجن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور وارڈ بوائے سے لیکر دیگر لوگوں کے بارے میں جانکاری اکھٹی کرنے کی ہدایت چھوٹا شکیل نے اپنے مبینہ گرگے کو دی تھی۔ ڈی سی پی پروندر کشواہا کے مطابق جنید سے سنیچر کو اسپیشل سیل کے لودھی کالونی میں واقع دفتر میں دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ٹیم یہ پتہ کررہی ہے کہ چھوٹا شکیل نے جنید کو کتنے روپے کی سپاری دی تھی۔ جن دیگر شوٹروں کو سپاری دی گئی ان کے بارے میں بھی جنید سے پوچھ تاچھ میں جانکاری مل پائی ہے۔ شوٹروں کو کس حوالہ آپریٹر کے ذریعے پیسہ ملا اور انہوں نے بلندشہر میں کس سے ہتھیار خریدے ، اس کے بارے میں بھی پتہ لگایا جارہا ہے۔ حوالہ کے ذریعے چھوٹا شکیل نے شوٹروں کے پاس ایڈوانس میں 36 لاکھ روپے بھجوائے تھے۔ جس رقم میں سے شوٹروں نے بلندشہر سے تین پستول خریدی تھیں۔ دہلی پولیس کو اس سازش کا پردہ فاش کرنے کے لئے بدھائی۔
(انل نریندر)

روس سے رشتوں پر ٹرمپ کے خلاف کومی کی گواہی

چناؤ کمپین کے دوران روس کے حکام کے رابطے میں ہونے کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دیش کی سب سے بڑی سکیورٹی ایجنسی کے چیف جیمس کومی کو ان کے عہدے سے ہٹادیاتھا۔ عہدے سے ہٹائے جانے پر سخت ناراض جیمس کومی نے ٹرمپ کے خلاف کئی سنسنی خیز انکشاف کر دیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ جمعرات کو انہوں نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ٹرمپ کے ساتھ اپنے رشتوں کا انکشاف کیا اور الزام لگایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے سال ہوئے صدارتی چناؤ میں روس نے مداخلت کی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کومی نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کو روکنے کے لئے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ ان کی میعاد کے 6 سال باقی تھی۔تحریری جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی سکیورٹی مشیر مائیکل فلن کے خلاف جانچ بند کرنے کیلئے کہاتھا۔ اپنے تئیں وفادار رہنے کی مانگ کی تھی۔ 7 صفحات کی اپنی تحریری گواہی میں کومی نے ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کی تفصیل بھی دی ہے۔ کومی نے کمیٹی کے سامنے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ان کو برخاست کرنے کا حق تھا لیکن وہ اپنی برخاستگی کے اسباب کے معاملے میں شش و پنج میں تھے۔ کومی نے کمیٹی کے سامنے یہ بھی کہا کہ انہیں ہٹانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ نے جھوٹ بولا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ جھوٹ بولا کے ایف بی آئی اس سے تھوڑا سا پریشانی میں تھی اور ان کی قیادت میں کام کررہی تھی۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس پر انہیں بدنام کرنے کا بھی الزام لگایا۔ سینیٹ نے کومی اور ٹرمپ کی بات چیت کا ریکارڈ وائٹ ہاؤس سے مانگا ہے۔ صدارتی آفس وائٹ ہاؤس سے کہا گیا ہے کہ اس بارے میں جو بھی تفصیل یا آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، انہیں کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ایف بی آئی کی جانچ میں دخل دینے کے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا ہے
۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ وہ سینیٹ کمیٹی کے سامنے حلف نامہ دے کر گواہی دینے کوتیار ہیں۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کومی نے حلف لے کر جھوٹ بولا جبکہ انہوں نے سابق قومی سلامتی مشیر مائیکل فلن اوردیگر ساتھیوں کے روس سے رشتوں کی جانچ کو لیکر ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ ان میں امریکی پارلیمنٹ کے تقاضوں کے مطابق اگر ٹرمپ پر لگے الزامات صحیح ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹانے کے لئے تحریک ملامت (مقدمہ) شروع کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ حلف لیتے ہیں تنازعوں سے گھر گئے ہیں۔ اب تمام ناراض لوگ اس نئی بحث کا پورا فائدہ اٹھانے میں لگ گئے ہیں۔
(انل نریندر)

13 جون 2017

برطانیہ میں معلق پارلیمنٹ: ٹیریزہ کا داؤں الٹا پڑا

کبھی کبھی سیاستداں تجزیہ کرنے میں ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑتا ہے ایسی ہی ایک غلطی برطانیہ کی وزیر اعظم ٹیریزہ مے نے بھی کی ہے۔کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر ٹیریزا نے اپنی میعاد پوری ہونے سے تین سال پہلے اچانک برطانیہ میں وسط مدتی چناؤ کا فیصلہ اس امید میں لیاتھا کہ وہ شاندار جیت حاصل کریں گی جوا نہیں یوروپی یونین کی شرطوں پر وہاں کے لیڈروں کے ساتھ مشکل سمجھوتے کو توڑنے اور یونین سے باہر ہونے کا راستہ دے گا لیکن جمعہ کو آئے چناؤ نتائج میں ٹیریزہ کا داؤں الٹا ثابت ہوا۔ اب تک مکمل اکثریت والی سرکار کی قیادت کررہی ٹیریزہ نے اس چناؤ میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں لیکن اکثریت نہ ملنے کے سبب درکار سیٹوں کے لئے انہیں اتحاد پر منحصر رہنا ہوگا۔ ان کی کنزرویٹو پارٹی کو318 سیٹیں حاصل ہوئیں جبکہ ٹیریزا کو سرکار بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں کم سے کم 326 سیٹوں کو پورا کرنے کیلئے 8 سیٹیں کم ملی ہیں۔ چناؤ جائزوں میں ان کی جیت کے آثار جتائے جارہے تھے اس لئے جو نتیجے آئے انہیں کسی حد تک فطری طور پر غیر متوقعہ کہا جارہا ہے۔ یہی نہیں کئی کے لئے یہ نتیجے حیران کرنے والے بھی ہیں، کیونکہ لمبے عرصے بعد ایسا ہوا ہے کہ جب برطانیہ کے پارلیمانی چناؤ میں کسی کو واضح اکثریت نہیں ملی اور معلق پارلیمنٹ کی تصویر ایسے سامنے آئی جب نئی سرکار کو بریگزٹ کی کارروائی و شرطوں اور قاعدوں پر یوروپی یونین سے بات کرنی ہے اور مجوزہ بات چیت شروع ہونے میں بس 10 دن باقی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عدم استحکام کی صورت میں مجوزہ بات چیت مقررہ وقت پر شروع ہوسکے گی، یا اس میں تاخیر ہوسکتی ہے؟ ڈیوڈ کیمرون نے جب بریگزٹ کے لئے رائے شماری کرائی تھی تب شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ قدم ان کی الوداعی کا سبب بن جائے گا، مگر اس کے بعد کے واقعات جس طرح سے بدلے ہیں جس میں تازہ چناؤ کو دیکھا جاسکتا ہے اس نے برطانیہ کی سیاست میں مچی ہلچل کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔کنزرویٹو پارٹی کی سیٹیں کم ہونے کے پیچھے دیش کی سلامتی بھی ایک بڑی وجہ ہے جسے چناؤ کے دوران آتنکی حملوں کے ذریعے چنوتی دی گئی۔ دراصل قومی سلامتی کے معاملے میں روایتی طور سے کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی کے مقابلے میں زیادہ بھروسے مند مانا جاتا ہے مگر جس طرح سے مانچسٹر اور پھر اس کے بعد لندن میں ہوئے آتنکی حملوں کو انجام دیاگیا جس میں 30 لوگوں کی موت ہوگئی اس سے ان کی سرکار کی ساکھ اور شخصی طور پر نیتا کی شکل میں ٹیریزہ مے کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے سبب دوسرے نمبر پر رہی لیبر پارٹی اکثریت سے کافی دور ہونے کی وجہ سے ٹیریزہ مے کی سرکار بنانے میں دقت تو نہیں آئے گی مگر ان کی آگے کی راہ آسان نہیں ہے۔ ویسے برطانیہ کو یہ چناؤ ہندوستانی نژاد برطانوی لوگوں کے لئے اچھا نتیجہ لے کر آیا ہے۔ 2015ء میں جہاں ہندوستانی نژاد 10 لوگ پارلیمنٹ میں پہنچے تھے اس مرتبہ یہ تعداد 12 ہوگئی ہے۔ تمنجیت سنگھ اور پریت کور گل جیسے سکھ بھی پہلی بار چنے گئے ہیں۔ تمنجیت سنگھ برطانیہ میں پارلیمنٹ چنے گئے پہلے پگڑی دھاری سکھ ہیں جبکہ پریت کور پہلی سکھ ایم پی ہیں۔ ہندوستانی نژاد لوگوں کا چنا جانا بیحد اہم ہے۔ جو لوگ بریگزٹ کی مانگ کرتے تھے ان کی باتوں میں زہر پھیلا تھا وہ لوگ چاہتے تھے کہ اگلینڈ صرف ہمارے لئے ہے وہ لوگ 1950 سے پہلے کے (گورو کی اکثریت والے) برطانیہ کی بات کرتے تھے۔ بیشک سرکار کی یہی کوشش رہی ہے کہ برطانیہ کو ایسے دیش کی طرح پیش کیا جائے جہاں دنیا بھر کے مختلف تہذیبوں کے لوگوں کے لئے جگہ ہو لیکن پچھلے کچھ برسوں سے غیر پرواسی برطانیہ میں برننگ اشو رہا ہے۔ دنیا بھر سے تاریکین وطن برطانیہ پہنچتے ہیں بھارت اور آس پاس کے دیشوں سے بھی لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں رہنے والے کئی ہندوستانی اور پاکستانی لوگ دوسری تیسری پیڑھی کے ہیں۔ یہاں کی نوجوان پیڑھی یہیں پیدا ہوئی ہے۔ ان کے والدین بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش سے آئے تھے۔ بہرحال نئے چناؤ کے بعد برطانیہ کے سامنے سوال صرف یہ نہیں ہے کہ حکومت کون چلائے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ بریگزٹ کے بعد کی چنوتیوں سے وہ کیسے نمٹے گا؟
(انل نریندر)

ایم سی ڈی دہلی کو اوپن اربن سلم بنا رہی ہے

راجدھانی دہلی میں آج بھی کوڑے کو ڈمپ کیا جارہا ہے۔ کوڑے کو لیکر اب تک کی تمام اسکیمیں ابھی تک سرے نہیں چڑھ پا رہی ہیں۔ ایم سی ڈی نے کوڑا انتظام کو لیکر قریب15 سال پہلے ایک اسکیم بنائی تھی۔ ابتدائی دور میں کالونیوں میں سوکھے اور گیلے کوڑے کے لئے نیلے اور ہرے رنگ کے کوڑے دان رکھوائے گئے تھے بعد میں کوڑے کے انتظام کو لیکر پرائیویٹ کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا لیکن اب یہ صرف نارتھ ایم سی ڈی کے پانچ زون اور ساؤتھ کی ایک آدھ کالونی تک محدود ہے۔ دہلی میں روزانہ قریب 9 ہزار میٹرک ٹن کوڑا جمع ہورہا ہے۔اس کوڑے کو ان لینڈفل میں ڈالا جارہاہے جو برسوں پہلے بھرچکی ہیں۔ بھلسوا، غازی پور، اوکھلا لینڈ فل میں 100-100 فٹ اونچے کوڑے کے پہاڑ بن چکے ہیں اس کے باوجود وہاں آج بھی کوڑا پھینکا جارہا ہے۔ عدالت کے حکم کے باوجود دہلی کی سڑکوں سے کوڑا نہیں ہٹائے جانے پر دہلی ہائی کورٹ نے ایسٹ اور نارتھ و ساؤتھ ایم سی ڈی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس ہری شنکر پر مشتمل بنچ نے تینوں کمشنروں کو 21 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کوڑا ہٹائے جانے کو لیکر کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مانسون آنے سے پہلے ہی ڈینگو اور چکن گنیا دستک دے چکے ہیں۔ عدالت نے ایم سی ڈی سے کہا ہے کوڑا ہٹانا آپ کی بنیادی ڈیوٹی ہے اور اس کے لئے بھی آپ کو کورٹ کا حکم چاہئے ۔ کسی کو تو ذمہ دار بننا ہوگا۔ بتادیں تینوں ایم سی ڈی میں قریب 70 ہزار صفائی کرمچاری کام کرتے ہیں اس میں سے تقریباً 20 ہزار عیوضی یا ٹھیکے پر ہیں۔یونیفائڈ ایم سی ڈی کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین جگدیش مامگئی کے مطابق عموماً ان ملازمین کا کام صبح 7 بجے سے شروع ہوکر دوپہر 3 بجے تک ختم ہوجانا چاہئے لیکن کہیں بھی یہ قاعدہ نہیں لاگو ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان ملازمین میں یارڈ اسٹک (صفائی کی جگہ) سالوں سے نہیں بدلے گئے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور بڑھتے کوڑے کو دیکھتے ہوئے یارڈاسٹک کو بڑھایا جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ صفائی محکمے میں کرپشن پر بھی روک نہیں لگ پارہی ہے۔ دوسری طرف صفائی ملازمین کا کہنا ہے ہمارا استحصال ہورہا ہے۔ ہمیں وقت سے تنخواہ نہیں مل پا رہی ہے۔ مسلسل ہڑتال چلتی رہتی ہے۔ اس کے چلتے راجدھانی میں جہاں تہاں کوڑے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود آج راجدھانی اوپن ڈمپ بنی ہوئی ہے۔ اب جب نئی کارپوریشنیں وجود میں آئی ہیں حکمراں پارٹی کا یہ فرض بنتا ہے کہ شہر میں کوڑا ڈسپوزل کی ٹھوس اسکیم بنائی جائے اور دیش کی راجدھانی کو اوپن سلم بننے سے بچایا جائے۔
(انل نریندر)

11 جون 2017

جنرل وپن راوت ایک ساتھ ڈھائی مورچے پر نمٹنے کو تیار ہیں

ہندوستانی فوج کے تیور میں مسلسل تبدیلی دکھائی پڑ رہی ہے اور بغیر کسی شبہ کے آرمی چیف وپن راوت اس کے مرکز میں ہیں۔ ان کے کچھ فیصلوں سے تنازعہ بھی کھڑا ہوا ہے لیکن تیور نہ تو تنقید سے رکے اور نہ پتھر بازوں سے ۔ فوج کے رخ میں پوری تبدیلی سمجھنے کیلئے حال کے کچھ واقعات پر نظر ڈالنی ہوگی۔ آرمی چیف کے جس فیصلے پر سب سے زیادہ سوال اٹھے وہ تھا میجر لتل گگوئی کو اعزاز دینا۔ میجر نے کشمیر میں پتھر بازوں سے بچنے کے لئے وہیں کے ایک پتھر باز کو فوج کی جیب سے باندھ دیا اور کچھ نام نہاد سیکولر پسندوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بتایا ، اس کے باوجود آرمی چیف نے میجر گگوئی کا کھلے عام ساتھ دیا۔ جنرل راوت نے شروع میں ہی صاف کردیا تھا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران رکاوٹ پیدا کرنے والے اور پاک یا آئی ایس آئی کا جھنڈا لہرانے والے کو ملک دشمن مانا جائے گا۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ آرمی چیف کا ایک اور بڑا فیصلہ یہ سامنے آرہا ہے کہ کشمیر کے شورش زدہ علاقوں میں گھیرا بندی اور تلاشی کارروائی چلنا۔ وادی میں قریب 15 سال بعد فوج نے جارحانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لئے یہ قدم اپنایاہے۔ کنٹرول لائن اور آس پاس سے وابستہ علاقوں میں آئے دن گھس پیٹھیوں اور پاک فوجیوں کو مارا جارہا ہے۔ جنرل راوت یہیں نہیں رکے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج ڈھائی مورچے پر جنگ لڑنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے جس طرح سے ڈھائی مورچے لفظ کا استعمال کیا وہ اپنے آپ میں کافی دلچسپ اور دور اندیش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج ایک ساتھ چین اور پاکستان سے تو ٹکر لے سکتی ہے ساتھ ہی وہ دیش کے اندر ہونے والی کسی بھی اتھل پتھل سے بھی آسانی سے نمٹ سکتی ہے۔ اس میں چین اور پاکستان دو مورچے ہیں اور اندرونی اتھل پتھل باقی کا آدھا مورچہ ہے۔ یقینی طور پر پاکستان اور چین کے خلاف جو دو مورچے ہیں وہ بہت بڑے ہیں۔ یہ دونوں پڑوسی دیش ہے جن سے ہمارا پرانا سرحدی جھگڑا ہے۔ دونوں ہی نیوکلیائی طاقت کفیل دیش ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ پاکستان ایک ناکام دیش مانا جاتا ہے جبکہ چین ایک ترقی یافتہ دیش ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک اقتصادی و فوجی بڑی طاقت کی شکل میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتنے تضاد ہونے کے باوجود بھارت کے خلاف دونوں کو ایک طرح کا فوجی گٹھ جوڑ بھی ہے جو ان دنوں بھارت کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بھی ہے۔ اس خبر نے یہ پریشانی اور بڑھا دی ہے کہ چین پاکستان میں اپنا فوجی اڈہ بنانے جارہا ہے۔ اگر ہماری فوج یہ مانتی ہے کہ وہ ان ساری چنوتیوں کا ایک ساتھ سامنا کرنے کے لئے تیار ہے تو یہ ہمارے لئے سلامتی کا ایک بڑا بھروسہ بھی ہے۔ جنرل وپن راوت کی ہمت اور صاف گوئی کیلئے ہم انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

40 کروڑ کی ڈرگ اسمگلنگ میں ابو اعظمی کا بھتیجہ گرفتار

بھارت میں ڈرگ اسمگلنگ کے معاملے آئے دن پکڑے جاتے رہے ہیں۔ پتہ نہیں کہ دیش میں کتنی مقدار میں یہ نشیلی چیزوں کا استعمال شروع ہوگیا ہے۔ حال ہی میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ڈرگس اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے اور نشے کے چار سوداگروں کو گرفتار کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ملزمان میں سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی ابو اعظمی کا بھتیجہ اسلم بھی شامل ہے۔ملزمان کے قبضے سے 5 کلو پارٹی ڈرگس آئس پکڑے گئی۔ قومی بازار میں اس کی قیمت 40 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ نشے کی دنیا میں آئس ڈرگس کے چاروں ملزم ایک بین الاقوامی گروہ سے جڑے ہوئے تھے۔ اسپیشل سیل کے ڈی سی پی سنجیو یادو نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی پہچان ممبئی کے باشندے ابو اسلم کاظم اعظمی عرف اسلم چنڈی گڑھ کا لوجسٹک کاروباری امت اگروال، دہلی کے باشندے اودھیش کمار و مدن رائے کی شکل میں ہوئی ہے۔ ابو اسلم کاظم اعظمی سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی ابو اعظمی کا بھتیجہ ہے وہیں گروہ کا سرغنہ کیلاش راجپوت یو اے ای میں رہتا ہے اور وہیں سے پورے نیٹ ورک کو چلاتا ہے۔ ملزم ابو اس کا داہنا ہاتھ مانا جاتا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں ملزم امت نے ابو اعظمی کے نام کا خلاصہ کیا ہے اس کے بعد پولیس نے منگلوار کو ممبئی سے ابو اسلم کو گرفتار کرلیا اور اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ دوبئی میں ایک کارگو کمپنی میں کام کرتا ہے بعد میں وہ ممبئی آگیا۔ پھراس نے گووا میں ایک ریستوراں کھولا اور وہ وہاں گروہ کے سرغنہ کیلاش راجپوت کے رابطے میں آیا۔ اس کے بعد اس نے اس کے ساتھ مل کر اس دھندے کو آگے بڑھایا اور دیکھتے دیکھتے کیلاش کے ہندوستانی نیٹ ورک کا سب سے بڑا کھلاڑی بن گیا۔ نشیلی چیزوں خاص طور پر ممنوعہ ڈرگس کے بڑھتے استعمال اور اسمگلنگ کے تیزی سے پھیلے نیٹ ورک میں دہلی این سی آر کو ایک بڑا ٹرانزٹ پوائنٹ بنا دیا۔ اسمگلر یہاں سے اپنے قومی اور بین الاقوامی نیٹ ورک تھا نشیلی چیزوں کو دھڑلے سے سپلائی کررہے ہیں۔ خاص طور پر ڈائیجے پام ، مینڈریس، مارفن اور کوٹامائن وغیرہ ممنوعہ ڈرگس کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ میاؤں میاؤں نام سے مشہور میفوڈرون ڈرگ اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ میں ہے۔ سال 2010ء میں بھارت میں اس کی اینٹری ممبئی کے راستے ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے باز آبادکاری سینٹرس میں زیادہ تر نئے منشیات کے عادی میاؤ ں میاؤں کے شکار بتائے جاتے ہیں۔ ڈرگس کا مسئلہ دن بدن پورے دیش میں بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت کے لئے یہ اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ افغانستان کے راستے پاکستان اس کی اسمگلنگ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ڈرگس کے پیسے سے ہی اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں چلتی ہیں۔
(انل نریندر)

10 جون 2017

کٹرپسند سنی آتنکی تنظیم آئی ایس کا ایران میں حملہ

ایران میں 38 سال پہلے آئے 1979 ء کے انقلاب کے بعد بدھ کو پہلی بار بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ دنیا کی سب سے خونخوار مانی جانے والی کٹر سنی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے بدھوار کو ایک ساتھ ایران کی پارلیمنٹ اور مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر حملہ کرکے اسلامک اسٹیٹ نے ایران میں بھی اپنی موجودگی درج کرادی ہے۔ چار حملہ آور فائرننگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں گھس گئے۔ سکیورٹی فورسز نے قریب ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد چاروں آتنک وادیوں کو مار گرایا۔ جب پارلیمنٹ پر حملہ ہو رہا تھا تبھی خمینی کے مزار پر تین دیگر آتنک وادیوں نے حملہ کیا۔ ایک خاتون آتنکی نے کمر میں بندھے دھماکو سے خود کو اڑا لیا۔خمینی کے مزارپر بڑا دھماکہ ہوا ان حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 42 زخمی ہوئے۔ دو آتنک وادیوں کو زندہ پکڑ لیا گیا لیکن ان میں سے ایک نے سائنائڈ کھا کر خودکشی کرلی۔ پہلی بار آیت اللہ خمینی کے مقبرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے ہی 1979ء ایران انقلاب کی قیادت کی تھی جس میں ایران سے راج شاہی ختم ہوئی تھی اور شاہ رضا پہلوی کودیش چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے ایران میں شیعہ حکومت قائم ہے۔ بیشک یہ حملے مانچسٹر اور پھر لندن برج پر ہوئے حملوں کے ٹھیک بعد ہوئے ہیں ، اس لئے انہیں اسلامک اسٹیٹ کی بڑھتی عالمگیر سطح پر سرگرمی سے جوڑ کر دیکھا جائے گا، لیکن ایران میں آتنکی حملے کا اسلامک اسٹیٹ کے لئے الگ ہی مطلب ہے۔ یہ ٹھیک ہے مغربی دیشوں سمیت دنیا کی کئی طاقتیں اسلامک اسٹیٹ سے لوہا لینے کا دعوی کررہی ہیں لیکن اس کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم ایران ہی ہے۔ ایک طرف وہ شام میں اسد کی شیعہ سرکار کو آئی ایس کے خلاف لڑائی میں سیدھی حمایت دے رہا ہے ،تو دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک شیعہ ملیشیاکھڑی کردی ہے۔ اس انتہا پسند تنظیم کا ایک ہی مقصد ہے ایران میں شیعہ آبادی کو تحفظ دینا اور آئی ایس کے دانت کھٹے کرتے رہنا۔ قطر کو لیکر ان دنوں مغربی ایشیا میں جو سیاست رہی ہے اس کا تہران میں بدھ کے روز آتنکی حملے کا بھلے ہی کوئی سیدھا تعلق نہ ہو ، لیکن یہ دونوں چیزیں مل کر ایک ہی بات بتاتی ہیں کہ خلیج کے ملکوں کا مسئلہ لگاتار الجھتا اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کے صدر کے حالیہ سعودی عرب دورہ میں ایران کو کوسنا بھی اسی کڑی سے جڑتا ہے۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ادھر ٹرمپ ایران کو نشانہ بناتا ہے ادھر اسلامک اسٹیٹ ایران پر آتنکی حملہ کردیتا ہے؟ کچھ وقت پہلے جب مغربی ملکوں نے ایران کا بائیکاٹ ختم کیا تھا تو ایک امید بنی تھی کہ پرانے جھگڑے ختم ہوں سے کئی تجزیئے بدلیں لیکن ٹرمپ کے تازہ موقف نے ان پر پانی پھیر دیا ہے۔ سعودی عرب تو پہلے سے ہی ایران کو اپنی راج شاہی کے لئے دشمن نمبر ون مانتا ہے اور یہی امریکہ کی دوہری پالیسی ہے۔ امریکہ یہ نہیں طے کرپا رہا ہے کہ اس کی پہلی ترجیح اسلامک اسٹیٹ کو ختم کرنے کی ہے یا شام میں اسد حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تھی۔ آج تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسلامک اسٹیٹ اس وقت پوری دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ ایران خود اس سے نمٹیں ۔ آئی ایس کو مددکون کررہا ہے ؟ یہی عرب دیش اس کی فنڈنگ کے سب سے بڑے ذرائع ہیں۔ دکھ اس بات کا بھی ہے کہ کئی اسلامی دیش آئی ایس کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے اپنے اپنے تنگ ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر مغربی ایشیا میں ایک طرف ایران اور امریکہ دوسری طرف روس اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں تو اس سے صرف اسلامک اسٹیٹ کو فائدہ ہوگا اور ہو رہا ہے۔ شیعہ ۔سنی لڑائی تو ہزاروں سال پرانی ہے ۔ تہران میں آتنکی حملہ اسی کی ایک توجہ ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سبھی دیش مل کر سانجھہ حکمت عملی کے ساتھ آئی ایس سے ٹکر لیں اور جب تک یہ نہیں ہوگا نہ لندن محفوظ ہے اور نہ ہی فرانس، جرمنی اور مشرقی وسطی۔ حملے سے ایران جو اپنی سخت سکیورٹی پر فخرکرتا تھا اس کی بھی ایک طرح سے پول کھل گئی ہے۔
(انل نریندر)

اب بھی چین سے جھڑپیں ہو رہی ہیں!

آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے لئےہر سال منعقد ہونے والاسنمان سماروہ ہمریڈسنمان میں جمعرات کو آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شبھ جیت کپور نے چون...