Translater

26 اگست 2012

ناجائز طریقے سے آکر بنے بنگلہ دیشی درانداز گھر جمائی


بیشک آگ ابھی آسام میں مگر اس کی جڑیں قومی راجدھانی خطہ دہلی تک پھیل گئی ہیں۔ یہاں بھی ذرا سی چنگاری کبھی بھی آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ میں ان ناجائز بنگلہ دیشیوں کی بات کررہا ہوں ۔ آج تک یہ صحیح اندازہ کسی نے نہیں لگایا کہ ان ناجائز بنگلہ دیشیوں کی دیش میں صحیح تعداد کتنی ہے؟ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ اینالیسس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دیش میں دو کروڑ سے زائد غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں۔ دیش میں رہنے والے اور ہندوستانی شہریوں مساوی سہولیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ناجائز بنگلہ دیشی پرواسیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہنے پر دہلی کی ایک عدالت نے مرکزی حکومت کو حال ہی میں جم کر جھاڑ پلائی۔ عدالت نے دو بنگلہ دیشی شہریوں کو ڈکیتی و قتل کے معاملے میں عمر قید اور 10 سال کی قید کی سزا سناتے ہوئے سخت ریمارکس دئے۔ ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا نے کہا ’’ہمارا دیش ان سبھی مجرمانہ عناصر کے لئے سورگ بن گیا ہے جو اپنے راستے میں آنے والے کسی شخص کے ساتھ انتہائی کٹرتا اور بربریت سے پیش آتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب دیش کے اصلی شہری انتہائی غریبی کا سامنا کررہے ہیں تو سرکارکو بھارت میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے اور شہریوں جیسی سبھی سہولیت حاصل کررہے ان 3 کروڑ بنگلہ دیشیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں دقت کیا ہے؟‘‘ جج نے کہا سرکار اور انتظامیہ کی ٹھوس کارروائی میں کمی ہے جس نے عدالتوں کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کی ناکامی کہیں یا سیاستدانوں کی ووٹ پالیسی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کبھی جمنا کے کنارے بسے جھگی جھونپڑیوں میں مقیم بنگلہ دیشی دراندازوں نے اب سرکار کے ذریعے مہیا کرائے گئے مکانوں کو حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان گھس پیٹھیوں کے پاس نہ صرف ہندوستانی ووٹر شناختی کارڈ ہے بلکہ راشن کارڈ سے لیکر تمام دستاویز موجود ہیں جو انہیں مقامی شہری بنانے کے لئے کافی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سرکاری سہولیات پا رہے ہیں بلکہ اب تو دلی این سی آر کے مسلم خاندانوں میں انہوں نے شادیاں بھی کرنی شروع کردی ہیں۔ دلی پولیس کے ریکارڈ میں چھوٹے بڑے کل 3 ہزار سے زائد بنگلہ دیشی جرائم پیشہ افراد کے بارے میں ریکارڈ درج ہے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو باقاعدہ بنگلہ دیش میں بیٹھ کر ہی گروہ کو چلاتے ہیں۔ دلی پولیس کے ایک اعلی افسر کے مطابق مسئلہ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کے ہندوستانی کلچر میں رچ بسنے سے زیادہ ہورہا ہے۔ ایسے کئی بنگلہ دیشی پکڑے گئے ہیں جنہوں نے ہاپوڑ ،دادری وغیرہ علاقوں میں شادیاں کررکھی ہیں۔ کئی بار یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بنگلہ دیشیوں کو پکڑ کر سرحد پار چھوڑنے گئی پولیس کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی یہ بنگلہ دیشی دوبارہ دلی پہنچ جاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے آئے کچھ لوگ نقلی کرنسی بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ حال ہی میں کرائم برانچ نے دو ایسے معاملے پکڑے ہیں جس میں مغربی بنگال سے نقلی نوٹ دلی لائے گئے تھے۔ یہاں آکر مرد جہاں چوری ، لوٹ مار کا کام کرتے ہیں وہیں ان کی عورتیں بچے منشیات کی اسمگلنگ میں لگ جاتے ہیں۔ لوٹ کا مال کھپانے کے لئے کچھ ٹریول ایجنٹوں کی بھی مدد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ پورے دیش میں کبھی بھی آگ پھیل سکتی ہے۔
(انل نریندر)

بینک ہڑتال سے آخر نقصان کس کو ہوگا؟


سرکاری سیکٹر کے بینکوں کی دوروزہ ملک گیر ہڑتال سے دیش بھر میں بینکوں میں لین دین بری طرح متاثر ہوا۔ بیشک پرائیویٹ بینکوں کے ملازمین ہڑتال میں شامل نہ ہونے سے کچھ حد تک صارفین کو پیسہ لینے یا جمع کرنے میں کوئی دقت نہیں آئی اور کچھ نے تو اے ٹی ایم سے کام چلایا۔ لیکن نجی سیکٹر یا پبلک سیکٹر کے اقتصادی لین دین پر اس کا اثر پڑا اور کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔ بینکوں میں کام کاج ٹھپ رہنے سے نقدی کی منتقلی، چیک کلیرینگ ،غیر ملکی کرنسی لین دین سمیت تمام بینکنگ سروس ٹھپ رہیں۔ وقت پر چیک کلیر نہ ہونے سے بڑی تعداد میں سودوں کی ادائیگی رک گئی۔ نقدی کا لین دین رک جانے سے شیئر بازاروں میں بھی سستی رہی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہڑتال کا دائرہ کافی وسیع رہا۔ اس کے ذریعے سرکاری سیکٹر 24 اور کچھ پرائیویٹ بینکوں کے 10 لاکھ ملازمین نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی سیکٹر میں 1 یا2 دن کی دیری بھی ہزاروں کروڑ روپے کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس ہڑتال کا اثر اتنا ہی محدود نہیں ہوگا۔ پچھلا ہفتہ کافی چھٹیوں والا تھا۔ یوم آزادی کے ایک دن بعد سنیچر اور ایتوار آگیا اور پیر کو عید کی چھٹی ہوگئی یعنی 15 اگست کے بعد کل دو پورے کام کاجی دن تھے۔ ہڑتال کے بعد جمعہ آگیا اورہفتہ شروع ہوگیا۔ اسی طرح تقریباً ڈیڑھ ہفتے کا کام کاج متاثر رہا بینک ملازم بینک اصلاحات کے لئے تشکیل کنڈیلوال کمیٹی کی سفارشوں اور بینکنگ قانون ترمیم بل کو واپس لینے کی مانگ کررہے ہیں۔ یونینوں کی دلیل ہے کہ اس بل سے چھوٹے بینکوں کا انضمام ہوگا اور لاکھوں لوگوں کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔ جہاں یونینوں کی مانگوں میں بیشک دم ہو لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ کسی بھی مسئلے کے لئے ہڑتال کبھی کارگر ہتھیار نہیں ہوتی۔ صنعتی سیکٹر میں اب تک جتنی بھی ہڑتالیں ہوئی ہیں ان میں مالکوں کی بہ نسبت ملازمین زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دیش میں کار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی کے مانیسر کارخانے کا تنازعہ اس کی تازہ مثال ہے۔ جہاں کبھی تین شفٹوں میں چھ ہزار سے زیادہ ملازم کام کرتے تھے ۔ ایک مہینے کی تالا بندی کے بعد یہاں محض تین سو ملازمین کو کام پر لیا گیا ہے۔ اس ورادات میں کمپنی کو بھلے ہی اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہو لیکن جن لوگوں کا کام چھن گیا ہے ان کے سامنے اس مہنگائی کے دورمیں ان کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بینک ملازمین کے معاملے میں یونینوں کا ٹکڑاؤ سیدھے سرکار سے ہے۔ دراصل دیش میں چھوٹے موٹے اشوز پر ہڑتال ،سڑک جام، توڑ پھوڑ کی ایک روایت سی بن گئی ہے۔ اگر اس کے مضر اثرات پر نظر ڈالیں تو آخر کار اس میں نقصان ملازمین یا جنتا کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ بینکوں کی دو روزہ ہڑتال پر غور کریں تو دیش کی معیشت پر 30 ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ بینک ملازم پچھلے کئی دنوں سے کئی بار ہڑتال کر چکے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اصلاحات کے بعد بدلے گئے ماحول میں بینکوں کے کام کاج میں اصلاحات کی کوششیں کی گئی ہیں اور بینک ملازم عام طور پر ان کے خلاف ہیں۔ ہوسکتا ہے ان تمام کوششوں میں کچھ قدم ایسے بھی ہوں جن کا اثر ان کے کچھ جائز مفادات پر پڑتا ہو لیکن یہ تو فطری ہے کہ کوئی بھی ادارہ اسی پرانے دھرے پر لگاتار نہیں چل سکتا۔ بدلے ہوئے ماحول میں خرچ کم کرنے پیدا وار بڑھانے کی کوشش بھی کی جائے گی اور ہڑتالیں انہیں کچھ وقت کے لئے ہی ٹال سکتی ہیں۔ ایتوار اور تہواروں کو ملا کر اگست ماہ میں بینکوں میں اب تک 7 دن کام نہیں ہوپایا ۔ ایسے میں یونین لیڈروں کی دو تین دن کی ہڑتال کے فیصلے کو کیا مناسب ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ نجی سیکٹر کے بینکوں سے ویسے بھی سرکاری بینک سہولیات اور سروس میں پچھڑ رہے ہیں۔کیا ان ہڑتالوں سے یہ بہتر ہوگا کہ بینک ملازمین کو اپنی باتیں منوانے کیلئے دیگر متبادل پر بھی غور کرنا چاہئے یا ہڑتال سے کونسے مسئلے کا حل نکلے گا؟ انہیں ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہئے کہ آخر ہڑتال کے ذریعے دیش کو کیا ملے گا کیا اس سے عام جنتا کو فائدہ ہوگا؟ ہماری جمہوریت میں تحریک اور ہڑتال کی آزادی ہے لیکن ہمیں دیش اور جنتا کے تئیں اپنے فرائض کو نہیں بھولنا چاہئے خاص کر بینکوں کو جن کاواسطہ براہ راست عوام سے پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

25 اگست 2012

بھاجپا کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے پر کانگریس کو بخشنے کو تیار نہیں


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کا معاملہ اپوزیشن کے ہاتھ ایسا لگ گیا ہے جس سے خود وزیر اعظم اور یہ سرکار آسانی سے بچ نہ پائے گی۔ کانگریس اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن،خبر پلانٹ کرنے کا دور زوروں سے جاری ہے۔ پارٹی نے جمعرات کو یہ بات اڑا دی کے بھاجپا ایم پی لوک سبھا سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ بعد میں بھاجپا کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر بھارت کے کمپٹرولر اڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو لیکر وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے پر اڑی بھاجپا نے صاف کیا کہ وہ نہ تو پارلیمنٹ چلنے دیں گے اور نہ ہی لوک سبھا سے استعفیٰ دیں گے۔ پورے معاملے میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب بدھوار کو دوپہر دو بجے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے والی تھی اس وقت شرد پوار اور سپا چیف ملائم سنگھ یادو بات کررہے تھے تو سشما سوراج ان کے پاس پہنچ گئیں اور بولیں شرد بھائی جب مہنگائی ہوتی ہے تو کانگریس کے لوگ آپ کو پھنساتے ہیں۔ ٹو جی گھوٹالہ ہوتا ہے تو راجہ کو جیل بھجوا دیتے ہیں، کنی موجھی کو تہاڑ پہنچا دیتے ہیں۔ پہلی بار کانگریس کے لوگ سیدھے سیدھے پھنسے ہیں۔ جس وقت کوئلہ بلاکوں کا بٹوارہ ہوا وزیر اعظم خاص طور سے نشانہ بنے ہیں اس لئے انہیں کیسے چھوڑدیں؟ ہر چیز پران کے دستخط اور دوسروں پھنسا کر خود بچ جاتے ہیں۔ شرد پوار اور ملائم سنگھ چپ چاپ یہ سنتے رہے، بولے کچھ نہیں۔ دراصل بھاجپا کے اندر یہ رائے بن چکی ہے کہ کانگریس زیادہ تر گھوٹالے پر اپنا ٹھیکرا اپنے اتحادیوں کے سرپھوڑ دیتی ہے اور خود پاک صاف ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ کیونکہ اس مرتبہ کانگریس سیدھے سیدھے پھنسی ہے اس لئے اسے بھی تھوڑا سبق سکھانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے اندر اورباہر بنے اس ماحول سے گد گد بھاجپا کے حکمت عملی سازوں اب اس لڑائی کو مرحلہ وار طریقے سے لڑنے کی اپنی اسکیم کو انجام دینے کے موڈ میں نظرآرہے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے لڑائی کے اشارے خود پارٹی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے بھی دئے۔ پارٹی نیتا حالانکہ پہلے تو جے پی سی سے اپنے ممبران کے استعفے دینے کی بات کو مسترد کرچکے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنے سے نہیں چوکے کہ جے پی سی میں جانے یا نہ جانے کی بات ابھی پوری طرح اس کے چیئرمین پی سی چاکو کے برتاؤ پر منحصر ہے۔پارٹی کی حکمت عملی کا یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اگر جے پی سی کے چیئرمین ٹو جی گھوٹالہ میں گواہی کے لئے وزیر اعظم یا وزیر خزانہ کو بلانے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو ان پر سرکار کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھاجپا کے ممبر اجتماعی طور سے جے پی سی سے استعفیٰ دیں گے۔ دوسرے مرحلے کے تحت پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کی دیگر کمیٹیوں سے بھی اپنا استعفیٰ دیں گے۔ اس درمیان پارٹی پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر اپنی تحریک کو تیز کرے گی۔ حالانکہ ابھی تیسرے اور چوتھے مرحلے اورپانچویں مرحلے کو لیکر تھوڑی الجھن کی حالت بنی ہوئی ہے لیکن اتنا ضرور لگتا ہے کہ بھاجپا نے طے کرلیا ہے کہ اس بار کانگریس کو اتنی آسانی سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ دوسری طرف سونیا گاندھی نے بھی اپنے ممبران کو لڑنے کی تیاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لگتا ہے کہ لڑائی ابھی لمبی چلے گی۔
(انل نریندر)

بابا رام دیو کی مشکلیں کم ہوتیں دکھائی نہیں پڑتیں


یوگ گورو بابا رام دیو سے یوپی اے سرکار اب اپنی غصہ نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔بابا پر سیدھا ہاتھ نہ ڈالتے ہوئے سرکار نے ان کی فارمیسی اور ان کے سب سے قریبی بال کرشن پر ہاتھ ڈالا ہے۔ دلی میں رام لیلا میدان میں تحریک ختم کرکے بابا ہری دوار پہنچے ہی تھے کہ ان کے دویہ یوگ آشرم میں جمعرات کو اتراکھنڈ کے محکمہ خوراک و ادویات کے افسروں نے چھاپہ مارا ۔ اور دوائیوں کے نمونے اکٹھے کئے۔ تین گھنٹے تک چلی کارروائی میں شہد، نمک، چنے کا آٹا وغیرہ کے نمونے اکٹھے کئے گئے۔ رام دیو نے اسے مرکزی سرکار کے اشارے پر کی گئی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی اور اونچے طبقے کے بیچ لڑائی ہے۔ کیا انہوں نے (سرکار) نے کبھی غیر ملکی کمپنیوں پر چھاپے مارنے کی ہمت دکھائی؟ لیکن مجھے نشانہ بنایا گیا۔ لیکن چھاپے کے تھوڑی دیر بعد بابا کے لئے ایک اچھی خبر آئی ان کے سب سے قریبی بال کرشن کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ضمانت دے دی۔ بال کرشن کو فرضی دستاویز سے وابستہ معاملوں میں سی بی آئی نے20 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ بال کرشن پر جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے اور جعلی تعلیمی ڈگری کا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ بال کرشن کی ضمانت عرضی نچلی عدالتوں سے دو بار خارج ہو چکی ہے اس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کی پناہ لی۔ سی بی آئی نے10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سمن بھیجے جانے کے بعد بھی بال کرشن پیش نہیں ہوئے۔ بابا اور بال کرشن کی دوستی اٹوٹ ثابت ہورہی ہے۔ آچاریہ کی گرفتاری سے نہ تو انتظامات پر فرق پڑا اور نہ ہی وہ قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوئیں کہ دونوں کے رشتوں کو لیکر اختلافات ہیں۔ ضمانت پر رہا ہوکر لوٹتے ہی پتنجلی یوگ پیٹھ کے تمام اختیارات پھر بال کرشن کے پاس آگئے ہیں۔ ایم ڈی کی شکل میں تمام اداروں کے افسر آچاریہ کو رپورٹ کررہے ہیں۔پچھلے سال4 جون کے واقعہ کے بعد جس طرح آچاریہ کو پاسپورٹ کے اشو پر سی بی آئی نے گھیرنا شروع کیا تھا اسے دیکھتے ہوئے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بابا رام دیو کا خاندان پتنجلی پیٹھ کے تمام اختیار سنبھال لے گا۔ بابا حالانکہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ آچاریہ کے بغیر پتنجلی کا وجود ادھورا ہے۔ یہ سارے خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن میں گھیرے رشتے ہیں لیکن بابا رام دیو کی مشکلیں فی الحال کم ہوتی نہیں دکھائی پڑتیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ان کے ساتھی بال کرشن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس کے بعد بال کرشن کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ای ڈی جانچ کرے گا کہ بال کرشن نے بیرونی ممالک سے پیسے کے لین دین میں منی لانڈرنگ روک تھام قانون کس طرح سے توڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بال کرشن کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ ای ڈی کو شبہ ہے کہ اس فرضی پاسپورٹ کا استعمال کرکے بال کرشن نے غیر ملک سے غیر قانونی پیسے کا لین دین کیا ہے۔ بابا رام دیو کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ منموہن سرکار ہر طرح سے بابا پر دباؤ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سے تو یہ بھی لگتا ہے کہ بابا اور سرکار کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔
(انل نریندر)

24 اگست 2012

راج ٹھاکرے نے اٹھائی بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کیخلاف آواز


منگلوار کو مہاراشٹر نو نرمان سینا (منسے) صدر راج ٹھاکرے نے گرگام چوپاٹی سے ممبئی کے آزاد میدان میں زبردست ریلی نکال کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی۔ ہزاروں کی تعداد میں ریلی کرکے یہ ثابت کردیا کہ ممبئی کی راج نیتی میں وہ ایک ابھرتی شکتی ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ایک ہی لفظ میں کانگریس، این سی پی گٹھ بندھن کو تو اپنی بڑھتی طاقت کا احساس تو کرایا ہی ساتھ ہی شیو سینا اوربھاجپا کو بھی اپنی حیثیت جتادی۔ پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے پہلے گرگام چوپاٹی پہنچے وہاں سے پیدل چل کر آزاد میدان گئے۔پولیس نے آزاد میدان میں پروگرام کرنے کی منظوری تو دی تھی لیکن سڑک پر مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ہم راج ٹھاکرے کو اس بات کی ہمت دکھانے کے لئے بدھائی دیتے ہیں کہ ریلی میں انہوں نے جم کر ان غیر قانونی گھس پیٹھ بنگلہ دیشیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ آخر کسی نے تو ہمت کی۔آزاد میدان میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے 11 اگست کے فسادکے لئے وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور پولیس کمشنر سروپ پٹنائک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ 11 اگست کو آزاد میدان پررضا اکیڈمی نے آسام تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ بعد میں بھڑکے فساد میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ 55 لوگ زخمی ہوئے تھے ان میں سے45 پولیس والے تھے۔ میڈیا کے ساتھ بھی مار پیٹ ہوئی تھی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ پولیس پر حملہ کرنے والے مہاراشٹرین نہیں ہوسکتے۔ یہ بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کی کرتوت ہے۔ دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ پولیس پر ہاتھ اٹھانے والے کسی بھی دھرم کا ہو اسے وہیں پیٹ کر صحیح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے آکر لوگ پہلے جھارکھنڈ اور بہار میں رکتے ہیں پھر وہاں سے ٹرینوں میں بھر بھر کر ممبئی پہنچ جاتے ہیں۔انہی لوگوں کے بوتے پر ابو عاصم اعظمی (سپا) صدر جیسے نیتا دو دو ودھان سبھا جیت جاتے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے ہندوتو کے مدعے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ طویل مورچہ انہوں نے کسی کے مدعے کو عام کرنے کے لئے نہیں نکالا بلکہ ممبئی فساد میں شکار ہوئے پولیس والوں اور میڈیا والوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے نکالا ہے۔مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی ریلی نکالی اور آزادمیدان میں بھاشن دیا۔ ان کے بھاشن کے بعد مہاراشٹر پولیس کے کانسٹیبل پرمود ٹاوڑے نے منچ پر جاکر انہیں پھول دئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی پولیس نے پرمود کو حراست میں لے لیا۔اس پر ڈیوٹی کے دوران ڈسپلن توڑنے کا الزام ہے۔ پرمود نے کہا کہ11 اگست کے واقعہ کے بعد راج ٹھاکرے پہلے نیتا ہیں جنہوں نے پولیس کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ راج ٹھاکرے ،شیو سیناٹھاکرے بالا صاحب کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں۔ اب تو ٹھاکرے پریوار میں صلح ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر ودھان سبھا چناؤ میںیقینی طور پر بال ٹھاکرے ایک شکتی کے روپ میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اس غیرقانونی گھس پیٹھیوں اور ماحول بیگاڑنے والے لوگوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے کی ہمت تو دکھائی۔
(انل نریندر)

بینی پرساد جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


کانگریس میں بینی پرساد ورما جیسے دوست ہوں تو انہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اترپردیش کے اکھڑ نیتا ہیں جو کبھی سماج وادی پارٹی میں ملائم سنگھ یادو کے سب سے قریبیوں میں سے ایک تھے، جو بعد میں کانگریس میں آگئے۔ اب اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے وہ زیادہ ہی جٹ گئے ہیں۔ پروانچل میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والے یہ پچھڑے ورگ میں پیٹ رکھنے والے بینی پرساد پچھلے کچھ دنوں سے اپنے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اکھڑ مزاج کے لئے وہ جب سپا میں بھی تھے تب بھی وہ ملائم سے بھڑ جاتے تھے لیکن مضبوط کرمی ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے ملائم کو بھی انہیں منانا پڑتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ سپا کو لات مار کر کانگریس میں داخل ہوگئے۔ اب وہ کٹر کانگریسی بن کر سب سے زیادہ نشانہ سپا پر ہی سادھ رہے ہیں۔ دہائیوں تک کانگریس مخالف راجدھانی کرتے رہے، بینی پرساد جب سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں تب سے اپوزیشن کی جم کر مخالفت کرتے ہیں۔ بھاجپا کو تو آئے دن فرقہ پرست ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ اب جب سے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے تعلقات خوشگوار ہوئے ہیں تب سے بینی پرساد کانگریسی نیتاؤں کو یہ احساس کرانے سے نہیں چوکتے کے ملائم سنگھ زیادہ بھروسے لائق نہیں ہیں کیونکہ ان کا ملائم سنگھ کا راج نیتک جیون راج نیتک دھوکے بازی کا ہی رہا ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ ایک درج سے زیادہ مثالیں ایک سانس میں ہی دے جاتے ہیں۔بینی بابو اس وقت منموہن منتری منڈل میں اسٹیل منتری ہیں۔ راہل گاندھی کے تمام زور کے باوجود ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس کو خاص کامیاب نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہی بینی بابو تھے۔ بینی بابو کے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے ہی پارٹی کی چناوی لٹیا ڈوبی۔ ہر مہینے وہ کوئی نہ کوئی نیا بونڈر کھڑا کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہہ ڈالا کہ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو انہیں یہ کہہ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ کیونکہ اس میں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس نہ پسندیدہ تبصرے سے پوری اپوزیشن منتری جی کے خلاف متحد ہوگئی ہے۔ یہ تنازعہ ابھی گرم ہی تھا کہ بینی بابو نے ایک اور واویلا کھڑا کردیا۔ انہوں نے سوموار کو کہہ دیا کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں راج نیتک مقابلہ راہل گاندھی بنام نریندر مودی کے بیچ ہوگا۔ ایسے میں سپا جیسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے منگیری لال چھاپ خواب سجائے بیٹھی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے دنوں سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو نے یہ امید جتائی تھی اگلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے بجائے تیسرے مورچے کی سرکار بننے کے زیادہ آثار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے سپہ سالاروں سے کہا تھا کہ اگر سپا کو لوک سبھا میں60 سیٹیں مل جاتی ہیں تو نئی سرکار کی قیادت کی صورت میں وہ آسکتی ہیں۔ اس رائے زنی کو لیکر بینی بابو نے سپا اور ملائم پر تلخ نقطہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے لگتا ہے کہ ملائم کچھ پگلانے لگے ہیں اور ان کی عقل بھی کچھ سٹھیانے لگی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک طرف کانگریس میں بینی بابو کی تازہ رائے زنی پر کیا رد عمل ہوتا ہے اور دوسری طرف سپا کیا جواب دیتی ہے؟
(انل نریندر)

18 اگست 2012

با بارام دیو کی تحریک کا کیا اثرہوگا؟


بابا رام دیو کی تحریک شانتی سے ختم ہوگئی۔ لگتا ہے کہ پچھلی بار اسی رام لیلا میدان کے واقعہ سے بابا نے کچھ سبق سیکھا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے۔ اتنی بھیڑ کو ہر پل قابو میں رکھنا آسان کام نہیں تھا، جس میں بابا رام دیو کامیاب رہے۔ بابا نے انا ہزارے کی تحریک کو ایک طرح سے ہائی جیک کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے ان سبھی اشوز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا جسے لیکر انا چل رہے تھے۔ ویسے راجدھانی میں10 دنوں کے اندر دو تحریک اپنے قطعی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں۔ دونوں ہی تحریک مرکز میں یوپی اے سرکار کے خلاف رہیں ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک سیاسی متبادل پر آکر ختم ہوئی لیکن بابا کی تحریک یوپی اے کے متبادل این ڈی اے کے طور پر ختم ہوتی نظر آئی۔ انا کی تحریک تہاڑ جیل سے شروع ہوئی تھی اور رام دیو کی تحریک عارضی جیل امبیڈکر پہنچ کر ختم ہوگئی۔ رام دیو کے اسٹیج پر جس طرح سے این ڈی اے کے لیڈر پہنچے اور بابا کی کھل کر حمایت کی اس سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگلے عام چناؤ میں باباکو این ڈی اے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ بابا روز مرہ گرگٹ کی طرح اس بار رنگ بدلے نظر آئے۔ رام دیو نے پہلے تین دن انشن کا اعلان کیا ، تین دن بعد سنیچر کو اگلی حکمت عملی اپنالی پیرکو صبح 10 بجے انشن ختم کریں گے اور اعلان کیا کہ انہیں سیاسی پارٹیوں کی حمایت مل رہی ہے۔ ادھر بال کرشن کی ضمانت نہیں ہوئی تو بابا نے سوا دس بجے پارلیمنٹ کوچ کا اعلان کردیا۔ حراست میں لیا تو کہا جیل میں توڑیں گے انشن۔ امبیڈکر اسٹیڈیم میں پہلے بولے کہ کھانے پانی پر انشن توڑیں گے۔ لوگوں کی بھیڑ امڑی تو مانگے مانے جانے تک انشن جاری رہے گا، پھر بولے 15 اگست کو اسٹیڈیم میں جھنڈا لہرائیں گے۔ آخر میں انشن بھی توڑدیا اور ہری دوار بھی چلے گئے۔ دیکھا جائے تو مرکزی حکومت انا کی طرح رام دیو کی تحریک سے بھی نمٹنے میں کامیاب رہی۔ حکومت نے پہلی بار کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھا۔ پہلی بار تو چار چار وزیر بابا کو ہوائی اڈے لینے گئے۔ اس مرتبہ سرکار نے بابا کو کوئی بھاؤ نہیں دیا نہ کوئی وزیر آیا اور نہ کوئی وعدہ کیا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ جنتا کی آواز اٹھانے والی تحریکوں کے دوران عام لوگ ہی سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ کالی کمائی کا اپنے طریقے سے علاج کرنے پر اڑے بابا رام دیو کی تحریک نے پیر کو دہلی کو جام کردیا۔ ہزاروں گاڑیاں جام میں پھنس گئیں ۔ ضروری کام کاج کے لئے نکلے لوگ اور مریض گھنٹوں پریشان ہوتے رہے۔ لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ اتنا دباؤ بنانے کے باوجود کیا بابا رام دیو کالی کمائی اور اپنی دیگر مانگوں کے اشو پر کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کر پائیں گے؟ انہوں نے سی بی سی اور چناؤ کمیشن کو مکمل آزادی دینے کا اشو اٹھایا اور اس کے ساتھ ہی لوکپال کے اشو پر بھی زور دیا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تین چار دن کے الٹی میٹم میں اتنی مانگوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ضد کچھ کچھ ٹیم انا جیسی ہے جو ایک وقت میں چاہتی تھی کے پارلیمنٹ اور سرکار ان کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے مسودے کو فوری طور پر منظور کرلے۔ ان دونوں تحریکوں کو یہ سہرہ ضرور جاتا ہے کہ کرپشن اور کالی کمائی کا اشو آج سیاست کے مرکز میں جگہ لے چکا ہے مگر یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ آج کے سیاستدانوں میں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے کیوں نہ ہوں ، انہیں پورا کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے مقصد کے لئے شروع ہوا بابا کا یہ آندولن محض کانگریس کی مخالفت تک سمٹ کر رہ جائے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...