Translater

14 دسمبر 2011

پاکستان کے راہل گاندھی : بلاول بھٹو زرداری


Published On 14th December 2011
انل نریندر
مرحومہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے صاحبزادے بلاول آج تک پاکستان کی سیاست میں کافی سرگرم ہوگئے ہیں۔ صدر زرداری کے دوبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہونے کے ساتھ ہی بلاول کو پاکستان کی حکمراں پارٹی پی پی پی کی جانب سے اہم میٹنگوں میں بلایا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ بلاول کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پارٹی کو آئندہ کے امیدوار کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی بھی کہہ چکے ہیں بلاول پاکستان کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ رنگین مزاج طالبعلم رہ چکے 23 سالہ بلاول بھٹو کی پاکستانی سیاست میں اچانک سرگرمیاں بڑھنے سے ملک کی اپوزیشن پارٹیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد والد زرداری کے صدر بننے اور بلاول پی پی پی کے چیئرمین مقرر کئے گئے تھے۔ اب جس طرح سے وزیر اعظم گیلانی کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین رضاربانی نے انہیں قومی سکیورٹی حالات سے متعارف کرا رہے ہیں اس سے پارٹی کی اس حکمت عملی کی تصدیق ہوتی ہے کہ بلاول کو نہ صرف حکمراں پارٹی بلکہ پاکستان کی حکومت میں بھی بڑی ذمہ داری لینے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔ حالانکہ بلاول ستمبر2013ء میں 25 سال کے ہونے کے بعد ہی پاکستانی اسمبلی کے لئے بھی چناؤلڑسکیں گے۔ اس لئے تب تک ان کے وزیر اعظم بننے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ کیونکہ پاکستانی اسمبلی کے چناؤ 2013ء میں ہی طے ہیں اس لئے مانا جارہا ہے کہ تب تک بلاول کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر ایک مکمل سیاستداں کی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ بلاول نے جنتا کے درمیان جانے کا پروگرام بنایا ہے اور ان کے موجودہ تیور کو دیکھتے ہوئے ان کا کچھ پاکستانی بھارت کے راہل گاندھی سے موازنہ کررہے ہیں لیکن یہ بھی کہہ رہے ہیں اگر بلاول کو سیاسی دنیا میں آنا ہے اور پاکستانی عوام کے درمیان اپنی ساکھ بنانی ہے تو انہیں اپنی رنگین مزاجی کی عادت کو بدلنا ہوگا۔ بلاول کو نہ صرف جہاد اور کٹر پنتھیوں کی بڑھتی طاقت پر و امریکہ کے ساتھ بگڑتے پاکستانی فوج کے رشتوں پر بھی اپنی بیباک رائے دینی ہوگی۔ کچھ پاکستانی مبصرین کا خیال ہے بلاول کو سرگرم کرنے کے پیچھے بھی پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستانی سیاست میں سابق کرکٹر عمران خان کافی ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ ان کی پارٹی تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔
پاکستانی فوج عمران کو زیادہ پسند نہیں کرتی اور وہ اس کے بڑھتے قدموں کو ہر حال میں روکنا چاہتی ہے۔ اگر جنرل کیانی ایسا نہ کر سکے تو وہ کم سے کم یہ چاہتے ہیں کہ عمران ان کی پکڑ میں رہے اور ضرورت سے زیادہ آزاد نہ ہوں۔ بلاول کو آگے کرکے جنرل پرویز کیانی کا یہ مقصد پورا ہوجاتا ہے کہ ملک میں کٹھ پتلی وزیر اعظم ہو اور پردے کے پیچھے اصل طاقت پاکستانی فوج کے پاس رہے۔ ادھر امریکہ سے پاکستان کی کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے ایتوار کو شمسی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ جی او نیوز نے خبردی ہے کہ پاکستان کے وزارت ہوائی بازی اور ڈیفنس وزارت اور اندرونی امور کی وزارت کے اعلی افسر اس موقعہ پر بلوچستان میں واقع شمسی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔
ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے شمسی ہوائی اڈے کو چھوڑنے سے پہلے وہاں لگے اپنے سارے آلات کو ضائع کردیا تاکہ وہ پاکستان کے ہاتھ نہ لگ پائیں۔ اسی اڈے سے امریکہ ڈرون جہازوں سے حملہ کرتا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک نئی ڈیفنس پالیسی کے تحت اب پاکستانی فوج دیش کے ہوائی زون میں کسی بھی امریکی ڈرون کو گرا سکتی ہے۔ اسے اب یہ اختیارات دے دئے گئے ہیں۔ این بی سی نیوز نے پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ڈرون سمیت ہمارے ہوائی زون میں داخل ہونے والے کسی بھی باہری عناصر کے ساتھ دشمن کی طرح برتاؤ کیا جائے گا اور اسے گرادیا جائے گا۔ سینئر فوجی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 26 نومبر کو ہوئے ناٹو کے حملے کے بعد جس میں28 پاک فوجیوں کی موت ہوگئی تھی، جنرل کیانی نے امریکی ڈرون کو گرانے کے احکامات سمیت کئی ہدایات جاری کیں پاکستان نے ناٹو کی سپلائی شاہراؤں کو بھی بند کردیا۔ کل ملاکر پاکستان کی اندرونی سیاست اور غیر ملکی سیاست دونوں میں ہی ہلچل بڑھ گئی ہے۔
America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

سوبرسوں میں دہلی کی تصویر، تاریخ اور جغرافیہ سب بدلا ہے


Published On 14th December 2011
انل نریندر
12 دسمبر 1911ء کو جارج پنچم کا کرونیشن پارک میں ہندوستان کے نئے سمراٹ کی شکل میں راج تلک ہوا تھا۔ تقریب کے اختتام کے بعد ہی جارج نے اس اعلان سے سبھی موجود تجربہ کار شخصیتوں کو چونکا دیا۔''ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی راجدھانی کولکتہ سے دہلی منتقل کی جائے۔ دیش کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے برطانوی حکومت ہندوستان کی راجدھانی کو کولکتہ سے دہلی منتقل کررہی ہے۔'' شاید انگریز ایک نیا شہر بنانا چاہتے تھے۔ دہلی کے انتخاب کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ تاریخی طور سے دیش کی راجدھانی رہی ہے۔ مغلوں نے دہلی کو ایک نئی پہچان دی تھی۔ انگریز دراصل مغلوں سے بہت متاثر تھے ۔ وہ بھی انہی کی طرح اور طویل عرصے تک راج کرنا چاہتے تھے جس کی جھلک ان کے ذریعے اس وقت بنائی گئی عمارتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ دہلی کو راجدھانی بنے 100 سال ہوگئے ہیں۔ جب انگریزوں نے نئی دہلی کو راجدھانی بنایا تھا تو دہلی کو لٹین کی دہلی کہا جاتا تھا۔ کیونکہ پورا علاقہ رائے سینا پہاڑی کے ارد گرد نئے سرے سے بنایاگیا تھا۔ اسے ڈیزائن اڈون لٹین اور ہاربرٹ بیکر نے کیا تھا۔انگریز راجدھانی بنانے کے بعد زیادہ دن نہیں ٹک سکے اور 15 اگست1947 ء کو ہی انہیں یہاں سے جانا پڑا۔ 1911 میں دہلی ایک گرتا ہوا پراناشہر تھا۔ چار دیواری سے گھرے شہر کے باہر محض گاؤں اور قطب اور نظام الدین کی درگاہ کے پاس کچھ بستیاں تھیں۔ لٹین اور بیکر نے انڈیا گیٹ ،راشٹرپتی بھون سمیت دہلی کو جدید شکل دی۔ دہلی کل 8 شہروں کو ملا کر بنی ہے لیکن دہلی کی تاریخ تین ہزار سال پرانی ہے۔مانا جاتا ہے کہ پانڈو نے اندر پرستھ کا قلعہ جمنا کے کنارے بنایا تھا۔ تقریباً اسی جگہ آج مغل زمانے میں بنا پرانا قلعہ ہے۔ ہر حکمراں نے دہلی کوراجدھانی کے طور پر الگ الگ پہچان دی۔ کئی بار دہلی برباد ہوئی اور کئی بار بنی۔
ہر سلطان نے اپنی دیرینا چھاپ چھوڑی، اپنا بنایا۔ دہلی کی تاریخ پر کئی کتابیں لکھنے والی سعدیہ دہلوی کہتی ہیں کہ 1930 کے بعد راجدھانی کی شکل تیزی سے بدلی ہے کیونکہ1911 ء سے1931 کے درمیان نئی راجدھانی نے وجود اختیار کیا۔ آزادی کے بعد قومی راجدھانی سے مغربی تہذیب کارنگ تیزی سے چڑھا۔ آج حالت یہ ہے کہ یہ قدرتی طور سے تین حصوں میں بٹ گئی ہے۔ یمنا ے میدان کی زمین دو ندیوں کے بیچ میں واقع ہے اور میدانی حصہ ۔دہلی کی آبادی 3850507 ہے اور ہر سال یہاں پانچ لاکھ لوگوں کی آبادی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ دہلی والے اپنی فراخ دلی کے لئے جانے جاتے ہیں اور ان کا مہمان کے طور پرخیر مقدم کرتے ہیں۔ دہلی آج فلائی اووروں کا شہر بن گیا ہے۔ میٹرو سے دہلی کی ایک الگ پہچان بنی ہے۔ دہلی بہت تیزی سے پھیلی ہے ۔ آج دہلی میں تین ریلوے اسٹیشن ہیں۔ دلی جنکشن، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور نظام الدین ریلوے اسٹیشن۔ ریاست میں تین بس اڈے ہیں۔ دو ہوائی اڈے ہیں۔
دہلی کا کل رقبہ 1483 مربع کلو میٹر ہے۔ ان 100 سالوں میں دہلی نے ہر معنی میں ترقی کی ہے اوردنیا کے شہروں میں نئی دہلی کا نام شمار ہونے لگا ہے۔ یوں کسی شہر کے لئے 100 سال کا وقت بہت زیادہ نہیں ہوتا لیکن پچھلے 100 سال میں دہلی کی تاریخ اور جغرافیہ بہت بدل چکا ہے۔
100 years of Delhi, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun

13 دسمبر 2011

کولکتہ کے بدقسمت صحت یاب ہونے آئے تھے لیکن ملی موت


Published On 13th December 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ عرصے سے کولکتہ کے ہسپتالوں کی اخباروں میں سرخیاں بنتی رہی ہیں اور دنیا کو مغربی بنگال میں مریضوں کی خستہ حالت کا پتہ چلا ہے۔ جمعہ کی صبح کولکتہ کے ایڈوانس میڈیکیئر اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اے ایم آر آئی میں خوفناک آگ لگ گئی۔ کولکتہ کے اس پرائیویٹ ہسپتال میں آگ لگنے سے تقریباً90 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ان میں سے زیادہ تر مریض تھے جو آئے تو تھے ہسپتال میں ٹھیک ہونے کے لئے لیکن ہسپتال سے ان کی جلی ہوئی لاش نکلی۔ کیا اس سے زیادہ بدقسمتی اورکچھ ہوسکتی ہے کہ لوگ جہاں زندگی کی سلامتی کی امید میں آئے وہیں انہیں قیامت کا شکار ہونا پڑا۔ مرنے والوں میں نوزائدہ بچے بھی شامل تھے۔ جمعہ کی صبح سویرے آگ سانحہ پیسے اور رسوخ کے دم پر سرکار کی مشینری کے ساتھ ملی بھگت کر قاعدے قانون کی دھجیاں اڑانے کی تازہ مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمارے اس لچر سسٹم کی پول کھولتا ہے جس میں حساسیت مسلسل ختم ہوتی جارہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال کمائی کرنے کا گارنٹی شدہ ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس کثیر منزلہ پرائیویٹ ہسپتال میں جب آگ لگی تب وہاں اس سے بچنے کے لئے احتیاطی وسائل تک موجود نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی کیونکہ شیشوں کے پینلوں کے سبب کاربن مونوآکسائیڈ اور امونیا کا زہریلا دھنواں باہر نہیں نکل پایا اور وہاں آکسیجن کی کمی ہوگئی۔ اس حادثے کے لئے ہسپتال کے ملازمین تو ذمہ دار ہیں ہی مگر انتظامیہ کوبھی جوابدہ ہونا چاہئے۔ لائسنس دینے والے اور اجازت دینے والے جوابدہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ آخر محض چار پانچ سال پہلے بنی اس ایئر کنڈیشن ہسپتال کی عمارت میں اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوگیا؟ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے سانحہ کی اعلی سطحی جانچ کے حکم دینے کے ساتھ ہی ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے اور مینجمنٹ کے لوگوں کو لاپرواہی اور غیر ارادتاً قتل کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی سسٹم کو اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا آخر اس بدقسمت ہسپتال میں سلامتی کے موزوں انتظام کیوں نہیں تھے؟ ہسپتال کے جس تہہ خانے کا استعمال پارکنگ کے لئے ہونا چاہئے تھا وہاں زندگی بخش سامان کیوں نہیں تھا۔ کیا وجہ رہی ہسپتال انتظامیہ نے فائر برگیڈ اور پولیس کی اس وارننگ کو کیوں نظر انداز کردیا جس میں تہہ خانے کے بیجا استعمال کو لیکر خبردار کیا گیا تھا؟ کیا یہ لاپرواہی کی ایک صریحاً مثال نہیں ہے کہ آگ کا شکار ہوا سات منزلہ ہسپتال ویسے تو ایئر کنڈیشن تھا لیکن آگ کے بچاؤ کے اس میں وسائل ندارد تھے۔ مغربی بنگال کی حکومت اس حادثے کے بعد یہ دلیل دے کر اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ لیفٹ پارٹیوں کے لمبے عہد نے سب کچھ تباہ برباد کردیا۔
ممتا بنرجی کو اقتدار سنبھالے ابھی چھ مہینے ہورہے ہیں اصلاحات کی سمت میں کام آگے بڑھانے کے لئے انہیں فرصت نہیں ہے۔ پچھلے کچھ وقت سے ہسپتالوں کی دردشاکے معاملے بھی سرخیاں بنتے رہے ہیں۔ اب بھی ریاستی سرکار کی آنکھیں نہیں کھلیں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دیگر شہروں میں بھی زیادتر یہی حالت ہے۔ امید کی جاتی ہے ریاستوں کی حکومتیں اس آگ سے سبق لیں گی اور اپنے اپنے راجیوں میں ہسپتالوں میں سختی سے آگ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے موزوں اقدامات پر خاص توجہ دیں گی۔
AMRI Hospital, Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

کانگریس اور راشٹریہ لوکدل اتحاد یوپی میں گل کھلا سکتا ہے



Published On 13th December 2011
انل نریندر
اترپردیش کے 2007 ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اپنے دم خم پر لڑ کر اپنی اپنی سیاسی زمین کو کھسکا چکیں کانگریس اور راشٹریہ لوکدل آخر کار اس مرتبہ 2012ء میں یوپی اسمبلی چناؤ ایک ساتھ مل کر لڑیں گی۔راشٹریہ لوکدل کے پردھان اجیت سنگھ کی کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات سے اب اس اتحاد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیوں میں اتحاد پرباقاعدہ مہر لگ گئی ہے۔ریاست میں اپنا مینڈیڈ واپس لانے کے لئے جٹی کانگریس مغربی اترپردیش کی جاٹ بیلٹ میں اجیت سنگھ کے ساتھ ملنے کے بعد انہیں مرکز میں وزیر بنانے کو بھی تیار ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتحاد میں آر ایل ڈی 48 سیٹوں پر چناؤ لڑ سکتی ہے۔ پہلے آر ایل ڈی 80 سیٹوں کی مانگ کررہی تھی۔ سمجھوتے کے مطابق پچھلے چناؤ میں جن سیٹوں پر جس پارٹی کے امیدوار جیتے تھے وہ سیٹ اس کے کوٹے میں ہی رہے گی۔ کانگریس، راشٹریہ لوکدل کے چناوی اتحاد ہونے سے مغربی اترپردیش کی سیاست کے تجزیئے بدلنا طے مانا جارہا ہے۔ سرکردہ لیڈروں کے ساتھ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی موجودگی میں یہ خبر پارٹی ورکروں کے لئے ایک جوش بڑھانے والی تھی۔ اترپردیش کی سیاست میں یہ اتحاد نیا گل کھلا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سرکردہ لیڈر رشید مسعود کا پالا بدل کر کانگریس کی طرف آنا اس اتحاد کو اور طاقت دے سکتا ہے۔ آر ایل ڈی کا دعوی ہے کہ پارٹی کااثر آگرہ، علی گڑھ، میرٹھ ، سہارنپور اور مراد آباد زون کی 136 سیٹوں پر ہے اس لئے یہ اتحاد آنے والے اسمبلی چناؤ میں کارگر ثابت ہوگا۔ آر ایل ڈی کے ترجمان نے تو کہا کہ کانگریس آر ایل ڈی اتحاد اترپردیش میں سرکار بنائے گا۔ مغربی اتر پردیش میں تو ترجمان کا کہنا ہے سپا بسپا دونوں صاف ہوجائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ جاٹ ووٹ جلدی سے کسی دوسری پارٹی کو منتقل نہیں ہوتا لیکن آر ایل ڈی کی حمایت سے کانگریس کو جاٹ بیلٹ میں کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔مسلم ریزرویشن کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا مگر مسلم اور جاٹ دونوں ہی کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں یا یوں کہئے کہ بسپا سپا کے خلاف ووٹ ڈال سکتے ہیں تو یقینی طور سے یہ کانگریس کو فائدہ پہنچائے گا۔ اترپردیش کی دو سمت والی سیاست کو کانگریس نے یہ اتحاد کرکے نیا موڑ دے دیا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں وہ اس بالادستی کو پہلے ہی توڑ چکی ہے جس میں بسپا آدھی ہوگئی تھی اس لئے کانگریس کی نئی حکمت عملی کی بنیاد پر کمزور اب نہیں مانا جاسکتا ۔ ابھی مسلمانوں کو ریزرویشن کا معاملہ کانگریس کے پاس بچا ہے جو جلد سامنے آسکتا ہے۔
کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل اور ایم پی راہل گاندھی نے سنیچر کو لکھنؤ میں کہا کہ پردیش کے ورکرکافی صلاحیت والے اور سرگرم ہیں۔ اگر 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو پورے دم خم سے وہ جٹ جائیں تو اترپردیش میں کانگریس کو سرکار بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پچھلے دو روزہ دورہ پر راجدھانی لکھنؤ پہنچنے پر راہل گاندھی نے پردیش دفتر میں اس کے عہدیداران ضلع و شہری پردھانوں کو خطاب کیا تھا اور کہا تھا کانگریس ورکروں میں پردیش میں کانگریس کی سرکار بنوانے کی بھرپور صلاحیت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ورکر پورے تن من کیساتھ آنے والے چناؤ میں لگ جائیں۔انہوں نے کہا 1991ء سے 2009ء تک کانگریس نے اترپردیش میں پوری سنجیدگی سے چناؤ نہیں لڑا اس لئے تقریباً دو دہائیوں تک غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ صحیح معنی میں ابھی کانگریس پارٹی 2012ء میں چناؤ لڑنے جارہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں اترپردیش کے اقتدار پر سپا، بسپا اور بھاجپا کی غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ ان کے عہد میں اترپردیش بری طرح سے پچھڑ گیا۔ راہل نے کہا کہ غیر کانگریسی حکومتوں سے پردیش کی جنتا بری طرح سے عاجز آچکی ہے اور اب پردیش میں بدلاؤ کا ماحول بھی تیار ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ کانگریس کی سرکار اقتدار میں آئے۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, RLD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

11 دسمبر 2011

اب نجف گڑھ کے ایک نواب کو لارا کا ریکارڈ توڑنا بچا ہے


Published On 11th December 2011
انل نریندر
چھوٹے نے تو کمال کردیا ۔ چوکے پر چوکے، چھکے پر چھکے مارکر ماہری چھاتی چوڑی کردی ۔ ہم کئی برس تے اس کے اس کمال کا انتظار کررہے تھے۔ اس نے آج وہ کمال کردیا۔ نجف گڑھ کے لوگ جمعرات کو اپنے شیر سہواگ کے بارے میں ایسا کچھ کہتے دکھائی دے رہے تھے۔ آخر ان کے چھوٹے نے اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں کمال کی بلے بازی کی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف نجف گڑھ کے اس نواب نے ون ڈے میں ریکارڈ پاری کھولی۔ 149 گیندوں پر 219 رن بنائے۔ انہوں نے سچن تندولکرکا 24 فروری2010ء کو گوالیارمیں کھیلے گئے میچ میں147 گیندوں پر ناٹ آؤٹ200 رن بنائے تھے۔ سچن کے بعدون ڈے میں ڈبل سنچری جڑنے والے اسٹروک دوسرے بلے باز ہیں۔ ایک اننگ میں 25 چوکے لگانے والے سہواگ دوسرے بلے باز ہیں۔ پہلے یہ کارنامہ سچن نے ڈبل سنچری جڑ کر کیا تھا۔ وریندر سہواگ ایک واحد بلے باز ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹریپل سنچری اور ون ڈے میں ڈبل سنچری بنائی۔ اندور میں ون ڈے میں سہواگ نے تیز ڈبل سنچری بنا کر تاریخ بنائی۔ جب ان کے سامنے کوئی مقصد ہو تو کوئی بھی بالنگ اٹیک ان کے سامنے ہو وہ اسے دھوکر رکھ دیتے ہیں اور چوکوں چھکوں کی جھڑی لگادیتے ہیں۔ موٹیرا میں روی رام پال کی پہلی گیند کا شکار بنے سہواگ نے رنوں کا انبار لگادیا کرثابت کردیا کے اس کھیل میں کبھی کبھی ایسی بھول ہوجاتی ہے۔ اگر سہواگ کی کوئی کمزوری ہے تو وہ ان کی انکنسسٹنسی ہے یعنی کہ وہ اتنی توجہ سے نہیں کھیلتے جتنا ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ہر بال کو مارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی کھڑے کھڑے۔ اپنی کریز کے اندر سے ان کی لیگ موومنٹ نہ کے برابر ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ریک لیس شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ فضول میں گنوا دیتے ہیں۔ سچن اور ان میں بس یہی فرق ہے۔ سچن دھیان سے کھیلتے ہیں اور اتنی آسانی سے اپنی وکٹ نہیں گنواتے۔ آج لوگ سہواگ کو سچن کے برابر بتا رہے ہیں۔ بیشک سہواگ نے سچن سے تیز سنچری اور ٹریپل سنچری بنائی ہے لیکن میں آج بھی سچن کو ورلڈ کا سب سے مہان بلے باز مانتا ہوں۔ ویریندر سہواگ کا نمبر سچن کے بعد ہی آتا ہے۔ مہان سچن تندولکر نے گوالیار میں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دوہری سنچری ٹھوکنے کے بعد دعوے سے کہا تھا کہ ان کا یہ ریکارڈ ویریندر سہواگ توڑ ڈالیں گے۔ ویرو نے اندور میں219 رن ٹھوک کر اپنے ماڈل کی بات کو صحیح ثابت کردیا۔ یہ کہنا شاید بہتر ہوگا کہ سچن نے جو ریکارڈ بنایا تھا اسے سہواگ نے توڑا ہی نہیں بلکہ خوبصورتی سے اس میں نئی عبارت جوڑ دی ہے۔ سچن نے یہ بات اتفاقاً نہیں کہی تھی بلکہ اس کے پیچھے ویرو کا طریقہ اور اس کے کھیلنے کا بے جوڑ انداز ہے۔ پاری کی پہلی بال ہو یا بڑا کارنامے کے قریب ہونے کا احساس سہواگ کا بلہ ایک ہی لے تال میں طوفانی سے چمکتا ہے۔ ویرو بلے بازی کررہے ہوں تو ہر کرکٹ شائقین ان کا کھیل دیکھنے کیلئے ضرور ٹھہرتا ہے۔ کشیدگی اور ذہنی بوجھ سے بے پرواہ ویرو کا بیخوف انداز انہیں پیڑھی کے شاہد آفریدی اور رکی پونٹنگ یا کرس گیل جیسے منجھے ہوئے بلے بازوں سے الگ کھڑا کرتا ہے تو بیشک تیز تو کھیلتے ہیں لیکن نایاب پاری نہیں۔ بیخوف کھیل ویرو کو مہان ووین رچرڈ جیسے انوکھے بہترین اینٹرٹینر ثابت کرتا ہے جن کے چوکے چھکوں کو دیکھنے کیلئے کیمرہ مینوں کو بھی گیند کو قید کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تہری سنچری ٹھوکنے والے اکیلے ہندوستانی اور ون ڈے میں سب سے بڑی ذاتی پاری کا ورلڈ ریکارڈ ویرو نے یہ دونوں کارنامے ایک ہی اسٹائل میں دکھائے لیکن اپنے قدرتی گیم کیساتھ حالات کے حساب سے کم ہی سمجھوتہ کرتے ہیں۔ یہ ان کا پلس پوائنٹ بھی ہے اور مائنس بھی ۔ حالات چاہے جو بھی ہوں اسے لیکر ویریندر سہواگ کو کئی بات تنقید بھی جھیلنی پڑی ہیں۔سلیکٹروں اور کوچ سے بھی جھگڑا مول لیا لیکن اپنے انداز کو نہیں بدلا۔ کھیلتے وقت انہیں اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ ٹیم کے کپتان ہیں ۔ اندور میں بطور کپتان انہوں نے یہ کارنامہ دکھایا۔ نہیں تو عام طور پر کپتان تھوڑا سنجیدگی سے کھیلتے ہیں۔ اب سہواگ کی پہنچ سے دور صرف کیریبیائی بلے باز برائن لارا (409 ناٹ آؤٹ) کے بعد ٹیسٹ رنوں کا ریکارڈ ہے اور یقین مانئے ویرو اپنے ہی انداز میں دھوم دھڑاکا کرتے اور گنگناتے ہوئے اسے بھی پورا کرڈالیں گے۔ اس مہینے کے آخر میں ٹیم انڈیا کا آسٹریلیا دورہ شروع ہورہا ہے۔ اصل چنوتی تو اب آئے گی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Virendra Sahwag

مہنگائی پر بحث میں سشما اور پرنب دا میں نوک جھونک


Published On 11th December 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کے چلتے ہی اپوزیشن نے مہنگائی کے مورچے پر منموہن سرکار پر کرارا حملہ بول دیا ہے۔ اس مسئلے پر اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کی تقریر کافی اہم تھی۔ ان کے اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے درمیان نوک جھونک بھی اہم رہی۔ یہ دیکھ کر اچھا لگاکہ بھارت کی جنتا کی سب سے بڑی پریشانی دونوں اپوزیشن اور سرکار کی بیداری ہے اور جنتا کو اس سے نجات دلانے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ سشما سوراج اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے مہنگائی پر بحث میں سرکار کی پالیسیوں و نیت ، وعدوں اور ارادوں کی دھجیاں اڑادیں۔ بحث کا آغاز مارکسوادی لیڈر گورو داس داس گپتا نے کیا تھا لیکن سرکار پر کرارا حملہ سشما نے بولا۔ جب پرنب مکھرجی نے مہنگائی شرح 11.8 فیصدی سے گھٹ کر6.6فیصدی ہونے کی بات کہی تو سشما نے کہا ریڑی اور بیڑی اور چھابڑی والے فیصدی کی زبان نہیں سمجھتے۔ انہیں بس یہ پتہ ہوتا ہے کہ کتنا پیسہ آتا ہے اور جاتا ہے۔ تلخ تبصرہ کرتے ہوئے سشما نے کہا اس سرکار کا امیروں کا پیمانہ ہے تو پاؤ بھر آٹا ،دو تولہ دال، ایک چمچ تیل اور ایک چٹکی نمک ہے ۔دیش کے 121 کروڑ لوگوں کو تو دو وقت کی روٹی چاہئے۔اس کے لئے ان کے پاس 242 کروڑ ہاتھ ہیں لیکن شرح سود بڑھا کر مہنگائی گھٹائیں گے تو ان ہاتھوں کا کام ضرور چھن جائے گا۔ انہوں نے کہا این ڈی اے کے عہد میں وزیر خزانہ فیصدی میں بجٹ نہیں دیتے تھے۔ ہندوستان کی معیشت کو ہارورڈ اور آکسفورڈ والے نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے سامنے ساکھ بہتر بنانے سے چھٹکارا نہیں ہوتا اس کے لئے غریب آدمی کی آمدنی بہتر ہونی چاہئے۔ قیمتوں میں اضافے کے لئے سرکار کی غلط پالیسیاں، بدعنوانی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سشما نے کہا اگر سرکار جنتا کو راحت دینے کے بجائے مایوسی اور لاچاری کی بات کرتی ہے تو اسے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے ساتھ ہوئی نوک جھونک میں سشما نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا نمبروں کے کھیل سے دکھی جنتا کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جمعہ کو بھی پرنب اور سشما کے درمیان مہنگائی پر نوک جھونک جاری رہی۔ اس وقت سشما نے پرنب سے کہا تھا کہ پیٹ اعداو شمار سے نہیں بھرتا دانوں سے بھرتا ہے۔ اس کے لئے عام آدمی کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ پرنب دا نے اپوزیشن خاص کر بھاجپا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت اب جذباتی باتوں کا نہیں کام کرنے کا ہے۔ اگر مہنگائی کم کرنی ہے تو اپوزیشن کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ وہ مہنگائی گھٹانے کی تجویز کیوں نہیں پیش کرتی؟ اقتصادی معاملوں میں تعاون کیوں نہیں کرتے؟ پرنب دا نے کہا کیا اپوزیشن لیڈر چاہتے ہیں کہ ہم تیل کمپنیوں پر اتنا بوجھ لاد دیں کہ وہ ایک دن میں بند ہوجائیں۔ سشما سے بات کرنے کے لہجے میں پرنب نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ کھل کر بتائیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ وہ چاہتے ہیں سبسڈی بڑھائی جائے یا سبسڈی کچھ سیکٹروں تک محدود رہے۔ سرکار جو کررہی ہے وہ انہیں منظور نہیں ہے۔ اگر منظور نہیں ہے تو وہ حکومت کو بتائیں کیا کرنا ہے؟ بیشک یہ صحیح ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس کچھ ٹھوس تجویزیں ہوں تو وہ سرکار کو ضرور دیں۔ لیکن ہم پرنب دا کو بتانا چاہیں گے کہ سرکار چلانا، پالیسیاں طے کرنا، جنتا کو راحت پہنچا سرکار کا کام ہے، اپوزیشن کا نہیں۔ آپ اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے۔ اگر سرکار سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے امریکہ نواز اس وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالار پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی پالیسیوں کو مسترد کردے۔ ان کی جگہ پرنب دا آپ خود پالیسیاں بنائیں۔ آپ ان دونوں سے کہیں زیادہ بہتر ماہر اقتصادیات ہیں۔ آپ سیاستداں ہیں جو عام آدمی کا دکھ درد بہتر سمجھتے ہیں۔ ماہر اقتصادیات وزیر اعظم نے تو دیش کا اقتصادی سسٹم ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے.
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Pranab Mukherjee, Sushma Swaraj, Vir Arjun

10 دسمبر 2011

۲جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنستے پی چدمبرم


Published On 11th December 2011
انل نریندر
مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کی فضیحت مسلسل جاری ہے۔سی بی آئی کی عدالت نے نامور وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو منظور کرلیا جس میں چدمبرم کے خلاف ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں دو گواہوں سے پوچھ تاچھ کے لئے مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دے دی لیکن یہ بھی کہا پہلے ڈاکٹر سوامی خود گواہی دیں گے اگر ان کی گواہی میں دم ہوا تو آگے کی کارروائی ہوگی۔ سوامی کی تسلی بخش گواہی کے بعد ہی دونوں گواہوں کی پیشی ہوگی۔ ایک گواہ شری کھلر جو وزارت خزانہ میں جوائنٹ سکریٹری ہیں اور دوسرے گواہ ایس سی اوستھی جو سی بی آئی میں جوائنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے وقت وزیر خزانہ تھے۔ سوامی کے مطابق ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ہوئی بے قاعدگیوں کی پوری واقفیت چدمبرم کو تھی۔ وہ چاہتے تو گھوٹالہ رک سکتا تھا۔ دراصل اس وقت کے مالیات سکریٹری ڈاکٹر ڈی سبا راؤ کی جانب سے 6 جولائی 2008 ء کو لکھے ایک خط کے آؤٹ ہونے کے بعدہی سے چدمبرم پر سیاسی حملے تیز ہوگئے ہیں۔سبا راؤ کے خط سے چدمبرم اور سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ کی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور اسپیکٹرم استعمال چارج ، قیمت کا تعین سمیت تمام پہلوؤں پر بحث کی تصدیق ہوتی ہے۔ خط میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر خزانہ کے درمیان تفصیل سے ہوئی بات چیت کا بھی ذکر ہے۔ ڈاکٹر سوامی کا دعوی ہے کہ چدمبرم پر عائد الزامات کے بارے میں ان کے پاس کافی ثبوت ہیں اور وہ عدالت میں انہیں ثابت کرسکتے ہیں۔ اس وقت کے وزیر خزانہ چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس پانے والی کمپنیوں کی اکویٹی فروخت کئے جانے کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے اس کی رضامندی دے دی تھی۔ یہ بات 5 نومبر 2008ء کو اے راجہ کو لکھے خط سے پتہ چلتی ہے۔ راجہ کا یہ نوٹ سوامی کو سونپے گئے 400 دستاویزات کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نوٹ کے سامنے آنے سے چدمبرم کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں چدمبرم کے کردار کو لیکر یہ دوسرا بڑا سنسنی خیز انکشاف ہے۔ اس سے پہلے کیبنٹ سکریٹریٹ کو وزارت مالیات کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹ سے واویلا کھڑا ہوچکا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چدمبرم وزیر مالیات رہتے ہوئے چاہتے تواس گھوٹالے کوروک سکتے تھے۔ عدالت کے حکم کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم ایک بار پھر نشانے پر آگئے ہیں اور ان کے استعفے کی مانگ کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوا جس سے کارروائی ٹھپ رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے ان کے عہدے پر رہتے ٹوجی اسپیکٹرم جانچ متاثر ہوگی۔ اپوزیشن کے مطالبہ کو درکنار کرتے ہوئے وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات میں چدمبرم یا سرکار کے خلاف کوئی بات نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے کے لئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خورشید نے کہا اپوزیشن نہیں چاہتی کہ سرکار مہنگائی کے مورچہ پر اپنے کارناموں کو بتائے۔ خود پی چدمبرم نے جمعرات کو کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے انکارکردیا۔ اخبارنویسوں کے ذریعے بار بار پوچھے جانے پر بھی وہ خاموش رہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے بیشک جنتا میں تو پارٹی چدمبرم کا ساتھ دے رہی ہے لیکن اندر خانے وہ سمجھ رہی ہے کہ چدمبرم پھنستے جارہے ہیں۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنسنے کے علاوہ ان کے چناؤ کو بھی چیلنج کا ایک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا فیصلہ بھی جلد آسکتا ہے۔ اگر 17 دسمبر کو سی بی آئی عدالت میں جج او پی سینی سوامی کی دلیلوں سے متفق ہوگئی تو دونوں گواہوں کو پیش ہونے کا حکم دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سوامی کے پاس چدمبرم کو پھنسا نے کے دستاویز ہونے کا دعوی پختہ ہوسکتا ہے اگر چدمبرم کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو سرکار اور پارٹی کو انہیں بچانا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگلے کچھ دن نہ صرف چدمبرم کیلئے مشکل بھرے ہیں بلکہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے لئے بھی یہ چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...