Translater
01 اکتوبر 2021
یوپی میں کیبنیٹ توسیع کے سیاسی معنی!
اترپردیش کی یوگی سرکار کے ساڑے چار برسوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے ۔ایسے میں جب کچھ مہینے باقی رہ گئے تو کیبنیٹ توسیع کے کیا سیاسی معنی ہیں ؟ اتر پردیش میں یوگی کیبنیٹ کی دوسری توسیع میں بھاجپا نے اپنے سیاسی تجزیہ درست کرنے کی شاندار کوشش کی ہے ۔اتر پردیش اسمبلی چناو¿ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے میں مشکل سے چار مہینے کا وقت بچا ہے ۔اس توسیع میں وزیراعلیٰ نے اپنی کیبنیٹ میں ایک کابینہ وزیرا اور چھ وزیرمملکت سمیت سات نئے چہرے شامل کئے ہیں ۔ان چہروں میں ایک براہمن او بی سی اور دو انتہائی پسماندہ طبقہ اور شیڈول ٹرائپ سے ہیں ۔اس توسیع کے بعد اب یوگی کیبنیٹ میں چوبسی کابینہ وزیر 9 آزاد ذمہ داری کے وزیر مملکت اور 27 وزیر مملکت ہو گئے ہیں ۔ان سبھی وزراءمیں تقریباً ہر طبقہ کی سماجی شراکت داری ہے ۔اب کیبنیٹ میں وزیراعلیٰ سمیت چوبیس کیبنیٹ اور 9 آزاد اور 27 وزیر مملکت شامل ہیں ۔دو اقلیتی فرقہ کے بھی نمائندے ہیں ۔اس توسیع میں 9 اور نوجوان چہروں کو ترجیح دی گئی ہے ۔پسماندہ اور دلتوں کی ساجھیداری بڑھا کر ووٹوں کی اچھی داو¿ پیج کی کوشش کی گئی ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب کسی ایس پی کو کیبنیٹ میں حصہ داری ملی ہے ۔بیشک کیبنیٹ میں پروانچل کو زیادہ اہمیت ملی ہے وہیں بندیل کھنڈ کو چھوڑ کر ریاست کے سبھی حصوں کو جگہ دی گئی ہے ۔اتر پردیش میں بی جے پی کا اہم مقابلہ سپا اور بسپا سے ہے ۔بسپا برہمنوں کو لبھانے کے لئے اپنے روایتی ووٹوں کو پھر متحد کرنے کی کوشش میں لگی ہے ۔یوگی جی نے کانگریس سے آئے جتن پرساد کو وزیربنا کر برہمنوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کا موقع دیاہے ۔مودی ماڈل کو مثالی ماننے والے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کیبنیٹ توسیع میں اس کا عکس صاف دکھاءدیتا ہے ۔یوگی نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ان دونوں محروم طبقوں کو اصلی ساجھیداری صرف انہوں نے دی ہے ۔بھاجپا کا فوکس بڑے ناموں پر نہ ہو کر مقامی اور توقع سے زیادہ نوجوانوں پر رہا ہے ۔2014 کے لوک سبھا کے چناو¿ میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ انتہائی پسماندہ طبقوں کی چھوٹی چھوٹی برادریوں کو لیکر جو تجربہ کیا گیا تھا وہ 2017 کے اسمبلی چناو¿ میں زبردست جیت دلانے والا ثابت ہوا تھا اس بار بھی بھاجپا نے ویسے ہی گوٹیاں پھر چلنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ ہوتا ہے بڑی اپوزیشن پارٹیوں نے کیبنیٹ توسیع پر یہ طنز کیا ہے کہ یہ کوشش کسی کام آنے والی نہیں ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ ریاست میں حال ہی میں ہوئے پنچایت چناو¿ اس کا ثبوت ہیں ہمارا خیال ہے کہ پچھلے کچھ وزراءکو ہٹا کر وزیراعلیٰ نے ناراض سیکٹر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔نئے نوجوان وزیرآنے والے مہینوں میں ٹھوس کام کرکے سرکار کی امیج اور بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں کل ملا کر یوگی کے ذریعے یہ کیبنیٹ توسیع بھاجپا کے لئے سبھ ثابت ہو سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں