Translater

20 جنوری 2018

چین بھارت کی چوطرفہ گھیرا بندی میں لگا ہے

ساؤتھ ایشیا میں طویل عرصے سے بھارت کی بالادستی قائم ہی ہے لیکن اب چین اسے کم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ وہ بھارت کے دوست چھوٹے ملکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ بھارت پڑوسیوں کے ساتھ رشتے مضبوط بنانے کی کتنی ہی کوشش کر لے لیکن چین اس میں روڑا اٹکاتا رہا ہے۔ سری لنکا، نیپال، مالدیپ ایسے ملک ہیں جن کے ساتھ بھارت کے ہمیشہ رشتے رہے ہیں۔ ان دیشوں کو چین اپنی طرف راغب کرنے کے لئے اقتصادی مدد کا سہارا لیتا ہے۔ ہمالیہ کی سیریز بھارت کو باقی ایشیا سے الگ کرتی ہے۔ اس برصغیر میں بھارت کی پوزیشن بڑے ہاتھی کے برابر ہے۔ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے دشمنانہ رویہ بھول کر بھارت نے چھوٹے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے رشتے بنانے کی کوشش کی لیکن ان پڑوسیوں نے بھارت کی فراخدلی کا کبھی کبھی غلط مطلب نکالا ہے ، چین اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ اس نے بھارت کے اثر والے علاقوں میں اقتصادی مدد کی شکل میں اپنا اثر بڑھانا شروع کردیا ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں کو ہی دیکھ لیجئے۔ سر ی لنکا نے 9 دسمبر کو اپنی اہم بندرگاہ 99 برس کے پٹے پر اس کمپنیوں کو سونپ دی ہے جس کی مالک چین حکومت ہے۔ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے اتحاد نے پارلیمانی چناؤ جیتا پھر اس نے چین سے قریبی اور بھارت سے دوری بنانے کی اپیل کی۔ مالدیپ کی پارلیمنٹ میں نومبر میں ایمرجنسی سیشن بلایا گیا۔ بغیراپوزیشن والے اس سیشن میں چین کے ساتھ اقوام متحدہ مستثنیٰ کاروبار سمجھوتے کا اعلان کیا۔ساؤتھ ایشیا میں ایسا کرنے والا وہ پاکستان کے بعد دوسرا دیش بن گیا ہے۔ چین تیزی سے بھارت کے ارد گرد پیر پھیلا رہا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی نیپال میں بھارت کا اثر ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نیپال سرکار نے چین کے ساتھ کئی معاہدے کررکھے ہیں۔ 
وہاں حال ہی کے چناؤ میں بجلی، سڑک اور دیش کے پہلے نیٹ ورک چینی سرمایہ لانے کے وعدے شامل ہیں۔ چین نے کچھ مہینے پہلے بھوٹان، چین، بھارت والے سہ ملکی پٹھار (ڈوکلام) میں فوج بھیج کر بھارت ۔ بھوٹان کے رشتوں کا امتحان لیا چینی فوج وہاں سڑک بنانا چاہتی تھی لیکن بھارت کے احتجاج کے سبب اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ چین نے بھوٹان کو لالچ دیا کہ وہ سرحدی تنازعہ سلجھانا چاہتا ہے۔ بھارت نے اس کی چال ناکام کردی۔ کئی دہائیوں سے بھوٹان اور بھارت کے رشتے مضبوط و گہرے ہیں۔ اگرکسی ایک معاملہ کا موازنہ ہو تو بھارت چین سے کم نہیں ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسیوں میں رشتوں و لیکر کچھ خامیاں ضرور ہیں لیکن وہ اس میں بہتری لا رہا ہے۔ خاص طور پر نارتھ زون کے پڑوسی ملکوں کو لیکر حالات بدل رہے ہیں، ہندوستانی ہاتھی آہستہ آہستہ صحیح راستے پر جارہا ہے۔ چین کی فروغ وادی پالیسی کا معقول جواب دے رہا ہے۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...