Translater

08 جون 2024

بھاجپا وجے رتھ کو اکھلیش یادو نے روکا !

ایک جون کو آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد جب سنیجر کو اگزٹ پول آئے تو ایسا لگ رہا تھا کے یوپی میں لڑائی ایک طرفہ ہے لیکن جب 4 جون کو گنتی ہوئی تو پتا چلا بھاجپا کا وجے رتھ اکھلیش یادو نے روک لیا ۔سماجوادی پارٹی نے یوپی میں 62 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے کانگریس نے 17 سیٹوں پر سپا نے 37 سیٹےں جیتی جب کے کانگریس نے 17 میں سے 6 سیٹیں جیتی 2019 کے عام چناﺅ میں بھاجپا کو 62 سیٹیں ملی تھی پی ایس پی کو 10 ،سپا کو 5 ،اپنا دل کو 2 ،کانگریس کو 1 سیٹ ملی تھی۔چناﺅ نتائج سے پہلے وزیرداخلہ اور بھاجپا کے چانکیہ امیت شاہ 75 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے تھے ۔خود وزیراعظم مودی بڑی مشکل سے دیڑ لاکھ ووٹ سے جیتے مگر شروعاتی رجہان میں پیچھے چل رہے تھے یوپی ایسی ریاست ہے جہاں سے اقتدار اور اپوزیشن دوں کی ہستیاں میدان میں تھیں۔مودی جی تو بنارس اور بریلی سے راہل گاندھی اور کنوج سے اکھلیش یادو نے نہ صرف شاندار چناﺅ لڑا اور ان کے امیدواروں نے جنتا کو متاثر کرنے والے مسلوں کو زوردار طریقہ سے اٹھایا ۔کانگریس نے مالی تنگی اور کھیتی اور آئین کو کمزور کرنے کا اشو زور شور سے اٹھایا دونوں پارٹیوں نے لوگوں کے بیچ ریزرویشن کا بھی اشو اٹھایا ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا تھا مجھے لگ رہا تھا کے یوپی میں بھاجپا کو کم سے کم 50 سیٹیں تو مل ہی جائیں گی لیکن 33سیٹوں پر سمٹنا بتاتا ہے کے پی ایم مودی اور امت شاہ کے غرور کو مسترد کر دیا عام لوگوں کو اپوزیشن پارٹیاں سمجھانے میں کامیاب رہیں۔کے اگر مودی مضبوط ہوئے تو آئین خطرے میںپڑ جائےگا ۔کہا جاتا ہے کے نوجوان اکھلیش نے امت شاہ کو ایسی مات دی کے وہ عمر بھر یاد رکھے گے ۔اکھلیشن یادو نے اس مرتبہ پرانا گڑ تو بھاجپا سے چھینا اور بندیل کھنڈ بھی قبضہ کر لیا ۔یادو لینڈ کی سیٹوں کے ساتھ ہی بندیل کھنڈ کی سبھی سیٹیں جیتی اور 2وزرا کو ہرانے کی طاقت دکھاکر مدھیہ پریش میں حالات ہی بدل دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کے ہر جگہ سائیکل دوڑا دی۔اکھلیش یادو کے والد ملائم سنگھ یادو نے سال 2004 میں یوپی سے 35 ایم پی کو جتایا تھا ان کے ساتھ ہی یہ پارٹی کا بھی ریکارڈ تھا اب ان کے بیٹے 20 سال بعد ریکارڈ توڑتے ہوئے یوپی سے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔اس میں سے ایک وہ خود بھی ہیں اور کنوج سیٹ پر ایک اور ریکارڈ بنایا 1996 سے اب تک اس سیٹ پر ان کے علاوہ کوئی امیدوار نہیں رہا جس میں 1 لاکھ یا اس سے زیادہ فرک سے اپنے حریف کو ہرایا ہو اس بار اکھلیش نے کنوج سے 1 لکھ 70 ہزار 922 ووٹوں سے جیت حاصل کی ۔مودی جی کے رتھ کو اگر کسی نے روکا ہے تو وہ ہے اکھلیش یادو۔ (انل نریندر)

بیساکھیوں کی سرکار !

موصولہ اشاروں سے یہی لگ رہا ہے کی مودی جی تیسری بار پردھامنتری بننے جا رہے ہیں ۔لیکن اس بار وہ بھاجپا کے پی ایم نہیں ہو گے بلکہ این ڈی اے کے پی ایم ہوں گے بیشک مودی جی نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے 3 مرتبہ وزیراعظم بننے کا ریکارڈ برابر کر لیا ہو لیکن مودی جی نے اٹل بہاری واجپئی اور ناہی اتحادی سرکار چلانے کے عادی ہیں ۔پنڈت جواہر لعل نہرو اکثریت سے تینوں بار تھے ۔جبکہ مودی جی تیسری مرتبہ اقلیت میں ہیں ۔مودی جی کا جو ریکارڈ پچھلی دہائی سے زیادہ کا رہا ہے تو وہ ایک تانہ شاہ کی طرح سرکار چلاتے رہیں ہیں جہاں نہ تو کوئی ان کا وزیر احتجاج کر سکتا ہو نہ ہی کسی افسر کی وہ سنتے ہوں ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کے مودی جی اپنے ساتھیوں اور اتحادی ساتھیوں کی سننے پر مجبور ہوں گے ؟اپنی طاقت پر سرکار نہ بنا پانے میں وہ اپنی اتحادی پارٹیوں پر پوری طرح منحصر ہوں گے اور یہ ان کے رویہ میں نہیں اپنے لمبے سیاسی کرئیر میں نریندر مودی نے کبھی اتحادی سرکار کی قیادت نہیں کی ۔اس بار بھاجپا کو اکیلے دم پر اکثریت نہیں ملی اسے سرکار چلانے کےلئے ہر وقت اتحادی پارٹیوں پر منحصر رہنا پڑیگا ۔پچھلی دو سرکاروں کے وقت بھاجپا کے پاس واضح اکثریت تھی اس لئے اسے اس بات کی فکر نہیں تھی اتحادی پارٹیاں کس موڑ پر اس کا ہاتھ چھوڑ سکتی ہیں ۔اس بار ویسی یقینیت نہیں رہےگی اس تنی ہوئی رسی پر بیلنس بناتے ہوئے چلنے جیسا ہوگا زرا سا بیلنس بگڑنے سے خطرناک ہو سکتا ہے ۔پھر جو دو پارٹیاں تیلگو دیشم پارٹی اور جنتا دل متحدہ کے پاس سرکار چلانے کےلئے فیصلہ کن سیٹیں ہیں ان کے ساتھ بیلنس بنانا سب سے اہم ہوگا ۔15 برس وزیراعلیٰ اور 10 برس وزیراعظم رہتے ہوئے ایک طرفہ راج کرنے کے عادی ہو چکے نریندر مودی کا اب اتحادی سرکار کے ساتھ سامنا ہوگا ۔انہیں اتحادی پارٹیوں کی مانگے ماننی ہوں گی اور ایک طرفہ فیصلے لینے کے بجائے اجتمائی فیصلے لینے ہوں گے ۔پہلی بار ان کا اتحادی سرکار سے سامنا ہو رہا ہے اس سے پہلے بھی این ڈی اے تو تھا لیکن وہ برائے نام تھا نہ تو کوئی کنوینر تھا اور نہ ہی این ڈی اے کی میٹنگ ہوتی تھی کیوں کہ بھاجپا کے پاس مکمل اکثریت تھی ۔مگر اس بار این ڈی اے میں شامل ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو اور جراگ پاسوان بھی مول بھاﺅ کی پوزیشن میں ہے ۔مودی جی کو حلف لینے کی اتنی جلدی ہے کے انہوںنے روایتی توڑ دی ۔چناﺅ نتائج آنے کے بعد سب سے پہلے پارٹی کی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں منتخب ایم پی اپنا نیتا چنتے ہیں اور جو وزیراعظم بننا ہے ۔مودی جی کو گھراہٹ تھی کے انہوںنے سب سے پہلے این ڈی اے کی میٹنگ بلا لی اور اپنے آپ کو پی ایم اعلان کر وا لیا ۔ثبوت کے طور پر فوٹو بھی کھجوالی ۔یہ اتحادی سرکار بیساکھیوں پر اور کتنے دن چلےگی یہ اوپر والا ہی جانتا ہے اس سرکار میں اتنے تضاد ہیں یہ کبھی بھی کسی موڑ پر گر سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کے دیش کو ایک بار پھر عام چناﺅ کا سامنا کرنا پڑے ۔ابھی تو سودے بازی چل رہی ہے اتحادی پارٹیوں نے بڑی بڑی شرتے رکھی ہیں۔سننے میں آ رہا ہے خیر اگر سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے تو بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بیساکھیوں کی سرکار کتنی اور کیسے چلے گی ۔یہ وقت ہی بتائے گا۔ (انل نریندر)

07 جون 2024

مودی جی آپ کی اخلاقی ہار ہے !

2014 کا لوک سبھا چناو¿ تاریخی رہا یہ سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا اس میں تاناشاہی پر لگام کسی ،آئین کو بچایا ،خوف کا ماحول ختم کیا ،سرکاری ایجنسیوں کے بےجا استعمال پر لگام کسی ،عدالتوں کو کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع دیا ۔آج اگر مودی جی کا یہ حال ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہیں ۔ان کا غرور انتہا پر پہونچ گیا تھا میں بائیولوجیکل نہیں ہوں میں اکیلا سب پر بھاری ایک ایک کو دیکھ لوں گا ۔منگلسوتر چھین لے گا ،بھینس چھین لیں گے ،زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو آپ کی پراپرٹی بانٹ دیں گے دہشت گردوں کو دے دیں گے ناجانے ایسے کتنے نچلے سطح کے جملے اس چناو¿ میں کہے ۔آپ نے ایودھیا میں آدھے ادھورے رام مندر میں بھگوان رام کی پران پرتیسٹھا کر دی جو شاستروں کے خلاف تھی ۔چاروں شنکراچاریوں نے اس کی مخالفت کی لیکن آپ نے سب کو نظر انداز کر دیا ۔ہم رام کو لائے ہیں رام ہم کو لائیں گے ۔رام نے آپ کو آئینہ دکھا دیا ۔رام مندر میں بھگوان رام کی پران پرتیسٹھا کے بعد مودی جی کو امید تھی کہ اس کا فائدہ انہیں اور بھاجپا کو ملے گا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ بھاجپا نہ صرف فیض آباد (ایودھیا) سے ہار گئی بلکہ رام مندر کے اردگرد بنی سبھی لوک سبھا سیٹوں پر ہار گئی ۔ایودھیا منڈل میں آپ کی رپورٹ کارڈ زیرو رہی ۔اب کی بار 400 پار کا نعرہ آپ نے بڑے زور شور سے دیا تھا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دلتوں اور پسماندہ اور غریبوں اور قبائلیوں اور انتہائی کمزور طبقات کو یہ یقین ہوگیا کہ آپ کو 400 پار سیٹیں اس لئے چاہیے تاکہ آپ آئین بدل سکیں اور ریزرویشن ختم کر دیں آپ اگنی ویر یوجنا لائے اور نوجوانوں کو سال بھر میں ریٹائر کر دیا ۔پھر آپ کے ایک ایم پی پرشوتم روپالا نے چھتیریوں ،راجپوتوں کے خلاف ایسا بیان دے دیا جس کا اثر گجرات سے لیکر ہریانہ ،راجستھان تک ہوا ۔آپ دوسری پارٹیوں کو توڑ کر نیتاو¿ں کو لائے۔دل بدل کر بھاجپا میں آئے 56 میں سے 22 ہی جیت سکے ۔آپ نے برسوں سے بھاجپا کی تپسیا کررہے ورکروں اور نیتاو¿ں کو نظر انداز کر ان دل بدلوو¿ں کو ترجیح دی ۔نتیجہ سامنے ہے آپ اپنے کیبنیٹ کے ممبروں تک کو نہیں بچا سکے ۔مودی سرکار کے 4 کیبنیٹ وزیروں سمیت 18 وزیر چناو¿ ہا رگئے ۔امیٹھی سے اسمرتی ایرانی کو بھی ان کا غرور ،بدتمیزی لے ڈوبی ۔آپ نے آر ایس ایس کو بھی ٹھینگا دکھا دیا۔بیچ چناو¿ میں عآپ کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہہ دیا کہ بھاجپا کو سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔واجپائی سرکار کے وقت ہم مضبوط نہیں تھے اور اب ہم بہت بڑے ہو گئے ہیں ہمیں سنگھ کی ضرورت نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سنگھ کے ورکر جو آپ کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے تھے گھر بیٹھ گئے ۔آپ کے ووٹروں کو گھر سے باہر نہیں لا سکے ۔سنگھ میں اس بات کی بھی ناراضگی تھی کہ ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے ۔ورکر وں کی نا سننے کی شکایت صرف یہ ہی نہیں تھی بھاجپا ورکروں میں بھی تھی اسی وجہ سے پولنگ فیصد کم ہوا ۔مودی جی آپ نے تمام چناو¿ میں کوئی قومی مسئلہ نہیں اٹھایا ۔آپ اپوزیشن کے نگیٹو وار میں ہی پھنس گئے ۔آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ انہیں آپ کی دس سال کی سزا ہے ؟ دوسری طرف تین اپوزیشن لڑکوں نے آپ کی ہوا خراب کر دی ۔راہل گاندھی ،اکھلیش یادو،تیجسوی یادو آپ کی پیٹھ پر نہیں کھیلا بلکہ آپ نے اشو پر ٹکے رہے ۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور بھارت نیائے یاترا نے تمام اپوزیشن کو سنجیونی دی ۔کانگریس نے جو چناو¿ منشور بنایا اس کی کاٹ مودی جی آپ نہیں کر سکے ۔جنتا کے بیچ مہنگائی ،بے روزگاری ،سماجی انصاف ،آئین بچاو¿ ،گھرکر گیا۔اپوزیشن نے پوری لوک سبھا نگیٹو سیٹ کر دی ۔اور آپ اس کی کاٹھ نہیں کر سکے ۔آپ مودی کی گارنٹی ہی کہتے رہے ایک جگہ ہی آپ نے یہ نہیں کہا کہ بھاجپا کی گارنٹی ۔دراصل آپ اپنی پارٹی سے بہت اوپر اٹھ گئے آپ اپنے آپ کو بھگوان ماننے لگے آپ کے وفادار آپ کو کبھی وشنو کا اوتار بتاتے تو کبھی بھگوان جگناتھ آپ کے چیلے ہیں بتاتے رہے ۔آپ کی اپنی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ دو چناو¿ میں وارانسی سے مسلسل بھاری فرق سے کامیاب ہوتے رہے آپ اس بار صرف 1 لاکھ 52ہزار 513 ووٹوں سے ہی کامیاب ہو سکے ۔2019 میں آپ 4 لاکھ 79ہزار 505 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ 2014 میں3 لاکھ 71 ہزار 784 ووٹوں سے جیتے تھے ۔آپ کے سیاسی حریف اجے رائے بھلے ہی ہار گئے لیکن انہوں نے4 لاکھ 60 ہزار 457 ووٹ پائے لگاتار وہ دو لوک سبھا چناو¿ میں ہار کے بعد اس چناو¿ میں کانگریس بہتر پرفارمنس دینے میں کامیاب رہی ۔پارٹی 99 سیٹوں پر جیتی ،راہل ،اکھلیش یادو ،تیجسوی یادو اور ممتا بنرجی ایم کے اسٹالن ایک سنجیدہ لیڈر کے طور پر اس چناو¿ میں اترے اب آپ دیش واسی کھلی ہوا میں سانس لے سکتے ہیں ۔نا تو ای ڈی کا ڈر ہوگا نا تو سی بی آئی اور نا ہی انکم ٹیکس محکمہ کا ڈر ہوگا ۔ججوں کو بھی ابھی خوف کے ماحول سے چھٹکارہ ملے گا اس لئے کل ملا کر مودی جی یہ آپ کی اخلاقی ہار ہے جسے آپ کو قبول کرنا چاہیے ۔بیشک جوڑ توڑ کرنے میں آپ ماہر ہیں سرکار تو بنا لیں لیکن آپ کے غرور والی سیاست شری رام نے ختم کر دی ہے ۔جے شری رام ! (انل نریندر)

04 جون 2024

لوک سبھا ہی نہیں سکھو سرکار کی قسمت کا فیصلہ بھی !

ہماچل میں لوک سبھا کی 4 سیٹوں کے ساتھ 6 اسمبلی سیٹوں کابھی ضمنی چناﺅ ہوا یہ سیٹیں سکھو سرکار کی قسمت طے کریں گی بھاجپا کے دعویٰ ہے کے آج 4 جون کو سکھو سرکار گر جائے گی اور وہا بھی ڈبل انجن کی سرکار ہو گی ۔وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے اسمبلی چناﺅ کے لئے زیادہ مہم چلائی کیوں کہ ان کی کرسی کا فیصلہ انہیں 6 سیٹوں پر ہار جیت پر طے ہوگا کچھ مہینے پہلے کانگریس کے 6 ممبران اسمبلی نے سرکار گرانے کی کوشش میں بھاجپا سے مل گئے تھے ۔جب تو کسی طرح سے سکھو سرکار بچ گئی کیوں کہ اس وقت اسمبلی سپیکر نے ان ممبران اسمبلی کی ممبر شپ منسوخ کر دی تھی اسی وجہ سے یہ 6 سیٹیں خالی ہو گئی تھی اب ان کا لوک سبھا چناﺅ کے ساتھ ہی چناﺅ ہوا ۔2022 کے اسمبلی چناﺅ میں 68 ممبری اسمبلی میں 40 سیٹیں جیت کر کانگریس نے سرکار بنائی تھی ۔بھاجپا 25 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی لیکن 3 آزاد ممبروں نے کامیابی حاصل کی تھی ۔لیکن حال ہی میں کانگریس نے بغاوت ہو گئی اور 6 ممبران اسمبلی میں بغاوت کر دی تھی اور سرکار سے 3 آزاد ممبروں نے بھی حمایت واپس لے لی تھی اب اگر یہ 6 سیٹیں جیت گئی تو آزاد ممبر اسمبلی بھی بھاجپا کو حمایت دینے کے لئے تیار بیٹھیں ہیں ابھی 34 ممبر اسمبلی ہیں اور ممبران اسمبلی کی تعداد بھی 68 سے گھٹ کر 62 رہہ گئی ہے ان 6 سیٹوں پر کانگریس چناﺅ ہار گئی تو اس کی 34 سیٹیوں رہ جائیگی اور بھاجپا کے پاس 31سیٹیں ہو جائیگی ۔3آزاد ممبران اسمبلی کی حمایت لیکر ان کی تعداد 34ہوگی ایسے میں بھاجپا آپریشن لوٹس چلا سکتی ہے اگر کانگریس کے ایک دو ممبران نے پالا بدلہ یا وہ غیر حاضر ہو گئے تو سکھو سرکار کا گرنا طے ہے ۔اگر سکھو کے وزیر وکرم آدتیہ سنگھ منڈی چناﺅ جیت جاتے ہیں تو ان کی سیٹ بھی خالی ہو جائیگی ۔ایسے میں اسمبلی میں کانگریس کی تعداد گھٹ کر 33 ہو جائیگی ایسے میں وزیراعلیٰ سبھی 6 سیٹیں جیتنے کے لئے زور آزمائی کر رہے ہیں ۔کیوں کہ وکرم آدتیہ نے ہی سکھو سرکار گرانے کے لئے بغاوت کی قیادت کی تھی انہوںنے دہلی میں بھاجپا کے لیڈروں سے بھی ملاقات کی تھی لیکن کسی طرح سے سرکار بچ گئی تھی ۔یہاں راہل گاندھی نے چناﺅ کمپئن کی تھی مگر اب چناﺅ تک پرینکا گاندھی نے مورجہ سنبھالا ہوا تھا ۔ (انل نریندر)

امریکہ میں کیا جیل سے صدارتی چناﺅ لڑ سکتے ہیں؟

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پورن سٹار کا منہ بند رکھنے کے لئے جو رقم دی تھی اس کے لئے اپنے کاروباری ریکارڈ میں مسلسل ہیرا پھیری کی ۔انہیں یقین تھا کے وہ کبھی پکڑے نہیں جائے گے ۔لیکن وہ بچ نہیں سکے ۔صدارتی چناﺅ ست پہلے عدالت کے اس فیصلہ سے امریکی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے ۔معاملہ 2016 میں اب ان کے صدر چنے جانے سے پہلے کا ہے حلانکہ ہش منی معاملے میں ٹرمپ اپنی اپیل کے بارے میں پلان بنا رہے ہیں اور 11 جلائی کو سزا سنائے جانے کا انتظار کر رہے ہےں جس میں جیل کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ٹرمپ معاملے میں خود پورن اسٹار اسٹورنی ڈینیلس سمیت 22 لوگوں نے گواہی دی تھی ۔عدالت کے 12 جیوری ممبر نے اس معاملے میں 6 ہفتہ تک سماعت کی اور ٹرمپ کو قصور وار پایا حلانکہ خد کو وہ بی قصور بتا رہے ہیں ۔2016 میں جب ٹرمپ صدارتی چناﺅ کی دوڑ میں تھے تو انہوںنے اسٹورنی کا منہ بند رکھنے کے لئے 1.3 لاکھ ڈاکر ادا کئے تھے جو ان کے وکیل نے پورن اسٹا رکو دئے تھے اس عاملے میں 11 چیک پر دستخط کئے گئے اور ٹرمپ کے سابق وکیل مائکل کوہن کی کمپنی میں جمع کئے گئے الزام ہے کے ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کوہن کو پیسے لوٹائے اس کے لئے انہوںنے 10 مہینے تک کئی چیک دئے اور رکارڈ میں قانونی فیس دکھایا گایا ٹرمپ نے نیو یارک بزنس ریکارڈ میں غلط جانکاری دی تھی ۔5 اپریل 2023 کو سابق امریکی مین ہیرن کورٹ میں 34 الزام عائد کئے تھے ٹرمپ اور اٹورنی کی ملاقات جولائی 2006 میں ایک گولف ٹورنمنٹ کے دوران ہوئی تھی اس وقت اٹورنی 27 سال کی تھی بعد میں دونوں ڈنر پر ملے اور دونوں میں تعلق بنا ۔اپنی کتاب میں اٹورنی نے اس ذکر کیا ۔صدر جو بائڈن کے چناﺅ کیمپئن نے جوری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔بائڈن - ہیرس 2024 کمیونیکیشن کے ڈائرکٹر مائکل ٹائیلرس نے کہا ہم نے نیو یارک میں دیکھا کے قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے پورن اسٹار کو پیسے کی ادائیگی کو جھوپانے کے قصوروار ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی امیدواری پر اب کوئی خطرہ نہیں ہے ۔پھر بھی انہیں 5 نومبر سے پہلے سزا ہو بھی جاتی ہے تو وہ تب بھی چناﺅ لڑ سکیں گے 15 نومبر کو ہونے والے چناﺅ میں ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں جیل سے ہی حلف دلایا جا سکتا ہے ۔مجرمانہ معاملوں میں سزا کے لئے کورٹ نے 11 جولائی تاریخ طے کی ہے حلانکہ ٹرمپ نے کوئی تشدد آمیز جرم نہیں کیا ہے وہ پہلی بار قصوروار پائے گئے ہیں امریکہ میں یہ اجب ہے کے بنہ کسی کرائم ہسٹری والے لوگوں کو صرف کمرشئل ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے لئے نیویارک کی عدالت نے جیل کی سزا سنائی جائے یا جرمانے کی سزا زیادہ عام ہے ٹرمپ نے اپنے خلاف فیصلے سنائے جانے کے بارے میں کہا کے یہ شرمناک ہے یہ ایک متنازعہ جج کی طرف سے کیا گیا ہے ۔الزام تراشی کرپٹ سماعت تھی اسلی فیصلہ تو 5 نومبر کو لوگ سنائے گے وہ جانتے ہیں کے یہ کیا ہوا اور ہر کوئی جانتا ہے کے میں بے قصور ہوں اور اپنے دیش کے لئے لڑ رہا ہوں ۔میں اپنے آئین کے لئے لڑ رہا ہوں ہمارے پورے دیش میں اس وقت کرپشن کا بول بالا ہے ۔ٹرمپ نے الزام لگایا بائیڈن انتظامیہ نے اپنے سیاسی حریف کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا ہے وہیں بائیڈن نے جوری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ (انل نریندر)

01 جون 2024

کیا نشکانت دوبے کو چوتھی بار جیت ملے گی؟

بھارت میں ہو رہے لوک سبھا چناو¿ کے آخری مرحلے میں یکم جون یعنی آج جن سیٹوں پر امیدواروں کی قسمت طے ہوگی ان میں جھارکھنڈ کی گوڈا سیٹ بھی شامل ہے ۔سنتھال پرگنا کی اس سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتا نشکانت دوبے جیت کی ہیٹ ٹرک لگا چکے ہیں ۔بی جے پی نے انہیں چوتھی مرتبہ پھر سے ٹکٹ دیا ہے ۔ان کا مقابلہ اسی سیٹ پر چار بار چناو¿ ہار چکے انڈیا الائنس کے کانگریس امیدوار پردیپ یادو سے ہے ۔ان کے درمیان سیدھی ٹکر ہے انہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ ،راشٹریہ جنتا دل ،مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی جیسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے ۔وہ اس سیٹ سے ایک بار ایم پی رہ چکے ہیں ۔جھارکھنڈ میں بھی وزیر رہ چکے ہیں ۔آزاد امیدوار ابھیشیک آنند جھا اسے تکونہ مقابلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کتنے کامیاب ہوں گے یہ بہت حد تک دیوگھر پنڈہ سماج کے ووٹروں پر منحصر کرتا ہے جو گوڈا میں تقریباً بیس لاکھ ووٹر ہیں ۔لوک سبھا حلقہ میں کل چھ اسمبلی سیٹیں ہیں ۔دیو گھر اور گوڈا مادھوپور،کوڈ ،چاہر مہا گاما اور جرمنڈی آتے ہیں ۔ان میں سے چار پر انڈیا الائنس کاقبضہ ہے ۔پچھلے اسمبلی چناو¿ میں صرف دو سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ہوئی تھی ۔2019 کے چناو¿ میں نشکانت دوبے نے تب جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے پردیپ یادو کو پونے دو لاکھ ووٹوں سے زیادہ ووٹ سے ہرایا تھا ۔انڈیا الائنس کے امیدوار پردیپ یادو کیلئے کانگریس نے پرینکا گاندھی اور وزیراعلیٰ چمپائی سورین کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے ،ہیمنت سورین کی بیوی کلپنا سورین ،تیجسوی یادو جیسے نیتاو¿ں کی ریلیاں ہو چکی ہیں ۔نشکانت دوبے کیلئے وزیرداخلہ امت شاہ ،آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ،شیوراج سنگھ چوہان ،بابو لال مانڈی جیسے سینئر لیڈر ریلیاں او رروڈ شو کر چکے ہیں ۔وزیراعظم نریندر مودی نے 28 مئی کو دنکا میں ایک ریلی کو خطاب کیا اس ریلی میں گوڈّا سمیت سنتھال پرگنا حلقہ کی تینوں لوک سبھا سیٹوں کے امیدوار موجود رہے ۔دیوو گھر میں مشہور بابا ویدناتھ مندر کے پاس رہنے والے 90 سالہ سری کرشن پرساد ساہو خود کو حالانکہ کانگریسی بتاتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا رویہ تانا شاہی والا ہے اس کے باوجود وہ بی جے پی امیدوار نشکانت دوبے کی تعریف کرتے ہیں ۔ا ن کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی سے ہونے کے باوجود میرے ایم پی نشکانت دوبے کولوگوں کی حمایت ہے ۔انہوں نے گوڈّا میں ریلوے سروس شروع کرائی ۔دیوی پور میں ایمس بنوایا ،دیوو گھر ایئر پورٹ بنا ،سڑکیں بنیں ،ہم وکاس کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔بی جے پی کے امیدوار نشکانت دوبے پوری طرح مطمئن ہیں ۔اس چناو¿ میں ان کی جیت ہوگی ۔اور دیش بھر میں 400 سیٹوں سے زیادہ ملیں گی ۔وہیں دوسری طرف کانگریس امیدوار پردیپ یادو کا دعویٰ ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے الیکٹرول بانڈ کے زریعے سب سے بڑا گھوٹالہ کیا ۔صنعتکاروں سے مبینہ طور پر پیسہ وصولے اس لئے بی جے پی کی چناو¿ میں ہار طے ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ نشکانت دوبے کے خلاف انڈر کرنٹ ہے ۔بی جے پی گوڈا میں تو ہارے گی ہی بلکہ پورے دیش میں اس کا صفایا ہونے جا رہا ہے ۔پچھلی بار نشکانت دوبے نے پردیپ یادو کو ریکارڈ ووٹوں سے ہرایا تھا ۔دیکھیں اس مرتبہ کیا ہوتا ہے ۔ (انل نریندر)

افضال انصاری بنام پارس ناتھ رائے!

سٹی اسٹیشن کے سامنے دوکان پر چائے پی رہے اموتوش رائے غازی پور کے سیاسی مزاج کے سوال پر شاعر ابرار کاشف کا یہ شعر :عدالتیں اچھال دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں بس ایسا ہی ہے اپنا غازی پور ۔یہاں کی گلیوں میں آپ کو ووٹر نہیں ملتے ہیں جہاں ملتے ہیں تو صرف بھومیار ،برہمن ،یادو ،راج بھر،راجپوت،دلت ،ہندو اور مسلمان ۔یہاں ٹکٹ بھی ذات اور مذہب کی بنیاد پر ملتے ہیں ۔یعنی سکے کے دونوں برادری اور دھرم ہی ملے گا ۔تجزیوں کو سمجھنے کے لئے چناوی باتوں سے پہلے سمر کے یودھاو¿ں کی چرچا ضروری ہے ۔بھگوا خیمے نے جموں کشمیر کے لفٹننٹ گورنر منوج سنہا کے قریبی مانے جانے والے پارس ناتھ رائے پر داو¿ لگایا ہے ۔وہیں 2019 میں بسپا سے مرحوم مختار انصاری کے بھائی افضل انصاری بدلے حالات میں اس بار سائیکل پر سوار ہیں ۔بسپا سے ڈاکٹر امیش کمار سنگھ میدان میںہیں ۔غازی پور کی فضا میںجس طرح کے سوال ہیں ان سوالوں پر و وٹروں کے جیسے خیالات ہیں ان کا ذہنی طور پر تجزیہ کریں تو صاف ہو جاتا ہے یہاں بھاجپا اور سپا کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے ۔البتہ بسپا لڑائی کو سہ رخی بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔پرمبیر چکر ونر ویر عبدالحمید کی سرزمین غازی پور کا ذکر آتے ہی لوگوں کو یاد آتے ہیں وشوناتھ سنگھ گھمیری 1962 میں ایم پی بنے تھے ۔انہوں نے صرف غازی پور میں ہی نہیں پورے پروانچل کے حالات ،بھکمری ،بے روزگاری کے درد کو جس طرح سے پارلیمنٹ میں رکھا تھا وہ سب کچھ لوگوں کی دعاو¿ں پر ہوتا ہے ۔بھکمری کا درد تو رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ حالت ایسی ہے کہ علاقے کی ایک بڑی آبادی کیلئے بیل کے گوبر سے نکالا اناج ہی غذا کا اہم سہارا ہے ۔یہ سب سن سورگیہ وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر ہر ممبر کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں ۔اب عام عوام الناس کو سیاسی مزاج اور انداز کی بات چناوی ماحول کے سوال پر لنکا تراہے پر ملے ایک شخص کہتے ہیں کہ بھاجپا امیدوار کو تو کوئی پہچانتا تک نہیں ہے ۔کب تک مودی ،یوگی کے نام پر ووٹ ملیں گے اس پر پاس بیٹھے ایک دوسرے شخص نے طنز میں کہا کہ ہاں مافیہ کو تو سب پہچانتے ہیں ان کے نام پر ووٹ دیا جائیگا ۔پلٹوار کرتے ہوئے پہلا شخض کہتاہے کہ وہ مافیا نہیں تھے وہ غریبوں کے مسیحا تھے ۔اس پر دوسرا شخص کہتا ہے کہ میری جیب سے 100 روپے نکال کر کسی کو 10 روپے دے دینا اسے میسحا نہیں کہتے ۔دراصل یہاں بات مختار انصاری کی ہو رہی ہے ۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی مختار کی تکلیف دہ موت ہو چکی ہے لیکن چناو¿ تو مختار انصاری کے نام پر ہی لڑا جا رہا ہے ۔وہیں کچھ لوگ منوج سنہا کے وزیر مملکت ریل رہنے کے دوران غازی پور میں ہوئے وکاس کے کاموں کو گناتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارس ناتھ رائے تو پہچاننے یا نا پہچاننے بلکہ کمل کے پھول کو تو سب پہچانتے ہیں ۔ووٹ تو اسی کو ملے گا۔ منوج سنہا کے قریبی کہے جانے والے پار س ناتھ رائے کو ٹکٹ دے کر بھاجپا نے سب کو حیت میں ڈال دیا تھا ۔ٹکٹ کے اعلان ہوا تو پارس ناتھ رائے اپنے اسکول میں دستخط کررہے تھے تب انہوں نے کہا تھا کہ میں نے تو ٹکٹ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی یہ ٹکٹ منوج سنہا نے ہی دلوایا ہے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...