Translater

02 مارچ 2023

اڈانی کی گرتی ساکھ!

صر ف 1مہینے پہلے گوتم اڈانی کا شمار دنیا کے تیسرے نمبر کے سب سے امیروں میں ہوا کرتا تھا۔لیکن امریکی ریسرچ فورم ہنڈن برگ کی منفی رپورٹ آنے کے بعد اڈانی گروپ کے شیئر وں میں اس قدر گراوٹ آئی کہ وہ اب سب سے امیر لوگوں کی فہرست میں 30ویں مقام پر آ گئے۔ اڈانی کے اثاثے میں گراوٹ آنے کے ساتھ ہی ریلائنس انڈسٹریز کے چیرمین مکیش امبانی پھر سے دیش کے سب سے امیر آدمی بن گئے ہیں ۔ امبانی 81.7ارب ڈالر کے اثاثے کے ساتھ دنیا کے 10ویں سب سے امیر ترین شخص ہیں ۔بندر گاہ ،ہوائی اڈا ،غذائی تیل ،بجلی ،سیمنٹ اور ڈیٹا سینٹر جیسے تما م سیکٹروں میں کاروبار رکھنے والے اڈانی گروپ کے شیئر میں گزشتہ ایک مہینے میں بھاری بکوالی ہوئی ۔اعداد و شمار کے مطابق اڈانی گروپ کی 10کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں اس دوران 12.06لاکھ کروڑ کی بڑی گراوٹ آئی ہے ۔ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ 25جنوری کو جاری کی گئی تھی ۔ جس میں اڈانی گروپوں پر شیئر کے دام بڑھانے میں دھاندھلی اور فرضی غیر ملکی کمپنیو ں کا استعمال کرنے کے سنگین الزام لگائے گئے تھے حالاںکہ اڈانی گروپ نے ان الزامات کو جھوٹا ،بے بنیاد بتاتے ہوئے مسترد کردیا تھا ۔ اڈانی گروپ کی طرف سے دی گئی تمام وضاحتوں کے بعد بھی اس کے شیئر وں میںگراوٹ کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اڈانی ٹوٹل گیس لیمیٹیڈ کو ہوا ۔جس کی بازا ر ویلیومیں 80.68فیصد کی بڑی گراوٹ آچکی ہے۔ اسی طرح اڈانی گرین انرجی کی ویلیو74.62فیصدی گھٹ گئی ہے۔ اڈانی ٹرانسمیشن کے بازار ویلیومیں 24جنوری سے اب تک 74.21فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ وہیں اڈانی انٹر پرائز کی ویلیوقریب 62فیصدتک گر چکی ہے۔ اڈانی پاور ،اڈانی ویلمر کے علاوہ اس کی سیمنٹ کمپنیوں امبوجا سیمنٹ و ای سی سی کے بازار سرمایہ کاری میں بھی اس دوران گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس ساتھ ہی میڈیا کمپنی این ڈی ٹی وی ،اڈانی پورٹس کو بھی ویلیومیں خاص نقصان ہوا ۔ اگر گوتم اڈانی کی شخصی سرمایہ کی بات کریں تو ان کی ویلیو120ارب ڈالر سے گھٹ کر 40ارب ڈالر (3317.02ارب روپے )سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اس طرح ان کی شخصی ویلیومیں بھی 80ارب ڈالر (66.3404ارب روپے)یعنی دو تہائی گراوٹ آئی ہے۔اور یہ بدستور جاری ہے ۔ اڈانی کو بچانے کیلئے مرکزی حکومت نے پوری طاقت لگا دی ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گوتم اڈانی کے خلاف کوئی سرکاری تفتیشی ایجنسی کسی طرح کی جانچ نہیں کر رہی ہے۔ لیکن وہیں اسٹاک مارکیٹ نے اڈانی کو بھی نہیں بخشا اور ان کے شیئر وں میں گراوٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ (انل نریندر)

512کلو پیاز محض 2روپے میں !

مہاراشٹر سمیت پورے دیش میں گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا پر شولہ پور کے کسان راجیندر چوہان کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منڈی میں 512کلو پیاز بیچنے کے بعد بھی انہیں صرف دو روپے کا چیک ملا اور اسے کیش کروانے کیلئے بھی انہیں کچھ دنوں بعد منڈی میں آنا ہوگا۔ مہاراشٹر کے بجٹ سیشن کے موقع پر اپوزیشن کے لیڈر اجیت پوار نے بھی اس کا ذکر کیا ۔ وہیں دوسری جانب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ راجیندر چوہان کو دو روپے کے چیک دینے والے سریہ ٹریڈر س کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اخبار نویسوں سے بات چیت میں فڑنویس کا کہنا تھا کہ 512کلو پیاز بفر قیمت کے اندر نیچے جاتی ہے ۔لیکن انہیں دو روپے ہی ملے ہیں۔ٹرانسپورٹ لاگت کاٹ لی گئی ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔دراصل مہاراشٹر میں ان دنوں تھوک بازار میں پیاز 6سے 7روپے کلو اور خوردہ بازار میں 20سے 30روپے کلو کے حساب سے مل رہی ہے۔ لیکن فروری کے آخر تک مانسونی پیاز کی آمد ہو جاتی ہے۔ نمی کے سبب پیاز کو اسٹور کرکے نہیں رکھا جاسکتاہے۔ گھریلو استعما ل کیلئے اسٹور کرنے کیلئے صرف سوکھی پیاز کی ضرورت ہوتی ہے۔مانسونی پیاز کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملی اور اس کی زد میں راجیندر چوہان آگئے ۔ شولہ پور ضلع کے برکھی تالا کے گورے گاو¿ں کے راجیندر توکارام چوہان نے دس بوری پیا ز بیچی اور منڈی نے انہیں ٹرانسپورٹ ،ڈھلائی اور تول کرنے کا پیسہ کاٹنے کے بعد دو روپے کا چیک تھما دیا۔ چوہان یہ دو ایکڑ کھیت میں پیاز لگائی تھی۔17فروری کو 10بوری پیاز سریہ ٹریڈرس کے پاس لے گئے ان سب بوریاں کا وزن 512کلو تھا لیکن مانسونی پیا ز کی قیمتوںمیں گراوٹ کی وجہ سے راجیندر کو 1روپے فی کلو کے بھاو¿ دام ملے اور کل لاگت میں سے گاڑی کرایہ ،تولائی ،ڈھلائی کے پیسے کاٹ کر دو روپے کا چیک انہیں دے دیا گیا ۔زرعی اجنا س منڈی کمیٹی کے تاجر سریہ ٹریڈرس نے یہ چیک دیا جو 8مارچ 2023کو کیش کراناہے ۔ انہیں اس دور وپے کی چیک کو بھنانے کیلئے واپس اسی منڈی میں آنا ہوگا۔ راجیندر چوہان کو ایک کاروباری سے محض دو روپے کی چیک ملنے اور اس سے جڑی خبریں ہر طرف وائرل ہو گئیں ۔ بی بی سی مراٹھی نے واقعہ کے بارے میں معلومات کیلئے راجیندر چوہان سے رابطہ قایم کیا تو انہوںنے اس بارے میں بتایا کہ میں جو پیاز بیچی تھی وہ نمبر 1کوالیٹی کی تھی۔ اور مجھے امید تھی کہ یہ 8سے 10روپے فی کلو کے بھاو¿ میں بکے گی۔ لیکن حقیقت میں یہ فی کلو 1روپیہ ملا ۔ اس سے میرا خرچ بھی نہیں نکلا ۔مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ راجیندر چوہان کا پورا خاندان کھیتی کاروبارمیں ہے ۔ ان کے خاندان میں بیوی دو بچے ،بہو اور پوتے ،پوتیاں ہیں ۔ چوہان نے کہا کہ اس واقعے سے ان کے گھر والوں کو بہت دکھ ہے ۔کسانوں کی انجمن سوابھیمانی تنظیم کے چیف راجو روہی کہتے ہیںکہ دیکھئے توکارام چوہان کو دس بوری پیاز بیچنے پر صرف دو روپے کا چیک ملتا ہے ۔ بے شرم تاجر کو شرم کیسے نہیں آئی ؟کسانوں کے آنسوں نکالنے کیلئے یہ واقعہ فطری ہے۔ (انل نریندر)

28 فروری 2023

نیا ٹرینڈ :دو سال کی حکومتیں!

لوگوں میں اختیارات کو لیکر بڑھتی بیداری اور ریفرنڈم کا دباو¿ کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں جمہوری سرکاریں اور ان کے نیتا اب تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ یوروپ کے زیادہ تر ملکوںمیں ہر دو سال میں حکومتیں بدل رہیںہیں اس کی وجہ ہے لوگ دو سال سے زیادہ میعاد کی ایک سرکار نہیں چاہتے ۔ برطانیہ میں 2022تین وزیر اعظم بنے ۔ جفرافیائی ریسر چ سینٹر کی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 2022تک برطانیہ کے ساتھ یورپین یونین کے 22ملکوںمیں حکومت کا اوسط میعاد کا حساب لگایا گیا جس میں سامنے آیا کہ زیادہ تر یوروپی ممالک میں دو سال میں ایک مرتبہ سرکار بدل گئے جیسے بیلجیم ،فن لینڈ اور اٹلی میں سب سے کم میعاد والی حکومتیں رہیں۔ان ملکوںمیں اوسطً سرکاریں ایک سالب بھی نہیں چلیں ۔ آئین میں طے میعا د سے بہت کم وقت تک سرکار چل سکیں ۔ وہیں لگزم برگ میں سرکار کی اوسط میعاد سب سے زیادہ ساڑے چار سال رہی یہاں حالاںکہ یہ بھی پانچ سال تک کی میعاد سے کم رہی ۔ ریسرچ سینٹر کی اسٹڈی کے مطابق ضروری نہیں کہ بدلاو¿ چناو¿ سے ہی ہو ۔پارٹیوں کے درمیان محاذ سے پارلیمنٹ سے اکثریت سے جیت کر سرکار میںتبدیلی ہوئی اس میں برطانیہ کی مثال دی گئی ہے۔ جہاں2022میں بنا چناو¿ دو نئے وزیر اعظم بنے ۔ یوروپ کے سبھی ملکوںمیں بھی یہی ہوا ہے۔ (انل نریندر)

خبروں پر نہیں لگائیںگے روک!

سپریم کورٹ نے اڈانی ہنڈن برگ معاملے پر دی جا رہی خبروں کیلئے میڈیا پر روک لگانے کی عرضی کو سرے سے خارج کردیا ۔ یہ عرضی وکیل ایم ایل شرما نے دائر کی تھی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے کہا کہ ہم میڈیا کے خلاف کبھی کوئی پابندی لگانے کا حکم نہیں جاری کر رہے ہیں۔ اب شرما نے یہ کہتے ہوئے اپنی درخواست کو دوہرایا کہ میڈیا سنسنی پیدا کر رہی ہے تو اس پر چیف جسٹس نے دوہرایا کہ واجب بات کیجئے میڈیا رپورٹینگ پر روک لگانے کی بات مت کیجئے منا سب دلیل دیں ۔ میڈیا رپورٹنگ پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بنچ اس جھگڑے میں جلد ہی کوئی حکم پاس کرے گی۔ پچھلے ہفتے بنچ نے اڈانی ہنڈن برگ معاملے میںہندوستانی سرمایہ کاروں کی گارنٹی کیلئے ریگولیٹری مشینر کا جائزہ کیلئے ایک خصوسی کمیٹی بنائی لیکن سماعت پوری کر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بنچ نے مجوزہ کمیٹی میں شامل کرنے کیلئے سیل بند موہر لفافے میں دئے گئے ناموں کو منظور کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔ چیف جسٹس اڈانی معاملے کئی عرضیوںپر سماعت کر رہے ہیں جس میں دو عرضیوںمیں ہنڈن برگ کے خلاف جانچ کے حکم کی مانگ کی گئی ۔دونوں عرضیوںمیں یہ بھی مانگ کی گئی کہ 24جنوری کو ہنڈن برگ نے ایک رپورٹ جاری کر اڈانی گروپ کے خلاف کئی الزام لگائے تھے ۔ جس میں شیئروں میں ہیر پھیر جیسے سنگین الزام بھی شامل ہیں۔ (انل نریندر)

بھنڈرا نوالے حمایتی امرت پال کا ابھر نا خطرناک!

ایک خالصتانی حمایتی تنظیم وارث پنجاب دے ،کے حمایتیوںکی مسلح جنگجوو¿ں نے اپنے چیف اور مبلغ امرت پال سنگھ کے قریبی کی گرفتاری کے احتجاج میں امرتسر کے اجنتلا تھانے پر قبضہ کرلیااور اس طرح سے اس نے پولیس انتظامیہ کو جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ وہ پنجاب جیسے حساس ترین ریاست کیلئے بیحد خطرناک ہے وہ پنجاب کیلئے ہی نہیں بلکہ پورے دیش کیلئے ایک خطرناک اشارہ ہے۔جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کو اپنا آئیڈیل ماننے والے خالصتانی حمایتی تنظیم وارث دے پنجاب کے چیف امرت پال سنگھ کے حمایتیوں نے تلوار اور بندوقوں کے ساتھ جو مظاہرہ کیا اس نے پنجاب میںدہشت گردی کے دور کی یاد دلا دی ۔ مشتعل بھیڑ نے ناکے بندی توڑ دی اور کئی پولیس والوں کو زخمی کردیا ۔ اتنا ہی نہیں پولیس پر دباو¿ بنایا اور طوفان کی رہائی کے احکامات لئے۔ خالصتانی حمایتی 29سالہ امرت پال سنگھ کا اچانک عروج ہونا پنجاب میں عام آدمی پارٹی سرکار کیلئے در د سر بن سکتاہے ۔ حمایتی اسے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کا ہی شکل ماننے لگے ہیں ۔یہ ٹھیک اسی طرح کپڑے پہنتا ہے اور دستار سجاتا ہے جیسے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کر تا رہا ہے۔ وہ اسی کی طرح اپنے ساتھ مسلح لوگوں کا جتھہ رکھتا ہے اور انہیں لیکر ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ اس کی خالصتانی حمایتی تنظی وارث پنجاب دے ان دنوں کھل کر خالصتان بنانے کی بات کر رہا ہے۔امرت پال کی باتیں کچھ نوجوانوں کو ساتھ جوڑ رہیں ہیں۔ 1984میں آپریشن بلو اسٹار کے دوران مارے گئے بھنڈرانوالے کے تقریباً 4دہائی بعد ایک بار پھر پنجاب کو پھر انہیں راستوں پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جہاںسے 15سال کی لڑائی کے بعد پنجاب اس سے باہر آیا تھا۔ ابھی پچھلے سال ہی جب تین زرعی قوانین کو لیکر دہلی سرحد پر ایک سال تک کسان دھرنے پر بیٹھے رہے تھے تب امرت پال سنگھ دوبئی میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی چلا رہا تھا۔ بھارت سرکار کے ذریعے بنائے گئے تینوں قوانین کو لیکر چل رہی تحریک میں سرگرم رول نبھانے والا دیپ سدھو نے وارث پنجاب دے بنائی تھی۔سڑک حادثے میں دیپ سدھو کی موت کے بعد امرت پال نے تنظیم کی کمان سنبھالی ۔ بھنڈرانوالے کے موگہ میں جاکر گاو¿ں روڑے میں جس طرح ایک بڑی ریلی کی تھی اس سے بھی بڑی ہے۔پاکستان پنجاب میں انتہا پسندی کو پھر سے ابھارنے میں پوری طرح سے لگا ہوا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار ہے ہمیں شک ہے کہ وہ اس نئی صورت حال سے موثر طریقے سے نمٹ سکتی ہے یا نہیں مرکز کو پوری نظر رکھنی ہوگی۔ وہ پنجاب سرکار پر بھروسہ نہیں کر سکتا ۔ اگر حالات اور بگڑتے ہیں تو ریاست کی بھگونت مان سرکار کو برخاست کر باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینی پڑ سکتی ہے۔ دوبارہ سے خالصتانی تحریک کسی بھی حالت میں بر داشت نہیں کی جاسکتی ۔ (انل نریندر)

23 فروری 2023

بھاجپا کو 100سیٹوں تک سمیٹا جا سکتا ہے؟

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سنیچر کو کہا کہ کانگریس کو راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے بنے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاجپا مخالف پارٹیوں کو متحدہ محاذ بنا نا چاہئے ۔ جنتا دل متحدہ کے لیڈر کا کہنا تھا کہ یہ محاذ جلدی بننا چاہئے تاکہ لوک سبھا میں 300سیٹوں سے زیادہ والی بھاجپا کو اگلے سال ہونے والی عام چناو¿ میں 100سیٹوں تک ہی محدود کیا جا سکے ۔ پٹنہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں نتیش کمار نے کانگریس نیتا سلمان خورشید کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ میںکانگریس میں اپنے ساتھیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا بہت کامیاب رہی ۔ لیکن انہیں یہی تک نہیں رکنا چاہئے اس پر کانگریس نیتا سلمان خوشید کا کہنا تھا کہ جہاںتک اپنی پارٹی کے بارے میںمیرا خیال ہے جو آپ چاہتے ہیں وہاںبھی سبھی یہی چاہتے ہیں ۔ کانگریس پر اپوزیشن اتحاد کا دباو¿ بڑھا ہے۔نتیش کمار ،آر جے ڈی لیڈر و نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے ان کے سر میں سر ملاتے ہوئے کانگریس کو اپوزیشن اتحاد کو آگے بڑھنے کی دعوت دی یا یوں کہیں کہ فیصلہ لینے کا دباو¿ بڑھایا ہے۔ بہار میں سماج وادی کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کی اتحاد کی سرکار ہے۔ایک اسٹیج سے نتیش و تیجسوی نے جس طرح کانگریس پر دباو¿ بنایا اس سے صاف ہو گیا ہے کہ گیند اب کانگریس کے پالے میں ہے اب اسی کی طرف سے دیر ہے دوسری اپوزیشن اتحاد ہے بڑی بات چیت ہونے سے سیاسی گلیاروں میںجو غلط فہمی جے ڈی یو و آر جے ڈی کے رشتوں کو لیکر پیدا ہو رہی تھی وہ بھی ایک طرح سے دور ہوگئی ۔ تیجسوی نے کہا کہ نتیش کے ساتھ آنے سے اپوزیشن کو طاقت ملی ہے ۔ اجلا ج میں نتیش سے سلمان خورشید کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی لیڈرشپ سے کہہ دیجئے کہ میری اپنی کو ئی شخصی خواہش نہیں ہے ہماری ایک تمنا ہے سبھی کو متحد کریںگے تو غلطی کرنے والوں سے دیش آزاد ہوگا۔ وہیں کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کانگریس کے 24فروری سے شروع ہورہے اجلا س میں لوک سبھا چناو¿ کیلئے اپوزیشن اتحاد پر غور و خوض ہوگا اور اس کے بعد ہی آگے کا مو قف اپنا یا جائے گا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی موجودگی کے بغیر اپوزیشن اتحاد کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ۔کانگریس اکلوتی پارٹی ہے جس نے بی جے پی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمیں کسی کو سرٹیفیکٹ دینے کی ضرورت نہیں ۔ وہیں اپوزیشن اتحاد کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت داخلہ نتیہ آنند رائے اور ایم پی ششیل مودی اور روی شنکر پر ساد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کا مرکز کی مودی سرکار پر کوئی اثر پڑ نے والا نہیں۔ رائے نے دعویٰ کیا کہ 2024میں مہا گٹھ بندھن کا صفایا ہو جائےگا۔ ادھر سشیل مودی نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن دیش اور گجرات کی طرح کمزور سرکار بنانا چاہتا ہے؟ روی شنکر پر ساد نے الزام لگایا کہ جے ڈی یو میں بھگدڑ ہونے کا اشارہ ہے۔سی ایم بہار تو سنبھال نہیں پا رہے ہیں بات مہا گٹھ بندھن کی کر رہے ہیں۔ (انل نریندر)

سوروس کے الزامات پر سیاسی گھمسان !

بھارتیہ جنتا پارٹی نے امریکی بزنس مین جارج سوروس پر جم کر تنقید کی ہے ۔ جمعہ کے روز مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے پریس کانفرنس کر کہا کہ جارج سوروس کا بیان ہندوستان کی جمہوری عمل کو بر باد کرنے کا اعلان ہے ۔جارج سوروس نے جرمنی کے میونخ ڈیفنس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی جمہوری نہیںہےں اور مودی کے تیزی سے بڑا لیڈر بننے کی اہم وجہ ہندوستان مسلمانوں کے ساتھ تشدد ہے۔انہوںنے کہ کہ بھارت روس سے کم قیمت پر تیل خرید تا ہے ۔ ان کے مطابق گوتم اڈانی معاملے میں مودی فی الحال ایک پارٹی ہے لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں اور پارلیمنٹ میں سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ اس سے سرکار پر ان کی پکڑ کمزور ہوگی ۔ ان کا یہاں تک دعویٰ تھا کہ اس سے بھارت میں جمہوری عمل کو دوبارہ کھڑاکرنا ہوگا ۔ اس سے پہلے جنوری 2020میں داو¿س میں ہوئی ورلڈ ایکنومک فورم کی اجلاس میں مودی کو نشانے پر لیتے ہوئے سوروس نے کہا تھا کہ بھارت کو ہندو راشٹر وادی ملک بنا یا جارہا ہے۔ جارج سوروس نے اس وقت کہا تھاکہ بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرناک جھٹکا ہے جہاں جمہوری طور سے چن کر آئے نریندر مودی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنا رہے ہیں اور یہ بھی کہا تھاکہ مودی کشمیر پر پابندیاں لگاکر وہاں کے لوگوں کو سزا دے رہے ہیں اور شہریت قانون (سی اے اے ) کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ جمعہ کو سوروس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی سرزمین سے بھارت کی جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ بھارت کے اندرونی معاملے میں دخل اندازی کی کوشش ہے۔ سبھی ہندوستانیوں سے سوروس کا منہ توڑ جواب دینے کی اپیل کی ۔ کانگریس نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور میڈیا چیف جے رام رمیش نے ٹویٹ کرکے کہا کہ پی ایم سے وابسطہ اڈانی گھوٹالہ بھارت میں جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے یا نہیں یہ پوری طرح کانگریس اپوزیشن ہماری چناوی عمل پر منحصر ہے اس کا جارج سوروس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے نہرو وادی وراثت یقینی کرتی ہے کہ اس سے لوگ ہمارے چناوی نتائج طے نہیں کر سکتے ۔ انہوںنے ٹویٹ کیا کہ جارج سوروس کون ہے؟ بی جے پی کا منترالیہ ان پر پریس کانفرنس کیوں کر رہا ہے؟ ویسے منتری جی بھارت کے چناوی عمل میں اسرائلی ایجنسی کی دخل اندازی پر آپ کچھ کہنا چاہیںگی؟ بھارت کی جمہوریت کیلئے وہ زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ تریمنول کانگریس کی لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے اسمرتی ایرانی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ کیبنٹ منتری جی نے ہر ہندوستانی سے جارج سوروس کا منہ توڑ جواب دینے کو کہا ہے۔ آج شام چھ بجے تھالی پیٹیں ۔ جارج سوروس ایک امریکی صنعت کار ہیں ۔ برطانیہ میں انہیں ایک ایسے شخص کی طرح جانا جاتا ہے جس نے 1992میں بینک آف انگلینڈ کو برباد کر دیا تھا۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...