Translater
23 جنوری 2021
سابقہ کے نظریات اسے نا اہل نہیں بناتے !
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بووڑے نے منگلوار کو کہا کہ محض اس لئے کہ ایک شخص نے پہلے پہلے معاملے پر خیالات ظاہر کئے ہیں ۔یہ کسی کمیٹی یا ممبر ہونے کے لئے اہل نہیں بناتا ۔چیف جسٹس نے یہ بات عدالت والی چار ممبروں کی کمیٹی کے بارے میں کہی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ چاروں ممبران نے کسان یونین کی حمایت میں بیان دئیے تھے کسانوں کو ان کے ناموں پر اعتراض ہے ۔انہوں نے چونکہ کسان یونین کی حمایت کی ہے اس لئے ان سے ہمیں انصاف نہیں مل سکتا ۔چیف جسٹس نے کہا کسی کمیٹی کے ممبر جج نہیں ہیں اور وہ اپنی رائے بھی بدل سکتے ہیں اس طرح صرف اس لئے کہ کسی شخص نے کسی معاملے پر کچھ خیالات ظاہر کئے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی میں مقرر نہیں کیا جا سکتا ۔کورٹ کا یہ ریمارکس کسانوں کے احتجاج پر کمیٹی کی تشکیل تنازعہ کے سلسلے میں جائز مانی جارہی ہے ۔مرکزی سرکار اور کسانوں کے درمیان تعطل کو دور کرنے کے لئے بڑی عدالت کے ذریعے قائم ممبری کمیٹی میں وہ ممبر بھی شامل ہیں جنہوں نے زرعی قوانین کے عمل کی حمایت میں کھلے نظریات ظاہر کئے ہیں کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے بعد ایک ممبر کا کہنا ہے کہ ہم کسی فریق سرکار کی طرف سے نہیں ہیں ہم بڑی عدالت کی طرف سے ہیں ۔اس لئے کسان انجمنوں کے لیڈروں سے درخواست کرتے ہیں بات چیت کے لئے آگے آئیں کمیٹی کے ممبر اور و شیت کاری سنگھٹھن کے چیئرمین انل دھنون نے کہا مختلف مفاد کاروں سے زرعی قوانین پر بحث کے دوران ممبر اپنی نجی رائے کو ہاوی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے 21جنوری کو کسانوں و دوسرے فائدہ اٹھانے والوں سے پہلے مرحلے کی بات چیت کی ہے ۔آندولن کررہے کسان انجمن کے سامنے آنے سے منع کررہے ہیں ۔ ان کو بات چیت کے لئے بلانا ایک بڑی چنوتی ہوگی ۔کمیٹی کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ کسان بات چیت میں شامل ہوں جس میں مسئلے کا حل نکل سکے اس میٹنگ میں دھنول کے علاوہ زرعی اقتصادی ماہر اشوک گلاٹی اور پرمود کمارجوشی بھی شامل ہوئے انل دھنول کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی مرکز و ریاستی حکومتوں کے علاوہ کسانوں و سبھی فیض یافتگان کا زرعی قوانین پر رائے جاننا چاہتی ہے ایک سوال کے جواب میں دھنول نے کہا کہ بھوپندر سنگھ مان کی جگہ پر کسے بنایا جائے گا یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے ۔کمیٹی کے ممبر اشوک گلاٹی نے مزید کہا کمیٹی میں سبھی ممبر برابر ہیں انہیں کمیٹی کا صدر مقرر کرنے کا امکان کو خارج کر دیا وہیں پرمود کمار جوشی نے کہا کہ ہماری رائے الگ ہو سکتی ہے ،لیکن جب اس طرح کی ذمہ داری دی جاتی ہے تو ہمیں منصفانہ طریقہ سے کام کرنا ہوتا ہے یہ دیکھنا اب یہ ہے کہ کسان سنگھٹھن اب اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہیں یا نہیں ۔
(انل نریندر)
بائیڈن نے صدر بنتے ہی ٹرمپ کے کئی بڑے فیصلے پلٹے!
امریکہ کے 46ویں صدر جو بائیڈن نے عہدے کا حلف لیتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کو پلٹنے والا حکم جاری کرد یا بائیڈن نے حلف برداری تقریب کے بعد کام شروع کرنے سے پہلے وائٹ ہاو¿س کے لئے روانہ ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ’ہمیں ہمارے سامنے موجود بحران سے نمٹنا ہے ،ہمارے پاس برباد کرنے کے لئے وقت نہیں ہے ۔صدر بننے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ، جن میں کورونا وبا سے نمٹنے میں سرکار کو مدد ملنے سے متعلق آرڈر بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ اس میں آب وہوا سنکٹ اور اپرواسن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو بدلنے کے لئے نئے آدیش بھی شامل ہیں ۔اس سے پہلے ماول آفس (اپنے دفتر )میں کالا ماسک پہن کر آئے ۔صدر بائیڈن نے اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا ان کی بڑی ترجیحات میں کووڈ بحران ، اقتصادی بحران اور آب و ہوا کرائسس شامل ہیں ۔بدھ کے روز ایک خصوصی تقریب میں جوبائیڈن نے دیش کے 46ویں صدر کے طور پر حلف لیا جس میں کووڈ 19-وبا کے سبب کم ہی لوگ موجود تھے ۔حالانکہ 3سابق صدور ، براک اوبامہ ، بل کلنٹن اور جارج بش ان کی حلف برداری تقریب میں موجود تھے ۔اور سبھی ٹرمپ انتظامیہ میں نائب صدر رہے مائک پینس بھی شامل ہوئے ۔نئے صدر نے صاف کیا نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں سے دیش کو نقصان ہوا ہے انہیںبدلنے کے لئے بلکہ دیش کو آگے بڑھانے کے لئے ہم ایکشن لیں گے ،کوروناوائرس وبا کے پیش نظر انہوں نے سبھی سرکاری دفتروں کے کمپلیکس میں ماسک پہننا اور سوشل ڈسٹنسنگ کی تعمیل ضروری کر دی ہے ۔اب تک کورونا وائرس کے سبب امریکہ میں چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔بائیڈن نے فیصلہ لیا ہے کہ وبا پر کاروائی میں تال میل کے لئے ایک نیا آفس قائم کیا جائے گا ۔اس کے ساتھ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )سے امریکہ کو الگ کرنے کی جو کاروائی ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی تھی بائیڈن اس فیصلے کو خارج کرنے کے لئے ایکشن لیں گے ۔بائیڈن نے بدھوار کو ایک ساتھ کئی ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کئے اس میں جہاں تارکین وطن کو راحت دی گئی ہے ،وہیں کئی مسلم ممالک سے سفر پر لگائی گئی پابندی ہٹالی گئی ہے ،کوونا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے بائیڈن نے دیش بھر میں ماسک کو ضروری کر دیا ہے ۔ساتھ ہی میکسیکو کی سرحد پر بن رہی دیوار کے پیسہ کو بھی روک دیا ہے ۔بائیڈن نے تارکین وطن کو راحت دینے والے ایگزیکٹو فرمان پر بھی دستخط کر دئیے ہیں ۔اس حکم سے 9.1کروڑ ایسے تارکین وطن کو فائدہ ہوگا جن کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں ہے اس میں قریب پانچ لوگ ہندوستانی ہیں بائیڈن نے آبرزن سسٹم کو بھی پوری طرح سے بدلنے کی شروعات کر دی ہے ۔اس کے ساتھ ہی جو بائیڈن نے گھریلو دہشت گردی سیاہ فام کو اہم ماننے والی ذہنیت کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔بائیڈن نے دونوں چنوتیوں کے خاتمہ کے لئے ہر امریکی سے سات آنے کی اپیل کی ان اقدام کے ذریعے بائیڈن امریکہ کو پھر سے عالمی لیڈر شپ کے رول میں بھلے لائے لیکن اپنے دیش میں منقسم نظریہ کو بدلنے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں اس پر بھی بہت کچھ منحصر کرے گا ۔جہاں تک بھارت کی بات ہے ۔جوبائیڈن کی قیادت میں دونوں ملکوں کی حکمت عملی رشتوں کو نئی اونچائیوں پر پہونچنے کا امکان ہے ۔جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی انہیں مبارکباد دیتے ہوئے امید جتائی ہے بائیڈن کو امریکہ اور بھارت کے درمیان رشتہ پریشان کن نہیں ہوں گے بائیڈن کو امریکہ کے مفادات کو بالا تر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے لیکن چین اور روس کے ساتھ کو کیسے طاقت کا توازن بنا پاتے ہیں یہ ہی ان کے ٹیلنٹ کا امتحان ہوگا ۔منقسم امریکہ کی ذہنیت کو صحیح کرنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
22 جنوری 2021
میڈیا ٹرائل نیا ئے انتظامیہ میں دخل!
ممبئی ہائی کورٹ نے پیر کے روز میڈیا اداروں سے کہا ہے کہ وہ خو کشی کے معاملوں میں خبریں دکھاتے وقت تحمل برتیں چونکہ میڈیا ٹرائل کے سبب انصاف دینے میں مداخلت اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے چیف جسٹس دیپاکردت اور جسٹس جی ایس کلکرنی کی ڈویژن بنچ نے کہا اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ریپبلک ٹی وی اور ٹائمس ناو¿ پر دکھائی گئی کچھ خبروں میں ذہنی حجت تھی بنچ نے کہا کہ حالانکہ اس نے چینلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی میڈیا ادارے کے ذریعے خبریں دکھا نا عدالت کی توہین کے برابر مانا جائے گا۔ اورمعاملے کی جانچ میں یا اس میں انصاف دینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے بنچ نے کہا میڈیا ٹرائل کے سبب انصاف دینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ کیبل ٹی وی نیٹورک ریگولیشن قانون کے تحت ضابطے کی خلاف ورزی کرتا ہے عدالت نے کہا کہ کوئی بھی خبر صحافت کے تقاضوں اور ایک اخلاقیات سے متعلق قوائد کے مطابق ہونی چاہئے اور دیگر میڈیا گھرانوں کو ہتک عزت کی کاروائی کا سامنہ کرنا ہوگا ۔عدالت سوشانت راجپوت کی موت کے واقعہ پر سماعت کر رہی تھی اور اسی کے کوریج پر یہ ریماکس دیئے ہیں ۔
(انل نریندر)
ارنب گوسوامی تنازع اور عمران خان!
ریبلک ٹی وی نیٹورک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اور بارک کے سابق سی ای او پارتھو کے درمیان ہوئی مبینہ واٹس ایپ چیٹ کے افشا ہونے کے تنازع اب پاکستان تک پہونچ گیا ہے ارنب گوسوامی کے مبینہ چیٹ میں پلوامہ حملے اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کا ذکر کیا گیا ہے ان چیٹ سے کے اسکرین سارٹ وائرل ہونے کے بعد کئی حلقوں میں سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ پلوامہ حملے اور بالا کوٹ پر بھارت کی سرجیکل اسٹرائیک کی جانکاری ارنب گوسوامی کو پہلے سے کیسے پتہ چلی تھی ؟سوشل میڈیا پر انب کے حمایتی اور مخالف دونوں اپنے اپنے خیالات رکھ رہے ہیں ۔ کانگریس نے بھی اس معاملے پر اپنا بیان جاری کیا ہے بحث اس وقت تیز ہوگئی جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس معاملے کو لیکر ایک کے بعد ایک ٹویٹ کئے جس میں انہوں نے لکھا ہے ،2019میں مینے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ کیسے بھارت کی فاسسٹ وادی مودی سرکار نے بالا کوٹ کا استعمال اپنے چناوی فائدوں کے لئے کیا تھا ایک ہندوستانی صحافی جسے جنگ کی بھڑکیلی زبان بولنے کا شوق ہے بات چیت نے مودی سرکار اورہندوستانی میڈیا کے درمیان بنے ہوئے غلط طریقے سے معاملے کو بیان کر دیا ہے اپنے اگلے ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ اس کی وجہ سے ایک خطرناک فوجی ہمت کی حالات پیدا کئے گئے تاکہ عام چناو¿ جیتا جائے اس سے پورے علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے مضر نتائج کو نظر انداز کردیا گیا پاکستان نے بالاکوٹ معاملے میں ایک ذمہ دارانہ اور متوازن رد عمل ظاہر کیا تھا اور اس طرح سے اس نے ایک بڑے بہران کو کھڑا ہونے سے روک دیا عمران نے اپنے اگلے ٹویٹ میں لکھا ہے بھارت کا پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ،ہندوستانی قبضے والے جموں کشمیر میں اس کی زیادتیاں اور ہمارے خلاف پندرہ سال سے جاری غلط پرو پیگنڈہ کی مہم میں سب برباد ہوگئے اب بھارت کی خود کی میڈیا اس گٹھ جوڑ کی جانکاری دے رہے ہیں اس سے ہمارا نیکلویئائی کفیل پورا خطہ ایک ایسی جنگ میں پھنس سکتا ہے سجسے برداشت کرپانا ممکن نہیں ہوگا اپنے آخری ٹویٹ میں پاکستان وزیر اعظم نے کہا میں دوہرانا چاہتا ہوں کہ میری سرکار بھارت پاکستان کے خلاف جاری سازشوں اور مودی سرکار فاسی ازم کا پردہ فاش کرنا جاری رکھے گی۔بین الاقوامی برادری کو بھارت کے اس بے ضمیر ،اور فوجی ایجنڈے کو روکنا ہوگا یعنی مودی سرکار اس پورے علاقے کو ایسے تنازع میں جھونک دے گی جہاں سے اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہ جائے گا۔ اتوار کو کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ ممبئی پولس کہ چارج سیٹ میں جو واٹس ایپ چیٹ سامنے آئی ہیں اس سے قومی سلامتی کو لیکر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔کس طرح سے مالی خرد برد ہوئی بڑے عہدے پر بیٹھے کون سے لوگ شامل تھے اور کیسے ججوں کو کھریدنے کی بات ہوئی اور کیبنٹ میں کون سا ایم پی کس سے ملے گا اس کا فیصلہ ایک جنرلسٹ کا ذریعے کیا گیا ساری باتیں ممبئی پولس کی چارج سیٹ ایک ہزار صفحات کی ہے ہم اس کی اسٹڈی کر رہے ہیں ان چیٹس کے افشاں ہونے کے بعد ریپبلک ٹی وی میڈیا نے ایک مفصل بیان جاری کیا جس میں اس نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلک میڈیا نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی نے پندرہ سال سے پاکستان اور آئی ایس آئی کی سازشوں کو پردہ فاش کیا ہے تفتیشی رپورٹنگ اسٹنگ آپریشن اور حقیقت پر مبنی جانکاری کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے یہ صاف کردیا تھا کہ پاکستان دہشت گردی گروپوں کو اسپونسر کرتا ہے مدد اور سرپرستی دیتا ہے ۔
(انل نریندر)
36سے شکھر ،کرکٹ کے نئے نائیکوں کا آغاز ہو چکا ہے!
آسٹریلیا کی ٹسٹ سریز میں بھارت نے جو واپسی کی ،وہ ایک 144سال کی ٹسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب بن گیا ہے اس سے پہلے آسٹریلیا نے بھی 1902میں 36پر آل آو¿ٹ ہونے کے بعد سریز جیتی تھی لیکن وہ زیادہ سے زیادہ 299رن بنا پائی تھی اور بھارت 329رن بنا کر جیتا ہے اس لحاظ سے یہ اب تک کی سب سے بڑی واپسی جیت ہے ،خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ جیت بڑے کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں نوجوان کھلاڑیوں نے دلائی بھارت اس سریز کو 2-1سے جیتنے میں کامیاب رہا اس جیت پر بی سی سی آئی نے ٹیم کو پانچ کروڑ روپئے دیئے 19دسمبر کو ٹیم انڈیا 36رن پر ٹسٹ کی تاریخ کے اپنے کم سے کم اسکور پرآو¿ٹ ہوئی تھی اب 19جنوری کو 329رن بنا کر چیز کے ساتھ ٹسٹ سریز جیت لی۔یہ کھیل برس بن میدان پر کسی بھی ٹیم کو ملا اب تک کا سب سے بڑا نشانہ تھا اس سے پہلے 1951میں آسٹریلیا نے یہاں 236رن بنا کر میچ جیتا تھا ،یہ جیت اس لئے بھی اہم بنی :آسٹریلیا 32سال بعد برسبن کے گوپا میدان میں ٹسٹ میچ ہاری ہے اس سے پہلے 1988میں ویسٹ انڈیز نے اسے 9وکٹ سے ہرایا تھا ۔بھارت کی اس میدان پر پہلی جیت تھی بھارت کو جیت کیلئے 324رن درکار تھے ٹیم نے آخری دس وور میں ون ڈے کی طرح تیزی سے 64رن بنا کر تاریخی جیت درج کی اس وقت 18گیندیں باقی تھیں ۔پہلی بار کوئی ٹیم 3سو پلس کے ٹارگیٹ کا پیچھا کر تے ہوئے ذاتی جیت اس معنیٰ میں اہم ہے کہ پچھلے ٹسٹ میں بھارت کو قراری ہار ملی تھی ۔ پوری ٹیم 36رن پر آو¿ٹ ہوگئی تھی وراٹ کوہلی پیرا نٹی لیو پر گئے ہوئے تھے ۔چوتھے ٹیسٹ سے پہلے ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے تھے ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کی آمد ،سبھمن گل ،محمد سراج، نودیپ سینی ِ،واشنگٹن ،ٹی نٹراجن ،نے اس دور سے پہلے ٹسٹ نہیں کھیلا تھاشاردل ٹھاکر نے کچھ سال پہلے حیدرآباد میں دس گیندیں ہی پھینکی تھی اس میچ سے پہلے آسٹریلیا کے گیند بازوں کے پاس 1046وکٹ تھے جب کہ ہمارے گیند بازوں کے پاس کیرئیر کے صرف 17وکٹ تھے ۔سراج کے ساتھ ،سہنی کے چار ،روہت کے دو،کرکٹ کے لحاظ سے دیکھیں تو بس اس دورے میں ٹیم انڈیا جہاں 1-2سے ونڈے میچوں کی سریز میں پیچھے تھے ،تو ٹی 20میں آسٹریلیا پر 2-1سے جیت درج کر لی مگر ٹیم ا نڈیا ٹسٹ سریز میں ملی جیت کو اگر اس کی سب سے شاندار کامیابیوں میں سے ایک مانا جارہا ہے تو اس کا کریڈٹ رہانے کی کپتانی کے ساتھ ہی توقع کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کی شاندار کھیل کو بھی جاتا ہے جس طرح اس سریز میں شبھمن گل ،محمد سراج رشبھ پنت ،شاردل ٹھاکر اور نٹراجن نے کھیلا اس شاندار کرکٹ کا مستقبل سنہرا بن گیا ہے یہ ان ہیروز کا کمال ہے کہ ہم پہلا ٹسٹ ایڈلیٹ میں بری طرح ہارنے کے بعد گوا میں تاریخ رقم کی دراصل پھل ٹائم کپتان وراٹ کوہلی نے سریز کے درمیان چھٹی پر جانے اور محمد سمیع اور جسپریت بمراہ ،روندر جڈیجا اور بھونیشیور سمیت بہت سے کھلاڑیوں کے چوٹل ہونے کی وجہ سے پورا دارومدار یوتھ کھلاڑیوں پر آگیا رشبھ پنت شبھمن گل چتیسور پجارہ جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاکر یہ کر دکھایا دیا کہ شاید جس کا شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو ٹیم کے اس دورے نے دکھادیا ہے کہ نئے نائیکو ں کا آغاز ہوچکا ہے ۔
(انل نریندر)
21 جنوری 2021
ٹیکہ سے کنی کاٹتے دہلی کے شہری !
کورنا کو مات دینے کے لئے سنیچر وار سے شروع ہوئی کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگانے میں دہلی کے ہیلتھ ملازمین نے آخری وقت میں ٹیکہ لگوانے سے کنی کاٹ لی ۔جس وجہ سے دہلی میں پہلے دن طے تعداد میں صرف پچاس فیصد لوگوں نے ہی ٹیکہ لگوایا اس کی جانکاری دیتے ہوئے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اتوا ر کو کہا کورونا انفیکشن ٹیکہ کے لئے کچھ لوگ آخری وقت تک نہیں پہونچے سرکار اس کو لگوانے کو ضروری نہیں کرسکتی ۔دہلی میں ویکسی نیشن مراکز کی تعداد81سے بڑھا کر جلد 175ہو جائے گی ۔دہلی میں سنیچر کے دن 4319ہیلتھ ملازمین نے ٹیکہ لگوایا اور ٹیکہ لگوانے کے لئے رجسٹریشن تقریباً 53.3فیصد ہے ۔سرکار نے اب فیصلہ لیا ہے کہ ٹیکہ لگانے سے پہلے ہیلتھ ملازمین کیلئے کونسلنگ شیشن کیا جائے گا یہ یا تو اسی استپال میں ہوگا جہاں وہ نوکری پر ہیں یا پھر فون کے ذریعے کونسلنگ کی جائے گی ٹیکہ لگنے سے ایک دن پہلے انہیں فون کرکے پوچھا جائے گا کہ وہ ٹیکہ لگوانے آرہے ہین یانہیں ۔پہلے دن تقریباآدے لوگ ہی ٹیکہ لگوانے نہیں آئے جس وجہ سے سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے اور بات چیت کے ذریعے ان سے پوچھا جائے گا کہ ان کے دل میں تیکہ کو لیکر کیا خدشات ہیں اور کیا سوال ہیں ؟ اسے دور کرکے انہیں ٹیکہ کے لئے راضی کیا جائے گا۔
(انل نریندر)
تانڈو ویب سریز پر مچا گھماسان !
تانڈوویب سریز پر پورے دیش میں تانڈو مچ گیا ہے ۔سیف علی خاں کی اس ویب سریز پر بھاجپا نیتا کپل مشرا نے ایمازون پرائم کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں پرائم ویڈیو سے یہ ہٹانے کی مانگ کی ہے ۔کہا ہے کہ تانڈو کو اپنے پلیٹ فام سے ہٹائیں اور یہ ہی نہیں ہندو دیوی دیوتاو¿ں کی بے عزتی کو لیکر تنازعات میں گھرے سیف علی خان کے لیڈرول والی ویب سریز تانڈو کو لیکر مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں ۔لکھنو¿ کے حضرت گنج کوتوالی میں امیزون پرائم انڈیا کی اوریجنل کنٹینٹ ہیڈ ارونا پروہت اور سریز کے ڈائرکٹر علی عباس ظفر ،پروڈوشر ہمانشو کرشن مشرا رائٹر گور سولنکی کے خلاف اتوار کی رات ایف آئی آر درج کی گئی ۔ایک پولیس ملازم کی شکایت پر یہ کیس درج ہوا ہے ۔سینٹر زون کے ڈپٹی کمشنر سومن ورما نے کہا کوتوالی کی ایک ٹیم ان لوگوں سے پوچھ تا چھ کرے گی جن کے نام ایف آئی آر میں ہیں ۔واضح رہے تانڈو 16جنوری کو ریلیز ہوئی لوگ ویب سریز کے مواد کو لیکر شوشل میڈیا پر غصہ کررہے ہیں ۔سریز دیکھنے کے بعد یہ پایا گیا کہ پہل قسط کو 17منٹ میں ہندو دیوی دیوتاو¿ں کا رول کر رہے کرداروں کو عجیب ڈھنگ سے اور توڑ مروڑ کر زبان کا استعمال کرتے دکھایاگیا اس سے مذہبی جذبات بھڑک سکتے ہیں ۔اسی طرح ایپی سوڈ کے 22ویں منٹ میں شخصی جھگڑوں کو اکسانے کی کوشش کی گئی ہے ۔تنازعہ کو بڑھتے دیکھ ڈائرکٹر علی عباس ظفر سمیت پورے عملے نے مشروط معافی مانگ لی ہے اور کہا کہ یہ ویب سریز پوری طرح تصوراتی ہے اس میں کام کرنے والے ایکٹر و پروڈوسر کا کسی شخص ذات فرقہ مذہب مذہبی عقیدتوں کو ٹھینس پہوچانے یا کسی ادارے ،سیاسی پارٹی یا شخص کی بے عزتی کرنے کا کوئی منشہ نہیں تھی ۔ناراضگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر کسی شخص کے جذبات کو ٹھینس پہونچی ہے تو ہم بنا شرط معافی مانگتے ہیں ۔خبر ہے کہ اس سریز کو پروڈیوسروں نے سریز میں سے قابل اعتراض منظر کو ہٹانے کی بھی بات کہی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...