Translater
05 ستمبر 2020
GDPمیں 23.9فیصدکی ریکارڈ گراوٹ
کورونا وائرس وباءکے قہر اور اس کی روک تھا م کے لئے لگائے گئے لاک ڈاو¿ن کے تین مہینے اپریل جون کے سہہ ماہی میں GDPاینڈکس میں23.9فیصد گراوٹ پریشان کرنے والی ضرور ہے ورلڈ بینک سمیت دنیا کے سبھی نام ور اداروں نے گراوٹ کو لیکر 1سے6فیصد کی کمی کی پیش گوئی کی تھی در اصل اس اندیشے سے الگ گراوٹ اس لئے بھی اہم ہے کی دونوں کسان اور ذراعت مزدوروں نے مشکل میں قابل قدر محنت کی اور کھیتی کو پہلے سے زیادہ بڑھایا لیکن کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا الزام اس معنیٰ میں صحیح ہے کہ سرکار کی طرف سے غیر منظم طریقے کروڑوں مزدوروں کی پریشانیاں کم کرنے دے ،روز گار کے راستے کھولنے کے سمت میں کچھ نہیں ہوا راہل گاندھی نے GDPترقی شرح میں بھاری گراوٹ کو لیکر سرکار کو آڑے ہاتھو ں لیا اور دعویٰ کیا کی معیشت کی بربادی نوٹ بندی سے شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد ایک غلط پالیسی اپنائی گئی جس کی وجہ سے ترقی شرح کا گرنا بدستور جاری ہے ایسے ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے الزام لگایا کہ سرکار نے دیش کی معیشت کو ڈبا دیا آج حالت دیکھئے کہ GDP 23.9 فیصد تک گر گئی ہے پارٹی کے چیف ترجمان سرجے والا نے کہا کہ مودی جی اب تو مان لیجئے جسے آپ نے ماسٹر اسٹروک کہا تھا بلکہ وہ اصلی معنیٰ میں تباہی کا جھٹکا ہے ۔نوٹ بندی غلط GSTاور لاک ڈاو¿ن کے سبب یہ حالت بنی ہے کہ آج ہماری معیشت بری طرح بیٹھ گئی ہے ۔نیشنل انڈیکس ٹیلی آفس نے پہلی سہ ماہی میں اعداد شمار جاری کئے اس دوران ذراعت کو چھوڑ کر تعمیرات اور سرویس سمیت سبھی سیکٹروں کی پرفامنس خراب رہی سہ ماہی اعداد شمار 1996سے جاری ہو رہے ہیں ۔ اس وقت سے اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ ہے اتنا ہی نے تجزیہ نگار جو اندازہ لگا رہے تھے یہ گراوٹ اس سے بھی بڑی ہے ۔فی الحا ل دو کروڑ نوکریاں چلی گئی ہیں اور غیر منظم سیکٹر کے دس کروڑ سے زیادہ لوگ گھر بیٹھے ہیں ۔اور جب غیر منظم سیکٹر کے اعداد شمار سامنے آئینگے تو چنوتی کہیں اور زیادہ بڑھ سکتی ہے سرکار کے سامنے اس وقت دو تین چنوتیاںہیں ۔پہلی تو دیش میں پیداوار کیسے بڑھائی جائے ؟کورونا انفیکشن کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کو کیسے روکا جائے؟ تیسرا ہے کھپت بڑھانا ؟
(انل نریندر)
سبھی کے نشانے پر فیس بک !
سوشل میڈیا پر فرضی خبریں پھیلانے کا معاملہ بھار ت سمیت کئی ملکوں میں زور پکڑتا جا رہا ہے۔ فیس بک پر اظہار رائے پر لگام اور اظہار رائے کی آزادی وغیرہ ایشو ز پر بھار ت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بھر میں تشویش کا موضوع بنا ہوا ہے۔حکمراں فریک ہو یا اپوزیشن دونوں ہی فیس بک سے ناراض ہیں اور ان کو اس سے شکایت ہے در اصل یہ سب امریکہ کے ایک اخبار میں پچھلے دنوں شائع ایک خبر میں کہا تھا کی فیس بک میں بھارت کے بھاجپا نیتاو¿ں کے مبینہ استعال انگیز بیانوں کو لیکر ڈھیلارویہ اپنایا اور اپنے قواعد کو ہی نظر انداز کیا اخبار نے بھاجپا اور فیس بک حکام کے درمیاں ملی بھگت کی بات کہی بھارت میں کمپنی کے چیف پر سوال اٹھائے گئے اس کے بعد سیاسی گھماسان مچنا فطری تھا ۔ بھارت سمیت دنیا بھر میں فیس بک پر اٹھ رہی انگلیاں اب معاملے کی جانچ ہوگی اور امریکہ کے 17ماہرین کی ٹیم یہ پتا لگائے گی کی چناو¿ کو متاثر کرنے میں فیس بک کا کوئی رول ہے یا نہیں ؟ اس ٹیم میں سیاست اور جمہوریت اور سماج اور شوشل میڈیا سیکٹر سے ماہرین شامل ہونگے خود فیس بک نے اس کی جانکاری دی ہے اور بتا یا گیا ہے نیو یارک یونیورسٹی و ٹیکساس یونیورسٹی کے ریسرچر شامل ہونگے جو کہ پوری طرح آزاد ہونگے ہم ان کی مدد کرنے کو تیا ر ہیں اتنا ہی نہیں ریسرچ میں آنے والا فیس بک ہی دے گا۔ اور بتا یا گیا ہے نیو یارک یونیورسٹی و ٹیکساس یونیورسٹی کے ریسرچر شامل ہونگے جو کہ پوری طرح آزاد ہونگے ہم ان کی مدد کر نے کو تیا ر ہیں اتنا ہی نہیں ریسرچ میں آنے والا فیس بک ہی دے گا ۔پرکمپنی نے کہا کی ریسر چ کے لئے وہ اپنے انٹرنل ڈاٹا کو اسٹڈی کنندگان سے شیئر کرے گی تاکہ وہ اس کے ذریعہ شوشل میڈیا کے سیاسی اثر کی پڑتال کرسکے بڑی اپوزیشن پارٹی پچھلے کئی دنوں سے مسلسل فیس بک کی شکایت کرتی آرہی ہے اور سابق صدر راہل گاندھی نے امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ کو ٹیوٹر پر شیئر کرتے ہوئے فیس بک اور بھاجپا کے درمیان ساٹھ گاٹھ ہونے کا الزام لگا یا ہے انہوں نے دعوہ کیا کہ بینل الاقوامی میڈیا نے ہندوستانی جمہوریت اور سماجی بھائی چارہ پر فیس بک اور واٹس ایپ کے کھلے حملے کو نے نقاب کردیا ہے وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے بھی فیس بک پر حملہ کیا دہلی اسمبلی کی امن اور بھائی چارہ کمیٹی کی طرف سے اس مسئلے پر میٹنگ ہوئی کمیٹی کے چیئر مین راگھو چڈھا نے کہا کی کاروائی کے دوران تین گواہوں نے اپنا بیان درج کرایا دہلی دنگوں میں فیس بک کا ہاتھ تھا اور فیس بک پر جس طرح کے پروپیگنڈے کے طور پر ڈالا گیا کوشس یہی تھی کی دہلی اسمبلی کے چناو¿ سے پہلے دنگے ہوجائیں ۔مرکزی سرکار نے سرکاری طور سے اپنی ناراضگی کے اظہار کیا ہے بدھ کے روز انفورمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کمیٹی نے فیس بک کے ہندوستانی چیف کو بلا کر سوال جواب کئے کل لب لبا ب یہ ہے کی سبھی کو فیس بک سے شکایت ہے اور سبھی چاہتے ہیں کی اسے کنٹرول میں رکھا جائے جہاں تک فیس بک کو سوال ہے اس کےلئے سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ جہاں تک فیس بک کا سوال ہے اس کے لئے سب سے بڑی کہ وہ پیسے کے غیر ضروری دباو¿ میں اپنا بیجا استعمال کرے اور نہ ہی کسی کو کرنے دے ۔
(انل نریندر)
04 ستمبر 2020
گورودوارہ بنگلہ صاحب میں پریتم دوا خانہ !
شری گورو گرنتھ صاحب جی کی سمپورڑتا دوس گرو پرب پر دہلی سکھ گورو دوارہ پربندھک کمیٹی نے ایک انوکھی پہل کرتے ہوئے گورو دوارہ بنگلہ صاحب کمپلیکس میں بالا پرتیم دوا خانہ شروع کیا ہے ۔وہاں بازار سے بے حد سستی دوائیں ملیں گی ۔اس دوا خانے کا افتتاح کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا جنرل سیکریٹری ارمیت سنگھ کالکا نے مشترکہ طور پر افتتاح سے پہلے گورو مہاراج کے شکرانے کی ارداس گوردوارے کے ہیڈ گرنتھی بھائی رنجیت سنگھ نے کی ۔اس موقعہ پر سرسا نے کہا کہ پرب دوس یہ دوا خانے کی شروعات کی گئی اور اس میں فارمیسی کمپنیوں سے سیدھے دوا آئیں گی ۔اور جو سستی دی جائیں گی ۔اور کوئی منافہ نہیں لیا جائے بالا پریتم دوا خانے کا فائدہ اب سنگت پورہ فائدہ اُٹھا رہی ہے ۔یہاں دوائیں 70سے80فیصد ڈسکاﺅنٹ پر مل رہی ہیں ۔لوگوں کے لئے راحت کی بات ہے افتتاح کے دن ہی دواﺅں کے لئے لمبی لائن لگی تھی پہلے دن دوا خانے میں ایک لاکھ روپئے سے زیادہ کی سیل ہو گئی بہر حال یہ بہت نیک اور اچھی شروعات ہے جس کا ہم تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں سکھ سنگت نے ہمیشہ دیش سیوا میں پہل کی ہے کوئی بھی سیکٹر ہو سکھ سب سے آگے ہوتے ہیں ان کے سیوا کے جذبے کو سلام ۔جے واہے گورو۔
(انل نریندر)
چین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا!
مشرقی لداخ کے پینگونگ تسو علاقہ میں 29-30اگست کی رات چینی فوجیوں نے پھر سے قبضے کی ناکام کوشش کی ہے اس سے یہ صاف ہے کہ چین بھارت کو اکسانے اور کسی نہ کسی طرح سے جنگ کے حالات پیدا کرنے میں لگا ہے فو ج کے ترجمان کرنل آنند نے بتایا کہ پی ایل اے کے جوانوں نے مشرقی لداخ میں جاری تعطل کے درمیان دونوں ملکوں کے بیچ امن قائم کرنے کے لئے فوجی اور ڈپلومیٹک بات چیت کی خلاف ورزی کی ہے اور موجودہ پوزیشن کو بدلنے کے لئے اکسانے اور فوجی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے دراندازی کی اس دغابازی اور بزدلانہ حرکت کو ہندوستانی جوانوںنے ناکام کر دیا ،حالانکہ اس دوروان کسی طرح کی کوئی جھڑپ نہیں ہوئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا دو سو چینی فوجی رات کی تاریکی میں ہندوستانی سرحد میں ساﺅتھ پینگونگ جھیل کے جنوبی خطے میں پوری طرح ڈٹے رہنے کی تیاری کے ساتھ ٹینک اور گولا بارود لے کر دراندازی کے لئے آگے بڑھے لیکن ہمارے مستعد جوانوںنے انہیں نہ صرف روکا بلکہ پیچھے کھدیڑ دیا بتایا جاتا ہے کہ واقعہ کے بعد لداخ کے ایل جی رادھا کرشن ماتھر نے نئی دہلی کے وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جی کشن ریڈی سے ملاقات کر وہاں کے تمام حالات واقف کرایا ۔ہندوستانی فوج نے چین کو اسی کی شرارت کھیل کو مات دی ہے اسی کی زبان میں ۔بھارت کے فوجی اب ساﺅتھ بیک آف پینگونگ میں اونچائی پر بھی تعینات ہیں ۔جس میں وہ چین کے مقابلے آگے کی پوزیشن میں ہیں ۔ذرائع کے مطابق جب چین کی گھس پیٹھ کی کوشش کی خبر ملی تو ہندوستانی فوجی پہلے ہی پہنچ گئے اور اپنے مورچوں پر پوزیشن مضبوط کر لی جس پر دونوں دیش اپنا اپنا دعوی کرتے ہیں ۔بھارت نے اب یہی کیا 29-30اگست کی رات کو ہوئے واقعہ سے صاف ہے کہ چینی جوان سردیوں میں بھی کشیدگی جاری رکھنے کے موڑ میں ہیں حالانکہ چین کے لئے مشکل ضرور ہوگا کیونکہ چینی فوجیوں کی اس کی عادت نہیں ہے جب وہ ہندوستانی فوجیوں کو اونچی چونٹیوں پر سال بھر ڈٹے رہنے کی عادت ہے اسی حساب سے ان کو ٹرینگ بھی دی گئی ہے ،ہندوستانی فوج نے چین کو اسی کی چال سے مات دے دی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جون میں گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں پر حملے کے واقعہ کے بعد اکچول کنٹرول لائن سمیت پورے علاقہ میں بھارت میں جس تیزی سے فوجی تیاریاں کی ہیں اس سے بھی چین بوکھلایا ہو اہے ۔اور چین ساغر میں ہندوستانی فوجیوں کے جنگی بیڑے کی تعیناتی سے اس کی نید اُڑ گئی ہے ۔بھارت حالانکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ فوجی کوششوں اور سفارتی کوششوں سے الگ آگے نہ بڑھ پاے اور جنگ کی نوبت نہ آئے لیکن چین کے ارادے کچھ اور ہی ہیں ۔
(انل نریندر)
الہٰ آباد ہائی کورٹ کے حکم سے ڈاکٹر کفیل کو رہائی مل ہی گئی
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں پروفیسر ڈاکٹر کفیل خان پر لگا این ایس اے اور اسے بڑھانے کے حکم کو ناجائز قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔شہریت ترمیم قانون کو لے کر علیگڑھ میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل خان کو این ایس اے کے تحت پچھلے سال مہینے سے متھرا جیل میں بند رکھا ہو ا تھا الہٰ آباد ہائی کورٹ نے الزامات کو منسوخ کرنے کے ساتھ علیگڑھ ضلع مجسٹریٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا چیف جسٹس گووند ماتھر جسٹس سوم متر دیال سنگھ کی بنچ نے منگل کو کہا کہ ڈاکٹر خان کی تقریر نفرت یا تشدد کو بڑھاوا نہیں دیتی اس تقریر میں قومی یکجہتی اور شہریوں سے اتحاد کی اپیل کی گئی تھی ہائی کورٹ نے ڈاکٹر خان کی والدہ نزہت پروین کی جانب سے داخل عرضی پر یہ فیصلہ سنایا یوپی پولیس نے ڈاکٹر خان کو سی اے اے ،این آر سی ،اور این پی اے کے احتجاج کے دوران اے ایم یو میں 13دسمبر2019کو بڑھکیلی تقریر کرنے کے الزام میں اس سال جنوری میں ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد علیگڑھ ضلع کلکٹر نے نفرت پھیلانے کے الزام میں یہ ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے کی کارروائی کی جس کے بعد پولیس نے فوری 2020کو انہیں گرفتار کیا ۔انہیں تب سے متھرا جیل میں رکھا ہوا تھا ۔ہائی کورٹ کے حکم کو سپا ،بسپا ،اور کانگریس نے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے منھ پر قرارہ تمانچہ مارا ہے ۔سپا نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل کی رہائی کچلنے اور ظلم کے منھ پر تمانچہ ہے ۔حاکم بھول جاتے ہیں کہ عدالت انصاف کے لئے کھلی ہے ۔کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ امید ہے کہ سرکار اب ان کو جو ٹارچر کیا گیا اور دوسری تنخواہیں روکی گئی ہیں بلا تاخیر انہیں بحال کر ے گی ۔خود ڈاکٹر کفیل نے کہا کہ میں یوگی سرکار کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے انہوںنے زندہ چھوڑ دیا ۔
(انل نریندر)
03 ستمبر 2020
وزارت خارجہ میں جاسوسی جال بچھانے میں لگا تھا !
جموں کشمیر پولیس سے معطل ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کو اس کے پاکستانی آقاو¿ں نے جاسوسی سرگرمیوں کے لئے وزارت خارجہ میں روابط قائم کرنے کا کام سونپا تھا دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کو مدد مہیا کرانے پر این آئی اے نے دیورند ر سنگھ کے خلا ف اپنی چارشیٹ داخل کی جموں کی اسپیشل عدالت کے سامنے پیش ایجنسی کی چارشیٹ کے مطابق دیوندر سنگھ پاکستانی ہائی کمیشن میں اپنے آقا کے رابطے میں تھا جسے بعد میں اسلا م آباد بھیج دیا گیا ۔دیوندر سنگھ جموں کشمیر پولیس کی اینٹی ہائی جیکنگ یونٹ میں تعینات تھا اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھا م قانون اور آئی سی سی کی مختلف دفعات کے تحت 3064پیج کی چارشیٹ داخل کی گئی ہے ۔اس میں دہشت گرد تنظیم کے دہشت گردوں کو پناہ دینے میں پولیس افسر کی تفصیل بھی رکھی گئی ہے ۔اس نے پاکستانی ہائی کمیشن میں اپنے رابطے کا نمبر پاک بھائی کے نام سے سیو کر رکھا تھا اس کا رابطہ اسے فورسز میں تعیناتی اور کشمیر وادی میں اہم شخصیتوں کی آمد و رفت سمیت کئی کاموں کی ذمہ داری دیتاتھا ۔ہذب المجاہدین کے تئیں اپنی وفاداری رکھانے کے بعد پاکستانی آقا نے وزار ت خارجہ میں رابطہ قائم کرنے کو کہا تاکہ وہاں سے جاسوسی شروع کر سکے ۔حالانکہ سنگھ کو پاکستانی سفارت خانہ کے حکام کے ناپاک منصوبوں کو پوراکرنے میں کامیابی نہیں ملی اور جولائی کے پہلے ہفتہ داخل چارشیٹ میں سنگھ اور دیگر پاکستانی دہشت گردوں اور دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے افراد کی مدد سے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔چارشیٹ میں ہذب المجاہدین کے خود ساختہ کمانڈر سید نوید مشتاق عرف نوید بابو اس کے بھائی سید عرفان احمد کے ساتھ گروپ کے ورکر وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔سازش کی تفصیل بتاتے ہوئے این آئی اے نے الزام لگایا ہے پولیس ڈی ایس پی دیوندر سنگھ شوشل میڈیا کے ذریعے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے کچھ افسران کے ساتھ رابطے میں تھا جانچ سے پتہ چلا ہے کہ حساس اطلاعات حاصل کرنے کے لئے پاکستانی حکا م نے اسے تیار کیا تھا ۔معاملے کی جانچ میں سامنے آیا پاکستانی ادارے ہذب المجاہدین کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بنائے رکھنے کے سلسلے میں پیسہ اور ہتھیار دینے سے لیکر سبھی ممکن طریقے اپنا رہاتھا ۔دیوندر سنگھ کو نوید بابو راٹھوراور میر کے ساتھ اس سال 11جنوری کو گرفتار کیا گیاتھا ۔وردی میں ایسے دیش کے غدار کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔
(انل نریندر)
پرنب دا کا جانا !
سابق صدر پرنب مکھرجی کے ندھن کے ساتھ ہندوستانی سیاست کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا ۔ان کی موت پرانی پیڑھی کے ایک ایسے قد آور سیاست داں کی نا قابل بھلانے والی ہے ۔جن کے سیاسی اشتراک کو آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا ۔اپنی خوبی اور سادگی اور دور اندیشی و جمہوری برتاو¿ کے نظریہ سے وہ جو خلاءچھوڑ گئے ہیں اس کو پر کرنا ناممکن ہے ۔چھ دہائی سے زیادہ سیاسی کیرئیر میں پرنب مکھرجی نے اندرا گاندھی سے لیکر منموہن سنگھ سرکار (راجیو گاندھی کو چھوڑ کر )تک میں کام کیا ۔ان سبھی وزرائے اعظم کے دور میں وہ اہم رول میں رہے ہیں ۔بہترین سیاسی سوجھ بوجھ اور آئین پر پکڑ مشکل حالات سے نمٹنے میں سمجھداری کے چلتے وہ وقتا و فوقتاً کانگریس کے لئے سنکٹ موچک ثابت ہوئے ۔پرنب مکھرجی کا دیہانت فوجی اسپتال میں ہوا ۔ان کو کورونا ہوگیا تھا ۔جس وجہ سے دس اگست کو بھرتی کرائے گئے ان کے دماغ کا آپریشن بھی ہوا تھا ۔حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا بعد میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے انہیں بجلی کے شاٹ بھی لگائے گئے اس سے بلیٹ پریشر نے کام کرنا بند کر دیا ۔اور آکسیجن ملنی بند ہوجاتی ہے ۔سورگیہ کچھ دنوں سے وہ بیماریوں سے جس طرح لڑتے رہے وہ ان کی ہمت کا حصہ ہی تھا ۔1968-69کے دوران کانگریس سیاست میں جڑنے والے پرنب دا نے عام زندگی میں نا صرف لمبا سفر طے کیا بلکہ 2012میں صدر بننے سے پہلے وہ وزارت داخلہ کو چھوڑ کر ڈیفنس خارجہ وغیرہ ذمہ داریاں سنبھال چکے تھے ۔اس سے گریز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک اچھے وزیر اعظم بھی ثابت ہو تے اگر انہیں موقع دیا جاتا مگر سیاست کا کچھ کھیل ایساہی تھا 1984میں پہلی بار ابدرا گاندھی کے قتل اور اس کے بعد 2004میں یو پی اے کے اقتدار میں آنے پر وہ وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے ۔اپنے لمبے سیاسی اشتراک میں انہوں نے مرکزی وزیر اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ساتھ صدر کی شکل میں جس لگن اور ایمانداری سے کام کیا وہ نیک پیڑی کے نیتاو¿ں کے لئے ایک مثال ہے ۔اپنے سیاسی تجربہ اور ٹیلنٹ کے نتیجہ سے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے بہتر مانا گیا ۔لیکن انہیں نہیں بنایا گیا وہ فیصلے لینے کے لئے بھی جانے جاتے تھے مشکل سے مشکل حالات میں وہ سامنا کرنے کے لئے بھی آگے کھڑے ہوتے تھے بیشک پرنب دا کوئی مائنڈٹ والے نیتا بھلے نہیں تھے لیکن ان میں آئینی تقاضوں اور پارلیمانی سیاست کی گہری سمجھ تھی ۔حقیقت میں تاریخ ان کے کاموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ایک ایسے سیاست داں کی شکل میں یاد کریگا ۔جس کی زندگی پوری طرح سے سادگی اور ہندوستانیت سے لبریز تھی ان کے انہیں اقتدار کو بنائے رکھنا انہیں سچی شردھانجلی ہوگی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
اب بھی چین سے جھڑپیں ہو رہی ہیں!
آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے لئےہر سال منعقد ہونے والاسنمان سماروہ ہمریڈسنمان میں جمعرات کو آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شبھ جیت کپور نے چون...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...