Translater

11 جولائی 2020

امریکہ کا عجیب و غریب فیصلہ !

کورونا سنکٹ کے دوران امریکی حکومت نے ایک عجیب و غریب فیصلہ لیا ہے سمجھ میں نہیں آیا کہ امریکہ کے امیگیریشن انفورسمینٹ ڈیپارٹمنٹ نے حکم میں کہا تھا ایسی یونیورسٹی جہاں کوڈدو میں آن لائن کلاس چل رہی ہے وہاں کے غیر ملکی طلبہ کو دیش چھوڑنا ہوگا ۔دو طرح کے ویزا نان ایمی گرینٹ ایف 10اور ایچ 1-والے طلبہ کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔اور ان کے اگلے سمسٹر کیلئے ویزا جاری نہیں کیا جائیگا ۔بتادیں امریکہ میںتقریباً 30یونیورسٹیاں آن لائن کورش چلا رہی ہیں ۔امریکی سرکار کے فیصلے کےخلاف وہاں کی نامور یونیورسٹیاں آواز اٹھا رہی ہیں اس پر دوبڑی یونیورسٹی ہارورڈ اینڈ ایم آئی ٹی نے اس فیصلے پر زبردست اعتراض کیا ہے ۔اور دوبارہ نظر ثانی کی مانگ کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار کے فیصلے سے وہاں رہ رہے طلبہ کو کافی پریشانی ہو سکتی ہے اور یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد کیلئے نہیں ہے ۔ہاورڈ کرمسن کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں نے یہ قانون بنانے والے محکمہ ویزا کے حکام اور داخلہ محکمہ کو کورٹ میں گھسیٹا ہے دونوں اداروں نے مقدمہ دائر کردیا ہے ۔جس میں اپیل کی گئی ہے کہ امریکہ کے ان دونوں محکموں کو سیدھے فیڈرل گائڈلائنس کو لاگو کرنے سے روکا جائے ۔جن میں غیرملکی طلبہ کو امریکہ چھوڑکر جانے کو کہا جارہا ہے عدالت سے اس معاملے میں ایک مستقل حکم جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے اوردلیل دی گئی ہے کہ فیصلہ انتظامی ورکنگ قانون کی خلاف ورزی ہے ۔اور یہ فیصلہ بنا رائے مشورے کے کر دیا گیا ہے ۔اس سے طلبہ کی مشکلیں بڑھیں گی ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے چانسلر لورن ڈیکو نے کہا کہ صرف سبھی مواد کو ای میل کے ذریعے جاری کر دیا گیا اور اس کا نا تو کوئی نوٹس دیا گیا اور ناہی کسی سے تبادلہ خیا ل کیاگیا اوریہ لاپرواہی والا فیصلہ ہے یہ ہی لگتا ہے کہ حکم غلط دین ہے ہم اسے غیر قانونی مانتے ہیں ۔غیر ملکی طلبہ کی تعداد 5.5فیصدی ہے اور سال 2019میں انہوں نے امریکہ یونیورسٹیوں میں 41عرب ڈالر تو صرف فیس دی تھی یہ بھی عجب ہے کہ ویزا قوائد میں ایسی تبدیلیوں کی خبریں کہیں سے نہیں آرہی ہیں جبکہ کورونا دور میں تقریباً سبھی ملکوں کی یونیورسٹیاں آن لائن پڑھائی کرارہی ہیں بہر حال امریکی یونیورسٹیوں کو اس مسئلے پر سرکار سے بات چیت کرنے کے لئے کوئی راہ نکالنی چاہیے ۔کیونکہ موجودہ سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ بھی وہی لے رہے ہیں جو جائز طریقے سے وہاں رہنے والے لوگوں کے سامنے اچانک دیش سے باہر نکلنے کے حالات پیدا کردینا ۔یہ کس طرح کی وبا سے بچاو¿ کی لڑائی ہے ۔ (انل نریندر)

کورونا کے پانچ معمے 6مہینے بعد بھی برقرار!

دنیا بھر میں چھ مہینے کے اندر ایک کروڑ سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے لیکن کووڈ19-کے پانچ معموں سے سائنسداں آج بھی پردہ نا اٹھاپائے ۔ایک سائنس جنرل کئیر نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کے حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کووڈکی پانچ تلسموں کا ذکر ہے ۔رپورٹ کہتی ہے کہ جب تک ان پانچ سوالوں کے جواب نہیں ملتے وبا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے ۔پہلا سوال یہ ہے کہ وائرس کے خلاف جسم کا رد عمل الگ کیوں ہے ۔بیمار اور بوڑھوں کو چھوڑ بھی دیں تو یہ صاف ہو چکا ہے کہ ایک عمر اور یکساں جسم و صلاحیت کے وئرس انفیکشن کرے تو دونوں پر اثر الگ الگ ہوتا ہے ۔ایسا کیا ہوتا ہے یہ آج بھی پردہ نہیں اٹھ سکا ۔سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اٹلی و اسپین کے چار ہزار لوگوں جنس پر اسٹڈی کرنے کے بعد کہا ہے جن لوگوں پر وائرس کا سنگین اثر ہوا ان میں ایک یا دو مزید جن ہو سکتے ہیں دوسرا سوال انفیکشن ہونے کے بعد کورونا کے خلاف کب تک منفی صلاحیت بنی رہے گی ۔دیگر کورونا وائرس کے معاملے میں یہ کچھ مہینوں کی ہی پائی گئی ہے اس لئے کوڈ 19-کے بعد انفیکشن میں پیدا اینٹی وایوٹک پر اسٹڈی کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے وہ کتنے وقت تک بیماری سے حفاظت کر سکتے ہیں ۔تیسرا دنیا کے کسی حصے میں وائرس زیادہ خطرناک ہوا ہے جو چھوٹی تبدیلیوں کا اشارہ کرتے ہیں لیکن وائرس کے طریقہ سسٹم کیسے بدل رہا ہے اس کا پتہ نہیں چلا ۔چوتھا دنیامیں ٹیکے کے دو سوپچاس پروجیکٹ چل رہے ہیں جن میں بیس انسانی تجربہ کے سطح پر پہونچے ہیں لیکن ان ٹیکوں کو جانوروں پر تجربہ کیا جارہا ہے ۔شروعاتی تجربوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پھیپھڑوں کو انفیکشن سے بچانے پر کارگر ہے ۔اور نمونیہ نہیں ہوگا لیکن انفیکشن ٹیکے سے نہیں رکیگا ۔سب سے پہلے آکسفورڈ کا ٹیکہ آسکتا ہے صرف وہ پھپھڑوں میں انفیکشن بچا سکتا ہے ۔پانچواں اصل سوا ل یہ ہے کہ وائرس آخر آیا کہا سے ابھی تک یہی مانتے ہیں یہ چمگادڑ سے آیا کیونکہ یہ کورونا وائرس چمگادڑ سے ہی پھیلا ہے آر ٹی جی کی جنوم اسٹیکچر 96فیصدی ملتی ہے لیکن یہ چمگادڑ سے سیدھے انسان میں پہونچا ہے تو وائرس کے جیمون میں چار فیصدی فرق نہیں ہو سکتا ۔چار فیصدی تبدیلی میں وقت لگتا ہے اس لئے چمگادڑ سے یہ کسی دوسرے جانور میں گیا اور وہاں سے انسان میں آگیا ۔ (انل نریندر)

10 جولائی 2020

ٹی وی پر مباحثوں کا گرتا میعاد!

کچھ ہندوستانی ٹی وی چینلو ںمیں مباحثوں کا میعاد اتنا گر چکا ہے کہ اب ٹی وی ناظرین نے ان مباحثوں کو دیکھنا ہی بند کر دیا ہے کچھ ٹی وی چینل اپنی مباحثوں میں جان بوجھ کر ایسے مقرروں کو بلاتے ہیں تاکہ بحث میں تو تو میں میں ہو اور ان کی ٹی آر پی ریٹنگ بڑھے کچھ چینلوں میں جو اینکر ہوتے ہیں وہ اتنا تیز بولتے ہیں کہ مقرر کو جواب دینے کا موقع ہی نہیں ملتا انگریزی کے ایک چینل کے اینکر کے خلاف ٹی وی پر توہین کرنے والی زبان کے لئے شکایتیں بھی درج ہو چکی ہیں اور مقدمہ بھی درج ہیں اس چینل پر ایک ساتھ اتنے مقرروں کو بلایا جاتا ہے کہ لڑائی توہونی ہی ہے لیکن ٹی وی ناظرین کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا بولاجارہا ہے اور کچھ مقرر تو بحث کے دوران اپنا آپا کھو دیتے ہیں ایسے ہی ایک مقرر ہیں ہندوستانی فوج کے سابق میجر جنرل ڈی جی بخشی حال ہی میں ایک ٹی وی بحث کے دوران دوسرے پینالسٹ کو ماں بہن کی گالی بھی دے دی جاتی ہے ۔اور اس کا یہ ویڈیو شوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو جاتا ہے دراصل حا ل ہی میں بحث کے دوران ان کے ساتھ ہندوستانی عوام مورچہ کے ترجمان دانش رضوان کو ماں کی گالی دے ڈالی کچھ لوگ جی ڈی بخشی کو صحیح بتاتے ہوئے ان کی طرف داری کررہے ہیں اور انہیں روک اسٹار بتا رہے ہیں جبکہ کئی لوگ ٹی وی پر استعمال کی جانے والی زبان کی مریادا کی خلاف ورزی کرنے کو لیکر ان کی تردید کررہے ہیں سنیچر کے لوگ متاثرہ ہم ترجمان رضوان نے بخشی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے جانے اور انہیں گرفتار کرنے کو لیکر مانگ اٹھائی ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سابق جنرل نے ٹی وی پر وقار کو تار تار کر دیا ہے ۔نیوز پورٹل ڈیفنش آفنسز سے بات چیت میں پاکستان کو پاگل کتا تک قرار دے چکے ہیں۔جو ہر کسی کو کاٹتا پھرتا ہے ۔بخشی کے دل و داماغ میں پاکستان کے لئے نفرت کی آگ کی بڑی وجہ ہے 1965میں بھارت پاک جنگ کے دوران سرنگ میں دھماکے کے دوران انہوں نے اپنے بھائی کپٹن شرش رمن بخشی کو کھو دیا تھا اس وقت وہ 23سال کے تھے اور دھماکے سے بھائی کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے تھے ۔بخشی کہتے ہیں کہ استھیاں وسرجت کرنے کے بعد سے ان میں غصہ بھر گیا تھا اسوقت میں نے فیصلہ لیا کہ میں پاکستان سے بھائی کا بدلا لینے کے لئے فوج میں شامل ہوں گا بخشی نے ایک عورت سونم ملازمہ کے مقابلے جنگ اور ایمریجنسی جیسے حالات اور دہشت گردی کو زیادہ قریب سے دیکھا ہے ۔وہ 1973میں چین کے محاظ پر تھے 1985میں پنجاب اور 1987میں کارگل میں رہ رہے تھے اور سال 2001میں جموں کشمیر کے اس وارڈ میں فوجی محاض کے دوران اپنی خدمات دی۔ان سب چیزوں نے نا صرف انہیں تجربہ دلایا بلکہ ایوارڈ بھی حاصل کرائے ۔ایک سچے سپاہی اور دیش بھکت سینک کو اس طرح ٹی وی پر اپنا آپا نہیں کھوناچاہیے ۔یہ افسوسناک رویہ ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کی جیت کے آثار محض 10فیصد!

اسی سال نومبرمیںہونے والے امریکی صدارتی چناو¿ میں فی الحال ڈیموکریٹو جوائب وائڈن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کورونا قہر ہونے سے پہلے ملک کی معیشت کی تیزرفتا ر سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوبارہ چنے جانے کے بہت سے امکانات تھے ایسے حالات میں بہت سے حکمراں کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن ایک معاشیاتی میگزین کے چناو¿ ماڈل نے اس وقت ٹرمپ کے کامیاب ہونے کے امکانات محض 10فیصد بتائے ہیں اور وہ قومی ریفرنڈم میں اپنے حریف سے کچھ نمبر پیچھے تھے لیکن اب صدر ٹرمپ بہت مشکل میں پڑ گئے ہیں اور بائڈن نے متعدد نمبروں کی بڑھت حاصل کر لی ہے ۔کچھ سروے میں تو بڑھت بہت زیادہ ہے وہیں 2020کے صدارتی چناو¿ کو لیکر نیوایارک ٹائمس کے سروے میں ڈیموکریٹو پارٹی کو وائڈن میں رپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو پچھاڑ دیا ہے وائڈن کو 14فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں یہ سروے 17سے 22جون کے درمیان کیاگیا اس کے مطابق عورتوں اور سیاہ فام کے درمیان وائڈن کی پکڑ مضبوط ہو رہی ہے ٹرمپ نسل واد اور کورونا کو لیکر اٹھائے گئے قدموں سے ناراضگی جھیل رہے ہیں ۔ادھر نائب صدر جوائب وائڈ ن 20اگست کو وسکن سنگ شہر میں ڈیموکریٹو کانفرنس میں باقاعدہ طور پر صدارتی امیدوار کی شکل میں اپنی نامزدگی قبول کریں گے ۔جوائے وائڈن کو بزرگ ووٹوں کی حمایت مل رہی ہے ۔تعجب کی بات ہے کہ کالج نا جانے والے سیا ہ فام ووٹرس بھی ان سے جڑے ہوئے ہیں وائرس نے بڑی تعداد میں ووٹوں کا احساس کرایہ ہے کہ 74سالہ ٹرمپ صدارت کیلئے قابل نہیں ہیں ۔نومبر میں ابھی کافی وقت ہے اگر وائرس ٹھنڈا پڑتا ہے یا کوئی پکی دوا مارکیٹ میں آجاتی ہے اور معیشت اچھی ہوتی ہے تو ٹرمپ کی جیت کے آثار بن سکتے ہیں 77سالہ جوائے وائرن بہت کچھ کئے بنا اپنی پوزیشن میں آگئے ہیں او ر ٹرمپ کی کمزوری کی وجہ سے ڈیموکریٹو پارٹی کو سینٹ میں اکثریت ملی ہے ۔فلائٹ کی موت سے بھڑکے تشدد اور شورش سے پہلے دنیا کو 2016سے پہلے کی پوزیشن میں لے جانے کی بات کررہے تھے ٹرمپ اسے خطرہ بتا رہے ہیں وہ ووٹروں کو ڈرارہے ہیں کہ ان کا حریف بڑھاپے کے سبب ڈگمگاتا ہوا بے وقوف ہے ۔2016میں ان کی جیت میں ان کا کوئی رول نہیں تھا وہ تباہ ہو رہے سسٹم کے خلاف لوگوں کی ناراضگی کا اظہار تھا لگاتار 5سال سے بڑھ رہی بے روزگاری سے لوگ خفا ہیں ۔کورونا سے 1لاکھ تین ہزار سے زیادہ امریکیوں کی موت ہو چکی ہے بے روزگاری آسمان چھو رہی ہے ۔دیکھیں آنے والے دنوں میں کیا پوزیشن بنتی ہے ۔آج چناو¿ ہو جائے تو ٹرمپ گئے ۔ (انل نریندر)

ترون سسودیہ کی خودکشی پر اٹھے سوال!

دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر میں کورونا پوزیٹو نوجوان صحافی ترون سسودیہ نے پیر کے روز اسپتال کی چوتھی منزل سے مثتبہ حالت میں کود کر جان دے دی ۔اسے اس خود کشی کو مشتبہ حالات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے وہیں ان کے موبائل میں مبینہ طور پر واٹس ایپ میں خود کو قتل کا اندیشہ جتایا جانے سے موت کو لیکر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو گئے ہیں مثلا واردات کے وقت اس وارڈ کے سکیورٹی گارڈ کہاں تھے ؟پولیس کو کوئی خودکشی نامہ نہیں ملا ۔سسودیا کے بڑے بھائی دیپک سسودیہ کاکہنا ہے کہ میرابھائی اتنا کمزور نہیںتھا کہ وہ خودکشی کر لے کئی دنوں سے اس کا ٹھیک طرح سے علاج نہیں ہو رہا تھا جس سے وہ پریشان تھا اس کی موت کا ذمہ دار اسپتال ہے کورونا انفیکشن وارڈ سے آئی سی یو میں کیوں شفٹ کیاگیا۔فیملی سے پوری طرح رابطہ کیوں ختم کر دیاگیا جبکہ رابطے میں رہنے سے انہیں ذہنی طور سے سکون ملتا ہے کن حالات میں ترون نے اپنے ساتھیوں کو ایک گروپ میں لکھا ہے کہ میرا قتل ہو سکتا ہے ؟ڈائگ نوسز میں اگر نیورو اور سائیکو کنڈیشن کے تھے تو ایسے مریض کو گہری نگرانی میں کیوں نہیں رکھاگیا ؟آئی سی یو سے کیسے کووڈ مریض نکل بھاگا اورپہلے جالی اور پھر شیشے توڑ کر منزل سے چھلانگ لگا دی ؟اپنی رپورٹ میں ایمس کہہ رہا ہے کہ اس کے پیچھے سکیورٹی ملازم دوڑے کیا ایمس آئی سی یو سے لیکر باہر تک کا سی سی ٹی وی فوٹیز شئیر کریگا ؟اس واقعے کو لیکر اٹھ رہے سوالوں کے درمیان ایمس کی طرف سے بھی بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ترون کو کورنا کے اثرات کے چلتے آئی سی یو میں بھرتی کرایا گیاتھا لیکن ان کی حالت میں بہتری ہونے کے بعد ہی انہیں جنرل وارڈ میں منتقل کرنے کی تیاری تھی ۔ترون اک بج کر پندرہ منٹ پر اپنے بیڈ سے اٹھ کر چوتھی منزل کی طرف جانے لگا تو اسے دیکھ کر اسپتال کے ملازم بھی ان کے پیچھے بھاگے لیکن وہ اوپر کی طرف تیزی سے چڑھ کر نیچے کو د گئے ۔دہلی جنرل ایسی سیوشن سے جیوڈیشئل انکواری کی مانگ کی ہے ۔صحافیوں نے پریس کلب آف انڈیا کے باہر ایک امن ما رچ نکالا انتظامیہ کی طرف سے سی سی ٹی وی فوٹیز کی جا چ کی جائے ۔کیاترون سسودیہ کو ان پر کسی طرح کا ذہنی دباو¿ تو نہیں تھا دہلی جنرل اسوشئیشن کے جنرل سکریٹری اور سینئر صحافی کے پی ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر جانچ کی مانگ کرتے ہوئے لکھا کہ نوجوان صحافی کی مشتبہ حالت میں جانچ کی مانگ کے سلسلے میں مانگ کی جائے ۔اور موت کے سبھی پہلوو¿ں پر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے وہیں مرکزی وزیر صحت نے ٹوئیٹ کر جانچ کے احکامات دے دئیے ہیں انہوں نے اپنے حکم میں ہائی لیبل کمیٹی بنا کر 48گھنٹے میں رپورٹ سونپنے کا ایمس ڈائرکٹر کودے دیا ۔ترون سسودیا نے خود کشی کی یا انہیں ماراگیا یہ جانچ کا پہلو ہے اور جلد صحیح پوزیشن سامنے آنے کی امید ہے ۔بہرحال جو بھی اس نوجوان صحافی کے جانے پر سبھی کو بہت دکھ ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

09 جولائی 2020

بہوو ¿ں سمیت پورا کنبہ فوج میں!

دیش بھگتی کی مثال بہت ملتی ہیں لیکن یہ سننے میںکم ملتا ہے کوئی پورا خاندان ہی فوج میں ملازم ہو یہاں تک کہ بہوئیں بھی فوجی ہوں ایک ایسا ہی خاندان پرتاپ گڑھ ضلعے کی تحصیل کے ایک گاو¿ں پرشچے کے باشندے رادھے شیام تیواری کا ہے ۔1962میں رادھے شیام چین سے جنگ لڑ رہے تھے ان کے دو بیٹے بھی فوجی بنے اب ان کے پوتا پوتی اور بہوئیں فوج میں شامل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ آر پار کی لڑائی ہوئی تھی تو 1962والی جو کھلش ہے مٹ جائے گی ۔رادھے شیام تیواری 1958میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور 62میں چین کے ساتھ جڑے تب ہندوستانی زمینی فو ج کے پاس ناٹ بندوق اور لائڈ مشین گن اور آر سی ایل توپے تھیں اور تین انچ کے موٹار ہوتے تھے ۔چینی فوج انتہائی جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح تھی لڑائی میں جو کسک تھی وہ آج بھی ہے آج 2020کی ہندوستانی فوج ہے 1962کی نہیں یہ بات گلوان وادی میں چینیوں کو سمجھ میں آگئی ہوگی اپنے والد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے بیٹے ائیر فورس کے ریٹائرڈ فوجی سازو رام تیواری کہتے ہیں کہ اب ہندوستانی فوج کے پاس جدید ترین جہاز اور دیگر جنگی سامان ہیں ۔اب تیسری پیڑی سے دھریندر تیواری نے بھی میجر لیفٹننٹ کمانڈر کے طور سے ریٹائرڈ ہیں ان کی بیوی دیپیکہ تیواری ملیٹری اسپتال احمد آباد میں میجر ہیں ۔اسی طرح دھریندر کے چھوٹے بھائی انوارگ تیواری ائیر فورس میں اسکو¿ائڈرن لیڈر ہیں وہ بھی اس وقت سلچرآسام میں تعینات ہیں ۔اب ان کاماننا ہے کہ چین جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہے جنگ ہوئی تووہ سیوا کے موقع کا انتظار نہیں کریںگی ۔جب بھارت میںایسے راشٹر وادی پریوار ہوں تو ہمیں چین کا مقابلہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ۔خوش قسمت ہیں یہ تیواری خاندان ،جے ہند! (انل نریندر)

سازش کے تحت ہوئے دہلی میں دنگے !

راجدھانی دہلی میں شہری ترمیمی قانون کے خلاف تشددبھڑک اٹھا تھا پھر کچھ دن بعد نارتھ ایسٹ دہلی کے الگ الگ حصوں میں جھگڑے ہوئے یہ سب ا چانک نہیں ہوا بلکہ اس سب کی کہانی پہلے سے ہی لکھی جاچکی تھی ۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے لیکر دنگے تک پورے واقعے کو دیکھا جس میں سبھی چیزیں آپس میں کہیں نا کہیں جڑی ہوئی ہیں دنگوں کا ماسٹرمائنڈ طارق حسین کا دنگوں سے پہلے خالد سیفی سے حمایت ملی ۔اور پھر عمر خالد سے ملنا کوئی اتفاق نہیں تھا ایس آئی ٹی نے دنگوں میں گرفتار خالد سیفی سے منڈاو¿لی جیل میں پوچھ تاچھ کی جس میںکئی باتیں سامنے آئیں اس کے علاوہ خوریجی تشدد معاملے میں خالد کے خلاف ایس آئی ٹی کی کورٹ میں دائر چار شیٹ میں تذکرہ ہے کہ ملیشیا جاکر وہ ذاکر نائک سے ملاتھا ۔دنگوں کے لئے سعودی عرب ملیشیا اور دیگر ممالک سے پیسہ ملاتھا ۔دنگوں کے معاملے میں تفتیش میں لگی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی کی پوچھ تاچھ میں خالد نے کئی باتیں بتائی ہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ دہلی میں دنگے اچانک نہیں اس کے لئے پہلے سے پوری کہانی لکھی جاچکی تھی چارشیٹ میں بتایاگیا عشرت جہاں اور خالدسیفی منڈاو¿لی جیل میں پوچھ تاچھ کی ان دونوں نے بتایا اس واردات کو پلان کے ساتھ انجام دیاگیا اور جامعہ کے کچھ طلبہ نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ان کو لگتا ہے یہ سرکار مسلم مخالف ہے اور کشمیر سے آرٹیکل 370اور 35Aہٹائے جانے کے بعد اس کا پکہ یقین ہوگیا تھا اس کے علاوہ این آر سی اور این پی آر لاگو کرنے کی بات ہونے لگی اور یہی موقع ہے لوگوں کو سڑک پر اٹھایا جائے اور پھر اتنا بڑا بنا دیا تاکہ سرکار ہمارے سامنے جھک جائے ۔چارشیٹ کے مطابق 11جنوری 2020کو سی ااے اے اوراین پی آر کو لیکر بھی پرچے بانٹے گئے اب کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے پولیس کو اپنی چارشیٹ میںلگائے گئے الزامات کورٹ میں ثابت کرنے ہوںگے اوریہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا دیکھتے ہیں کہ عدالت میں یہ چار شیٹ کتنی ٹکتی ہے ؟ (انل نریندر )

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...