Translater

02 ستمبر 2017

کتنا کامیاب رہا نوٹ بندی کا فیصلہ؟

غیر اعلانیہ پراپرٹی یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو بے نامی دھن دولت کو سسٹم سے باہر کرنے کی کوشش میں مودی حکومت نے کیا پوری کامیابی پائی ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس قدم کو نوٹ بندی کا نام دیا تھا۔اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ نوٹ بندی میں آخر غلطی کہاں ہوئی؟ ریزرو بینک آف انڈیا کی سالانہ رپورٹ کے 195 صفحات میں ان سوالوں کے جواب تلاش کئے جاسکتے ہیں جو پچھلے 10 مہینوں سے ہر ہندوستانی پوچھ رہا ہے۔ نوٹ بندی کامیاب رہی یا ناکام؟ آر بی آئی کے اعدادو شمار سے تو نہیں لگتا کہ نوٹ بندی بڑے پیمانے پر کامیاب رہی۔ یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ نوٹ بندی پوری طرح ناکام رہی۔ نوٹ بندی سے فائدہ کم ہوا اور نقصان زیادہ۔ پچھلے 8 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک طے کیا کہ 500 اور 1000 کے نوٹ ملک کی معیشت میں چلن سے ہٹا دئے جائیں گے جو کل 15.44 کھرب ہیں۔ وزیر اعظم نے اس فیصلہ کی وجہ دیش کو یہ بتائی کہ ایسا معیشت میں موجودہ جعلی کرنسی اور کالی کمائی اور دو نمبر کے پیسے پر کارروائی کرنے کے لئے کیاگیا۔ سرکاری ریلیز میں اس فیصلہ کی تفصیل میں بھی یہ ہی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ کالا دھن وہ پیسہ ہوتا ہے جو کمایا تو جاتا ہے لیکن اس پر سرکار کو ٹیکس نہیں دیا جاتا۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد 8 نومبر کی آدھی رات سے 500 اور 1000 کے نوٹ بازارمیں بیکار ہوگئے۔ جن کے پاس یہ نوٹ تھے انہیں بینکوں میں جمع کرانے کیلئے کہا گیا۔ نوٹ بندی کے دوران جمع کئے گئے پیسے کو بعد میں بینک سے نکالا جاسکتا تھا حالانکہ شروعات میں یہ پیسے نکالنے کی حد کو لیکر کچھ بندیشیں بھی لگائی گئی تھیں۔ سرکار کو یہ امید رہی ہوگی کہ جو پیسہ کالے دھن کی شکل میں موجود ہے وہ بینکوں میں جمع نہیں کیا جائے گا اور جن کے پاس یہ پیسہ ہے وہ اپنی پہچان ظاہر نہیں کرنا چاہئیں گے اس طرح سے کالے دھن کی پوری رقم برباد ہوجائے گی۔ لیکن آر بی آئی کی رپورٹ تو دوسری ہی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے 15.28 ارب مالیت کے نوٹ 30 جون تک بینکوں میں جمع کرائے گئے اس کا سیدھا سا مطلب نکلتا ہے کہ چلن سے ہٹائے گئے پیسے کا 99 فیصدی پیسہ بینکوں میں واپس لوٹ کر آگیا یعنی نقدی کی شکل میں موجود تقریباً پورا ہی کالا دھن بینکوں میں جمع کرادیا گیا اور امیدوں کے برعکس برباد نہیں ہو پایا۔ کئی لوگ یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ جن کے پاس کالا دھن تھا انہوں نے اپنا پیسہ دوسرے عام لوگوں کے بینکوں کے کھاتے میں جمع کرادیا اور اسی وجہ سے 500 اور 1000 کے زیادہ تر نوٹ بینکنگ سسٹم میں واپس آگئے۔ جہاں تک نقدی نوٹوں کا سوال تھا اس پر بھی زیادہ کچھ ہوتے نہیں دکھائی دیا۔ ریزرو بینک کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپریل 2014 ء سے مارچ 2017ء کے درمیان 500 روپے (پرانی سیریز والے) اور 1000 کے 573891 جاری نوٹوں کی پہچان کی گئی۔ نوٹ بندی میں بازار میں چلن سے ہٹائے گئے نوٹوں کی کل تعداد 24.2 ارب تھی۔ اب 2016-17 میں پکڑے گئے جعلی نوٹوں کی تعداد کے لحاظ سے دیکھیں تو چلن سے ہٹائے گئے نوٹوں کا یہ صفر فیصدی کے قریب ہے۔ اس کے پچھلے سال 500 اور 1000 کے نقلی نوٹوں کی تعداد 404794 نوٹوں کی پہچان کی گئی تھی ایسا بغیر کسی نوٹ بندی کے ہوا تھا تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نوٹ بندی اپنے دو بڑے نشانوں کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ایک عجیب و غریب بات یہ بھی ہے کہ معیشت میں نقدی کی شکل میں موجود کالے دھن کو لیکر پہلے سے کوئی اندازہ نہیں تھا ۔سرکار نے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد اسے تسلیم بھی کیا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 16 دسمبر 2016ء کو لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ بات مانی کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے چھاپوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنے کالے دھن کا محض 5 فیصدی حصہ ہی نقدی کے طور پر رکھتے ہیں۔ بھلے ہی پبلک طور پر کالے دھن کو لیکر کوئی اعدادو شمار موجود نہیں تھا لیکن ماہر اقتصادیات کہاں رکنے والے تھے۔ وہ اپنے اپنے اعدادو شمار لیکر آئے ۔ انہوں نے مودی سرکار کے فیصلوں کوصحیح ثابت کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ وہ کس بنیاد پر نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح بتا رہے ہیں۔ بھارت ایک بڑا کیش اکانومی دیش ہے اور نوٹ بندی سے اسے بہت چوٹ پہنچی ہے۔ یہاں تک کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعت بھارتیہ مزدور سنگھ نے بھی نوٹ بندی پر کہا کہ غیر منظم سیکٹر کی ڈھائی لاکھ یونٹیں بند ہوگئی ہیں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹرپر بہت برا اثر پڑا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے نوکریاں گنوائی ہیں۔ زیادہ تر نقدی میں لین دین کرنے والے زرعی سیکٹر پر بھی نوٹ بندی کا بہت برا اثر پڑا۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کے لئے واجب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ کئی جگہوں پر کسانوں نے مظاہرے کئے اور ریاستی حکومتوں کو انہیں قرض میں راحت دینی پڑی اور ان سب چیزوں کے علاوہ سرکار کی پالیسی سے نقدی کی قلت بڑے پیمانے پر محسوس کی گئی۔ لوگ اپنا ہی پیسہ نکالنے کیلئے کئی دنوں تک اے ٹی ایم کے باہر قطار میں کھڑے دکھائی دیتے رہے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم کے سامنے قطار میں کھڑے ہونے اور پیسے کی قلت سے 104 لوگوں کی موت بھی ہوگئی تھی۔ دو چار ہزار روپے نکالنے کیلئے لوگوں کو دن بھر کھڑا رہنا پڑا مگر سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کی اس بات پر جائزہ لیا جائے تو سرکار نے 16 ہزار کروڑ روپے بچانے کے لئے 21 ہزار کروڑ روپے پھونک دئے ہیں۔ جہاں تک مودی سرکار کی بات ہے اس کی امید کم ہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرے۔ سرکار نوٹ بندی کے مثبت پہلوؤں کو بتانا جاری رکھے گی۔ جو باتیں نومبر سے کہی جارہی ہیں اس مورچے پر زیادہ کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ یہ نوٹ بندی نہیں تھی یہ نوٹ بدلنے کی کارروائی تھی ۔ لوگوں نے پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں میں بدلوا لیا۔ نوٹ بندی کے سبب موجودہ مالی سال کی سہ ماہی میں یعنی اپریل سے جون تک دیش کی معیشت ذرعی شرح محض 5.7 فیصدی رہی۔ پچھلے سال اسی میعاد میں یہ 7.9 فیصد تھی۔ 2014 میں چوتھی سہ ماہی میں یہ شرح سب سے زیادہ نچلی سطح پر آگئی اس کی وجہ سے نوٹ بندی کا اثر اور جی ایس ٹی لاگو ہونے سے پہلے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سستی بھی ہے۔سب سے زیادہ دھکا مینوفیکچرنگ سیکٹرکو لگا ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اگر سرکار کہے کہ نوٹ بندی کامیاب رہی تو کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟ 
(انل نریندر)

01 ستمبر 2017

رام رحیم کی بڑھتی جا رہی ہیں دشواریاں

صحافیوں کے جنسی استحصال معاملہ میں 20 سال کے لئے جیل بھیجے گئے ڈیرہ چیف گرمیت رام رحیم کی مشکلیں کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ ہائی کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں اس کے خلاف قریب آدھا درجن سنگین معاملہ چل رہے ہیں جن میں سزا کی سخت سہولت ہے۔ سب سے سنگین کیس پتر کار چھترپتی کے قتل سے وابستہ ہے جو ان کے بیٹے انشل چھترپتی لڑ رہے ہیں۔ 24 اکتوبر 2002 کو سرسہ کے ساندھیہ روزنامہ ’پورا سچ‘ کے مدیر رام چندر چھترپتی کو گھر کے باہر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ 21 نومبر 2002 کو چھترپتی کی دہلی کے اپولو اسپتال میں موت ہوگئی۔ 10 نومبر 2003 کو سی بی آئی نے ڈیرہ چیف کے خلاف ایف آئی آر درج کر جانچ شروع کی۔ الزام ہے کہ رام چندر چھترپتی نے بابا کے خلاف رپورٹ شائع کی جس وجہ سے ان کو قتل کردیا گیا۔ 10 جولائی کو ڈیرہ کی مینجمنٹ کمیٹی کے ممبر رہے رجنیت سنگھ کو قتل کیا گیا تھا۔ 16 ستمبر 2012 کو سی بی آئی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ گرمیت اہم سازش کنندہ کے طور پر نامزد ہوا۔ ڈیرہ مینجمنٹ کو سنگھ پر سادھوی کا خط اس وقت کے وزیر اعظم تک پہنچانے کا شک تھا۔ 17 جولائی 2012 کو فتح آباد کے باشندہ ہنسراج چوہان نے رام رحیم کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔400 پیرو کارو کو نامرد بنانے کا الزام تھا، 168 متاثرین کی فہرست کورٹ کو سونپی گئی۔ 25 اکتوبر کو ہائی کورٹ معاملہ میں سماعت کرے گا۔ چوہان چاہتے ہیں کہ فاسٹ ٹریک میں کیس کی سماعت ہو۔ مئی 2007ء میں گرمیت سنگھ کے سکھوں کے دسویں گورو گوبند سنگھ کا بھیس کی نقل کرنے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ 7 مئی 2007 کو بھٹنڈہ کے سونام میں مظاہرے کررہے سکھوں پر فائرننگ میں کوئلہ سنگھ کی موت ہوئی ۔18 جون 2007 کو بھٹنڈہ کی عدالت نے گرمیت سنگھ کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کئے۔ 2010 میں ڈیرہ کے سابق سادھو رام کمار بشنوئی نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر سابق منیجر فقیر چند کی گمشدگی کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی۔ ڈیرہ چیف پر قتل کا الزام لگا، ثبوت نہ ملنے پر سی بی آئی نے کلوزر رپورٹ فائل کردی۔ گرمیت رام رحیم سنگھ کے پیرو کارو کی غنڈہ گردی کے بعد پنجاب میں ڈیرہ کیندروں پر کارروائی کے دوران بندوقیں، ریوالور اور 52 پیٹرول بم جیسے ہتھیار برآمد کئے گئے۔ ڈیرہ سچا سودا حمایتی پوری پلاننگ کے ساتھ غنڈہ گردی کرنے پنچکولہ آئے تھے۔ ان کے پاس نہ صرف ہتھیار تھے بلکہ پیٹرول بم بھی تھے۔ ڈیرہ حمایتیوں کے تھیلوں میں پولیس کو پیٹرول کی بوتلیں اور بھاری پتھر ملے۔ دوسادھویوں کے ساتھ ریپ معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے جاچکے رام رحیم پر آئے دن نئے نئے خلاصہ ہورہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سی بی آئی کے اہم گواہ نے الزام لگایا ہے کہ رام رحیم نے کئی مرڈر کروائے ہیں۔ اس کی بھنک کسی کو نہ لگے اس کے لئے لاشوں کو ڈیرہ کے اندر ہی دفنادیا گیا۔رپورٹ اگر صحیح ہے تو سی بی آئی کے اہم گواہ کھٹا سنگھ نے بتایا کہ اگر ڈیرہ کمپلیکس کی جانچ کی جائے تو زمین سے کئی ڈھانچے نکل سکتے ہیں۔ اس درمیان ریپ متاثرین کے وکیلوں نے کہا کہ ڈیرہ چیف پر ریپ کے 48 مقدمہ ہیں۔ ہم اس کی سزا بڑھوانے کے لئے اپیل کریں گے۔ رام رحیم اس لئے عمر قیدسے بچ گیا کیونکہ اس پر پاکسو ایکٹ نہیں لگا۔ رام رحیم کے خلاف جتنے مقدمہ چل رہے ہیں ان میں کھٹا سنگھ اہم گواہ ہیں۔ سادھوی کیس میں بھی اس کی گواہی اہم رہی۔جب کھٹا سنگھ ڈیرہ چیف کے ڈائیور تھے تووہی وقت تھا جب سادھویوں کے ساتھ ریپ کے واقعات سامنے آئے۔ یہی وقت تھا جب پنجاب ریپ کیس کی جانچ ہورہی تھی۔ اسی دوران 10 جولائی2002کو ڈیرہ کے منیجر رہے رنجیت سنگھ کا قتل ہوا تھا۔ کھٹا سنگھ 2002 کے آس پاس ڈیرہ سچا سودا کے چیف رام رحیم کے ڈرائیور رہے ہیں۔ 9 سال رام رحیم کے ڈرائیور رہے سی بی آئی کے اہم گواہ کھٹا سنگھ کا دعوی ہے کہ سرسہ ڈیرہ میں رام رحیم کے اشارے پر کئی قتل ہوئے ان میں گورا سنگھ نامی ایک لڑکا بھی تھا جسے گولی مارنے کے بعد اس کی لاش ڈیرہ کے اندر جلا دی گئی۔ کھٹا سنگھ نے بتایا کہ ان ساری باتوں کی جانکاری ہونے کے باوجود ہریانہ پولیس کارروائی تو دور ، شکایت لے کر آنے والوں کو ہی ڈرا دھمکا کر بھگا دیتی تھی۔ کھٹا سنگھ نے بتایا کہ گورا سنگھ کے قتل سے پہلے باقاعدہ اس کی چتا تیار کی گئی تھی۔ اسے چتا کے پاس بلا کر پہلے گولی ماری اور بعد میں اس کے جسم کو چتا پر پھینک کر آگ لگادی۔ عالیشان زندگی بتانے والے ڈیرہ پرمکھ کو روہتک جیل میں مزدوری کرنی پڑ رہی ہے۔ زندگی بسر کرنے کیلئے کسی بھی کام میں ماہر نہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہے ڈیرہ سچا سودا رام رحیم کو جیل میں مالی کا کام سونپا جائے۔اس کی ایک دن کی مزدوری 40 روپے ہوتی ہے۔ سلاخوں کے پیچھے جانے کے بعد رام رحیم کی نیند اور بھوک دونوں چلی گئی ہے۔ اس نے پیر کی رات کو جیل میں ایک روٹی کھائی جبکہ اسے سبزی کے ساتھ چار روٹیاں دی گئی تھیں۔وہیں صبح چائے پینے کے بعد شام تک کچھ نہیں کھایا۔ وہ رات بھر بیرک میں گھومتا رہا۔ رام رحیم کے کالے کارناموں کا چٹھا آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ آنے والے دنوں میں گرمیت رام رحیم کی مشکلیں کم ہوں گی۔
(انل نریندر)

رامپال دو مقدموں میں بری لیکن قتل و ملک کی بغاوت کا مقدمہ چلے گا

حصار کے گرمیت رام رحیم سنگھ کے بعداب ایک اور بابا ستلوک آشرم کے سابق کنوینر رامپال کی باری ہے۔ حصار کی ایک عدالت نے بیشک رامپال کو دو معاملوں میں بری کردیا ہو لیکن قتل، ملک کی بغاوت ، دنگا پھیلانے جیسے سنگین مجرمانہ معاملوں کو آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ پیروکاروکو یرغمال بنانے، سرکاری کام کاج میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملہ میں رامپال کو بری کردیا گیا ہے۔ رامپال اور اس کے پیروکارو کے ساتھ 17 نومبر 2014 کو دفعہ 186 (سرکاری کام کاج میں رکاوٹ ڈالنا) 332 (جان بوجھ کر فرائض کی ادئیگی میں رکاوٹ اور چوٹ پہنچانا) 353 (سرکاری خادم کو اس کے فرض ادائیگی سے روکنے کیلئے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ رتیا (فتح آباد) کے ایک شخص سکھدیو سنگھ کی شکایت پر رامپال اور دیگر اشخاص کے خلاف 18 نومبر 2014 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت میں ثبوتوں کی کمی کے سبب اس معاملہ میں رامپال کو بری کردیا تھا۔ رامپال کی پیدائش سونی پت کے گھنا گاؤں میں 1951 میں ہوئی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہریانہ کے محکمہ سنچائی میں انجینئر بن گئے۔ کچھ وقت بعد وہ ست سنگ کرنے لگے۔ اسے دیکھتے ہوئے ہریانہ سرکار نے 2000 ء میں انہیں استعفیٰ دینے کوکہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کروتھا گاؤں میں ستلوک آشرم بنایا۔ سال2014 میں آشرم کمپلیکس سے رامپال کے15 ہزار سے زیادہ پیروکارو کو آشرم خالی کرنے کو لیکر اس کے کچھ حمایتیوں اور پولیس کے درمیان تعطل کے بعد رامپال کو گرفتار کیا گیا۔ اس تعطل نے تشدد کی شکل اختیار کرلی اور فائرننگ میں پانچ لوگوں کی موت ہوگئی۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے رامپال کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ رامپال نے اس حکم پر عمل کرنے سے منع کردیا تھا۔ پولیس کو اس کے حکم پر عمل کے لئے کارروائی کرنی پڑی جس کی رامپال اور ان کے حمایتیوں نے جم کر مخالفت کی۔ اس نے توہین عدالت جیسے الزامات کا جواب دینے کے لئے ہائی کورٹ میں پیش ہونے سے بھی انکارکردیا تھا۔ وہ بروالا حصار میں اپنے آشرم کے اندر چھپا رہا۔ رامپال کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس کو11 دن تک مشقت کرنی پڑی تھی۔ 9 نومبر سے 19 نومبر تک آشرم کے باہر ڈرامہ چلتا رہا۔ 18 نومبر کی رات آخرکار20 ہزار پولیس والے آشرم میں داخل ہونے میں کامیاب رہے جس کے بعد رامپال کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے اند بھکت کہتے ہیں کہ بابا ایک چمتکاری آتما ہیں جو دھرتی پر بھگوان کا روپ ہے۔ 18 نومبر کو حصار میں ستلوک آشرم پر کارروائی شروع ہوئی اور اگلے دن19نومبر کو رامپال کو طاقت کے استعمال کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ سرچ آپریشن کے دوران آشرم سے چار عورتوں کی لاشیں بھی ملیں تھیں۔
(انل نریندر)

31 اگست 2017

صرف4 مہینے میں کیجریوال نے بازی پلٹ دی

چار ماہ پہلے ہوئے ایم سی ڈی چناؤ میں امید کے مطابق اچھی کارکردگی نہ کرپانے والی عام آدمی پارٹی نے بواناضمنی اسمبلی چناؤ میں شاندار جیت حاصل کر بازی پلٹ دی۔ پچھلے کچھ چناؤ میں جیت سے دور رہی عام آدمی پارٹی نے پوزیٹو کمپین اور ترقی کے اشو پر ہوئے اس چناؤ کے بعد پارٹی کے ورکروں میں جوش بھرنا فطری ہی ہے۔ بوانا میں بی جے پی کو اب تک کی سب سے بڑی ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ 1998ء سے لیکر اب تک کبھی بھی بی جے پی کا ووٹ شیئر 30 فیصدی سے کم نہیں رہا۔ بوانا ضمنی چناؤ میں بی جے پی کے روایتی ووٹر ٹوٹ گئے اور بی جے پی کا ووٹ فیصد گر کر 27.2 فیصدی رہ گیا۔ یہ عالم تب ہے، جب قریب چار مہینے پہلے ہی بھاجپا نے ایم سی ڈی چناؤ جیتا تھا اور اس نے 36.18 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ کچھ مہینوں کے اندر ہی بی جے پی کا ووٹ فیصد اس کے ہاتھوں سے کھس گیا۔ دہلی بی جے پی پردھان منوج تیواری نے کہاکہ پردھان ہونے کے ناطے وہ ہار کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ بوانا ضمنی چناؤ میں عاپ امیدوار رام چندر نے بی جے پی کے وید پرکاش کو 24052 ووٹوں کے بڑے فرق سے کراری شکست دی۔ کانگریس پچھلے کئی چناؤ کی طرح اس بار بھی تیسرے نمبر پر رہی۔ 2015ء کے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو 7.87 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بوانا میں یہ ووٹ شیئر بڑھ کر 24.21 فیصدی ہوگیا یہ کانگریس کے لئے اچھا اشارہ مانا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر چار مہینے میں ایسے کونسے سمی کرن بنے کہ عاپ نے بازی اپنے حق میں کی اور شاندار اکثریت سے جیت حاصل کی۔ دراصل جنتا نے اس چناؤ کے ذریعے تھوڑ پھوڑ کی سیاست کو کرارا جواب دیا۔ عاپ کے ٹکٹ پر 2015 میں جیت حاصل کرنے والے وید پرکاش نے استعفیٰ دیکر بھاجپا میں جانا لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ پھر وزیر اعلی اروند کیجریوال کا جی جان سے بوانا کمپین میں جٹنا بھی رنگ لایا۔ عاپ کا پوزیٹو کمپین و وکاس کے اشو پر چناؤ لڑنا پارٹی کے حق میں گیا۔ بوانا چناؤ میں نتیجوں کا ویسے عاپ سرکار پر کوئی اثر نہیں پڑا، کیونکہ پارٹی کے65 ممبر اسمبلی ہیں پھر بھی عاپ کیلئے یہ جیت بہت ضروری تھی۔ پنجاب ، گووا کے بعد دہلی میں راجوری گارڈن ضمنی چناؤ اور اس کے بعد ایم سی ڈی چناؤ میں پارٹی کو کامیابی نہیں ملی تھی۔ ورکروں کے حوصلہ پر برا اثر پڑا۔ سابق وزیر کپل مشرا نے بھی کیجریوال سرکار کے خلاف مورچہ کھول دیا تھا۔ دعوے کئے جارہے تھے کہ کئی ممبر اسمبلی ناراض ہیں اور بوانا چناؤ کے بعد وہ بھی کوئی بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ بھاجپا ہائی کمان کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پارٹی کیوں گری۔
(انل نریندر)

اگست کا مہینہ بھاجپا پر بھاری رہا

سوا تین سال میں ماہ اگست2017ء شاید پہلا مہینہ ہوگا جب ٹی وی چینلوں پر بھاجپا کے ترجمان ٹھنڈے پڑتے دکھائی دئے تو کئی بار تو نظر نہیں آئے۔ نریندر مودی کے پی ایم بننے کے بعد سے اب تک کے وقفہ میں صرف دو مہینے حکمراں فریق کے لئے اچھے نہیں رہے۔ فروری 2015 اور نومبر 2015 جب پارٹی دہلی اور بہار کے اسمبلی چناؤ بری طرح ہاری۔ مگر جلد ہی ان دونوں شکستوں کو برے سپنے کی طرح بھلا کر بی جے پی تیز رفتار سے آگے بڑھی۔ پہلی نظر میں غیر مقبول دکھائی دینے والے نوٹ بندی کے فیصلہ کو مودی کے کرشمے میں بدل دیا گیا اور سرجیکل اسٹرائک کا سرحد پار جانے کا کیا اثر ہوا، لیکن دیش کے اندر پارٹی کے اندر حوصلہ ضرور بڑھا ۔ یہ الگ باگ ہے کہ نوٹ بندی کی تفاصیل دیش کے سامنے آج تک نہیں رکھی گئی۔ 2017 میں یوپی ، اتراکھنڈ، گووا، منی پور میں پارٹی اقتدار میں آئی اور اب 2019 کی جیت پکی مان کر 2024 کے چناؤ پربھی بحث ہونے لگی ہے۔ پھر آیا اگست کا مہینہ ۔ پہلا جھٹکا پارٹی کو ہریانہ میں لگا جب پارٹی کے پردھان سبھاش برالا کے لڑکے وکاس برالا نے خاصی کرکری کرائی، آخر ان کی گرفتاری ہوئی لیکن ساکھ کا جتنا نقصان ہونا تھا وہ تو ہوہی گیا۔ ابھی مشکل سے دو دن گزرے ہوں گے کہ گورکھپور کے سرکاری ہسپتال میں بچوں کی خوفناک موت کی خبر آئی، اس کے بعد سرکار کو کافی فضیحت کا سامنا کرنا پڑا اور بچوں کے مرنے کا سلسلہ ابھی رکا نہیں۔ گورکھپور میں بچوں کی موت پہلے بھی ہوتی رہی ہے لیکن اس بار بی جے پی ان الزامات کو جھٹلا نہیں سکی اس کا رویہ اس معاملہ میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ تھا۔ بی جے پی کو تیسرا بڑا جھٹکا اگست کے مہینے میں پہلے 10 دن کے اندر ہی لگا جب پارٹی نے گجرات سے کانگریس کے نیتااحمد پٹیل کو راجیہ سبھا میں جانے سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا اور وہ اس میں ناکام رہی۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں تھی کہ بی جے پی صدر امت شاہ اور اسمرتی ایرانی کو جتانے سے زیادہ احمد پٹیل کو ہرانے کے لئے زور لگا رہی تھی۔ بھاری ہنگامے اور دیر رات تک چلے ڈرامہ کے بعد چناؤ کمیشن نے احمد پٹیل کو ونر (کامیاب) اعلان کردیا اور بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی۔ اگست کے مہینے نے نہ جانے کو بی جے پی کی گاڑی پٹری سے اتارنے کی ٹھان لی تھی۔ کھتولی ریل حادثہ اور اس کے بعد سامنے آئے ثبوتوں نے پارٹی کے ترجمانوں کو مصیبت میں ڈال دیا۔ پتہ چلا کہ پٹری پر کام چل رہا تھا اور ڈرائیور کو اس کی خبر نہیں دی گئی تھی۔ شیو سینا سے بی جے پی میں آئے سریش پربھو نے ٹوئٹر کے ذریعے اچھی کارکردگی کی جو ساکھ بنائی تھی وہ پوری طرح سے ملیا میٹ ہوگئی جب چار دنوں کے اندر اترپردیش کے اوریہ میں کیفیات ایکسپریس کے 10 ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ ریلوے بورڈ کے چیئرمین اے کے متل کے استعفیٰ دینے کے بعد سریش پربھو کو بھی استعفیٰ دینے کی پیشکش کرنی پڑی۔ انہوں نے استعفیٰ تو نہیں دیا لیکن لمبی چوڑی بھومیکا کے ساتھ استعفے کی پیشکش کی جس پر پی ایم مودی نے کہا ابھی انتظار کیجئے۔ لیکن بلٹ ٹرین چلانے کا دعوی کرنے والی سرکار کی ساکھ پر جتنا بڑا دھبہ لگناتھا وہ تو لگ ہی گیا ۔ پھر آیا رام رحیم کا معاملہ۔ رام رحیم کو قصوروار قرار دئے جانے سے پہلے جمع ہوئی بھیڑ اور اس کے بعد بھڑکے تشدد اور منوہر کھٹر سرکار کا رویہ اور بھاری دباؤ کے باوجود لا اینڈ آرڈر بگڑنے سے بھاجپا کی ساکھ کو بھاری دھکا لگا۔ بابا کا آشیرواد پانے کی خواہشمند تقریباً سبھی سیاسی پارٹیاں ہیں لیکن پچھلے اسمبلی چناؤ میں بابا نے بی جے پی کو اعلانیہ طور پر حمایت دی تھی ، اس لئے بی جے پی آسانی سے پنڈ نہیں چھڑا پارہی ہے۔ مہینے کا آخر ہوتے ہوتے سیاسی طور پر پٹنہ کے گاندھی میدان میں 18 اپوزیشن پارٹیوں کی مہا ریلی ایک ایسا واقعہ ہے جس نے بی جے پی کو تھوڑا فکر مند ضرور کیا ہوگا اتنا ہی نہیں دہلی اگلے چناؤ میں کیجریوال کے صفائے کا دعوی کرنے والی بی جے پی کو بوانا اسمبلی کے ضمنی چناؤ میں ہارکا منہ دیکھنا پڑا ہے۔اسی مہینے کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے بی جے پی کی ساکھ کو گہرا دھکا پہنچا ہے۔
(انل نریندر)

30 اگست 2017

جج جگدیپ سنگھ لوہان آپ پر پورے دیش کو فخر ہے

ڈیرہ چیف بابا رام رحیم کو سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں جنسی استحصال معاملہ میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے بدفعلی کے دوالگ الگ معاملوں میں 10-10 سال کی سزا سنا کر ایک تاریخی اور دور رس فیصلہ دیا ہے۔ اب بلاتکاری باباکو 20 سال کی قید بھگتنی پڑے گی ۔ ساتھ ہی قصور وار پر 30 لاکھ روپے کا بھی جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس میں قصوروار کو 14-14 لاکھ روپے متاثرہ کو دینے ہوں گے جبکہ 2 لاکھ روپے عدالت میں جمع کرانے ہوں گے۔ موجودہ معاملوں میں جو بھی سزا دی گئی ہے وہ نربھیاکانڈ سے پہلے کے ریپ قانون کے حساب سے دی گئی ہے۔ نربھیا کانڈ کے بعد ریپ قانون میں تبدیلی ہوئی ہے اور وہ اس کے بعد کے مقدمے پر ہی نئی اینٹی ریپ قانون لاگوں ہوگا،پہلے کے معاملہ میں نہیں۔ پرانے آبروریزی انسداد قانون کے حساب سے بابا رام رحیم کو سزا دی گئی اور اس سزا کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں 60 دنوں کے اندرا پیل کرسکتا ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کا متبادل ہوگا۔ سادھوی جنسی استحصال معاملہ میں رام رحیم کو سزا سنانے والے سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ لوہان نے جتنا ہمت افزاء اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے، اس پرقصوروار کے بھکتوں کو چھوڑ کر جہاں پورا دیش فخر محسوس کررہا ہے وہیں ان کے آبائی گاؤں راج پورہ کا سینا فخر سے پھولا ہوا ہے۔ راجپورہ مینڈ گاؤں کے ایک تعلیمی پریوار میں پیدا ہوئے سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ لوہان نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول میں ہی حاصل کی تھی۔ جج صاحب نہ تو کسی بہکاوے میں آئے اور نہ ہی کسی دباؤ میں۔ ان کا یہ فیصلہ ہر آبروریز کے لئے ایک مثال ہوگی۔ غور طلب ہے کہ رام رحیم کو سزا سنانے والے جج جگدیپ کو ان کی ایماندار اور سخت ساکھ کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس ہائی پروفائل معاملہ میں بھی ان پر ڈیرے کے حمایتیوں سمیت سیاسی حلقوں سے بھی دباؤ تھا لیکن وہ بہکے نہیں اور بابا کو سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔ بدفعلی کرنے والے بابا رام رحیم کے ساتھ فیصلہ کے دن ساتھ رہنے والی خاتون ہنی پریت ان کی سب سے قریبی مانی جاتی ہے۔ دنیا کو بابا اسے اپنی گود لی بیٹی بتاتا ہے لیکن اس کے شوہر وشواس گپتا نے 2011ء میں ہائی کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں کہا تھا کہ ڈیرہ چیف بھلے ہی اس کی بیوی کو بیٹی کہتے ہوں لیکن اس کے ساتھ ڈیرہ پرمکھ کے جسمانی رشتے ہیں۔ ہنی پریت کا اصلی نام پرینکا ہے۔ وہ بدھوار کو ڈیرہ پرمکھ کو قصوروار قرار دئے جانے کے بعد اس کے ساتھ ہیلی کاپٹر سے روہتک آئی تھی جہاں سوناریہ جیل میں بابا کو رکھا گیا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ کے ذریعے ڈیرہ چیف کو بدفعلی کا مجرم ماننے کے بعد سکیورٹی گارڈوں نے اسے جیل لے جانے سے منع کردیا تھا۔ ان میں 6 سرکاری اور 2 پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ہیں۔ رام رحیم کی سکیورٹی میں تعینات ہریانہ پولیس کے 5 جوان بھی پوری طرح اس کے رنگ میں رنگ چکے تھے۔ ہمیشہ ساتھ رہنے والے ان جوانوں نے پہلے ڈیرہ چیف کو پنچکولہ میں واقع عدالت میں پیشی پر جانے سے روکنا چاہا اور پھر فیصلہ آنے پر اسے بھگا لے جانے کی سازش بھی رچ ڈالی۔ رام رحیم کو پنچکولہ کورٹ سے بھگانے کی کوشش میں 5 پولیس ملازمین اور ڈیرہ چیف کے 2 پرائیویٹ گارڈوں پر ملکی بغاوت کا کیس درج کیا گیا ہے۔ تشد د میں ہریانہ پولیس کے رول پر چل رہی ابھی تک کی جانچ کے مطابق تشدد کی شروعات بھی رام رحیم کی سکیورٹی میں تعینات رہے انہی سرکاری کمانڈو نے کی تھی۔ پنچکولہ کے پولیس کمشنر اے ایس چاولہ نے بتایا کہ ان لوگوں نے پولیس والوں سے ہاتھا پائی کی اور ناکام رہنے پر نعرے لگائے کہ ہندوستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیں گے، آگ لگادیں گے۔ پتہ چلا ہے فیصلہ آنے سے دو تین دن پہلے ہی رام رحیم کے پیرو کاروں نے شہر کو دہلانے کی سازش تیار کرنا شروع کردی تھی۔ موٹر سائیکلوں کی ٹنکیاں بھرواکر کین میں پٹرول اکٹھا کیا گیا، کٹے پھٹے ٹائروں، اینٹ پتھروں اور خالی بوتلوں کو جمع کیا گیا۔ وہیں بھاری تعداد میں ہتھیار اکٹھے کئے گئے۔ جمعہ کو جیسے ہی فیصلہ آیا تو 9 افراد نے سازش کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا۔ شکر ہے کہ یہ بہت زیادہ نقصان نہیں کرسکے۔ فیصلہ کے بعد ہوئے تشدد میں 35 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی۔ تشدد میں مارے جانے والوں کے سوال پر ہریانہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ رامنواس نے بتایا کے مرنے والوں میں سبھی شرپسند ہیں اور اس میں کوئی بھی عام آدمی نہیں ہے۔رام نواس بتاتے ہیں انہوں نے پنچکولہ میں عام شہریوں کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہونے دیا اور میڈیا کے لئے دکھ ہے کیونکہ ان کی گاڑیاں جلائی گئیں۔ پولیس فائرننگ کی بات کرتے ہوئے ہوم سکریٹری نے بتایا پولیس فائرننگ کے بعد شرپسندوں پر قابو پایاگیا ورنہ پورا پنچکولہ تشد د کا اکھاڑہ بن جاتا۔ وہ کہتے ہیں کافی پراپرٹی کا نقصان بچایا ہے اور جو نقصان ہوا ہے اس نقصان کی بھرپائی ڈیرہ سے کی جائے گی۔ میڈیا کوریج کی بات کریں تو عام طور پر مقامی رپورٹر سرکار کے دباؤ میں مجبوراً جھک جاتے ہیں لیکن اے بی وی پی کے پنجاب وہریانہ کے بیورو چیف جگوندر پٹیال نے شاندار رپورٹنگ کر بابا رام رحیم اور ہریانہ سرکار کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ جس کی ہمت دہلی کے بڑے بڑے صحافی نہیں کرپائے۔ فائرننگ اور آگ زنی کے درمیان پٹیال نے جان ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح بابا کانڈ کے فیصلے کی رپورٹنگ کی ، جس پر دیش کے تمام میڈیا کو فخر ہے۔ ہم جگوندر پٹیال کو بھی سلام کرتے ہیں لیکن سب سے زیادہ تعریف سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ لوہان کی کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)

کشمیر میں دہشت گردی کی قیمت: 46 ہزار اموات، سوا لاکھ حملہ

سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں صاف کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت تک پائیدار بات چیت ممکن نہیں ہے جب تک وادی میں تشدد نہیں رکتا۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر اور جسٹس وائی چندرچوڑ کی ڈویژن بنچ نے کہا کس سے بات چیت کی جائے؟ بڑی عدالت جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف بار ایسوسی ایشن ملازم ممبر کی اپیل پر سماعت کررہی تھی۔ ہائی کورٹ نے باڈی کی اس عرضی کو خارج کردیا جس میں اس بنیاد پر پیلٹ گن کے استعمال پر روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔ مرکز نے پیلٹ گن کا متبادل تلاشنے کے لئے پہلے ہی ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا معاملہ پر فیصلے کے دو طریقے ہیں یا تو پارٹیاں ایک ساتھ بیٹھیں اور کوئی حل نکالیں یا پھر عدالت اس معاملہ میں فیصلہ کرے۔ عدالت نے کہا بار ایک ذمہ دار اور با احترام انجمن ہے اور اسے کوئی حل تلاشنے میں مدد کرنی چاہئے۔ جموں وکشمیر نے آتنک واد کی وجہ سے بہت بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ کشمیر میں پھیلی دہشت گردی کی قیمت ہے 46 ہزار لاشیں۔ بقول غیر سرکاری قیمت کے سوالاکھ لاشیں،ان میں سبھی کی لاشیں شامل ہیں۔ آتنک واد مرنے والوں سے کوئی امتیاز نہیں برتتا نتیجتاً سوا لاکھ حملوں کو سہن کرنے والی کشمیر وادی ان 29 برسوں میں سوالاکھ لوگوں کا خون بہتا دیکھ چکی ہے۔ اگر سرکاری اعدادو شمار کو لے لیں تو مرنے والے46 ہزار لوگوں میں سے جتنے آتنک وادی مارے گئے ان میں سے کچھ عام شہری بھی تھے تو مرنے والوں میں سب سے زیادہ وہی لوگ مارے گئے ہیں جو مسلمان ہیں، جنہوں نے جہاد کی خاطر کشمیر میں دہشت گردی چھیڑ رکھی ہے۔ بقول سرکاری اعدادو شمار کے اس مہینے کی 21 تاریخ تک کشمیر میں 29 برسوں کے عرصے میں 46 ہزار لوگوں کا خاتمہ ہوا۔ ان میں سے24 ہزار آتنک وادی بھی شامل ہیں جنہیں مختلف مڈ بھیڑ میں سکیورٹی فورس نے اس لئے مار گرایا کیونکہ انہیں مجبور کیا وہ ان کی جان لے لیں۔حالانکہ ان مرنے والے دہشت گردوں میں سے ایک اچھی خاصی تعداد سرحدوں پر ماری گئی ۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیر میں نام نہاد جہاد اور آزادی کی لڑائی کا آغاز کرنے والے کشمیری شہری اور بعد میں مڈ بھیڑ میں مرنے والے جو لوگ ہیں وہ پاکستانی یا افغانی شہری ہیں۔ یہ کشمیر میں دہشت گردی کو آگے بڑھانے کیلئے ٹھیکہ لے کر آئے ہوئے ہیں۔ 24 ہزار دہشت گردوں میں 11 ہزار غیر ملکی آتنک وادی شامل ہیں۔ ہماری سکیورٹی فورس کو بھی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں 29 سال کے عرصہ میں 7 ہزار سکیورٹی ملازمین بھی ہلاک ہوئے ہیں یعنی 5 آتنکی مارے گئے تو ان کے بدلے میں 1 سکیورٹی جوان کی بھی کشمیر میں جان گئی۔ آپ تازہ حملہ کو ہی لے لیجئے سنیچر وار کو صبح سویرے پلوامہ میں تین دہشت گردوں نے پولیس لائن پر زبردست حملہ کیا اور اندر گھس پر دہشت گردوں کو نکالنے کیلئے چلی کارروائی میں ہمارے8 جوان شہید ہوگئے جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ قریب15 گھنٹے چلی مڈ بھیڑ میں تینوں دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔ سی آر پی ایف کے مطابق صبح سویرے پونے چار بجے ضلع پولیس کمپلیکس پر گرینڈ پھینکتے ہوئے آتنکی اندر گھس گئے۔ وہاں سے یہ لوگ پولیس لائن کے تین بلاک میں داخل ہوئے اور چھپ ہر فائرننگ شروع کردی یہاں بڑی تعداد میں پولیس والوں کے خاندان رہتے ہیں۔ انہیں محفوظ طریقے سے نکالتے ہوئے فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کو نکالنے کی مشترکہ کارروائی کی۔ حملہ میں شہید ہوئے دو ایس پی او ایک گھر میں پھنسے رہ گئے تھے۔ جہاد چھیڑنے والے مسلم دہشت گردوں نے ایسا نہیں کہ صرف ہندوؤں اور سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو، چونکانی والی بات یہ ہے مارے گئے 16 ہزار شہریوں میں سے 14 ہزار سے زیادہ تعدادا ن مسلمانوں کی ہے جنہیں آزادی دلوانے کی بات آج بھی آتنک وادی کرتے ہیں اور جو جہاد چھیڑے ہوئے ہیں شاید ان کی آزادی کے معنی یہی رہے ہوں گے؟
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...