Translater

21 جنوری 2017

وجود بچانے کیلئے اترے گی بہوجن سماج پارٹی

اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بہوجن سماج پارٹی اپنا وجود بچانے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ بہن جی اپنی سیاسی زندگی کے شاید سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ 2007ء سے2012ء تک بھرپور اکثریت کی سرکار چلانے کے باوجود وہ اقتدار سے باہر ہوگئیں جبکہ اس دور میں بھی کئی دیگر ریاستوں کی سرکاریں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ 2014ء کے عام چاؤ میں تو پارٹی نے سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑا تھا لیکن اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی۔ اس چناؤ کے لئے مایاوتی نے اپنے خاص سپہ سالاروں کو بھٹکے ووٹروں کو اپنی طرف کرنے کی مہم چلا رکھی ہے اور انہیں اس کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔ اگر ہم پچھلے اسمبلی چناؤ کو چھوڑ دیں تو پہلے کے سبھی انتخابات میں بسپا کا ووٹ فیصد مسلسل بڑھ رہا تھا لیکن 2012ء کے چناؤ میں پانچ فیصدی سے زیادہ ووٹ کم ہونے سے وہ اوقتدار سے باہر ہوگئی تھی۔ بسپا اس بار ایسا نہیں ہونے دینا چاہتی۔ اسی وجہ سے بہن جی نے اپنے روایتی دلت اور مسلم ووٹ بینک پر اس مرتبہ زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے۔ سپا ۔ کانگریس کے امکانی اتحاد نے مایاوتی کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ بسپا کے بھروسے چند ذرائع کی مانیں تو مایاوتی نے اپنے قریبی عہدے داروں کو صاف کہہ دیا ہے کہ اس بار ایسی کوئی غلطی نہ ہو جس کا اثر ان کے ووٹ بینک پر پڑے۔ چناؤ کمیشن کی طرف سے چناؤ کی تاریخوں کو اعلان کرنے سے پہلے دہلی ۔ لکھنؤ میں ہوئی آدھا درجن سے زیادہ میٹنگوں میں بہن جی اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ 2012ء میں پارٹی کی جو ہار ہوئی وہ ان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کے سماج وادی پارٹی کھاتے میں ٹرانسفر ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ مسلمانوں کا متحدہ ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی کے تجزیئے کو بنا اور بگاڑ سکتا ہے اس لئے مایاوتی نے اس مرتبہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دئے ہیں۔ مایاوتی تقریباً ہر پریس کانفرنس میں خود کووزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا کے واحد ایک مضبوط حریف کے طور پر پیش کرتی آ رہی ہیں اور وہ مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کو روکنے کے لئے مسلم قوم سپا اور کانگریس کو ووٹ دے کر اسے بیکار کرنے کی بجائے بسپا کو متحد ہوکر ووٹ کرے۔ بسپا نے اس بار سبھی 403 سیٹوں پر چناوی امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ ان میں سے87 ٹکٹ دلتوں کو ،97 مسلمانوں کو اور 106 دیگر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو دئے ہیں لیکن کچھ مہینوں پہلے سے پارٹی کے نیتاؤں و ممبران اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے یا نکالنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ابھی تک بند نہیں ہوا ہے۔ ایسے حالات میں بسپا اقتدار کی ماسٹر چابی پانے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

جودھپور کیس میں سلمان بری راحت کی سانس لی

سلمان خان آخرکار 18 سال بعد جودھپور میں چل رہے کالے ہرن کے شکار کے کیس میں بری ہوگئے۔ سلمان کے لئے بدھوار جودھپور کی عدالت سے بڑی راحت دینے والا ثابت ہوا ہے۔ بتادیں کہ 18 سال پہلے راجستھان میں اپنی فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں سلمان کے خلاف درج ہوئے ہتھیار ایکٹ کے ایک معاملے میں انہیں شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔سرکاری وکیل یہ ثابت نہیں کرسکا کہ سلمان کے پاس ہتھیار تھے۔چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ دلپت سنگھ راج پروہت نے کہا کہ معاملہ ہتھیار ایکٹ کی جن دفعات میں درج کیا گیا تھا ان میں یہ بنتا ہی نہیں۔ 18 سال سے غلط دفعات میں مقدمہ چلا۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت کے کلکٹر رجت کمار مشر نے بغیر دماغ لگائے صرف سرکاری وکیلوں کی رائے پر مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی تھی۔ مجسٹریٹ نے 102 صفحات کے اپنے فیصلے میں سلمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے چارج شیٹ داخل کرنے تک کی خامیوں کو گناتے ہوئے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ سلمان کو صبح ساڑھے دس بجے کورٹ میں پہنچنا تھا لیکن وہ 11 بجے تک ہیں آئے تو جج نے کہا آدھے گھنٹے میں پیش کیجئے نہیں تو لنچ کے بعد فیصلہ دوں گا۔ اس کے بعد ساڑھے گیارہ بجے سلمان کورٹ پہنچ گئے اور محض 7 منٹ کورٹ میں رہے۔ جج نے نام پوچھا اور دو منٹ میں ہی بری کرنے کا حکم سنا دیا۔ کورٹ میں سلمان کی بہن الویرا بھی تھیں۔ 
عدالت سے باہر نکلتے ہوئے سلمان کچھ لوگوں کو آٹوگراف بھی دیتے دیکھے گئے۔ دوپہر بعد 3 بجے چارٹرڈ پلین سے سلمان ممبئی چلے گئے۔ سلمان اب تک چار مقدموں میں بری ہوچکے ہیں لیکن اب بھی ایک معاملہ زیر سماعت ہے۔ پہلا کیس جس میں وہ بری ہوئے تھے وہ مواڑ گاؤں میں27 ستمبر 1998ء کی رات ہرن کا شکار کیا، عدالت نے قصوروار مانا اور ایک سال کی سزا سنائی تھی ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا، معاملہ اب سپریم کورٹ میں التوا میں ہے۔ 28 ستمبر 1998ء کی رات دو ہرن کا شکار کیا گیا عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی ، ہائی کورٹ نے بری کردیا۔ 2002ء میں ممبئی میں سڑک کے کنارے سو رہے لوگوں پر گاڑی چڑھائی ، پانچ سال کی سزا ہوئی ،ہائی کورٹ نے بری کردیا۔ مہاراشٹر سرکار فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی اور معاملہ زیر سماعت ہے۔ عدالت نے سلمان کو ہتھیار ایکٹ میں بری کردیا ہے ،سلمان خان کے اس کیس میں بری ہونے سے ان کے کروڑوں پرستاروں نے راحت کی سانس لی ہے۔ سلمان بہت سے غریب اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ غلطیاں بڑے بڑوں سے ہوتی ہیں لیکن سلمان کو راحت ان کے اچھے کرموں کی وجہ سے ملتی رہتی ہے۔
(انل نریندر)

20 جنوری 2017

امریکہ میں 8 سال بعد بدلتا اقتدارکا سسٹم

70 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے عمر رسیدہ صدر 20 جنوری کو حلف لیں گے۔ امریکہ میں 8 سال بعد اقتدار کا سسٹم بدلے گا۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی کمان ڈیموکریٹک صدر براک اوبامہ سے ریپبلکن پارٹی کے لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ امریکی پالیسی کے ساتھ پوری دنیا میں طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی ساتھی نے دو دن پہلے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے پہلے ہی د ن ٹرمپ موجودہ صدر اوبامہ کے ان کئی ایگزیکٹیو فیصلوں کو پلٹ دیں گے جن کے بارے میں ان کو لگتا ہے کہ ان سے اقتصادی ترقی اور روزگار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اعلان ٹرمپ کے ہونے والے وائٹ ہاؤس کے ترجمان سین اسپائسر نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ فوراً ان کئی قدموں کو منسوخ کریں گے جنہیں اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ8 مہینے میں اٹھایاگیا۔ جس کی وجہ سے امریکہ کی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے میں رکاوٹ آئی ہے۔ بہرحال یہ واضح نہیں کیا کہ اوبامہ کے کن کن ایگزیکٹیو قدموں کو ٹرمپ مسترد کریں گے۔ گھریلو امور کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بھی نظڑیں لگی ہوئی ہیں۔ یوکرین کے اشو پر روس ۔ امریکہ میں شروع ہوئے جھگڑے 2016 ء میں شام اور امریکہ چناؤ میں مداخلت کو لیکر اور بڑھے لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن کے تئیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوستان رویئے سے دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہونے کی آثار ہیں۔ شام میں صدر بشر الاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز باغیوں کے درمیان برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی امید کی جارہی ہے۔ دونوں فریقین جنگ بندی کا اعلان پر بات چیت کے لئے راضی ہوگئے ہیں۔ نیوکلیائی سپلائر گروپ (این ایس جی ) میں شامل ہونے کی ہندوستان کی کوششیں رنگ لا سکتی ہیں۔ سکیورٹی کونسل میں اصلاحات اور دہشت گردی کے بارے میں تشریح کو لیکر اس کی مہم بھی کامیاب ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ کو امریکہ کی مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کو صحیح طریقے سے تال میل بٹھانا ان کے لئے سخت چیلنج ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے چیف جان بینن نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اپنی باتوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا اور روس کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے تئیں چوکس رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جس طرح دنیاکو پیغام دیا ہے اس سے لگتا ہے کہ انہیں اپنے دیش کی خفیہ ایجنسی پر بھروسہ نہیں ہے۔ چناؤ کمپین کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت سی باتیں کیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ان پر عمل کریں۔ اب جب وہ صدر بن جائیں گے توسنجیدہ ہوجائیں گے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ نپی تلی باتیں ہی کریں گے۔ مسٹر ٹرمپ کو امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

کانپور ریل حادثہ کے پیچھے آئی ایس آئی

کانپور میں پچھلے سال 20 نومبر کو ہوا ریل حادثہ محض ایک حادثہ تھا یا کسی نے منظم سازش کی تھی؟ کانپور سے 57 کلو میٹر دوری پر واقع پکھرائیاں میں صبح سویرے 3 بجے اندور ۔پٹنہ ایکسپریس حادثہ کا شکار ہوئی تھی اس میں 192 افراد کی موت ہوئی اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ویسے تو حادثہ کے اسباب ریلوے کی جانچ رپورٹ ہی بتائے گی لیکن بہار کے موتیہاری میں گرفتار تین بدمعاشوں سے پوچھ تاچھ کے دوران اس حادثہ میں پاکستان کی خطرناک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ ان بدمعاشوں نے اقبال کرلیا ہے کہ انڈین ریلوے کو نشانہ بنانے کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر کام کررہے تھے۔ آئی ایس آئی کا دوبئی میں بیٹھا گرگا ایک نیپالی کے ذریعے کام کرا رہا تھا۔ تین شاطر بدمعاشوں میں شامل موتی پاسوان نے بتایا کہ اس ٹرین حادثہ میں وہ بھی شامل تھا۔ ان کے ساتھ کانپور میں کئی لوگ بھی تھے اس میں دہلی میں پکڑے گئے بدمعاش زبیر ونظام الحق شامل تھے۔ موتی نے بتایا کہ کانپور سے پہلے مشرقی چمپارن کے چھوڑاسن اسٹیشن کے پاس ریل ٹریک و چلتی ٹرین کو اڑانے کی سازش بھی اسی تنظیم نے کی تھی۔ اس کے لئے نیپال میں گرفتار برج کشور نے آدا پور کے باشندے ارون و دیپم رائے کو تین لاکھ روپے دئے تھے لیکن دونوں نے آئی ڈی لگانے کے بعد بھی ریمورٹ کا بٹن نہیں دبایا ۔ اس وجہ سے دھماکہ نہیں ہوسکا۔ واردات کو انجام نہ دے پانے کے سبب نیپال بلا کربرج کشور نے ارون و دیپم کو قتل کر لاش پھینک دی تھی۔ بہار کے موتیہاری سے گرفتار کئے گئے تین بدمعاشوں کے ذریعے بہار پولیس کو دئے گئے بیان میں زبیر و نظام الحق کا نام بتانے پر دہلی پولیس کا اسپیشل سیل نے دہلی کے جامعہ نگر میں واقعہ بٹلہ ہاؤس علاقے سے انہیں ڈھونڈ نکالا۔ بدمعاشوں نے ان دونوں پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے کے الزامات لگائے۔ یہ انتہائی سنگین الزام ہے۔ جو بھی قصوروار ہے اس کے سر پر 192 بے قصور لوگوں کے خون کا جرم ہے۔ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہئے۔ محض کچھ بدمعاشوں کے بیانات پر اتنا بڑا الزام لگانا شاید صحیح نہیں ہوگا۔ معاملے کے فورنسک ثبوت و پوری تفصیلات سامنے لانی ہوں گی۔ ہر حادثے میں آئی ایس آئی کا نام لینا فیشن ہوگیا ہے لیکن اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعی ہی اس ٹرین حادثے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا تو یہ ایک طرح سے ایکٹ آف وار ہے جس کا جواب پاکستان کو دینا پڑے گا۔ پاکستان اپنی عادت کے مطابق اس میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکارکردے گا۔ ثابت تو ثبوتوں کے ساتھ ہمیں کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

19 جنوری 2017

کیا یوپی میں وکاس سے زیادہ جاتی واد حاوی رہے گا

یوپی کے بارے میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ یہاں ووٹر نہ تو نیتا کو اور نہ ہی ترقی جیسے اشوپرووٹ دینا ہے یہاں ووٹ ذات کی بنیاد پر دئے جاتے ہیں۔ کم سے کم سابقہ اسمبلی چناؤ میں تو یہی حالت رہی تھی۔ یوپی اسمبلی میں جس پارٹی کو30 فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں گے جیت اس کی تقریباً طے ہوگی۔ لیکن یہ 30 فیصد ووٹ چاری بڑی برادریوں کے درمیان بٹے ہوئے ہیں۔ 23 فیصد اگڑی جاتی کے ہیں تو 41 فیصد پسماندہ جاتی کے۔ 21.1 فیصدی دلت ہیں تو 19.3 فیصدی مسلمان ہیں۔ اب تک تو ملائم یہاں یادو کے رہنما بنے ہوئے تھے اور مایاوتی دلتوں کی۔ پسماندہ طبقات کے لئے بھاجپا نے کیشو موریا کو صدر بنایا ہے تو برہمنوں کے لئے کانگریس نے شیلا دیکشت کو آگے کیا ہے۔ ذات کے اس کھیل کو کھل کر مایاوتی ہی تسلیم کرتی ہیں۔ انہوں نے سبھی امیدواروں کی ذات پر مبنی فہرست جاری کرکے یہ ثابت کردیا ہے۔ ذات کے اس چکرویو کی وجہ سے کانگریس 27 سال سے یوپی میں اقتدار سے باہر ہے وہیں بھاجپا 14 سال سے۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ میں پولارائزیشن میں ساتی ذاتوں کو متحد کردیا تھا یہی وجہ ہے کہ2012ء اسمبلی چناؤ میں 15فیصدی ووٹ پانے والی بھاجپا نے لوک سبھا میں 42.43 فیصد تک ووٹ لاکر 80 میں سے71 سیٹیں جیت لیں تھیں وہیں 21 فیصدی دلت ووٹر ہونے کے باوجود مایاوتی کی پارٹی کا کھاتہ تک نہیں کھل سکا۔ اسمبلی چناؤ کے بگل بجنے کے ساتھ اترپردیش میں چناوی بساط کی گوٹیاں چلنی شروع ہوگئی ہیں۔ ہر ایک سیٹ پر جیت کا نمبر طے کرنے کیلئے ضرب ،تقسیم شروع ہوگئی ہے۔ کچھ پارٹیوں نے امیدواروں کا انتخاب کرلیا ہے تو کچھ پارٹیاں ٹکر کا امیدوار اتارنے کے چکر میں ہیں۔ سیاسی پارٹی ہرسیٹ پر تمام ضرب۔ تقسیم کر امیدواروں کو اتارتی ہیں تاکہ جیت ان کی پارٹی کے کھاتے میں آئے۔ پولنگ کا دور آتے آتے مقابلہ کانٹے کا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ووٹوں کا فاصلہ کم ہوجاتا ہے جس سے سیاسی پارٹیوں کی سیٹوں میں کافی فرق آجاتا ہے۔ آخر کار 4سے5 فیصد ووٹوں کے کم زیادہ ہونے کی صورت میں پچھلے اسمبلی چناؤ میں اسی طرح کے اعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ موجودہ اسمبلی چناؤ میں یہ سین دوہرایا جاتا ہے یا نہیں یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ یوپی میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہوئے دو اسمبلی چناؤ میں یہ شطرنج دیکھنے کو ملی ہے۔ دونوں ہی اسمبلی چناؤ میں سپا اور بسپا میں کانٹے کا مقابلہ ہوا اور چار پانچ فیصد ووٹ کے فرق سے ایک پارٹی کوسرکار سے باہر اور دوسری کے لئے سرکار بنانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ 2007ء کے اسمبلی چناؤ میں سپا کو اپنی سیاسی حریف بہوجن سماج پارٹی کے پانچ فیصد ووٹ کم ملا وہ سرکار بنانے سے بے دخل ہوگئی۔ پارٹی کو 97 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ سپا کو کل ووٹوں کا 25.43 فیصد ووٹ ملا تھا ۔ وہیں بسپا کو 5فیصد زیادہ یعنی 30.43 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ووٹ کے اس فرق سے بسپا کی سیٹوں کی تعداد 206 پر پہنچ گئی۔ سال 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں یہی شطرنج دیکھنے کو ملی۔ اس چناؤ میں بسپا کو25.91 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ سپا کو29.13 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور دونوں کے درمیان سیٹوں میں 100 سے زیادہ کا فرق آگیا تھا ۔ اس چناؤ میں بسپا 80 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی جبکہ سپا کو224 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔پردیش کے آنے والے اسمبلی چناؤ میں بھی یہی تصویر اگر دوہرائی گئی تو اس بار بھی ووٹ فیصد میں معمولی سا فرق کسی کو جیت تو کسی کی ہارکی وجہ بنا دے گا۔ ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیاں سیٹوں اور امیدواروں کے حساب سے ہی حکمت عملی بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ موجودہ چناؤ میں اشو، ماحول کتنا اثر انداز ہوتے ہیں کس طرح سے ووٹوں کا بٹوارہ ہوگا ؟ یہ دیکھنے کی بات ہوگی؟ لیکن دو باتیں صاف ہیں یوپی اسمبلی چناؤ میں اشوز سے زیادہ ذات پات حاوی رہی ہے اور کانٹے کے اس مقابلے میں ہار جیت کا فرق بہت کم ہوگا۔
(انل نریندر)

کیا نئی تکنیک سے سرحد پار سے دراندازی پر کنٹرول ہوگا

پاکستان دراندازوں کو بھارت میں دھکیلنے کا سلسلہ بند نہیں کررہا ہے۔ ساؤتھ کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے پہلگام کے پاس ابورا گاؤں میں دیر شام (ایتوار سے) جاری مڈ بھیڑ ختم ہوگئی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق مڈ بھیڑ میں سکیورٹی فورس نے 3 دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس سے تین اے کے۔47 رائفلز برآمد ہوئیں ہیں۔ بھارت کو ان دراندازوں کو روکنے کیلئے اور سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت سرحد پار اور کنٹرول لائن سے گھس پیٹھ روکنے کے لئے 20 انٹرنیشنل کمپنیوں کی مدد سے نئی تکنیک تیار کررہا ہے۔ بھارت ۔ اسرائیل جوائنٹ ورکنگ گروپ نے اس بارے میں حکمت عملی تیار کی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ورکنگ پلان کے تحت اس سال کے آخر تک بارڈر کو ہائی ٹیک بنانے کا کام پورا کرلیا جائے گا۔ اس کے لئے مفصل یونیفائڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم بنایا جارہا ہے۔ اس کے نفاذ ہونے سے پورے بارڈر پر گشت کے لئے زیادہ جوانوں کی تعیناتی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ راڈار دراندازی کی معلومات دے گا اور اطلاع کے بعد فوراً کارروائی کر دراندازوں کے پاکستانی منصوبے پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ جموں و کشمیر کے سانبا اور کٹھوا کے بارڈر پر سب سے پہلے اس اعلی تکنیک کے آلات قائم کئے جائیں گے۔ جموں و کشمیر سے لگنے والے پاکستان بارڈر اور کنٹرول لائن سے دہشت گردوں کے ذریعے پورے سال دراندازی کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ بارڈر پر بی ایس ایف اور ایل او سی پر فوج کے جوان گھس پیٹھ روکنے کے لئے محاذی چوکیوں سے نظر رکھ کر کارروائی کرتے ہیں اور 24 گھنٹے گشت کی جاتی ہے۔ فوج کے ذرائع کے مطابق ہائی ٹیک سسٹم چالو ہونے کے بعد بارڈر پر حالات تکنیکی مرکز پر دراندازی کی کوشش ہوتے ہیں فوراً معلومات آجائے گی اور موقعہ پر ہی دہشت گردوں کو ڈھیر کیا جاسکے گا۔ حال ہی میں فوج اور بی ایس ایف کی لگاتار گشت کے باوجود ہر سال اوسطاً 100 دہشت گرد دراندازی میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کے ذریعے جنگ بندی توڑنے سے دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کو پاک فوج کے ذریعے کورنگ فائر ملتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک کے بعد دراندازی کی کوششوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایک سال میں پاکستان کی جانب سے 150 دہشت گرد گھس پیٹھ کر جموں وکشمیر کے علاقوں میں داخل ہوئے۔ وادی کشمیر میں پتھر بازی وسیع تشدد کے واقعات میں بیشک کمی آئی ہے لیکن سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی میں اضافہ ہورہا ہے۔ امید ہے کہ نئی جدید تکنیک سے دراندازی پر قابو پایا جاسکے گا۔ ذرائع کے مطابق تکنیکی سازو سامان کیلئے 20 انٹر نیشنل کمپنیوں کو آرڈر دے دئے گئے ہیں۔
(انل نریندر)

18 جنوری 2017

ٹیپو تو سائیکل چلائیں گے لیکن ملائم اب کیا کریں گے

اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پولنگ سے پہلے ہی وزیر اعلی اکھلیش یادو کو ایک بڑی جیت حاصل ہوئی ہے۔ اکھلیش یادو جنہیں ملائم سنگھ یادو پریوار میں ’’ٹیپو‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ، کو چناؤ کمیشن نے چناؤ نشان ’’سائیکل‘‘ سونپ دیا ہے۔ چناؤ کمیشن نے سماجوادی پارٹی کی ایک طرح سے تقسیم کردی ہے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ ملائم سنگھ یادو کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی ہار کی شکل میں مانا جائے گا۔ جس پارٹی کوانہوں نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے کھڑا کیاوہ ایک جھٹکے میں ہی ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ پیر کو پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کے تمام دعوؤں کو درکنار کرتے ہوئے اکھلیش گروپ کو ہی اصلی سپا مانا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملائم سنگھ سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ کب کیا داؤ چلنا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اس بار وہ مات کھا گئے۔ سیاسی دھرندر ہونے کے باوجود وہ ہوا کا رخ نہیں بھانپ پائے۔ پارٹی بھی گئی اور سائیکل بھی گئی اور لڑکا بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ اب ملائم کے سامنے تین ہی متبادل بچے ہیں۔ پہلا کورٹ جاکر چناؤ کمیشن کے فیصلے پر اسٹے کی اپیل کریں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ اب ایسا کرے گا کیونکہ چناؤ کمیشن نے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ہی یہ ایسا اہم فیصلہ دیا ہے۔ رام گوپال یادو نے کہا کہ ملائم گروپ کوئی ٹھوس ثبوت کمیشن کے سامنے نہیں رکھ سکا۔ اس میں فائدہ بھی نہیں دکھائی دیتا کیونکہ چناؤ کمیشن یوپی چناؤ کا نوٹیفکیشن جاری کررہا ہے۔ ایک بار نوٹیفکیشن جاری ہوجائے تو معاملے میں عدلیہ کی مداخلت کی گنجائش کم ہوجاتی ہے دوسرا یہ کہ ملائم اب شیو پال اینڈ کمپنی کا ساتھ چھوڑ کر اکھلیش یادو کو قومی صدر تسلیم کرلیں اور سپا کے سرپرست کا کردار منظور کرلیں۔ ان کے سمدھی لالو پرساد یادو نے بھی یہ صلاح دی ہے کہ غصہ تھوک کر فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرانے کے لئے اکھلیش کو آشیرواد دیں۔ لیکن ہمیں شبہ ہے کہ ملائم اس متبادل کو چنیں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملائم سیاسی سنیاس کے لئے تیار ہیں، ایسا شاید ہی وہ کرنے کو تیار ہوں۔ آخری متبادل ملائم سنگھ الگ چناؤ لڑ کار عوام کو اپنا موقف بتائیں ۔ اگر اکھلیش گروپ سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں لے آئے تو انہی ہی اصلی سماجوادی پارٹی مانا جائے گا لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اب جب چناؤ نشان پارٹی کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے تو سب کی توجہ چناؤ پر لگ جائے گی۔ اکھلیش گروپ کا ماننا ہے کہ پورے تنازعے میں اکھلیش کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ان کا پھر اقتدار میں آنا طے ہے۔ مہا گٹھ بندھن بنانے کا امکان اس فیصلے سے بڑھ گیا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو بھاجپا ،بسپا کے لئے چنوتی بڑھ جائے گی۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...