Translater

01 دسمبر 2012

زی نیوز کے مدیروں کی گرفتاری نے کھڑے کئے کئی سوال

زی نیوز کے سینئر مدیر سدھیر چودھری اور زی بزنس کے مدیر ثمیر اہلووالیہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ کیا جمہوریت کے دو ستون اپنی اپنی حیثیت اور اختیارات کا بیجا استعمال تو نہیں کررہے ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے طویل چھان بین کے بعد یہ گرفتاریاں کی ہیں۔ کاروباری جندل گروپ کے چیئرمین و کانگریسی ایم پی نوین جندل نے الزام لگایا تھا کہ کوئلہ گھوٹالے کی کوریج دبانے کے لئے ان مدیروں نے ان کی کمپنی سے100 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی ۔ اس سے تنگ آکر جندل نے اس بات چیت کا اسٹنگ آپریشن کروالیا تھا۔ اس معاملے میں جانچ پڑتال کرنے والی پولیس ٹیم کا دعوی ہے کہ اس نے سی ڈی کی فورنسک جانچ کرا لی ہے۔ دوسری طرف زی نیوز نے جندل کے الزامات کی تردید کی ہے۔ زی نیوز کے سی ای او آلوک اگروال نے الزام لگایا کہ یوپی اے سرکارII اپنی غلطیوں کے چلتے میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ اگروال اور زی گروپ کے وکیل آر کے ہانڈو نے گرفتاری اور اس کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر چھٹی والے دن سے پہلے گرفتاری کی گئی تاکہ انہیں ضمانت نہ مل سکے۔ ہانڈو نے کہا گرفتاری اس دفعہ کے تحت کی گئی ہے جو غیر ضمانتی جرائم پر لاگو ہوتی ہے نہ کے ضمانتی کے لئے۔ آلوک اگروال کا کہنا ہے دیش کی آزادی کے بعد 65 سال میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب میڈیا پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ حال ہی میں یہ وزیر نے انڈیا ٹو ڈے گروپ کو جم کر گالیاں دی ہیں اور عدالت میں گھسیٹا ہے۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا کانگریس اور منموہن سنگھ سرکار اپنے کالے کارناموں ک و دبانے کے لئے اب میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے یا پھر الیکٹرونک چینلوں سے سودے بازی کرکے کوئی بریکنگ نیوز پر روک لگوانا چاہتی ہے؟ یہ تو کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کچھ کانگریسیوں کو تو اتنا غرور ہے کہ وہ کسی اور کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کچھ الیکٹرونک چینل والے بھی سیاسی پارٹیوں سے سودے بازی کرتے ہیں۔ہم تو یہ بھی دیکھ رہے ہیں کے زی نیوز کے دوسرے چینل ، پرنٹ میڈیا نیشنل براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن و پریس کونسل آف انڈیا ان کی حمایت نہیں کررہے ہیں کیا اس کا مطلب یہ ہے جندل کے الزامات میں دم ہے یا پھر زی چینل سے اتنی نفرت و جلن ہے؟ پریس کونسل آف انڈیا کے چیف جسٹس ایم کاٹجو نے کہا تحقیقات ہونے تک اس کا لائسنس منسوخ کردیا جانا چاہئے کیونکہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ اس شے مات کے کھیل میں فی الحال پہلا راؤنڈ نوین جندل نے جیت لیا ہے۔ دہلی پولیس نے ساری کارروائی سی ایف ایس ایل کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کی ہے۔ یہ دہلی ہے یہاں صحافی کی حیثیت کو کم کرکے دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ پولیس کو یہ بات اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ کسی گٹکھا یا اس سے متعلقہ کمپنیوں اور ان کے اخبار کے مدیر کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے وہ ایک خاص چینل کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو اپنے محافظ مدیروں کو بچانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ ویسے بھی جب پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہو اتنے بڑے میڈیا گروپ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے دس بار سوچے گی۔ گرفتار مدیروں کو اس بات کا یقین ضرور ہوگا کہ زی مالکوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کے بچاؤ میں لگے ہوئے ہیں۔ بچاؤ کی بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ زی نیوز نے اپنے بچاؤ میں کیا ثبوت پیش کئے ہیں؟ کیا زی نے جندل کے سینئر افسروں سے بات چیت کو ٹیپ نہیں کیا؟ زی والے دعوی کررہے ہیں کہ گھنٹوں کی بات چیت میں کچھ منٹوں کا ہی ٹیپ جندل گروپ نے پیش کیا ہے باقی ٹیپ کہاں ہے؟ تین چار گھنٹوں میں ہوئی بات چیت میں 12-14 منٹ کا ٹیپ نکال کر پیش کرنے سے پوری کہانی واضح نہیں ہوتی۔ پھر اتنا بھی طے ہے بات چیت میں سودے بازی دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی ہوگی۔پولیس نے ایک طرف کارروائی کیوں کی؟ کیا پھر اتنی سخت دفعات لگانا کیا ضروری تھا؟ یہ بھی سوال مناسب ہے کہ پیسے کا کوئی لین دین نہیں ہوا صرف باتیں ہی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کوئلہ گھوٹالے سے شروع گھوٹالوں کے خلاف سرکار نے اتنی پھرتی کیوں نہیں دکھائی؟ ایسے میں سرکار کی نیت پر سوال کھڑا ہونا فطری ہے۔
(انل نریندر)

کیا بیٹے کو جج باپ کے سامنے پیش ہونا چاہئے؟

سپریم کورٹ میں تو یہ روایت رہی ہے اگر کسی وکیل کا والد سپریم کورٹ میں جج ہے تو وہ وہاں سے پریکٹس چھوڑدیتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جسٹس اے ایم احمدی اور بی۔ این کھرے اس کی مثال ہیں۔ ان دونوں کے بیٹوں نے والدین کے سپریم کورٹ میں رہتے ہوئے بڑی عدالت میں آنا چھوڑدیا تھا لیکن اب بڑی عدالت میں مقرر 8 ججوں کے بچے یہاں وکالت کرتے ہیں۔ ایک جج جسٹس سے ۔ کے پرساد کے لڑکے تین ریاستوں کے اے آر آئی پینل میں ہیں۔ جن کے مقدمے ان کے والد کے سامنے پیش ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ ان مقدموں میں پیش نہیں ہوتے۔ ذرائع کے مطابق مفادات کے ٹکراؤ کے اس مسئلے سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ نے اپنے ماتحت افسر کو باقاعدہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مقدموں کو ججوں کے سامنے نہ لگائیں جن میں ان کے بچے وکیل ہیں۔ کم و بیش اس حکم کی تعمیل ہورہی ہے اور ابھی تک اس بارے میں کوئی خاص شکایت نہیں ملی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق ایک بار ایک جج کے لڑکے کے بارے میں شکایت آئی تھی کہ وہ اپنے والد کا حوالہ دیکر لوگوں کو اثر انداز کررہا ہے۔ اس شکایت پر چیف جسٹس (اب ریٹائرڈ) نے متعلقہ جج کو آگاہ کردیا۔ جس کے بعد معاملہ سلجھ گیا۔ اس بارے میں سپریم کورٹ اے او آر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ یہ وکالت غلط ہے۔ بچوں کو اس عدالت میں وکالت نہیں کرنی چاہئے جس میں ان کے والد جج ہوں۔ سپریم کورٹ کے ایک غیر سابق جج نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچوں کا سوال ہے تو فی الحال اس مسئلے پر کوئی واضح قانون نہیں ہے لیکن عدلیہ میں کرپشن کو روکنے کے لئے بنائے جارہے جج جوابدہی بل میں بھی ایسی شقیں رکھی جائیں جس میں ججوں کو اپنے لڑکوں کو باپ کے سامنے کورٹ میں وکالت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں التوا میں ہے۔ رشتے داروں کے وکالت کرنے کا مسئلے سے نمٹنے کے لئے سپریم کورٹ1997ء میں ری اسٹیٹمینٹ آف ویلیو بنائی تھی جنہیں 1999ء نے چیف جسٹس کی کانفرنس نے اتفاق رائے سے اپنایا تھا۔ اس میں شق شامل تھی کے ایسے معاملوں کی سماعت اور فیصلہ نہیں کریں گے جس میں ان کے خاندان کے قریبی دوست یا اولاد جڑے ہوئے ہیں۔ جج کا کوئی لڑکا اگر ممبر ہے تو وہ اپنے سامنے پیش نہیں ہونے دیں گے۔ میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق کورٹ کے ججوں کے بچے وکالت کررہے ہیں وہ ہیں جسٹس ڈی ۔کے جین، جسٹس سوتنترکمار، جسٹس اے۔کے پٹنائک، جسٹس اے ۔ کے رادھا کرشن، جسٹس سی۔ کے پرساد، جسٹس ٹی ۔ایس ٹھاکر، جسٹس اے۔ ایس نجرو رنجنا پرکاش ڈیسائی، جسٹس ثمیر (اب ریٹائر) شامل ہیں یہ بات تو کورٹ کی ہے لیکن نچلی عدالتوں اور ریاستوں کی عدالتوں میں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
(انل نریندر)

30 نومبر 2012

اور آخر کارحکومت کو اپوزیشن کے آگے جھکنا ہی پڑا!

یوپی اے کے سپہ سالاروں نے اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ایف بی آئی ایک ایسا اشو ثابت ہوا کہ آخر کار منموہن سرکار کو اس کے آگے جھکنا پڑا۔ اپوزیشن اتحاد اور عظم رنگ لیا۔ مسلسل چار دنوں تک پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے والی بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں کے اڑیل رویئے کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ منگل کو اتحادی پارٹیوں کی میٹنگ میں اتحاد سے مطمئن ہو جانے کے بعد کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے خوردہ بازار میں 51فیصد غیرملکی سرمایہ کاری کے فیصلے پر مہر لگانے کے لئے بحث کے ساتھ ووٹنگ کرانے کا فیصلہ لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین پر چھوڑدیا ہے۔ سرکار قاعدہ184 کے تحت لوک سبھا میں اور قاعدہ167 کے تحت راجیہ سبھا میں بحث کو تبھی تیار ہوئی جب اس کو ایسا لگنے لگاکہ ووٹنگ میں اس کے پاس درکار نمبرپورے ہوگئے ہیں۔ ڈی ایم کے پارٹی نے اپنی کڑواہٹ کو درکنار کرتے ہوئے اسے گرنے سے روکنے کا وعدہ کیا جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس ووٹنگ پر زور نہ دینے پر مان گئیں۔ یہ ہی ممتا ایف ڈی آئی سمیت کئی مسئلوں پر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں تھیں۔ سپا اور بسپا کو آخر کار سرکار کے ساتھ رہنا ہی تھا۔ بھلے ہی وہ کتنے بھی ناٹک کرلے اس لئے وزیر اعظم کا بیان کے ہمارے پاس نمبر ہیں، یہ ہی حساب کتاب بول رہا ہے۔ اب حکومت مطمئن ہوگئی ہے لیکن سرکار کو گرنے میں تو شاید کسی بھی اپوزیشن پارٹی کی خواہش نہ رہی ہو وہ تو اس مسئلے پر سنجیدہ بحث چاہتی تھی اور ووٹنگ سے پتہ چلے گا کہ کونسی پارٹی اس مسئلے پر کہاں کھڑی ہے۔ دراصل سرکار کو سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ کہیں اس کی ساتھی پارٹیاں اس کے خلاف ووٹ نہ کردیں۔ چونکہ ڈی ایم کے کھل کر سرکار کے فیصلے کی مخالفت کررہی تھی۔ بھاجپا اور لیفٹ پارٹیاں بحث کے ساتھ ساتھ ووٹنگ پر بھی اڑی تھیں۔ پارلیمنٹ کی کارروائی پوری طرح جام تھی۔ اپوزیشن اپنی بات منوا کر جیت محسوس کررہی ہے۔
بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں کا مقصد سرکار کے علاوہ اسے حمایت دینے والی ان پارٹیوں کو بھی بے نقاب کرنا ہے جو خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے پر سرکار کے خلاف آگ تو اگلتی ہیں لیکن ایوان میں اسے حمایت دینے کی دوہری چال بھی چلتی ہیں۔ بھاجپا کا نشانہ خاص کر سپا ،بسپا اور ڈی ایم کے ہے جو جنتا کے درمیان صرف باتوں کا بم پھوڑتی نظر آتی ہیں لیکن ایوان میں سرکار کی حمایت بھی کرتی ہیں۔ فلور مینجمنٹ کی ابتدائی ذمہ داری اپوزیشن سے سرکار کی ہوتی ہے اور اس کام میں وہ اس اجلاس میں کامیاب رہی۔ کیا اس حق کا استعمال نمبر جٹانے میں ہی کیا جانا چاہئے۔ ایوان چلانے کے لئے اخلاقیات اور عظم نہیں ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو سرکار پچھلے سال 7 ستمبر کو سرمائی اجلاس میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرتی۔ تب حکومت نے کہا تھا کہ ایف ڈی آئی پر آخری فیصلہ لینے سے پہلے سرکار اس ایوان کو و سیاسی پارٹیوں و دیگر اتحادیوں کو اپنے بھروسے میں لے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرکار کا پلٹی کھانا اور اس کا اڑیل رویہ پارلیمنٹ کے ٹھپ ہونے کی اہم وجہ ہے۔ دراصل یہ مغرور سرکار سمجھتی ہے کہ اسے پارلیمنٹ کی مہر کی ضرورت نہیں۔ تبھی تو وہ کہتی ہے کہ یہ فیصلہ کیبنٹ کو کرنا ہے اور کیبنٹ کے فیصلوں پر ایوان میں ووٹنگ نہیں کرائی جاتی۔ یہ عدلیہ کا اختیار ہے۔ پارلیمانی نظیر اس کی اس دلیل کو غلط مانتی ہے۔ ایم ڈی اے کے عہد میں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو بالکومیں سرمایہ کاری کے فیصلے پر ووٹنگ کرانے والے تقاضے کے تحت بحث کے ریزولوشن کی کانگریس نے بھی حمایت کی تھی۔ تب اس کے نیتا پریہ رنجن داس منشی نے کہا تھا کہ سرمایہ کاری اور نجی کرن دو الگ مسئلے ہیں۔ اگر معاہدے کے تقاضے میں شیئر51 فیصد ہے تو یہ سرمایہ کاری نہیں نجی کرن ہے۔ اس نظریئے سے ایف ڈی آئی پر ووٹنگ کے تحت پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے لیکن اقتدار میں موقف اور ہوتا ہے اور اپوزیشن میں اور۔ خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی کے مسئلے پر پہلے ہی بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں سمیت مختلف تنظیموں کے ذریعے ملک گیر تحریک چھیڑی جاچکی ہے لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔ دونوں حکمراں فریق اور اپوزیشن 2014ء کے عام چناؤ کو ذہن میں رکھ کر تانا بانا بن رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کون کتنا کامیاب ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

ساتھی کو بچانا تو دور رہا ،بدمعاشوں کو فرار ہونے کا موقعہ دیا

واردات رات میں قریب2.10 بجے کی ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل رام کرشن اپنے ساتھی سپاہی جے کے سنگھ کے ساتھ جوں ہی بارڈرپر گاڑیوں کی چیکنگ کررہا تھا اسی بیچ نائٹ پیٹرولنگ پر آئے ایس آئی خزان سنگھ اور ہیڈ کانسٹیبل وجیندر بھی وہاں پہنچ گئے۔خزان سنگھ ٹکٹ پر رجسٹر کی جانچ کرنے لگا تبھی ہریانہ کی طرف سے ایک سفید رنگ کی ہونڈا سٹی کار وہاں آئی ۔ رام کرشن نے کار کو روک کر ڈرائیور سے اس کے کاغذات کی مانگ کی۔اسی بات پر دونوں کے بیچ بحث ہونی لگی۔ اسی بیچ بدمعاشوں نے رام کرشن پر گولیاں داغ دیں۔ فائرنگ کرتے ہوئے بدمعاشوں نے کار بیک کی اور فرار ہوگئے۔ یہ واردات ایتوار کی رات کی ہے۔ موقعہ واردات کے اطراف میں کھیت واقع ہیں اس وجہ سے کار کو دوری تک دوڑانے میں کافی دقت آئی۔لیکن بدمعاشوں کے پاس اتنا وقت تھا کہ ان میں سے دو نے باہر نکل کر گاڑی کودھکا دے کر اسے باہر نکالا اور اس میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ اگر پولیس والے چاہتے تو ان بدمعاشوں کو پکڑا جاسکتا تھا۔ ان پولیس ملازمین کے پاس رائفل ،پستولیں بھی تھیں ۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ دیوالی تہوار کے درمیان بھی ہیڈ کانسٹیبل رام کرشن نے رات میں ڈیوٹی کے وقت ایسے ہی بدمعاشوں کی مقابلہ کیا تھا۔ گاڑی کی جانچ کرتے وقت بھی ایک بدمعاش نے ان پر بندوق تان دی تھی تب بھی رام کرشن نے ہمت کا ثبوت دیا جس وجہ سے بدمعاش اپنی گاڑی ہی موقعہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ اس پورے واقعہ کے پیش نظر پولیس کے سینئر افسر اپنوں کی حمایت لیتے ہوئے دلیل دے رہے ہیں کہ یہ واردات اتنے کم وقت میں ہوئی کہ وہ کچھ سمجھ نہیں پائے۔ ذرائع کی مانیں تو بھاگتے وقت بدمعاشوں کی پستول موقعہ واردات پر ہی گر گئی تھی۔ اس کے باوجود چوکی پر موجود دیگر پولیس والوں نے بدمعاشوں کو پکڑنے کی ہمت نہ دکھائی۔ ایسے میں رام کرشن کے رشتے دار موقعہ واردات پر موجود پولیس ملازمین کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ رام کرشن کے بھائی کا کہنا ہے کہ بدمعاشوں نے ان کے بھائی پر فائرنگ کی تھی لیکن کسی پولیس والے نے ان کی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ پولیس ملازمین نے بدمعاشوں کا پیچھا کرنے کی کوشش نہیں کی۔
بدمعاشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آپ کا ساتھی زخمی ہوجائے اور اس کے تین مسلح پولیس والے تماشائی بنے رہے؟ کیا دہلی پولیس ملازمین کو یہ سکھایا جاتا ہے؟ شہید رام کرشن وجے انکلیو ،نانگلوئی میں رہتا تھا ، اس کے گھر میں بیوی سنی دیوی اور دو بچے نیرج اور دھیرج ہیں۔ نیرج ایم ٹیک کا طالبعلم ہے جبکہ دھیرج انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔1982 ء میں دہلی پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوا رام کرشن بنیادی طور سے بہادر گڑھ کے یودیان گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ہم اس بہادر جوان کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ اس دن تعینات وہاں اس کے ساتھی پولیس والوں سے جواب طلب کیا جائے نہ کے ان کی جانب سے بے تکی دلیلیں سنی جائیں۔
(انل نریندر)

29 نومبر 2012

کانگریس کا چناوی ہتھکنڈہ !کیش فار ووٹ

یوپی اے سرکار نے 2014 لوک سبھا چناؤ کی تیاری زور شور سے شروع کردی ہیں۔ وہ ایک بار پرانے آزمائے ہوئے فارمولے پر کام کرنے جارہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے ووٹ پکے کرنے کے لئے غریبوں کو سیدھے پیسوں کو بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کو امید ہے کہ جب سیدھے لوگوں کے کھاتوں میں پیسہ جمع ہوگا تو سارے گھوٹالوں، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، بجلی پانی و قانون و انتظام سب کو بھول جائیں گے اور کانگریس پارٹی کو2014ء کے چناؤ میں ووٹ دیں گے۔ ایسا ممکن ہوسکتا ہے اور نہیں بھی۔ یوپی اے سرکار کی اسکیم کامیاب ہوئی تو دیش میں سبسڈی کا خاکہ 2013ء کے آخر تک بدل جائے گا لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں۔ پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سبسڈی کے نقدی منتقلی یعنی اس کا فائدہ حاصل کرنے والوں کو براہ راست نقد مالی امداد دینے کی اسکیم میں سیاسی خطرہ بھی ہے۔ وزیر مالیات پی چدمبرم نے اعلان کیا ہے15 ریاستوں کے 57 اضلاع میں کیش ٹرانسفر کا کام 1 جنوری2013 ء سے ہوگا۔ سارے دیش میں اسے اگلے سال کے آخر تک پورا کرلیا جائے گا۔ پیر کی دیر رات ساتھی وزرا کے ساتھ ہوئی ملاقات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے غریب لوگوں کے بینک کھاتے کھلوانے کی کارروائی آسان بنانے پر بھی زوردیا۔ وزیر اعظم نے اس اسکیم کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زوردیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت رسوئی گیس، مٹی تیل، طالبہ وظیفہ، منریگا مزدوری و کمزور طبقوں کو ملنے والی دیگر امداد کو نقدی شکل میں ان تک پہنچایا جائے گا۔ سرکار کی اسکیم کے مطابق آدھار کارڈ کے ذریعے اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے والوں کے بینک کھاتے کھولے جائیں گے جس میں ان کے حصے کی رقم ہر مہینے ٹرانسفر کردی جائے گی۔ اس یوجنا کے کامیاب ہونے میں کئی انتظامی مشکلیں آسکتی ہیں۔ صاف ہے یہ اسکیم کامیاب ہو اس کے لئے بیشک تکنیکی اہلیت و اعلی درجے کی انتظامی صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔ اسے بھارت کے بینکنگ نظام کے لئے ایک سخت آزمائش مانا جائے گا کیونکہ آدھار کارڈ تقسیم میں ابھی کئی دشواریاں اور مشکلیں آرہی ہیں اس لئے یہ سوال بدستور قائم ہے کہ کہیں امداد پانے والے حقدار بہت سے لوگ انتظامی ناکامیوں کے چلتے فائدے سے محروم تو نہیں ہوجائیں گے؟ پھر غذائی سبسڈی کا اشو بھی ہے۔ سبسڈی کا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی آئی سرکار کی اس معاملے میں تیزی اور ان کی طے میعاد کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس لگایا جانا فطری ہے۔ کیا اگلے چناؤ سے اس کا سیدھا تعلق ہے؟ برازیل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ نقدی سبسڈی حکمراں پارٹی کو چناوی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ بہت سی سماجی تنظیموں نے نقد پیسے کو لیکر کئی اندیشے ظاہر کئے ہیں ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے غریبوں کو نقد پیسہ دینے کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد اپنی سہولت کے حساب سے استعمال کرنا ہوگا۔ بہت سے غریب ادھاراور قرض میں دبے رہتے ہیں جیسے ہی پیسہ ان کے کھاتے میں آئے گا بقایا وصولنے والے ان کے سر پر سوار ہوجائیں گے۔ ایک دوسرا اندیشہ یہ بھی ہے کہ سبسڈی کے طور پر ملنے والی نقد رقم یا دیگر دوسری مراعات دوسرے غیر ضروری خرچوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں؟ جبکہ سرکاری مدد کے چلتے اگر ضرورتمندوں کے گھر میں اناج آتا ہے تو یہ بھروسہ انہیں ضرور رہے گا کہ جینے کے لئے اس کے خاندان کی بنیادی ضرورت پوری ہوگئی ہے۔ آدھار کارڈ کے استعمال سے سرکار نے یہ مان لیا ہے کہ غیر یقینی کے سارے راستے بند ہوجائیں گے۔مگر جہاں تمام بی پی ایل خاندانوں کی پہچان کو لیکر بہت ساری گڑ بڑیاں چل رہی ہیں وہاں اس بارے میں کم سے کم ہم تو بے حبر نہیں ہوسکتے پھر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ابھی تک دیش کی آدھی دیہی آبادی کے پاس کوئی بینک کھاتہ نہیں ہے نہ بہت سارے دیہاتی علاقوں میں بینکنگ خدمات ہیں۔ کیا محض ڈیڑھ سال میں یہ کمی دور ہوپائے گی؟
(انل نریندر)

پلاسٹک پر پابندی کتنی کارگر ثابت ہوگی؟

راجدھانی میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن دہلی حکومت نے23 اکتوبر 2012ء کو جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں پابندی کو لاگو کرنے کے لئے 30 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ جمعرات کو یہ طے میعاد ختم ہوچکی ہے اور حکومت نے بھی جمعرات سے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی پوری طرح سے لگانے کی تیاری کرلی ہے۔ اب تو نہ پلاسٹک تھیلیوں کی پیداوار ہوگی اور نہ ان کو منگایا جاسکے گا اور نہ ہی کوئی دوکاندار اور ہول سیلریاریڑھی والا سامان بیچنے کے لئے پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال و اسٹاک رکھ سکے گا۔ یہ پابندی اخباروں کے پلاسٹک کوروں اور پلاسٹک فلموں، پلاسٹک ٹیوب پر بھی عائد ہوگی۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر 1 لاکھ روپے جرمانہ و پانچ سال کی سزا ہے جبکہ میڈیکل کچرا مینجمنٹ و دیگر سامان قواعد والی دفعہ1998 کے تحت استعمال ہونے والی پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔ ایک ماہر کے مطابق فی الحال دہلی میں پلاسٹک بیگ بنانے کے قریب400 کارخانے چل رہے ہیں۔ ان کا سالانہ کاروبار 800 کروڑ روپے سے لیکر 1000 کروڑ روپے تک کا ہے۔ دہلی سرکار نے بیشک پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی لگادی ہے۔اسے لاگو کرنا اتنا آسان نہیں۔ ماہرین کی مانیں تو سرکار کے پاس جہاں پلاسٹک کی پیداوار ہورہی ہے فیکٹریوں کا پورا ریکارڈ نہیں ہے وہیں بذریعہ ٹرین، جہاز، بس اور دوسری ریاستوں سے آرہی پلاسٹک پر بھی اس کا زیادہ زور نہیں چلے گا۔ 
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ منظم سیکٹر میں پلاسٹک کی پیداوار و اس کو سپلائی کرنے والے قریب 150 کارخانے ہیں جبکہ اس سے 10 گنا زیادہ غیر منظم سیکٹر میں بنتی ہیں۔ وہیں دوسری رپورٹ کے مطابق حضرت نظام الدین ، نئی دہلی و دہلی ریلوے اسٹیشن سے روزانہ قریب 7 ہزار کلو گرام ، وہیں انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے 3370 کلو پلاسٹک کچرا آتا ہے۔ زیادہ تر پلاسٹک کی پیداوار غیر منظم سیکٹر کی فیکٹریوں میں ہوتی ہے۔ یہاں سرکار کے پاس اس پر لگام لگانے کی کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تین برس پہلے 40 مائیکرون سے پتلی پلاسٹک پر لگائی گئی پابندی کارگر نہیں ہوسکی۔ دوبارہ اڑچن یہیں کھڑی ہوگی۔ جہاں ہم پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دہلی کو بڑھتی آلودگی سے بچانے کے لئے ٹھوس قدم مانتے ہیں وہیں حقیقت یہ بھی ہے پلاسٹک پر لگی پابندی پر عمل کر پانا آسان نہیں ہے۔ یہ روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے جس کا سستا متبادل بھی بازار میں نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرکار کے پہلے فیصلے کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ پابندی کو کارگر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے پہلے سرکار کو بازار میں اس کا متبادل لانا ہوگا۔ پلاسٹک سے متعلق قاعدے قانون صاف ہیں کہ جوٹ غیرہ سے بنائی گئی تھیلیاں پلاسٹک تھیلیوں کی متبادل ہوسکتی ہیں۔ کورٹ نے پہلے ہی حکم دے رکھا ہے کہ کمپوزٹ بیگ کی پیدوار کو فروغ دینے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دینی چاہئے ساتھ ساتھ پلاسٹک تھیلیوں کا متبادل بھی جلد مارکیٹ میں لانا ہوگا۔ سبھی چاہتے ہیں کہ ان پلاسٹک تھیلیوں سے چھٹکارہ ملے۔
(انل نریندر)

28 نومبر 2012

رام جیٹھ ملانی، یشونت سنہا کے بعد اب شتروگھن سنہا!

بھاجپا پردھان نتن گڈکری کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں ایک طرف جہاں پارٹی میں ان کے استعفے کی مانگ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے وہیں دوسری طرف پورتی کمپنی کو لیکر نئے انکشافات سے پارٹی بیک فٹ پر آگئی ہے۔ گڈکری کی کمپنی میں سرمایہ لگانے والی کمپنیوں میں اپنے خاندان کے افراد کے شامل ہونے کی خبر کے بعد پارٹی نے پہلے کی طرح ان کا بچاؤ نہیں کیا۔ پورتی میں پیسہ لگانے والی کمپنیوں کے انکشاف سے آر ایس ایس وچارک اور اکاؤنٹنٹ ایس گورو مورتی کی نتن گڈکری کو دی گئی کلین چٹ پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ میڈیا میں آئی خبروں میں بتایا گیا ہے پورتی میں سرمایہ کرنے والی 18 میں سے6 کمپنیاں نتن گڈکری خاندان کے لوگوں کی ہیں۔ گورو مورتی نے بھاجپا لیڈروں کو بتایا تھا کہ18 کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کا سارا گول مال کاروباری منیش مہتہ نے کیا ہے۔ لیکن ان خلاصوں کے بعد وہ غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ بھاجپا پردھان کے طور پر نتن گڈکری کی میعاد اگلے میں (دسمبر ) میں ختم ہورہی ہے۔ رام جیٹھ ملانی اور یشونت سنہا کی کھلی بغاوت کے بعد اب شتروگھن سنہا بھی ان کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں۔ نتن گڈکری کے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں میں اب بہاری بابو ’’شتروگھن سنہا ‘‘ کا نام بھی جڑ گیا ہے۔ انہوں نے پٹنہ میں جیٹھ ملانی اور یشونت سنہا کی طرف سے گڈکری کے استعفیٰ کے مطالبے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عہدے پر بیٹھے لوگوں کو نہ صرف ایماندار ہونا چاہئے بلکہ صاف بھی دکھنا چاہئے ۔ اگلے ہی دن شتروگھن سنہا نے پٹنہ میں کہا کہ لال کرشن اڈوانی وزیر اعظم کے عہدے کے سب سے اہل امیدوارہیں۔ انہوں نے کہا اڈوانی اٹل بہاری واجپئی کی طرح اندھیری سرنگ میں روشنی کی لکیر ہیں۔ بہاری بابو نے کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمار بھی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے اچھے امیدوار ہیں لیکن امیدوار کا انتخاب نمبر کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ شترو کا کہنا ہے کہ انہیں کسی ڈسپلن شکنی کارروائی کا ڈر نہیں ہے۔ کہا میں اب سینئر ہوگیا ہوں۔ میں نے کبھی مریادا کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ سچ بولنے پر سزا نہیں ہوتی۔ بھاجپا میں اڈوانی ، یشونت سنہا، رام جیٹھ ملانی، سشما سوراج، ارون جیٹلی، نریندر مودی جیسے کئی لیڈر ہیں لیکن اڈوانی سب سے بہتر ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے وہ سب سے زیادہ اچھی ساکھ والے ہیں اور وزیراعظم عہدے کے لئے سب سے بہتر امیدوار مانتے ہیں۔ پارٹی کے لئے بہتر رہے گا کہ 2014ء کے عام چناؤ سے پہلے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا اعلان کردیں۔ شتروگھن سنہا نے ایک طرف اشو پر پارٹی لائن سے ہٹ کر موقف اپنایا ہے ۔ سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کی تقرری کو لیکر بھاجپا اعلی کمان کے موقف کے خلاف کھلی بغاوت کردی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی، لوک سبھا میں اپوزشن کی لیڈر سشما سوراج نے نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری پر اعتراض ظاہرکیا تھا اب شتروگھن سنہا کا کہنا ہے رنجیت سنہا بیحد اہل افسر ہیں اس لئے ان کی تقرری جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے رنجیت سنہا 1974 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں اور وہ بالکل اس عہدے کے لائق ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری سی وی سی کی سفارش پر ہوئی ہے۔ یہ بالکل صحیح قدم ہے اس لئے اس کی مخالفت غلط ہے۔شتروگھن سنہا کے پہلے سے قریب رہے تینوں سنہا کا یہ تجزیہ بہار کے سلسلے میں ذات پات کے جوڑ توڑ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر رنجیت سنہا بہار کیڈر کے ہیں اس لئے ہر بہاری نیتا کھل کر بھلے ہی ان کی حمایت نہ کرے لیکن کھل کر مخالفت بھی نہیں کریں گے۔ وزیر اعلی نتیش کمار بھی شخصی بات چیت میں بہار کیڈر کے افسر کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنانے کے حمایتی ہیں۔ لیکن جو بات ہم نے شروع کی تھی پردھان نتن گڈکری کے خلاف پارٹی میں بڑھ رہی بغاوت کی ۔ اب اتنا تو طے لگتا ہے کہ آر ایس ایس چاہے جتنا زور لگا لے وہ نتن گڈکری کو دوسری میعاد نہیں دلوا سکتی۔ اب جبکہ ان کے عہد میں کچھ ہی دن باقی بچے ہیں ہم سمجھتے ہیں نتن گڈکری کو اپنی مرضی سے بیان دے دینا چاہئے کہ وہ دوسری میعاد کے لئے پارٹی کے صدر کے طور پر دوبارہ نہیں کھڑے ہوں گے اور وہ اپنی مرضی سے خود ہٹ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا نتن گڈکری ایسا کریں گے یا یوں کہیں انہیں ایسا کرنے دیا جائے گا؟ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...