Translater
26 جون 2024
کون ہوگا بھاجپا کا نیا صدر؟
پی ایم مودی نے اپنی نئی کیبنیٹ میں بھاجپا کے قومی صدر جے پی نڈا کو بھی جگہ دی ہے ۔وزیر بنائے جانے کے بعد اب بھاجپا کے نئے صدر کی تلاش تیز ہوگئی ہے ۔بطور صدر نڈا کی میعاد اسی سال جنوری میں ختم ہو چکی ہے ۔پھر بھی لوک سبھا چنا و¿ تک ان کے عہدے میں توسیع کر دی گئی تھی جو اب چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے ا س درمیان میڈیا میں خبر ا ٓئی کہ اس سال چار ریاستوں مہاراشٹر ،جھارکھنڈ ،ہریانہ و جموںکشمیر اسمبلی چناو¿ تک جے پی نڈا صدر بنے رہ سکتے ہیں ۔مودی جی اور امت شاہ چاہتے ہیں کہ نیا بھاجپا صدر ان کی پسند کا ہو لیکن آر ا یس ایس کو شاید یہ قبول نہ ہو ۔آر ا یس ایس نے لگتا ہے کہ فیصلہ کر دیا ہے کہ بھاجپا کا نیا صدر ان کی رضامندی سے بنے ۔وہ نہیں چاہتا کہ مودی شاہ اپنی مرضی سے فیصلہ تھوپیں ۔دراصل سنگھ کے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ کر لیاہے کہ پارٹی کو مودی شاہ کی جوڑی سے دور رکھا جائے ۔مودی شاہ اپنی سرکار چلائیں اور پارٹی سنگھ کے اشارے پر چلے ۔یہ ایک رائے ہے ۔وہ مودی شاہ کی جوڑی کی سرکار اور پارٹی د ونوں پر مکمل کنٹرو ل نہیں چاہتی کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ بھاجپا اس ڈھنگ سے کام نہیں کررہی ہے جیسے انہیں کرنا چاہیے ۔ویسے پچھلے دنوں مودی شاہ کے اشارے پر جے پی نڈا نے سنگھ کو صاف اشارہ دے دیا تھا کہ اب بھاجپا کو سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔واجپائی کے ٹائم پر بھاجپا کمزور تھی اور اسے سنگھ کی ضرورت تھی لیکن اب بھاجپا بہت بڑی پارٹی بن گئی ہے اور ا نہیں سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔سنگھ اپنے تہذیبی پروگرام چلائے ۔بھاجپا صدر کے چناو¿ کی کاروائی میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے کیوں کہ پارٹی انجمن چناو¿ بھی جلد ہوں گے جن کے پورا ہونے میں وقت لگ سکتا ہے ایسے میں ممکن ہے کہ مرکزی پارلیمانی بورڈ تب تک نڈا کو صدر بنائے رکھ کر نگراں صدر کی تقرری کر سکتاہے ۔دونوں ہی حالات میںآر ایس ایس کا رول اہم ہے ۔سنگھ سیدھے طور پر بھاجپا کے کام میں دخل نہیں دیتی لیکن سنگھ کی ایک سسٹر انجمن ہونے کے ناطے بھاجپا انجمن کا تانا بانا سنگھ ہی بنتا ہے ۔سنگھ سے آئے مکمل پرچارک بھاجپا میں تنظیم کے جنرل سیکریٹریوں کا رول نبھاتے ہیں ۔چاہے وہ مرکزی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر مرکزکی چناوی سطح کوئی بھی کرلے لیکن تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی سنگھ ہی رہتا ہے ۔حال کے چناو¿ میںبھاجپا اور سنگھ کے درمیان تال میل کی کمی سامنے آئی ہے ۔اب سنگھ کی کیرل میں ہونے والی تال میل کی میٹنگ میں جب بھاجپا صدر بھی حصہ لینے جائیں گے تب آگے کا مشورہ ہو سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق سنگھ بھاجپا کے صدر کی شکل میں ایسے شخص کو پسند کر سکتا ہے جو سنگھ پریوار سے ہو بلکہ تنظیم کو لیکر چوکس اور ورکروں کو ایک ساتھ جوڑ کر چلنے والا ہو ۔سنگھ نہیں چاہتا کہ تنظیم کا مکھیہ سرکار کا پچھل پنگو لگے ۔ابھی کسی ایک کا نام پر غور شروع نہٰیں ہوا ہے ۔حالانکہ بحث میں کئی نام ہیں حالانکہ ابھی کسی کے نام پر غورنہیں ہوا ہے وہ بھی رہیں گے لیکن فیصلہ کس پر ہوگا اسے لیکر سنگھ اور بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ کے درمیان ابھی تبادلہ خیال ہونا باقی ہے ۔
(انل نریندر)
25 جون 2024
8پارلیمانی حلقوں میں ای وی ا یم کی جانچ ہوگی!
الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کو لیکر کھینچ تان جاری ہے ۔چناو¿ نتائج پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ای وی ایم میں گڑ بڑی کی شکایت کرتے ہوئے سینٹرل چناو¿ کمیشن سے جانچ کی مانگ کی گئی ۔کمیشن نے 1 جون 2024 کو جاری ایس او پی کے تحت ملی کل 11 شکایات ناموں کا نوٹس لیتے ہوئے 6ر یاستوں میں 8 پارلیمانی سیٹوں کی 92 پولنگ اسٹیشنوں جبکہ آندھرا پردیش ،اڈیشہ ریاستی اسمبلی کی کل 3 سیٹوں کے 26 پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم کی جانچ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ،تلنگانہ ،تملناڈو،مہاراشٹر میں 3 لوک سبھا سیٹوں کے 66 پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم کی شکایت بھاجپا نے کی تھی ۔لوک سبھا چناو¿ میں ہریانہ کے کرنال ،فرید آباد سیٹ سے بھاجپا نے جیت درج کی تھی ۔کرنال سیٹ پر جیت درج کر منوہر لال کھٹر وزیر بن گئے ۔جبکہ فرید آباد سے جیتے کرشن پال گوجر کو مرکزی مملکت وزیر بنایا گیا ۔ادھر آندھرا پردیش اور اڈیشہ کی تین ا سمبلی سیٹ کے لئے بھی ای وی ایم ویری فکیشن کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ہریانہ کی دونوں سیٹوں پر ای وی ایم ویریفکیشن کے لئے کانگریس کی طرف سے درخواست دی گئی ہے ۔کرنال لوک سبھا سیٹ کے 4 پولنگ مراکز جبکہ فرید آباد کے بڈکل پولنگ اسٹیشن پر ای وی ایم جانچ کے لئے درخواست دی گئی ہے ۔دونوں سیٹ پر کانگریس امیدواروں کی طرف سے شکایتیں کی گئی ہیں ۔تملناڈو کی دو سیٹوں پر بھاجپا اور ڈی ایم کے امیدوار نے ای وی ایم کی ویریفکیشن کے لئے درخواست دی ہے ۔اس کے علاوہ مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،آندھرا پردیش ،تلنگانہ کی ایک ایک سیٹ پر درخواست ملی ہے ۔چھتیس گڑھ کی کانکیر مہاراشٹر کے احمد نگر ،تلنگانہ کے ظہیر آباد،اور آندھرا پردیش کے وجے نگر سیٹ کے پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم ویریفکیشن کے لئے درخواست دی گئی ہے ۔لوک سبھا کل 8 میں سے بھاجپا کو 3 سیٹ پر اور کانگریس کو 2 سیٹ پر جیت ملی ہے ۔تین سیٹیں دوسری سیاسی پارٹیوں کے کھاتے میں گئی ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق 6 ریاستوں کی 8 پارلیمانی سیٹوں کے لئے ای وی ایم جانچ کی مانگ کی گئی ہے ۔چناو¿ کمیشن کی طرف سے ایک جون کوجاری ایس اوپی کے مطابق دوسرے اور تیسرے مقام پر آنے والے امیدوار کو ای وی ایم کے لئے 47200 روپے ادا کرنی ہوگی ۔متعلقہ او سی پی کے مطابق ای وی ایم بنانے والی کمپنیاں بھارت الیکٹرانک لمیٹڈ اور الیکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا لمٹڈ اور الیکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا لمٹڈ نے چالیس ہزار روپے اور اٹھارہ فیصدی جی ایس ٹی کی رقم طے کی ہے ۔اب چناو¿ عرضی کے اسٹیٹش کی تصدیق کی بنیا د پر ای وی ایم بنانے والے ایس او پی کی تعمیل کا پروگرام جاری کر چار ہفتہ کے اندر ای وی ا یم کی جانچ شروع کرائی جائے گی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کاروائی پہلی بار شاید ہو رہی ہے دیکھیں جانچ میں کیا نکلتا ہے ۔
(انل نریندر)
سینکڑوں حاجیوں کی دردناک موت!
سعودی عرب میں دوران حج سینکڑوں حاجیوں کی موت کا تکلیف دہ واقعہ سامنے آیا ہے ان میں زیادہ تر لوگوں کی موت کاسبب شدید گرمی بتایاجاتاہے چونکہ لوگوں کو 52-53 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک عرب سفیر کے حوالے سے بتایا کہ دوران حج مصر کے 658 لوگوں کی موت ہوئی وہیں انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ اس کے 200 سے زیادہ شہریوں کی موت ہوئی ہے ۔وہیں بھارت نے 98 لوگوں کے مرنے کی جانکاری دی ہے اس کے علاوہ پاکستان ،ملیشیا ،اردن ،ایران ،سینیگال ،سوڈان ،عراق کے قردستان نے بھی اپنے شہریوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔برطانیہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کا خیال ہے کہ حج سفر کے دوران کئی امریکی بھی مارے گئے ہیں ۔حج مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے یہ اسلام کی پانچ فرائض میں سے ایک ہے یہ جسمانی اور اقتصادی طور سے مضبوط ہر مسلمان کے لئے فرض ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر سال ایک طے وقت پر دنیا بھر سے مسلم ممالک کے لاکھوں مرد اور عورتیں حج کرنے کے لئے سعودی عرب کے شہر مکہ میں جمع ہوتے ہیں ۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس سال قریب 18 لاکھ لوگوں نے فریضہ حج ادا کیا ہے ۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں آدھے سے زیادہ لوگوں نے اپنے سفر کا رجسٹریشن تک نہیں کرایا تھا جس کی وجہ سے انہیں ایئر کنڈیشن ٹینٹ اور بسوں جیسی سہولت نہیں مل پائی ۔سعودی عرب نے حج کے دوران ہوئی اموات پر ابھی تک کوئی رائے زنی نہیں کی ہے ۔اب بات کرتے ہیں ان اسباب کی جس کی وجہ سے عازمین حج کی اتنی تعداد میں موت ہوئی ۔ماناجارہا ہے کہ اس بار سعودی میں بہت زیادہ گرمی پڑ رہی ہے ۔وہاںچل رہی ہیٹ ویوو اتنی گرم تھی کہ بڑی تعداد میں حاجیوں کی موت ہوئی ۔حاجیوں کو زیادہ گرمی کے علاوہ جسمانی مشقت کرنی پڑتی ہے ۔بڑی بڑی کھلی جگہوں پر رکنا پڑتا ہے جس کے سبب گرمی زیادہ لگتی ہے ۔ہم حاجیوں میں کئی بزرگ اور بیمار بھی ہوتے ہیں ۔کئی رپورٹیں ایسی بھی آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام کی بد انتظامی نے حالات مزید خراب کر دئیے ۔رہنے کا انتظام ٹھیک نہیں تھا خیموں میں ضرورت سے زیادہ لوگوں کو رکھا گیا ۔گرمی سے بچنے کے لئے ٹھیک انتظام نہیں تھے ۔38 سالہ امینہ پاکستان میں اسلام آباد کی باشندہ ہیں کا کہنا ہے کہ مکہ میں جن خیموں میں ہم رکے تھے وہ ایئر کنڈیشن نہیں تھے ۔جو کولر وہاں تھے ا ن میں زیادہ تر میں پانی نہیں ہوتا تھا ۔شکایت کرنے پر حکام سنتے نہیں تھے ۔ایک پرائیویٹ گروپ کے ذریعے حج سفر کا انعقاد کرنے والے محمد چاچا نے بی بی سی کو بتایا کہ گرمیوں کے دوران ایک عام حج مسافر کو جن میں قریب 13 کلو میٹر پیدل چلنا پڑتا ہے اس کی وجہ سے انہیں لو لگنے ،تھکان اور پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہر سال حج کے دوران ہونے والی اموات کے لئے یہ وجہ بھی ہوتی ہے کہ زندگی بھر کی بچت کے بعد اپنی زندگی کے آخری وقت پر وہ حج پر جاتے ہیں ۔کئی مسلمان اس امید میں بھی مکہ جاتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے ان کی مو ت ہو تو حج کے دوران ہو کیوں کہ مقدس شہر میں مرنا ،وہاں دفن ہونا کسی دعاسے کم نہیں مانا جاتا ۔ایسے میں مرنے والوں کی پہچان اور ا نہیں دفن کرنے جیسے معاملے کا سعودی عرب سرکار خرچ اٹھاتی ہے ۔
(انل نریندر)
22 جون 2024
تھینک یو پردھان منتری جی !
مہاوکاس اگھاڑی کے نیتاو¿ں کی سنیچر کو ممبئی میں میٹنگ ہوئی اس میں لوک سبھا چناو¿ میں ملی کامیابی اور آنے والے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔اس دوران پارٹی نیتاو¿ں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ ہم ایم وی اے کے واسطے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کاشکریہ اداکرتے ہیں ۔حال ہی میں ہوئے لوک سبھا چناو¿ میں کانگریس نے 13 سیٹیں جیتی تھی جو 2019 میں ریاست میں جیتی گئیں محض 1 سیٹ سے کافی بڑی چھلانگ ہے ۔جبکہ شیو سینا ،ادھوٹھاکرے کو 9 ، این سی پی شردپوار کو 8 سیٹیں ملیں ۔یو وی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے سنیچر کہا کہ یہ صرف شروعات ہے ۔اپوزیشن اتحاد نے آنے والے اسمبلی چناو¿ کو بھی جیتنے کا تحیہ کر لیا ہے ۔این وی اے میں شیو سینا ادھو ٹھاکرے اور کانگریس اور این سی پی شامل ہیں ۔تینوں پارٹیوں نے اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کیلئے حکمت عملی بنانے کے لئے یہ میٹنگ کی تھی ۔ادھو نے ممبئی میں ایم وی اے کی اتحادی پارٹیوں کے نیتاو¿ں شردپوار اور کانگریس اور پرتھوی راج چوہان کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ادھو ٹھاکرے نے ان قیاس آرائیوں کو سرے سے مسترد کر دیا کہ وہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے میں واپس جا سکتے ہیں ۔ادھو نے پوچھا کہ مان لیجئے کہ میں پالا بدلنے کا پلان بنا رہا ہوں تو کیا میں ان لوگوں شردپوار چوہان کیساتھ بیٹھ کر اس کا اعلان کروں گا؟ ٹھاکرے اور شردپوار نے اپنی اپنی پارٹی کے باغی نیتاو¿ں کو واپس لینے کے امکان سے انکار کیا ہے ۔جون 2022 میں ایکناتھ شندھے کی بغاوت کے بعد شیو سینا تقسیم ہو گئی تھی جو مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بنے جبکہ پچھلے سال جولائی میں اجیت پوار کے 8 ممبر اسمبلی کیساتھ ریاستی حکومت میں شامل ہونے کے بعد این سی پی 2 گروپوں میں بٹ گئی ۔لو ک سبھا چناو¿ میں ایم وی اے کی اچھی پرفارمنس کے بعد ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ حریف گروپ کے کچھ لیڈر واپس لوٹنا چاہتے ہیں ۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے دکھا دیا کہ بھاجپا کے جیتنے کا ایک دعویٰ کتنا کھوکھلا ہے ۔انہوں نے کہا یہاں مہاوکاس اگھاڑی کے لئے لوک سبھا چناو¿ کی جیت آخری نہیں ہے بلکہ یہ شروعات ہے ۔مرکزی سرکار اب این ڈی اے سرکار ہے ۔اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کتنے دن تک چلتی ہے ۔انہوں نے کہا بھاجپا نے این ڈی اے کو غیر فطری اتحاد بتا کر مزاق اڑایا تھا ۔انہوں نے پوچھا کہ مرکز میں اتحادی کو اب کیا کہیں گے ۔انہوں نے کہا دیش بھگت لوگوں نے اپوزیشن اتحاد کو ووٹ دیا ہے اس میں مسلمان ،مراٹھی زبان بولنے دونوں شامل تھے ۔اترپردیش میں بھاجپا کی ہار پر ٹھاکرے نے کہا کہ لوک سبھاچناو¿ نتائج نے بھگوان رام کو بھاجپا مکت بنا دیا ۔ٹھاکرے سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پچھلی تقریروں کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے ٹی ڈی پی چیف چندر بابو نائیڈو اور جے ڈی یو لیڈر نیتش کمار کیساتھ اتحاد کے کسی امکان سے انکار کیا تھا ۔دونوں ہی اب نریندر مودی سرکار کی حمایت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا ایک طرف ہماری سیٹیں بڑھی ہیں وہیں بھاجپا جس کی پچھلے چناو¿ میں تعداد 23 تھی وہ گھٹ کر 2024 میں 9 رہ گئی ہے۔
(انل نریندر)
پہلی بار چناوی سیاست میں قدم رکھیں گی !
کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا کیرل کی وائناڈ لوک سبھا سیٹ سے چناو¿ لڑیں گی یہ پہلی بار ہے جب پرینکا گاندھی سیدھے طور پر چناوی دنگل میں اترنے جارہی ہیں ۔گاندھی نہرو پریوار کی چوتھی پیڑی کی ممبر پرینکا اب تک کانگریس کے لئے سرگرم طور سے چناو¿ کمپین چلاتی رہی ہیں حالانکہ 2019 میں ان کے سرگرم سیاست میں داخل ہونے کے بعد سے ہی بنارس میں وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے چناوی میدان میں اترنے کی چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی تھیں لوک سبھاچناو¿ میں راہل گاندھی وائناڈ اور رائے بریلی دونوں سیٹ سے کامیاب ہوئے تھے اس کے بعد انہوں نے وائناڈسیٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے اب پرینکا کو چناوی میدان میں اتارنے کا فیصلہ لیا ہے ۔حالانکہ اس بار 52 سالہ پرینکا کو امیٹھی سیٹ سے اتارنے کی زور شور سے بحث چلی تھی جو گاندھی پریوار کی اپنی روایتی سیٹ ہے لیکن آخری وقت میں گاندھی پریوار کے بھروسہ مند کشوری لال شرما کو امیٹھی سے کانگریس کا امیدوار بنایا گیا ۔انہوں نے مرکزی وزیر شریمتی اسمرتی ایرانی کا زبردست شکست دی ۔وائناڈ سے امیدوار بنائے جانے کے بعد پرینکا نے کہا کہ میں بالکل نروس نہیں ہوں میں وائناڈ کی نمائندگی کرنے میں پوری طرح اہل ہوں اور بہت خوش ہوں میں بس اتنا کہوں گی کہ وائناڈ کے لوگوں کو راہل گاندھی کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گی ۔پرینکا کو چناوی میدان میںاتارنے کے پیچھے کانگریس کی سوچی سمجھی حکومت عملی ہے ۔مانا جارہا ہے پارٹی کے سینئر لیڈروں نے کہا ہے کہ جب راہل گاندھی رائے بریلی سے کاغذات داخل کئے تھے تبھی طے ہو گیا تھا اگر راہل گاندھی دونوں سیٹوں پر کامیاب ہوتے ہیں تو پرینکا وائناڈ سے لڑیں گی ۔اس کے پیچھے دو اہم وجہ ہیں ۔راہل گاندھی اگر رائے بریلی سیٹ چھوڑتے ہیں تو ابھی اس ریاست سے بہتر پیغام نہیں جاتا جہاں سے پارٹی نے ابھی اچھی پرفارمنس دی ہے ۔ساتھ ہی پارٹی اس ریاست کو نہیں چھوڑنا چاہتی جہاں 2019 اور 2024 میں دونوں جگہوں پر پارٹی کے لوگوں کی حمایت ملی ۔پارٹی کو لگتا ہے کہ وہاں اگلے دو سال میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے ۔ساتھ ہی جنوب میں حال ہی میں کانگریس کا مضبوط گڑھ ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کے سیٹ چھوڑنے کے بعد پارٹی کے پاس گاندھی خاندان سے ہی کوئی امیدوار دینا سیاسی مجبوری تھی ۔پچھلے کچھ برسوں سے کانگریس میں جنرل سیکریٹری کی شکل میں کام کررہیں پرینکا گاندھی پارٹی کی اسٹار پرچارک بنی ہیں ۔ان کی ریلیوں کی مانگ ریاستون میں تیزی سے بڑھنے لگی ہے ۔تلنگانہ ،ہماچل پردیش اور کرناٹک میں ان کی جارحانہ کمپین کا فائدہ کانگریس کو ملا ہے ۔تبھی پارٹی نے مانا کہ نہ صرف پرینکا گاندھی عام لوگوںسے جڑ رہی ہیں بلکہ ان کی کمپین کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خاطر ووٹوں سے بہتر طریقے سے بات چیت کر لیتی ہے وہ فطری طریقے سے ان کے من کا حال جانتی ہیں۔پرینکا گاندھی پارٹی کے اندر کرائسس منجمنٹ کو سنبھالنے والی بھی بنیں اور کئی موقعوں پر انہوں نے مداخلت کر کئی معاملوں کو ٹھیک کیا ہے ۔حالانکہ 2022 میں پرینکا کو اترپردیش میں پارٹی کی ذمہ داری ملی تھی لیکن تب پارٹی کچھ خاص نہیں کر پائی تھی ۔پارٹی نے کہا اس وقت کی زمینی تیاری کا فائدہ اب مل رہا ہے ۔راہل اب خاص کر ہندو بیلٹ میں پارٹی کو مضبوط کریں گے تو وہیں پرینکا ساو¿تھ اندیا میں پارٹی کا مینڈیٹ بڑھانے کی کوشش کریں گی ۔ویسے پرینکاکو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ بی جے پی انہیں ہرانے کے لئے پوری طاقت جھونک دے گی ۔
(انل نریندر)
20 جون 2024
مودی کی جیت کا فرق انتا کم کیوں ہوا ؟
بنارس میں نریندر مودی کی جیت کا فرق محض 1 لاکھ 52 ہزار تک سمٹ جانے کا تذکرہ نہیں ہو رہا ہے مودی کی جیت کا اتنا فرق کم تب رہا جب درجن بھر مرکزی وزرا نے بنارس میں ڈیرا ڈالا ہوا تھا ۔2019 میں مودی بنارس سے 4 لاکھ 80 ہزار ووٹوں سے جیتے تھے ۔کئی لوگوں کا خیال ہے کے اس بار اگر کانگریس ،سپا بنارس میں زیادہ سنجیدگی سے چناﺅ لڑتی تو مودی کو ہرایا جا سکتا تھا ۔راہل گاندھی نے بھی رائے بریلی میں کہا کے اگر وہ مودی کے خلاف میری بہن پرینکا گاندھی کو کھڑا کرتے تو وہ چناﺅ میں 2-3 لاکھ کے فرق سے کامیاب ہو جاتیں یعنی کانگریس بھی اس بات کو مان رہی ہے ۔اس نے بنارس میں مودی کے قد کے مقابلے میں مضبوط امیدوار نہیں اتارا تھا ۔پچھلے کئی بار سے کانگریس امیدوار اجے رائے چناﺅ ہار رہے تھے اس لئے کانگریس نے اس بار بھی انہیں کو اتارا تھا ۔بنارس کے اس گنگا گھاٹ کی سیڑھیوں پر جیسے جیسے چھایا رہتی ہے ویسے ویسے آس پاس کے ملاح اپنے اپنے گھروں سے نکل کر سیڑھیوں پر پیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کے لوگ آئیں گے اور کشتی سے گنگا ندھی کی سیر کریں گے ۔شام ڈھلنے کے ساتھ گوری شنکر نشات کی مایوسی اور بڑھنے لگتی ہے کہوں کے کوئی کمائی نہیں ہوئی اور انہیں فکر ستاتی ہے کے آج گھر کا راشن پانی کہا سے آئے گا اب گنگا ندھی میں یہ کروز چلوا رہے ہیں آن لائن بکنگ ہو رہی ہے سرکار کو ٹیکس مل رہا ہے ۔ہم بھوکے مر رہے ہیں بات صرف کروز کی نہیں ہے ۔بابا وشنوناتھ مندر تک کوری دور بنایا گیا ہم لوگ منی کنکنا گھاٹ پر اپنی دکان لگاکر مچھلی بیچتے تھے کوری ڈور بننے سے دکانیں ہٹا دی گئیں اور کہا گیا تھا سب کو ایک ایک دکان ملیں گی جب دکان بن گئی تو ہم سے کہا گیا کے ایک دکان کے لئے 25 لاکھ دینے ہوں گے ۔اتنے پیسے کہا سے لاتے بن کر بھی کھل کر مودی کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہیں ۔لکشمی شنکر راج بھر پہلے پاوور روم مشین سے بنارسی ساڑھی بناتے تھے لیکن اب وہ 5 برسوں سے رکشہ چلا رہے ہیں ۔غریبی اور تابڑ توڑمحنت کے سبب راج بھر کہتے ہیں بنارسی ساڑھی اب سورت میں بن رہی ہے وہیں سے بن کر بنارس آتی ہے یہاں کے کاری گر بیروز گار ہو گئے ہیں۔ہمارا ہنر جنگ کھا رہا ہے اور بنارسی ساڑھی کبھی برانڈ کی شکل میں جانی جاتی تھی مگر اب اسے گجراتیوں نے چھین لیا ہے ۔بنارس میں نریندر مودی کی جیت کا فرق کم ہونے کے سوال پر بنارس کے لوگ کہتے ہیں روڈ اور کوری ڈور پیٹ نہیں بھریگا روزگار کہا ہے؟ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے ہر مہینے پیپر لیک ہو رہے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کے شہر کا وکاس کا کام بھی پوری طرح سے گجراتیوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے ۔مودی کو بی جے پی والوں نے ہی کم ووٹ سے جیتنے میں رول ادا کیا ہے ۔جن 300 گھروں کو توڑا جائے گا ان میں 99 فیصد ان کے ہیں جو لوگ مودی مودی کہتے رہتے ہیں ۔اعداد شمار سے صاف ہے 2024 میں مودی کے خلاف بنارس میں اپوزیشن ووٹ بلکل تقسیم نہیں ہوا اس کا اسر مودی کی جیت میں فرق کم رہا بنارس میں 5 اسمبلی حلقہ ہیں روہیاں بنارس ناتھ ،ساﺅتھ وارانسی چھاﺅنی اور سیوا پوری آتے ہیں ان اسمبلی حلقوں میں 2019 کے مقابلے میں مودی کا ووٹ گھٹا ہے اجے رائے کو ووٹ بڑھا ہے ۔اس بار اپوزیشن ووٹ متحد ہوکر کانگریس امیدوار اجے رائے کے ساتھ آہستہ آہستہ آرہا ہے جس کا سیدھا اثر مودی کی جیت کے فرق پر پڑا ہے ۔
(انل نریندر)
اسپیکر کے عہدے کو لیکر سیاسی سرگرمیاںتیز ہوئیں!
لوک سبھا اسپیکر کے چناﺅ کو لیکر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں ہیں ۔مانا جا رہا ہے کے تیلگو دیشم اسپیکر کا عہدہ چاہتی ہیں این ڈی اے میں شامل جے ڈی یو نے اسپیکر کے عہدے کے لئے بھاجپا امیدوار کی ہمایت کی بات کہی ہے ۔وہیں شیو سینا ادھوٹھاکرے کے نیتا سنجے روات نے اتوار کو کہا کے اگر حکمرا اتحاد میں شامل تیلگودیشم پارٹی لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کے لئے امیدوا ر کھڑا کرتی ہے تو اپوزیشن اتحاد انڈیا کے سبھی ساتھی ان کی حمایت یقینی کرنے کے کوشش کریں گے ۔ادھر سابق لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا لوک سبھا کا نیا اسپیکر کون ہوگا اس کا فیصلہ سیاسی پارٹیاں مل کر کریں گی ۔اس کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور اس کام میں ان کا کوئی رول نہیں ہے ۔راوت نے میڈیا سے بات چیت میں یہ دعویٰ کیا کے لوک سبھا اسپیکر کا چناﺅ اہم ہوگا اور اگر بھاجپا کو یہ عہدہ ملتا ہے تو وہ اسکار کی حمایت کرنے والی پارٹیوں ٹی ڈی پی ،جے ڈی یو چراگ پاسوان و جینت چودھری کی سیاسی پارٹیوں کو توڑ دیگی اور انہوںے دعویٰ کیا کے ہمےں تجربہ ہے کے بھاجپا ان لوگوں کو دھوکہ دیتی ہے جو اس کی حمایت کرتی ہیں شیو سینا این سی پی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔انہوںنے کہا میں نے سنا ہے کے ٹی ڈی پی اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو انڈیا اتحاد ی اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے تو انڈیا اتحاد کے ساتھی اس مثلہ پر غور کریں گے اور یہ یقینی کرنے کی کوشش کریں گے کے اپوزیشن اتحاد کی سبھی ساتھی پارٹیاں ٹی ڈی پی کو حمایت دیں ۔قائدہ کے مطابق اپوزیشن کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ملنا چاہئے انہوںنے دعویٰ کیا این ڈی اے سرکار مضبوط نہیں ہے لوک سبھا چناﺅ کے بعد آر ایس ایس کے کچھ لیڈروں کے ذریعہ بھاجپا کے بارے میں دئے گئے حالیہ بیانات کے بارے میں پوچھے جانے پر راوت نے کہا اگر آر ایس ایس ماضی گزشتہ کی غلطیوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے تو یہ اچھا ہے ہم حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں راوت نے دعویٰ کیا کے وزیراعظم مودی کے انڈیا پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں نیتا چنا گیا وہیں اس کے بعد بھاجپا پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ نہیں ہوئی ۔میٹنگ میں لیڈر شپ کا اشو آجاتا تو نتیجے کچھ الگ ہو سکتے تھے اس لئے این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں مودی کو نیتا چنا گیا ۔اور اس کے بعد اب مرکز نے ایک طرفہ کام شروع کر دیا ہے تو وہیں کئی حکمت عملیوں کو لیکر میٹنگوں کا دور بھی جاری رہا اس میں جے پی نڈا ،اشونی ویشنو ،کرن رججو،للن سنگھ،چراگ پاسوان موجود رہے ۔سوال یہ ہے کے کے اس میٹنگ کے اجینڈوں اور وجہ ہی کہا جاتا ہے لوک سبھا چناﺅ جیت کر این ڈی اے نے سرکار تو بنا لی ہے ۔نریندر مودی تیسری بار پی ایم بن گئے ہیں کابینا وزیروں کے عہدے پر بٹ چکے ہیں ۔اب بچا ہے ایک آخری کام وہ ہے لوک سبھا اسپیکر کا انتخاب بی جے پی نیتا این ڈی اے کےلئے یہ بھی کسی چنوتی سے کم نہیں ہے ۔قابل ذکر ہے کے پچھلی بار اوم برلا نے اسپیکر کی کرشی سنبھالی تھی کیا وہیں اس بار بھی یہ کرسی سنبھالیں گے ؟موجودہ سرکار میں ابھی اس کرسی پر کون بیٹھے گا اس انتخاب نہیں ہو سکا فیصلہ جلد کرنا ہوگا۔ کیوں کہ اجلاس جلد شروع ہو رہا ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...