Translater

19 فروری 2022

چارہ گھوٹالے کے پانچویںمعاملے بھی لالو قصور وار!

چارہ گھوٹالہ کے پانچویں معاملے بھی بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے چیف لالو پرساد یادو کو قصور وار ٹھہرایا گیاہے ۔عدالت کے باہر ہزاروں کی تعداد میں جمع ان کے حمایتیوں میں مایوسی پھیل گئی ۔ لمبے وقت تک لالو یادو کے پرائیویٹ سیکریٹری رہے ونود سرواستو کی آنکھو ں میں آنسو بہنے لگے کئی حمایتی بھی رونے لگے ۔ عدالت کے باہر موجود رہے آرجے ڈی کے پرنسپل قومی جنرل سیکریٹری عبدالباری صدیقی نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لالو جی زندگی بھر غریبوں اور پسماندہ طبقات کیلئے لڑائی لڑتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے لیکن اپنے نیتا کی گرتی صحت کو لیکر بہت فکر مند ہیں ۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر شیام رزک بھی عدالت کے باہر کھڑے تھے ۔ جیسے ہی لالو پرساد یادو کو قصوروار قرار دئے جانے کی خبر باہر آئی وہ چپ چاپ کچھ کہے بغیر گاڑی میں جاکر بیٹھ گئے ۔ بعد میں انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم لوگ بھی جانتے ہیں کہ لالو پرساد یادو کیسے ایمانداری کے ساتھ ہر شخص کو اس کا حق دلانے کی لڑائی لڑتے رہے ۔بہار اور جھارکھنڈ کے الگ الگ علاقوں سے بڑی تعداد میں لالو پر ساد یادو کے حمایتی پیر کے روز ہی رانچی پہونچ گئے تھے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کیلئے 11:30بجے کا وقت طے کیا ہوا تھا اس کے ایک ڈیڑھ گھنٹے پہلے سے ہی لالو کے حمایتی عدالت کے احاطے کے باہر جمع تھے ۔ لالو پر ساد یادو اور آر جے ڈی کے سینئر لیڈروں نے پہلے ہی سے سب کو ہدایت دے رکھی تھی کہ عدالت کمپلکس میں یا باہر کوئی بھی غصہ اور نعرے بازی نہیں کرے گا ۔ سب کو کہا گیا تھا کہ عدالت کے فیصلے پر بھی کوئی رائے زنی نہیں کرے گا اور ہوا بھی ایسا ہی ۔فیصلہ آنے پر مایوسی کی لہر دوڑ گئی لیکن کسی نے کوئی غصہ یا نعرے بازی نہیں کی لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی میسا بھارتی راجیہ میں نہیں تھیںاور انہوں نے ٹی وی پر نگاہیں لگا رکھی تھیں ۔قصوروار قرار دئے جانے کے بعد پیتا کو جوڈیشل حراست میں لے لئے جانے کی خبر سن کر وہ مایوس ہو گئیں ۔فیصلہ آنے کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات کر نے سے انکار کردیا ۔حالاںکہ اس سے پہلے پیر کو انہوں نے رانچی پہنچنے کے بعد کہا تھا کہ لالو جی ان دنوں کافی بیمار ہیں ۔بتادیں کہ غیر منقسم بہار کے اربوں روپے کے مشہور چارہ گھوٹالہ میں ڈورا ڈنڈا خزانے سے 139.35کروڑ روپے نکالنے کے ناجائز معاملے میں منگلوار کو سی بی آئی کے اسپیشل جج ایم کے ششی کی عدالت لالو پرساد یادو سمیت 75ملزمان کو قصوروار ٹھہرا یا جبکہ معاملے میں چوبیس ملزمان کو ثبوت کی کمی کے چلتے بری کر دیا ۔ملزمان کی سزا کے پہلوو¿ں پر 21فروری کو سماعت ہوگی۔ (انل نریندر)

18 فروری 2022

افغانستا ن اب القاعدہ ،اسلامک اسٹیٹ کا گڑھ بن گیا!

دہشت گردی کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ رپورٹ یقینی طور پر پریشانی بڑھا نے والی ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اب القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن گیا ہے۔حالیہ وقت میں دہشت گرد گروپ افغا نستان میں کہیں زیادہ آزادی کا مزہ لے رہے ہیں۔اور ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ طالبان نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر لگام کسنے کیلئے کوئی قدم اٹھا یا ہے ۔یہ دعویٰ رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ آتنکی گروپ اسلامک اسٹیٹ کا ٹارگیٹ خود کو افغانستان کے اہم حریف طاقت کی شکل میں خود کو قائم کرنے کا ہے اور اپنے اثر کو ساتھ ایشیا کے دیشوں تک پھیلانے کا ہے ۔ اسلامک اسٹیٹ کے ذریعے بین الاقوامی عمل اور حفاظت کیلئے اٹھا ئے گئے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی طرف سے ممبر ممالک کو دئے جانے والے تعاون مبنی چودھویں سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں نشا ن دہی کی گئی ہے کی 15اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کا سیکورٹی کا پس منظر پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ حالاں کہ اس پر حیرانی اس لئے بھی ہو رہی ہے کہ پچھلے سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی دنیا کے تمام ملکوں میں یہ اندیشہ جتلا جا رہا تھا کہ پاکستان کی طرح افغانستان بھی دہشت گرد تنظیموں کا نیا ٹھکانہ نہ بن جائے لیکن اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی رپورٹ سے یہ اندیشہ صحیح ثابت ہو گیا ہے۔ اب تک ایسے طالبا ن نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی سرگرمیاں چلنے نہیں دے گا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ طالبانی ساکھ اور کسی آتنکی تنظیم سے کم نہیں ہے۔رپو رٹ میں مزید بتایا گیاہے کہ اسلامک اسٹیٹ اب افغانستان میں خود کو بڑی طاقت کی شکل میں قائم کر رہاہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر آئی ایس یہاں پیر جمانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ خطرہ بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے مما لک سے کہی زیادہ ہے۔ بھارت تو پہلے ہی سے یہ اندیشہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے اشارے پر طالبان آتنکی تنظیموں اور بھاڑے کے غیر ملکی لڑاکوو¿ ں کو کشمیر میں بھیج کر شورش پھیلا سکتاہے ۔ اس کے علاوہ سری لنکا جیسے دیش بھی آئی ایس کے خطرے سے پریشان ہیں۔ اور عالمی سطح پر اس نئے خطرے سے نمٹنے کیلئے ایک مشتر کہ حکمت عملی ہو جس پر سنجیدگی سے غور ہو نا چاہیے ۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے پر کچھ بڑے ملکوں کی دوہری اور موقع پرست پالیسی دہشت گر د تنظیموں کی طاقت بڑھا رہی ہے۔ اگر ہم صحیح معنیٰ سے دہشت گردی سے لڑنا چاہتے ہیں تو بھارت کی طرح دہشت گردی پر زیرو ٹالورینس کی پالیسی اپنا نی ہوگی۔ (انل نریندر)

ایک تھا دیپ سدھو !

کسان تحریک کے دوران سرخیوں میں آئے پنجابی ایکٹر دیپ سدھو کی سڑک حادثے میںموت ہوگئی ۔ یہ حادثہ سونی پت ضلع میں کے ایم پی ایکسپریس وے کے پاس ہوا ۔رپورٹ کے مطابق وہ دہلی سے بھٹنڈا کی طرف جارہے تھے۔ اس وقت ان کی کار کی ٹکر ایک ٹرک سے ہوگئی۔دہلی پولیس نے پچھلے سال 26جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران دہلی میں ہوئے تشدد معاملے میں دیپ سدھو کو گرفتا رکیا تھا ۔معاملے میں ملزم بنائے گئے سدھو پر دہلی پولیس نے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا ۔پچھلے سال 26جنوری کو کسان آندولن کے دوران بلائے گئے مارچ میں مظاہرین کا ایک بڑا گروپ ٹریکٹر پریڈ کیلئے مقرر راستے سے الگ ہو گیا اور لال قلعہ پر پہونچ گیا تھا ۔ دیپ سدھو ستمبر 2020میں کسان آندولن میں شامل ہوئے تھے اور جلد ہی سوشل میڈیا پر اپنے بیا ن کیلئے وائرل ہونے میں کامیاب رہے دیپ کا انگریزی میں پولیس حکام کے ساتھ بحث کا ایک ویڈیوں بھی وائرل ہوا تھا ۔ جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا تھا کہ یہ ایک انقلابی ہے ۔اگر وہ اشو کو سنجیدگی سے نہیں سمجھتے ہیں تو یہ انقلابی اس دیش اور ساتھ ایشیا کی جغرافیا ئی سیاست کی تشریح کرئے گی ۔ اس ویڈیوں کے بعد دیپ سدھو نے قومی سطح پر خوب سرخیاں بٹوری سدھو نے لال قلعہ پر ترنگے جگہ سکھوں کا دھارمک علامتی نشا ن نشان صاحب پر مبنی جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اس کیس دیپ سدھو کی گرفتاری بھی ہوئی تھی ۔وہیں پنجاب چنا و¿ میں سدھو امر گڑھ سے شرومنی اکالی دل کے پردھان سمرن جیت سنگھ مان کیلئے چناو¿ کمپین بھی چلارہے تھے ۔اطلاع میں معلوم ہوا ہے کہ دیپ سدھو کی کار کھڑے ہوئے ٹرالے سے ٹکرا گئی جس کے بعد سدھو کی موت ہوگئی ۔اس وقت وہ خود ہی کار چلا رہے تھے ان کی ساتھ ان کی گرل فرینڈ بھی تھی جو اس حادثے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں ۔ بتاتیں ہیں کہ پنجاب کے مکتسر ضلع میں اپریل 1984میں پیدا ہوئے دیپ سدھو نے اپنے کریئر کی شروعا ت ماڈلنگ سے کی تھی اور انہوں نے وکا لت کی پڑھا ئی کی تھی ۔انہوں نے کنگ فیشر ماڈل ہنٹ وینر رہے اور مسٹر انڈیا کنٹیسٹ میں بھی خطاب جیتا ۔سال 2015میں ان کی پہلی پنجابی فلم ’رمتا جانے گی‘ریلیز ہوئی ۔ اس کے بعد 2018میں آئے فلم ’جورا داس نمریا‘ سے مشہور ہوئے جس میں ان کا کردار گینگسٹر کا تھا۔ جب کسان تحریک شروع ہوئی تو دیپ سدھو سمیت سبھی یہ کہہ رہے تھے کہ وہ کسانوں اور کسان لیڈروں کی یونین کے پینل تلے اس آندولن میں شامل ہیں ۔لیکن کچھ وقت بعد دیپ سدھو نے کسان لیڈروں کے فیصلوں پر سوال اٹھا نے شروع کردئے تھے اور سنگھو بارڈر پر اپنا خود کا اسٹیج بنا لیا تھا ۔دیپ سدھو اپنے سوشل میڈیا پر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے بارے میں پوسٹ ڈالتے رہتے تھے جس کے بعد کسانوں نے ان سے خود کو الگ کر لیا تھا ۔26جنوری 2021کو دیپ سدھو سے سنگھو بارڈر کے بڑے اسٹیج سے کہا تھا کہ وہ دہلی کے اندر جائیں گے اور طے راستے سے الگ ہوکر لال قلعہ پہونچ گئے ان کے سامنے لوگوں نے نشا ن صاحب کا جھنڈا لہرایا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور پی ایم مودی کے ساتھ دیپ سدھو کی تصویروں کی بنیاد پر سدھو پر بھاجپا اور آر ایس ایس کے اجنڈے کو آگے بڑھانے کے بھی الزام لگے تھے ۔ سینئر وکیل پر شانت بھوشن نے بھی دیپ کی تصویروں کو ٹویٹ کیا تھا ۔ جن وہ امیت شاہ اور نریندر مودی کے ساتھ دیکھے گئے ۔ دیپ سدھو نے الزمات کو خارج بھی کیا تھا۔دیپ سدھو کی موت کے بعد ان سے جوڑی کنٹرورسی کا بھی باب بند ہو گیا ہے۔ (انل نریندر)

17 فروری 2022

یہی باپوکو سچی شردھانجلی !

نئی دہلی کے وجے پتھ پر ہر سال 29جنوری یعنی یوم جمہوریہ تقریب کے اختتام پر ہونے والی بیٹنگ ریٹریٹ میں مہاتما گاندھی کی محبوب دھن ابائڈ ویٹوکو بھی جو برسوں سے گونجتی تھی لیکن اس برس اس کو بند کر وا دیا گیا ۔چھتیس گڑھ سرکار نے اسے 30جنوری کو راجدھانی رائے پور کے تیلی بانچھا تالا ب کے سامنے پولیس بینڈ سے بجوا دیا ۔باپو کی اس پسندیدہ دھن کو سننے کیلئے بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوئے ۔اس گیت کی دھن ہر سال راجدھانی میں باپو جینتی پر بجائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے اسے جینتی پر باپو کو سچی شردھانجلی قرار دیا ۔ بیٹنگ ریٹریٹ سے باپو کی محبوب دھن کو ہٹانے اور دہلی میں امر جوان جیوتی بجھانے کے معاملے میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے مرکزی سرکا ر اور بھاجپا پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا معافی مانگیں اور باپو کی اہمیت و شہادت کا مطلب نہیں جانتے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس کا راستہ ندی کے دو کناروں جیسا ہے ۔دونوں کبھی مل نہیں سکتے کانگریس کی آئیڈیا لوجی اور مہاتما گاندھی کی آئیڈیا لوجی ہے جس میں’امن بھائی چارہ ،سچائی اور عدم تشدد ہے ‘اور اس کے برعکس پی ایم مودی کا راستہ گوڈسے اور ساورکر کا راستہ ہے جس میں تشدد ،سازش کی راہ ہے۔اور رواداری کی کوئی عزت نہیں ہے اور جو سرکار کے خلاف بولے انہیں روند دیا جاتا ہے۔ہمار ے راستے اور ان کے راستے بالکل الگ ہیں ۔ چھتیس گڑھ میں امر جوان جیوتی لگائی جائے گی جن جوانو ں نے دیش کیلئے اپنی شہادت دی ہے ان کے نام پر یہ جیوتی جلے گی۔اور یہ ہوئی اڈے کے قریب ہی چوتھی بٹا لین میں قائم کی جائے گی ۔ یوپی میں چنا و¿ مہم میں حصہ لے رہے وزیر اعلیٰ بگھیل نے میڈیا سے کہا کہ لوگوں کو شہا دت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔جنہیں قربانی سے لینا دینا نہیں ہے وہ امر جوان جیوتی کا مطلب نہیں سمجھ سکتے ۔غور طلب ہے کہ امر جوان جیوتی کا قیام 1972میں اس وقت کے وزیر اعظم سورگیہ اندرا گاندھی نے دہلی میں کیا تھا ۔ تب سے یہ جیوتی بلا رکاوٹ 50سال سے جل رہی تھی۔ (انل نریندر)

بھاری پولنگ سے کس کو فائدہ ہوگا؟

کئی معنی میں اسمبلی چناو¿ کا دوسرا مرحلہ کافی اہم ترین تھا کیوں کہ پیر کو اتراکھنڈ اور گوا اسمبلی کی سبھی سیٹوں کیلئے تو ووٹ ڈالے گئے ساتھ ہی اتر پردیش اسمبلی کیلئے دوسرے مرحلے میں 55سیٹوں پر ووٹ پڑے ۔اتر پردیش میں ابھی پولنگ کے تین مرحلے باقی ہیں لیکن اتراکھنڈ اور گوا میں اگلی حکومتوں کیلئے لوگوں کا فیصلہ ای وی ایم میں بند ہو گیا ہے۔ پیر کے روز جن 165اسمبلی سیٹوں کیلئے پولنگ ہوئی وہ دیش کی تین ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے اور ان کا جغرافیہ بھی الگ ہے ۔زبانیں بھی الگ ہیں اور مقامی ادارے بھی۔ حالاںکہ ایک چیز تینوں میں یکساں ہے وہ ہے تینوں ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت سبھی جگہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ رہا ہے ۔کچھ اشو ایسے ضرور ہیں جنہیں اپوزیشن کا چنا وی اشو بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ مثال کے طور پر مہنگائی ،بے روزگاری اور سرکار کے خلاف منفی فیکٹر بھی موجود ہے ۔ ان میں اگر گوا کو چھوڑ دیں تو باقی جگہ بھا جپا کا گراف دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی چناو¿ یعنی پچھلے تین انتخابات میں مسلسل اوپر بڑھا ہے ۔ان سبھی جگہوں پر بھاجپا کے سامنے پرانی بنیاد کو بچانے یا بڑھا نے کی بڑی چنوتی ہوگی ۔اب بات کرتے ہیں اتر پردیش چنا و¿ کے دوسرے مرحلے کی ۔دراصل زبردست ووٹینگ سے پارٹیوں میں کنفوزن پیدا ہو گیاہے ۔یوپی کے دوسرے مرحلے میں بھا ری فیصد پولنگ سے کسے فائدہ ہوگا اس تجزیہ کرنے میں سیا سی پارٹیاں لگی ہوئیں ہیں۔ یوپی قریب 63فیصد ،اتراکھنڈمیں 65اور گوا میں قریب 80فیصد ووٹ کو بی جے پی اپنے کیلئے اچھا مانتی ہے وہیں اپوزیشن اسے بی جے پی کے خلاف ووٹ مان رہی ہے۔ یوپی کی مسلم اکثرتی سیٹوں پر تو 70فیصد سے بھی زیادہ ووٹنگ دونو فریقین کی ماتھا پیچی کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔تینوں ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے اس لئے اپوزیشن اسے بی جے پی کے خلاف منفی ووٹ بتا رہی ہے ۔گوا کی 40سیٹوں پر 80فیصد پولنگ میں ایک اسمبلی حلقے میں 90اور سب سے کم ایک حلقے میں 70فیصد ووٹ پڑے چناو¿ سے پہلے بڑی تعداد میں پارٹی بدلنے کی وجہ سے یہ پولنگ ماہرین کیلئے بھی مشکل پیدا کر رہا ہے۔خاص ٹکر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ لیکن عآپ ،ٹی ایم سی ،این سی بی،شیو سینا 82آزاد امیدوارں کی وجہ سے بی جے پی مان رہی ہے کہ مخالف ووٹ بٹ گیاہے۔ اس لئے اسے فائدہ ہوگا۔کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ سرکاروں کے مخالف ووٹ ہے۔اور بی جے پی کو ہرا سکتاہے ۔یوپی میں دوسرے مرحلے میں 55سیٹوں پر پولنگ ہوئی تھی ۔پچھلی مرتبہ ان میں 38بی جے پی ،15سپا ،اور 2کانگریس نے جیتی تھی۔ کل امروہہ ،بجنور ،مرادآباد ،بریلی ،رامپور جیسے سبھی مسلم اکثریتی سیٹوں پر 70فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں ۔پچھلے بار یہاں 10مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔مسلم اکثریتی سیٹوں پر مسلمانو ں کی آبادی 50فیصد اور زیادہ ہے تقریباً سبھی سیٹوں پر مسلم آبادی کہی نہ کہی زیادہ ہے۔ اس وجہ سے سپا کی امید بڑھ گئی ہے۔اویسی کی پارٹی ،ہم ،کانگریس ،بسپاکتنے ووٹ کاٹتے ہیں اس پتہ 10مارچ کو چلے گاجب ای وی ایم میںووٹوں کی کنتی ہوگی۔ (انل نریندر)

16 فروری 2022

سزائے موت نہیں جیل میں آخری سانس تک کی سزا!

دیش کی سپریم کورٹ نے کہاہے کہ مجرم کو موت کی سزا دینے کے بجائے اسے پوری زندگی جیل میں گزارنے کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ایسی سزا دینے میں کوئی قانونی مسئلہ نہیں ہے۔ جسٹس ایس کے کول اورایم این سندریش کی بنچ نے یہ ریمارکس یوپی (لکھیم پور )ایک شخص رویندر کے معاملے میں دئے ہیں ۔ قصور وار رویندر کا ایک بچے کو بے رحیمانہ طریقے سے مارنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی ۔ جسے بعد میں پوری زندگی جیل میں گزارنے کی سزا میں بدل دیا گیا ۔ اس سزا کے بارے میں وہ 30سال سے جیل میں قید ہے اس نے اب پیرول پر باہر آنے کیلئے عرضی میں کہا ہے کہ پوری عمر جیل میں سزا کاٹنے کے متعلق معافی کی عرضی دینے کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ موت کی سزا دینے کی جگہ پوری عمر جیل میں گزارنے کی سزا دی ہے۔رویندر نے 1990میں خاندانی رنجش میں ایک دس سالہ بچے کو زندہ آگ میں جھونک دیا تھا اس جرم میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اسے موت کی سزا دی تھی اس سزا کو سپریم کورٹ نے 1997میں برقرار رکھا تھا ۔2010میں صدر جمہوریہ نے موت کی سزا کو معاف کرتے ہوئے اسے تا حیات جیل میں گزارنے کی سزا میں بدل دیا تھا ۔سپریم کورٹ نے 2021میں سزا ئے موت کی توثیق نہیں کی ہے اس دوران نے پانچ معاملوں میں شامل مجرموں کی سزا عمر قید میں بدل دی اور چار معاملے میں موت کی سزا معاف کرکے انہیں قصوروں سے بری کر دیا تھا ۔یہ معاملہ یوپی کا تھا عدالت نے کہا کہ صرف اس لئے کہ جرم ثابت نہیں ہے اس بنیاد پر کسی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی کورٹ کی آئینی بنچ نے 1980میں دیا سنگھ بنام اسٹیٹ کیس میں مو ت کی سزا کو آئینی ٹھہرایا تھا اور بتا یا تھا کہ یہ سزا سنگین سے سنگین جرم میں ہی دی جانی چاہیے ۔سزا دینے کے بعد جج کو اس سزا کو دینے کی بنیاد کو مفصل طور پر بتانی ہوگی ۔ (انل نریندر)

سب سے بڑی بینک دھوکہ دھڑی !

سی بی آئی نے دیش کے سب سے بڑے بینک دھوکہ دھڑی معاملے میں اے وی جی شپیارڈ لیمٹیڈ اور اس کے اس وقت کے چیئر مین و منیجنگ ڈائریکٹر سمیت رشی کملیش اگروال سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔حکام نے سنیچر کوکہاکہ یہ مقدمہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی رہنمائی والے بینکوں کے فیڈریشن نے مبینہ طور سے 22842کروڑ روپے سے زیادہ کی دھوکہ دھڑی کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا ایجنسی نے اگروال کے علاوہ اس وقت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنتھانم یودھ سوامی ،ڈائریکٹروں ،اشون کمار ،سشیل کمار اگروال ،روی نرمل نویتیا اور ایک دیگر کمپنی اے وی جے انٹر نیشنل پرائیویٹ لیمیٹیڈ کے خلاف بھی مبینہ طور سے مجرمانہ سازش ،دھوکہ دھڑی مجرمانہ بے اعتمادی اور سرکاری بے جا استعمال جیسے جرائم کیلئے مقدمہ درج کیا ۔بینکوں کی فیڈریشن نے سب سے پہلے 8نومبر 2019کو شکایت درج کرائی تھی اس پر سی بی آئی نے آمدنی مارچ 12،2020کو کچھ صفائی مانگی تھی۔بینکوں کی فیڈریشن نے اس سال اگست میں ایک نئی شکایت درج کی اور ڈیڑھ سال سے زیادہ وقت تک جانچ کرنے کے بعدسی بی آئی نے اس پر کاروائی کی ۔افسر نے کہا کہ کمپنی کو سی بی آئی کے ساتھ ہی 28بینکوں مالی اداروں نے 2468.51کروڑ روپے کے قرض کو منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ فورینسک آڈٹ سے پتا چلا ہے کہ سال 2012-17کے تین ملزمان نے مبینہ طور سے ملی بھگت کی اور ناجائز سرگرمیوں کو انجام دیا ۔ جس میں پیسے کا بےجااستعمال اور مجرمانہ دھوکہ دھڑی شامل ہے یہ سی بی آئی کے ذریعے درج سب سے بڑا دھوکہ دھڑی کا معاملہ ہے ۔گزشتہ ہفتے ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ بینک کرمچاریوں کا عہدہ سب سے بھروسے والا ہے جہاں ایمانداری اور وفا داری ضروری شرطیں ہیں ۔ ان کی طرف سے برتی گئی کسی بھی بے قاعدگی کو نر می سے نہیں نپٹا جانا چاہیے۔ جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس ایس اوکابی کی بنچ نے یہ ریمارکس اپنے فرائض کو نبھانے میں سنگین غیر ذمہ داری کیلئے ایک بینک کلرک کی برخواستگی کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے دئے اور کہا کہ کرمچاری اس درمیان اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گیا تو اسے صرف اس لاپرواہی سے نجات نہیں دی جا سکتی ۔اس نے اپنے فرائض کو نبھا نے میں کیا ۔بنچ نے کہا کہ کرمچاری کے خلاف لگائے گئے الزامات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اس کی برخاستگی کی سزا کو کسی بھی طرح سے چونکانے والا نہیں کہا جا سکتاہے۔ ملازم 1973میں کلرک کم ٹائپسٹ کے طور پر بینک سروس میں شامل ہوا تھا سروس کے دوران سنگین لاپرواہیوں کے چلتے اسے 7اگست 1995معطل کر دیا گیا تھا ۔ 2مارچ 1996میں ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی تھی ۔بینک نے اپنے قواعد کے تحت ڈسپلن شکنی کی جانچ کروائی جس میں جانچ افسر نے الزامات کو صحیح پایا اور اسے 6دسمبر 2000میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ ساتھ ہی اپیلٹ آتھارٹی نے بھی اس کی اپیل خارج کر دی پٹنہ ہائی کورٹ نے بھی فیصلے کو برقرار رکھا ۔ کرمچاری نے اپنی برخاستگی کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...