Translater
09 ستمبر 2020
دہلی میں کووڈمریض40فیصدی باہر ی ہیں
کووڈ 19-کے علاج کے لئے دہلی کے اسپتالوں میں داخل ہونے والا ہر چوتھا مریض باہر کا ہے ۔دس اگست سے لیکر 28اگست کے درمیان دہلی میں ایڈمٹ ہونے والے مریضوں سے باہری مریضوں کا تناصر چالیس فیصدی تک پہونچ گیا ہے کوئی دن ایسانہیں ہواجب باہر کے مریضوں کا اوسط تنا صر 25فیصدی سے کم ہو یہ ہی نہیں دیش کا سب سے بڑا اسپتال ایمس سے لیکر پرائیویٹ اسپتال میکس ،اپولو کے ڈاکٹر بھی مان رہے ہیں کہ ان دنوں دہلی میں داخل ہونے والے 40فیصد مریض دہلی سے باہر کے ہیں ۔اس سے کہا جا سکتا ہے دہلی میں بڑھتے مریضوں کی تعداد کے پیچھے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے جس وجہ سے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی ۔اس وقت دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ اگر دہلی کے اسپتالوں کو کھول دیا جائے تو باہری مریضوں سے یہ بھر جائیں گے ۔لیکن آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی گئی ۔دس اگست کو دہلی میں باہر سے آئے مریضوں کا ایڈمیشن اوسط 40.6فیصد پہونچ گیا اس دہلی میں کل 325مریض ایڈمٹ ہوئے جس میں 132مریض باہر کے تھے ایمس کے ایم ایس ڈاکٹر ڈی کے شرما کے مطابق پہلے ان کے یہاں ایڈمٹ ہونے والے کووڈ کے سبھی مریض دہلی سے لئے جا رہے تھے۔وہیں اپولو اسپتال کے پھیپھڑوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر راجیس چاولہ کا کہنا ہے کہ ہم کو دہلی کے باہر سے بہت سے ٹیلی فون آرہے ہیں آدھے سے زیادہ مریض دہلی کے نہیں ہیں اور اس مہینہ یوپی بہار کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے یہ ہی بات میکس اسپتال کے ڈاکٹر این کشور کہتے ہیں کووڈ علاج کے لئے دوسری ریاستوں سے بڑی تعداد میں لوگ دہلی کے اسپتالوں میں آرہے ہیں اور یہ تعداد 80فیصد سے زیادہ ہے دومہینہ پہلے تک میرے مریض دہلی این سی آر کے تھے اور 28اگست کو یوں تو دہلی میں 390مریض ایڈمٹ ہوئے تھے اس میں 120مریضوں کا تعلق باہر سے تھا ایمس ٹرامہ سینٹر میں بھرتی مریضوں میں نو مریض یوپی ،بہار اور ایک مریض ہریانہ سے تھا ۔26اگست کو کل 119مریض باہر سے آئے تھے اس میں 73یوپی 17ہریانہ 12مدھیہ پردیش ،بیشک ان مریضوں کی وجہ سے دہلی میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
(انل نریندر)
08 ستمبر 2020
ناروے اور سوئڈن میں اسلام مخالف ریلیاں!
یوروپ کے کئی ملکوں میں کچھ مسلم کٹر پسندوں نے کئی مرتبہ تشدد و آتش زنی کا سہار الیا ہے ،انگلینڈ و جرمنی ،فرانس میں تو آئے دن اسلامک کٹر پسند کوئی نہ کوئی حرکت کرتے رہتے ہیں ۔لیکن سوئڈن اور ناروے ان امن پسند ملکوں میں شامل ہوتا ہے جہاں اس طرح کے کوئی واقعات نہیں ہوئے لیکن اب خبر آئی ہے کہ دونوں ملکوں میں بھی نسلی تشدد جاری ہے ۔ناروئے کی راجدھانی اوسلو میں اسلام مخالف ریلی کے دوران پر تشدد جھڑپیں ہوئیں اور حکام نے فوراََ ہی ریلی کو ختم کرا دیا اس کا انعقاد اسٹاف اسلامیائی جنریشن آف ناروے گروپ نے پارلمینٹ کے پاس دھرنا دیا اس ریلی کے احتجاج میں سینکڑوں لوگ سڑکوں پر اتر آے اس دوران انہوںنے کہا کہ ذات پرستی کرنے والے لوگ نہیں چاہیے۔جس وجہ سے آمنے سامنے بھیڑ جمع ہونے سے حالات بگڑ گئے ۔اور پولیس پر انڈے اور ان کی کھڑی کردہ اڑچنوں کو ہٹا دیا پولیس کو تشدد پر کنٹرول کرنے کے لئے دونوں گرپوں پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کئی لوگ گرفتار کئے گئے ۔پولیس کے مطابق ڈینمارک کے باشندے ایٹی مسلم لیڈر اس موسو مالیو ریلی کرنا چاہتے تھے انتظامیہ نے اس کی منظوری نہیں دی ۔بہرحال ان ملکوں میں تشدد سے نمٹنے کے لئے پولیس فورس اور تشدد سے مقابلہ کرنے والی فورس کو تعینات کیا گیا ہے ۔اور متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں بتایا جاتا ہے اب حالات پر امن ہیں ۔
(انل نریندر)
کسی کے باپ میں دم ہے تو مجھے ممبئی آنے سے روکے!
سوشانت سنگھ راجپوت کی مشتبہ موت کے بعد اداکارہ کنگنا رناوت کے بیانات نے جمعہ کے روز نیا موڑ لے لیا کنگنا اور شیو سینا نیتا سنجے راوت میں تکرار بڑھ گئی ہے ۔اور مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ بھی یہ کہہ کر تنازعہ کا حصہ بن گئے کہ جسے ممبئی پولیس سے ڈر لگتا ہے اسے یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ،سوشانت کی موت کے بعد سے ہی کنگنا ممبئی پولیس کی نااہلی پر حملہ آور رہی ہیں کنگنا رناوت کا ممبئی پولیس کو لے کر دیا ہو ابیان اب طور پکڑ رہا ہے ،انہوںنے کہا تھا کہ انہیں ممبئی پاکستانی مقبوضہ کشمیر جیسا لگ رہا ہے ۔اس پر کئی فلمی ستاروں نے کنگنا کے خلاف ٹوئٹ کیا ہے ۔کنگنا نے کہا کہ میں ممبئی آرہی ہے کسی کے باپ میں ہمت ہے تو روک لے ۔راوت نے کنگنا کو مینٹل تک کہہ ڈالا ۔انہوں نے ٹی وی پر سوال کیا کہ کنگنا نے مہاراشٹر اور ممبئی پولیس کی بے عزتی کی ہے ۔اگر وہ ہماچل سرکار سے سیکورٹی چاہ رہی ہیں تو اب یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔شیو سینا مہاراشٹر کے ایسے دشمنوں کا شراد کئے بنا نہیں مانے گی یہ وعدہ رہا کنگنا ممبئی گھس کر دکھائے ،جے ہند جے مہاراشٹر اس درمیان مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے اس تنازعہ میں کنگنا کی ہمایت کی ہے ۔انہوںنے کہا کہ راوت نے اگر کنگنا کو ممبئی نہ آنے کی دھمکی دی ہے تو یہ افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہا جس طرح کی زبان کا وہ استعمال کر رہی ہیں ہم لوگ نہیں کر سکتے جس تھالی میں کھا رہی ہیں اسی میں چھید کر رہی ہیں کچھ سیاسی پارٹیاں ان کی ہمایت کر رہی ہیں ۔اگر وہ پی او کے جانا چاہتی ہیں تو چلی جائیں سرکار کو ان کے جانے کا پیسہ دینا چاہیے ۔نہیں تو پھر ہم ہی پیسہ دے دیں گے ۔
(انل نریندر)
جھگیوں میں بسے 10لاکھ افرادبے گھر ہو کرکہاں جائیں گے؟
ریلوئے بیشک بلٹ ٹرین چلانے کی اسکیم تیار کر رہا ہے لیکن راجدھانی دہلی میں ہی 20کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین چلانا لوکو پائلٹوں کو بھاری پڑتا ہے ،ریل کی پٹریوں کے کنارے بسی جھگیاں اس میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔کئی بار جھگیوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن سیاسی پارٹیوں کی دخل اندازی سے جھگیاں ہٹاﺅ کارروائی ٹھنڈے بستے میں چلی گئی ۔اب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ریلوئے جھگیاں ہٹانے کی کارروائی میں لگ گیا ہے ۔حالانکہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریل پٹری کے کنارے بسی 48ہزار جھگیوں کو دوبارہ سے کہاں بسایا جائے ؟ناردن ریلوئے پی آر او دیپک کمار کا کہنا ہے کہ سپریم کی حکم کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد ہی ضروری قدم اُٹھائے جائیں گے ۔ریلوئے پولیس بھی اس کام میں لگے گی ۔بتا دیں کہ 59.88ایکٹر زمین پر یہ جھگیاں بسی ہیں سگنل کے پاس تک قبضہ ہے ۔جھگیوں کے سبب اس روٹ پر سفر کرنا بھی مسافروں کی حفاظت خطرے کی گھنٹی ہے ۔جب بھی شتابدی ،راجدھانی جیسی تیز رفتار ٹرینیں گزرتی ہیں تو پتھر پھینکے جاتے ہیں ۔وندے ماترم ٹرین پر بھی پتھر بازی کی خبریں آئی تھیں کئی بار تو جھگیوں میں مقیم لوگوں پر بھی چڑھ جاتی ہے ،ریلوئے حکام کا کہنا ہے کہ تقریبا 27ہزار سے زیادہ جھگیاں سیفٹی زون میں بسی ہیں ،ریلوئے قواعد کے مطابق پٹریوں کے دونوں طرف پندرہ میٹر تک کا علاقہ سیفٹی زون مانا جاتا ہے ۔ٹرینوں کی حفاظت آمد رفت کے لئے اس علاقے میں کوئی بھی تعمیر کا کام نہیں ہونا چاہیے لیکن یہاں یہ سوال بھی اہم ترین ہے کہ غریب انسان کہاں جائے گا؟پہلے ہی کورونا نے روزی روٹی کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔اب عدالت ابھی ہماری چھت چھیننا چاہتا ہے ۔یہ بات ریلوئے پٹری لائن کے ساتھ بسی جھگی کے مکیں ببول سنگھ کا کہنا ہے ۔وہ کئی سال سے لکٹری کی کرسی اور صوبے بناتا ہے ۔غریب کو دو وقت کی روٹی کے علاوہ اور کیا چاہیے ۔جب سے کورٹ کا آرڈر آیا ہے تب سے حلق میں روٹی نہیں گئی ہے اب یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کب انتظامیہ آکر ہماری جھگیاں توڑے گا ۔وہیں ریلوئے حکام کا کہنا ہے کہ 90کی دہائی سے ہی ریل کی پٹریوں کے کنارے جھگیاں بسنے لگی تھیں ۔اس دوران جب بھی انتظامیہ قبضے ہٹانے کی کارروائی چھیڑتا تھا تو سیاست شروع ہو جاتی تھی۔پچھلے دنوں شکور بستی سے جب جھگیاں ہٹانے کی کوشش کی گئی اور بہت سے لوگ بے گھر ہوئے تھے کسی بچے کی مو ت کو لے کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔اب ریلوئے لائن سے جھگیاں ہٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سیاست شروع ہو گئی ۔بھاجپا پردیش صدر آدیش گپتا نے مانگ کی ہے کہ راجیو گاندھی آواس یوجنا کے تحت بنے فلیٹ ان جھگی جھونپڑی رہنے والے پریواروں کو دئے جانے چاہیے وہیں دہلی کانگریس نے عام آدمی پارٹی کی سرکار اور بھاجپا کی مرکزی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس وجہ سے ریلوئے لائن کے پاس بسی جھگیوں کو ہٹانے سے دس لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے ۔عآپ اور بھاجپا نے چناﺅ سے پہلے جھگیوں کو پختہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج بھی ان کو مکان نہیں ملا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے قریب 64184فلیٹوں کی تعمیر شروع کرائی تھی مسئلہ سنگین ہے ریلوئے کو ان جھگیوں کو ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)
06 ستمبر 2020
آخر محدود وقفہ سوالات پر راضی ہوئی حکومت
پہلے خبر آئی تھی پارلیمنٹ کے مانسون شیشن میں نا تو وقفہ سوال ہوگا اور ناہی غیر سرکار بل لایا جاسکے گا ۔کورونا وبا کے اس دور میں پیدا غیر معمولی حالات کے درمیان ہونے جارہے اس شیشن میں وقفہ صفر سولات بھی محدود کر دیا گیا ہے ۔اور وقفہ سوالات کے انتظام کی کاروائی سے ہٹائے جانے پر احتجا ج کرتے ہوئے ترمل کانگریس اور ڈیرک ابروس نے کہا اس سے اپوزیشن ممبران کے ذریعے سرکار سے سوال پوچھنے کے اپنے حق کو کھو دے گی ۔انہوں نے ٹوئیٹ کر کہا وبا جمہوریت کا قتل کرنے کا بہانہ بن گئی ہے ۔اگر ماضی میں وقفہ سوالات نہیں ہوا گو اسپیشل مقصد کیلئے بلائے گئے تھے لیکن آنے والے شیشن تو باقاعدہ ایک آئینی کاروائی کا حصہ ہے ۔لوک سبھا میں کانگریس کے نیتا ادھی رنجن چودھری نے پچھلے ہفتہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ پارلیمنٹ شینشن میں ممبران کے سوال پوچھنے اور اشو اٹھانے کے حق میں کٹوتی نا کی جائے اور یہ عوام کے نمائندوں کے حق میں نہیں ہوگا اب یہ خبر آئی ہے کہ سرکار اب یہ محدود سوال اٹھانے پر راضی ہو گئی ہے اور سرکار غیر اندارج سوال دینے کو بھی تیار ہے ۔کچھ ضمنی سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا وزیرصرف تحریری جواب دیتے ہیں ۔مانسون شیشن چودہ ستمبر سے ایک اکتوبر تک چلے گا ۔پرائیویٹ بل بھی پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔وقفہ صفر کی میعاد گھٹا کر آدھا گھنٹا کر دی گئی ہے ۔کورونا کے سبب ایوان کی کاروائی صبح نو سے گیارہ اور دوپہر تین سے سات بجے تک چلے گی ۔پہلی پالی میں راجیہ سبھا اور دوسری شفٹ میں لوک سبھا کی کاروائی چلے گی ۔پورے شیشن مین کوئی چھٹی نہیں ہوگی ۔
(انل نریندر)
بدلہ لینے کیلئے کھول رہا ہے تبتیوں کا خون
مشرقی لداخ کی برفیلی چوٹیوں کے پار چین کے قبضہ والی اپنی سرزمیں کو واپس لینے کے لئے تبتی شیروں کا خون کھول رہا ہے ۔تبت سے ہجرت کر آئے لداخ میں سینکڑوں تبتی خاندانوں کی تیسری پیڑ ی اس وقت چین سے اپنا گھر واپس لینے کے لئے فوج کے ساتھ اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے پیرا کمانڈوں کی شکل میں ڈرائیگن کے خلاف میدان میں ہیں ۔اور یہ سیدھے فورس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے ۔لداخ کے پین گون جھیل کے جنوبی کنارے سے لگے علاقہ میں بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے ڈولپمنٹ ریجمنٹ کی کمپنی لیڈر نیما توزن سنیچر کی رات شہید ہو گئے ۔نیما کی ترنگے میں لپٹی ہوئی لاش کے لے شہر سے چھ کلو میٹر دور ان کے گاو¿ں لائی گئی ۔تبت کی ضلع وطن پارلیمنٹ کی ممبر نام ڈول لگیاری کے م طابق یہاں پر تبتی بودھ روایتوں کے ساتھ ان کاا نتم سنسکار کیا گیا ۔نام ڈول لگیاری کے مطابق کبھی آزاد ملک لیکن اب چین کے علاقہ تبت کے نیما توزن بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کی ڈولپمنٹ ریجمنٹ میں کمپنی لیڈر تھے دو دن پہلے چینی فورس پی ایل اے کے ساتھ پینگون جھیل علاقہ میں ہوئی جھڑپ میں جان چلی گئی ۔ہندوستانی فوج نے اس معاملے پر کسی طرح کی رائے زنی نہیں کی ۔اس واقعہ نے چینی فوج نے مشرقی لداخ میں اکسائی چن میں فوجی سرگرمیاں شروع کر ایل اے سی پر کی پوزیشن بدلنے کی کوشش کی تھی ۔جس کو ناکام کر دیاگیا ۔کیا ہے ایس ایف ایف ؟بھارتیہ فوج کے سابق کرنل اور دفاعی معاملوں کے ماہر اجے شکلا نے اپنے بلاگ میں کمپنی لیڈر نیما تولن اور اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کا ذکر کیا ۔در اصل 1962میں تیار کی گئی اسپیشل ٹکڑی ایس ایف ایف ہندوستانی فوج کی نہیں بلکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کا ایک حصہ ہے ۔انگریزی اخبارہندوستان ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق اس یونٹ کا کام اتنا خفیہ ہے کہ شاید فوج کو بھی معلوم نہیں ہوتاکہ یہ کیاکررہی ہے ۔ڈائرکٹر جنرل سکیورٹی کے ذریعے سے سیدھے وہ پی ایم کو رپورٹ کرتی ہے اس کی بہادری کی کہانیا ں عام لوگوں تک نہیں پہونچ پاتی ۔اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے جوان اور ہندوستانی فوجی 11جون 2005کو لیح میں پردھان منتری منموہن سنگھ کا خطاب سنتے ہوئے آئے بی کے بانی ڈائرکٹر بھولاناتھ اور دوسری جنگ عظیم کے فوجی بعد میں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ رہے بجو پٹنائک کی صلاح پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تبتی گوریلو کی ایسی ٹکڑی تیارکرنے کی سوچی جو ہمالیہ کے خطرناک علاقہ میں چینیوں سے لوہا لے سکیں اور کئی کاروائیوں میں شامل ایس ایف ایف لداخ وغیرہ کے تبتی نزاد لوگ کافی پہلے سے جلید ہندوستانی فوج کا حصہ ہیں کئی لوگ مانتے ہیں کہ اس میں شامل لوگ 1950کی دہائی میں ان کھمپا باغیوں کی جانشین ہیں جو تبت پر چینی حملے کے خلا ف کھڑے ہوئے ۔
(انل نریندر)
ایودھیا میں رام مندر کا نقشہ پاس ہو گیا
وزیرا عظم نریندر مودی کے ایودھیا میں رام مندر کے پوجن کے 29دن بعد بدھوار کو مندر کا نقشہ پاس ہوگیا اور شاندار مندر کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوگیا ۔ایودھیا ڈولپمنٹ بورڈ کی میٹنگ میں سبھی ممبران نے کچھ منٹوںمیں اسے منظوری دے دی ۔شری رام جنم بھومی تیرتھ زون ٹرشٹ نے رام مندر کے ساتھ ہی پوری ستر ایکڑ کی زمین کا نقشہ پاس کرایا ہے ۔اس کے لئے ٹرسٹ نے 2.11کروڑ روپئے ڈولپمنٹ فیس اور لیبل سیز پندرہ لاکھ روپئے بینک گرافٹ اور الیکٹرونک ٹرانسفر کے ذریعے جمع کر ادئیے گئے ہیں اب جلد مندر تعمیر کے لئے بنیاد کی کھدائی شروع ہو جائےگی ۔ٹرسٹ کے ممبران نے بتایا ایک کھدائی مشین کانپور سے پہلے آچکی ہے ۔اور دوسری چنئی سے روانہ ہونی ہے ۔اور دس دن میں ضروری سبھی مشینیں ایودھیا پہونچ جائیں گی ۔کولنگ میں زمین کے اندر بننے والے کھمبوںمیں لوہے کا استمال نہیں ہوگا کھمبوں کے بننے کے بعد اس پر کیپ بنے گا ۔اور اس پر پلیٹ فارم تیار ہوگا وغیرہ وغیرہ اس طرح سے مندر کی شکل دے دی جائے گی ۔پلیٹ فارم زمین کی سطح سے قریب قریب 19فٹ اونچا ہوگا ۔رام مندر تعمیر کے لئے لارسن اینڈ ٹربو کی مشینں آرہی ہیں ۔مندر کے پورے پانچ ایکڑ میں ساٹھ میٹر گہرائی تک کمپلیٹ کے قریب بارہ سو کھمبے تیارت کئے جانے ہیں ۔اور ان کھمبوں کی تعمیر میں بھاری مقدار میں سمنٹ اور کنکریٹ کی ضرورت ہوگی ۔ٹرسٹی نے کئی ایسے دان دینے والوں کی فہرست تیار کرلی ہے جو یہ سامان دستیاب کرائیں گے ۔مندر کی تعمیر کے لئے دان دینے والے دیش بدیشوں سے بھکتوں اور سنتوں کے ساتھ طالب علم بھی آگے آئے ہیں اور مجموعی طور پہ اکیس کروڑ روپئے دئیے ہیں ۔دوسری طرف ٹرسٹ کے چئیرمین مہنت نرتیہ گوپال داس نے دیش بھر کے رام بھگتوں کی جانب سے ایک کونٹل چاندی سونا سونپا ہے ۔اور ساتھ ہی ایک لاکھ روپئے کا چیک دیا ہے ۔اس کے علاوہ ماہ ویر ٹرسٹ پٹنہ نے دس کروڑ روپئے ہریدوار کے سنتوں نے پچیس لاکھ روپئے اور ہریانہ کے سنتوں نے اکتیس لاکھ روپئے ٹرسٹ کے کھاتہ میں بھیجے ہیں ۔مہنت چن نریندر داس نے بھی ایک لاکھ اکیس ہزار روپئے کا چیک دیا ۔مندر کی تعمیر کی بنیاد میں تین مہینے لگ سکتے ہیں اب وہ دن دور نہیں جب ہم ایودھیا میں ایک شاندار عظیم الشان مندر دیکھیں گے ۔جے شری رام!
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...