Translater
01 ستمبر 2020
حکومت آربی آئی کی آڑ لے کر ذمہ داری سے نہ بچے!
کورونا وبا کے درمیان ای ایم آئی کی ادائیگی میں مہلت کے اعلان سے قرض داروں سے راحت محسوس کی تھی اور سرکار نے بھی ایسا کر کے واہ واہی لوٹی تھی ۔اس مہلت کی معیاد ختم ہونے والی ہے ابھی سرکار سود کے معاملے پر اپنا موقوف نہیں بتایا سپریم کورٹ نے اس مسئلے کو بار بار ٹالنے پر مرکزی حکومت کو جھاڑ پلائی اور پانچ دن میں جواب مانگا ہے ۔جسٹس اشوک بھوشن اور آر سبھاش ریڈی اور مکیش کمار شاہ کی بنچ نے مرکزی سرکار کو 31اگست تک حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے ۔اور سماعت کی تاریخ منگل کو مقرر کر دی ہے ۔عدالت نے صاف الفاظ میں کہا کہ آر بی آئی کی آڑ لے کر سرکار ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی بنچ کا کہنا تھا کہ بحران آپ کے ذریعہ لگائے گئے لاک ڈاﺅن سے کھڑا ہو اہے ۔اور اسے آپ کو ختم کرنا ہوگا۔اور آپ کا موقوف آر بی آئی کا نظریہ دکھاتا ہے ۔اس پر سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کے ایسے ریمارکس سے سرکار کے خلاف غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ سرکار آفت مینجمٹ ایکٹ کے تحت ضروری گائڈ لائن جاری کر چکی ہے ۔عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا ہے تو سرکار کو اپنا موقوف صاف کرنا چاہیے ۔دراصل عرضی گزار کے وکیل کپل سبل نے 31اگست کو ختم ہوئی موروٹوریم معیاد آگے بڑھانے کی مانگ کی کورونا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے آر بی آئی نے 27مارچ کو قرض کی ای ایم آئی کی تین مہینے کی سہولت دی تھی پھر اس میں تین ماہ توسیع کر کے 31اگست تک کر دی گئی آر بی آئی کا کہنا تھا کہ قرض کی قست چھ مہینے نہیں چکائیں گے تو اسے ڈیفالٹر نہیں مانا جائے گا اس سے پہلے آر بی آئی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسے 133کروڑ دہندگان کی فکر ہے اگرسودنہ لیا گیا تو اس کا نا مناسب اثر پڑے گا جنہوں نے پہلی بار اس سہولت کا فائدہ نہیں اُٹھایا تو وہ دوسری بار اس متبادل کو بھنا کر صنعتوں کے لاکھوں کروڑ کے ڈوبتے قرض کو سرکار اور بینک برداشت کرتے آئے ہیں وبا کے دور میں عام آدمی کو معمولی راحت دینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)
31 اگست 2020
رنجن گوگوئی ہو سکتے ہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار؟
کانگریس کے سینئرلیڈر ترون گوگوئی نے دعویٰ کیا ہے آیودھیا زمین تنازعہ سمیت مختلف اہم معاملوں میں فیصلے دینے والے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی اگلے سال آسام میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے امید وار ہو سکتے ہیں ۔حالانکہ تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ترون گوگوئی کے دعووں کی بھاجپا نے تردید کی ہے ۔اور کہا کہ ان کو رجیہ سبھا میں نامزد کیا ہے ۔میں نے کئی ذرائع سے سنا ہے کہ رنجن گوگوئی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے دعویداروں کی لسٹ میں ہیں ۔کانگریس نیتا نے دعویٰ کیا سابق وزیر اعلیٰ گوگوئی کے لڑکے رنجن گوگوئی آسانی سے انسانی حقوق کمیشن و دیگر کمیشن کے چئرمین ہو سکتے ہیں ۔بھاجپا ایودھیا زمین تنازعہ کے نپٹارے سے رنجن گوگوئی سے خوش تھی ۔اگر وہ بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کے لئے راضی ہو جاتے ہیں تو یہ تعجب خیز نہیں ہوگا ۔حالانکہ پردیش صدر رندیپ کمار داس نے کہا لوگ جب بزرگ ہو جاتے ہیں تو کئی بے مطلب کی چیزیں بولتے ہیں ۔ترون گوگوئی نے سابق چیف جسٹس بھاجپا کے مکھیہ منتری امید وار بننے کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ نہیں ہے ترو ن گوگوئی نے کہا کہ وہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار نہیں بننے جارہے ہیں ۔
(انل نریندر)
پلوامہ حملہ :این آئی اے نے داخل کی چارشیٹ !
پلوامہ میں 14فروری 2019کو سی آر پی ایف قافلے پر ہوئے خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر اور اس کا بھائی رو¿ف اظہر تھے حملے میں 200کلو دھماکو سامان کا استعمال کیا گیا تھا اس میں 35کلو آرڈی ایکس تھا جو پاکستان سے لایا گیاتھا ۔این آئی اے کی چارشیٹ میں پڑوسی دیش کی سازش کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ایجنسی نے منگل کے روز جموں کی اسپیشل عدالت نے حملے کے ڈیڑ ھ سال بعد ساڑے تیرہ ہزار صفحات کا چارشیٹ سماعت کے لئے قبول کر لیا ۔سولہ مہینے کی جانچ کے بعد مسعوواظہر سمیت 19آتنکی ملزم بنائے گئے ہیں ۔14فروری 2019کو آتنکی حملے میں سی آر پی ایف کے چالیس جوان شہید ہوئے تھے مقدمہ کی سماعت پہلی ستمبر سے شروع ہوگی ۔این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد جیش محمد ایک اور آتنکی حملے کی تیاری میں تھا لیکن بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کو دیکھتے ہوئے اس نے حملہ روک دیا ۔چارشیٹ کے مطابق اب مسعود اظہر نے عمر فاروق کو پیغام بھیج کر حملہ نہ کرنے کو کہا تھا اس کے ڈیڑ ھ مہینے بعد فاروز مڈبھیڑ میں مارا گیا ۔پلوامہ حملہ جیش محمد کی ایک سوچی سمجھی بڑی سازش کا نتیجہ تھا جس کا تانا بانا حملے سے دو سال پہلے ہی بناجا رہاتھا ۔اس کے لئے باقاعدہ دہشت گردوں کو ٹریننگ لینے کے لئے افغانستا ن بھیجا گیا ۔طالبان آتنکی کیمپ میں دھماکہ کرنے کی ٹریننگ دی گئی ۔شاکر ،بشیر وغیرہ نے دہشت گردوں کی مد د کی تھی شاکر نے اپنے گھر میں ان دہشت گردوں کو پناہ دی تھی اور مدثر احمد خاں کے آتنکی نے شاکر کو بارودی چھڑیں بچھانے کو دیں ۔جنوری 2019میں سجاد احمد منڈو نے ایکو کار خریدی اسے شاکر ،بشیر کے گھر رکھا گیا ۔بارود کے دو بیگ بنائے گئے ایک افسر نے بتایا تھا جانچ ایجنسی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی کار کا مالکانہ حق ثابت کرنا تھا ۔دھماکہ کے بعد گاڑی کے پرکچھے اڑ گئے تھے اور سیرئیل نمبر کے آخری دو نمبر بھی ٹوٹ گئے ۔حلہ آور عادل کی پہچان بھی ڈی این اے پروفائلنگ کے ذریعے ہوئے جیش کے ترجمان محمد حسن نے ایک ویڈیو میں حملے کی ذمہ داری لی تھی اس کا آر پی ایڈرس پاکستان میں پتہ لگا ۔پلوامہ کے حملہ آوروں کی کس کس نے مدد کی تھی اگر پلوامہ حملے میں مسعود اظہر پر لگے الزامات صحیح ثابت کئے جا سکیں تو پاکستان پر نئے سرے سے دباو¿ بنانے میں کامیابی ملے گی مناسب رہے گا دہشت گردانہ واقعات سے جڑے معاملوں کی سماعت ایک طے میعاد کے اندر ہو جس کے لئے صرف قومی جانچ ایجنسی کے ساتھ ساتھ ان عدالتوں کو بھی تیزی دکھانی ہوگی جن پر ایسے معاملوں کی سماعت کی ذمہ داری ہے دیکھیں عدالت میں این آئی اے کتنا کچھ ثابت کر سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
سڑک پر صحافی کی لاش رکھ کر مظاہرہ !
اتر پردیش کے جنگل راج میں ایک اور صحافی غنڈوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا ۔بلیا میں پیر کی دیر شام ایک چینل کے صحافی رتن سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا ۔پولیس نے بدمعاشوں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ نکلے ۔ایس پی دیوندر ناتھ سمیت کئی اعلیٰ افسر تحقیقات میں مصروف ہیں اب تک چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے صحافی کے رشتہ دار کو دس لاکھ روپئے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے ۔اعظم گڑھ کے ڈی آئی جی چند ردوبے نے بتایا کہ معاملے میں دس لوگوں کو ملزم بنایاگیا ہے ۔باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے واضح ہو صحافی رتن سنگھ گاو¿ں میں کسی کے یہاں مل کر پیدل گھر واپس جارہے تھے تبھی کچھ لوگوں نے ان پر فائر کر دیا ۔جان بچانے کے لئے گاو¿ں کے پردھان کے گھر میں گھس گئے لیکن حملہ آوروں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور ان پر تین گولیاں ماری۔ جس سے رتن سنگھ کی موقع پر ہی موت ہو گئی ان کے قتل کے ناراض دیہاتیوں اور صحافیوں نے منگل کو لاش سڑک پر رکھ کر مظاہر ہ کیا اورتین گھنٹے تک جام کر دیا ۔اس دوران انتظامیہ نے پانچ لاکھ کی فوری امداد اور متوفی کی بیوی کو فوری نوکری دینے کا اعلان کیا تھا ۔تھانہ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے تمام نیتاو¿ں نے پریوار کو پچا س لاکھ روپئے کا معاوضہ اور بیوی کو سرکار ی نوکری اور ملزمان پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ لگانے کے ساتھ ان کے گھر کو زمین دوز کیا جائے اور معاملہ فاسٹریٹ عدالت میں چلے ۔ہم سورگیہ رتن سنگھ کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں سورگیہ کی آتما کو شانتی ملے گی ۔
(انل نریندر)
30 اگست 2020
اب ڈئیزائن دار ماسک کا زمانہ ہے !
پچھلے کچھ عرصے سے کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ماسک پہننے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اب وہ نئے فیشن ٹرینڈ کی شکل لیتا جا رہا ہے اور ماسک بنانے والے زمانے کے حساب سے نئے نئے ڈئزائن کے ماسک بنانے لگے ہیں آنے والے دنوں میں اس کی مانگ بڑھ جائے گی کیونکہ اب لیڈیز اب سوٹ کے ساتھ میچنگ والے ماسک بنوا رہی ہیں آج کل اس طرح کے جو ک سوشل میڈا پر کافی مقبول ہو رہے ہیں لیکن اب مذاق حقیقت میں بدل رہا ہے ۔ماہرین کے لئے آپ کا لک کیسا لگے سکھانے میں لگے ہوئے ہیں اس کی تازہ مثال پاکستان میں حال ہی میں دلہن کا ماسک لانچ کیا گیا ۔اور یہ ڈریس سے میچ کے ساتھ شیشے اور موتیوں سے بھی سجایا گیا ہے اب لوگ سیفٹی کے ساتھ اسٹائل بھی چاہتے ہیں اس لئے انہیں میچنگ ماسک پسند آرہے ہیں۔فیشن ڈئزائنگ کا کورس کرنے والی ایک عورت پرنجلی کہتی ہیں ماسک کو لے کر جتنا کمپین چل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں شادی اور جنم دن جیسے موقعوں پر لو گ ڈئزائر لیبل فیس ماسک بھی استعمال کریں گے وہیں ایک بینک میں کام کرنے والی عورت کا کہنا ہے کہ جب ماسک روز ہی پہننا ہے تو میچنگ کر کے ہی پہننا پڑے گا ۔میں نے بھی چار سے پانچ ماسک تیار کئے ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)
لاک ڈاﺅن کے چلتے دو کنبے اور تباہ ہوئے!
لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہم نے دیہاڑی مزدوروں ،فیکٹری ورکروں اور چھوٹے کسانوں کے ذریعہ خود کشی کے بارے میں سنا اور پڑھا تھا لیکن ایک درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والے پریوار بھی خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے دہلی کے چاندنی چوک علاقے میں دو سکے جوہری تاجر بھائیوںنے فائنسل کے دباﺅ میں بدھوار کو دوپہر ایک ساتھ پھانسی لگا کر خود کشی کر لی ۔فائننسر کے باﺅنسر مسلسل ان کاروباری بھائیوں سے پیسہ مع سود لوٹانے کےلئے دباﺅ ڈال رہے تھے انہوںنے اپنی دوکان میں ہی راڈ کے سہارے دھوتی سے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ان کے نام انکت گپتا اور ارپت گپتا ہے ان کی مالیواڑہ میں دکان ہے ۔پولیس کو موقع واردات سے ایک خودکشی نامہ ملا ہے جس میں مالی تنگی کے سبب خود کشی کی بات کہی گئی ہے ۔ڈی سی پی نارتھ مونیکا بھاردواج کے مطابق دونوں بھائی ایک ساتھ جوہری کا کام کرتے تھے اور بازار سیتا رام میں رہتے تھے دونوں بھائیوں نے جوہری کی دکان کھول رکھی تھی ارپک گپتا نے شادی نہیں کی تھی گھاٹے سے نکلنے کےلئے ان کے بھائیوںنے چاندنی چوک کے کسی جوہری سے 15فیصدی سود پر لاکھوں روپئے کا قرض لیا تھا قرض چکانے میں دیری ہوئی تو سود خور پچھلے تین مہینے سے ان کو پریشان کر رہا تھا اس کے باﺅنسر مار پیٹ بھی کر چکے تھے اس بات سے دونوں بھائی بہت دکھی تھی آخر کار دھمکیوں سے پریشان ہوکر بدھوار کی دوپہر دونوں بھائیوں نے کاٹر کے سہارے دھوتی ڈال کر پھانسی لگا لی فی الحال کوتوالی پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے لاک ڈاﺅن سے پریشان دو اورپریوار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔
(انل نریندر)
دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض بھارت میں!
بھارت اُن ملکوں میں شامل ہو گیاہے جنہوں نے کورونا انفیکشن کی رفتار کو روکنے کے لئے سخت قاعدے نافذ کئے ،خاص طور سے لاک ڈاﺅن نافذ کرنے کے معاملے میں بھارت نے دوسرے دیشوں کے مقابلے زیادہ سختی اور احتیاط برطی لاک ڈاﺅن مارچ میں شروع ہو کر اب بھی جاری ہے اور اس کا اثر معیشت پر پڑنے لگا ہے ۔اب عام لوگوں کے سامنے روزی روٹی کی چنوتی کھڑی ہوجانے کے پیش نظر لاک ڈاﺅن میں مرحلے وار راحت دی جا رہی ہے ۔اور آہستہ آہستہ عام زندگی پٹری پر لوٹ رہی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس نرمی کو انفیکشن نہ روکے جانے کی وجہ بھی مانا جانے لگا ہے ۔حالانکہ سچائی یہ ہے کہ سب سے زیادہ قاعدے لاگو کرنے کے باوجود کورونا کو روکا نہیں جا سکا ۔اب سو دنوں میں معاملے 35لاکھ کو پار کر گئے ہیں سوال یہ بھی ہے کہ جس دور میں ہر طرف کاروبار ی و صنعتی سرگرمیاں بند تھیں لوگ گھروں سے نہیں نکل رہے تھے آج حالت یہاں پہنچ گئی ہے دیش میں ایک دن میں ریکارڈ75ہزار 760مریض سامنے آگئے ہیں ۔یہ دنیا کے کسی بھی دیش میں ایک دن میں ملنے والے نئے مریضوں کا ریکارڈ بھی ہے ۔جمعرات کو دیش میں کل ایک دن میں وائرس کی وجہ سے 1023لوگوں کی جان گئی۔ اور مرنے والوں کی تعداد 60ہزار سے اوپر چلی گئی ہے اور مریضوں کی تعداد کے معاملے میں بھارت نے برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اور دنیا میں دوسر ے نمبر پر آگیا ۔اس درمیان دہلی میں کوڈ کے پھر سے بڑھتے مریضوں کے بارے میں ایسپرٹ کا کہنا ہے کہ اگر یہ انفیکشن لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے تو یہ فکر کی بات ہے ۔ابھی اور زیاد ہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے ۔انسٹی ٹیوٹ آ ف لیور اینڈ بلیری سائنس کے ڈائیکٹر ڈاکٹر ایس کے سرین نے کہا کہ جس طرح دہلی میں پھر سے انفکیشن کے معاملے بڑھ رہے ہیں وہ بھلے ہی تشویش کی بات نہ ہو لیکن اس پر توجہ دینی ہوگی ۔دہلی کی آبادی میں ایٹی باڈیز اچھی طرح پیدا ہو گئی ہے اس لئے بہت زیادہ ڈرنے کی بات نہیں اور دس سے پندرہ دن میں کنٹرول کر لیا جائے گا ۔جانچ کا دائرہ بڑھانے سے انفیکشن کے مریضوں کی پہچان تو ہو سکتی ہے لیکن اس پر پوری طرح قابو پانے کا یہ اکیلا راستہ نہیں ہو سکتا توجہ دینے کی ضرورت ہے جب تک وبا کو لے کر لوگ خود چوکس نہیں ہوں گے تو وائرس کے توڑ کے اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے تب تک انفکیشن پر قابو پانا مشکل ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...