Translater
24 جولائی 2020
آہستہ آہستہ مٹ رہا ہے تباہی کا ہر نشان !
2013میں کیدار ناتھ قدرتی آفت نے نا صرف کیدار پوری بلکہ گوری کنڈ اور سون پریاگ میں بھی تباہی مچائی سون پریاگ تو پوری طرح سیلاب میں سما گیا تھا جبکہ گوری کنڈ کا منداکنی سے لگا حصہ زمین دوز ہوگیا تھا لیکن گزشتہ 7برسوں کے دوران دوبارہ تعمیراتی کاموں نے اب دونوں قصبوں کی صورت ہی بدل ڈالی ہے حالانکہ اب بھی کئی کام ہونے باقی ہیں سون پریاگ میں سو سے زیادہ کمرشل ادارے تہس نہس ہو گئے تھے قصبہ کا باقی حصہ پانی میں ڈوب گیاتھا اسی طرح گوری کنڈ میں منداکنی ندی کے کنارے بنے ایک سو پچاس سے زائد ہوتل اور لاج سیلاب کی زد میں آگئے تھے ۔گوری کنڈ سے لیکر سون پریاگ کا جو چھ کلومیٹر کا حصہ ڈہہ گیا تھا اس کی مرمت ہو گئی ہے ۔2015میں امریکی تکنیک سے سون پریاگ میں ایک اوور برج بنایا گیا جس پر 36کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے ۔کیدارناتھ کے اہم پڑاو¿ کی بات کریں تو تباہی کے باوجود گوری کنڈ کو سون پریاگ سے جوڑنے کے لئے پیدل راستہ گوری کنڈ میں ہیلی پیڈ کی تعمیر کی گئی ہے ۔لیکن دورے قدیم کی اس کنڈ کی دوبارہ تعمیر ابھی نہیں ہو پائی آہستہ آہستہ سمٹتا جا رہا ہے ۔2013میں آئی قدرتی آفت سے تباہی کے نشان ۔
(انل نریندر)
چاہ بار پر ایران نے پٹری سے اتاری ریل !
ایران نے بھارت کو چاہ بار ریل پروجیکٹ سے باہر کر دیا ہے بھارت کے ذریعے پیسہ دینے کی وجہ بتاتے ہوئے ایران نے کہا اب وہ اکیلے ہی اس پروجیکٹ کو پورا کریگا ۔ایران کا یہ فیصلہ فوجی اور حکمت عملی طور پر ایک بڑا جھٹکا ہے ۔وہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے اس غیر متوقع قدم کے پیچھے چین کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔در اصل ایران اور چین کے درمیان ایک بڑا سود اہونے والا ہے جن میں چین ایران سے سستے داموں میں تیل خریدےگا اور اس کے بدلے ایران میں وہ اربوں ڈالر کی سرامایہ کاری کریگا بتایاجاتا ہے کہ اسی دباو¿ میں آکر ایران نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔2014میں ایران کے دورے پر پی ایم مودی نے چاہ بار سمجھوتے پر دستخط کئے تھے ۔بھارت کی سرکاری کمپنی اکرون اس پروجیکٹ کو پوراکرنے والی تھی اس کے تحت ایران کے چاہ بار بندرگاہ سے لیکر جہدان علاقے تک افغانستان کی سرحد تک کام ہونا تھا ۔بتایا جاتا ہے اس پروجیکٹ کی اہمیت اس لئے بھی بھارت کے لئے اہم تھی کیونکہ اسے چین کے گوادر بندرگاہ پالیسی کے جواب کے طور پر دیکھا جارہاتھا اس کے ذریعے چین ایشیا میں اپنا کاروبار مضبوط کررہا ہے ساتھ ہی اس پروجیکٹ کے پوراہونے سے بھارت کو افغانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ملکوں کو ایک متبادل راستہ بھی مل جاتا اس پروجیکٹ سے بھارت کی اقتصادی سرگرمیاں بھی تیز ہو سکتی تھیں ۔لیکن ایران کا یہ قدم بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے اس قدم سے بھارت چین کے دہائیوں پرانے کاروباری اور خیر سگالی رشتوں میں کھٹاس آسکتی ہے ۔ایران بھارت لمبے عرصہ تک ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق ایران اور چین کے درمیان 400ارب ڈالر کا بڑا سودا آخری مرحلے میں ہے اس معاہدے کے تحت چین ایران میں بینکنگ ،کمیونیکیشن ،بندرگاہ ،ریلوے اور کئی دیگر سیکٹر میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی موجودگی بڑھائے گا دوسری طرف ایران چین کو 25سال تک اپنا تیل کم قیمت پر فرخت کرتا رہےگا ۔مئی 2008میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہوئے نیوکلیائی سمجھوتے سے امریکہ کو الگ کرتے ہوئے ایران پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔اس میں ایران کے لئے دوسرے دیسوں کو تیل بیچنا مشکل ہو گیا تھا بھارت ایران سے سب سے زیادہ تیل خریدتا تھا لیکن امریکی پابندیوں کے بعد اس نے کٹوتی کرنی شروع کر دی تھی اب چین کی بھاری بھرکم سرمایہ کاری سے ایران اپنی معیشت کو مشکل سے نکال پائیگا ۔اخبار کے مطابق ایران فوجی مشکوں اور ریسرچ او ر ہتھیاروں کو ڈولپمنٹ اور انٹیلی جینٹس جیسے سیکٹر میں تعاون دیں گے ۔چین وسطی مشرقی ایشیا میں اپنی حکمت عملی اور مضبوط کر پائیگا جہاں دوسری جنگ کے بعد سے امریکہ کا دبدبہ رہا ہے ۔ایران اور چین کے سودے کے پیچھے چینی صدر جنگ پنگ شی کا ہاتھ رہا ہے ۔چین ایک تیر سے کئی شکار کرناچاہتا ہے ۔
(انل نریندر)
بیٹیوں کے سامنے صحافی کا قتل!
غازی آباد کے علاقے وجے نگر کی ماتا کالونی میں پیر کی دیر رات میڈیا ملازم وکرم جوشی کو بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ان کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی صبح سویرے موت ہو گئی ۔وکرم جوشی کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے 16جولائی کو انہوں نے اپنی بھانجی سے چھیڑ چھاڑ اور اپنے بھائی سے مار پیٹ کرنے کی شکایت پرتاپ وہار تھانے میں کی تھی ۔وکرم پیر کی رات بیٹیوں کے ساتھ بائک پر گھر لوٹ رہے تھے تبھی دس حملہ آوروں نے ان کی موٹر سائیکل کے سامنے آکر بائک روکنے پر مجبور کر دیا اور رکتے ہی وہ وکرم کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگے اسی دوران ان میں سے ایک شخص نے وکرم جوشی کے سر پر گولی مار دی ۔بڑی بیٹی نے شور مچایا اور مدد کے لئے چلائی جب کوئی نہیں آیا تو پھوپھی کو جاکر واقعے کی جانکاری دی اس کے بعد وکرم کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں بھرتی کرایاگیا ۔جہاں ان کی موت ہو گئی 35سالہ وکرم جوشی ایک مقامی اخبار میں کام کیاکرتے تھے ان کے پریوار میں بیوی د و بیٹیاں اور ماں ہے ۔پولیس نے نو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ آکاش نام کے فرار ملزم کی تلا ش ہے ۔چھیڑ چھاڑ معاملے کی شکایت ملنے کے باوجود کاروائی نا کرنے والے پتہ وہار چوکی انچارج روگھوندر سنگھ کو ایس ایس پی نے معطل کر دیا ہے ۔ساتھ ہی پولیس کی لاپرواہی کو لیکر سی او نے شعبہ ذاتی کاروائی کا حکم دیا ہے ۔جس میں پرتاب وہار چوکی انچارج کی لاپرواہی سامنے آئی ہے ۔گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو وقت رہتے کاروائی ہوتی تو وکرم کی جان بچ جاتی ۔الزام ہے کہ حملہ آور کئی گھنٹوں سے وکرم کا پیچھا کررہے تھے ۔رات 8بجے ملزمان کو دیکھ کر وکرم جوشی نے پرتاپ وہار جوشی کو فون کر دیا اور انہوں نے درکنار کر دیا ۔چوکی انچارج نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ دیکر پلہ جھاڑ لیا ۔وکرم نے بدمعاشوں کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ۔بدمعاشوں کو متاثرہ خاندان کے ہر سرگرمی کی جانکاری مل رہی تھی ۔خاندان کا کہنا ہے اسی کے سبب وکرم کو راستے میں روک کر پہلے مارپیٹ کی گئی پھر گولی ماری گئی ۔یہ جانکاری تھانے سے ملتی رہی ۔اتر پردیش میں قتل کے آئے دن واقعات عام بات ہو گئی ہے ۔حال ہی میں آبر وریزی کے ایک ملزم نے ضمانت پر چھوٹنے کے بعد گاو¿ں لوٹ کر دہشت پھیلا دی ۔لڑکی اور اس کی ماں کو دن دہاڑے ٹیلر کے نیچے کچل دیا ۔اگر اسے پولیس کا خوف ہوتا تو ایسی گھناو¿نی حرکت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔وکرم کیس میں ناصرف غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کا الزام لگتا ہے بلکہ پولیس کی غنڈوں کے ساتھ ملی بھگت ثابت ہوتی ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں جرائم پیسہ جب بے خوف ہوتے ہیں تو پولیس انتظامیہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور بے قصور صحافی اترپردیش میں جنگل راز کا شکار ہوگیا ۔ہم غمزدہ خاندان کو صبر و تحمل کی نصیحت اور صحافی کو شردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں وکرم کے قصورواروں کو سخت سے سخت سز ا ملے ۔
(انل نریندر)
23 جولائی 2020
ایمس سوسائڈ پوائنٹ کیسے بن گیا؟
دیش بھر میں عمدہ ہیلتھ خدمات کے لئے بڑے مرکز آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف اینڈ سائنسز (ایمس )لگتا ہے کہ خود کشی کرنے والوں کے لئے مفید جگہ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے ۔عالمی بیماری کورونا ہیلتھ کے دوران کچھ مہینوں کے اندر وہاں بھرتی مریضوں کے لئے کی جارہی خود کشی کے معاملے اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔تعجب یہ ہے کہ سنگین طور سے بیمار ایسا قدم ان ناگزیںحالات میں اٹھانے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں جب انہیں آئی سی یو میں کھانسی اور دیگر بیماری کے بعد بھرتی کر لیا جاتا ہے اس دوران وہ خود کشی کررہے ہیں ۔اس اسپتال میں سکیورٹی کے نام پر کم سے کم 30سے 35کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں خود کشی کے بڑھتے معاملوں سے ایمس کی ساکھ خراب ہونے لگی ہے ۔پچھلے کچھ دنوں میں ایمس اور اس کے ٹرامہ سینٹر کے اندر چار چار خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔اس طرح کے واقعات کے بعد ایمس کے ڈاکٹر اور نرس اور باقی اسٹاف بھی کافی فکر مند ہیں خو د کشی کے پچھلے چار معاملوں پر غورکریں تو سب سے پہلے ایمس ٹرامہ سینٹر کے اندر بنے ورن اینڈ پلاسٹک سرجری کی بلڈنگ کی چھت سے ایک شخص کے چھلانگ لگانے کا معاملہ سامنے آیا جس کی پہچان نہیں ہو پائی ۔ابھی اس بلڈنگ کے اندر کووڈ کے مریضوں کا علاج چل رہاہے ۔باوجود سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کوئی مریض اتنی سکیورٹی میں چھت تک کیسے پہونچ گیا اور اسے کسی سکیورٹی گارڈ نے روکا تک نہیں ؟ایسا ہی دوسرا معاملہ آئی سی یو میں بھرتی ایک نوجوان صحافی مریض اپنے وارڈ سے نکل کر اسپتال کی پہلی منزل سے چوتھی منزل تک اور وہاں سے کود کر جان دے دیتا ہے ۔اسے بھی کوئی روک نہیں پایا ایسے ہی تیسرا معاملہ ایمس کے ہاسٹل کا ہے جہاں پر دسویں منزل سے کود کر ایک ریجڈنٹ ڈاکٹر نے جان دے دی ۔اب چوتھا معاملہ بھی ایمس کا ہی ہے جہاں ایک مریض نے خود کشی کر لی ۔ایمس کی ایڈٹ روپورٹ 2018سے لیکر 2020میں ایمس میں تین سطحی سکیورٹی انتظام ہے جس پر سالانہ 30سے 35کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا جاتا ہے ۔پہلے ٹائر میں ایمس کے سو سے زیادہ مستقل سکیورٹی ملازم ہیں دوسرے فیس میں پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسیوں کے چار سو سے زیادہ گارڈ ہیں اور تیسرے میں دہلی پولیس اور دہلی ہوم گار ڈ کی سیوا لی جاتی ہے ۔اور ہر بلا ک میں سی سی ٹی وی کیمرے ہیں ۔چوبیس گھنٹے میں گارڈ کسی بھی تیمار دار کو پھٹکنے نہیںدیتے باوجود اس کے اسپتال میں خود کشی کے معاملے بڑھ رہے ہیں اس پر ایمس کی ترجمان ڈاکٹر آرتی وج سدا ہما جواب دیتی ہیں کہ ہم مریضوں کی زندگی بچاتے ہیں اگر کوئی خود کشی کرتا ہے تو اس بارے میں دہلی پولیس جانچ کرتی ہے ۔
(انل نریندر)
دیش نے لیبر طاقت کو پہچانا !
لاک ڈاو¿ن کے بعد پیدل ہی ہزاروں کلو میٹر چل کر جانے والے مزدور سارا درد بھلا کر لوٹنے لگے ہیں جنہوں نے کام بند ہونے پر انہیں تنخواہ یا پناہ دینے سے منع کر دیا تھا اب وہی لوگ انہیں 20ہزار روپئے ایڈوانس اور ڈیڑھ گنا مزدوری کے ساتھ لوٹنے کے لئے ائیر کنڈیشن بسیں تک بھیج رہے ہیں یہ ہی نہیں کئی لیبرس کی مانگ ہے کہ انہیں رہنے کے لئے باقاعدہ ایک فلیٹ بھی دیا جائے ۔بہار کے دس اضلاع کے 61دیہات جہاں سب سے زیادہ تارکین مزدور لوٹے ہیں ان کی رپورٹ میڈیا میں چھپی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ان میں 7اضلاع کے ریہات میں اوسطاً 50فیصد سے زیادہ لوگ لوٹے ہیں ۔کئی ایسے ہیں جنہیں گاو¿ں بھی کام نمل گیا ہے ۔اور بہت سے ایسے ہیں جو ابھی کام کی تلاش میں ہیں۔مظفر پور کے تین اور ارہریا کے دو منڈلوں میں پنجاب ہریانہ سے آئی ائیر کنڈیشن بسوں میں لیبر لوٹ چکے ہیں ۔کتنے لوگ لوٹے ہیں اس کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے لیکن گاو¿ں والے نام ضرور بتاتے ہیں کہتے ہیں بلانے والوں نے 20-20ہزار روپئے ایڈوانس دئیے کسی کو دگنی مزدوری کا لالچ ملا تو کہیں تین مہینے کا ہرجانہ جنہیں اچھا لگا وہ پچھلا سارا در بھول کر گھر سے اپنے کام کی طرف لوٹ چلے ۔زیادہ تر اضلاع میں جاب کارڈ پاکر من ریگا سے مزدوری کرنے والے کہتے ہیں 194روپئے کا کام وہ بھی روزانہ نہیں اس لئے جسے بلاوا آرہا ہے وہ نکل جارہا ہے ۔کشن گنج کے بہادر قصبے سے ملے مزدوروں نے کہا ہاتھوں میں ہنر ہے لیکن کام نہیں بہار کے تو باہر کے لوگ تو کما کر گھر بھیج دیتے تھے ابھی خود بوجھ بنے ہوئے ہیں ایسے ہی لدھیانہ سے لوٹے ایک لیبر سلجیب کا کہنا ہے کہ وہاں روز 6سو روپئے کماتا تھا لیکن یہاں یہ ممکن نہیں ہے کورونا دور میں لوٹے بہاریوں کو بہار سرکار کے پروجیکٹوں میں تو کام ملا رہاہے لیکن دوبارہ لاک ڈاو¿ن اور ہر سال آنے والے سیلاب سے بھی ڈرے ہوئے ہیں ویسے زیادہ تر لوگوں نے ایک آواز میں کہا کہ یہاں سرکار کی کوشش نظر آرہی ہے لیکن پردیش جیسی کمائی یہاں مشکل ہے ۔اب تو فیکٹری مالک اور کھیتی کرانے والے پہلے سے زیادہ پیسہ دے رہے ہیں ۔لوٹنے کا خرچ اور پچھلا بقایا بھی دراصل بغیر دیہاڑی مزدوروں کے پنجاب ہریانہ کے خوش حال کسانوں کی کھیتی خراب ہو رہی ہے وہاں مزدوروں کی قلت ہے ۔دہلی پنجاب ہریانہ گجرات اور مہاراشٹر تلنگانہ کے فیکٹری مالک اپنے پرانے تجربہ کار مزدور بہاریوں کو بلاوے پر پلاوا بھیج رہے ہیں ہر بار ان کی آفر پہلے سے زیادہ ہوتی ہے ۔یہاں کے لیبر کئی برسوں سے ان کی فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں انہیں کام کی ایک ایک باریکی کا پتہ ہے اس لئے لیبر کو جانے کے لئے لیبر کو آنے کے لئے بسیں بھی بھیج رہے ہیں حالانکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ڈر ستارہا ہے کہ وہ جلد نہیں لوٹے تو پرانی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔ایسے ہی کام ملنے پر تھوڑا وقت تو لگے گا لیکن شام سندر کہتے ہیں کہ اس لاک ڈاو¿ن میں پورے دیش نے ہماری طاقت کو سمجھ لیا ہے ۔جہاں سے ہم نکل گئے ان کی ہیکڑی اتری ہوئی ہے ۔سرکار ہمارے ذریعے بہار کی چمک نکھارنے اسی کا انتظار ہے ۔
(انل نریندر)
22 جولائی 2020
چین کی چال :جہاں تک یاک آیا زمین ہماری!
چین کے علاقے اقصائی چن میں لگے ہندوستانی خطے میں لگے قبضہ کرنے کے لئے فوج کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتاہے ۔گرمیوں میں تبتی پٹھار سے جانوروں کو گھاس چرنے کے لئے لداخ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے ۔جہاں تک یاک دیکھیں چین وہیں تک اپنا دعویٰ کر لیتا ہے پھر تنازعہ فوجی سطح پر پہونچتا ہے ۔نادم کمانڈ کے چیف رہے لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی نے بتایا گھاس چرانے کے لئے چین کی طرف سے یاک( سانڈوں)پر رنگ لگا کر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے یاک جہاں بھی گھاس دیکھتا ہے چرنے کے لئے پہونچ جاتا جیسے ہی برف پڑنی شروع ہوتی ہے تو وہ واپس اپنے گھر کو لوٹ جاتے ہیں ۔تین چار مہینے تک یہ ایسے ہی گھومتا رہتا ہے ۔جیسے ہی یہ سانڈ انٹری کرتے ہیں تو ویسے ہی فوجی پہونچ جاتے ہیں کہ یہ یاک ہمارا ہے ۔اور یہ ہمارا علاقہ ہے پھر ہندوستان فوجیوں سے دھکہ مکی کرنے لگتے ہیں لداخ اور اس سے جڑے تبتی علاقے کولڈ یعنی ٹھنڈا ریگستان یہاں پر کوئی کھانے پینے کی چیز پیدا نہیں ہوتی وہاں درجہ حرارت جہاں کم ہوتا ہے ۔وہاں تھوڑی سی گھاس یا دیگر چیزیں اگ آتی ہیں ۔اس بات کی تصدیق لداخ کے ایم پی شئیرنگ نام نہال نے کی ہے ۔راہل گاندھی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ٹوئیٹ پیغامیں لکھا کہ ہاں ٹیم نے ہندوستانی علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ 1962سے 37244مربع کلو میٹر کا قبضہ ہے ۔2008میں پی ایل اے نے ڈیم جوک کے جاراوارڈ قلعے کو ڈھاکر اپنی چوکی بنا لی تھی اور 2012میں ڈیم جوک نے نئی کالونی بنائی 2009کے دوران چین نے بھارت کے تجارتی راستے ڈوم ییلی جوکہ ڈنگتی اور ڈیم جوک کے بیچ میں تھے کو ہڑپ لیا ہے چین کی چال ہے جہاں تک یاک آیا زمین ہماری ۔
(انل نریندر)
3گھنٹے کی بارش نے دہلی کی بری حالت کر دی !
بارش کو ترس رہی دہلی میں اتوار کو جم کر بادل برسے اور منگل کے روز بھی بارش ہوئی بے شک اس نے دہلی کے باشندوں کو گرمی اور امس سے راحت سے ضرور دلائی ہو لیکن یہ ساتھ میں آفت بھی لے آئی ۔چار الگ الگ واقعات میں آٹھ سالہ بچے سمیت چار لوگوں کی مو ت ہو گئی ساتھ ہی آئی ٹی یو کے پاس واقع انا نگر میں ایک درجن سے زیادہ جھگیاں بہہ گئیں ۔اور تھانے میں بھی پانی بھر گیا ۔کناڈ پلیس سے لیکر پرانی دہلی تک مختلف بازاروں کی دوکانوں اور گھروں میں پانی اندر داخل ہو گیا وہیں پرانی دہلی کے حوض قاضی علاقے میں ایک قدیمی مسجد کا گنبد آسمانی بجلی گرنے سے ڈہہ گیا ۔اتوار کو صبح چار بجے کے آس پا س شروع ہوئی موسلہ دھار بارش نے تین گھنٹے میں ہی دیش کی راجدھانی پانی کے نکاس کے سسٹم کی پول کھول دی اس دوران سرکاری سڑکوں پر پانی بھر گیا منٹوں روڈ پر پانی بھرنے سے ڈی ٹی سی کی ایک بس آدھی سے زیادہ ڈوب گئی حالانکہ فائرمحکمے نے بس میں پھنسے ڈروائیور اور کنڈیکٹر کو محفوظ نکال لیا ۔خوش قسمتی تھی کہ بس میں مسافر نہیں تھے ایسے ہی کئی آٹو پھنس گئے ۔ان کے ڈرائیوروں کو محفوظ نکالا گیا ۔اس درمیان منی ٹرک میں پانی بھر جانے سے اس کی ڈرائیور کندر سنگھ عطر کی موت ہو گئی یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ہر سال بارش کے دوران پانی بھرنے کی دکتیں آتی ہیں لیکن سیاسی نیتاو¿ں کی تو تو میں میں کی وجہ سے یہ مسئلہ بنا رہتا ہے ۔اس مرتبہ بھی حکمراں عام آدمی پارٹی اور اپوزیشن بھاجپا اور کانگریس کے درمیان دہلی میں پانی بھرنے کو لیکر ایک دوسرے پر الزام تراشی کا دور شروع ہو گیا مگر سچائی یہ ہے کہ اقتدار میں بنے رہنے کے دوران ہر سیاسی پارٹی اس مسئلے سے آنکھیں چراتی رہی ہے ۔واقعی یہ شرم کی بات ہے کہ صرف 74ملی میٹر بارش سے دہلی دریامیں تبدیل ہو گئی ہے ۔سیدھے طور پر یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بارش سے پہلے اپنی تیاریاں پوری کرتی یہ بتانا کافی ہے کہ تمام بلدیاتی اداروں پی ڈبلیو ڈی کارپوریشن نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی موسلہ دھار بارش سے آنے والی دکتوں سے کیسے قابو پایا جا سکتا ہے ابھی دہلی میں پوری طرح مانسون نہیں آیا ہے اور جب آئیگا تو بھگوان ہی دہلی کا مالک ہے اوپر والے کی دہری مار پڑ رہی ہے ایک طرف کورونا اور دوسری طرف پانے کے بھراو¿ کا معاملہ ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...