Translater

17 اپریل 2020

لاک ڈاو ¿ن میں شکایتوں میں گراوٹ مگر بدفعلی جاری!

کورونا وبا کو روکنے کے لئے جاری لاک ڈاو ¿ن کے درمیان وومن کمیشن کے پاس آنے والی عورتوں سے جرائم کی شکایت میں بدستور کمی آرہی ہے لیکن یہ تکلیف دہ بات ہے کہ بدفعلی اور پاستوں کے معاملے پھر بھی آرہے ہیں حالانکہ کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثر ہ ڈر یا جرائم پیشہ سے دور رہ کر بھی شکایت نہیں کروا رہی ہے ۔دہلی مہیلاکمیشن کی چیف سواتی ماہیوال کاکہنا ہے کہ جب پورا دیش کرونا سے لڑ رہا ہے تب بھی عصمت دری سائبر کرائم اور گھریلو مارپیٹ کے معاملے بھی سامنے آ رہے ہیں ۔دہلی مہیلا کمیشن نے شکایتوں کو لیکر ایک ہی نتیجہ نکالا ہے کہ اس میں چھیڑ چھاڑ جنسی اذیت اور پیچھا کرنے کے معاملوں میں گراوٹ آئی ہے اور اس وقت اوسطاً چھ فیصد شکایتیں ملی ہیں ۔لیکن لاک ڈاو ¿ن کے دوران یہ شکایتیں دو سے تین فیصد رہ گئی ہیں ۔یعنی شکایتوں میں چھیاسٹھ فیصد گراوٹ آئی ہے اور بدفعلی کے معاملوںمیں 71فیصد کمی آئی ہے ۔اس کے علاوہ اغوا کے معاملوں میں بھی 90فیصد کمی آئی ہے ان کی ہیلپ لائن اور ریپ کراسس سیل 24گھنٹے کام کر رہے ہیں اور ان کو تقریبا1400کال مل رہی ہیں مہیلا پنچایت کی ٹیمیں راشن پانے میں عورتوں اور ان کے گھر والوں کی مدد کر رہی ہیں ۔ساتھ ہی مالی وال کاکہنا ہے کہ ہم ٹیم کی مدد سے جرائم کے معاملوں کو پولیس کی مدد سے پکڑرہے ہیں ۔لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے مشکل وقت میں بھی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ بدفعلی اور گھریلو مارپیٹ کے واقعات روزانہ ہو رہے ہیں ۔ہم لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں اس مشکل کے وقت میں انسانیت دکھائیں۔
(انل نریندر)

میڈیا کو ضروری سروس مانیں حکومتیں!

یونسکو نے کورونا وائرس کووڈ19-سے متعلق غلط اطلاعات کی وبا کو روکنے کے لئے دنیا کی سبھی سرکاروں کو پیر کے روز میڈیا کو ضروری سروس کے طور پر تسلیم کرنے اور اس کی حمایت کرنے کو کہا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے یونسکو میں کمیونیکیشن و اطلاعات سے متعلق پالیسیوں او ر حکمت عملیوں کے شعبے کے ڈائرکٹر گام برجر نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا بمشکل کوئی علاقہ ہوگا جہاں اس وائرس کے بحران سے متعلق غلط اطلاعات نہیں پہونچی ہوںگی ۔یہ کورونا وئرس کے اطلاعات سے لیکر غیر مجاز کے اقدام تک سرکاریں ،کمپنیاں اور ہستیوں کےذریعے اٹھائے جا رہے قدموں تک ہی محدود ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق بے بھروسہ مند اور غلط اطلاعات پوری دنیا میں ا س حد تک پھیل رہی ہے کہ کچھ اس کے مخالف کووڈ19-عالمی وبا سے جڑی غلط اطلاعات کے اس نئے انبار کو اطلاعات کی وبا مان رہے ہیں ۔برجر کا کہنا ہے کہ یونسکو خاص کر سرکاروں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی پر پابندی نا لگائیں ۔جو آزاد پریس کے رول کو نقصان پہونچا سکتی ہیں ۔بلکہ صحافت کو غلط اطلاعات کے خلاف ایک طاقت کی شکل میں پہچانیں ۔اس صورت میں بھی ایسی پختہ رائے شائع کریں جو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو ناگوار گزرتی ہیں انہوں نے کہا کہ مان لیں کہ ٹھوس ثبوت ہیں ۔سرکاریں میڈیا کو ایک ضروری سروس کے طور پر پہچانیں اور سچی اطلاعات کے ٹرینڈ کو بہتر کیا جائے اور یقنی کیا جائے کہ اطلاعات صحیح ہونی چاہیے ۔برجر نے کہا کہ ہم نشاندھی کر رہے ہیں کہ سرکاروں کوافواہ کو روکنے میں زیادہ شفافیت لانی ہوگی ۔اور اطلاعات کے حق قانون اور پالیسیوں کے مطابق زیادہ سرگرمی سے سچائی سامنے رکھیں ۔حالانکہ یہ اخبار و میڈیا کے ذریعہ دی جانے والی اطلاعات کا متبادل نہیں ہے اس لئے ہم حکام کو اس بات کے لئے رضامند کرنے کی اپنی کوسشوں کو تیز کر رہے ہیں ۔غلط اطلاعات کے خلاف جنگ میں ایک ساتھی کے طور پر آزاد اور پیشہ ور صحافت کو جاری رہنے دیں۔
(انل نریندر)

تیزگرمی میں کورونا انفیکشن میں کمی کا امکا ن!

کورونا وائرس کاپہلا معاملہ گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہا ن میں سامنے آیا تھا اس کے بعد سے یہ وائرس وبا کی شکل لے چکاہے جس وجہ سے اس نے پوری دنیا کو اپنی ضد میں لے لیا ہے جسے لیکر پوری دنیا کی حکومتیں اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے کے لئے چوکس کر رہی ہیں اور اس وائر س میں انفکشن سے بچنے کے لئے معلومات ایک دوسرے سے شئیر کررہی ہیں ۔ان کے سبب لوگوں کے دل میں کئی طرح کے سوال پیدا ہو رہے ہیں ۔کئی جگہ اس طرح کے دعوے ہو رہے ہیں کہ گرمی سے کوروناوائرس ختم ہو سکتا ہے ۔کئی دعووں میں پانی کو گرم کرکے پینے کی صلاح دی جارہی ہے ۔یہاں تک کہ نہانے کے لئے بھی گرم پانی کے استعمال کی بات کی جار ہی ہے اس طرح کے دعوے شوشل میڈیا پر بھرے پڑے ہیں ایک پوسٹ جسے کئی دیشوں میں ہزاروں لوگوں نے شیئر کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرم پانی پینے اور سورج کی روشنی میں رہنے سے وائرس کو مارا جا سکتا ہے اس دعویٰ میں آئیس کریم کو ناکھانے کی صلاح دی گئی ہے ۔ایئر کنڈیشن استعمال ناکرنے کوبھی کہا گیا ہے ۔اتنا ہی نہیں اس مسج کے ساتھ فرضی طریقے سے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ تمام باتیں یونیسف نے کہی ہیں اس ادارے میں کام کرنے والی چارلڈ گارجنٹ نے ان تمام دعوں کو سرے سرے مستردکیا۔انہوں نے صاف کیا کہ ہمارے پا س ایسی کوئی جدید نظیر نہیں ہے جس میں یہ دعوے سے کہا جا سکے کہ کورونا وائرس گرمی سے مر جاتا ہے وہیں ہندوستانی پرندوں ،چرندوں کے سائنسدانوں نے کہا کہ دیش میں تیزگرمی پڑنے سے کورونا وائرس کی شرع میں کمی آجاتی ہے ۔آئی این ایچ پروجیکٹ اپریکش پر امریکی فوج کے لیب میں کام کر چکے ہندوستانی مائکرولوجسٹ پروفیسر وائی سنگھ نے بتایا کہ اپریل کے اخیر تک 40ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت کورونا وائرس کے اثر کو کم کر سکتا ہے ۔سی ایم آئی آر کے انسٹی ٹیوٹ آف جیونومکس کے پروفیسر رہے سنگھ کا کہناہے کہ درجہ حرارت ہونے پر کسی طرح پر وائرس کے زندہ رہنے کی مدت کم ہو جائے گی جس وجہ سے گم ہوا چلنے سے انسانوںمیں اس کا انفکشن کم ہوگا لیکن کوئی متاثر ہے تو باہر کے درجہ حرارت پر اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔امریکہ انفکشن امراض کے ماہر اینتینی فوسی کے ساتھ کام کرچکے وائرولوجسٹ ڈاکٹر اکھل سنگھ بینرجی اگر درجہ حرارت 39یا 40ڈگر ی کے آس پا س ہے تو بے اثر کرنے میں معاون ہوگا ۔ہم تویہ ہی مان کر چلیں کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھےگا اس بیماری کا اثر کم ہوتا جائےگا ۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2020

سپریم کورٹ کے اہم ترین فیصلے ،ہم پریس کا گلا نہیں گھوٹیں گے!

پیر کو بصد احترام سپریم کورٹ نے کئی اہم ترین معاملوں میں فیصلے سنائے ہیں ۔پہلا معاملہ پریس پر پابندی لگانے دوسرا بیرون ملک سے ہندوستانیوں اورتیسرا تھا پی ایم کیئرس فنڈ کا تھا ۔بڑی عدالت نے کورونا وائرس وبا پھیلنے کو حالیہ نظام الدین مرکز کے واقعے سے مبینہ طور سے فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے سے میڈیا کے ایک طبقے کو روکنے کے لئے مسلم تنظیم جمعیت علمائے ہند کی عرضی پر کوئی انتم حکم دینے سے انکار کر دیا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پریس کا گلہ نہیں گھونٹیں گے ۔چیف جسٹس ایس اے بووڑے،جسٹس ایل ناگیشور راو ¿اور جسٹس ایم ایم شانتن گورڈر پر مشتمل تین نفری بنچ نے اس مسلم تنظیم کی عرضی پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے سماعت کی تھی اس سے کہا تھا کہ معاملے میں ہندوستانی پریس کانسل کو اس کا فریق بنائے اور وہ اس وقت عرضی پر کوئی انتم حکم نہیں دے گا اور اس نے یہ معاملہ دوہفتہ بعد سماعت کے لئے داخل کر لیا ۔عرضی گزار نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ الیکٹرونک میڈیا کا ایک طبقہ دہلی میں پچھلے مہینہ تبلیغی جماعت کے پروگرام کو لیکر نفرت پھیلا رہا ہے۔جمعیت علمائے ہند نے اپنی عرضی میں جھونٹی خبروں کو روکنے اور اس کے لئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت مرکز کو دینے کی اپیل کی ہے ۔مغربی نظام الدین میں پچھلے مہینہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں ہوئے اجتماع میں کم سے کم نوہزار لوگوں نے شرکت کی تھی اور یہ پروگرام بھار ت میں کوروناوائر س وبا پھیلنے کا ایک اہم ترین ذریعہ بن گیا کیونکہ اس میں حصہ لینے والے زیادہ ترافراد اپنے مذہبی کاموں کے سلسلے میں دیش اور بیرون ملک کے مختلف حصوں میں گئے جہاںوہ دیگر لوگون کے رابطے میں آئے اس عرضی پرسماعت کے دوران تنظیم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ دیش میں کورونا وائرس وباپھیلنے کے سلسلے میں میڈیا کی رپورٹنگ اور سرکار کی رپورٹ تبلیغی جماعت کے بارے میں ہی چھپ رہی ہے ۔اس بنچ نے کہا کہ ہم سوچتے ہیں کہ آپ پریس کانسل آف انڈیا کو بھی اس معاملے میں ایک فریق بنائیں ۔پریس کانسل آف انڈیا اس معاملے میں ایک فریق ضرور ہے عدالت کاکہنا تھا کہ وہ پریس کاگلا نہیں گھوٹ سکتے ۔کوروناوائرس کولیکر جاری مکمل لاک ڈاو ¿ن کے سبب بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے پر پیر کو صلاح دی جو جہاں ہیں وہ وہیں رہیں ۔بڑی عدالت نے سرکار کے ذریعے لگائی گئی پابندیوں میں کسی طرح کی مداخلت سے انکار کر دیا عدالت نے کہا انہیں ابھی واپس لانا ممکن نہیںوہوگا ۔بڑی عدالت نے سات عرضیوں کی مشترکہ سماعتوں کے دوران جس میں امریکہ ،ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم طلبہ و ہندوستانی پیشہ وروں اور مزدوروں و ہندوستانی شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے اجازت کے لئے درخواست کی گئی تھی ایک دیگر اہم ترین معاملے میں سپریم کورٹ نے نمٹنے کے لئے وزیراعظم پی ایم کیئر س فنڈ بنانے کے سرکار کے فیصلے کو منسوخ کرنے کے خلاف دائر عرضی کو بھی خارج کر دیا ۔چیف جسٹس پر مشتمل تین نفری بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے وکیل منوہر لال شرما کی عرضی پر سماعت کے بعد اسے مسترد کر دیا ۔عدالت عرضی گذار شرما کی ان دلیلوں مطمئن نہیں تھی کہ پی ایم کیئرس فنڈ کاقیام آئین کی دفعہ 266اور 267میں تشریع اسکیموں کے بارے میںجو قواعد ہیں ان کی تعمیل کئے بغیر کیاگیا ۔مرکز نے 28مارچ کو کووڈ19-جیسی وبا پھیلنے اور اس سے متاثرلوگوں کو راحت دینے کے لئے ایمرجنسی حالات میں پی ایم کیئرس فنڈ بنایاتھا۔اس فنڈ کے چیئر مین وزیر اعظم اور وزیردفاع و وزیرداخلہ اور ووزیر مالیات اس فنڈ کے پیٹرن ٹرسٹی ہیں ۔مفاد عامہ کی عرضی میںکہا گیا تھا کہ پی ایم کیئرس کے قیام کے بارے میں آرڈی نینس اور گزٹ میں نوٹی فائی کئے بغیر 28مارچ کو پریس بیان جاری ہونے کے بعد وزیراعظم نے وائرس وبا سے متاثر لوگوں کے علاج کے لئے اس ٹرس میں عطیہ دینے کی اپیل کی تھی اور اس کے بعد اس پی ایم کیئر فنڈ کے بارے میں اشو کھڑا ہوگیا ۔عرضی میںفنڈ کے سبھی ٹرسٹیوں کے بعد پی ایم کو بھی فریق بنایاگیا ۔عرضی میں اس فنڈ کو ملا سارا عطیہ بھارت کے پہلے سے قائم فنڈ پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں منتقل کرنے کا ہدایت دینے کے ساتھ ہی اس فند کے قیام کی جانچ عدالت کی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کی درخواست کی گئی تھی ۔بنچ نے اس عرضی کو بھی خارج کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ بے بنیاد دلیلوں پر مبنی ہے ۔بنچ نے عرضی گزار شرما کی دلیلوں سے بھی نا اتفاقی ظاہر کی تھی اس فنڈ کے قیام آئین کی دفعہ 266اور 267کے تمام تقاضوں کو پورا کئے بغیر کیاگیا تھا ۔
(انل نریندر)

15 اپریل 2020

پاکستا ن اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آرہا !

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کو لیکر پیداخوف اور دہشت کے باوجود پاکستان سرحد اور سرحدی علاقوں پر مسلسل موڑ ٹاروں سے بمباری کررہا ہے اس کی ناپاک سازش اس کے سمت میں لانچنگ پیڈس پر موجود دہشت گر د دستوں کی دراندازی کرانا ہے جسے انجام دینے کے لیے پاکستانی فوج اور پاکستانی رینجرس کچھ دنوں سے پچاس بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکے ہیں ۔حالانکہ ہندوستانی فوج نے اپنی جوابی کاروائی کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے کئی جوانوں کو مار گرایا اور اس کی متعدد چوکیوں کو تباہ کر دیا بلکہ بڑی تعداد میں لانچنگ پیڈس پر موجود دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔تازہ خبر کے مطابق ایل او سی پر پاک فوج کی گولہ باری نے پکواڑہ سیکٹ میں تین لوگوں کی جان لے لی ۔مرنے والے تین شہریوں میں ایک عورت ،مرد اور ایک بچہ شامل ہے ۔پاک گولہ باری کے سبب کئی گھر اور گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں ۔اس گولہ باری کے چلتے دہشت زدہ درجنوں لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں بتایاجاتا ہے کہ اتوار کو پاکستانی فوج نے بارہمولہ میں چوکی بل علاقے میں جنگ بندی توڑی اور کئی چوکیوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔زیادہ تر کے مطابق گولہ باری میں کافی گھر اور گاڑیاں جلتی دیکھی گئیں ۔اور کافی نقصان پہونچایا اس وقت جب خود پاکستان کورونا وبا سے بری طرح سے متاثر ہے تب بھی وہ اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے جس طرح گولہ باری ہو رہی ہے وہ دہشت گردی تنظیم نہیں کر سکتی یہ تو صرف پاکستانی فوج ہی کر سکتی ہے ۔یہ تو بدقسمتی کی بات ہی ہے ایسے ایمرجنسی حالات میں بھی وہ ہندوستان مخالف اپنی پالیسیوں پر چل رہا ہے اس میں ہمیں تو نقصان ہی ہوگا ۔لیکن پاکستان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔امید کرتے ہیں کہ وہ یہ گولا باری بند کرے اور اپنے دیش میں پھیلے کوروناوائرس کو کنٹرول کرے اور اس میں سارا زور لگائے تو یہ ہی اس کے لیے بہتر متبادل ہوگا۔
(انل نریندر)

چمگادڑ ریسرچ پر امریکی فنڈنگ!

چین کے ووہان شہر سے پھیلی کورونا وبا آج پوری دنیا کو اپنی ضدمیں لے چکی ہے ۔سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے لندن کے اخبار ڈیلی میل کی شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ووہان میں قائم لیب میں چین کے سائنسدان چمگادڑوں پر ریسرچ کر رہے تھے اور اس ریسرچ کے لیے امریکی حکومت نے چین کو 28.18کروڑ روپئے کا فنڈ دیاتھا چین نے دعویٰ کیاتھا کہ کورونا وائرس جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے انسانوں میں آیا پھر پتہ چلا کہ ایسے وائرس چمگاڈڑوں میں پائے جاتے ہیں اسی لیے ہو سکتا ہے کہ یہ چمگادڑوں سے انسانوں میں آیا ۔اس کے بعد کہا گیا چین کے ووہان لیب انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے چمگادڑ پر ٹسٹ کے دوران کورونا وائرس لیک ہوگیا ہو اور بعد میں چین نے اسے جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا وائرس بتا دیا یہ لیب ووہان کے جنگلی جانوروں کی بازار سے بیس میل کی دوری پر ہے ۔میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ امریکی سرکار نے وائرس پر تجربہ کرنے والے ووہان لیب کو 28کروڑ روپئے دیے اس خلاصہ کے بعد امریکہ کے کئی نیتا بھی حیران ہو گئے ۔امریکی سینیٹر میٹ گیٹس نے بتایا کہ چین کو امریکی فنڈ دیے جانے کی خبر سے میں بہت مایوسی محسوس کر رہا ہوں۔اس تجربہ کو جاری رکھنے کے لیے کروڑوں کا فنڈ دیاگیا تھا ۔کوروناوائرس کے جانوروں میں پائے جانے کی ریسرچ کئے جانے کے بعد سائنسداں اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ سب سے پہلے یونان صوبہ کی غاروں میںرہنے والے چمگادڑوں میں یہ وائرس محسوس کیاگیا ۔یہاں سے کورونا وائرس یہ ووہا ن کی میٹ مارکیٹ میں پہونچا اور پھر یہاں سے اس کا انفکشن پوری دنیا میں پھیل گیا ۔امریکہ فنڈنگ کی جانکاری سامنے آنے کے بعدامریکہ کے رول کو بھی شبہہ کی نظروں سے دیکھا جانے لگا ہے اب اس بات کو لیکر بحث چھڑی ہوئی ہے کہ وائرس کا انفکشن ووہان کے میٹ بازار سے نہیں بلکہ لیب سے ہوا ۔امریکہ کی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سرکاری ایجنسی ہے اور ووہان کی لیب ویب سائٹ میں یہ ادارہ پارٹنر کمپنی کی شکل میں رجسٹر ہے اب امریکہ کے کئی پریشر گروپ بھی چین کے لیب کوامریکہ کی فنڈنگ پر نکتہ چینی کررہے ہیں ۔جس لیب میں جانوروں پر اذیت برتی جارہی ہے اور ناجائز طریقے سے تجربہ ہورہے ہیں اسے امریکہ کیوں مالی مدد دے رہا ہے اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو امریکہ بھی کورونا وائرس کے لیے اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا چین۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2020

نیتا برتھ ڈے پارٹیاں اور بریانی بانٹ رہے ہیں!

دیش میں کئی لیڈروںکے لاک ڈاو ¿ن کو سنجیدگی سے نا لینے کے معاملے سامنے آئے ہیں ایک واقعہ سامنے آیا ہے وہ یہ کرناٹک کے بی جے پی ممبراسمبلی نے سرکاری اسکول میں برتھ ڈے پارٹی دی جس میں کافی لوگ شامل ہوئے اور بریانی بانٹی گئی ۔ادھر پن ویل میں ایک بی جے پی کانسلرکو لاک ڈاو ¿ن کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کر لیا گیا یہ صاحب بھی گیارہ دوستوں کے ساتھ جنم دن کی پارٹی کررہے تھے ایسے ہی جھارکھنڈ کا واقعہ سامنے آیا ہے اس درمیان دیش میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس کے باوجود دہل و دیگر شہروں میں سبزی بیچنے والوں کے آس پاس لوگوں کی بھیڑ کم نہیںہو رہی ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی خلاف ورزیکرنے والے پڑھے لکھے نیتا ہیں ۔شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی سرکار ہے اس لیے بچ جائیںگے ۔یہ کورونا وبانا تو پارٹی دیکھتی ہے اور نابڑے نیتا کو دیکھتی ہے یہ لوگ اپنی جان تو خطرے میں ڈالتے ہی ہیں اپنے حمایتیوں اور دوستوں کی جان کوبھی خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...