Translater

25 جولائی 2019

گورنر ملک کے بیان پر مچا ہنگامہ !

جموں کشمیر کے گورنرستیہ پال ملک کے ایک بیان سے ریاست میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا جو سیا سی طوفان کھڑا ہواہے اس کی مخالفت میں کئی لیڈر گورنر کے خلاف احتجاج میں سامنے آگئے ہیں دراصل گورنر ملک نے لداخ خطے کے کارگل لداخ ٹوروزم فیسٹول ،2019کا افتتاح کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ دہشت گردوں سیکورٹی ملازمین سمیت بے گناہوں کا قتل بند کریں اور اس کے بجائے ان لوگوںکو نشانہ بنائے جنھوں نے برسوںتک کشمیر کے اثاثے کو لوٹا ہے ۔دہشت گردوں کو پولیس والوں کی جگہ بدعنوان سیاستدانوں اور افسروں کا قتل کرنا چاہئے کیونکہ یہی لوگ ریاست کو لوٹ رہے ہیں گورنر ملک نے کہا تھا پولیس اپنا کام اچھے سے کررہی ہے لیکن اگر ایک کی جان جاتی ہے اگر وہ آتنکیوں کی کیوں نہ ہوں مجھے تکلیف ہوتی ہے کار گل میں اپنی تقریر کے دوران گورنر ملک کے بیا ن پر سیاسی طوفان کھڑا ہونا فطری ہی تھا ۔عمر عبداللہ اس بیان پر بھڑک گئے اور کہہ دیا اگر کسی بھی لیڈر کاقتل ہوتا ہے تو اس کے لئے گورنر ذمہ دار ہوں گے ۔نیشنل کانفرنس لیڈر اور سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کاکہناہے ایک شحص جو راج بھون میں ذمہ داری نبھارہا ہے وہ آتنکیوں کو ان لیڈروں اور افسروںکو مار نے کیلئے کہہ رہے ہیں جنھیں وہ بد عنوان سمجھتے ہیںاب یہاں جو سیاسی قتل ہوں گے اس کے لئے گورنر کو ذمہ دار مانا جائے گا ۔گورنر ملک کو دہلی میں اپنی ساکھ کو دیکھنا چاہئے ۔پردیش کانگر یس صدر جی اے میر نے بھی گورنر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی عہد ہ پر بیٹھے شخص کو اس طرح کی بیان بازی نہیں کرنی چاہئے ۔گورنر کیا یہا ںجنگل راج قائم کرنا چاہتے ہیں ۔گورنر نے عبد اللہ پریوار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں ایک سال سے یہاں ہوں جو چیز کھودتاہوں اس میں یہی لوگ نظر آتے ہیں ۔وہیں تین پیڑ ھی پہلے تک یہ کچھ بھی نہیں تھے بعد میں ملک نے کہا کہ انھوں نے یہ تبصرہ ریاست کے آئینی چیف کے کے طور پر نہیں کیا تھا لیکن یہ ان کا جذباتی نظریہ ہے جب وہ گورنر نہیں رہےں گے تب بھی یہی بات کہیں گے ملک نے ٹی وی چینل پر بات چیت میں کہا کہ وہاں پیدا بد عنوانی کے چلتے یہ غصے اور مایوسی میں بات کہی گئی تھی میں جہاں دیکھتا ہوں وہاں کرپشن ملتا ہے ۔ایک آئینی عہدے پر رہتے ہوئے مجھے ا س طرح کے تبصرے نہیں کرنے چاہیے تھے لیکن میں نے جو کہا اس اشو کو لے کر میرے جذبات تھے اور میں ان کے لئے نتیجہ بھگتنے کو تیار ہوں ۔

(انل نریندر)

24 جولائی 2019

آخر سال در سال بہار سیلاب کی زد میں کیوں آتا ہے؟

تقریباََ ایک مہینہ پہلے بہار شدید گرمی کے سبب چمکی بخار کی وبا جھیل رہا تھا تو اب زبردست سیلاب سے لڑ رہا ہے ۔بہار میں بارش کی وجہ سے اب تک 92افراد کی جانیں گئی ہیں تمام شمالی ہندوستان سیلاب کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہے شمالی بہا رکے دیہات میں سیلاب سے بھاری تباہی مچی رہی اب سیلاب کا رخ شہروں کی طرف بڑھ گیا ہے ۔مظفر پور ،دربھنگہ ،سمستی پور کے ،شہری علاقوں کے کئی محلوں میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا ہے جس سے افرا تفری کے ماحول میں لوگ سیلاب زدہ سڑک اور دیگر جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سیلاب کی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے بھاری بارش کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اسے قدرتی آفت سے تشبیح دی ۔کچھ لوگ نیپال کو بھی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے پانی چھوڑ دیا ندیوں کو موڑنے کے لئے بنائے گئے ساحلی باندھ اور سیکورٹی باندھ کو بھی لوگ سیلاب کے لئے ذمہ دار مان رہے ہیں ۔بی بی سی کے نامہ نگار نیرج پریہ درشی نے اس مسئلہ پر ایک مفصل معلوماتی مضمون بھی لکھا ہے جو قارئین کی خدمت میں اس مضمون کے کچھ حصے پیش کر رہا ہوں ۔بہار میں سیلاب جیسے حالات تقریبا ہر سال بنتے ہیں لیکن تباہی تبھی مچتی ہے جب کوئی باندھ ٹوٹ جاتا ہے ۔2008کی قہر برپا ٹریجڈی کو بھلا کون بھُلا سکتا ہے ۔اس سے پہلے بھی جتنی بار بہار نے سیلاب کی تباہی کو جھیلا ہے اس کے سبب باندھ ٹوٹتا رہا ہے اس بار تباہی کی ایک وجہ کئی جگہ سے چھوٹے موٹے باندھ کا ٹوٹنا ہی ہے جیسے کوئی ٹوٹتا ہے تو پانی اتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ لوگوں کو سنبھلنے کا وقت نہیں مل پاتا ۔پچھلے سنیچر کو مددھوبنی کے جھنجھارپور منڈ کے نروار گاﺅں کے پاس کملا باندھ ٹوٹ گیا تھا ۔جس جگہ باندھ میں دراد آئی اس کے ٹھیک سامنے نروار گاﺅں ہے ۔اس گاﺅں میں گھسنے کی شروعات میں ہی 39مکان ڈھہ گئے پھنسے ہوئے لوگوں نے بتایا کہ رات بھر پولیس اور انتظامیہ کو خبر کرتے رہے لیکن کوئی نہیں آیا جب صبح این ڈی آر ایف کی ٹیم آئی تب تک کافی کچھ بہہ گیا تھا ۔بہار ریاستی انتظامی محکمہ نے شام کو بتایا کہ سیلاب سے 67لوگوں کی موت کی خبر ملی تھی جو اس آرٹیکل کے لکھنے تک 92تک پہنچ گئی ہے ۔سب سے زیادہ لوگ 17سیتہ مڑھی میں مرے مسلسل ٹوٹ رہے باندھوں اور سیکورٹی باندھوں کے سبب سیلاب کی تباہ کاری بڑھتی جا رہی ہے بہار میں 47لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں ۔اور ایک لاکھ لوگوں کو پناہ گزیں راحت کیمپوں میں رکھا گیاہے ۔محکمہ قدرتی آفات کے اعداد و شمار چونکانے والے تھے اگلے دن متاثروں کی تعداد دگنی پہنچ گئی ۔ریاست میں 125مشینی کشتیوں کو لوگوں کو بچانے کے لئے لگایا گیا ہے ۔کیا این ڈی آر ایف کے پاس اور موٹر بوٹ نہیں ہیں ؟ایک اعلیٰ افسر سدھیر کمار کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنی مشینی کشتیاں یا موٹر کشتیاں ہیں سبھی کو بچاﺅ کے کام میں لگایا ہوا ہے ۔اگر ضرورت پڑی تو دوسری جگہ سے منگانی پڑے گی ۔اتنی تباہی ہر سال ہوتی ہے پھر بھی کوئی سیلاب روکنے کے لئے مستقل انتظام نہیں کیا جاتا لیکن جب سرکار سے جواب مانگنے پر ایک ہی ملتا ہے جیسے وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ بہار میں آیا سیلاب قدرتی آفات ہے ۔

(انل نریندر)

عمران خان کی بین الااقوامی بے عزتی

بد حال معیشت اور دہشتگردوں کو سرپرستی دینے کے داغ کے درمیان وزیر اعظم بننے کے بعد امریکہ کے پہلے دور ے پر گئے پاکستان کے وزیر اعظم کا یہاں نہ تو خیر مقدم ہوا اور نہ تو سرکار ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کوئی بڑا افسر موجود نہیں تھا ۔امریکہ میں پہلے سے موجود پاکستان کے وزیر خارجہ محمود قریشی اور سفیر اسد مجید خان موجود تھے عمران خان کو میٹرو کا سفر کر اپنے سفیر کے ساتھ جانا پڑا وہاں کسی ہوٹل کے بجائے اپنے سفیر کے گھر میں ٹھہرے یہی نہیں وہ مخصوص جہاز کے بجائے قطر ائیر ویز کی عام پرواز میں امریکہ پہنچے ان کے ساتھ پاک فوج کے چیف قمر باجوا اور پاک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف لیفینیٹ فیض حمید بھی گئے لیکن یہ پہلی بار ہے جب پاک پی ایم کے ساتھ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ امریکہ کے دورے پر گئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کی ہوائی اڈے پر عام مسافروں کی طرح جانچ بھی ہوئی ۔امریکی ہوائی اڈے پر یہ جانچ کس طرح کی ہوتی ہے سبھی جانتے ہیں اس جانچ کی کارروائی سے جنرل باجوا ،جنرل فیض میر کو بھی گزرنا پڑا جس طرح کا ٹرمپ انتظامیہ نے ہوائی اڈے پر برتاﺅ کیا وہ عمران کی تو توہین ہوئی ہی بلکہ پاکستان کی بھی توہین ہے ۔پاک کے کسی پہلے قومی سربراہ سے اس طرح کا برتاﺅ نہیں ہوا اس پر ہمیں بھی دکھ ہے کیونکہ آپ کے اختلافات چاہے جیسے بھی ہوں لیکن پروٹو کول تو ضرور اپنانا ہی جانا چاہیے تھا ۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عمران کو ٹرول کرنے والوں کو اڈے ہاتھوں لیا۔ انہوںنے ٹوئٹ کیا کہ عمران نے اپنے دیش کا پیسہ بچایا ہے وہ اپنے ساتھ لوگوں کو لے کر نہیں چلتے ۔جیسا کہ زیادہ تر نیتا کرتے ہیں ۔مجھے یاددلائیں کہ یہ کیسے ایک بری چیز ہے ۔امریکی اقتدار اعلیٰ کا برتاﺅ سخت ٹھیس پہنچانے والا ہے ۔عمرا ن کے سنیچر کو واشنگٹن پہنچنے پر ان کو مقرر پروٹوکول کے تحت میزبانی نہ ملنے کے تنازعہ پر وائٹ ہاﺅس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میزبانی کے لئے ان کی ایگزیگیٹو پروٹوکول چیف میری کیٹ فشر ہوائی اڈے پر موجود تھیں ۔دراصل عمران کا طے پروٹوکول کے تحت استقبال نہ ہونے کی ابتدائی اطلاع کے بعد میڈیا میں ان کی کرکری شروع ہو گئی ایسا اس لئے ہوا چونکہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ کر کے یہ جانکاری دی تھی کہ انہوںنے ہوائی اڈے پر وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا اس کے بعد میڈیا میں عمران خان کو امریکہ میں صحیح استقبال نہ کئے جانے کی خبریں نشر ہونے لگیںٹوئیٹر پر کئی پاکستانیوں نے اپنا غصہ نکالا ۔ٹرمپ انتظامیہ میں پاکستان سے امریکہ کے رشتہ اب تک کی تاریخ میں سب سے اتار چڑھاﺅ والے رہے ہیں ۔امریکی صدر ٹرمپ مسلسل پاکستان پر دہشتگردی روکنے کے لئے دباﺅ بناتے رہے ہیں مانا جا رہا ہے کہ اس دباﺅ کے کو امریکہ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسی کے تحت اتوار کو ٹرمپ انتظامیہ نے عمران کا مناسب استقبال نہیں کیا ۔

(انل نریندر)

23 جولائی 2019

یوپی میں جرائم پیشہ کو اب حکومت سے کوئی خوف نہیں رہا !

اترپردیش کے سونبھدر کے اومھا گاو ¿ں میں بدھ کو جوکچھ ہوا اس سے ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہاہے کہ آخر کیا ریاست میں قانون ونظام کی صورتحال پر کسی کا کنٹرول باقی رہ گیاہے یا ان جرائم پیشہ بے لگام ہوکر مار کاٹ کرنے والے کوئی نہیں تھا کھراول علاقہ کے اومھا گاو ¿ں میں درجنوں ٹریکٹر پر سوار خطرناک ہتھیار وسے مسلح سینکڑوں لوگ زمین پر قبضہ کرنے پہنچے جب گاو ¿ ں والےنے ناراضگی جتا ئی تونہتھے گاو ¿ں والوں پر ان ہتھیار لئے بدمعاشو ں نے خطرناک طریقہ سے حملہ کردیا اس زمین جھگڑے کو لیکر 10قبائلیوں موت نیند سلادیا گیا غور طلب ہے کہ بسے قبائلیوں کے فرقہ کے لوگ کافی عرصہ سے سرکار ی زمین پر کھیتی کرتے آرہے تھے یہاں کی زیادہ تر زمین جنگلاتی زمین ہے اس پر قبضہ کو لیکر اکثر جھگڑے ہوتے رہے ہیں اور اب تاز ہ قتل عام کو انجام دے گیا ۔اس زمین پر کافی عرصہ جھگڑا چلا آرہاتھا گاو ¿ں کے پردھان اور آدیواسی فرقہ کے لوگوں کے درمیان کس طرح کے ٹکراو ¿ کے حالات بنے ہوئے تھے یہ بھی کوئی جانکاری نہیں تھی بلکہ خبریں یہاں تک آئیں کہ اس قتل عام کو زمین کا جھگڑا بتاکر اصلی بات سے توجہ ہٹائی جارہی ہے ۔یہ بھودان کی زمین قبائلیوں کو بے دخل کرنے کا معاملہ ہے پھر ان جھگڑوں کو جن وجوہات پر اس حد تک چھوڑ دیاگیا جس میں ایک فریق کو سینکڑوں لوگوں کے ساتھ گاو ¿ں پر حملہ اور لوگوں کے قتل کردینے کا موقعہ ملا؟۔اور اتنی بڑی تعدا د میں لوگ کیسے پہنچے اور ان میں قتل کرنے کی ہمت کیسے پید ا ہوئی ؟کیا مقامی پولیس انتظامیہ بھی خفیہ طور سے ان کی مدد کررہاتھا؟اگرپولیس انتظامیہ پہلے سے چوکس ہوتا تو ایسے واقعات کو روکا جاسکتا تھا ؟یوپی سرکار کا یہ حال ہے کہ چندوسی ضلع عدالت میں پیشی کے بعد بدھ کی شام 24قیدیوں کو گاڑی سے مراد آباد جیل لے جا یا جارہاتھا بنیا ٹھیٹ تھانہ علاقہ میں انجینئر قتل کے ملزم تین قیدیوں کے پاس بیٹھے سپاہی جے پال سنگھ اور ہریندر سنگھ سروہی کی آنکھوں میں مرچی پاڈر پھینکا اور اس کے بعد قید ی گاڑی کے گیٹ چینل کو ٹیڑھاکرنے کےبعد فرار ہونے لگے انھیں پکڑنے کی کوشش پر قیدیوں نے سپاہی کو گولی مارکرہلاک کردیا ۔سونبھد رمیں زمین جھگڑے میں مارے گئے قبائلیوں کے خاندان سے ملنے جارہی کانگریس نیتا پرینکا گاندھی واڈرا کو راستہ میں روک دیا گیا اس کے بعد بنارس کے بی ایچ یو کے ٹرامہ سینٹر میں صبح زخمیوں سے ملنے گئیں ان کو تھوڑی دیر کے بعد حراست میں لیا اور گیسٹ ہاو ¿ س میں لے جایا گیا جہاں وہ بھی درھرنے پر بیٹھ گئی اس کے بعد گیسٹ ہاو ¿س کی بجلی گل ہوگئی کانگریس نے الزام لگا یا کہ یوگی سرکار نے بجلی تو کاٹی ہی پانی تک نہیں دیا پچھلے اسمبلی چناو ¿ کے دوران بھاجپا نے ریاست میں جرائم وقانون نظام کو اہم اشو بنا یاتھا یہ سچ ہے کہ ریاست میں کافی عرصے سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے ایسا لگتاہے جرائم پیشہ عناصر میں اب قانون کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے ۔
(انل نریندر)

الوداع شیلا !بہت یاد آئے گی

تین مرتبہ دہلی کی وزیر اعلی رہی سینئر کانگریس لیڈر شیلا دکشت کا81سال کی عمر میں دیہانت ہوگیا اس کے ساتھ ہی ہم نے سب سے کرمٹ ،پیاری شیلا جی ہمیشہ کیلئے کھودیا اب تو بس ان کی یادیں ہی رہ گئی ہیں اور طویل عرصے سے علیل تھیں اور ان کی تین مرتبہ پائی پاس سرجری ہوچکی تھی ۔واضح ہوکہ انہیں الٹی کی شکایت کے بعد سنیچر کی صبح فورٹیز اسکاٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔دل کا دورہ پڑنے سے سہ پہر تین بجکر 55منٹ پر وہ دنیا سے چلی گئیں 15سال تک دہلی کی وزیر اعلی رہی شیلا جی کو قومی راجدھانی کے وکاس کا چہر ہ مانا جاتاہے ہسپتال کے مطابق شیلا جی کو دورہ پڑنے کے چلتے ہسپتال لایا گیا تھا لیکن دوبارہ پھر دوپہر میں دل کا دورہ پڑا او رنہیں بچایا نہیں جاسکتا انکا نگم بودھ گھاٹ پر پورے سرکا ری اعزاز کے ساتھ انتم سنسکار کیا گیا ۔شیلا جی کی انتم یاترا میں لوگوں کی بھیڑ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عوام میں کتنی ملنسار تھیں جو سب کی باتیں توجہ سے سنا کرتی تھیں چاہئے وہ اپوزیشن سے تعلق رکھتا ہو ۔مجھے وہ اکثر مذا ق میں کہا کرتی تھیں کہ انل تم تو بھاجپائی ہو جبکہ انہیں معلوم تھا کہ میں آزاد نظریات کا انسان ہوں شیلا جی سے میرا بہت پرانا رشتہ رہا ہے ان کے شوہر سورگیہ ونود کشت ہم ماڈراناٹس کے ڈرامہ گروپ کے اگرودوتھ کے ممبر تھے اس گروپ کے ذریعہ پیش ڈاراموں میں کام کرتے تھے یہ بات ساٹھ دہائی کی ہے تبھی سے میرا شیلا جی سے رابطہ قائم ہواتھا سال میں دوتین بار شیلا جی سے ملنے کا سوبھاگیہ رہا جب وہ وزیر اعلی تھیں تب میرے سورگیہ پتا شری کے نریند ر کے جنم دن کیلئے میں شیلا جی کو دعوت دینے گیا تھا حالانکہ وہ جانتی تھی کہ پتاشری بھاجپا کے کٹر حمایتی تھے لیکن پھر بھی شیلا جی ہمارے گھر ٹالسٹا ئے مارگ پر تشریف لائیں تھیں۔جب بھی میں ان سے ملتا تھا وہ بڑی گرمی جوشی سے ملا کرتی تھیں اور لمبی بات چیت وہ بحث ہوتی تھی شیلا جی شادی سے پہلے شیلا کپور کے نام سے جانی جاتی تھیں ان کے شوہر آئی اے ایس ونود کمار دکشت کانگریس بڑے نیتا اما شنکر دکشت کے صاحبزادے تھے ۔1974میں اندرا کے دور میں اما شنکر دکشت دیش کے وزیر داخلہ بنے سیاست کی اے بی سی ڈی کانگریس میں لگا تار مضبوط ہوتے ہوئے سیکھی تھی ۔1980میںایک ریلویاتراکے دوران ونود کمار دکشت کی موت ہوگئی اس کے بعد شیلا دکشت اپنے سسر کے ساتھ سیاست میں سرگرم ہوگئیں اور 1984میں ہی عام چناو ¿ میں قنوج پارلیمانی سیٹ جیت کر لوک سبھامیں پہنچی 1991میں شیلا نے اپنے سسر کی وراثت پوری طرح سنبھال لی شیلا جی کا جنم 31مارچ 1938کو پنجاب کے کپور تھلہ کے کھتری پنجابی خاندان میں ہواتھا دہلی کے کانونٹ جیسس میری اور دہلی یونیور سٹی کے مرانڈا ہاو ¿س کالج میں انہوں نے تاریخ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اب بھلے ہی ایرن لیڈی شیلا دکشت بیمار ی بیشک لیکن انھوں نے کئی بار زندگی اور موت سے مقابلہ کیا پنجاب چناو ¿ میں کمپین کے دوران اس گاڑی کو بم سے اڑا دیا گیا تھا جس کا استعمال شیلا دکشت کررہی تھیں اتفاق سے وہ دھماکہ سے چند منٹ پہلے گاڑی سے اتر گئی تھیں اورلیکن ان کی آنکھوں سے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی کے پرخچے اڑگئے تھے ۔اس حادثے کا ذکر اپنی کتاب مائی ٹائم مائی لائف میں بھی کیا ہے اس حادثے کو یاد کر روح کانپ جانے والے منظر کو بیاں کیا ہے لیکن ملنسار خوش مزاج اور اپنی برا ئی کو صبر سے سننے والی شیلا جی کو ہر کوئی شوشل میڈیا پر نم آنکھوں سے شردھانجلی دے رہے ہیں راہل گاندھی نے کہا کہ میں شیلا دکشت جی کی وفات سے بہت دکھی ہوں وہ کانگریس کی پریہ بیٹی تھی جن کے ساتھ میرا قریبی رشتہ رہا ہے وہ سبھی کا ساتھ لیکر چلتی تھیں اور انکے اپوزیشن لیڈروں سے بھی اچھے رشتے رہے جس کے چلتے بڑی سے بڑی مشکل دور ہوجاتی تھی ایسی کئی مثالیں ہیں نہ صرف انھوں نے اپنی پارٹی میں حریفوں بلکہ حریفوں کوبھی اپنا مرید بنالیاتھا ایک وقت تھا جب دہلی کی سیاست میں شیلا جی کو ایک ونر مانا جاتھا آج دہلی کے شہری آلود گی سے پاک بنانے کیلئے سی این جی ،میٹرو سے این سی آر سے جوڑ نے اور فلائی اوور سے ٹرافک جام سے نجا دلانے والی شیلا جی کو بھلا یا نہیں جاسکتا وہ آخرتک دہلی کے لئے لڑتی رہی شیلا جی کی کمی ہمیشہ محسو س ہوتی رہی گی ان کو بھلایا نہیں جاسکتا ۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2019

آخر زمیں پر آیا پاکستان کھولا ائیر اسپیس

آخر کار پاکستان بھارت کے غیر فوجی جہازوں کے لئے اپنا ہوائی ژون جسے اس نے بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کے بعد اچانک بند کر دیا تھا اب وہ اسے کھولنے کے لئے مجبور ہو گیا ۔بالاکوٹ ائیر اسٹرائک کے بعد اس نے 26فروری سے یہ پابند ی لگائی ہوئی تھی حال ہی میں پاکستان نے کہا تھا کہ بھارت جب تک سرحد کے قریب بنے ہوائی اڈوں سے اپنے جنگی جہازوں کو نہیں ہٹاتا یہ پابندی جاری رہے گی ۔حالانکہ اس پابندی کی وجہ سے پاکستان کو کافی مالی نقصان بھی اُٹھانا پڑا تھا اور اس سے پاکستان کو قریب 100ملین ڈالر(688کروڑ روپئے )کی چپت لگی ہے ۔فروری سے جون تک قریب 400 پروازوں پر پاک ائیر اسپیس بند ہونے کا اثر پڑا تھا ۔اس قریب پانچ مہینے میں پاکستان نے اپنا ائیر اسپیس بند کرنے کی پانچ بار میعاد بڑھائی تھی چونکہ بھارت نے پاکستان کی طرف سے ائیر اسپیس کھولنے کے لئے جو مانگ رکھی گئی تھی اس پر بھارت نے غور کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔اس لئے یہ مانا جا رہا تھا کہ وہ ہندوستانی جہازوں کے لئے اپنا ائیر اسپیس بند ہی رکھے گا لیکن اب اس نے اپنے یکدم فیصلے کو بدلنا بہتر سمجھا بلا شبہ اس پابندی کے چلتے ہندوستانی ہوائی جہازوں کو لمبی دوری طے کرنی پڑ رہی تھی ۔جس سے سب سے بڑا نقصان ہماری ائیر انڈیا کو ہوا جو قریب 550کروڑ روپئے تک کا بتایا جاتا ہے ۔ہوائی کمپنیوں میں اکیلے ہی سب سے زیادہ نقصان 491کروڑ روپئے کا ائیر انڈیا کو اُٹھانا پڑا تھا ۔بے شک پاکستان کے اس قدم سے پاکستان خود بھی پریشان تھا اسے ائیر ٹیکس سے متعلق فیس سے بھی محروم ہونا پڑ رہا تھا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان جس قدر مالی بحران سے دو چار ہو رہا ہے یہ ماننے کے لئے پاکستان کے سامنے وجوہات ہیں اسی اقتصاد ی بحران نے پاکستان کو ہندوستانی ہوائی جہازوں کے لئے ہوائی راستہ کھولنے کے لئے مجبور کیا ۔دہلی ،ممبئی سیکٹر کی بات کر لیں تو دہلی سے اڑان بھرنے والا جہاز امرتسر ہوتے ہوئے پاکستان کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے سیدھے دوبئی چلا جاتا تھا لیکن پابندی کے بعد وہ ممبئی کے اوپر سے اڑتے ہوئے بحر عرب ہوتے ہوئے دوبئی جاتا تھا اس سے جہاز کو چالیس سے 45منٹ کا زیادہ وقت لگتا تھا ۔اس بابندی کے سبب ائیر انڈیا کو صرف خلیج کے ملکوں سے پرواز کرنے کےلئے متابادل راستہ اپنانا پڑ رہا تھا بلکہ امریکہ اور یوروپی راستوں کے لئے بھی لمبا راستہ طے کرنا پڑ رہا تھا وزیر ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری نے 3جولائی کو پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کے ذریعہ اپنا ہوائی زون بند کرنے سے 2جولائی تک ائیر انڈیا کو 491کروڑ روپئے کا نقصان ہو چکا ہے اور اب تو یہ 500کروڑ سے اوپر بھی پہنچ گیا ہوگا ۔یہ اچھا ہوا کہ آخر کار پاکستان کو عقل آگئی اور اس نے اپنی مرضی سے اپنا ہوائی راستہ کھول دیا ہے ۔

(انل نریندر)

کلبھوشن کیس میں بھارت کی اخلاقی و قانونی کامیابی

نیدر لینڈ کے شہرہیگ میں قائم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی جے)نے ہندوستا نی بہریہ کے ریٹائرڈ افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے میں جو فیصلہ دیا ہے وہ بھارت کے لئے قانونی اور سفارتی جیت کی شکل میں آیا ہے عدالت ہذا نے اکثریت سے پاکستان کو ویانہ معاہدے کی خلاف ورزی کا قصوروار مانتے ہوئے اس سے کہا ہے کہ وہ جادھو کی موت کی سزا کا جائزہ اور اس پر نظر ثانی کرئے یعنی 2016سے جاسوسی کے الزام میں پاکستانی جیل میں بند جادھو کی سزا کی موت پر آئی جے کے ذریعہ لگائی روک برقرار رہے گی اس کے علاوہ اس نے جادھو کو سفارتی رسائی دینے کا بھی حکم دیا ہے ۔عدالت نے مانا ہے کہ جادھو کو اتنے دنوں تک قانونی مدد نہ دے کر پاکستان نے ویانہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کے آئین کے مطابق سماعت ہو مطلب یہ ہے کہ یہ سماعت پاکستانی فوج کی عدالت میں نہیں ہو سکتی بتا دیں کہ 3مارچ 2016کو پاکستان نے کہا تھا کہ جادھو کو بلوچستان سے جاسوسی کے معاملے میں پکڑا گیا تھا بھارت نے مان کہ کلبھوشن ہندوستانی شہری ہے لیکن اس نے اس بات سے انکار کیا کہ کلبھوشن جادھو جاسوس ہے ۔قابل ذکر ہے کہ عدالت نے اکثریت سے دئے گئے فیصلے میں چین کے جج بھی شامل تھے اس پر حیرانی نہیں کہ جو اکلوتا جج فیصلے سے متفق نہیں ہوئے وہ پاکستان کے تھے کلبھوشن جادھو بین الا اقوامی عدالت کا فیصلہ بھارت کی سفارتی اور ساتھ ہی قانونی جیت بھی ہے ۔کلبھوشن کو بچانے کے لئے بین الا اقوامی عدالت جایا جائے یا نہ جائے اس پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے مودی حکومت نے جس سفارتی ہمت کا ثبوت دیا ہے ۔حکومت کی طرف سے وکیل ہریش سالوے کی دلیلوں کو سن کر بین الا اقوامی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ وہ کلبھوشن کو سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل نہ کرئے اسی حکم کے بعد پاکستانی کلبھوشن کے رشتہ داروں کواپنے یہاں آنے کی اجازت دینے کے لئے مجبور ہوا تھا لیکن اس کے باوجود آخری فیصلہ پاکستان کے حق میں نہیں آیا بین الا اقوامی نکتہ چینی کے پیش نظر پاکستان اب جادھو کو پھانسی دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا ۔لیکن وہ اسے رہا کر کے لئے بھی مجبور نہیں ہے ۔اس فیصلے کے بعد بھی جادھو کو پاکستان کی جیل میں ہی رہنا ہوگا لیکن ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ پاکستان میں اس فیصلہ کو کس طرح لیا جا رہا ہے ۔کیا پاکستان ایمانداری سے اس فیصلے پر سنجیدگی دکھائے گا اور اس پر عمل کرئے گا اب سوال یہ ہے کہ بین الا اقوامی عدالت کا فیصلہ کسی دیش پر کتنا عمل کے لائق ہے ؟اقوام متحدہ چارٹر کی دفعہ 94کے مطابق اقوام متحدہ کے ممبر دیش عدالت کے اس فیصلہ کو مانیں گے جس میں وہ خود فریق ہیں فیصلہ آخر ہوگا اور پر کوئی اپیل نہیں سنی جائے گی ۔پاکستان کے سیکورٹی مشیر سرتاج عزیز نے پاکستانی سینٹ کو بتایا تھا کہ جادھو کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہیں ۔حالانکہ بعد میں وہ اپنے اس بیان سے پلٹ گئے مثبت نتیجہ تو تبھی نکلے گا جب بھارت اگر پاکستان پر اور بین الا اقوامی دباﺅ بنا پائے ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...