Translater

24 مارچ 2018

ووٹر فکسنگ والا فیس بک

قریب پانچ کروڑ فیس بک یوزرس کا ڈاٹا چرا کر امریکی صدارتی چناؤ میں بیجا استعمال کے انکشاف کے بعد امریکہ کی سیاست میں آیا طوفان بھارت بھی پہنچ گیا ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بدھوار کو الزام لگایا کہ 2019 کا چناؤ جیتنے کیلئے کانگریس ڈٹا چوری کی ملزم ریسرچ فرم کیمبرج انالٹیکا کی خدمات لے رہی ہے۔ بھارت میں 20 کروڑ فیس بک یوزرس ہیں۔ چناوی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے۔ ضرورت پڑی تو فیس بک کے پی ای او مارک جگربرگ بھی طلب ہوں گے۔ بھاجپااور کانگریس کے درمیان چناؤ ڈاٹا فراہم کرنے والی ایک کمپنی کی سیوا کو لیکر جو الزام در الزام ثابت ہورہے ہیں ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا میں چناؤ کو متاثر کرنے کے لئے کمپنی نے ڈاٹا چوری کیا ہے۔ ادھر کانگریس کا کہنا ہے بھاجپا فیک یوز فیکٹری چلا رہی ہے۔ ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ بھاجپا نے 2014 کے چناؤ میں اس فرم کی خدمات لی تھیں۔ دراصل امریکی اور برطانوی میڈیا نے دعوی کیا ہے کیمبرج انالٹیکا نے 5 کروڑ فیس بک یوزرس کے ڈاٹا کا غلط استعمال کر ٹرمپ کو جتانے میں مدد کی تھی۔ الزام لگا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر چناؤ جتانے کے لئے روسی دخل اندازی تھی۔ ہلیری کی حکمت عملیاں ہیک کرکے ٹرمپ کو بھیجی گئیں اور سوشل میڈیا ڈاٹا کا غلط استعمال ہوا۔ ایک ایف بی آئی نے روس کے13 لوگوں اور تین کمپنیوں پر الزامات طے کردئے ہیں۔ بتادیں کہ ڈاٹا کا غلط استعمال کیسے ہوتا ہے؟ انالٹیکا کے سی ای او نے بتایا کہ کمپنی فیس بک یوزرس کے سائیکولوجیکل پروفائل کے ساتھ اپنے کلائنٹ کے حمایت میں اور حریفوں کے خلاف اطلاعات اکٹھی کرتی ہے۔ اس سے رائے عامہ بدلتی ہے۔ گارجن اور نیویارک ٹائمس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ٹرمپ کی کمپین سے جڑی برطانوی فرم کیمبرج انالٹیکا نے 2014 میں پانچ کروڑ فیس بک یوزرس کا ڈاٹا غلط طریقے سے حاصل کیا تھا۔ فیس بک کو اس کا پتہ تھا لیکن اس نے یوزرس کو چوکس نہیں کیا۔ اس اسکینڈل پر فیس بک کے سی ای او مارک جکربرگ سیدھے طورپر کمپنی کی غلطی مانتے ہوئے ڈاٹا کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کے بارے میں کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعتماد میں سیند لگانے جیسا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ کے ساتھ اپنی جانکاری شیئرکرنے والے لوگ یہ امید کرتے ہیں کہ ہم ان کی سکیورٹی کریں گے۔ انالٹیکا پر امریکی صدارتی چناؤ کے علاوہ کینیا ، نائیجریا اور دیگر ملکوں کے چناؤ کو متاثر کرنے کا بھی الزام ہے۔ سوال یہ ہے کیا فیس بک کے ساتھ انالٹیکا کا کوئی کاروباری معاہدہ ہے یا اس نے فیس بک کو بھی اندھیرے میں رکھا ہے؟ بھارت نے دو ٹوک خبردار کیا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم کا بیجا استعمال کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

ایس سی- ایس ٹی ایکٹ کا بیجا استعمال

کافی عرصہ سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ درج فہرست ذاتوں و قبائلیوں اذیت ازالہ ایکٹ یعنی ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کابیجا استعمال کیا جارہا ہے۔ جس مقصد سے یہ بنایا گیا تھا وہ پورا نہیں ہو پارہا ہے اس لئے عزت مآب عدالت نے مداخلت کرکے اس ایکٹ کا بیجا استعمال روکنے کی پہل کی ہے۔ سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور قبائلی ایکٹ 1989 کے بیجا استعمال کو روکنے کو لیکر فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کے ایک معاملہ میں منگلوار کو فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس پر گائڈ لائن جاری کی ہے اس کے تحت ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج ہونے پر ملزم کی فوری گرفتاری سے پہلے الزامات کی ڈی ایس پی سطح کا افسر ابتدائی جانچ کرے گا۔ اس میں الزامات کی تصدیق کے بعد ہی آگے کی کارروائی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر یا شکایت میں ملزم سرکاری ملازم ہے تو اس کی گرفتاری کے لئے شعبہ جاتی افسر کی اجازت ضروری ہوگی۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری جیل کے سینئر پولیس افسر کی تحریری اجازت کے بعد ہی ہوگی۔ یہ اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی ہے کہ ٹارچر کی شکایت ملتے ہی نہ تو فوری اسے ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی ملزم کو فوراً گرفتار کیا جائے گا۔ ا س ایکٹ کا کس طرح بیجا استعمال ہورہا تھا یہ اس طرح سمجھ میں آرسکتا ہے کہ اکیلے 2016 میں دلت ٹارچر کے 5347 معاملے جھوٹے پائے گئے۔ اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کا بیجا استعمال ذات برادری نفرت بڑھانے کا کام کررہا تھا۔ قانون کی حکمرانی کی ساکھ کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ ملزم بچ نہ پائے وہیں یہ بھی ہے کہ بے قصور ستائے نہ جائیں۔ یہ بھی صحیح ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ صاف کردیا کہ ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کے تحت ملزم کو ضمانت دیا جانا بھی ممکن ہے۔ ضمانت پانے کی راہ صاف کرنے کی ضرورت اس لئے تھی کیونکہ اپنے دیش میں پولیس کی جانچ اور عدالتی کارروائی میں دیری کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کئی بار یہ دیری ملزم افراد کو بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ کسی معاملہ میں گرفتاری کے اگلے دن ہی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے قانون بناتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا بیجا استعمال کیا جائے گا۔ بنچ نے گائیڈ لائنس میں دیری کی سبھی نچلی عدالتوں کے مجسٹریٹ سے کہا گیا کہ اس ایکٹ کے تحت ملزم کو جب پیش کیا جاتا ہے تو اس وقت انہیں ملزم کی حراست بڑھانے کے فیصلہ لینے سے پہلے گرفتاری کے اسباب کا جائزہ بھی لینا چاہئے اور اس میں اپنے ضمیر پر فیصلہ کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

23 مارچ 2018

لنگایت الگ دھرم کے اشو پر سیاسی گھمسان

کرناٹک اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے ایک بڑا سیاسی داؤ چلتے ہوئے کانگریس کی سدارمیا حکومت نے لنگایت اور ویر شید فرقہ کو الگ مذہب کی مانیتا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتادیں لنگایت فرقہ کو الگ مذہب کا درجہ دینے کی مانگ اس کے دھرم گورو کررہے تھے۔ اب چناؤ سے پہلے اس پر مہر لگاتے ہوئے کانگریس نے ناموہن داس کمیٹی کی سفارشیں ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک میں چناؤ کے پیش نظر اس فیصلہ کو کافی اہم ترین مانا جارہا ہے۔ بتادیں کہ کرناٹک خاص کرریاست کے شمالی حصہ میں لنگایت فرقہ کا کافی اثر ہے۔ ریاست میں لنگایت فرقہ کی 18 فیصدی آبادی ہے۔ یہ کرناٹک کی اگڑی برادریوں میں شامل ہے۔ 224 ممبروں والی کرناٹک اسمبلی میں اس فرقہ کے 52 ممبر ہیں۔ ریاست میں بھاجپا کے وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار وائی ایس یدی یرپا بھی اسی فرقہ سے آتے ہیں۔ ایسے میں یہ خیمہ بی جے پی کے حق میں تھا لیکن کانگریس سرکار کے اس قدم کے بعد بی جے پی کے لئے ریاست میں بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ سدارمیا کا مقصد صاف ہے کہ کانگریس یدی یرپا کے مینڈینڈ کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس فیصلہ سے سیاسی طوفان کھڑا ہونا ہی تھا۔ مرکزی وزیر اننت کمار نے وزیر اعلی سدارمیا کا موازانہ 1760 کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے رابرٹ کلائب سے کیا ہے جنہوں نے بھارت میں ’پھوٹ ڈالو راج کرو‘ کی پالیسی اپنائی تھی۔بھاجپا نے اسے ہندوؤں کو باٹنے والی بیحد خطرناک سیاست بتاتے ہوئے کہا کہ الگ دھرم کا درجہ دینے سے ویر شیولنگایت کے تحت آنے والے درج فہرست ذاتوں کے لوگ اپنا ریزرویشن کا آئینی حق کھو دیں گے۔ ادھر آر ایس ایس اور بی ایچ پی کا کہنا ہے کانگریس چناوی فائدہ کے لئے مرکز کی مودی سرکار کو بدنام کرنے کے لئے یہ سازش رچ رہی ہے۔ یہ ہندو دھرم کو توڑنے کی سازش ہے۔ بھاجپا نے کہا کہ کرناٹک سرکار کو14 نومبر2017 کو لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ بھارت کے رجسٹرار جنرل نے اس میں کہا تھا کہ ویرشیولنگایت ہندو دھرم کے ہی لوگ ہیں۔یہ آزاد دھرم نہیں ہے اس لئے 2011 کی مردم شماری کے دوران ویرشیولنگایت کو اپنا مذہب بتانے والے لوگوں کے لئے الگ کالم کی کوئی تجویز نہیں دی گئی تھی۔ مرکزی وزیر ارجن رام مگھوال نے کہا کہ ویر شیولنگایت مذہب کے ماننے والوں کو ہندو دھرم سے الگ کرنے کی کرناٹک سرکار کی سفارش کو مرکز منظور نہیں کرے گا۔ یہ معاملہ یوپی اے سرکارکی دوسری میعاد میں رجسٹرار جنرل کے سامنے آیا تھا اوراس نے 14 نومبر 2013 کو وزارت داخلہ کو بھیجی گئی اپنی سفارش میں کہا تھا کہ وزیر شیولنگایت ہندو دھرم سے اور اس وقت کی منموہن سرکار نے اسے منظور کیا تھا۔
(انل نریندر)

پھر تیز ہوئی تیسرے مورچہ کی کوشش

جب بھی دیش میں سیاسی اتھل پتھل ہوتی ہے تیسرے مورچہ کی حسرت پھر جواں ہوجاتی ہے۔ 2019 کے عام چناؤ سے پہلے اتحادیوں کا بی جے پی سے الگ ہونا اور کانگریس کو کمزور پڑنے کے درمیان تیسرے مورچہ کی ایک بار پھر آہٹ ہونے لگی ہے۔ تمام علاقائی پارٹیوں میں غیر کانگریسی ،غیر بھاجپا مورچہ بنا کر اگلے چناؤ میں متبادل دینے کی بات اٹھ رہی ہے۔ اس کی شروعات مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے کی تھی اور خود کو قومی متبادل کی شکل میں پیش کیا۔ دو دن پہلے ہی وہ تلنگانہ کے وزیر اعلی چندرشیکھر راؤ بھی نئے سیاسی تجزیئے بنانے میں لگ گئے ہیں۔ بھاجپااور کانگریس کی یکساں آئیڈیالوجی والی پارٹیوں کو لیکر تیسرا مورچہ بنانے کی قواعد میں لگے نیتاؤں کی نظر کانگریس اور بھاجپا سے جڑی پارٹیوں پر ہے۔ اس کا اندازہ خود کانگریس کو بھی نہ رہا ہوگا اس کے ڈنر پر آئی پارٹیاں فیڈرل فرنٹ کی کوشش کے ساتھ اس کے ہی خلاف مورچہ کھول دیں گی۔ دراصل یہ پارٹیاں غیر کانگریس ،غیر بھاجپا پارٹیوں کو ساتھ لیکر ایک تیسرا فرنٹ بنانے کے امکانات تلاش رہی ہیں۔ اس کے تعبیر ہونے کا اعتماد بڑا آسان ہے۔ یوپی اے 1-2 کے دوران کئے گئے گناہوں کے بوجھ سے کانگریس ابھی تک دبی پڑی ہے۔ اترپردیش اور بہار میں ہوئے تازہ ضمنی چناؤ میں وہ صفر پر رہی ہے۔ وہیں نریندر مودی سرکار کی کمیوں کے چلتے اس کے ساتھی کھسکنے لگے ہیں۔ پچھلے دنوں یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے ذریعے یوپی اے۔3 بنانے کی کوششوں کو لیکر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں کی یہ کوشش اس سیاست کا حصہ ہے جس میں ان کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں بھاجپا کو روکنے میں کانگریس بے جان ہوچکی ہے۔ تیسرے مورچہ کی کوشش میں وہی نیتا لگے ہیں جنہیں یہ منظور نہیں کہ بھاجپا کے خلاف بننے والے کسی بھی مورچہ کی رہنمائی کانگریس کرے۔ سونیا گاندھی کے ڈنر میں کانگریس نے یہ صاف پیغام دینے کی کوشش کی تھی ۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے یکساں نظریئے والی پارٹیوں کے اتحاد کی قیادت کانگریس کرنے کو تیار ہے لیکن تیسرے مورچہ کی تشکیل میں لگے نیتاؤں کو لگتا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں سونیا گاندھی کا یوپی اے کا فارمولہ اب صحیح نہیں ہے کیونکہ ریاستوں میں مسلسل سیاسی حریفوں کو ایک ساتھ آنے میں سیاسی دقتیں ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے ساتھ آنے سے این ڈی اے سے وابستہ کچھ سیکولر پارٹیوں کو بھی پرہیز ہوسکتا ہے۔ اب یہ تو وقت بتائے گا کہ تیسرے مورچہ کا مستقبل کیا ہوتا ہے لیکن اس کوشش نے کانگریس اور بھاجپا دونوں کے لئے خطرہ کی گھنٹی ضرور بجا دی ہے۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2018

پوتن نہیں تو روس بھی نہیں

پوتن نہیں تو روس بھی نہیں یہ خیال ہے کریملن کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا۔ ولادیمیر پوتن کو روس کی جنتا نے چوتھی بار دیش کا اقتدار سنبھالنے کے لئے زبردست مینڈینڈ دیکر یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کی لیڈر شپ کولیکر روسی جنتا کے دل و دماغ میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ پوتن نے لوگوں کو یقین دلا دیا ہے کہ ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔ سرکاری نتیجوں کے مطابق انہیں 76 فیصدی سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور یہ فیصد سال 2012 کے چناؤ سے بھی زیادہ ہے۔ پوتن ایک ایسا شخص ہے جو کسی سے ڈرتا نہیں۔ پوتن نے صدارتی چناؤ ایسے وقت میں جیتا ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکہ سمیت مغربی ملکوں کے ساتھ ان کی ایک طرح سے واضح طور پر زبردست ٹکراؤ کی صورتحال چل رہی ہے لیکن ان کے رخ سے صاف ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کے سامنے نہیں جھکے۔ نہ ہی کوئی ایسا سمجھوتہ کیا ہے جو دنیا میں روس کے کمزور پڑنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اسی سے پوتن کی ساکھ اور مضبوط اور پختہ ارادہ والے عالمی لیڈر کی بنی ہے۔ ایسے وقت میں پوتن چناؤ جیتے ہیں جب روس اور مغربی دیشوں کے رشتہ خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ روس کی جنتا نے پوتن کو ہی اگلے چھ برسوں کے لئے صدر چنا ہے۔ اب وہ 2024 تک اس عہدے پر رہیں گے۔ پوتن 2024 میں اپنی میعاد ختم ہونے کے وقت 71 سال کے ہوجائیں گے۔ اس وقت سوویت حکمراں جوزف اسٹالن کے بعد سب سے لمبے عرصے تک نیتا رہنے والے شخص بھی ہوں گے۔ سن2000 میں جب پوتن پہلی بار دیش کے صدر بنے تھے تب انہیں 53 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ظاہرہے روس میں پوتن کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سوویت یونین کی تقسیم کے بعد لمبے عرصے تک روس میں جو اتھل پتھل کی پوزیشن رہی اس سے روس کو باہر نکالنے میں پوتن کا بڑا اشتراک مانا جاتا ہے۔ اس درمیان پوتن نے صرف گھریلو محاذ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی دھاک قائم کی ہے اس لئے وہ روسی جنتا کے لئے ایک بار پھر ہیرو بنے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر کے طور پر چوتھی میعاد پوتن کے لئے چیلنج بھری ہوگی۔ اس وقت شام اور امریکہ اور روس کے درمیان مقابلہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شام کو لیکر کوئی بھی فریق جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ کو لگ رہا ہے کہ اگر شام معاملہ میں وہ روس کے سامنے کمزور پڑا تو ساری دنیا کی نظر میں روس پھر سے طاقتور درجہ حاصل کرسکتا ہے۔ پھر پوتن ایسے وقت چوتھی بار صدر چنے گئے ہیں جب پڑوسی دیش چین میں صدر شی جن پنگ کی زندگی بھر کے لئے اپنے عہدے پر بنے رہنے کا راستہ صاف کردیا گیا ہے۔ روس کے درمیان بڑھتی نزدیکی سے سب سے زیادہ فکر مند امریکہ ہے۔ 2014 میں کروسیا کے انضمام کے ذریعے پوتن نے مغرب سے لوہا لیا تھا اور اس کے بعد لگی اقتصادی پابندیوں کو انہوں نے دیش میں مینوفیکچرنگ فیکٹر کو مضبوط کرنے کے موقعہ میں بدل دیا۔ ان کی جیت کا عالمی سیاست پر اثر پڑنا طے ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کیونکہ مغربی دیشوں کے ساتھ روس کے رشتے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آج سب سے نچلی سطح پرہیں۔ جہاں تک بھارت سے رشتوں کی بات ہے تو اس کے مضبوط ہونے کے ہی آثار ہیں۔ البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ پوتن فوجی اور سیاسی رشتے کو مضبوطی دیتے ہوئے باہمی تجارت کو کس اونچائی تک لے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ پچھلے سال روس نے پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں کی تھیں ۔ ایسے میں پوتن ایشیا میں علاقائی توازن بنائے رکھتے ہوئے روس کو پھر سے بڑی طاقت کی شکل میں کیسے قائم کر پاتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ صدر پوتن کو اس شاندار جیت پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

رام سیتو کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا

لاکھوں ہندوؤں کی عقیدت سے جڑے رام سیتو کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سمندر میں جہازوں کی آمدورفت کو ٹھیک ٹھاک بنانے کے لئے مجوزہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کے لئے رام سیتو کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمعہ کو حلف نامہ دے کر بتایا کہ دیش کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے قدیمی رام سیتو کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ سرکار سیتو سمندرم پروجیکٹ کے لئے پہلے طے کئے گئے الائمنٹ کا متبادل تلاش کرے گی۔ سرکار میں یہ حلف نامہ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر داخل کیا ہے۔ پچھلے سال نومبر میں سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو اپنا موقف رکھنے کے لئے آخری موقعہ دیا تھا۔ سرکار کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنک آنند نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ سے کہا کہ کیونکہ اب وزارت کی طرف سے حلف نامہ داخل کیا جاچکا ہے ایسے میں سوامی کی عرضی کا نپٹارہ کردینا چاہئے۔ اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں سوامی نے اپیل کی تھی کہ مرکز کو یہ ہدایت دی جائے کہ وہ اس پروجیکٹ کے لئے قدیمی رام سیتو کو نہ چھوئے۔ اس پروجیکٹ کا سیاسی پارٹیوں نے ماحولیاتی نقطہ سمیت کئی ہندو تنظیموں کی مسلسل مخالفت کی وجہ سے فیصلہ لیا ہے۔ بتادیں کانگریس کی لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار کے وقت سال 2005 میں سیتو سمندرم پروجیکٹ کا اعلان ہوا تھا۔ اس وقت اس کی لاگت قریب 2500 کروڑ تھی جو کہ اب بڑھ کر 4000 کروڑ ہوگئی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت بڑے جہازوں کے ٹرانسپورٹ کے لئے قریب 84 کلو میٹر لمبے دو چینل بنائے جانے تھے۔ ان کے بن جانے سے جہازوں کے آنے جانے میں لگنے والے وقت میں 30 گھنٹے کی کمی آئے گی۔ اس چینل سے ایک رام سیتو سے بھی گزرناہے۔ اسے ایڈمس برج بھی کہا جاتا ہے۔ سری لنکا اور بھارت کے درمیان اس راستے پر سمندر کی گہرائی کم ہونے سے جہازوں کو لمبے راستے سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ یوپی اے سرکار نے اس رام سیتو کو توڑنے کو صحیح قدم ٹھہرانے کے لئے باقاعدہ حلف نامہ دائرکر کہا تھا کہ بالمیکی رامائن اور رام چرترمانس قدیم بھارت کی اہم ترین ادبی وزاثت ہے لیکن انہیں تاریخی ریکارڈ نہیں مانا جاسکتا۔ جو بغیر شبہ کے اس کے کرداروں اور دکھائے گئے واقعات کو ثابت کرے۔ مرکز میں تبدیلی اقتدار کے بعد آئی بھاجپا کی رہنمائی والی این ڈی اے حکومت نے شروع میں ہی صاف کردیا تھا کہ لوگوں کی عقیدت کو دھیان میں رکھتے ہوئے پروجیکٹ کے لئے رام سیتو نہیں توڑا جائے گا لیکن جمعہ کو پہلی بار سرکار نے کھل کر تحریری طور پر سپریم کورٹ میں اس بارے میں اپنا رخ صاف کردیا ہے۔ مرکزی سرکار کے اس فیصلہ کا خیرمقدم ہے۔ 
(انل نریندر)

21 مارچ 2018

بیشک عدم اعتماد سے نمٹنے میں سرکار اہل ہے تب بھی۔۔۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جاری تعطل12 ویں دن بھی برقرار رہا۔ اس کے چلتے تیلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے ذریعے سرکار کے خلاف لائے گئے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ پر ایوان میں ہنگامہ کے چلتے کوئی کام نہ ہوسکا۔ حالانکہ سرکار کی طرف سے صاف طور پر کہا گیا کہ اسے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ سمیت کسی بھی اشو پر بحث سے کوئی پرہیز نہیں ہے یہ بات شیشے کی طرح صاف ہے۔ تیلگودیشم، وائی ایس آر کے پروستاؤ سے نریندرمودی کی حکومت گرنے والی نہیں ہے لیکن اس سے این ڈی اے میں دراڑ ضرور اجاگر ہوگی اور اپوزیشن اتحاد کا ماحول ضرور بنے گا۔ تیلگودیشم پارٹی کے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لینے کے باوجود ابھی بھاجپا کے بھی 274 ایم پی ہیں۔ این ڈی اے سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کوئی اثربھلے ہی نہ پڑے لیکن حالیہ ضمنی چناؤ کے نتیجوں خاص کر اترپردیش کے گورکھپور اور پھولپور و بہار کے ارریہ میں بھاجپا کی کراری ہار کے بعد آنے والے انتخابات کے پیش نظر اس نے اپوزیشن کو ماحول گرمانے کا یکساں موقعہ تو دے دیا ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو خاصی جلدبازی میں ہیں اور ریاست کو اسپیشل درجہ کے معاملہ میں کسی کو اور کوئی موقعہ نہیں دینا چاہتے۔ تب تو اور بھی نہیں جب وائی ایس آر کانگریس کی شکل میں ایک مضبوط حریف سامنے ہو۔ جس کے نیتا جگموہن ریڈی سے ناراض ریاست کی جنتا کو یہ بتانے میں سرگرم ہوں کے چار سال تک مرکز اور ریاست دونوں میں اقتدار میں رہنے کے باوجود چندرابابو نائیڈو ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے۔ ریڈی کی یہ سرگرمی نائیڈو کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ان کے اتحاد کے ووٹ شیئر اور وائی ایس آر کانگریس کے ووٹ شیئر میں محض ڈھائی فیصدی کا فرق انہیں بے چین کررہا ہے۔ ظاہر ہے نائیڈو نہ تو وائی ایس آر کانگریس کو کوئی موقعہ دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی جنتا کو یہ سوال پوچھنے کا موقعہ مرکز کا پچھل پنگو بننے کے باوجود وہ ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے؟ ایسے میں سرکاراور اتحاد سے ناطہ توڑنا ہی سب سے آسان طریقہ تھا۔ ادھرترنمول کانگریس اور مارکسوادی پارٹی نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا وعدہ کرکے مغربی بنال کی اپنی سیاسی دشمنی کو کنارے کردیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ سماجوادی پارٹی جس کے لوک سبھا ممبران کی تعداد اب7 ہوگئی ہے وہ کیا فیصلہ لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شرومنی اکالی دل اور اپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی کا موقف کیا ہے؟ وہ پارٹیاں این ڈی اے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے رویئے سے ناراض ہیں۔ اس درمیان انا ڈی ایم کے نے کاویری مینجمنٹ بورڈ کی مانگ اچھالتے ہوئے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بورڈ نہیں بنایا تو احتجاج میں ووٹ کرے گی۔ دیکھا جائے تو ٹی ڈی پی، وائی ایس آر،سی پی آئی اور انا ڈی ایم کے کی مانگیں ایک طرح سے چناوی موقعہ پر کی جانے والی سودے بازی کی حکمت عملی ہیں۔ دوسری طرف مرکزی سرکار کا یہ کہنا اصولی طور سے ٹھیک ہوسکتا ہے کہ 14 ویں مالیاتی کمیشن میں مخصوص ریاست کا درجہ جیسی کوئی سہولت نہیں ہے لہٰذا تیلگودیشم پارٹی کی مانگ پوری نہیں ہوسکتی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست اتنے اہل اور خود کفیل بنے کے انہیں مرکز کی بیساکھی کی ضرورت نہ ہو۔ اس کے لئے مرکز اور ریاست دونوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ تبھی بات چیت مثبت طور سے ہوسکے گی۔ وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے ٹھیک ہی کہا کہ چناوی سال ہے اور ایسا احتجاج اور عدم اعتماد ریزولوشن کی روایت کا ایک حصہ ہے۔ ظاہر ہے بھاجپا اپنی نمبروں کی طاقت اور تنظیم کے ذریعے سے ایسی چنوتیوں سے نمٹنے میں اہل ہے۔ یہ این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور مودی سرکار کی ساکھ زیادہ تیزی سے بگاڑیں گے۔ موجودہ سرکار کے چار سال کی میعاد پوری ہونے سے پہلے عدم اعتماد پرستاؤ سے کئی پارٹیوں کی جھجھک ٹوٹے گی اور وہ آنے والے چناؤ کے لئے اپنے دوست اور دشمن کا فیصلہ کرسکیں گی۔ یہ سب اس لئے بھی ہورہا ہے کیونکہ اپنے چار سال کی میعاد میں ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار سے سبھی کو اچھلنے کا موقعہ مل گیا ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...