Translater

31 جنوری 2018

آسیان ممالک میں راجہ اور ہیرو ہیں بھگوان رام

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایشیا کے کئی ملکوں میں بھگوان رام اور راون موجود ہیں۔ بیشک ان کے نام دیش کے مطابق بدل جاتے ہیں کہیں رام ، راما تو کہیں فرا بن جاتے ہیں۔ویسے ہی راون فلپین میں بدل کر لاون ہوجاتا ہے، کہانی وہی رہتی ہے۔ رام نائک اور راون کھلنائک ایشیا میں الگ الگ دیشوں میں بھلے ہی ایشور کے اوتار نہیں دکھائی پڑتے لیکن رامائن مہا کاویہ کی کہانی کا اختصار وہی ہے سچ پر برائی کی جیت کا پیغام دیتے اس مہاکاویہ کو زبان، کلچر، پس منظرسے دیکھنے کا مقصد بھی اسی طرح کا احساس ہے۔ وہ اتفاق سے گزری20سے24 جنوری کوآسیان ملکوں کے چارروزہ رامائن مہوتسو میں رہا۔ اس کا انعقاد دہلی میں ہوا تھا۔ یہاں مشترکہ کلچر کی علامت بن چکے مہا کاویہ رامائن کو آسیان ملکوں نے ایک اسٹیج سے اپنے اپنے انداز میں کہا الگ الگ شکلوں ، زبانوں اور نرتیہ کی شیلیوں میں منچ پر آئے یہ کردار بار بار کہہ رہے تھے کہ رامائن برسوں پہلے دور دور تک فروغ پا چکی ہے۔ رامائن کے کردار صرف بھارت ہی نہیں ایشیا والوں کے دل میں بستے ہیں۔ رامائن مہوتسو میں آئے فلپین کے کیتھولک دھرم سے وابستہ پادری اسٹیون فرنانڈیز کہتے ہیں کہ اسکول ۔کالج میں ہمیں رامائن کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ فلپین میں حالانکہ اسلام اور عیسائی دو مذہب کے لوگ سب سے زیادہ ہیں اور اپنی مذہبی روایات سے الگ ہم رام یا سیتا کی پوجا نہیں کرتے لیکن رام ہماری کہانی کا ہیرو ہے۔ 40 سال سے تھیٹر میں رامائن کا منچن کررہا ہوں۔ پہلی بار بھارت آکر رام کے کردار اور ان کے دھارمک عقیدت کی مضبوط جڑوں کے بارے میں پتہ چل رہا ہے۔ صرف اسٹیون ہی نہیں آسیان کے فنکاروں کا پسندیدہ کردار سیتا ہے اس کے بعد دوسرے مقام پر آتے ہیں انج نپتر ہنومان۔ ہنومان کو دکھانے کے لئے کمبوڈیا کے آرٹسٹوں نے ہنومان چالیسا کا بھی منچن کیا تھا۔ عیسائی ملکوں خاص کر ساؤتھ جزیروں میں مسلمانوں کو رامائن کی سرپرستی کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ میانمار رام کی کہانی کے تین روپ دکھاتا ہے۔تھیوڑ بودھ دھرم کے بارے میں رائج کہانیوں کا ذکر ہے جہاں رام کو مستقبل میں بودھت رام مانا جاتا ہے۔ 300 برس پہلے ہی ایشیا میں پہنچ چکی رامائن نویں صدی انڈونیشیا کے جاوا جزیرے میں پربانند نام کا شیو مندر ہے۔ تھائی لینڈ میں آج بھی راجہ کو رام کی پدوی دی جاتی ہے۔ تھائی لینڈ میں جو بھی راجہ بنتا ہے وہ رام کی پدوی حاصل کرتا ہے۔ راجہ اور ہیرو ہیں آسیان دیشوں کے رام۔
(انل نریندر)

کابل میں طالبان کا خوفناک حملہ

افغانستان کی راجدھانی کابل میں واقع ہندوستانی سفارتخانے سے محض400 میٹر کی دوری پر سنیچر کو ہوئے فدائی حملہ میں 91 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 158 دیگر زخمی ہوگئے۔ حملہ کی ذمہ داری آتنکی تنظیم افغان طالبان نے لی ہے۔ یہ کتنا خطرناک حملہ تھا یہ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بے قصوروں کا مارا جانا اور زخمی ہونا۔جتنی بھاری تعداد میں لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے اس سے یہ حالیہ وقت کا سب سے زیادہ بڑا حملہ ہوگیا ہے۔ طالبان اگر اس کی ذمہ داری نہ بھی لیتا تو بھی شک کی سوئی اسی طرف جاتی۔ 20 فروری کو بھی طالبان نے کابل کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا جس میں 25 لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں زیادہ غیر ملکی تھے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے ڈپٹی ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ حملہ آور دھماکوں سے لدی ایمبولینس میں سوار ہوکر آئے تھے۔ آتنکی پہلی جانچ ہو چکی مریض ہونے اور اسے جمہوریت اسپتال لے جانے کی بات کہہ کر ناکہ کو پار کر گئے تھے لیکن دوسری جانچ چوکی پر پہنچنے سے پہلے ہی سیکورٹی ملازمین کو حقیقت کا پتہ چل گیا۔ اس کا احساس ہوتے ہیں ایمبولنس میں بیٹھے حملہ آور نے دوسری چوکی پر پہنچتے ہی دھماکو سامان میں دھماکہ کردیا۔ دھماکہ اتنا خوفناک تھا کہ دو کلو میٹر دور تک اس کی آواز سنی گئی۔ 
جس علاقہ کو دھماکہ کے لئے چنا گیا وہیں ہندوستانی قونصل خانے کا دفتر ہے، یوروپی یونین کا دفتر ہے اور سوئیڈن اور ہالینڈ کے سفارتخانے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ اس بار بھی طالبان کے نشانے پر غیر ملکی رہے ہوں گے۔ دھماکہ کیلئے ایمبولنس کا استعمال کرنا نئی بات ہے اور نہایت ہی خطرناک بھی ہے۔ اس حملہ کے بعد ایک ایک ایمبولنس کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے طالبان سے متعلق حقانی نیٹ ورک کی کارگزاری بتایا۔ 
جب سے امریکہ نے پاکستان پر طالبانوں کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھایا ہے اور افغانستان میں موجودہ اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کا اعلان کیا ہے تب سے حقانی نیٹ ورک غیر ملکیوں کے خلاف کچھ زیادہ ہی جارحانہ ہوگیا ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے درمیان تال میل ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ نے حقانی نیٹ ورک پر ڈرون حملہ بھی کئے تھے۔ یہ دھماکہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے لئے مسئلہ سنگین ہے۔ یہ امریکہ و افغان سرکار کو سیدھی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

30 جنوری 2018

کاسگنج تشدد کا ذمہ دار کون

جوترنگے ہمارے دیش کے اتحاد، سالمیت اوریکجہتی کی فخر کی علامت ہیں جب اسے ہی لیکر ٹکراؤ اور تشدد ہوتو یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ کاسگنج میں ایسا ہی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے کاسگنج میں 26 جنوری کو ترنگا یاترا کے دوران دو فرقوں کے درمیان تشدد میں چندن پتر سشیل کمار کی موت ہوگئی۔ صبح ساڑھے سات بجے بھاری پولیس فورس کے ساتھ لاش کو کالی ندی پر انتم سنسکار کے لئے لے جارہے لوگوں نے جم کر بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے لگائے۔ آخری رسوم کے بعد جب لوگ واپس لوٹ رہے تھے تو ان میں بھاری ناراضگی تھی۔ اس کے بعد شہر میں تشدد بھڑک گیا۔ شہر کے ندرئی گیٹ پر بلوائیوں نے دو بسوں اور کئی دکانوں کو نذر آتش کردیا۔ یوم جمہوریہ پر کچھ بائیک سوار ترنگا یاترا نکال رہے تھے ان کی زد تھی یاترا اسی سڑک سے نکلے گی ، تو دوسری طرف پروگرام منعقدہ کرانے کی مہلت چاہے تھی۔ ٹکراؤ کے بڑھنے کی کئی اور بھی وجہ بتائی جارہی ہیں۔ کاسگنج میں جو ہوا وہ کیا منظم سازش کا حصہ تھا یا اتفاقی۔ اس بارے میں تصویر آہستہ آہستہ صاف ہونے لگی ہے۔ تشدد کو لیکر انتظامیہ کو بھیجی گئی خفیہ رپورٹ میں ہنگامہ کے لئے کچھ اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چندن گپتا کے مبینہ قاتلوں کو مقامی نیتاؤں کی سرپرستی حاصل ہے۔ دوسری طرف انتظامی ناکامی پر حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ وہاں تشدد بھڑکانے پر نیشنل سیکورٹی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کاسگنج میں پہلے ہی سے کشیدگی رہی ہوگی جو یوم جمہوریہ پر سامنے آگئی۔ سوال یہ ہے کہ کاسگنج انتظامیہ کیا کررہا تھا؟ کیا انہیں اندر خانے کشیدگی و تیاریوں کا پتہ نہیں چلا؟ اگر انتظامیہ پہلے ہی احتیاطاً قدم اٹھا چکا ہوتا تو شاید اس تشدد سے بچا جاسکتا تھا۔ انتظامیہ کی سنجیدگی کو دھیان میں رکھ کر ترنگا یاترا کا روٹ بدلا جاسکتا تھا لیکن جھنڈا لہرانے کے پروگرام کو کہیں اور بھی کرنے کو کہا جاسکتا تھا لیکن افسوس انتظامیہ اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ بے قصور لوگوں کی جان چلی گئی اور سرکاری پراپرٹیوں کو آگ کے حوالہ کیا گیا۔امید کرتے ہیں کہ سرکار اور انتظامیہ اس آگ کو دوسرے علاقوں میں پھیلنے سے روکے۔ کاسگنج بحال امن کیلئے شرارتی عناصر پرلگام لگائے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر کون کاسگنج تشدد کا ذمہ دار ہے؟
(انل نریندر)

دیش کو نابینا کرکٹروں پر فخر ہے

ایک طرف جہاں انڈین پریمیرلیگ (آئی پی ایل) میں کرکٹروں پر پیسہ کی برسات ہورہی ہے وہیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی نابینا کرکٹ ٹیم کا کھلاڑی کوئی کھیتی مزدور ہے تو کوئی گھروں میں دودھ سپلائی کرتا ہے۔ کوئی آرکیسٹا میں جاکر گزر بسر کرتا ہے۔ دیش کو دنیا میں عزت دلانے والے یہ کھلاڑی تنگدستی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ دوسری بار ونڈے ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے17 افراد میں سے 12 کے پاس کوئی مستقبل روزگار نہیں ہے۔ اس سب کے باوجود ان کی ہمت اور جذبہ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ 2014 کی طرح اپنا جلوہ برقرار رکھ کر نابینا ٹیم نے ورلڈ کپ کرکٹ کپ پر قبضہ جما لیا۔ انہوں نے فائنل میں اپنی کٹر حریف ٹیم پاکستان کو دو وکٹ سے ہرا دیا۔ اس ورلڈ کپ کا آغاز 1998 میں بھارت میں ہی ہوا تھا اور اس کے فائنل میں پاکستان کو ہرا کر ساؤتھ افریقہ کے چیمپئن بننے کو چھوڑدیں تو باقی چاروں ورلڈ کپ کے فائنل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہی کھیلے گئے۔ ان میں سے آخری دو 2014 اور 2018 کے ورلڈ کپ پر بھارت نے قبضہ جمایا ہے۔ بھارت کو جیتنے دلانے میں سنیل رمیش نے 93 رن بنا کر اہم رول نبھایا۔ نابینا ٹیم کو چننے کا طریقہ بھی الگ ہے۔ اس میں کھیلنے والی ٹیموں میں کھلاڑی تو 11 ہی کھیلتے ہیں لیکن ٹیم میں 3 کیٹگری کے کھلاڑی شامل کئے جاتے ہیں۔ ٹیم میں بی۔1 کے 4، بی۔2 کے 3 اور بی اور وی کے 4 کھلاڑیوں کا کھلانا ضروری ہے۔ بی۔1 کا مطلب مکمل نابینہ۔ بی۔2 کا مطلب جزوی نابینہ اور بی۔3 کا مطلب تھوڑا بہت دیکھنے والا کھلاڑی۔ بی۔1 کھلاڑی کو ایک رنر دیا جاتا ہے اور وہ جتنے رن بناتا ہے اس کے دگنے رن اس کے کھاتے میں جوڑے جاتے ہیں۔ بی 2- کھلاڑی بھی چاہے تو وہ رنر لے سکتے ہیں۔ میچ میں فیلڈنگ کرتے وقت 4 بی۔1 کھلاڑیوں کا رہنا ضروری ہے۔ سبھی زمرے کے کھلاڑی ہاتھوں میں الگ الگ رنگ کے بینڈ باندھتے ہیں۔ کرکٹ کے قاعدے ہی نابینا کرکٹ میں بھی چلتے ہیں لیکن ان قواعد میں نابینا کرکٹروں کے لئے آسان بنانے کے لئے تھوڑی اصلاح کی گئی ہے۔ اس کی گیند کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیند سے تھوڑی بڑی ہوتی ہے۔ گیند کے اندر بجنے والی بال بیرنگ ہوتی ہے۔ اس آواز سے ہی بلے باز گیند کو پہچاناتا ہے۔ فیلڈر کی بھی یہ پوزیشن ہوتی ہے۔ اس کے وکٹ تھوڑے بڑے ہوتے ہیں۔ وہ میٹل پائپ کے ہوتے ہیں ان کا رنگ چمکیلا نارنگی یا پیلا ہوتا ہے۔ اس میں گیند بازی انڈر آرچ کی جاتی ہے اور گیند کا آدھی پچ سے پہلے ٹپکا کھانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ گیند بلے باز کے پاس پہنچتے وقت نیچی ہورہی ہے۔ گیند باز پہلے ریڈی کہتا ہے اور بلے باز کے ہاں کہنے پر ہی پلے کہہ کر گیند پھینکتا ہے۔ ان تینوں باتوں میں تال میل نہ ہونے پر گیند نوبال ہوسکتی ہے۔ ہمیں اس ٹیم پر ناز ہے۔ اس بات کا بھی دکھ ہے کہ نہ تو سرکار کی طرف سے اور نہ ہی بی سی سی آئی سے ان کھلاڑیوں کو وہ سہولیات ملتی ہیں جو ان کو ملنے چاہئیں۔ کپتان اجے ریڈی کا کہنا ہے جہاں کرکٹروں کو ایک جیت پر سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے وہاں یہ نوکری اور عزت کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کھلاڑی اپنا پورا فوکس کھیل پر نہیں دے پارہے۔ بی سی سی آئی یا کھیل وزارت سے مانیتا ملنے سے ہی مسائل بہت حدتک سلجھ سکتے ہیں لیکن وہ بھی نہیں ملے ہیں؟
(انل نریندر)

28 جنوری 2018

پدماوت میں راجپوتوں کی آن بان شان ہی دکھائی گئی ہے

پچھلے کئی دنوں سے فلمسازسنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ اخبارات و ٹی وی چینلوں کی سرخیاں بنی ہوئی ہے۔ خود کو کرنی سینا کہنے والے کچھ مٹھی بھر لوگوں کی غنڈہ گردی، توڑ پھوڑ ، آگ لگانے سے پیدا خوف کے درمیان 13 ویں صدی کی یہ گورو گاتھا جمعرات کو سنیما گھرو ں میں ریلیز ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ فن اور خوبصورتی کے نظریئے کو دکھانے کیلئے مشہور بھنسالی کی اس فلم کے فن اور موقف سے زیادہ بحث اب اس بات کو لیکر ہورہی ہے کہ فلم میں ایسے کوئی مناظر ہیں یا نہیں جنہیں لیکر اتنا واویلا مچا ہوا ہے۔ اسی شک کو دور کرنے کے لئے میں نے یہ فلم دیکھی۔ میں ناظرین کو اور قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ فلم میں ایسا کوئی منظریا مکالمہ نہیں ہے جسے رانی پدماوتی یا راجپوتو ں کی شان میں گستاخی کہا جائے۔ فلم میں زبردست ڈائیلاگ ہیں جو راجپوتوں کی جم کر تعریف کرتے ہیں۔ اس فلم میں راجپوتوں کی آن بان شان کو دکھایا گیا ہے جو چنتا کو تلواروں کی ناک پر رکھے ہوئے ہیں وہ راجپوت جو انگارے پر چلیں اور مونچھوں کو تاؤ دیں ، وہ راجپوت جس کا سر کٹ جائے لیکن اپنے دشمنوں سے لڑتے رہے وہ راجپوت۔ راجپوتوں کی آن بان شان دکھاتی ہے یہ فلم۔ یہ ڈائیلاگ پدماوت کے ہی ہیں ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ بغیر فلم دیکھے پورے دیش میں اتنا ہنگامہ آخر کیوں؟ یہ فلم تو راجپوتوں کی بہادری اور قربانی، بلیدان کی کہانی ہے۔
پدماوت دیکھنے کے بعد اصلی تصویر سامنے آگئی ہے۔ کرنی سینا سمیت تمام راجپوت تنظیم دیش بھر میں غنڈہ گردی مچا تے رہے لیکن وہ انتظار نہیں کرپائے کہ ایک بار پردے پر پدماوت کو دیکھ تو لیں۔ جس طرح اشو کو لیکر احتجاج کررہے ہیں اس میں سچائی ہے بھی یا نہیں؟ دراصل کرنی سینا سمیت تمام تنظیموں تک صحیح پیغام پہنچانا ضروری تھا۔ لیکن بھنسالی کی اس فلم پدماوت میں علاؤ الدین خلجی کوئی ہیرو نہیں بلکہ خطرناک کھلنائک ہے جس سے کوئی صرف نفرت ہی کرسکتا ہے۔ فلم پدماوت کو لیکر جتنا ہنگامہ ہورہا ہے وہ بلا تنازع کتنا غلط تھا وہ فلم دیکھنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے۔فلم میں راجپوتوں کی ساکھ اور آن اور عزت کو ٹھیس پہنچانے والا ایک بھی منظر نہیں دکھایا گیا جس کے بارے میں بھنسالی پہلے بھی کہہ چکے تھے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے دیکھے بنا ہی زیادہ احتجاج شروع کردیا۔ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فلم دیکھنے کے بعد ناظرین راجپوتوں کی ساکھ اور بہادری ، آن بان شان سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے۔
(انل نریندر)

لمبے ہوگئے لالو پرساد یادو

دن کے 11 بجے سی بی آئی (رانچی) کے اسپیشل جج سورن شنکر پرساد کورٹ روم میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں موجودہ لالو پرساد یادو اور دیگر ملزمان کے وکیلوں کو دیکھتے ہوئے جج پوچھتے ہیں سب لوگ آگئے ہیں؟ بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ آئے ہیں۔ جیل سے ابھی کچھ لوگ نہیں آئے ہیں۔ 11 بجکر 30 منٹ پر پہنچ جائیں گے۔ اس پر جج نے کہا آجانے دیجئے ،اس کے بعد فیصلہ سنائیں گے۔ 11 بجکر 30 منٹ پر جو لالو پرساد کورٹ میں پہنچتے ہیں اس کے بعد جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔ چناؤ لڑنے سے نااہل قرار دئے جانے کے بعد لالو کی سیاسی توقعات پر روک تو پہلے ہی لگ گئی تھی چارہ گھوٹالہ کے اس تیسرے معاملہ میں جج موصوف نے انہیں پانچ سال کی سزا سنا دی۔ چارہ گھوٹالہ میں پہلے معاملہ میں انہیں پانچ سال کی سزا ہوئی تھی۔ وہ ضمانت پر ہیں۔ دوسرے معاملہ میں ساڑھے تین سال کی قید کی سزا ہوئی، وہ رانچی کی بڑسا منڈا جیل میں کاٹ رہے ہیں اور اب تیسرے معاملہ میں انہیں پانچ سال کی سزا ہوئی ہے جبکہ اسی گھوٹالہ سے متعلق دور اور مزید معاملوں میں ف فیصلہ آنے والا ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلی رہ چکے جگناتھ مشرا کو چارہ گھوٹالہ کے پہلے معاملہ کے بعد تیسرے معاملہ میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ چاہی باسا خزانہ سے 33.67 کروڑ کی ناجائز طور پر پیسہ نکالنے پر معاملہ میں فیصلہ سنائے جانے کے بعد باقی بچے دو مقدموں میں بھی جلد فیصلہ آنے کی امید ہے۔ چارہ گھوٹالہ کے تیسرے معاملہ میں سزا ملنے کے بعد آر جے ڈی جہاں مایوس ہے وہیں بھاجپا نے اسے کرنی کا پھل بتایا۔ فیصلہ آنے کے بعد لالو کے بیٹے اور سابق وزیر اعلی تیجسوی یادو نے کہا کہ فیصلہ سے ہم مایوس ہیں مگر ہمت نہیں ہارے۔ انہوں نے کہا فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ ،سپریم کورٹ جائیں گے۔ تیجسوی نے ریاست کے سرجن گھوٹالہ کی جانچ کی بھی مانگ کی۔ اس میں مبینہ طور سے ریاستی سرکار کے خزانے سے ایک ہزار کروڑ روپے این جی او کے کھاتہ میں ٹرانسفر کردئے گئے تھے۔ عدالت کا فیصلہ لالو پرساد کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ کہاں تو قریب 6 مہینے پہلے تک ان کی پارٹی بہار کی اتحادی سرکار میں تھی اور ان کے دونوں بیٹے کیبنٹ میں تھے اور کہاں پانچ سال کی سزا کے بعد ہائی کورٹ سے ضمانت لینا بھی مشکل لگتا ہے۔ لالو جی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ اگر سپریم کورٹ نے داغی نیتاؤں کے پارٹی کے عہدیدار بننے پر روک کی مانگ قبول کرلی تو لالو پرساد یادو کے ہاتھ سے پارٹی صدر کا عہدہ بھی چلا جائے گا اس کے ساتھ ہی سیاست میں سرگرم لالو پرساد یادو کا سیاست سے سنیاس لینا طے ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

26 جنوری 2018

جج لویا کیس سنگین : ہم چپ نہیں رہ سکتے

سپریم کورٹ نے اسپیشل سی بی آئی جج بی ایم لویا کی موت کو لیکر کہا کہ ہم چپ چاپ نہیں بیٹھ سکتے۔ جج موصوف کی موت سے متعلق عرضیوں میں اٹھائے گئے اشوز کو سنگین بتایا گیا۔ حالانکہ بڑی عدالت نے معاملہ میں بھاجپا صدر امت شاہ کا نام گھسیٹنے کے لئے ایک سینئر وکیل کو پھٹکارلگائی۔ عدالت ہذا نے متعلقہ سبھی دستاویزوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ کے تئیں ناخوشی بھی ظاہر کی جب انہوں نے ایک امکانی حکم کے بارے میں نتیجہ نکلا کہ بڑی عدالت معاملہ میں میڈیا پر لگام لگا سکتی ہے ۔ بتادیں کہ قصہ کیا ہے؟ جج لویا موت سے پہلے سہراب الدین شیخ فرضی مڈبھیڑ معاملہ کی سماعت کررہے تھے۔ ان کو 1 دسمبر 2014 کو ناگپور میں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی تھی۔ وہ اپنے ساتھی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے کے لئے ناگپور گئے تھے۔ سال 2014 میں ہوئی لویا کی موت پر دو مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کررہے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خان اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ کے پاس التوا دو دیگر عرضیاں اپنے پاس منتقل کرلی ہیں۔ بتادیں کہ چار سینئر ججوں نے پچھلے دنوں چیف جسٹس پر جو الزام لگائے تھے ان میں لویا کیس کی سماعت کا معاملہ بھی شامل تھا۔ بنچ نے دیش میں سبھی بڑی عدالتوں میں لویا کی موت سے متعلق کسی بھی عرضی پر غور کرنے پر بھی روک لگا دی تھی۔ بنچ نے کہا کہ لویا کی موت سے جڑے وہ سارے دستاویزات جوا بھی تک داخل نہیں کئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر پیش کریں۔عدالت ان دستاویزوں پر اگلی سماعت کی تاریخ 2 فروری مقرر کرے گی۔ جسٹس چندرچوڑ نے جسٹس لویا کی موت کولیکر میڈیا رپورٹ کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہم چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم ریکارڈ اور موت سے متعلق حالات کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیں گے۔ ان کی موت کو قدرتی بتایا گیا لیکن اس کے بعد سے موت کے اسباب کو لیکر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ جسٹس لویا کی جگہ آئے سی بی آئی جج نے شاہ کو بری کردیا تھا۔ جسٹس لویا کے بھائی اور بہن ان کی موت کی جانچ کی مانگ کرچکے ہیں۔ حالانکہ ان کے بیٹے نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ جانچ نہیں چاہتے۔ اس سے پہلے اس معاملہ کی سماعت سے جسٹس ارون مشرا نے خود کو الگ کرلیا تھا۔ اس معاملہ میں مہاراشٹر کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے کی بحث پر بنچ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات کے مطابق یہ قدرتی موت ہے بے تکے الزام نہ لگائیے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...