Translater

03 مئی 2017

’مین آف ایکشن ‘یوگی آدتیہ ناتھ

اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی تقریباً 30 دن ہوئے ہیں اور یوگی نے دکھا دیا ہے کہ وہ ’مین آف ایکشن‘ ہے۔ انہوں نے 30 دن میں وہ کام کردکھائے جن کو مہینوں اور برسوں لگ جاتے تھے۔ یوگی نے حلف برداری کرتے ہی اپنے چناوی وعدے پورے کرنے شروع کردئے ہیں۔ ریاست کے گنا وکاس راجیہ منتری سریش رینا نے بتایاکہ قریب ایک مہینے میں گنا کسانوں کو پانچ ہزار کروڑ روپے کی بقایا ادائیگی کردی گئی ہے۔ پردیش میں 116 میں سے 56 ملوں نے 14 دن میں بقایا جات ادا کردئے ہیں۔ اب تک 83 فیصد گنے کا پیسہ ادا ہوچکا ہے۔ باقی چینی ملکوں کو ہر حال میں 120 دن میں 100 فیصد پیسے کی ادائیگی کرنے ہوگی اور تاخیر سے ادا کرنے والی ملوں جو 15 فیصدی سود بھی دینا ہوگا۔ وزیر اعظم آدتیہ ناتھ یوگی نے سرکار کے کام کاج اور رفتار تیز کردی ہے۔ وزرا اور افسروں کو بڑی ذمہ داری و جوابدہی سے باندھا گیا ہے۔ وزرا ء کو اب اپنے اپنے محکموں کے کام کاج پر وائٹ پیپر و تین مہینے بعد پیشرفت رپورٹ دینی ہوگی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کرپٹ ملازمین کو نہ صرف وراننگ دیں بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر سخت کارروائی کریں۔ وزیر اپنے اپنے دائرہ اختیار والے اضلاع کا دورہ کرکے مرکز و ریاستی سرکار کی یوجناؤں پر عمل کا جائزہ لیں گے۔ وزراء سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع اسپتالوں ،بارات گھروں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کا دورہ کر ڈاکٹروں کی حاضری طے کریں۔ وزیر اعلی نے کہا افسران 9 سے6 بجے تک دفتر میں رہیں۔ کسی بھی وقت وزیر اعلی آدتیہ ناتھ انہیں کال کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رشوت خور بابوؤں کو سیدھے جیل بھیجا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے وزیر شری کانت شرما نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہنمائی والی حکومت اپنے 100دنوں کے عہد کی رپورٹ کارڈ جنتا کے سامنے رکھے گی۔ شری کانت نے یہ بھی کہا کہ ایک وزیر روز لکھنؤ میں بی جے پی دفتر میں جنتا کے مسائل سنے گا۔ شرما نے کہا کہ یوپی سرکار کرپشن پر زیرو ٹالرینس کے تحت کارروائی کرے گی۔ ہر ضلع افسر کو صفائی پر خاص توجہ دینے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر گاؤں میں بجلی کی سپلائی کو لیکر بھی سرکار کی ہدایات صاف ہیں۔ ہر گاؤں میں صبح 7 بجے سے لیکر شام 5 بجے تک بجلی رہے گی ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ضلع افسر تحصیلوں اور ایس ایس پی تھانوں میں رکیں اور وہاں کے کاموں کا جائزہ لیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ 15 جون سے پہلے صوبے کی سڑکوں کو گڈھوں سے آزاد کرادیا جائے اور اس طرح کے درجنوں کام ہورہے ہیں۔ میں نے صرف کچھ کاموں کا ذکر ہی کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ’مین آف ایکشن ‘ ہیں تو غلط نہ ہوگا۔
(انل نریندر)

نکسلیوں کے خلاف بڑی لڑائی کی تیاری

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 25 جوانوں کے شہید ہونے کے بعد اب وقت آگیا ہے نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ مرکزی سرکار و ریاستی سرکاروں کو مل کر اس پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا، کب تک ہم جوانوں کی شہادت دیکھتے رہیں گے؟ خبر ہے کہ سکما حملہ کے بعد ریاست کے ساتھ مرکزی حکومت نے بھی اپنے بھروسے مند مشیروں و افسروں کو اتاردیا ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد سرخیوں میں آئے سکیورٹی مشیر اجیت ڈوبھال نے سیدھے چھتیس گڑھ اور بستر کے افسروں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نکسل آپریشن کی بات کی ہے۔ اسی درمیان نکسلیوں کے گڑھ میں فورس نے جوائنٹ آپریشن شروع کردیا ہے۔ خطرناک نکسلی علاقوں میں اس کے ساتھ ہی سڑک تعمیر و دیگر ڈیولپمنٹ کام کو روک کر وہاں مزدوروں کی سلامتی میں تعینات جوانوں کو بھی ہٹا لیاگیا ہے۔ سرکار کی طرف سے سخت کارروائی کے حکم ملنے کے بعد سکیورٹی فورس کی طرف سے حملہ کرنا کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ سکیورٹی فورس کے جنگلوں کے درمیان نکسلیوں کے گڑھ تک پہنچنے اور ان کی طرف سے امکانی خطرات کے پیش نظر اس سے مقابلہ کرنے کے لئے قطعی عملی شکل دی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ سے اس بارے میں پوری طرح سے بات چیت ہوگئی ہے اور نکسلیوں کو سنگین اندرونی چنوتی مانتے ہوئے ان کو بڑا جواب دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اس کے لئے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کو پوری حکمت عملی پر نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ڈوبھال متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ نکسلیوں کے خلاف کارروائی کے بارے میں وزیر اعلی نے سکیورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کردیا ہے لیکن کہا کہ نکسلواد کے خلاف ہماری پالیسی بالکل صاف ہے۔ ہم نے پالیسی ساز فیصلہ لیا ہے پہلے تو یہ کہ نکسلواد سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ جمہوریت کی حفاظت کے لئے آخری دم تک لڑائی جاری رکھیں گے۔ دوسرا اس علاقہ کو ڈولپ کرنا نکسلی چاہے کتنا بھی روکنے کی کوشش کریں؟ پچھلے کچھ مہینوں سے خالی پڑے چیف کے عہدے پر تقرری کردی گئی ہے۔ چھتیس گڑھ کے سکما میں 25 جوانوں کی شہادت کا بدلہ لینے کیلئے مرکز نے جانباز ریٹائرڈ آئی پی ایس کے وجے کمار کو چنا ہے۔ بتادیں یہ وہی وجے کمار ہیں جنہوں نے تین ریاستوں کے جنگلوں میں خوف کی علامت رہے چندن اسمگلر ورپن کو مار گرانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ مشن کو انجام دینے کیلئے وجے کمار سنیچر وار (29 اپریل کو) ہی سکما پہنچ گئے ہیں۔ نکسلیوں کے کور ایریا میں بڑا جوائنٹ آپریشن چل رہا ہے۔ افسر لگاتار متاثرہ علاقوں میں پڑاؤ ڈالے ہیں۔ نتیجے ایک دو دن میں آنے لگیں گے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

02 مئی 2017

کیا آپ کو پورا پیٹرول مل رہا ہے

پیٹرول پمپ پر ایندھن بھرواتے ہوئے آپ بھلے ہی میٹر پر نظر جمائے رکھیں لیکن تیل کی چوری کرنے والے آپ کی ناک کے نیچے ہی تیل چرا رہے ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ میں ایک تکنیک کے بوتے پیٹرول کی چوری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کھلے عام ہونے والی اس لوٹ کو روکنے کی سمت میں ہماری تیل کمپنیاں اتنی سنجیدہ نہیں دکھائی دیتیں جتنی ہونی چاہئیں۔ خلاصہ ہوا ہے کہ لکھنؤ میں چپ سے گھٹ تولی کرنے والے پیٹرول پمپ مالک ہر مہینے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی ناجائز طریقے سے کررہے تھے۔ یہ اعدادو شمار اس سے چار گنا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ایس ٹی ایف کے افسروں نے اندازہ لگایا ہے کہ ہر ایک ضلع میں ہر تیسرا شخص کم تولی کا شکار ہوا ہے۔ ایس ٹی ایف کے مطابق لکھنؤ میں آدھے سے زیادہ پیٹرول پمپ کم تول کر پیٹرول بیچ رہے ہیں۔ اکیلے لکھنؤ میں ہی 182 پیٹرول پمپ ہیں۔ریمورٹ ڈیوائز سے پیٹرول ۔ڈیزل کی چوری کرنے والے لکھنؤ کے ساتوں پیٹرول پمپوں کے لائسنس معطل کر دئے گئے ہیں۔ گراہوں سے تو پوری قیمت وصولی جاتی ہے لیکن پیٹرول ۔ ڈیزل کم ڈالا جاتا ہے۔ محض تین ہزارروپے کی ایک چپ مشین میں لگاکر پیٹرول پمپ والے ہر روز 40 سے 50 ہزار روپے تک کی اوپری کمائی کرتے تھے۔ مہینے میں یہ تعداد 12 سے15 لاکھ روپے تک بنتی ہے۔ چپ سپلائی کرنے والے ماسٹر مائنڈ رویندر کے مطابق 1000 سے زیادہ پمپوں پر ایسی چپ لگائی گئی ہیں۔ رویندر نے اعتراف کیا ہے کہ یہ چپ پمپ کی ڈسپنسنگ مشین میں لگتی ہے اور ریموٹ سے مشین میں نکلنے والا تیل 6 فیصد کم ہوسکتا ہے۔ ایک لیٹر کی جگہ 940 مربع گرام پیٹرول ملتا ہے یعنی ہر لیٹر پر 60 ملی لیٹر کا نقصان پیٹرول پمپ کی گرین سرکٹ میں چپ لگا کر دھاندلی سے کیا جارہا تھا۔ یہ دو طرح کی ہیں ایک ریموٹ سے اور دوسری چپ کورڈ نمبر سے چلتی ہے۔ گرین سرکٹ سے چپ لگاکر کھیل کرتے تھے۔ چپ 200 میٹر دوری سے بھی ریموٹ سگنل پکڑتی ہے۔ دھاندلی میں 2 سے3 لوگ شامل ہوتے تھے۔ پمپ پر ایک شخص تیل ڈالتا تو دوسرا کیش بیگ کے ساتھ ریموٹ بھی رکھتا تھا ریموٹ کے بٹن دبتے ہی تیل گرنا بند ہوجاتا تھا لیکن مشین کے ڈسپلے پر تیل اور پیسے کا میٹر پوری رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ چپ چالو ہوتے ہی پیٹرول ڈلیوری کی رفتار بڑھا دیتی ہے جس سے مشین کے میٹر پر پیٹرول سپلائی اور ریٹ تو دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں پیٹرول کم پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گورکھ دھندہ صرف لکھنؤ میں ہی چل رہا ہے؟ دیش کے دیگر حصوں میں بھی تو یہ چلتا ہوں گا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس نہ تو کوئی مشینری ایسی ہے نہ ہی کوئی محکمہ جو ایسی چوری کو پکڑ سکے۔ اب امید کی جائے کہ شاید سرکار اور تیل کمپنیوں کی آنکھیں کھلیں گی اور صارفین کو چوری سے بچایا جاسکے۔
(انل نریندر)

آنے والے دن عاپ پارٹی کیلئے نہایت اہم

آنے والے دن دہلی میں عام آدمی پارٹی سرکار کے لئے سخت چیلنج بن سکتے ہیں۔ بیشک اب وزیر اعلی اروند کیجریوال کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ انہوں نے غلطیاں کی ہیں جس کا خمیازہ دہلی کی جنتا کی طرف سے انہیں ایم سی ڈی چناؤ میں کراری ہار سے بھگتنا پڑا ہے۔پنجاب، گووا اور ایم سی ڈی کی ہار کے بعد عام آدمی پارٹی میں اروند کیجریوال کے خلاف اٹھی آوازیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ پارٹی کے بانی ممبران میں کمار وشواس نے جمعہ کو کیجریوال پر غلط لوگوں کو ٹکٹ دینے کا الزام لگادیا اور دو ٹوک کہا کہ چناؤ میں ای وی ایم میں نہیں جنتا نے ہرایا ہے۔کمار وشواس کے علاوہ کیجریوال کے قریبی رہے سابق عاپ لیڈر مینک گاندھی نے تو کیجریوال کو اقتدار کا لالچی تک قراردے دیا ہے۔ پارٹی کے پنجاب انچارج سنجے سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ ورکروں سے کٹ گئی ہے۔ وہیں پارٹی کے ایم پی بھگونت مان سمیت کئی اور لیڈروں نے کیجریوال کو پارٹی میں بہتری لانے کی نصیحت دی اور بڑھتی ناراضگی کی وجہ سے وزیر اعلی و پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ٹوئٹر پر جاری خط میں کہا کہ پچھلے دو دنوں سے میں نے کئی والنٹیئروں اور ووٹروں سے بات کی ہے۔ اصلیت تو یہ ہے کہ ہم نے غلطیاں کی ہیں، ہم ان غلطیوں کا محاسبہ کریں گے اور انہیں سدھاریں گے۔ خط میں لکھا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو ٹھیک کریں اور ان پر کارروائی کی ضرورت ہے بہانے بنانے کی نہیں۔ کیجریوال نے اب اپنے ممبران کو پارٹی میں متحد رہنے کی نصیحت دی ہے تبھی تو انہوں نے جمعرات کو ایم سی ڈی میں جیتنے والے پارٹی کے کونسلروں سے کہا کہ آپ کو بھگوان کا واسطہ ہے کہ آپ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ اگر آپ لوگ اس پارٹی کو چھوڑدیں گے تو لوگ کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عام آدمی پارٹی کی پریشانیاں بڑھیں گی اور طرح طرح کی مانگیں ہورہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو اپنے بیانوں اور نظریات کو لیکر اکثر اخباروں میں بنے رہتے ہیں انہوں نے کہا عاپ سرکار کو راشٹرپتی برخاست کریں۔ انہوں نے کہا راشٹرپتی کے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ دہلی کی عام آدمی پارٹی کو برخاست کردیں۔ اپنی بات کو قانونی عملی جامہ پہنانے کیلئے کاٹجو نے ایک کیس کا بھی حوالہ دیا۔ اسٹیٹ بینک آف راجستھان بنام یونین بینک آف انڈیا کیس میں کورٹ نے یہ رائے دی تھی کہ اگر کوئی پارٹی چناؤ میں بری طرح ہار جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ پارٹی لوگوں کی خواہشات کو نہیں پوری کرتی۔ وہیں سوراج انڈیا کے یوگیندر یادو نے بدھوار کو عاپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال بار بار ’ رائٹ ٹو ری کال‘ کو یاد کریں۔ دہلی کے شہریوں نے کیجریوال کے خلاف ریفرنڈم دیا ہے۔ وہیں کانگریس کی ترجمان شرمشٹھا مکھرجی کا کہنا ہے کہ آئین میں اس کی کوئی شق نہیں ہے لیکن اس معاملہ میں ہوا دینے والے سی ایم کو اخلاقی بنیاد پر خود سے سوال کرنا چاہئے ۔ 21 ممبران اسمبلی کا معاملہ چناؤ کمیشن میں لٹکا ہوا ہے۔ چناؤ کمیشن ان کو کسی بھی وقت نا اہل قرار دے سکتا ہے۔ ایسے میں کیجریوال کے لئے آنے والے وقت میں سخت چنوتی ہوگی۔ اگر فیصلہ آیا تو عاپ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں مگر مستقبل قریب میں ان 21 سیٹوں پر چناؤ ہوتاہے تو موجودہ حالات میں کیجریوال کی پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ویسے ایم سی ڈی چناؤ نتائج کے بعد محاسبہ اور تنظیم مضبوط کرنے میں لگی عاپ کے لئے ایک اور چنوتی بھی ہے۔ دہلی میں ابھی تین جگہ چناؤ ہونے ہیں ا ن میں سے ایک سیٹ اسمبلی کی ہے جبکہ دو ایم سی ڈی وارڈ ہیں۔ تین جگہ بہتر کارکردگی سنجیوگی کے برابر ثابت ہوگی۔ بوانا اسمبلی اور ایم سی ڈی کے موجپور اور سرائے پیپل تھلا وارڈ میں ہونے والے چناؤ کی جیت کیجریوال کے لئے بیحد ضروری ہے۔ بتادیں بوانا سے ممبر اسمبلی وید پرکاش نے ایم سی ڈی چناؤ سے ٹھیک پہلے ممبر اسمبلی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے وہیں ایسٹ ایم سی ڈی کے موجپور اور نارتھ ایم سی ڈی کے سرائے پیپل تھلا وارڈ میں ایک ایک امیدوار کی موت کی وجہ سے چناؤ منسوخ ہوگئے تھے۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2017

چار ماہ میں 15 دہشت گردانہ حملوں سے تھرایا کشمیر

کنٹرول لائن کے محض 10 کلومیٹر دور جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں جمعرات کی صبح دہشت گردوں نے فوجی کیمپ پر جو حملہ بولا وہ ایک طرح سے اڑی حملے کا رپیٹ تھا. پاکستانی دہشت گردوں نے اڑی کی طرز پر اس فدائین حملے میں ایک بھارتی کیپٹن سمیت تین جوان شہید ہو گئے. جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے. جوابی کارروائی میں فوج نے جیش محمد کے دو دہشت گردوں کو مار گرایا. تیسرے کی تلاش جاری ہے. اڑی حملے کی طرح اس بار بھی صبح چار بجے کا یہ حملہ اسی طرح گھات لگا کر کیا گیا. فرق صرف اتنا ہے کہ اوڑی کے حملہ جاڑے اور برفباری شروع ہونے سے پہلے کیا گیا تھا اور اس بار حملے کے لئے برفباری ختم ہونے اور موسم گرما کے آغاز موسم منتخب کیا گیا.سرجیکل اسٹرائک اور نوٹ بندی کے بعد یہ دعوی کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے اور مستقبل میں پاکستان 10 بار سوچے گا کوئی حملہ کرنے کی. پر یہاں تو الٹا ہو رہا ہے. دہشت گرد بار بار فوجی کیمپوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہم صرف اپنی کی حفاظت کرنے میں لگے ہوئے ہیں. گزشتہ چار ماہ میں وادی میں 15 دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں اور بھارت انہیں روکنے میں بری طرح فیل ہو رہا ہے. چاہے چھتیس گڑھ کا سکما حملہ ہو یا وادی میں یہ حملہ ہو آخر کب رکے گی ہمارے جوانوں کی شہادت؟ یہ ٹھیک نہیں کہ دہشت گرد بار بار فوجی کیمپوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں. ہماری فوج کیا کر رہی ہے؟ ہر عیب مرکز یا ریاستی حکومت کے متھے مڑھنا ٹھیک نہیں ہے. آخر فوج کو تو اپنی کی حفاظت کا انتظام خود کرنا ہوتا ہے. ملٹری انٹیلی جنس کیا سورہی ہے. بار بار یہ فدائین جب چاہے جہاں چاہے فوجی کیمپوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور ہم صرف اپنا دفاع کرنے سے خوش ہو جاتے ہیں. سب سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ وہ تقریبا ایک جیسے طریقے سے فوجی کیمپوں اور فوجیوں کو قافلے پر حملہ کرنے کے قابل ہیں. کپواڑہ میں بھی دہشت گردوں نے صبح فوجی کیمپ پر دھاوا بولا. وہ سیکورٹی کی پہلی دیوار اس لئے بھیدنے میں کامیاب رہے، کیونکہ ایک تو صبح کا دھندلکا تھا اور دوسرے شاید سیکورٹی کے انتظامات اتنے نہیں تھے جتنے ہونے چاہئے تھے. یہ تو تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا کہ سیکورٹی میں کس سطح پر چوک ہوئی، لیکن اس کا جواب دینا ہی چاہئے کہ آخر چوکسی میں کمی کی صورت بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں؟ یہ توشکر ادا کریں رشی کمار کا جس نے بیحد جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو مار گرایا جبکہ تیسرے کو زخمی کر دیا.آرہ (بہار) کے رشی کمار گنر سنتری کی ڈیوٹی پر تھے. وہ فیلڈ آرٹلری رجمنٹ میں آٹھ سال سے گنر کے عہدے پر تعینات ہیں. وہ کیمپ کے پچھلے گیٹ پر تعینات تھے. تصادم کے بعد دہشت گرد جب پیچھے کے دروازے سے بھاگنے لگے تو رشی ان کے انتہائی قریب تھے. دہشت گردوں کی نظر جیسے ہی رشی پر پڑی انہوں نے گولیوں کی بوچھار کردی. رشی پر دہشت گردوں نے فائر کیا پر وہ بلٹ پروف ہیلمٹ کی بدولت گولی سے تو بچ گئے لیکن وہ زمین پر گر پڑے. دہشت گردوں نے سمجھا کہ ان کا کام تمام ہو گیا، پر رشی نے فورا سنبھل کر دو دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا. فائرنگ کے دوران ہی رشی کی گولیاں ختم ہو گئیں. ایسے میں تیسرے دہشت گرد سے بچتے ہوئے بنکر کی طرف دوڑے. وہاں سے انہوں نے دوسری رائفل اٹھائی. انہیں ہاتھوں اور پیروں میں کئی مقامات پر چوٹیں لگی ہوئی تھیں. زخمی ہونے کے باوجود رشی نے تیسرے دہشت گرد پر فائر کیا. تیسرے دہشت گرد کو بھی گولی لگنے کی خبر ہے.کشمیر میں موجودہ صورت حال کے لئے سرحد پار کی حمایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ باہر سے زیادہ اندرونی دہشت گردسرگرم ہوئے ہیں اور کارروائیوں کو انجام دے رہے ہیں. لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ صورت حال 1989 کی سمت میں جا رہی ہے تو غلط نہیں ہوگا. جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے دہلی کے دورے اور تین ماہ کا سامان مانگنے کے بعد مرکز کی سرگرمی تو بڑھی ہے پر حکومت کی کشمیر نیتی آخر ہے کیا؟ 80 ہزار کروڑ کا پیکج دینے سے معاملہ سلجھنے والا نہیں. وادی کے اندر علیحدگی پسندوں اورپتھربازوں کا راج چل رہا ہے اور سرحد پار سے دہشت گردوں کا. کشمیر میں جیسے حالات ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے کہ دہشت گردانہ حملوں سے آئے دن دو چار ہو رہے جوانوں کو ہر حال میں محفوظ بنانے کے پختہ انتظامات کئے جائیں. اس سب کے علاوہ پتھربازوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بدقسمتی سے کپواڑہ میں بھی یہی ہوا. یہی سمجھنا مشکل ہے کہ جب آرمی چیف بھی یہ مان رہے ہیں کہ پتھرباز دہشت گردوں کے مددگار ہیں تب پھر ملک کی سیاسی قیادت تمام بات کو ایک آواز سے دہرا کیوں نہیں پا رہے ہیں؟ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے مددگار پتھربازوں کی مذمت۔تنقید کرنے کے بجائے الٹا فوج اور حفاظتی دستوں کے لیے تحمل برتنے کاسبق پڑھایا جا رہا ہے. مسئلہ کا حل کچھ ڈرامائی اور جادوئی کارروائیوں اور ٹی وی کی بحث سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ ٹھوس نیتی ،اقدامات سے ہی قابو کیا جاسکتا ہے جس کا ابھی تک مودی حکومت نے مظاہرہ نہیں کیا ہے.
(انل نریندر)

نو سال بعد معصوم ثابت ہوئی سادھوی پرگیہ

بالآخر مالیگاؤں دھماکے اسکینڈل میں ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی. اس کے چلتے نو سال بعد سادھوی پرگیہ سے بالآخر انصاف ہوا. ضمانت ملنے کے بعد جیل سے باہر آئیں سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے کانگریس اور اے ٹی ایس پر سنگین الزام لگائے ہیں. سادھوی کا الزام ہے کہ کانگریس نے انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش رچی تھی. سادھوی ضمانت ملنے کے بعد جمعرات کو بھوپال میں صحافیوں سے روبرو ہوئیں. سادھوی نے کہا کہ اے ٹی ایس نے انہیں 10 اکتوبر 2008 کو سورت سے ممبئی لے کر گئی تھی. وہاں انہیں 13 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور مرد اے ٹی ایس کے اہلکاروں نے انہیں خوب اذایتیں دیں جس کی وجہ سے اب وہ بیمار ہیں، کینسر سے جوجھ رہی ہیں. سادھوی کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر ٹوٹ چکی ہیں لیکن خود اعتمادی کی وجہ سے لڑ رہی ہیں. شاید ہی آزادی سے پہلے کسی عورت کے ساتھ ایسا ہوا ہو. انہوں نے ممبئی حملے کے شہید ہیمنت کرکرے سمیت کئی اے ٹی ایس اہلکاروں پر تشدد کے الزام لگائے. ان کا کہنا ہے کہ بھگوا دہشت گردی کی کہانی کانگریس نے رچی تھی. حقیقت یہ تھی کہ مالیگاؤں دھماکے کے بارے میں سادھوی نے کہا کہ دو لوگوں کو مجرم مان کر سزا دی گئی ہے، لیکن عدالت ایشور نہیں ہے. اپنے بارے میں وہ بولیں کہ میں معصوم ہوں اور تھی. پرگیہ ٹھاکر نے کہا کہ وہ تمام الزامات سے بری الزماں ہوئی ہیں، اب علاج کرانے جائیں گی. بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس رنجیت مورے اور شالکنی دھنسلکر جوشی کی بینچ نے منگل کو اپنے 78 صفحے کے حکم میں کہا کہ 44 سالہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر ایک ایسی خاتون ہیں جو سال 2008 سے جیل میں ہیں اور کینسر میں مبتلا ہیں. بتا دیں کہ 29 ستمبر 2008 کو ناسک ضلع کے مالیگاؤں قصبے میں ایک موٹر سائیکل میں بم لگا کر دھماکہ کیا گیا تھا. اس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور قریب 80 زخمی ہوئے تھے. اس صورت میں سادھوی پرگیہ اور پروہت سمیت 11 افراد گرفتار کئے گئے تھے. سادھوی پر الزام تھا کہ دھماکے میں استعمال موٹر سائیکل سادھوی کی تھی. ساتھ ہی وہ کٹرہندووادی تنظیم ابھینو بھارت کی بھوپال اور پھرفرید آباد کے اجلاسوں میں شامل ہوئی تھیں. دونوں ہی الزام بے بنیاد پائے گئے. چونکہ وہ موٹر سائیکل 2004 میں ہی بیچی جا چکی تھی. سادھوی کو بغیر ٹھوس ثبوتوں کے نو سال جیل میں رکھا گیا. ہم سادھوی کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں. امید کی جاتی ہے کہ گزشتہ نو سالوں میں جو ان سے برتاؤ ہوا ہے اور کینسر جیسی بیماری نے انہیں پکڑ لیا ہے اب وہ ٹھیک طرح سے اپنا علاج کرا سکیں گی. جو وقت گزر گیا اس کا تو اب کچھ نہیں ہو سکتا.
(انل نریندر)

29 اپریل 2017

مودی کی لہر میں بہہ گئیں علاقائی پارٹیاں

دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ نتائج اعدادو شمار کی زبانی بھی بہت کچھ بیان کر گئے۔ مودی لہر میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی تو پھسڈی ثابت ہوئی ہی، قومی سیاست میں اپنا دخل رکھنے والی علاقائی پارٹیاں تو بہہ ہی گئیں۔ جنتا دل (یو) ، لوجپا، این سی پی اور راشٹریہ لوکدل کو جہاں ایک بھی سیٹ نہیں ملی وہیں بسپا، سپا، انیلو بھی بس کھال بچا سکی ہیں۔ چناؤ نتائج نے صاف کردیا ہے کہ عوام اب صرف کام چاہتی ہے۔ کاغذی یا کھوکھلے وعدوں پر اسے بیوقوف بنانے کا وقت چلا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اترپردیش میں ، جنتادل یونائیٹڈ اور راشٹریہ جنتادل بہار میں، انڈین نیشنل لوک دل ہریانہ میں، شیو سینا اور نیشنل کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیااور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پشچمی بنگال میں خاصہ رسوخ رکھتی ہیں۔ ان پارٹیوں کے بڑے نیتا ملائم سنگھ یادو ،اکھلیش یادو ، مایاوتی، نتیش کمار، لالو پرساد یادو، اوم پرکاش چوٹالہ، سیتا رام یچوری ، ڈی راجہ، شرد پوار و ادھو ٹھاکرے کا ملک کی سیاست میں بھی بڑا نام ہے۔ باوجود اس کے دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں ان کا سکہ نہیں چلا۔ تینوں ایم سی ڈی کے272 میں سے 270 وارڈوں میں ہوئے چناؤ کیلئے کھڑے ہوئے 2516 امیدواروں میں سے1803 کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ ان میں کانگریس 92، عام آدمی پارٹی کے38 اور حیرانی کی بات ہے کہ بھاجپا کے5 امیدواروں کی بھی ضمانت ضبط ہوگئی۔ یہ امیدوار ضمانت بچانے کے لئے ضروری کل ڈالے گئے ووٹوں کا 16.33 فیصدی حصہ نہیں لے پائے۔ دہلی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس چناؤ میں آزاد امیدواروں کے علاوہ18 مختلف پارٹیوں کے امیدوار چناوی میدان میں اترتے تھے۔ ان میں سے1139 امیدوار ضمانت نہیں بچا پائے۔ میونسپل کارپوریشن چناؤ میں بی جے پی نے امید کے مطابق کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس چناؤ میں بی جے پی کے مسلم امیدوار جنتا کو راس نہیں آئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سال میونسپل چناؤ میں پانچ مسلم امیدوار اتارے تھے لیکن چناؤ میں ایک بھی امیدوار بھاجپا کے لئے جیت نہیں دلا سکا۔ غور طلب ہے کہ حال ہی میں اترپردیش میں ہوئے چناؤ میں بھاجپا نے ایک بھی مسلم امیدوار نہیں اتارا تھا۔بھاجپا کی اس نیتی کے چلتے بھاجپا پر الزام لگا تھا۔ اترپردیش چناؤ میں لگے الزاموں کو دھونے کیلئے بھاجپا نے مسلم کارپوریشن چناؤ میں پانچ امیدوار اتارے پر ایک بھی امیدوار جیت درج نہیں کرسکا۔ بھاجپا کی جیت کی ایک بڑی وجہ رہی موجودہ کونسلروں کو ٹکٹ نہ دینے کا فارمولہ۔ پچھلے 10 سالوں کی اینٹی ان کمبینسی فیکٹر کو کاٹنے کے لئے یہ فارمولہ کامیاب رہا۔ بھاجپا ہی نہیں بلکہ کانگریس نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کی طرح ہی ووٹروں نے بھی پرانے چہروں پر زیادہ وشواس نہیں کیا۔ چناؤ میں قریب 45 موجودہ کونسلروں اور 30 سابق کونسلروں نے قسمت آزمائی تھی لیکن 17 موجودہ کونسلر ہی چناؤ جیت سکے۔ اس طرح تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے سدن میں 270 وارڈوں میں 245 نئے کونسلر پہنچیں گے۔ مزیدار سچائی یہ بھی ہے کہ بھاجپا اور کانگریس سے بغاوت کر ایسٹ دہلی میں آزادامیدوار کے طور پر چناؤ لڑنے والا کوئی بھی امیدوار نہیں جیت پایا ہے۔ عوام نے باغیوں کو پوری طرح سے نکاردیا۔ پٹ پڑ گنج سیٹ سے بھاجپا کی کونسلر رہی سندھیا ورما نے پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے پر بغاوت کر بطور آزاد امیدوارچناؤ لڑا تھا نتیجتاً انہیں ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اسی طرح نیو اشوک نگر سیٹ پر بھاجپا کی باغی وکی سنگھ نے بھی بغاوت کرچناؤ لڑا اور 5223 ووٹ لیکر دوسرے مقام پر رہیں۔ اسی طرح کانگریس سے باغی ونود چودھری نے آئی پی ایکسٹینشن سے کانگریس کا ٹکٹ مانگا تھا، ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آزاد امیدوار کے طور پر چناؤ لڑے، انہیں 2000 سے کم ووٹ ملے۔ اسی طرح پانڈو نگر سے کانگریس سے ٹکٹ مانگ رہی ساوتری شرما بھی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد چناؤ لڑیں اور ہار گئیں۔ میونسپل کارپوریشن چناؤ میں اس کراری ہار کے بعد استعفوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ بدھوار کو پردیش کانگریس ادھیکش اجے ماکن، کانگریس کے پربھاری(دہلی) پی سی چاکو اور عاپ کی دہلی اکائی کے سنیوجک دلیپ پانڈے نے استعفیٰ دے دیا۔ دہلی کے اقتدار میں لگاتار 15 سالوں تک قابض رہنے والی کانگریس پارٹی عام آدمی پارٹی کے خلاف بنے ماحول میں بھی میونسپل چناؤ میں دوسرے پائیدان پر نہیں آسکی۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ مانی جارہی ہے کہ پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کو کنارے کر پردیش کانگریس ادھیکش اجے ماکن نے اپنی سطح پر اہم فیصلے لئے۔ چناؤ نتیجے آنے کے بعد کئی کانگریسی لیڈروں نے اپنے رد عمل میں کہا کہ کانگریس میں ون مین شو نے لٹیا ڈبائی۔ میونسپل کارپوریشن کے لئے ٹکٹ بٹوارے کے بعد سے ہی کانگریس میں پھوٹ ابھر کر سامنے آگئی تھی۔ اروند سنگھ لولی، برکھا شکلا سنگھ جیسے کئی پرانے کانگریسی لیڈر بھاجپا میں شامل ہوگئے۔ اب کانگریس کے سامنے پارٹی کو بچانے کی چنوتی کھڑی ہوتی دکھ رہی ہے۔ دوسری جانب کئی امیدوار ایسے بھی ہیں جو تیسری چوتھی بار بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔ ان لوگوں کا کام جنتا سے سیدھا رابطہ انہیں جتانے کی بڑی وجہ رہا۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...