Translater

15 جون 2016

امریکی تاریخ میں اب تک کا سب سے خوفناک آتنکی حملہ

9/11 کے آتنکی حملہ کے بعد امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ایک گے نائٹ کلب میں داعش کے ایک حمایتی لڑکے نے اندھا دھند فائرنگ کرنے کا دوسرا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس میں قریب 50 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ53 افراد زخمی ہوئے ہیں۔قریب چار گھنٹے تک چلی مڈ بھیڑ میں سکیورٹی فورس نے آئی ایس کے حمایتی حملہ آور عمر متین کو مار ڈالا۔ پولیس نے ایتوار کو بتایا کہ امریکی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے خطرناک فائرنگ کانڈ ہے۔ حکام کے مطابق 29 سالہ متین آتنکی تنظیم آئی ایس کا ہمنوا تھا اور وہ ایف بی آئی کے راڈار پر تھا۔ امریکی وقت کے مطابق حملہ آور صبح قریب2 بجے اورلینڈو کے پلس نائٹ کلب میں گھسا اور گھستے ہی گولیاں چلانا شروع کردیں۔ دراصل یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حملہ کو مذہبی رنگ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ متین کو ہم جنس پرستوں سے نفرت تھی۔ مہینے بھر پہلے میامی میں جب اس نے دو مردوں کو بوسے بازی کرتے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ حملہ بھی اسی کے رد عمل میں کیا ہو؟ ایف بی آئی کے ترجمان نے بتایا کہ متین امریکی شہری ہے۔ والدین افغانستان کے ہیں۔ اس کے پاس سے اسالٹ رائفل، ہینڈ گن ملے ہیں۔ چشم دید گواہوں کے مطابق اس نے مسلسل 40-50 گولیاں چلائیں۔9 پولیس افسر وہاں پہنچے اور دھماکہ کیا جس سے حملہ آور کی توجہ یرغمالوں سے ہٹا دی اور 30 یرغمالوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ شہر میں 24 گھنٹے کے اندریہ دوسرا واقعہ ہے۔ 50 بے گناہوں کا خون بہانے والے عمر متین نے واردات کو انجام دینے سے پہلے فون کرکے اسلامک اسٹیٹ کے تئیں اپنی وفاداری جتائی تھی۔ این بی سی نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ متین نے اسلامک اسٹیٹ کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے تئیں وفاداری نبھانے کی بات کہی تھی۔ ادھر اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اورلینڈو نائٹ کلب کے حملہ آور عمر ایس متین کا فوٹو پوسٹ کیا ہے۔ فوٹو کے کیپشن میں کہا گیا ہے ’یہ وہی شخص ہے جس نے فلوریڈا کے اورلینڈو نائٹ کلب میں قتل عام میں کم سے کم 50 لوگوں کو مار ڈالااور درجنوں کو زخمی کیا‘۔مقدس اور امن داعی رمضان کے پاک مہینے میں روزہ رکھ کر مسلمان سب کی خیر کی دعا کرتے ہیں لیکن آتنکی تنظیم آئی ایس نہیں مانتا۔ آئی ایس دنیا بھر میں اپنے حمایتیوں سے رمضان کے دوران حملے کو کہتا ہے۔ آتنکی تنظیم اسے مغربی ملکوں جیسے اپنے دشمنوں پر حملے کو معقول مانتا ہے اور آئی ایس کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے رمضان سے ٹھیک پہلے جاری ایک ویڈیو میں حمایتیوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنانے کی اپیل کرتے دکھایا گیا۔ امریکہ میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب وہاں صدارتی چناؤ کمپین زوروں پر ہے۔ اس آتنکی حملہ کا امریکی صدارتی چناؤ پر سیدھے اثر ہوسکتا ہے۔ صدارتی عہدے کے لئے امیدوار کی دوڑ میں آگے چل رہے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی آتنکی واردات پر اپنے بیانوں سے موضوع بحث ہیں اور اس واقعہ کے بعد انہیں اپنی بات کو ثابت کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ اس کا سیدھا اثر ٹرمپ کے حق میں ہوسکتا ہے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کو مضبوطی فراہم کرے گا۔ وہ اسلامک دہشت گردی کے کٹر مخالف ہیں۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے کو پوری طرح بند کردیا جاناچاہئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جنتا سے دہشت گردی کے خلاف بہت سخت رخ اپنانے کا وعدہ بھی کررہے ہیں۔ وہ صدر براک اوبامہ کی دہشت گردی انسداد پالیسی کو کمزور بتا رہے ہیں۔ پہلے بھی یہ کہا جارہا تھا کہ امریکی سرزمین پر ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ ٹرمپ کے حق میں ماحول بنا سکتا ہے اور محفوظ کر رہے امریکہ کا جھکاؤ تمام اندرونی تضادا ت کے باوجود ان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ کے بعد اپنے ردعمل میں اپنے سابقہ بیان کو ہی صحیح ٹھہرایا۔ نائٹ کلب حملہ پر انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا ’ہمیں اسمارٹ ہونے کے ساتھ سخت اور چوکس رہنا پڑے گا‘ ۔ انہوں نے لکھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارتی عہدے کی امکانی امیدوار ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ اورلینڈو میں ہوئی اس فائرنگ کے واقعہ سے بہت دکھی ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے نائٹ کلب پر حملہ کو دہشت گردی کی حرکت قرار دیتے ہوئے کہا یہ نفرت بھری حرکت ہے۔ یہ امریکی شہریوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسی بھی شہری پر حملہ سبھی امریکیوں پرحملہ مانا جائے گا۔ اورلینڈو میں 50 لوگوں کی فائرننگ میں موت کے بعد قوم کو خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ہمیں ابھی حملہ آور کے مقصد کے بارے میں پختہ طور پر کچھ پتہ نہیں ہے۔ ایس بی آئی معاملہ کی جانچ کررہی ہے۔ فائرنگ کی واردات خطرناک ہے۔ ہم اس آتنکی حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت تو اسلامی دہشت گردی سے پہلے ہی متاثر ہے امریکہ میں تمام سخت احتیاطی قدم کے باوجود ایسا واقعہ چونکانے والا ہے۔ یوروپ تو پہلے سے ہی آئی ایس کے نشانے پر تھا اور پیرس، بلجیم حملہ کی طرح امریکہ پر یہ حملہ بتاتا ہے کہ آئی ایس کا خطرناک جال پھیلتا ہی جارہا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی پولیس نے ناکام بنائی راجن کے قتل کی سازش

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے تہاڑ جیل میں بند مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کے قتل کی مبینہ سازش رچنے کے الزام میں چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ سازش راجن کے کٹر مخالف، حریف اور بھگوڑا مافیہ ڈان داؤد ابراہیم کا دایاں ہاتھ مانے جانے والے چھوٹا شکیل کے گرگوں نے رچی تھی۔ ان مبینہ ٹھیکہ قاتلوں کو 3 جون کو گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوپاتے اس سے پہلے دہلی پولیس کو ان کی سازش کی بھنک لگ گئی اور دہشت گردوں کی پہچان یونس، جنید، رابنسن اور منیش کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے پاس سے 40 ہزار روپے نقد اور موبائل فون ضبط کئے گئے ہیں۔ اسپیشل سیل کے اسپیشل کمشنر اروند دیپک کے مطابق یہ لوگ چھوٹا شکیل سے سیدھے رابطے میں تھے۔ انہیں تہاڑ جیل میں بند چھوٹا راجن کا قتل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ فون کال ریکارڈ اور انٹر نیٹ چیٹ سے پولیس کو ان کے بارے میں جانکاری حاصل ہوئی تھی۔ پولیس نے ان کے پاس سے 9 ایم ایم کی پستول ،20 غیر مستعمل کارتوس بھی برآمد کئے۔ان سے پوچھ تاچھ میں جانکاری ملی کہ انہیں چھوٹا شکیل نے راجن کو مارنے کے لئے ٹھیکہ دیاتھا۔ اس ٹھیکے کی رقم کا انکشاف اسپیشل سیل نے نہیں کیا۔ حالانکہ یہ رقم 10 لاکھ روپے سے کم بتائی جارہی ہے۔ ملزموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے چھوٹا راجن کے ڈرائیور کا قتل کرنا چاہتے تھے اس کے بعد راجن کا مرڈر۔ راجن کی گرفتاری کے بعد اس کا ڈرائیور ممبئی سے دہلی آتا جاتا رہتا ہے ۔ اس سازش کے تحت راجن کو جیل سے کیسی پیشی کی تاریخ کے دوران گولیوں سے بھونا جانا تھا۔ چاروں ملزموں کا ریمانڈ پورا ہونے کے بعد جیل میں بند کردیا گیا ہے جس میں راجن بند ہے۔ راجن کو حراست میں اکیلا رکھا گیا ہے۔ جیل کے افسروں کا دعوی ہے کہ کوئی بھی قیدی راجن تک نہیں پہنچ سکتا۔ غور طلب ہے کہ 55 سالہ چھوٹا راجن کو پچھلے سال نومبر میں انڈونیشیا کی راجدھانی بالی سے گرفتار کر بھارت لایا گیا تھا۔ وہ قتل ، زر فدیہ اور ڈرگس کی اسمگلنگ کے 70 سے زیادہ معاملوں میں ملزم ہے۔ پولیس کی گرفت سے بچنے کے لئے یہ شاطر ڈان قریب27 برس تک پولیس و جانچ ایجنسیوں کو چکمہ دیتا آرہا تھا۔ تہاڑ جیل میں بند چھوٹا راجن کا جیل میں قتل کرنا بیحد مشکل بھرا ٹارگیٹ ہے۔ عام قیدیوں کی بات تو دور تہاڑ جیل کا ہر افسر بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسے 2013ء میں تہاڑ جیل میں پھانسی دئے گئے آتنکی افضل گورو سے بھی زیادہ سکیورٹی گھیرے میں رکھا گیا ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے اینٹی ایئر کرافٹ گن تک لگائی گئی ہے۔ چھوٹا راجن کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال کی ہدایت پر ممبئی کے بجائے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیل نمبر2 کے ہائی رسک وارڈ بی کے جس سیل میں رکھا گیا ہے اس وارڈ کے قیدیوں کو دوسرے وارڈوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ راجن کے وارڈ کو بین گھوشت کردیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

14 جون 2016

کھیتی بچانے کیلئے نیل گائیوں کی اجتماعی ہتیا

یہ صحیح ہے جنگلی جانوروں کے ذریعے فصل بربادکرنے کا مسئلہ بیشک پرانا ہے لیکن اس کا یہ حل بھی صحیح نہیں ہے کہ انہیں مار ڈالا جائے۔ نیل گائے کو مارنے پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بہار میں جس طرح سے شوٹروں کو تعینات کرکے بڑے پیمانے پر نیل گائیوں کو مارنے کی کمپین چلائی جارہی ہے اس سے نہ تو جنگلات و ماحولیات وزارت خوش ہے اور نہ ہی دیش کی زیادہ تر عوام۔کیبنٹ ساتھی مینکاگاندھی نے اس قدم پر اعتراض جتایا ہے۔ ان کے ذریعے اپنی سرکارکی اس پالیسی کے تئیں پیدا ناراضگی کو اسی سلسلے میں سمجھنا چاہئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانوروں کا بچاؤفصلوں کی سلامتی اور کسان کے مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ بہار کے موکاما ٹال جہاں سال میں صرف ایک فصل پیدا ہوتی ہے مغربی چمپارن میں نیل گائیوں کے خوف سے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کی حفاظت مشکل ہے۔ بہار کے کسانوں کے کسی علاقہ نے نتیش کمار سرکار کو مرکز سے مدد مانگنے کے لئے مجبور کیا۔جس کا نتیجہ وہاں 250 سے زائد نیل گائیوں کی اجتماعی ہتیا کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر کے چندر پور میں جنگلی سوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنگلاتی زندگی تحفظ ایکٹ کی شقات کے تحت مرکزی حکومت نے تین ریاستوں کو فصلوں کو نقصان پہنچا رہے جانوروں کو مارنے کی اجازت دی ہے۔ بہار کو نیل گائے اور جنگلی خنزیر، اتراکھنڈ کوجنگلی خنزیر اور ہماچل پردیش کو بندروں کو مارنے کی اجازت دی گئی تھی۔ جنگلاتی جانور تحفظ محکمہ سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ موجودہ ایکٹ میں ریاستوں کے چیف جنگلاتی نگراں کو یہ اختیار ہے کہ اگر کوئی جانور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے مارنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ شیر ، چیتا کے معاملے میں تو کچھ حد تک جانور کی پہچان کرنا مشکل ہے لیکن نیل گائیوں کے جھنڈ میں نقصان پہنچانے والے جانور کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے ریاست خود ہی فیصلہ لے لیتی ہے۔ جنگلی جانور تحفظ قانون میں خطرناک جانوروں کو مار ڈالنے کی سہولت ہے لیکن صرف انہی جانوروں کو جن سے ہماری زندگی کو خطرہ ہے لیکن یہاں جنگلی جانوروں کو اجتماعی طور سے جس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے وہ نہ صرف غیر انسانی عمل کا مظاہرہ ہے بلکہ جانوروں سے ان کا جنگل چھین لینے کے جرم کے بعد ان کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا جرم ہے۔موکاما میں 250 نیل گائیوں کے مارے جانے کے بعد بہار سے دہلی تک کی سیاست گرما گئی ہے۔ مرکزی سرکار کی دو وزارتیں تک آمنے سامنے آگئی ہیں۔ مدھیہ پردیش، بہار، اترپردیش، مہاراشٹرہریانہ، راجستھان جیسی ریاستوں میں نیل گائیوں کی بھرمار ہے۔ یوپی میں 10 ہزار سے زیادہ کسان ہر سال نیل گائیوں کی وجہ سے فصل خراب ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ بہار کے 34 ضلعوں میں نیل گائیوں کا خوف ہے۔ کسانوں کے مفادات کی حفاظت ہونی چاہئے وہیں کھیتی کو بچانے کے لئے جانوروں کا اجتماعی قتل بھی حل نہیں ہے۔ اس مسئلہ کا کوئی اور بہتر متبادل تلاشنا ہوگا۔
(انل نریندر)

متھرا کے کنس رام ورکش یادو کا خاتمہ کیسے ہوا

متھرا میں کنس لیلا کاماسٹر مائنل رام ورکش یادو مرنے کے بعدبھی تنازعوں میں بنا ہوا ہے۔ کیا رام ورکش زندہ ہے؟ کیا پولیس نے اسے جواہر باغ کانڈ میں اور اس کے خاندان کو زندہ پکڑ لیا تھا اور بعد میں اسے مار ڈالا؟ اگر ایٹہ ضلع ہسپتال میں بھرتی ایک خاتون کی بات مانیں تو وہ دعوی کررہی ہے کہ رام ورکش زندہ ہے۔ پہلی بار گولی لگنے کے بعد جیسے ہی معاملہ خاموش ہوا وہ اپنے خاندان کو لیکر کہیں چلا گیا۔ ضلع ہسپتال میں بھرتی مہلا دھرم وتی کا دعوی ہے کہ رام ورکش مرا نہیں ہے۔ دھرم وتی کو امید ہے کہ وہ ابھی بھی ان کو بچانے آئے گا۔ دوسری طرف ایک سپاہی کی بات پر اگر یقین کریں تو وہ دو جانبازوں کی شہادت کے بعد بھی اپنے ہی محکمے کو کٹہرے میں کھڑا کررہا ہے۔ وہ خود سی بی آئی جانچ کو ضروری بتا کر پولیس کے عمل پر سنگین سوال اٹھا رہا ہے۔اتنا ہی نہیں اس کا دعوی یہ بھی ہے کہ پولیس نے رام ورکش یادو کو پریوار سمیت زندہ پکڑ لیا تھا بعد میں اسے مارا گیا۔ سپاہی جس کی بات چیت ریکارڈ پرہے ، کی باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ دیگر بات ہے اس کا کہنا ہے کہ پولیس افسروں نے اس کارروائی کو چھپایا۔ کارروائی صبح کرنی چاہئے تھے۔ بھیڑ کی تعداد کا اندازہ آسانی سے لگ جاتا۔ اس نے دعوی کیا کہ افسروں کی موت کے بعد پولیس نے رام ورکش سمیت 27 لوگوں کو پکڑ لیا تھا۔ سپاہی کا دعوی ہے کہ سبھی کو پولیس لائن میں لگا کر ایڈیٹوریم میں لایا گیا، لکھنؤ کے ایک افسر کو یہ سب بھی بتایا گیا۔ بقول سپاہی اس کے بعد سبھی کو مار کر آگ میں پھینک دیا گیا۔
رام ورکش کی مارنے کے بعدبھی شناخت نہیں کی گئی۔اس کو سازش کے تحت دو دن لاپتہ دکھایاگیا۔ پانچ ہزار روپے کا انعام اعلان کرنے کے بعد اسے مرا ہوا دکھا دیا گیا۔ سپاہی کا کہنا ہے کہ جواہر باغ میں کافی لوگوں کی جانچ لی گئی۔ کچھ کو مردہ خانے میں ہی گلا دیا گیا۔ جواہر باغ کے نزدیک بھوئی کالونی کے ایک دوکاندار کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کے دوران اندر کسی کو نہیں جانے دیا۔ ادھر جواہر باغ میں ہوئی واردات کی سی بی آئی جانچ کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت و ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب جواہر باغ کی واردات ہوئی جس میں دودرجن سے زیادہ لوگوں کی جان چلی گئی۔ ایک آئی پی ایس افسر و ایک دروغہ کی موت ہوگئی۔ مرکز نے اس واردات کی سی بی آئی جانچ کے لئے تعاون کی بات کہی لیکن ریاستی حکومت نے اس کی سفارش نہیں کی۔ کہا گیا ہے کہ واردات میں حکمراں پارٹی کے کئی بڑے نیتاؤں کی شمولیت ہے۔ ایسے میں سیاسی دباؤ کے چلتے مقامی پولیس سے واردات کی منصفانہ جانچ کی امید نہیں ہے اس لئے واردات کی جانچ سی بی آئی سے کرایا جانا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

12 جون 2016

’’اڑتا پنجاب ‘‘پر بونڈر

شاہد کپور ،عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور جیسے بڑے ستاروں سے سجی انوراگ کشپ کی فلم ’’اڑتا پنجاب ‘‘ پر گھماسان تیز ہوگیا ہے۔ غور طلب ہے کہ فلم پر سینسر بورڈ کی قینچی چلنے کو لیکر کافی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن یعنی سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی نے فلم کے کئی مناظر اور مکالموں پر قینچی چلانے کو کہا ہے۔ نشیلے لت پر مرکوز ’اڑتا پنجاب‘ پرسینسر بورڈ کی قینچی کو چیلنج کرتے ہوئے پروڈیوسر بمبئی ہائیکورٹ پہنچ گئے۔ انوراگ کشپ پروڈیوس اور ڈسٹریبیوشن کمپنی ’فینٹنم فلمز‘‘ کی طرف سے اس عرضی میں ہائی کورٹ سے سرکار یا سینسر بورڈ کو فلم میں اعتراض آمیز مناظر اور ڈائیلاگ پر جائزہ کمیٹی کے فیصلے سے متعلق حکم کی کاپی دینے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے۔بورڈ نے بدھوار کو ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس میں 13 چیزوں پر اعتراض جتاتے ہوئے ’’A‘‘ سرٹیفکیٹ دینے کا پروپوزل دیا ہے۔ اس فلم میں 14 گالیاں، پنجاب کے 8 شہروں کے نام اور کچھ سین ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہی نہیں ان الفاظ، گالیوں اور شہروں کا استعمال فلم میں اتنی بار کیا گیا ،اتنی جگہ سے اسے ہٹانے کے احکامات دئے ہیں۔ ایسے میں فلم میں کل 94 کٹ لگانے ہوں گے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو سینسر بورڈ سے اس بات پر صفائی دینے کو کہا کہ آپ فلم سے ’پنجاب‘ ہٹانے پر کیوں زور دے رہے ہیں؟ اس پر بورڈ نے کئی تجویزیں رکھی ہیں اور بتایا کہ13 تبدیلیاں صحیح ہیں یہ منمانی نہیں ہے۔ ہم نے مشورہ دیتے وقت اپنا دماغ لگایاہے۔ ہم پنجاب اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان کو لیکر اعتراض کررہے ہیں۔ یہ چیزیں ہٹانے کو کہا ہے سینسر بورڈ نے۔ فلم کے شروع میں دکھائے گئے پنجاب کے بورڈ کا سین پنجاب، جالندھر، چنڈی گڑھ ، امرتسر، ترنتارن، امبے سر، لدھیانہ، موگا۔ ایم پی چناؤجیسے لفظ۔ ایک گانے میں سردار کے اعتراض آمیز مقام پر کھل جانے کا سین ہے۔ ایک گانے سے ’چٹّا وے ‘ اور ’آہابھی‘ لفظوں کو بھی بہن کی گالیاں اورچسا ہوا عام جیسے ڈبل مطلب والے لفظوں کا ۔ ڈرگس لینے کے کلوز اپ شارٹس کو ایک سین میں ٹامی (شاہد کپور) کو کھلے عام پیشاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک ڈائیلاگ ’زمین بنجر۔۔۔ اولاد کنجر‘۔ فلم میں کتے کا نام جیکی ہے یہ نام بدلنے کو کہا گیا ہے۔ ایک لڑائی بمبئی ہائی کورٹ میں چل رہی ہے تو ایک الگ ہی لڑائی عدالت کے باہر اس فلم کو لیکر چھڑ گئی ہے۔ پروڈیوسر انوراگ کشپ نے سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی کو اکھڑ اور تاناشاہ بتاتے ہوئے کہا کہ نارتھ کوریا میں رہنے والے جیسا ہے۔ نہلانی کو سرکار کی کٹھ پتلی بتاتے ہوئے مکیش بھٹ نے کہا دیش میں اظہار رائے کی آزادی اور تخلیقات کے لئے یہ کالا دن ہے۔ انڈین فلمز اینڈ ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے بدھوار کو ایک پریس کانفرنس میں فلم کے تئیں اپنی حمایت جتائی اور سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی پر سیدھی تنقید کی۔ اس موقعہ پر فلمساز مہیش بھٹ نے کہا کہ ہمارا دیش سعودی عرب میں تبدیل نہیں ہوسکتا جہاں خوشحالی تو بہت زیادہ ہے لیکن سماج میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ میگا اسٹار امیتابھ بچن بھی فلم کی سپورٹ میںآگئے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ ہم ایسا سسٹم بنا سکتے ہیں جو فلم کو سرٹیفکیٹ دے نہ کہ اس میں قینچی چلائے۔ کریٹیوٹی کے قتل کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں مثبت رائے رکھنے کی آزادی ہونی چاہئے کیونکہ ہم اس فیلڈ میں اس لئے ہیں کہ اپنے من کے مطابق تبصرہ کرسکیں۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ فلم میکرس کو عدالت جانا پڑا۔ اس فلم کی ریلیز میں دیری ہوسکتی ہے۔ اس واویلے پر سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی نے بدھوار کو کہا کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کا چمچا کہلانے میں کوئی شرم نہیں ہے۔ دراصل نہلانی پر ایسے الزام لگے ہیں کہ انہوں نے سیاسی دباؤ میں آکر فلم میں کاٹ چھانٹ والا قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایک چیلنج سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ انوراگ کشپ کو عام آدمی پارٹی کو پیسہ مل رہا ہے اور میں اپنے الزامات پر معافی نہیں مانگوں گا۔ ایسا اندیشہ جتایا جارہا ہے کہ اس فلم کا اثر پنجاب اسمبلی چناؤ پر ہوسکتا ہے کیونکہ کئی پارٹیاں ڈرگس کو چناوی اشو بنانے کی تیاری میں ہیں۔ دراصل فلم کے کلائمکس میں ایک مقامی نیتا چناؤ جیتنے کے لئے اپنے چناؤ منشور کے ساتھ ڈرگس کے پیکٹ بانٹتا ہے۔ ڈرگس کو کس طرح سے دو تین پروڈکٹس کے ساتھ ملا کر بناتے ہیں اور فیکٹری کی پوری تفصیل فلم میں ہے۔فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے جعلی نام پر فیکٹری چل رہی ہے۔ فلم میں شاہد کپور ڈرگ ایڈکٹ پاپ سنگر بنے ہیں اور اپنے گانوں میں ڈرگس کی تعریف کرتے ہیں ۔ وہ گانوں کے ذریعے کہتے ہیں کہ سبھی کو ڈرگس لینا چاہئے۔ فلم میں عالیہ بھٹ بھی نشے کی عادی ہیں لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں ایسے میں ڈرگس کی لت پوری کرنے کیلئے وہ مردوں سے تعلق بناتی ہے۔ سوا دو گھنٹے کی اس فلم کے زیادہ تر ڈائیلاگ گالیوں سے بھرے ہیں۔ سینسر بورڈ اور کمیٹی کا خیال ہے کہ یہ فلم نوجوانوں کو غلط سمت دکھا رہی ہے جبکہ پروڈیوسر اور ڈائریکٹروں کا دعوی ہے کہ یہ سماج میں ہورہے حالات کو دکھاتی ہے۔ بتادیں پنجاب میں ڈرگس کو ’چٹّا‘ کہا جاتا ہے اس لئے اس فلم کا نام ’’اڑتا پنجاب‘‘ رکھا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پنجاب کی حقیقت دکھاتی ہے ’’اڑتا پنجاب‘‘ فلم۔
(انل نریندر)

عاپ ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کرپٹ

دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان آئے دن کسی نہ کسی اشو پر تکرار کی تاریخ پرانی ہے لیکن جمعرات کو ایک عجب واقعہ رونما ہوا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ عاپ ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ پر براڑی میں ایک راشن کی دوکان کا لائسنس منسوخ اور بحال کرنے کے معاملے میں کرپشن کا الزام لگا ڈالا۔ ممبر اسمبلی سنجیو جھا کی مانگ پر اس معاملے میں ایوان میں بحث شروع ہوئی جس میں لیفٹیننٹ گورنر کو کرپٹ اور بھاجپا کی دلالی کرنے والا جیسے الفاظ کا استعمال کیاگیا۔ سنجیو جھا نے کہا لیفٹیننٹ گورنر نے ایسے قانون کا حوالہ دیکر لائسنس بحالی کا حکم پاس کردیا جو2001ء اور 2005ء میں ختم ہوگیا۔ یہ کرپشن انسداد قانون کی دفعہ13(1)(d) اور آئی پی سی کی دفعہ420,209 اور 120(b) کے تحت قصوروار ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا ممبران نے میسرز جنتا پرویجن اسٹور کا منسوخ لائسنس بحال کرنے میں برتی گئی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے 9 نفری اسپیشل کمیٹی بنانے کی تجویز رکھی جو پاس بھی ہوگئی۔ اب کمیٹی میسرز جنتا پرویجن اسٹور کا لائسنس کینسل کرنے کی کارروائی میں گڑ بڑی ، لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے منسوخ لائسنس کو بحال کرنے کے لئے دئے گئے احکامات کی سچائی اور بحالی کی غلط منشا ، لائسنس بحالی میں رشوت کا الزام اس طرح کی دیگر شکایتوں کی جانچ کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں دہلی سرکار اب لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف کرپشن کا الزام لگا رہی ہے اور اس کی جانچ بھی کرے گی۔ خاموش مزاج اور مہذب لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ بھی اس جانچ و الزامات کے خلاف اپنی رائے دینے پر مجبور ہوگئے ہیں اس میں لیفٹیننٹ گورنر نے بہادر شاہ ظفر کے ایک شعر سے اروند کیجریوال کی رہنمائی والی سرکارپر طنز کرتے ہوئے کہا ، ’’عمر دراز مانگ کر چلے تھے چار دن، دو آروز میں کٹ گئے دو اختلاف میں ‘‘ اس میں اختلاف کی وجہ وقت خراب کرنے کا ذکر ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر آفس کے مطابق براڑی میں رعایتی شرح کی دکان نمبر 8689 ، ودھوا رجنی کو الاٹ کی گئی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے عدالت میں سماعت کے دوران بتایا کہ 24 اپریل 2015ء کو براڑی کے ممبر اسمبلی نے حمایتیوں کے ساتھ مل کر رعایتی شرح کی دکان کے طریق�ۂ نظام میں رخنہ ڈالا اور وہاں رکھے اناج کو زبردستی لوگوں میں بانٹ دیا۔ اس میں اپیلیٹ افسر کے طور پر لیفٹیننٹ گورنر نے دکان کے مالک پنڈت بچھوا پر فوڈ سپلائی محکمہ سمیت سبھی فریقین کو سننے کے بعد حکم جاری کیا جس میں لائسنس بحالی کے احکامات کے تحت پولیس کمشنر کو جانچ میں جرائم کی سرگرمیاں پائے جانے کے معاملے کی چھان بین کے احکامات بھی دئے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے فوڈ سپلائی محکمہ و دہلی سرکار کے خراب طریق�ۂ کار پر بھی رائے زنی کی اور چیف سکریٹری کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس معاملے میں فوراً کارروائی کریں۔ وہیں نیتا اپوزیشن وجیندر گپتا نے کہا کہ عاپ ممبران اسمبلی یا سرکار کو کوئی اعتراض ہے تو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جائیں لیکن اس طرح سے ایوان میں لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف قابل اعتراض تبصروں و الفاظ کا استعمال نہ کریں۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ اگر عاپ ممبران کو کوئی بے قاعدگی نظر آرہی ہے تو وہ اس کی جانچ کر ثابت کریں لیکن لیفٹیننٹ گورنر پر کرپشن جیسے الزامات سے انہیں بچنا چاہئے۔ کم سے کم عہدے کے وقار کا تو خیال رکھیں۔آ پ لیفٹیننٹ گورنر کو کرپٹ نہیں کہہ سکتے۔
(انل نریندر)

10 جون 2016

سوئٹزرلینڈ نے کہانہیں چاہئے کام کے بدلے مفت میں پیسہ

بنا کچھ کئے اور دئے اگر آپ کے کھاتے میں ہر مہینے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے ڈالے جائیں، تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ سوئٹزر لینڈ میں قریب ڈیڑھ سال سے ایک کمپین چل رہی تھی جس میں مانگ کی جارہی تھی کہ دیش کے سبھی لوگوں کو سرکار کم از کم تنخواہ کی شکل میں ہر ماہ قریب ڈیڑھ لاکھ روپے دئے جائیں۔ بچوں کے لئے قریب42 ہزار روپے اور بڑوں کے لئے 171 لاکھ روپے مہینہ ہو۔ اسے نام دیا ’’یونیورسل بیسک انکم‘‘۔ مانگ نے زور پکڑا اور حمایت میں 1 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دستخط کردئے۔ سوئٹزرلینڈ میں قاعدہ ہے کہ کسی کمپین کی حمایت میں اگر 1 لاکھ سے زیادہ شہری دستخط کردیں تو ووٹنگ کرائی جائے۔ آخر کار ایتوار کو اس طرح اس پہلی رائے شماری کے لئے سوئس عوام نے ووٹ کیا اور شام تک نتیجے آبھی گئے۔ اس کے جو نتیجے آئے وہ بہت چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے 78فیصدی لوگوں نے اس عجیب تجویز کو مسترد کردیا۔ صرف22 لوگوں نے تجویز کی حمایت کی۔اس طرح یہ تجویز خارج ہوگئی۔ ایسی مانگ کو اٹھا کر ووٹنگ کرانے والا سوئٹزرلینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے۔ اگر تجویز پاس ہوجاتی تو سرکار کو ہر مہینے دیش کے سبھی شہریوں اور پانچ سال سے یہاں رہ رہے غیر ملکیوں کو جنہوں نے وہاں کی شہریت لے لی ہے، بیسک سیلری دینی ہوتی۔ اس مہم کو چلانے والوں کی دلیل تھی کہ دیش میں زیادہ تررو بو کام کررہے ہیں اور فیکٹریاں بھی آٹومیٹک ہوچکی ہیں ایسے میں دیش میں کام کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔ کام کم ہونے سے دیش میں غریبی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’یونیورسل بیسک انکم‘‘ لاگو ہونے سے اس پر روک لگے۔ دیش میں 50 فیصدی سے زیادہ کام مفت میں ہوتا ہے۔
بیسک انکم ملنے سے لوگوں کو گھر پریوار کی دیکھ بھال کرنے میں آسانی ہوگی۔ ساتھ ہی سماج میں تبدیلی لانے میں بھی کارگر ثابت ہوگی۔اس کے برعکس تجویز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے تو کام کرنے والے بھی مفت کی کھانے لگیں گے۔ سوئٹزرلینڈ کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں بھی اس مہم کے خلاف کھڑی ہوگئیں۔ ایسی تجویز سے معیشت بگڑ جائے گی۔ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ بغیر کچھ کئے اگر لوگوں کو ہر ماہ ڈیڑھ لاکھ روپے کی سیلری ملنے لگے گی تو وہ واقعی کچھ کام نہیں کریں گے۔ لوگ نوکریاں چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیں گے۔ یہ سماج کے لئے برا ہوگا۔ اگر سوئٹزرلینڈ ٹاپو ہوتا تو ایسا کربھی دیتے۔ یہ قاعدہ لاگو ہوگیا تو دنیا بھر کے لوگ سرحد پار کر یہاں آنے لگیں گے اور پانچ سال رہیں گے اور اس کے بعد بیسک سیلری کی مانگ کرنے لگیں گے۔ حالانکہ سوئس حکومت کے ساتھ ماہرین بھی اس تجویز کی مخالفت میں کھڑے تھے۔ ہیں نہ کام کے لوگ۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...