Translater
09 اپریل 2026
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں