زمینی جنگ کی تیاری کررہا ہےامریکہ؟

مغربی ایشیا میں جنگ بندی کی کوششیں کمزور پڑتی جارہی ہیں امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کی شرائط ایسی ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان پر کوئی بھی جھکنے کو تیار ہوگا ۔تو کیاا ب امریکہ منھ چھپانے کے لئے کوئی امریکی جنتاکو اس حماقت جنگ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے زمینی جنگ پر اتر سکتا ہے ؟امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنے رخ مزید سخت کر لئے ہیں ۔امریکہ مغربی ایشیا میں مزید فوج بھیج کر فوجی تعیناتی بڑھاتا چلاجارہا ہے ۔قریب 2500 مرین کمانڈو کے ساتھ امریکی وار شپ یو ایس ایس ٹریپولی مغربی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اسی طرح 82V ایئر بارن ڈویژن کے 2000 پیرائی پر بھیج رہے ہیں ۔دوسرا وارشپ یو ایس ایس باکسر بھی 2300 مرین کمانڈو کے ساتھ اپریل میں پہنچ رہا ہے اس طرح قریب 7000 امریکی فوجی علاقہ میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50000 فوجی پہلے سے ہی وسط مشرق میں موجود ہیں اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی ڈپلومیسی کے ساتھ زمینی حملے سمیت سبھی متبادل کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمت عملی ناکام رہتی ہے تو ان امریکی فوجیوں کا استعمال خاص طور سے 4 مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔پہلا ایران کے اہم تیل ایکسپورٹ سنٹرکھرگ جزیرہ پر قبضہ یا اس کی ناکابندی اس جزیرہ پر حال میں امریکی فوج نے 90 سے زیادہ ٹارگیٹ پر حملے کئے دوسرا ہرمز جل ڈروم وسط کو محفوظ رکھنا اور اس راستے میں جہازوںکی آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنا ۔نمبر 3 ایران کے ساحلی علاقوں پر کاروائی چوتھا : اس کے ایٹمی ٹھکانوں کو محفوظ کرنا اور ایران کے یورینیم زخیرہ پر قبضہ کر لینا ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمینی جنگ کے منصوبوں کے جواب میں ایران نے بڑی تیاری کر لی ہے ۔ایران نے 10 لاکھ جوانوںکی فوج اکٹھی کی ہے ساتھ ہی ایران نے قسم کھائی ہے کہ اگر امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر جنگ کے لئے اترتے ہیں تو ان کے لئے ہم یہ فیصلہ تاریخی جہنم تیار کر دیں گے۔ چلیے ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر اپنے فوجی اتاردیتا ہے اور خلیجی جزیرہ اور ایران کے ساؤتھ تیل ذخیرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کے تیل ایکسپورٹ کو تقریباً پوری طرح الگ تھلگ کیاجاسکتا ہے شاید اس سے ہرمز جل ڈروم وسط کا ایشو پوری طرح حل نہیں ہو پایا ۔امریکہ اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے لیکن ایران اچانک جنگ کی حکمت عملی (جیسے گوریلا وار) کا استعمال کرکے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول بنائے رکھ سکتا ہے ۔دونوں فریقین میں بھاری فوجی مریں گے یا زخمی ہوتے ہیں اور ایران میں شہری زخمی یا مرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتیجے ہوں گے ۔یہ امکان ہے کہ امریکی فوج محدود یا وسیع پیمانہ پر ایران میں پھنس سکتی ہے۔ مثال کے لئے ویتنام اور افغانستان ہمارے سامنے ہیں فوجی کاروائی آسان راستہ نہیں ہوسکتا ہے یہ کبھی بھی صاف ستھری مہم نہیں ہوسکتی ایسی مہم کبھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اوریہی اس جنگ کی سچائی ہے ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!