Translater

25 جنوری 2020

سائیں بابا کے جنم استھان کو لے کر اب کھڑاہوا تنازعہ

مہاراشٹر سرکار کے ذریعہ پاتھری کو تیرتھ استھل کی شکل میں ڈیولپ کرنے کے فیصلے پر جمعہ کو کہرام مچ گیا شرڑی کے سائیں بابا کے نام پر ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اس بار یہ تنازعہ ان کے جنم استھان پاتھری کو لے کر ہے ۔اس کو سائیں بابا کا جنم استھان بتا کر مہاراشٹر کے ادھو ٹھاکرے کی سرکار نے اس کے وکاس کا اعلان کیا ہے ۔اس سے ناراض ان کی کرم استھلی شرڑی کے باشندوں نے دو دن شہر بند رکھا تھا حالانکہ شر سائیں بابا سنستھان نیاس کے پی آر او مہید یادو نے بتایا کہ کہ مندر بند نہیں ہوگا بھاجپا ایم پی سنجے وروے پارٹیل نے پوچھا کہ پاتھری کو سائیں بابا کا جنم استھان بتانے کے اشو نئی سرکار کے آنے کے بعد کیوں کھڑے ہوئے ہیں ؟پارٹیل نے یہ بھی کہا کہ شرڑی کے لوگ اس مسئلے پر قانونی لڑائی لڑ سکتے ہیں ۔وہیں دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ اشو ک چوہان نے کہا کہ جنم استھل پر تنازعہ کے سبب پاتھری میں شردھالوﺅں کو دی جانے والی سہولیات کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے ۔سائیں بابا کی پیدائشی سرزمین کو لے کر تنازعہ اُس وقت کھڑا ہوا جب مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پرمنی ضلع کے پاتھری گاﺅں کے وکاس کے لئے 100کروڑ روپئے دینے کا اعلان کیا شرڑی گرام سبھا کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی سائیں بابا اور ان کے ماتا پتا کے بارے میں بہت سے بوگس دعوے کئے جا چکے ہیں ۔اب پاتھری کو ان کی جنم استھان کا دعوی کر سائیں بابا پر ایک ذات خاص کا لیبل لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔گرام سبھا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پاتھوی کے وکاس کے لئے سو کروڑ روپئے دئے جانے کو لے کر نہیںبلکہ اسے سائیں بابا کی جائے پیدائش کی پہچان دینے سے ہے ۔سائیں بابا نے اپنا نام پتہ ذات ،مذہب بھی کسی کو نہیں بتایا اس لئے وہ دنیا بھر میں سرو دھرم بھائی چارگی کی علامت کی شکل میں پوجے جاتے ہیں ۔پاتھوی کے مقامی ممبر اسمبلی اور این سی پی نیتا درانی عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پختہ ثبوت ہیں کہ سائیں بابا کا جنم پاتھری میں ہوا تھا ۔صدر جمہوریہ رامناتھ کووند بھی پہلے اس دلیل کی حمایت کر چکے ہیں لوگ اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر مہاراشٹر کے اس شہر کا وکاس ہوتا ہے تو شرڑی کی اہمیت کم ہو جائے گی ۔انہوںنے الزام لگایا کہ شرڑی کے باشندے کمائی بٹنے کے ڈر سے مخالفت کررہے ہیں ۔بتا دیں کہ 1854میں پہلی بار شرڑی آئے سائیں اس وقت سائیں کی عمر 16برس کی تھی اور 1918میں ہی شرڑی میں سائیں بابا نے سمادھی لی تھی ۔امید کی جانی چاہیے کہ اس تنازعہ کو جلد دور کر لیا جائے گا۔کروڑوں عوام کے عقیدت کے حامل ہیں ۔شرڑی کے سائیں بابا۔

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...