Translater

04 اپریل 2026

ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں  تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔ (انل نریندر)

02 اپریل 2026

دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !

یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔ آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔ صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔ (انل نریندر)

31 مارچ 2026

زمینی جنگ کی تیاری کررہا ہےامریکہ؟

مغربی ایشیا میں جنگ بندی کی کوششیں کمزور پڑتی جارہی ہیں امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کی شرائط ایسی ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان پر کوئی بھی جھکنے کو تیار ہوگا ۔تو کیاا ب امریکہ منھ چھپانے کے لئے کوئی امریکی جنتاکو اس حماقت جنگ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے زمینی جنگ پر اتر سکتا ہے ؟امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنے رخ مزید سخت کر لئے ہیں ۔امریکہ مغربی ایشیا میں مزید فوج بھیج کر فوجی تعیناتی بڑھاتا چلاجارہا ہے ۔قریب 2500 مرین کمانڈو کے ساتھ امریکی وار شپ یو ایس ایس ٹریپولی مغربی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اسی طرح 82V ایئر بارن ڈویژن کے 2000 پیرائی پر بھیج رہے ہیں ۔دوسرا وارشپ یو ایس ایس باکسر بھی 2300 مرین کمانڈو کے ساتھ اپریل میں پہنچ رہا ہے اس طرح قریب 7000 امریکی فوجی علاقہ میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50000 فوجی پہلے سے ہی وسط مشرق میں موجود ہیں اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی ڈپلومیسی کے ساتھ زمینی حملے سمیت سبھی متبادل کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمت عملی ناکام رہتی ہے تو ان امریکی فوجیوں کا استعمال خاص طور سے 4 مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔پہلا ایران کے اہم تیل ایکسپورٹ سنٹرکھرگ جزیرہ پر قبضہ یا اس کی ناکابندی اس جزیرہ پر حال میں امریکی فوج نے 90 سے زیادہ ٹارگیٹ پر حملے کئے دوسرا ہرمز جل ڈروم وسط کو محفوظ رکھنا اور اس راستے میں جہازوںکی آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنا ۔نمبر 3 ایران کے ساحلی علاقوں پر کاروائی چوتھا : اس کے ایٹمی ٹھکانوں کو محفوظ کرنا اور ایران کے یورینیم زخیرہ پر قبضہ کر لینا ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمینی جنگ کے منصوبوں کے جواب میں ایران نے بڑی تیاری کر لی ہے ۔ایران نے 10 لاکھ جوانوںکی فوج اکٹھی کی ہے ساتھ ہی ایران نے قسم کھائی ہے کہ اگر امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر جنگ کے لئے اترتے ہیں تو ان کے لئے ہم یہ فیصلہ تاریخی جہنم تیار کر دیں گے۔ چلیے ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر اپنے فوجی اتاردیتا ہے اور خلیجی جزیرہ اور ایران کے ساؤتھ تیل ذخیرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کے تیل ایکسپورٹ کو تقریباً پوری طرح الگ تھلگ کیاجاسکتا ہے شاید اس سے ہرمز جل ڈروم وسط کا ایشو پوری طرح حل نہیں ہو پایا ۔امریکہ اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے لیکن ایران اچانک جنگ کی حکمت عملی (جیسے گوریلا وار) کا استعمال کرکے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول بنائے رکھ سکتا ہے ۔دونوں فریقین میں بھاری فوجی مریں گے یا زخمی ہوتے ہیں اور ایران میں شہری زخمی یا مرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتیجے ہوں گے ۔یہ امکان ہے کہ امریکی فوج محدود یا وسیع پیمانہ پر ایران میں پھنس سکتی ہے۔ مثال کے لئے ویتنام اور افغانستان ہمارے سامنے ہیں فوجی کاروائی آسان راستہ نہیں ہوسکتا ہے یہ کبھی بھی صاف ستھری مہم نہیں ہوسکتی ایسی مہم کبھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اوریہی اس جنگ کی سچائی ہے ۔ (انل نریندر)

28 مارچ 2026

نہ ٹرمپ پر بھروسہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی منظور

مغربی ایشیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے امریکا کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایران نے الٹا اپنی 5 شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 نکاتی امن تجویز کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر مستر د کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بڑی شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے واضحطور پر کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اس کے مطالبات پورے ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹرمپ پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی کو قبول کرتا ہے۔ ایران کی پانچ شرائط میں جنگی نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ، ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر سابقہ خود مختاری شامل ہے۔ تہران کا واضح موقف ہے کہ امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی شرائط مان لے اور مخطے کے تمام مزاحمتی گروپوں پر حملے بند کر دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس شدید جنگ میں تہران نے بھی اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی ۔ ان مطالبات میں شامل ہیں : ایران اپنی تینوں بڑی ایٹمی سائٹس کو بند کر دے۔ اسے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ اسے اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے۔ اسے حماس ، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنی چاہیے۔ اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا چاہیے۔ اسے یہ وعدہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جو ہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ موجودہ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مطالبات تھے۔ میں نے امریکہ کے اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کم و بیش درست مسائل پر بات چیت فروری میں ہوئی تھی۔ ان نکات کو سرخ لکیریں کہا جا سکتا ہے، جن پر ممالک متفق نہیں ہو سکتے ۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تنازع کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایسے پیغامات کے تبادلے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکہ ایران میں جنگ اور حکومت کی تبدیلی میں فتح چاہتا تھا، دونوں ناکام رہے۔ دریں اثناء ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جس امریکی سٹریٹجک طاقت پر فخر کیا تھا وہ اب تزویراتی شکست میں تبدیل ہو گئی ہے ۔... ہم امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ نہیں ہوں گے ۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایک تجویز میں ایران کو جنگ بندی کے لیے پاکستان یا ترکی میں مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی جسے ایران نے صاف طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال جو ہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسے سفارتی غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ہمیں دو بار دھوکہ دیا ہے، اور ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری رائے میں طاقت حل نہیں ہے ۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ایران پر حملے بند ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک طرف امن کی تجویز بھیجیں پھر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور حملے جاری رکھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ بھی یہ کر رہا ہے۔ وہ اپنی زمینی افواج میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ ایک طرف نئے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے اور دوسری طرف امن کی بات کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے ٹرمپ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
ائل نریندر

26 مارچ 2026

ڈیمونا:اسرائیل کا سیکریٹ نیوکلیئر ری ایکٹر!



ایران۔ اسرائیل جنگ کاایک دوسرے کے نیوکلیائی اسٹیشنوں پر پہنچ جانا بیحد خطرناک ہے۔سنیچر کی صبح امریکہ۔ اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کو نتانگ نیوکلیئر مرکز کو نشانہ بنایا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اراد کے ساتھ ساتھ ڈیمونا شہر پر بھی میزائلیں داغیں۔ڈیمونا اسرائیل کا وہ جنوبی حصہ ہےجہاں سے محض 13 کلو میٹر دور اہم نیوکلیائی مرکز ہے۔تل ا بیب کی مانیں تو یہ حملہ دراصل اس کے نیوکلیائی سینٹر کو مرکز میں رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 180 سے زیادہ لوگ زخمی ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل فوج نے بتایا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کررہی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا کیوں نہیں جاسکا۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایران کے دعوے میں کچھ سچائی ہے۔ اس کی میزائلوں نے اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیاہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کو روکنے کی کوشش کی لیکن انٹرسپٹر اسے مار گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انٹر نیشنل نیوکلیائی انرجی ایجنسی نے ان حملوں کے سبب شکر ہے کہ کسی طرح کی ریڈی ایشن یعنی کرنیں نکلنے سے انکار کیا ہے جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن دونوں جگہوں پر جان مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیمونا سائوتھ اسرائیل کے نیگرو ریگستان میں واقع ہے ۔یہ ایک اہم نیوکلیائی پلانٹ ہے۔ اسرائیل کی اپنے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔ سرکاری طورپر اس کا کہنا ہے کہ ڈیمونا ری ایکٹر صرف ریسرچ کے لئے ہے۔ حالانکہ اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 90 نیوکلیائی جنگی جہاز ہیں جس سے وہ مشرقی وسطیٰ کا ایک واحد نیوکلیائی پاور کفیل دیش بن جاتا ہے۔ ڈیمونا ری ایکٹر کو شیمون پیریس میگو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے نیوکلیائی پروگرام کی ریڑھ مانا جاتا ہے۔ دراصل قریب36 مربع کلو میٹر کیمپس میں پھیلا ہوا ہے۔ قریب2700 سائنسداں اور تکنیکی ماہرین یہاں کام کرتے ہیں۔ ڈیمونگ کو اسرائیل کےلئے لٹل انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی یہودی فرقہ رہتا ہے۔ قریب30 فیصد آبادی ہندوستانی نژاد کی ہے اور مراٹھی زبان بولتے ہیں۔ دوکانوں میں سوہن پاپڑی، گلاب جامن،پاپڑی چاٹ بھیل پوری ملتی ہے۔ امریکہ۔ ایران ۔ اسرائیل کی یہ جنگ جتنی خطرناک شکل اختیار کررہی ہے وہ نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ ڈیمونگ اور ایرانی نیوکلیائی مراکز میں یورینیم اور پلوٹینیم کے ذخیرے ہیں۔اگر ان میں اخراج ہوا تو نہ صرف آس پاس کے لوگ شکار ہوں گے بلکہ پورا مشرقی وسطیٰ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی مادہ کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں اس کی تکلیف دہ نظیر موجود ہیں۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شر ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکہ نے نیوکلیائی بم گرائے تھے تو لٹل بام (یورینیم) اور فیٹ مین نامی ان بموں نے 2 لاکھ لوگوں کی زندگی ختم کردی تھی اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا تھا۔آج ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن بم کئی ملکوں کے پاس ہیں۔ ایران ۔ امریکہ۔ اسرائیل جنگ کو اور پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا کو سامنے آنا پڑے گا۔یہ اچانک نہیں عالمی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس پر مسلسل زور دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں۔ ٹیبل پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔اس کا حل جنگ نہیں بات چیت سے تلاشنا ہوگا۔یہ کام جتنی جلدی ہو اس جنگ کو رکنا چاہئے۔دنیا کی اسی میں بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2026

چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!

ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2026

نیتن یاہو کی سازشوں کا نتیجہ !

اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ پھیلتی جارہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ نتین یاہو کی سازشیں ہیں ۔یہ ساری کری کرائی نتین یاہو کی ہے ۔28 فروری کو سب سے پہلا کام نیتن یاہو نے یہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپریم فوجی کمانڈر و خفیہ چیف وغیرہ کو شہید کر دیا ۔نیتن یاہو یہیں نہیں رکے انہوں نے اگلا نشانہ بنایا ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو مارڈالایہ اس لئے بھی کیا کہ تاکہ اس لیڈر کو راستے سے ہٹاد یاجائے جو ایک اصلاح پسند ،لائق اور بیچ بچاؤ کرکے اس جنگ کو کسی طرح روکنے میں مدد کر سکتا تھا اور یہی نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے ۔لاریجانی ایران کے نمبر 2 کے لیڈر تھے ۔یہ ٹرانزیشنل کونسل کے ذریعے دیش چلارہے تھے ۔ایران کے آئین کی آرٹیکل 111 کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا نااہلیت کی صورت میں ایک کونسل دیش چلاتی ہے لیکن لاریجانی ان سب کے اوپر تھے ۔ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کور یعنی فوج بھی ان کے حکم کو مانتی تھی ۔پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئرپالیسی مشیر کےطور پر علی لاریجانی کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیائی مذاکرات حکمت عملی پر سورگیہ مرحمو آیت اللہ علی خامنہ ای کو صلاح دینے کے لئے معمول کیا گیا تھا۔علی لاریجانی کے قتل کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے جنرل غلام رضا سلیمانی کو بھی مار ڈالا۔ریولیوشنری گارڈ کی بسیط فوج کےوہ چیف تھے ۔دراصل نیتن یاہو نے سوچا تھا اگر وہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کر دیں گے تو جنگ جیتنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ایران بکھر جائے گا لیکن اس کا ہوا الٹا ۔ایرانی عوام ہمدردی میں سڑکوں پر اتر آئی جو آیت اللہ نظام سے ناراض تھی وہ ہی نظام کی حمایت میں اتر گئی ۔نیتن یاہو کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ اگر ختم ہو جائے گی تو اتنی جلدی اس کا متبادل سامنےآکر مورچہ سنبھال لے گاجب اسرائیل نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ الٹا ہو گیا تو اس نے نئی سازش رچی ۔اس درمیان یہ اشارے بھی آنے لگے کہ امریکی صدر گھریلو دباؤ کے سبب اس جنگ سے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے تو نیتن یاہو پریشان ہو گئے۔ یاد رہے کہ جب پچھلے سال جب 12 دن جنگ چلی تھی تو سب سے پہلے اسرائیل نے حملہ کیا تھا بعد میں اس نے امریکہ کو زبردستی اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا ۔اب بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھ نیتن یاہو نے ایک نئی اور نہایت خطرناک چال چلی اس نے بغیر امریکہ سے پوچھےا یران کے سب سے بڑے اینرجی اداروں میں سے ایک بشر میں واقع اصلومیہ گیس پلانٹ (ساؤتھ پارس )پر حملہ کر دیا ۔اس ہوئے واقعہ سے ایران کو بھڑکنا فطری ہی تھا اس نے خلیج میں موجود تیل اور گیس کے کارخانوں کی سیٹلائٹ فوٹیج جاری کر زون بنا دئیے کہ ان علاقوں کو فوراً خالی کریں اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر کے راس لافان کی ایل این جی پی گیس فیلڈ پر حملہ کر دیا یہ قطر کی اہم ایل این جی پروسیسنگ کارخانہ ہے ۔اور دیش کا اینرجی نیٹورک کا اہم مرکز ہے ۔سعودی عرب نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے کئی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا لیکن اس کے تیل بھنڈار کے اسٹوریج پر بھی کچھ نقصان ہوا ہے ۔ رہی سہی کسر ایران کے ذریعے ہرمز اسٹیج کوبند کرکے پوری کر دی ۔ہرمز اسٹریٹ دنیا کے سب سے اہم سمندری کمرشیل راستوں میں سے ایک ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماناہے اور لکھا کہ اسرائیل اس بات کو ضروری اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر کوئی اور حملہ نہیں کرے گا ۔کیا یہ بیان ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو سنانے کے لئے دیا تھا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لئے نیتن یاہو اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...