Translater

05 جون 2021

اکنامی کی مار سے دہائی میں سب سے بری حالت!

دیش کی معیشت پچھلے مالی برس (2020-21) میں ترقی کرنے کی جگہ ریکارڈ 3.7 فیصدی تک سکڑ گئی ۔یہ مار دہائیوں میں سب سے بری پرفارمنس ہے ۔معیشت اس سال جنوری سے مارچ کے درمیان 1.6 فیصدی بڑھی تو لیکن اس کے پیچھے سرکاری خرچ کا ہاتھ مانا جارہا ہے ۔معیشت پر ماہرین مانتے ہیں کہ کورونا کی دوسری لہر کے سبب نئے مالی برس کی پہلی سہہ مائی کی حالت بہت خراب ہو سکتی ہے کورونا کی دوسری لہر میں زندگی بچانے کی جنگ کے درمیان ریکارڈ بے روزگاری موت پر بھاری بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔سی ایم آئی ای کی رپورٹ کے مطابق دوسری لہر میں دیش میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کا نوکری سے ہاتھ دھونا ہے ۔مشہور ماہر اقتصادیات ارون کمار نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مالی تنگی کے سبب بے روزگاری کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے ۔یہ موت کی تعداد پر بھاری پڑ سکتی ہے یعنی لوگوں کی مالی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اس سے بچنے کے لئے وقت رہتے مرکزی حکومت اور عدالت مالیات کو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانمی کے چیف آڈیٹر جنرل مہرا ویاس نے کہا کہ جن لوگوں کی نوکری گئی ہے انہیں دوبارہ روزگار ملنا بہت مشکل ہو رہا ہے ۔کیوں کہ انفارمل سیکٹر میں تو کچھ حد تک بہتری آڑہی ہے لیکن منظم سیکٹر میں ابھی وقت لگے لگا ۔سی ایم آئی ای کے مطابق اپریل مئی کے مہینہ میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ اپریل میں ہی یہ تعداد 73 لاکھ پہونچ گئی ہے اور 30 مئی کو ختم ہوئے ہفتہ میں شہری بے روزگاری شرح 7.88 فیصد پہونچ گئی ہے اس دوران دیہی علاقوں کی بے روزگاری شرح 9.58 فیصد ی رہی ۔سی ایم آئی ای نے اپریل میں 1.75 لاکھ پریواروں پر ملک گیر سروے کیا تھا ۔اس میں شامل 3 فیصدی پریواروں نے بھی آمدنی بڑھنے کی بات کہی ۔جبکہ 97 فیصدی کمائی گھٹ گئی ہے ۔مئی میں پیٹرول ڈیزل کی فروخت میں بھی 17 فیصد کمی آئی جبکہ بجلی گھپت 8.20 فیصد رہی ۔اس کی وجہ پچھلے سال کی یکساں میعاد میں بجلی کی کم کھپت ہونا رہا ۔ریلوے نے بھی اس دوران 114.8 میٹرک ٹن کی ڈھلائی کا ریکارڈ بنایا جو پچھلے ریکارڈ سے 9.7 فیصد زیادہ رہا ۔پچھلے سال اپریل سے جون میں معیشت 24.4 فیصد تک محدود ہو گئی ۔کیوں کہ لاک ڈاو¿ن تھا اس کے بعد معیشت میں مندی درج کی گئی ۔لیکن پھر معاشی سرگرمیاں رفتار پکڑنے لگیں لیکن اپریل میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد اقتصادی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ۔جس سے آمدنی میں کمی آئی اور سرکار مالی پیکج دینے کی صورت میں نہیں ہے مانا جا رہا ہے معیشت خستہ حال رہی توبی جے پی کے لئے مشکل ہوگا ۔جو مستقبل میں اسمبلی چناو¿ میں ایک اشو بن کر ابھر سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

ہمارے لئے تو مسیحا ثابت ہوئے ہیں!

کورونا کی مار کا میڈیا پر بھی گہرا اثرہوا ہے ۔کئی فریلانس جنرلسٹ اور فوٹو گرافر کام نہ ہونے کی صورت میں زبردست مالی تنگی سے گزر رہے ہیں ۔میڈیا رپوٹرس کے مطابق ایسے ضرورت مند صحافیوں کی مدد کیلئے سبھی کے مہا نائک امیتابھ بچن آگے آئے ہیں انہوں نے ان صحافیوں کو کئی مہینہ گھر کے خرچ کے لئے مالی مدد کی ہے ۔کورونا وائرس وبا کے قہر کے درمیان متاثرین اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے بالی وڈ کے ستارے اپنے اپنے حساب سے آگے آئے ہیں ۔اسی درمیان امیتابھ بچن مسلسل الگ الگ سیکٹروں کے محروم اور ضرورت مند لوگوں کی مدد میں لگے ہوئے ہیں ۔ذرائع سے پتہ چلا ہے بگ بی نے حال ہی میں کئی فریلانس جنرلسٹوں کی کئی مہینوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیاہے اور ان کو مالی مدد دے کر راشن پانی بجلی کا بل مکان کرایہ بچوں کے اسکول فیس جیسی بنیادی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں ۔جس سے انہوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔جانے مانے چینل کے صحافی ایس قدوائی نے بتایا کہ بگ بی نے ضرورت مند فری لانس صحافیوں کی مدد کی خواہش ظاہر کی تھی ان کے پاس ایک لسٹ تھی۔ اور وہ اس بارے میں معلومات حاصل کررہے تھے کہ مدد صحیح شخص کو ہی ملے اور وہ لسٹ ویریفائی کر کے دی ہے ۔وہ اس بات کو لیکر فکر مند تھے ۔کام نہ ہونے کی صورت میں میڈیا ملازمین کا گزارہ کیسے ہو رہا ہوگا ۔بہت سے صحافیوں کو تین تین مہینوں کا ضروری خرچہ مہیا کرایا اور جن کو مدد ملی ہے وہ سبھی سینئر جنرلسٹ ہیں ۔اور تقریباً بیس سے پچیس سال سے اس پروفیشن میںہیں ۔بگ بی نے یہ کام بغیر کسی شور شرابہ کے کیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے اس کی پبلسٹی ہو میں کسی سے پیسہ نہیں مانگ سکتا پیسہ دینے پر بولے کہ انہوں نے اکیلئے 25 کروڑ روپے ڈونیٹ کئے ہیں ہمارے لئے تو وہ مسیحا ثابت ہوئے ہیں سینئر فریلانس جنرلسٹ کہتے ہیں ۔بتاتے ہیں کہ کورونا دور میں حال میں میری ماتا جی چل بسیں مجھے ان کے انتم سنسکار پریاگ آنا پڑا میں زبردست مالی تنگی سے گزر رہا تھا ایسے میں بگ وی کی مدد سے بہت سہارا ملا ۔حالانکہ کورونا دور میں ڈونئیٹ کرنے اور لوگوں کی مدد نہ کرنے کیلئے شوشل میڈیا پر ان کی تنقید ہو رہی ہے اب اپنی بلاگ میں بگ بی نے ٹرول کرنے والوں کا جواب دیا ہے اور کہا کہ ان کا خاندان چیریٹی کرتے ہیں ۔لیکن میرا خیال ہے کہ بولنے سے زیادہ بہتر ہے مدد کرا دو وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے گزشتہ کچھ برسوں میں جو فلاحی کام کئے ہیں ان کا شوشل میڈیا پر بکھان نہیں کیا ۔صرف لینے والے ہی کو پتہ ہے جب بھی ضرورت پڑی امیتابھ پیچھے نہیں ہٹے ۔چاہے کسانوں کے قرض چکانے کا معاملہ ہو یا دیہاڑی مزدوروں کو اپنے گھر پہوچانے کا ہو ۔کوئی آکسیجن اور وینیٹی لیٹر ڈونیٹ کرنے کا ہو وہ ہمیشہ آگے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

04 جون 2021

امریکہ میں ہتھیاروں کیلئے اندھی دوڑ !

سال 2016 میں امریکہ میں 32 فیصدی گھروں میں بندوقیں تھیں ۔دیش کے جنرل شوشل سروے کے مطابق آج یہ تعداد 39 فیصدی تک پہونچ چکی ہے یعنی ہر دس میں سے چار گھر میں ہتھیار پہونچ چکے ہیں اور اسے امریکہ میں ہتھیاروں کی اندھی دوڑ مانا جا رہا ہے ۔ایسے وقت میں جب شہروں میں لوگوں کو کسی نہ کسی وجہ سے رقابت میں گولی مار کر ہلاک کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود ہتھیاروں کی اس بڑھتی خرید نے پالیسی سازوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے پچھلے چناوی برس میں نسلی تشدد اور خونی مظاہرے اور کورونا وبا کے دوران بندقوں کی خرید بڑھی تھی ۔اب جبکہ چناو¿ ہو چکے ہیں تب بھی ہتھیاروں کی خرید کم نہیں ہو رہی ہے ۔کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ہتھیاروں کے پھیلاو¿ ور ریسرچ کنندہ ڈاکٹر گیرم جی ویٹنوٹ تعجب ظاہر کرتے ہیں کہ چناو¿ کے بعد بندوقوں کی خرید کم ہوجاتی ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔اینجس کی سٹی کونسل میں نمائندہ مارکی ہیرث کہتے ہیں کہ امریکہ میں خطرناک ہتھیارں کی دوڑ شروع ہو چکی ہے لیکن اشارہ یہ بھی ہے کہ امریکہ ایک دوسرے کو کس طرح بے اعتمادی سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی حفاظت کے بارے میں کیسے سوچ رہے ہیں دعویٰ ہے کہ امریکہ میں شہریوں کے پاس قریب 40 کروڑ بندقیں ہین ۔لاءاینجلس میں سب سے زیادہ بندوقیں خریدی گئیں جس وجہ سے وہاں قتل کی وارداتیں 76 فیصدی فائرنگ میں ہوئی ہیں ۔ (انل نریندر)

چناو ڈیوٹی پر جان گنوانے والوں کو کورونا وارئیر مانیں!

الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی سرکار سے پنچایت چناو¿ میں ڈیوٹی کے دوران کورونا انفیکشن سے جان گنوانے والے اساتذہ و سرکاری ملازمین کو کورونا وارئیر مان کر ان کے متاثرہ کنبوں کو ان کے برابر معاوضہ دینے کے معاملے میں غور کرنے پر جواب داخل کیا جائے یہ حکم جسٹس شدھارتھ ورما جسٹس اجیت کمار کی بنچ نے از خود داخل مفاد عامہ کی عرضی پرسماعت کے دوران حکم دیا ۔ٹیچر راہل گوگلے کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے پنچایت چناو¿ کی ڈیوٹی پر انفیکشن سے جان گنوانے والے سرکار ی ملازمین کے پریوار کو تیس لاکھ روپے کی مدد دی جارہی ہے ۔وہیں کورونا یودھاو¿ں کے لئے پچاس لاکھ روپے معاوضہ طے ہے یہ پالیسی امتیاز پر مبنی ہے انہوں نے بتایا چناو¿ کے باوجودانفیکشن سے متاثر ملازمین کو کوئی میڈیکل سہولت نہیں دی گئی نتیجتاً کئی ملازم پریواروں نے گھر کے اکلوتے کمانے والے کو کھو دیا ہے ایسے میں متاثرہ کنبوں کو معاوضہ پانے کا حق ہے ریاستی سرکار کے جواب کا انتظار ہے قاعدے کے مطابق یہ مانگ ٹھیک ہے کورونا وبا کے دوران چناو¿ ڈیوٹی پر جان گنوانے والوں کو مناسب معاوضہ ان کے پریواروں کو ہی ملنا چاہیے ۔ (انل نریندر)

سعودی عرب : مساجد کو لاوڈ اسپیکر دھیما رکھنے کا حکم!

سعودی عرب کے شہزادہ ولی عہد (حاکم اعلیٰ محمد بن سلمان نے سبھی مساجد کو اذان اور دیگر مواقعوں پر لاڈ اسپیکر کی آواز دھیما رکھنے کے احکامات دئیے ہیں۔سبھی مساجد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے لاو¿ڈ اسپیکروں کی آواز مقرر زیادہ آواز سے ایک تہائی کم رکھیں سعودی عرب میں اسلامی امور کے وزیر ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد اللہ عزیز الشیخ نے پچھلے ہفتہ ہی ان پابندیوں کا اعلان کیا تھا جس میں مساجد میں لگے لاو¿ڈ اسپیکر کی آواز زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں سے مسلسل مل رہی شکایت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ۔ان شکایتوں میں کچھ والدین نے لکھا کہ لاو¿ڈ اسپیکر کی تیز آواز سے بچوں کی نیند خراب ہوتی ہے ۔ڈاکٹر عبد اللہ عزیز شیخ نے لکھا کہ مساجد پر لگے لاو¿ڈ اسپیکر کا استعمال اماموں کو یا مو¿ذنوں کو نماز کے لئے ہی بلانے اور اقامت کیلئے لاو¿ڈ اسپیکر کا استعمال کیا جائے اور اس کی آواز ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو انہوں نے اس حکم پر تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے سخت کاروائی سے بھی خبردار کیا ہے ۔اسلام مذہب کے ماننے والوں کے مطابق اذان اور اقامت کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ امام اپنی جگہ پر بیٹھ چکے ہیں اور نماز بس شروع ہونے والی ہے ۔اسلامی امور کی وزارت نے اس فرمان کے پیچھے شرعی دلیل دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی انتظامیہ کا یہ حکم پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے جنہوں نے کہا کہ ہر انسان چپ چاپ اپنے رب کو پکار رہا ہے اس لئے کسی دوسرے کو پریشان نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی سبق میں یا دعا میں دوسرے کی آواز پرآواز نہیں اٹھانی چاہیے سعودی انتظامیہ نے اپنے حکم میں دلیل دی ہے کہ امام شروع کرنے والے ہیں اس کا پتہ مسجد میں موجود لوگوں کو چلنا چاہیے نہ کہ پڑوس میں رہنے والے گھروں میں مقیم لوگوں کو بلکہ قرآن شریف کی توہین ہے کہ آپ اسے لاو¿ڈ اسپیکر پر چلائیں کوئی اسے سننا چاہے یا نہ چاہے ۔اس سلسلے میں پہلے ایک مشہور عالم محمد بن صالح نے ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مساجد میں لگے لاو¿ڈ اسپکروں کا استعمال اذان اور اقامت کے علاوہ نہیں ہونا چاہیے ۔بی بی سی اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے مذہب کے کئی بڑے مفتی صاحبان نے سرکار کے اس حکم کو صحیح مانا ہے ۔جبکہ زیادہ تر دقیانوش مسلمان سعودی سرکار کے اس فیصلے کی مخالفت کرر ہے ہیں اور شوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔یہ پابندی ایسے دور میں لگائی گئی ہے جب شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے ایک اصلاح پسند دیش بنانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی میں مذہب کا رول محدود رہے ۔کچھ مہینہ پہلے سعودی عرب نے کار چلانے پر پابندی ہٹائی گئی تھی جسے ایک بڑی تبدیلی مانا جا رہا تھا احتجاج کرنے والوں سے انتظامیہ سختی سے پیش آرہا ہے انہیں گرفتار بھی کیا جارہا ہے اور جیلوں میں ڈالا جارہا ہے ۔ (انل نریندر)

03 جون 2021

چین این سی اے پر نئے ہتھیاروں کو تعیناتی میں لگا ہے !

سرحدی تنازعہ کو پر امن طریقہ سے سلجھانے کو لیکر بھارت کے ساتھ جاری بات چیت کے درمیان چین ایکچول کنٹرول لائن کے قریب نئے ہتھیاروں کی تعیناتی کررہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ قبضہ والی ہندوستانی سرزمین پر چین نئے ہتھیار نصب کررہا ہے ۔اس سے حالات اور پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو رہا ہے ایشیا ٹائمس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی پیوپلس لبریشن آرمی نے ایل او سی ایل اے سی پر نئے سیلف پروپیڈ ریپڈ فائر مورٹار تعیناتی کا اعلان کیا ہے ۔اس موبائل سسٹم کو ہٹ اینڈ رن پوزیشن کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس سے پہلے چینی فوج نے ایل اے سی کے قریب 122 ایم ایم کی کیلیبر والی سیلف توپیں اور حملہ آور وہیکل اور لمبی دوری کے راکٹ چھوڑنے کے لئے تعیناتی کی ہے اس کے علاوہ MQ17A ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم اور وغیرہ ہتھیاروں کو ہندوستان کی سرحد کے قریب تعینات کیا گیا ہے ۔پہاڑی علاقوں سے گزر رہی ایل اے سی کے قریب ان بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی عام اور آسان نہیں ہے ۔کئی علاقوں میں مال بردار ہیلی کاپٹرون کے ذریعے لاکر انہیں اتارا گیا ہے ۔پچھلے ہفتہ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا سرحد پر چل رہے تنازعہ کے درمیان چین کے ساتھ بھارت کے رشتے چین کی قوت ارادی پر نصر کرتے ہیں چین کو دیکھنا ہے کہ وہ کس حد تک بھارت کے ساتھ سرحدی مسئلے پر باہمی سمجھوتوں کی تعمیل کرتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ بھارت چین کے فوجی آپسی بات چیت کے ساتھ پینگونگ جھیل کے کنارے سے تو ہٹ گئے تھے لیکن چین کے ساتھی گوگرا ہارٹ اسپرنگ اور ڈیٹ سانگ بھی ابھی قبضة جمائے بیٹھے ہیں اس لئے دونون فریقین میں کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن چین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔پیچھے ہٹنا تو دور کی بات اب وہ نئے نئے خطرناک ہتھیاروں کی تعیناتی میں لگا ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹی وی میڈیا کو نئے آئی ٹی قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے !

دیش میں حال ہی میں نافذ آئی ٹی ایکٹ 2021 کو لیکر نیشنل براڈ کاشٹرس ایسو سی ایشن (این بی اے )نے وزارت اطلاعات و نشریات سے دیش بھر میں چل رہے روایتی ٹی وی نیوز میڈیا کو ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کی اپیل کی ہے ۔جمعرات کو این بی اے کی طرف سے اس کے چیئرمین رجت شرما نے وزارت وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھ کر یہ اپیل کی ہے جب تک آئی ٹی قاعدہ 2021 کو لیکر دیش کے مختلف عدالتوں میں چل رہے معاملے زیر غور ہیں تب تک این بی اے کے سلسلے میں اسے معطل رکھا جائے ۔رجت شرما نے کہا کہ ٹی وی نیوز میڈیا کے ذریعے چلائے جار ہے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو آئی ٹی رول 2021 کے دائرے میں آزاد آئی ٹی قانون 2000 کو چنوتی دی گئی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ آئی ٹی قانون 2000 ڈیجیٹل نیوز میڈیا ریگولیٹری کی بات نہیں کرتا ۔پھر بھی ٹی وی نیوز میڈیا کے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو اس میں رکھنا اس لئے مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ ٹی وی نیوز میڈیا کے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم بھی ان تمام قواعد اور طریقوں کی تعمیل کرتا ہے ۔جو ٹی وی نیوز میڈیا پر لاگو ہوتے ہیں ۔این بی اے کی دلیل تھی کہ الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا سے الگ نہیں ہے اس کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جانے والی زیادہ تر نیوز میٹر اسی براڈ کاسٹ کا حصہ ہوتی ہے جو تمام قواعد و ضوابط کی کسوٹی سے گزرتے ہوئے نکلتا ہے ۔ایسے میں نیوز میڈیا کے ذریعے کنٹرول ڈیجیٹل نیوز میڈیا آئی ٹی قواعد 2012 کے دائرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے ۔این بی اے کا کہنا ہے ان پر آئی ٹی قواعد 2021 لاگو کرنے کا مطلب میڈیا کے بولنے کی آزادی اور میڈیا کی اظہار رائے کی آزادی پر گہرا اثر پڑے گا ۔یہ اسکے بولنے کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق پر دباو¿ اور خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ منصفانہ طریقہ سے خبروں کی رپورٹنگ پر بھی اثر پڑے گا۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...