Translater

31 جولائی 2025

آپریشن سندور : اپوزیشن کے سوال !

پیرکو آخر کار پہلگام کے آتنکی حملے کے واقعہ پر لوک سبھا میں زبردست بحث ہوئی ۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے تینوں ونگ کے تال میل کی بے مثال بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس مہم کو یہ کہنا کہ کسی دباو¿ میں آکر روکی گئی غلط اور بے بنیاد ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہار مان لی تھی اور کہا کہ اب کاروائی روک دیجئے مہاراج ۔بہت ہوگیا۔وزیر دفاع نے کہا دس مئی کی صبح جب انڈین ایئر فورس نے پاکستان کے کئی ایئر فیلڈ پر کرارا حملہ کیا تو پاکستان نے اسی وقت ہار مان لی تھی اور لڑائی روکنے کی پیشکش کی ۔بحث میں اپوزیشن نے مرکزی حکومت پر تلخ سوال داغے اپوزیشن نے ایک آواز میں کہا فوج کی طاقت پر انہیں فخر ہے ،لیکن سرکار کی حکمت عملی ،جوابدہی اور خارجہ پالیسی پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔کانگریس ایم پی گوروگوگوئی اور دیپندر ہڈا نے خاص طور پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ سرکار کو بتانا چاہیے کہ پہلگام حملے کے آتنکی اب تک گرفت سے باہر کیوں ہیں ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپریشن سندور کے دوران کتنے جنگی جہاز گرے تھے ؟ جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا رول تھا؟ انہوں نے پوچھا کہ جب ہم جیت رہے تھے تو کاروائی کیوں روکی گئی ؟ پاکستان کے قبضہ سے پی اوکے کیوں نہیں لیا گیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام آتنکی حملے میں سیکورٹی کوتاہی کی اخلاقی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لینی چاہیے ۔امت شاہ جموں وکشمیر کے لیفٹننٹ گورنر کے پیچھے نہیںچھپ سکتے ۔یہ چوک ان کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پورا دیش اور اپوزیشن وزیراعظم کے ساتھ کھڑا تھا تو اچانک جنگ بندی کیسے ہوئی ؟ اگر پاکستان گھٹنوں پر تھا تو آپ کیوں جھوکے،آپ کس کے سامنے جھکے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 بار کہا کہ انہوں نے تجارت کی بات کرکے جنگ رکوائی ۔ٹرمپ کا کیا رول تھا ؟ انہوں نے سرکار سے سوال کیا کہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے ) کو اب واپس نہیں لیں گے تو کب لیں گے ۔میں نے گورو گوگوئی کی تقریر کے اہم حصے اس لئے بتائے ہیں کیوں کہ میرا خیال ہے کہ آپریشن سندور پر اٹھائے گئے سوالوں پر یہ بہت صحیح اور زوردار تقریر تھی جس کا جواب ابھی تک حکمراں فریق کے اسپیکر سرکار سے ابھی تک جواب نہیں دلوا سکے ۔اور تالنے اور ادھر ادھر کی باتوں سے الجھائے رکھنا توجہ ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔کانگریس کے دیپندر ہڈا اور ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی کی تقریروں کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔کانگریس ایم پی دیپندر ہڈا نے کہا کہ ہماری فوج نے پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا ۔لیکن سرکار کی حکمت عملی میں بڑی خامی رہی ۔اپوزیشن نے آل پارٹی میٹنگ کی مانگ کی تھی لیکن سرکار نے نہیں بلائی ۔دیپندر نے سرکار کی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی جم کر نکتہ چینی کی جبکہ ترکیہ نے پاکستان کی مدد کی تو وزیراعظم سائپرس چلے گئے ۔اچھا سندیش دیا لیکن اصلی دشمن چین کو سندیش دینا تھا تو وہ طائبان چلے جاتے ہیں خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ٹرمپ کے اس دعوے کو لے کر سوال پوچھے جاتے ہیں کہ انہوں نے بھارت پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی ۔ترنمول کانگریس نیتا کلیان بنرجی نے کہا کہ آپریشن سندور کا کریڈٹ فوج کو ہے وہ اس میں کوئی ٹال مٹول نہیں ہونا چاہیے ۔ہم نے خارجہ پالیسی کے معاملے میں پوری طرح سے سرکار کی حمایت کی بھارت کو پاکستان کو ایسی چوٹ دینی چاہیے تھی جسے پوری دنیا دیکھتی ۔انہوں نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں کبھی سنچوری کے قریب 90 رن پر پہنچنے پر ایننگ ودرا کرنے کی بات سنی ہے ؟ لیکن یہ کام مودی جی ہی کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں ۔ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں 140 کروڑ دیش واسی کہہ رہے تھے کہ لڑائی جاری رکھیں ،جیتی ہوئی بازی نہ ہارو لیکن امریکہ کے صدر کے سامنے آپ کا قد اور چھاتی 56 انچ سے گھٹ کر 36 انچ رہ گئی ہے ۔وہیں اسد الدین اویسی نے کہا پاکستان کا مقصد ہمیشہ بھار ت کو کمزور کرنے کا ہی ہے ۔سرکار کا کہنا ہے خون پانی اور دہشت گردی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔پھر کس صورت میں آپ پاکستان سے کرکٹ میچ کھیلیں گے ۔جموں وکشمیر میں 7.5 لاکھ سی آر پی ایف پولیس فورس ہے ۔پہلگام آتنکی حملے کے لئے اس کی جوابدہی طے ہوگی ؟ ایل جی ،آئی بی ،پولیس جو بھی ذمہ دارہے اس پر ایکشن ہونا چاہیے ۔جموں وکشمیر سے 370 آرٹیکل ہٹا دیا لیکن دہشت گرد پھر بھی وہاں پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا اگر پانچ جنگی جہاز نہیں گرے تو بولیے ۔اویسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کے اعلان کرنے پر بھی جواب مانگا ۔سیو سینا (یو بی ٹی ) ایم پی اروند ساونت نے سوال کیا کہ بھارت نے بغیر شرط جنگ بندی کیوں کی جبکہ پاکستان گڑ گڑارہا تھا کیا ایسے میں سخت شرطیں نہیں رکھنی چاہیے تھیں؟ پہلگام میں کوئی جوان تعینات کیون ہیں تھا ۔پہلے دن کی بحث میں ان نظریات سے اپوزیشن بہت بھاری پڑی اور سرکار جواب ٹالتی رہی۔لیکن کتنی دیر تک ؟ (انل نریندر)

29 جولائی 2025

چناو کمیشن کی ساکھ کا سوال!

بہار میں ووٹر لسٹوں کا ایس آئی آر یعنی اسپیشل انٹینسو رویژن کاروائی کو لے کر ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔پارلیمنٹ سے لے کر بہار کی سڑکوں پر جم کر احتجاج ہو رہا ہے ۔مانا ایک مہینے کی میعاد میں تقریباً آٹھ کروڑ ووٹروں کی گہری جانچ کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔یہی ایک سوال ہے جو اپوزیشن پارٹیوں و دیگر سماجی انجمنوں کو مرکزی چناو¿کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کررہا ہے ۔اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں ۔ادھر چناو¿ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف متوفی اور مائیگریٹ ووٹروں کے نام ہٹائے جارہے ہیں ۔کانگریس اور آر جے ڈی اسے چناوی حکمت عملی مانتی ہے ۔جبکہ بھاجپا نے احتجاج کو ایک سیاسی انسٹنٹ بتایا ہے ۔وہیں بی جے پی کے نیتا یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ چناو¿ میں اپنی ہار کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن بوکھلا گئی ہے اور وہ طرح طرح کے بہانے پیش کررہی ہے ۔قومی جنتا دل نیتا تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ اگر اسپیشل ووٹر رویژن پروگرام یعنی ایس آئی آر پر ان کی باتیں نہیں سنی گئیں تو وہ چناو¿ کا بائیکاٹ کرنے پر غور کرسکتے ہیں ۔اگر مہا گٹھ بندھن سچ میں چناو¿ بائیکاٹ کرتا ہے تو حالات بے حد سنگین ہوں گے اس سے چناو¿ کمیشن کی ساکھ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی ساکھ پر بھی آنچ آئے گی ۔حالانکہ ووٹر فہرستوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہا ہے ۔ایسا الگ الگ ریاستوں میں ضرورت پڑنے پر الگ الگ میعاد میں جانچ پڑتال ہوئی ہے ۔لیکن بہار میں اسپیشل رویژن فہرست کو لے کر چناو¿ کمیشن کی کاروائی سوالوں کے گھیرے میں آگئی ہے ۔حقیقت میں بہار جیسے پسماندہ اکثریتی دیہاتی اور مزدور آبادی والی ریاست کے شہریوں کی مجاز ووٹروں کی جانچ اتنے کم وقت میں ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ چناو¿ کمیشن نے پہچان کے لئے ووٹروں کے پاس دستیاب دستاویز آئی کارڈ ،آدھار کارڈ،ووٹر آئی ڈی راشن کارڈ کو ثبوت ماننے سے انکار کردیا ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے چناو¿ کمیشن کو صلاح دی تھی کہ وہ ان تینوں کو بھی پہچان کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔گہری جانچ پڑتال کاروائی کی بنیادی رپورٹ کے لئے کئی یوٹیوب چینل اور دیگر شوشل میڈیا کے صحافیوں نے رد عمل پر سوال کھڑے کئے ہیں ۔بہار کے بیگو سرائے ضلع میں یوٹیوبر اور سینئر صحافی اجیت انجم نے ثبوتوں کے ساتھ اس کاروائی میں ہو رہی دھاندلیوں کو اجاگر کیا ۔الٹے ان پر ایف آئی آر درج ہو گئی اور ان پر سرکاری کام میں خلل ڈالنے اور بنا اجازت سرکاری دفتر میں گھسنے کا الزام ہے ۔یہ معاملہ بلیا تھانے میںدرج ہے ۔بہار میںا نتہائی قلیل وقت میں ووٹروں کو اسپیشل جانچ کے کمیشن کے آرڈر کو لے کر اپنے اعتراضات درج کرانے جب اپوزیشن لیڈروں کی نمائندگی چناو¿ کمیشن سے ملنے گیا تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان سے ملنے کے لئے آئے بلکہ ملاقات پر نامناسب کاروائی اپنائی گئی جس سے مایوس اور ناراض ہو کر اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ں نے کہا کہ چناو¿ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشارے پر کام کررہا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 325 کے مطابق کسی بھی شخص کو صرف مذہب ،نسل ،ذات یا برادری کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے باہر نہیں کیاجاسکتا ۔قانون دیش کے ہر ایک شہری کا ہے جو اٹھارہ سال سے پچیس سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہے وہ ووٹر کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرسکتا ہے اس میں صرف شہری یا غیر شہری کے نام درج کرنے کے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں صاف کر چکا ہے کہ ووٹ کا حق صرف آئینی حق ہے بنیادی اخلاقی حق نہیں ہے مگر ہندوستانی شہری ہونے کے باوجود اسے شرطیں پوری کرنی ہوتی ہیں اور ضروری دستاویز دینے ہوتے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کی منشاءپر انگلی اٹھانے والوں کا الزام ہے کہ مردم شماری فارم میں مانگے گئے دستاویز میں آدھار ووٹر آئی ڈی و راشن کارڈ کا ناشامل ہونا یقینی طور سے چناو¿ کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کرتا ہے چونکہ سرکار آدھار کو ہی صرف شناختی کارڈ مان رہی ہے ۔بینک کھاتے سے جوڑرہی ہے ۔چناو¿ ووٹر الیکشن کارڈ سے جوڑرہی ہے ۔جس کا مطلب ہے سرکار اسے شہریت کے ثبوت مان رہی ہے اس لئے چناو¿ کمیشن کے ذریعے انہیں ناقبول کرنا شبہ پیدا کرتا ہے ۔اگر جلد ہی کمیشن اس میں اصلاح کر لے تو شاید ان الزامات اور کرپشن سے بچا جاسکتا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے اب یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ ایسی گہری جانچ اب پورے دیش میں ہوگی ۔سو معاملے اب صرف بہار تک محدود نہیں امید ہے کہ جلد اس پر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا اور ایک آئینی بحران کو ٹالاجائے گا ۔ (انل نریندر)

26 جولائی 2025

استعفیٰ سے اٹھے درجنوں سوال!

پیر کی رات اچانک سیاسی دھماکہ ہو گیا ۔نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی حالانکہ صحت کے اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ کی وجہ بتائی گئی ہے ۔ان کے استعفیٰ سے اپوزیشن بھی حیران تھی ۔اس سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ۔ایسا نہیں کہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کسی نائب صدر نے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا ہو۔جیسے شری وی وی گری ،وینکٹ رمن نے بھی استعفیٰ دیا تھا لیکن مرضی سے دیا تھا۔ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا تھالیکن وہ سب مرضی سے صدر بننے کے لئے دیے گئے تھے ۔شری دھنکھڑ سے تو لگتا ہے کہ استعفیٰ زبردستی لیا گیا ۔انہوںنے اپنے استعفیٰ کا سبب خرابی صحت بتایا لیکن یہ بات کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے ۔مانسون سیشن کے پہلے دن انہوں نے پورے دن راجیہ سبھا کی کاروائی چلائی ۔کہیں بھی یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ ایوان کو نہیںچلا سکتے ۔ان کے استعفیٰ کے پیچھے کئی طرح کے تجزیہ ہو رہے ہیں ۔میڈیا میں ان کے استعفیٰ کے پیچھے تبصرے چل رہے ہیں میں اس آرٹیکل میں کچھ اہم اخبارات کے اداریوں میں تجزیوںکا تذکرہ کررہا ہوں اس سے قارئین کو کچھ سمجھ میں آجائے گا امید کرتا ہوں بڑے اخباروں نے بھی استعفیٰ کی اصلی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ۔اس اچانک اٹھائے گئے قدم کے پیچھے زیادہ تر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے یہاں مبینہ نقدی برآمدگی کے چلتے مہا ابھیوگ پرستاو¿ لانے کو لے کر دو الگ الگ دستخطی مہم کی شروعات ہوئی ۔مانسون سیشن کی شروعات سے پہلے پہلے ہی سرکار نے صاف کردیا گیا تھا کہ وہ جسٹس ورما کو ہٹانے کے لئے پرستاو¿ لائے گی ۔تاکہ جسٹس کو ہٹانے کی کاروائی اتفاق رائے سے ہو ۔اور جانبدارنہ نہ سمجھا جائے ۔دی انڈین ایکسپریس نے ایک اپوزیشن ایم پی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ اس کاروائی سے این ڈی اے ممبران کو دور رکھنا چاہتے تھے کہ اس مسئلے پر سرکار اخلاق بلندیاں حاصل کر لے لیکن دھنکھڑ جی نے اپوزیشن کا پرستاو¿ قبول کر سرکار کو ناراض کر دیا ۔یہ پرستاو¿ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہر ی ونش نے خارج کر دیا تھا ۔ہوسکتا ہے کہ ایوان چلانے کے ان کے طریقے کو لے کر حکمراں فریق کی سینئر لیڈر شپ سے بھی ان کا اختلاف ہوا ہو ۔اسی برس اپریل میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو لے کر کہا تھا کہ عدالتیں صدر کو حکم نہیں دے سکتیں ۔یہی نہیں انہیں اس وقت کے چیف جسٹس سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ نیوکلیئر میزائل سنسد پر چلا رہے ہیں ۔کوئی بھی سرکار یہ نہیں چاہتی کہ ایگزیکٹوکا عدلیہ سے اتنا سیدھا ٹکراو¿ ہوا ۔یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔بھاجپا اعلیٰ کمان کے دھنکھڑ سے ناراض ہونے کی یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے ۔شری دھنکھڑ ایک واحد نائب صدر ہیں جن کے خلاف اپوزیشن نے مواخذہ تحریک لانے کا اہم ترین قدم اٹھایا ۔دھنکھڑ جس آئینی عہدے پر بیٹھ تھے ،وہاں ڈرامہ نہیں ،تحمل کی ضرورت تھی ۔یہ کہنا ناانصافی پر مبنی نہیںہوگا دھنکھڑ کئی بار نا تو تحمل میں نظر آئے اور نہ ہی اپوزیشن انہوں نے کئی بار ایسی زبان اور تیور اپنائے جو آئینی عہدے کے مطابق نہیں کہے جاسکتے ۔ہندوستان ٹائمس نے اپنے اداریہ میں لکھا ،جگدیپ دھنکھڑ نے کچھ ہی دن پہلے کہا تھا کہ میں صحیح وقت پر ریٹائر ہوں گا ۔اگست 2027 میں اگرا یشور کا کوئی دخل نہ ہو تو ۔لیکن انہوں نے کچھ ہی دنوں بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا ۔انہیں راجیہ سبھا میں کوئی باقاعدہ وداعی تک نہیں دی گئی ۔اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ اس کی وجہ بتائے تاکہ بغیر بنیاد والی قیاس آرائیاں اور سازش کی تھیوری کو درکنار کیا جاسکے ۔اخبار لکھتا ہے کہ کیا دھنکھڑ نے کوئی ریڈ لائن پار کرلی تھی ؟ اگرایسا ہے تو کیوں اور کیسے ؟ دیش کو اس بارے میں جاننے کا پورا حق ہے ۔نائب صدر کا عہدہ آئینی عہدہ ہے ،اس کا وقار اور پاکیزگی مشتبہ اور افواہوں کے دائرے میں نہیں آنی چاہیے ۔یہ صحیح ہے کہ ان کی صحت پچھلے کچھ دنوں سے خراب تھی لیکن وہ ٹھیک ہو کر عام زندگی میں لوٹ آئے تھے ۔ایک سینئر صحافی نے لکھا کہ دھنکھڑ جی نے پیر کو ایوان شروع ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن کی تجویز انہوں نے قبول کر لی ہے ۔دھنکھڑ جانتے تھے کہ سرکار لوک سبھا میں پہلے ہی نوٹس دے چکی ہے ۔انہوں نے سرکار کو مات دے دی دھنکھڑ کا استعفیٰ یہ تو ثابت کرتا ہے کہ بھاجپا میں اب بھی اعلیٰ کمان پوری طاقت سے کام کرتا ہے ۔ان کی خواہش کے خلاف کوئی بھی جانے کی کوشش کرے گا تو اسے دودھ میں سے مکھی نکالنے کا کام ہوگا ۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ دھنکھڑ کا اس ڈھنگ سے استعفیٰ یا نکالنا ) بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ نہیں ماناجاسکتا ۔وہیں ایک دوسرا ستیہ پال ملک نہ کھڑا ہوجائے۔دھنکھڑ کے معاملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بھاجپا ایک کمزور پارٹی نہیں کہلانا چاہتی ۔جنتا یہ بھی نہیں بھولی کہ کس طرح سے جے پی نڈا نے کہا تھا ”نتھنگ ول گو آن ریکارڈ “آنلی واٹ آئی سے ول گو آن ریکارڈ ۔اشارہ صاف تھا کہ دھنکھڑ جی آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے ۔قیاس تو یہ بھی لگایاجارہا ہے کہ کسی بڑے نیتا کو مطمئن کرنے کے لئے دھنکھڑ جی کی قربانی دی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

24 جولائی 2025

ساری حدیں پار کرتا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ!

ای ڈی یعنی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے کام کے طریقہ کار کو لیکر اپنے اختیارات کا بیجا استعمال بغیر شفافیت اپنائیت اور سیاسی بیجا استعمال جیسے سوالوں پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیںاور کئی بار عدلیہ اس کو خبردار بھی کرچکی ہے لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں اور بغیر سوچے سمجھے صحیح جانچ کرے کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں ۔ای ڈی پر اپوزیشن پارٹیوں پر ناجائز دباو¿ ڈالر کر یہاں تک کہ الزامات لگے ہیں کہ وہ چنی ہوئی حکومتوں کو بھی گرانے میں مدد کرتی ہے ۔اور ایک بار ای ڈی کو عدالت میں کتنے کیسز میں الزام ثابت کرنے کا ٹریک ریکارڈ نہایت خراب ہے۔درج معاملوں میں قصوروار کی شرح ہونے پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔یہ سوال تب اور سنگین ہو جاتے ہیں ،جب کچھ معاملوں میں عدلیہ کی جانب سے بھی ایجنسیوں کے طریقہ کار کو شبہہ سے دیکھا جاتا ہے ۔تازہ مثال وکیلوں کو طلب کرنے کا معاملہ ہے ۔سپریم کورٹ نے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا موکلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کرنے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہا ہے۔چیف جسٹس وی آر گوائی اور جسٹس ونود چندن کی ڈویژن بنچ عدلیہ پیشہ کی آزادی پر پوری طرح کی کاروائیوں کے اثرات پر دھیان دینے کے لئے عدالت کے ذریعے خود نوٹس لیتے ہوئے شروع کی گئی ہے ۔غور طلب ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران یہ سخت رائے زنی کی تھی کہ ای ڈی کوئی ڈان نہیں ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ چلتے ہی حملے کر دے ۔ساتھ ہی کہاکہ جانچ ایجنسی ایک زیادہ موقف پولیس افسر کی طرح نہیں ہے جو اس کے نوٹس میں آنے والی ہر چیز کی جانچ کرے ۔ہر جانچ ایجنسی میں بیشک کچھ نہ کچھ کمیان ہوتی ہیں لیکن جب سلسلے وار طریقہ سے سوال اٹھنے لگیں تو یہ دامن پر داغ لگنے جیسا ہوتا ہے ۔ای ڈی کے اختیارات سے جڑے ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے رائے زنی کی تھی کہ اگر جانچ ایجنسی پاس بنیادی اختیار ہے تو اسے لوگوں کے اختیارات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا مو¿کلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کئے جانے پر جڑے ایک معاملے میں پیر کو بڑی عدالت نے کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہی ہے اس کے علاوہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رمیا کی بیو ی سے متعلق زمین پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں عدالت نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی لڑائی ووٹروں کے سامنے لڑی جانی چاہیے ،اس میں ای ڈی جیسی نام کی ایجنسیوں ہتھیار کی شکل میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ظاہر ہے لگاتا اٹھنے والے سوالوں کے درمیان ای ڈی کا اپنا طریقہ کار میں شفافیت اور غیر جانبداری کے معیارات یقینی کر سیاسی دباو¿ سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہیے تاکہ اس کی ساکھ پر کوئی بٹہ نا لگے ۔بنچ نے ای ڈی کی عرضی کو خارج کر دیا ہے اور کرناٹک ہائی کورٹ کا حکم برقرا ر رکھا ہے عرضی میں ای ڈی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں ہائی کورٹ نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی بیوی کاویری کے خلاف ایم ڈی یو گھوٹالے میں کاروائی کرنے پر روک لگا دی تھی ۔ای ڈی کی جانب سے ایڈیشنل شالی سیٹر جنرل ایس وی راجو عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ برائے کرم ہمیں اپنا منھ کھولنے کے لئے مجبور نہ کریں ورنہ ہمیں ای ڈی کے خلاف کچھ سخت الفاظ کا استعمال کرنا پڑے گا ۔بدقسمتی سے مجھے مہاراشٹرمیں اسے لے کر کچھ تجربہ ہے اسے پورے دیش میں مت پھیلائیں ۔سیاسی لڑائی تو ووٹروں کے سامنے لڑنا چاہیے ہمیں اس میں آپ کیوں استعمال ہو رہے ہیں ۔سپریم کورٹ کی یہ رائے زنیاں صاف نشاندہی کرتی ہیں کہ کس طرح حکمراں پارٹی جانچ ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتی ہے اور سیاسی کھیل کھیلتی ہیں ۔ان جانچ ایجنسیوں کو چاہیے کہ یہ ہر حکم کو آنکھیں بند کرکے عمل نہ کریں بلکہ تھوڑی جانچ پہلے کریں کہ الزامات میں کتنا دم ہے ۔یا نہیں ؟ یا صرف سیاسی حریفوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ؟ امید کی جاتی ہے کہ ای ڈی سمیت تمام جانچ ایجنسیوں کے لئے کوئی پیمانہ ضرور ہونا چاہیے ۔ (انل نریندر)

22 جولائی 2025

مانسون سیشن ٹکراو کے پورے آثار!

پیر سے پارلیمنٹ کا مانسون سیشن شروع ہو گیا ہے ۔21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا اس ایک ماہ کے طویل عرصہ سیشن کی شروعات سے ہی حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان صاف ٹکراو¿ دکھائی دیتا نظر آرہا ہے ۔تیاری دونوں طرف سے پوری ہے ۔اپوزیشن نے جہاں سرکار کو مختلف برننگ اشوز پر گھیرنے کی تیاری کر لی ہے ۔وہیں حکمراں فریق نے بھی اپوزیشن کی حکمت عملی کو کند کرنے کی تیاری پوری کر لی ہے ۔پارلیمنٹ کے سیشن سے عین پہلے انڈیا اتحاد کی ورچوئل میٹنگ سنیچر کی دیر شام منعقد کی گئی جس میں مانسون سیشن کو لے کر پوری اپوزیشن نے مشترکہ حکمت عملی اور سرکار کے کورے ایجنڈے پر مفصل غور وخوض کیا ۔میٹنگ کے بعد سینئر کانگریس نیتا اور اراجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پرمود تیواری نے میڈیا کو بتایا کہ اپوزیشن نے طے کیا ہے کہ آنے والے سیشن میں وہ آٹھ اہم مسئلوں پر پی ایم مودی اور ان کی سرکار کو گھیریں گے ان سے سوالوں کے جواب مانگے جائیں گے ان میں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت پاک سیزفائر کے 24 سے زیادہ بار دعوے ،بہار میں ایس آئی آر کی قواعد ،پولنگ ،حقوق پر سنکٹ ،حد بندی ،ایس سی ایس ٹی اور عورتوں کے خلاف ظلم احمد آباد میں پلین حادثہ ،غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا دور ،سرکار کی خارجہ پالیسی جیسے اشوز کو مضبوطی سے اٹھایا جائے گا ۔اس ورچوئل میٹنگ میں 24 پارٹیوں کے نمائندوں نے حصہ لیامیٹنگ بہت ہی خوشگوار ماحول میں ہوئی ،جلد ہی انڈیا اتحاد کے نیتا آپس میں مل کر ایک میٹنگ کریں گے جس میں وہ اپنی آنے والی حکمت عملی کو دھار دیں گے۔کانگریس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ٹھیک سے چلے لیکن اس کے لئے سرکار کو اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دینا ہوگا ۔وزیراعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں موجود رہنا چاہیے اور خود ان سوالوں کا جواب دینا چاہیے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دیش میں جمہوریت اور آئینی اختیارات پر خطرہ منڈرا رہا ہے ۔اور ایسے میں اپوزیشن کا رول اور ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے ۔خارجہ پالیسی پر بھی بحث ہوگی ۔وہیں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور و ٹرمپ سے لے کر بہار میں ووٹر لسٹ رویژن جیسے اشوز پر حکمراں فریق بھی اپنی حکمت عملی پر کام کیا ہے۔جمعہ کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں اس پر بات ہوئی جس میں سرکار کے سینئر وزراءکو مسلح افواج کی طرف سے بھی بریف کیا گیا ۔ماناجارہا ہے کہ آپریشن سندور کے الگ الگ پہلوو¿ں کے بارے میں پوزیشن صاف کی گئی ہے ۔راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بیان د ے سکتے ہیں ۔اتوار کو حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی جس میں سرکار کی طرف سے صاف کیا گیا کہ وزیر دفاع آپریشن سندور پر بیان دیں گے ۔بہار ووٹر لسٹ رویژن کو لے کر آپریشن کے حملے کا جواب دینے کے لئے بھی سرکار کی طرف سے پوری تیاری ہے ۔معاملہ کورٹ میں ہے ۔ساتھ ہی حکمراں فریق کی طرف سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ چناو¿ کمیشن کا فیصلہ ہے کہ اس مسئلے کے بہانے بی جے پی بنگلہ دیشی دراندازوں کے معاملے پر اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ چلے گی ؟ کدھر وزیر اعظم بیچ میں ہی غیر ملکی دورہ پر جارہے ہیں تو وہ جواب نہیں دیں گے ۔تو پھر یا تو راجناتھ سنگھ یا پھر امت شاہ کو بھی مورچہ سنبھالنا پڑے گا ۔پورے سیشن میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کا رول بھی اہم ہوگا ۔دیکھنا ہوگا کہ یہ اس سیشن میں اپوزیشن کو کتنا ایکومیڈیٹ کرتے ہیں ؟ اگر پچھلے اجلاسوں کو دیکھا جائے تو ان کے رویہ سے زیادہ نرمی کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ویسے سرکار اس وقت چوطرفہ دباو¿ میں ہے ایک طرف اپوزیشن حاوی ہونے کی کوشش کررہا ہے ۔تو دوسری طرف بھاجپا اور این ڈی اے کے اندر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔آر ایس ایس سرسنگ چالک موہن بھاگوت،ڈاکٹر سبرا منیم سوامی اور نتن گڈکری بار بار برننگ اشوز اٹھا رہے ہیں ۔سرکار ہر طرف سے دباو¿ میں ہے ایسے میں یہ مانسون سیشن (اگر چلا) بہت اہم ترین ہو جاتاہے ۔دیکھیں کیا کیا ہوتا ہے ؟ (انل نریندر)

19 جولائی 2025

بہار میں نظرثانی مہم بنی ایک مذاق

بہار میں ووٹر لسٹ (ایس آئی آر) کی خصوصی نظر ثانی میں لاپرواہی، بدنظمی اور گڑبڑ کے واقعات اب منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اب یہ ساری مشق ایک مذاق بن گئی ہے۔ اس مہم میں کئی سطحوں پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں۔ صحافیوں سے لے کر اپوزیشن جماعتوں تک سبھی نے ان بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھاسکر کی زمینی جانچ میں بی ایل او کھیتوں میں بیٹھ کر فارم بھرتے ہوئے پائے گئے اور کچھ جگہوں پر وہ واٹس ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ مانگ رہے تھے۔ پٹنہ میں دو طرح کے فارم بہت سے ووٹروں کے گھر پہنچے۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور بی ایل او مختلف فارم دے رہے ہیں۔ اعترافی فارم نہیں دیے گئے ، حالانکہ قواعد کے مطابق یہ ضروری ہے۔ دوسری طرف، تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، جو این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے، نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر سے متعلق کئی سوالات پوچھے ہیں۔ ٹی ڈی پی کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور اس میں شمولیت کے تصور کی حمایت کی کہ ووٹر پہلے سے ہی تازہ ترین تصدیق شدہ ووٹر لسٹ میں درج ہیں۔ انہیں اپنی اہلیت کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ جب تک کہ مخصوص اور قابل تصدیق وجوہات درج نہ کی جائیں۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، اس نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں کسی شخص کا نام شامل کرنے سے اس کی درستگی کا اندازہ ہوتا ہے اور نام ہٹانے سے پہلے اس کی درست جانچ کی جانی چاہیے۔ ٹی ڈی پی نے کہا کہ ثبوت کا بوجھ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا اعتراض کرنے والے پر ہے۔ ووٹر پر نہیں، خاص طور پر جب نام سرکاری فہرست میں موجود ہو۔ ٹی ڈی پی کے اس وفد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے ملاقات کی۔ دریں اثنا، الیکشن کمیشن نے بدھ کو کہا کہ بہار میں 7.9 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 6.85 فیصد نے ابھی تک اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم نہیں بھرے ہیں۔ یعنی کمیشن نے آخری تاریخ سے نو دن پہلے 93 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔ دوسری جانب انڈیا الائنس میں شامل جماعتوں کے رہنماو¿ں راہل گاندھی، ممتا بنرجی اور تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ آسام کے گوہاٹی میں کانگریس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت ہے۔ یہ اس حقیقت سے ثابت ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے چار ماہ بعد ہوئے اسمبلی انتخابات میں تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا اور بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر بھی الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی فہرست اور پولنگ اسٹیشنز کی ویڈیو گرافی دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی طرح اب بہار میں بھی الیکشن چرانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ بہار میں ووٹر لسٹ سے غریبوں، مزدوروں اور کانگریس-آر جے ڈی کے حامیوں کے نام ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کھلے عام بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، بی جے پی ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا شروع کر دیتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے بہار میں 30.5 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے مہاراشٹر، ہریانہ اور دہلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اسی منصوبہ کو بہار اور بنگال کے لیے نافذ کر رہے ہیں۔ اسی طرح راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر تیجسوی یادو نے ایکس پر لکھا کہ بہار میں کل 7 کروڑ 90 لاکھ ووٹر ہیں۔ سوچیں، اگر بی جے پی کی ہدایت پر ایک فیصد ووٹروں کو بھی ہٹا دیا جائے تو تقریباً 7 لاکھ 90 ہزار ووٹروں کے نام کٹ جائیں گے۔ یہاں ہم نے صرف ایک فیصد کی بات کی ہے جبکہ ان کی نیت اس سے بھی زیادہ ہے، چار پانچ فیصد۔ اس کے مطابق ہر اسمبلی میں 3200 سے زائد ووٹروں کے نام کاٹے جائیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں ووٹ بڑھے تھے، اس بار کم کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی نے کہا، اگر ہم گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں جیت کے کم مارجن والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں والی کل 15 سیٹیں تھیں، جب کہ 2020 میں یہ 35 سیٹیں ہو گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر ایسے سنگین الزامات لگنا شروع ہو جائیں تو اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگنا فطری امر ہے۔الیکشن کمیشن پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب سپریم کورٹ نے وقت کی کمی اور نظرثانی کے عمل کی درستگی پر سوال اٹھائے اور اگلی سماعت کی تاریخ 28 جولائی مقرر کی ہے۔آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ اسے درست کرے، اس میں ترمیم کرے، غلط حکم کو واپس لے۔ -انل نریندر

17 جولائی 2025

اقتدار کےلئے لمبی کھینچی گئی غزہ جنگ !

اسرائیل میں سب سے زیادہ وقت اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ بنجامن نیتن یاہو کے نام ہے ۔وہ 17 سال 9 مہینے سے اسرائیل کے وزیراعظم ہیں ۔دسمبر 2022 کے بعد نیتن یاہو کے تیسرے عہد کے تیس ماہ میں سے اکیس ماہ تک اسرائیل جنگ میں گھرا رہا۔نیویارک ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے گھٹتی مقبولیت اور کرپشن کے الزامات سے اور عدالتوں میں چل رہی ان کے خلاف کرپشن کے مقدموں سے بچنے و توجہ ہٹانے کے لئے غزہ جنگ کو لمبا کھینچا گیا ۔الزام ہے کہ انہوں نے قطر کے ذریعے حماس کی باقاعدہ فنڈنگ بھی کی تھی ۔جانیے کیسے نیتن یاہو نے پی ایم کے عہدے پر بنے رہنے اور اپنے فائدے کے لئے باقاعدہ جنگ کا استعمال کیا ۔نیتن یا ہو نے خفیہ جانکاری کو نظر انداز کیا جس سے حماس مضبوط ہوا اور اسے تیاریوںکا موقع ملا ۔بنجامن نیتن یاہو 2020 سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔جس سے ان کی سیاسی پکڑ کمزور ہوئی اور اقتدار میںبنے رہنے کے لئے ساو¿تھ پنتھی اور علیحدگی پسند پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔نیتن یاہو نے قطر کے ذریعے سے غزہ کو اقتصادی مدد دینے کی پالیسی اپنائی جسے وہ امن خریدنے کا طریقہ مانتے تھے ۔لیکن اس سے حماس کو فوجی تیاریوں کے لئے وسائل جمع کرنے کا موقع مل گیا ۔جولائی 2023فوجی خفیہ یونٹ نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی عدلیہ اصلاح ٹیم نے دیش کو کمزور کر دیا ہے ۔جس سے حماس ،حزب اللہ اور ایران کو حملے کا موقع مل سکتا ہے ۔سنبیٹ شون نے حکمت عملی جنگ کی وارننگ دی لیکن نیتن یاہو نے اسے مسترد کردیا اور مظاہرین کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ۔اس سے حماس کو فائدہ ملا ۔نتین یاہو کا دہرا کھیل علاقائیت کے لئے جنگ کا اعلان ،ناکامی کا ٹھیکرا فوج اور ایجنسیوں کے سرپر پھوڑ دیا ۔7اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے نے اسرائیل کو چونکا دیا ۔حملے میں 1195 اسرائیلی شہری مارے گئے ۔اور 25 کا اغوا کیا گیا اس کے بعد بنجامن نیتن یاہو نے حماس لیڈر شپ کو ختم کرنے کے احکامات دیے ۔خفیہ ناکامی کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے انہوں نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دارامانا ۔ان کی پہلی حکمت عملی تھی فوجی کاروائی کو تیز کرنا ۔جس میں غزہ پر وسیع پیمانہ پر حملے شامل تھے ۔درمیانی مارگی بینی گینٹس اور گادی اور جین کورٹ کو سرکار نے شامل کیا ۔اس قدم نے اتحادی سرکار کو مضبوطی دی اور جنگ کو لمبا کھینچنے کی ان کی حکمت عملی کی حمایت کی ۔پی ایم نے دہرا کھیل کھیلتے ہوئے حماس حملے کے لئے کھلے طور پر دعویٰ کیا کہ انہیں حماس کے ارادوں کے بارے میں کوئی وارننگ نہیں ملی تھی جس سے ان کی ساکھ کو بچانے کی کوشش کی ۔نیتن یاہو نے اپنی سیاسی ساکھ کو چمکانے اوراقتدار میں بنے رہنے کے لئے جنگ کا استعمال کیا ۔ستمبر 2024 میں یرغمالوں کے قتل کے بعد احتجاجی مظاہرے بڑھے ان کے ترجمان نے ایک حماس دستاویز کو جرمن اخبار ورلڈ میں لیگ کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا مظاہرین حماس کے ایجنڈے کوبڑھاوا دے رہے تھے اور اس حکمت عملی نے جنتا کی توجہ جنگ بندی کی مانگ سے ہٹاکر حماس کے خلاف اتحاد اور حزب اللہ وایران کے خلاف فوجی کامیابیوں نے نیتن یاہو کی مقبولیت بڑھا دی ۔حماس نیتا یحیٰ سنوار اور حزب اللہ چیف نصر اللہ کی موت او رلبنان پر واکی ٹاکی حملے اور ایران پر نیوکلیائی پلانٹ پر حملے نے نیتن یا ہو کی پوزیشن کو اور مضبوط کیا ۔اپریل 2024 میں نیتن یاہو نے جنگ بندی اسکیم کو منظوری دی ۔جس سے ستر سے زیادہ اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی اور سعودی عرب کے ساتھ امن سمجھوتہ کا امکان شامل تھا ۔کابینہ میٹنگ میں کٹر ساو¿تھ پنتھی اور وزیر مالیات ایموٹرتھ نے دھمکی دی کہ اگر یہ اسکیم آگے بڑھی تو سرکار گر جائے گی ۔نیتن یاہو نے فوراً اقتدار کو ترجیح دیتے ہوئے اس اسکیم کو منسوخ کردیا ۔جولائی 2024 میں ایک اور جنگ بندی معاہدے کے قریب تھا لیکن نیشنل سیکورٹی وزیر بین گروٹ کے دباو¿ نے نیتن یاہو نے غزہ ،مصر سرحد پر نئی شرطیں جوڑ دیں جس سے بات فیل ہو گئی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو¿ میں نیتن یاہو نے جنوری 2025 میں غزہ جنگ بندی لاگو تو کیا لیکن اپنااقتدار بچانے کے لئے معاہدہ بیچ میں ہی توڑ دیا ۔الٹرا آرتھو ڈکس کے ممبران پارلیمنٹ کے احتجاج جس کی شرط تھی کہ غزہ میں بمباری جاری رہے ۔18 مارچ کو حملے شروع ہوئے اور 19 کو اتحاد بحال ہوا اور بجٹ پاس ہو گیا ۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لئے منا لیا ۔ٹرمپ نے فوجی ایکشن کی حمایت کی اور اسرائیل کا ساتھ دے کر ایران کے نیوکلیائی اڈوں پر زبردست بمباری کی تھی ۔اسی کے بعد نتین یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ۔صاف ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے اپنااقتدار بچانے کے لئے غزہ جنگ جاری رکھی ہے ۔تیس ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں جن میں 20 ہزار بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ۔اقتدار کی خاطر یہ تاناشاہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔اوپر والا سب دیکھ رہا ہے ۔اور صحیح وقت پر ان کے کوکرموں کی سزا دے گا ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...