Translater

29 اپریل 2025

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا!

حالانکہ جموں کشمیر کئی دہائیوں سے دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس کا اثر مقامی آبادی پر بھی پڑتا ہے ۔کہا یہ بھی جاتا ہے کے کچھ مقامی کشمیریوں کو بھی ان سڑک پار سے آئے دہشت گردوں کی پوشیدہ حمایت ہے۔شاید یہی سمجھ کر پاکستان نے پہل گام کے سیاحتی مقام بیسرن پر حملہ کروایا دہشت گردوں کے آقاﺅ نے سوچا ہوگا کے بیسرن میں چن چن کر مذہبی شناخت پر بے قصور لوگوں کو مارا جائے تو اس سے بھارت کے اندر ہندو مسلم ٹکراﺅ بڑھےگا اور بھارت میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور بٹ جائے گا لیکن ہوا اس کے الٹا ۔سارا دیش متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہو گیا ۔تمام سیاسی پارٹیوں نے سرکار کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔اس کا شاید پاکستان نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا ۔وہی بات مذہب کی تو پاکستان کے سامنے جیتی جاگتی مثال آدل حسین شاہ کی ہے اس نے بیسرن میں جب دہشت گردوں نے بے قصور سیاحوں پر حملہ کیا تو آدل حسین ایک دہشت گرد سے بھڑ گیا پہلے تو اس نے اس دہشت گرد سے کہا کے وہ بے قصور سیاحوں پر حملہ کرےں یہ ہماری روزی روٹی کا ذریعہ ہے ہمارے مہمان ہیں لیکن جب وہ آتنکی نہیں مانا تو آدل نے اس سے ٹکر لے لی اور اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔اس لڑائی میں دہشت گرد نے گولی چلا دی اور آدل حسین کے جسم کو چھلی کر ڈالا۔آدل حسین شاہ گریب خاندان اور بہادر لڑکا تھا ۔اس نے درجنوں ہندوﺅ کی جان بچائی تو اگر وہ نہ ان سے ٹکراتا تو پتا نہیں کتنے لوگ اور شہید ہو جاتے۔آدل ایک مسلمان تھا جس نے درجنوں ہندوﺅ کو بچایا اور کشمیرت کی لاج رکھی ۔پوری کشمیر وادی میں اس بے رہمانہ قتل عام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر اتر آئے اور ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کے جب مقامی کشمیری دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پر اترے ہوں ۔آتنکی حملہ کی مخالفت میں جموں کشمیر میں ریاست کے مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اپنا غصہ جتایا اور پاکستان کے خلاف نارے بازی کی پورے دیش میں مسلمانوں نے اس حملہ کے احتجاج میں مظاہرے کئے ۔سنبھل ،سہارن پور ،بریلی ،ہاپوڑ ،بلند شہر سمیت یوپی کے ضلعوں میں مسلمانوں نے دہشت گردی کی واردات پر مذمت کی اور پاکستان کے خلاف نارے باری لگائی اور سخت کارروائی کی مانگ کی ۔کشمیر کے پہل گام شہر میں بیسرن میں آتنکی حملہ میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی تھی جن میں زیادہ تر سیاحہ تھے ۔سنبھل جیسے حساس ضلع کی کئی مساجد میں جمعہ کی نمازادا کرنے کےلئے کالی پٹیا باندھ کر پہنچے اور پاکستان کے خلاف نمازی شاہی جامع مسجد میں نماز پڑھ کر نکلے شاکر حسین نے کہا کے یہ جن غیر مسلح لوگوں کے ساتھ زلم ہوا اور ہماری بہنوں کا سہاگ اجاڑ دیا گیا ۔بے حد کی دکھ کی بات ہے میری سرکار سے گزارش ہے کے ان دہشت گردوں کو ایسا سبق ملے کی آنی والی نسلے بھی یاد رکھے ۔ادھر دہلی میں بازار بند رہے ان میں کناٹ پلیس ،صدر بازار،چاندنی چوک،جیسے دہلی کے مشہور شاپنگ ہب سمیت 900 سے زیادہ بازار جمعہ کو ویران نظر آئے ۔کیوں کے تاجروں نے پہل گام آتنکی حملے کے خلاف دہلی بند کا اعلان کیا تھا ۔کپڑا ،مسالے ،برتن،صرافہ بازار کے مختلف تاجروں کی انجمنوں نے بھی دکانیں بند رکھیں ۔دہلی میں 8 لاکھ سے زیادہ دکانیں بند رہیں ۔اس کے نتیجہ میں دن بھر میں 1500 کروڑ روپے کا تجارتی گھاٹا ہوا ۔جموں کشمیر میں ایسے الزام بھی سامنے آئے کے وہاں دہشت گردی کے حملے کے خلاف عام طور پر احتجاج سخت نہیں نظر آتا مگرپہل گام میں آتنکی نے بربریت کی کی ساری حدیں پار کی دیں اور جس طرح 26 سیاحوں کو مار ڈالا اس کے بعد کشمیری عوام کا غصہ بنا ہواہے ۔خاص کر اننت ناگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو دہشت گردوں کا گڑمانا جاتا ہے ۔وہاں رہنے والوں میں اس واردات کے خلاف جیسا غصہ سامنے آیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کے کشمیری عوام نے اس حملہ کو لیکر کتنا غصہ ہے ۔پوری کشمیر وادی میں اس حملہ پر مقامی آبادی کے درمیان از خود احتجاج ہوا اور وسیع پیمانے پر لوگوں نے اس واردات کی مزمت کی ،مظاہرہ کیا اور آپسی بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ۔جیسا کے میں نے کہا کے ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ (انل نریندر)

26 اپریل 2025

پہلگام میں حملہ : سوال تو پوچھے جائیں گے!

بے سرن ہی کیوں نشانہ بنا؟ دہشت گردوں کا پنا ہ کار کون ہے ؟ ایسے سوال آج پورا دیش پوچھ رہا ہے ۔یہ کوئی چھوٹا موٹا حملہ نہیں تھا جموں وکشمیر میں 2019 میں پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد منگلوار کو پہلگام میں سیاحوں پر ہوا حملہ سب سے بڑا آتنکی حملہ ہے۔پلوامہ میں 14 فروری 2019 کو جیش محمد کے ایک فدائی حملہ آور نے سی آر پی ایف کے قافلے پر دھماکوں سامان سے بھری گاڑی پر حملہ کیا تھا ۔اس حملے میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے ۔آج تک اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں ملا کہ دھماکو شہ سے بھری آتنکی اپنی گاڑی سی آر پی ایف کے قافلے میں لیکر کیسے گھسا ۔خیر آج بات کرتے ہیں بیسرن کے آتنکی حملے کی اس نے ہر ہندوستانی کا کلیجہ چیر کر رکھ دیا ہے۔ کسی کا سہاگ اجڑا تو کسی کی گود،کسی کے کمانے والے نے دم توڑا تو کسی کا بھائی اب کبھی بھی لوٹ کر گھر نہیں آئے گا ۔دہشت گردی نے ایک بار پھر سے زمین کی جنت پر خون کی ہولی کھیلی ہے جس نے نہ صرف انسانیت کو شرمسارکیا بلکہ کشمیریوں کی کمر بھی توڑ کر رکھ دی ہے ۔اس بار نہ تو دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے کا انتظار کیا اور نا ہی کسی سنسان جگہ کو نشانہ بنایا۔ اس بار انہوں نے بھری دوپہر میں پہلگام کے بیسرن کے مونا جسے منی سوئزر لینڈ کہا جاتا ہے ۔آتنکی حملے نے کئی سوال کھڑے کئے ہیں ۔اب تک جو بیسرن پیار ،محبت کے لئے جاناجاتا تھا و ہ اب ڈر وخوف ،موت ودہشت کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔پہلا سوال بیسرن وادی کو دہشت گردوں نے نشانہ کیوں بنایا ؟ سیاحوں کے لئے یہ وادی کافی محفوظ مانی جاتی رہی ہے اس لئے پہلگام کے مقابلے میں چند سینا اور پولیس کی تعیناتی نہیں ہوتی کیا اس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا ؟ کیا یہ آتنکی بیسرن ویلی میں کافی دن سے رکے ہوئے تھے ؟ جس طرح سے دہشت گردوں نے اس واردات کو انجام دیا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سب کچھ پلان کے تحت کیا گیا ہے ۔اس کا مطلب تو وہ کافی وقت سے پہلگام یا بیسرن کے آس پاس چھپے رہے ہوں گے ؟ کیا مقامی لوگ بھی اس حملے میں شامل ہیں ؟ کیا مقامی لوگوںنے انہیں پناہ دی ہے ؟ آتنکی ایک دن میں ہی بیسرن کیسے پہنچ گئے ۔امرناتھ یاترا سے پہلے کیوں ایسا ماحول بنایا ۔پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنایا؟ آتنکیوں کے پاس اتنے جدید ہتھیار کہاںسے آئے ۔یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب وزیراعظم سعودی عرب میں تھے اور امریکہ کے نائب صدر وینس دہلی میں تو کیا سندیش دینا چاہتے تھے یہ دہشت گرد اور ان کے آقا۔ فوج کے ذمہ داروں نے فوجی ناکامی اور سیکورٹی خامیوں کو اجاگر کیا ہے ۔جیسے جیسے دیش اس خوفناک ٹریجڈی سے نکل رہا ہے ویسے ویسے بھارت کی سیکوڑٹی اور کمزوریوں پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں ۔کرنل آسو توش کالے جنہو ں نے کشمیر میں لمبے عرصہ تک علیحدگی پسندی سے لڑتے ہوئے اور دہشت گردی مخالف کاروائی چلانے اور کئی خامیاں گنائیں ۔پلان بناتے وقت کئی پہلوو¿ں پر غور کیا گیا ۔اس میں مقامی گائیڈ کا استعمال ،حملے کی جگہ کے قریب بیس بنانااور واردات کی جگہ پر بھیڑ جمع ہونے کے موقع کی بنیاد پر حملے کا تجزیہ کرنا شامل ہوسکتا ہے ۔دہشت گردوں کی گھس پیٹھ کے راستوں کے ساتھ ایک باہر نکلنے کے راستے کا بھی پتہ لگایا ہوگا ۔جس کی بنیاد پر بنا پکڑے جانے کا خفیہ راستہ ملتا اور حملے کے بعد وہ جلد ہی سے بھاگ نکلے ۔ایک دیگر افسر نے بتایا کہ یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے ۔حملے کے وقت دو ہزار سے زیادہ پارک میں سیاہ موجود تھے اور ایک بھی سیکورٹی ملازم وہاں موجود نہیں تھا نا آرمی نہ پولیس ۔ایسا کبھی ہوا ؟ کیا ہمارے خفیہ محکمہ کو اس مجوزہ حملے کی کوئی معلومات ملی تھی یا نہیں ؟ اگر نہیں تھی تو یہ بہت بڑی خفیہ ناکامی ہے اور اگر تھی تو بروقت قدم کیوں نہیں اٹھائے گئے ؟ مقامی جگہ کو دیکھتے ہوئے ایک ایسا خطہ جہاں سیاہ اکثر آتے ہیں ۔دہشت گردوں نے جانچ کی ہوگی ۔یہاں صرف پیدل یا گھوڑے سے آیا جاتا ہے ۔سیکورٹی روٹیشن بریک کی پہچان کی ہوگی اور کم چوکسی والے وقت کا فائدہ اٹھایا ۔کیا پاک فوج کے چیف جنرل منیر کی تقریر ایک وارننگ تھی جب انہوں نے بڑی مری میٹنگ میں کہا کہ کشمیر میں ہمارا ہاتھ ہے ۔سرکار کا رخ بالکل صاف ہے کیا یہ ایک وارننگ تھی ؟ پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ بیسرن کوئی سرھدی علاقہ نہیں ہے ۔یہ کم سے کم کشمیر کے بارڈر سے 150 کلو میٹر اندر ہے ۔آتنکی اتنا اندر کیسے محفوظ طریقہ سے گھس آئے ۔یہ واردات سیکورٹی پروٹوکال میں وسیع خامی کو ظاہر کرتی ہے ۔ممکنہ خامیوں میں باقاعدہ نگرانی کی کمی شامل ہے ۔خاص طور سے ذرائع اور کم گشت والے راستوں پر ۔ایک محفوظ ترین خطہ مانا جانے والے علاقہ میں ہتھیاروں سے گھس پیٹھ نہ صرف درپردہ سیکورٹی میں خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطرے کے تجزیہ میں لاپرواہی کو بھی دکھاتا ہے۔اور پوری طرح امن بحال ہونا سمجھ لینا بھی بڑی بھول ظاہر کرتا ہے ۔اس طرح کا آپریشن پیشہ آور مدد کے بنا نہیں کیا جاسکتا ۔پاک فوج اور آئی ایس آئی کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے ۔آخر میں ہم ان شہیدوں کے پریواروں کے تئیں ہمدردی ظاہر کرتے ہیں اور متوفین کو شردھانجلی دیتے ہیں جنہوں نے اپنوں کو کھویاہے ۔اوپر والا انہیں صبر دے اور اس مشکل گھڑی میں اس سے نکلنے میں مدد کرے ۔ (انل نریندر)

24 اپریل 2025

تین مہینے میں ہی ٹرمپ نے تارے دکھا دئے!

امریکہ میں جب سے ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ۔اور ان کا ہر قدم تنازعوں سے گھرا ہے ۔ابھی ہاورڈ یونیورسٹی کی گرانڈ رکنے پر تنازعہ رکا بھی نہیں تھا کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ایک ہزار سے زیادہ دنیا کے طلبا کا ویزا منسوخ کئے جانے کو لیکر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔سنیچر کو ڈونالڈ ٹرمپ کے پالیسیو کے خلاف لاکھوں مظاہرین ایک بار پھر سے سڑکوں پر اتر آئے ان مظاہروں کو ہینڈس آف نیم دیا گیا ہے ۔50 ریاستوں کے ہزاروں طلبا نے اس مظاہرے میں حصہ لیا یہ مظاہرہ شہریوں کے اختیارات اور زندگی گزربسر اور امریکہ جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ مانے جانے والے مثائل کو لیکر ہو رہا ہے ۔اس دوران مظاہرین نے صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاﺅس کا بھی گھیراﺅ کیا ۔50 ریاستوں میں ہوئے مظاہرین نے ٹرمپ پر شہری اور قانونی کی حکمرانی کو کچلنے کا الزام لگایا ۔اس تحریک کو 50501 نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے 50 مظاہرہ ،50 ریاستیں اور آندولن ہے ۔مظاہرے کے دوران طلبا نے وائٹ ہاﺅس کے علاوہ ٹیسلا کے شوروم کا بھی گھیراﺅ کیا ۔مظاہرے کے دوران پوسٹر پر لکھا تھا ،ٹرمپ کو السلوا ڈور جیل میں ڈال دیا جائے ۔ساتھ ہی ٹرمپ کے خلاف شرم کرو جیسے نارے بھی لگائے گئے مظاہرین نے صدر پر سیول آزادی اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کے الزام لگائے ہیں ۔مظاہرہ کر رہے لوگوں کا کہنا تھا ہمارا مقصد ٹرمپ انظامیہ کے تحت بڑھتے اقتدار وادی رویہ سے جمہوریت کو بچانا ہے ۔اسے عدم تشدد کی تحریک بتایا ہے۔اس احتجاجی مظاہرہ میں سیاسی پارٹیوں کے شمولیت کے بارت میں بھی بتایا گیا ہے۔اتنا ہی نہیں مظاہرین نے السلوا دور سے جلع وطن ہونے والے کیلیئر ارتھ گو اور گارسیا کی آزادی کی مانگ کی ہے۔امریکہ کے لوگ ٹرمپ کے پالیسیوں کے خلاف کئی وجوہات سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔اس میں ٹیرف وار اور سرکاری نوکری سمیت کئی اشو شامل ہیں ۔یہ احتجاجی مظاہرے کا دوسرا مرحلہ ہے جب امریکہ عوام پھر سے سڑکوں پر اتر آئی ہے اس سے پہلے 5 اپریل کو ٹرمپ کے خلاف پورے دیش میں مظاہرے ہوئے تھے ان کے پیچھے کون ہے کے جواب میں بتایا جا سکتا ہے کے اس میں لیبر فیڈریشن ،جمہوریت ہامی گروپ ہیں ۔سیول حقوق رضا کاروں اور خواتین حقوق جیسی150 تنظیموں کے ذریعہ یہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔بڑا مظاہرہ جیسے موآن ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے خلاف سرم گرم ہیں۔فنڈنگ معاملہ میں کہا جا رہا ہے کے کرائٹ فنڈنگ ڈونیشن اور بڑے گروپ اپنے اداروں سے مظاہروں کو لا رہے ہیں ۔سین فرانسسکو میں سینکڑوں لوگوںنے بحرولکاہل سمندر کی کنارے سمندری ریت پر مقدمہ چلاﺅ اور ٹرمپ کو ہٹاﺅ نارہ لکھا تھا ۔کوئی راجہ نہیں ہے اس کے ساتھ ایک مظاہری ہاتھ میں لیکر کارڈ چل رہا تھا جس پر لکھا تھا سامراجواد ختم ہو چکا ہے ۔مظاہرے کا انعقاد کرنے والوں کا کہنا ہے کے وہ سیول اور آئینی حقوق کے خلاف ورزیوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔صدر نے تاریکین وطن کو جلع وطن کرکے اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو نوکری سے نکال کر فیڈرل حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سے آئے ہیں انہوںنے ساری دنیا میں اپنی پالیسیوں سے ہلچل مچا دی ہے ۔جس طرح سے انہیں امریکی جنتا نے چتایا تھا امید کی جاتی تھی کے یہ امریکی مفادات اور تجارت کو نئی روح دیں گے انہوںنے نا تو ایسے قدم اٹھائے ہیں جس سے نہ صرف دنیا پریشان ہے بلکہ خود امریکی عوام کو بھی سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ابھی تو انہیں ذمہ داری سنبھالے 3 مہینے ہوئے ہیں اور یہ ہال ہے ۔انہیں اگلے 4 سال برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہونے والا ہے ۔اگر یہ تب تک صدر رہے تو ؟(انل نریندر)

22 اپریل 2025

دھنکڑ کے بیان پر چھڑا گھمسان!

صدر اور گورنر کے ذریعہ بلوں کو منظوری دینے میں 3 مہینے کی وقت میعاد طے کرنے کے معاملے میں نئاب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ کے ذریعہ سپریم کورٹ کی نکتہ چینی کئے جانے کے بعد سیاسی اور قانونی ماہرین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے انہوںنے بڑی عدالت پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کے وہ سپر سنسد نہیں بن سکتی ۔اور بھارت کے صدر جمہوریہ کو ہدایت دینا شروع نہیں کر سکتا ۔نائب صدر نے آئین کے آرٹیکل 142 کو جمہوری طاقتوں کے خلاف نیوکلئر میزائل تک بتا ڈالا ۔یہ آرٹکل سپریم کورٹ کو خاص اختیار دیتا ہے۔جب مکمل انصاف کے لئے کوئی اور راستہ نہیں بچتا تب سپریم کورٹ اس آرٹکل سے مکمل اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔یہ کسی آئینی ادارہ کے خلاف ہتھیار نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایک امید کا دروازہ ہے ۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سنبل نے نائب صدر جمہوریہ دھنکڑ کے ذریعہ دئے گئے بیان پر کہا کے یہ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ نامناسب ہے آج تک کسی چیرمین نے ایسی سیاسی رائے زنی نہیں کی ۔لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیرمین کسی پارٹی کا ترجمان نہیں ہو سکتے ۔اگر ایسا ظاہر ہوتا ہے تو یہ عہدے کے وقار کے خلاف ہے اور عہدے کی ساخ کو ٹھیس پہنچاتا ہے ۔کپل سنبل نے کہا عدلیہ اپنی بات نہیں کہہ سکتی اس لئے جب اگزیکیوٹیو حملہ کرے تو بچاﺅ کرنا چاہئے۔سابق وزیر قانون کپل سبل نے کہا صدر اور گورنر کبینیٹ کے صلاح پر کام کرتے ہیں ۔بل لٹکانہ آئینی اختیار نہیں ہے ۔اگر پارلیمنٹ سے پاس بل راجپتی لٹکاکر بیٹھ جائے تو کیا ہوگا؟کپل سبل نے 24 جون 1975 کا ذکر کرتے ہوئے کہا اندرا گاندھی کا چناﺅ منسوخ کرنے کا فیصلہ ایک جج ،جسٹس کرشنا ائر نے سنایا تھا جس میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا چناﺅ ناجائز قرار دیا گیا تھا انہوںنے کہا کے اندرا گاندھی کے چناﺅ کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا تب صرف ایک جج کرنشا ائر نے فیصلہ سنایا تھا ۔دھنکڑ جی کو یہ منظور تھا لیکن اب دو ججوں کی بنچ کا فیصلہ صحیح نہیں ہے کیوں کے یہ سرکار کے حق میں نہیں ہے ۔ادھر مہیش جیٹھ ملانی نے دھنکڑ کے اس دمدار قدم کی تعریف کرنے کے ساتھ اس کی قانونی تشریح کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ،جہاں کچھ لوگ سرکار کے دو حصوں اگزیکٹیو ،آئین سازیہ کے درمیان رسہ کشی کے بیچ دیش کے دوسرے چیف نائب صدر کے آنے کے جواز پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن بلکل واضح آئینی قصور اور اشارہ کرنا (نائب صدر ایک قانونی ماہر بھی ہیں)کے آئین کے آرٹکل 145 (3 )کے مطابق آئینی تقاضہ کی تشریح سے متعلق سوال پر 5 ججوں کی بنچ کے ذریعہ غور کیا جانا چاہئے اور دو جج صاحبان کی بنچ کا فیصلہ غیر تسلیم تھا یہ یقینی طور سے آئین کی حد بنائے رکھنے کےلئے نائب صدر کے حلف برداری کی ذمہ داری کی تعمیل ہوگی ۔بے شک اپنے دیش میں کئی ایسے بڑے وکیل ہیں جنہیں لگتا ہے کے وہ عدلیہ کو متاثر کر سکتے ہیں ۔عزت معاب جج صاحبان کو زبردست طریقوں سے ٹرول کرکے متاثر کرسکتے ہیں ۔لیکن انہیں سمجھنا چاہئے کے آج کی تاریخ میں اگر جنتا کو انصاف کی کوئی امید بچی ہے تو وہ صرف عدالتوں سے سیاسی سربراہ کیوں کے ایسے وکیلوں کو کوئی زیادہ مضبوتی دینے میں کوشش لگتی ہے اور انصاف کی کوشش اور سیاست کے درمیان دوریاں مٹنے لگتی ہیں ۔صحیح انصاف کے لئے سیاست کو دور رکھان ہوتا ہے ۔تمل ناڈو کے گورنر کا معاملہ ہو یا وقف بورڈ کا دونوں ہی محاظ پر عدالت پر سب کی نگاہیں ٹکی ہیں ۔سیاست کے متاثر ہو بغیر ،ٹرول ،آرمی اور نیتاﺅ کے بیانوں سے متاثر ہو بغیر آئینی کے پس منظر میں ہوا فیصلہ ہی ایسے تنازعوں کا نپٹارا کر سکے گا ۔دیش کے عام شہریوں کے لئے سیاست سے زیادہ انصاف ضروری ہے۔(انل نریندر)

19 اپریل 2025

عازمین حج کا کوٹہ کیون منسوخ کیا !

کئی برس سے حج پر جانے کی حسرت رکھنے والے ایڈووکیٹ فیروز انصاری نے اس سال اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جانے کی سبھی تیاریاں کر لی تھیں ۔انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹوئر آپریٹر کو آٹھ لاکھ روپے بھی جمع کر وا دیے لیکن اب انہیں نہیں معلوم کہ وہ حج پر جاپائیں گے یا نہیں ۔دراصل اس سال سعودی عرب نے بھارت کے پرائیویٹ ٹویئر آپریٹروں کو ملنے والا حج کوٹہ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔حالانکہ بھارت سرکار کی مداخلت کے بعد سعودی عرب حکومت پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے ذریعے حج پرجانے والے دس ہزار لوگوں کو حج ویز ا دینے کے لئے تیار ہو گئی ہے ۔بھارت نے اس سال تقریباً پونے دو لاکھ لوگ حج پر جانے والے تھے ۔حج کمیٹی آف انڈیا اور نجی ٹویئر آپریٹروں کے ذریعے ہندوستانی حج پر جاتے ہیں ۔ان میں سے قریب 1.22 لاکھ افراد حج کمیٹی کے ذریعے جاتے ہیں ۔جبکہ باقی (تقریباً 52500 پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے حج پر جانے والے تھے۔سعودی حکومت نے اس سال پرائیویٹ آپریٹروں کا کوٹہ منسوخ کر دیا ہے ۔بھارت کے وزارت اقلیتی امور نے اس کے لئے پرائیویٹ آپریٹروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔جبکہ آپریٹر اس کے لئے وزارت کی لاپرواہی کو ذمہ دار بتا رہے ہیں ۔دہلی حج کمیٹی کی چیئر پرسن کوثر جہاں کہتی ہیں جو لوگ حج کمیٹی کے ذریعے جانے والے عازمین حج متاثر نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزارت اقلیتی امور کی مداخلت کے بعد سعودی عرب سرکار نے دس ہزار عازمین کا کوٹہ کھولنے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔اس سے حج پر جانے والے لوگوں کو بقدر راحت ضرور ملے گی ۔پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے جانے والے ایک عازمین پر عام طور پر 7.5 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جو حج کمیٹی کے ذریعے جاتے ہیں ان کا خرچ کچھ کم آتا ہے دہلی حج کمیٹی کے مطابق ایک عازمین حج پر قریب تین لاکھ 80 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے ۔حج کے دوران ان عازمین حج کو رہنے اور ان کی آمد ورفت کا انتظام حج کمیٹی ہی کرتی ہے ۔پرائیویٹ ٹویئر آپریٹر بھی کہتے ہیں کہ پرائیویٹ آپریٹروں کے ذڑیعے جانے والے ایک مسافر پر عام طور پر 7.5 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے ۔یہ خرچ بہتر سہولیات لینے کی صورت میں 13 سے 15 لاکھ روپے پہنچ جاتا ہے ۔بھارت سرکار کے اعداد شمار کے مطابق سال 2024 میں بھارت سے قریب 1.40 لاکھ لوگ حج پر گئے تھے۔ سعودی عرب کسی دیش کی آبادی کے لحاظ سے حج پر جانے والے لوگوں کی تعداد مقررکرتا ہے ۔عام طور پر ایک ہزار مسلمانوں پر حج کے لئے ایک سیٹ دی جاتی ہے ۔سعودی عرب کی حکومت کے پرائیویٹ آپریٹروں کا کوٹہ منسوخ کرنے پر پی ڈی پی نیتا اور جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس فیصلے سے دیش بھر کے ٹویئر آپریٹروں اور حج پر جانے والے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے ۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کرکے اس مسئلے کا فوری حل نکالیں ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ52 ہزار ہندوستانی عازمین کا کوٹہ منسوخ ہونا جن میں سے زیادہ تر لوگ پیسہ دے چکے ہیں ۔بے حد پریشان کرنے والا فیصلہ ہے ۔وہیں بھارت کے وزارت اقلیتی امور نے اس کے لئے ٹویئر آپریٹروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ایک بیان میں وزارت نے کہا اقلیتی وزرارت نے حج کمیٹی کے ذریعے خاص کوٹہ کے تحت اس سا ل 122518 عازمین حج کے لئے انتظام کررہا ہے ۔اس میں فلائٹ اور آمد ورفت بھی شامل ہے۔آمدورفت و منیٰ میں کیمپ میں رہنے کا انتظام سمیت سبھی ضروری تیاریاں سعودی عرب کی ہدایت کے حساب سے پوری کر لی گئی ہیں ۔باقی کوٹہ روایتی طور سے پرائیویٹ آپریٹروں کو الاٹ کر دیا گیا تھا۔سعودی عرب کی گائیڈ لائنس میں تبدیلی کی وجہ سے وزرات نے 800 پرائیویٹ آپریٹروںکو 26 وائنڈ حج گروپ آپریٹروں (سی این جی او ) میں ملا دیا گیا تھا۔اور انہیں کافی پہلے ہی کوٹہ بھی الاٹ کر دیا گیا تھا۔حالانکہ کئی بار یاد دلانے کے باوجود سی این جی او سعودی عرب کی طرف سے مقررگائیڈ لائنس اور تفصیلات کو پوری نہیں کر پائے اورمنیٰ میں کیمپوں میں رہنے کی جگہ اور ٹرانسپورٹ کے لئے ضروری ٹھیکے پورے بھی کر پائے ۔سعودی عرب سرکار نے وقت پر ادائیگی نا ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ آپریٹروں کے کوٹے کو منسوخ کر دیا ہے ۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ٹویئر آپریٹر نے بتایا کہ آپریٹروںنے وزارت میں پیسہ جمع کر ا دیا تھا اور انہیں لگ رہا تھا کہ وزارت ادائیگی کا انتظام کررہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس نوٹس میں واضح ہے کہ وزارت پیسہ اداکررہا ہے اور سعودی عرب کو پیمنٹ مل چکا ہے تو پھر جانے کیوں کوٹہ منسوخ کررہا ہے ۔منیٰ میں عازمین حج کے لئے زون بک کرنے کے لئے سعودی عرب نے پیمنٹ کی میعاد حد 14 فروری طے کر دی تھی یہ وقت پورا ہونے کے بعدہی کوٹہ منسوخ کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

17 اپریل 2025

راشٹرپتی تین مہینے میں فیصلہ لیں!

ریاستی اسمبلیوں کے ذریعہ پاس بلوں پر رضا مندی روکنے میں گورنر کے ضمیر پر حدود طے کرنے والے اپنے 8 اپریل کے حکم کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی قانون کو بے میعاد کےلئے ملتوی کرنے کے صدر جمہوریہ کے اختیارات پر بھی روک لگا دی ہے ۔اس فیصلہ کا ہندوستانی سیاست پر سنگین اثر پڑنا طے ہے ۔خاص کر ہندوستان کے فیڈرل ڈھانچے میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان توازن بہال کرنے میں یہ ریاستوں کے اختیارات کے حق میں ایک بہت ہی نتیجہ کن اور ریاستوں کی دور اندوزی سے قابل خیر مقدم فیصلہ مانا جائے گا ۔خاص کر ان اپوزیشن حکمراءریاستوں میں جہاں مرکز کی جانب سے اس بیجا استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کی ناتو گورنر اور نہ ہی صدر جمہوریہ کے پاس ریاستی اسمبلیوں کے ذریعہ پاس کسی بھی بل پر مکمل طور پر ویٹو کا استعمال کرنے کے بے کنٹرول اختیارات ہیں ۔اس نے گورنر کے لئے ایک مہینے کی میعاد حد کے بعد صدر کے کسی بل پر میٹنگ کے اختیار پر تین مہینے کی وقت میعاد طے کی تھی ۔عدم اتفاقی ہے تو اسمبلی کے ذریعہ گورنر کو لوٹائے گئے بلوں پر کارروائی کے لئے خانہ پوری اور وقت میعاد بھی طے کر دی گئی ہے ۔فیصلہ میں صاف کہا گیا ہے کے آئین کے آٹرکل 201 کے تحت اپنے کاموں کو نپٹانے میں صدر کو کوئی پاکٹ ویٹو یا مکمل ویٹو کا حق نہیں ہے ۔اپنے 415 صفحات کے فیصلہ میں جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون نے یہ دور رس فیصلہ کیا ہے۔فیصلہ سے صاف ہے کے آئین کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کے ایک چنی ہوئی حکومت اور لوگوں کی تمناﺅں کا احترام نہ کیا جائے۔یہ عوامی جمہوریت اور سرداری کا ایک بنیادی اشو ہے جس پر آئین کے ذریعہ ست سیاسی نظام کا قیام کیا گیا ہے ۔جہاں تمام اپوزیشن اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہی ہے وہیں زرائع کا کہنا ہے کے وہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو لیکر مرکزی حکومت نظر ثانی عرضی داخل کرنے کی تیاری میں ہے۔سرکار کا خیال ہے کے صدر جمہوریہ اور گورنر جیسے آئینی عہدوں کے لئے میعاد حد مقرر کرنا عدلیہ کی حد سے باہر جا سکتا ہے۔سپریم عدالت کے اس فیصلہ پر قانون ماہرین کے بیچ بحث چھڑ گئی ہے اور وہ مستقبل کے آئینی بحران کو لیکر شش وپنج میں ہے۔کچھ ماہرین قانون کا خیال ہے کے جب گورنروں کے فیصلہ پر صدر کا کوئی رول نہیں ہے تو ان کو پارٹی کیوں بنایاگیا ؟آئینی اور قانونی ماہرین کے درمیان اس مثلے کر لیکر بحث چھڑ گئی ہے ۔کیا سپریم کورٹ اصل میں بھارت کے راشٹر پتی کو آدیش دے سکتا ہے ؟یہ سوال اس لئے بھی اہم ترین ہو گیا کیوں کے یہ شاید پہلی بار ہے جب عدلیہ نے سیدھے طور پر صدر جمہوریہ کو وقت میعاد طے کرنے سے متعلق ہدائت دی ہے۔کورٹ کو یہ مداخلت اس لئے کرنی پڑی کیونکہ گورنر اپنی آئینی حدود کو پار نہ کریں ۔ ان کا کہنا ہے یہ فیصلہ ایک طرح سے ڈسپلن پر مبنی قدم ہے جس سے دیگر گورنروں کو بھی ایک واضح پیغام ملے گاکے وی آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کام کریں ۔یہ دلیل دی جا رہی ہے کے صدر جمہوریہ کوئی ایک عام سرکاری عہدے دار نہیں ہے بلکہ وہ دیش کا سربراہ ہے۔آئین کا سرپرست اور مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔وہ وزیراعظم اور کبینیٹ کی سفارش اور مدد سے کام کرتا ہے ۔اگر کورٹ صدر جمہوریہ کو کوئی ہدایت دیتی ہے تو اس سے آئینی سسٹم پر سوال کھڑا ہو سکتا ہے،جس میں صدر جمہوریہ صرف ایگزیکٹیو کی صلاح پر کام کرتے ہیں اس سے یہ اندیشہ پر پیدا ہوتا ہے کے کیا کورٹ،منتظمہ ،اور عدلیہ کے درمیان کی لکشمن ریکھا کو پار کر رہی ہے ؟کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے ذریعہ ایک نئے آئینی حالات تو نہیں بنا رہا ہے؟اگر صدر اس ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کیا اسے عدالت کی توحین کا قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟یہ ایک مشکل آئینی سوال ہے ۔دوسری جانب یہ ماننے والوں کی بھی کمی نہیں جو سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہے ہیں ۔اور جمہوریت کو صحیح سمت میں ہدایت دینے میں صحیح قدم مان رہے ہیں ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کے اس فیصلہ سے جنتا میں عدلیہ کی آزادی اور منصفانہ رویہ کے تئیں بھروسہ بڑھے گا دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ؟ (انل نریندر)

15 اپریل 2025

اسکولوں کی بڑھتی فیس!

اسکولوں میں منمانی فیس اضافہ کے خلاف الزام در الزام کا دور جاری ہے۔عام آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے درمیان دہلی حکومت نے پرائیویٹ اسکولوں کے اوڈٹ کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔وہیں وزیر تعلیم اشیش سود نے الزام لگایا ہے کے عام آدمی پارٹی کی سرکار کے دوران گھپلے کے بعد بھی اسکولوں نے فیس بڑھائی تھی۔وزیر تعلیم نے بتایا کے دہلی میں 1677 پرائیویٹ اسکول ہیں ان میں 335 سرکاری زمینوں پر بنے ہوئے ہیں جن کے لئے 1973 کے دہلی اسکول ایکٹ میں یہ قائیدہ ہے کے ریاستی حکومت سے فیس بڑھانے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔114 اسکول ایسے ہیں جن کی فیس بڑھانے کی اجازت لینے کے لئے کوئی ضروریت نہیں ہے ۔الزام لگایا کے دوارکا میں ایک پرائیویٹ اسکول نے گزشتہ 5 سال میں 20 ،13 ،9 ،8 ،7 فیصدی فیس بڑھائی ڈی ایم کاپسہیڑا کی رہنمائی میں اس اسکول کی تفتیش چل رہی ہے۔ عاپ حکومت کے عہد میں ایک اور پرائیویٹ اسکول نے 24-25 میں 36 فیصد فیس بڑھائی انہوںنے کہا ایک پرائیویٹ اسکول نے 15 کروڑ روپے خرچ دکھاکر گھوٹالہ کیا تھا ۔پھر بھی اس اسکول کو 20-23 میں 14 فیصدی فیس بڑھا دی ۔ہر برس 75 اسکولوں کا اوڈٹ ہوا ۔وزیر تعلیم نے بتایا کے اس سال 2024 میں پرائیویٹ اسکول اے کے ایس نے دہلی ہائی کورٹ نے صاف کر دیا تھا کے کسی بھی اسکول کی فیس بڑھانے سے پہلے محکمہ تعلیم سے منظوری لینا ضروری ہے ۔دوارکا کے نامی گرامی اسکول کو لیکر فیس بڑھانے کے معاملے میں جانچ جاری ہے ۔بچوں کے بیان درج کئے جا چکے ہیں ۔والدین کا الزام ہے کے غیر منظور فیس کی ادائیگی نہ کرنے پر تقریباً20 طلبا کو لائبریری میں بیٹھاکر نفسیاتی طور پر اذیت دی گئی ۔والدین نے کہا کے آخر یہ کب تک چلے گا ۔اسکول کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہئے۔بڑھی ہوئی فیس کے خلاف احتجاج میں والدین کا الگ الگ اسکولوں کے باہر مظاہرے جاری ہیں۔دوارکا کے ایک نامی اسکول کے باہر بھی فیس اضافہ کے خلاف مظاہرہ جاری ہے ۔وہیں بڑھی فیس کی مخالفت کرنے پر والدین کو اب قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں ۔اس میں اسکول کو بدنام کرنے کا الزام لگائے گئے ہیں ۔ایک اسکول کی انجمن کے عہدے دار نے بتایا کے فیس کے خلاف آواز اٹھانے پر 2 کروڑ روپے سے زیادہ قانونی نوٹس ملا ہے۔لیکن ہم ڈرےگے نہیں ۔اور انجمن کا احتجاج جاری رہے گا۔فیس اضافہ کا معاملہ صرف دہلی این سی آر تک ہی محدود نہیں ہے ۔دیش بھر کے پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اضافہ کا اشو اٹھا ہوا ہے ۔لوکل وہیلس (ایک ریسرچ انجمن)کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں 36 فیصد والدین نے بتایا کے پچھلے 3 برسوں نے ان کے بچوں کی اسکول فیس 80 فیصد تک بڑھائی گئی وہیں 8 فیصد نے بتایا کے اسکول فیس میں اس بھی زیادہ کا اضافہ ہوا ہے ۔یہ اضافی بغیر کسی واضح وجہ کی کیا گیا ۔وہیں 93 فیصد والدین کا کہنا تھا کے ان کی ریاستی حکومتیں اس اضافہ کو روکنے میں بری طرح ناقام رہی ہیں ۔سروے میں 309 ضلعوں میں 31 ہزار سے زیادہ والدین نے اپنی رائے رکھی ان میں سے 62 فیصد مرد اور 38 فیصد خواتین تھی۔رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کے کئی پیرنٹس اسکولوں کے فیس بڑھانے کے جواز پر بھی سوال کھڑے کر رہے ہیں ۔اے آئی پر مبنی ہوم لرننگ متابادل پر بھی غور کر ہے ہیں ۔یہ بھی تشویش بتائی جا رہی ہے کے اہم اور دیگر آمدنی والے طبقہ کے خاندان قرض لیکر بچوں کو پڑھا رہے ہیں ۔ہمیں اس بات کی خوشی ہے کے دہلی سرکار اور خاص کروزیر تعلیم آشیش سود نے اس برننگ اشو پر توجہ دی ہے ۔بڑھتی مہنگائی کے اس دور میں والدین کے لئے اپنی بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لئے کتنی مشکل جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ہم سمجھ سکتے ہیں کے قرضہ لیکر ،اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم ملے اس کے لئے ان سے ہمیں ہم دردی اور ہم امید کرتے ہیں کے انہیں جلد راحت ملے گی۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...