Translater

06 اکتوبر 2020

ہاتھرس کانڈ ،وومینس سکورٹی پر سرکار کی ساکھ پر بٹا!

بہار اسمبلی چناو¿ سے پہلے ہاتھرس اجتماعی بدفعلی معاملے نے بھاجپا کی بے چینی جہاں بڑھا دی ہے وہیں اپوزیشن کو چناو¿ سے پہلے ایک بڑا اشو ہاتھ لگ گیا ہے اپوزیشن اسے اتر پردیش سے لے کر دیش تک بڑا اشو بنانے کی کوشش میں ہے اس کا ارادہ یوگی سے لیکر مودی سرکار کو اس معاملے میں گھیرنا ہے ۔دراصل حالیہ برسوں کا ٹرینڈ دیکھیں تو وومینس سکیورٹی یا ریپ جیسے اشو پر سب سے زیادہ عوامی تحریکیں چلی ہیں پچھلے تین برسوں میں الگ الگ ریاستوں میں درجن بھر بڑے آندولن ہو چکے ہیں جس کا سیاسی اثر بھی صاف دیکھنے کو ملا یہی وجہ ہے کہ ہاتھرس کے بعد اپوزیشن جارحانہ طور سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے ۔تو حکمراں بھاجپا نے حالات کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ڈیمج کنٹرول موڈ میں ہے ۔جہاںبھی ریپ کے خلاف تحریکیں چلی ہیں وہاں کی سرکارو ں کو دباو¿ میں آنا ہی پڑا ہے ۔بھاجپا کو ڈر ہے کہ ہاتھرس کا معاملہ چار سال پہلے حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کی طالبہ روہت ویمولہ کی خودکشی معاملے کی طرح یہ بھی طول نا پکڑ لے لہذا متاثرہ کی موت کے بعد اب پی ایم مودی نے یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔روہت ویمولہ کی طرح خودکشی کے معاملے کو سنبھالنے میں مودی سرکار اور بھاجپا کے ہاتھ پھول گئے تھے ۔دراصل ہاتھرس معاملے میں پولیس کی غیر انسانی حرکت اور سنگین لاپرواہی نظرآرہی ہے ۔متاثرہ کے رشتہ داروں سے بدتمیزی کرنے آدھی رات کو لڑکی کا انتم سنسکار ،دس دن بعد ملزمان کے خلاف آبروریزی کی دفعات لگانے کا معاملہ میڈیا اور شوشل میڈیا میں طول پکڑتا جارہا ہے ۔ناراضگی کی آگ آہستہ آہستہ بہار تک پہونچ گئی ہے ۔یہاں دلتوں کی آبادی 16فیصدی ہے ۔بھاجپا کو چنتا ہے ریاست کی دلت آبادی لوک سبھا اور اسمبلی کی کئی انتخابات میں این ڈی اے کے ساتھ کھڑی رہی ہے ۔حالانکہ اس معاملے نے اگر طول پکڑا تو اس طبقہ میں پھیلی ناراضگی کا اثر بھاجپا پر بھاری پڑ سکتا ہے ۔پارٹی کے سینئیر لیڈر کے مطابق دلت انجمنوں نے قومی سطح پر ایکتا رہی ہے یہ ہی وجہ ہے ویمولہ معاملے میں پارٹی کی بے حد مشقت کرنی پڑی تھی ۔دراصل قانون و نظام کے سوال پر مرکزی سرکار یوپی کو لیکر فکر مند رہی ہے خاص طور پر ممبرا سمبلی کلدیپ سینگر اور سابق مرکزی وزیر چنمیا آنند کے سبب ریاستی حکومت مخالفین کے نشانہ پر رہے ہیں ۔ریاست میں 2022میں اسمبلی چناو¿ ہیں اگر این سی آر کے اعداد شمار کے مطابق مہیلاو¿ں اور دلتوں کے خلاف یوپی دیش میں سب سے آگے ہے ۔اور مہیلاو¿ں کے خلاف کل جرائم میں اکیلے یو پی اے کی حصہ داری پندرہ فیصدی تھی ۔دیش بھر میں کل 405861جرائم ہوئے ان میں اکیلے 59853یوپی کے ہیں ۔یعنی دیش میں سال میں عورتوں کے خلاف جرائم کی وارداتوں میں 7.3فیصدی کا اضافہ ہوا ہے ۔وہیں یوپی میں اکیلے 14.7فیصدی اضافہ ہواہے ۔ہاتھر س معاملے میں بی جے پی اب پوری طرح ڈیمج کنٹرول میں آچکی ہے اگر دلت بہت زیادہ ناراض ہو گئے تو اس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

04 اکتوبر 2020

محبت میں جسم کی سپردگی آبروریزی نہیں!

محبت میں پریمی کو سپرد جسم آبرو ریزی نہیں ہے ۔محبو ب و محبوبہ کے درمیان زندگی بھر ساتھ رہنے کا وعدہ ایک قدرتی عمل ہے ۔برسوں کا پیار اگر شادی میں تبدیل نہیں ہوتا تو یہ قطعی ریپ نہیں ہے ۔شادی کا وعدہ کرکے شادی سے مکر جانے کے سبب 21سال سے آبرو رزیزی کا الزام جھیل رہے پریمی کو سپریم کورٹ نے 7سال کی سزا سے آزاد کر دیا ۔جسٹس روہنٹن اور نیرج نویل سنہا اور اندرا بینرجی کی بنچ نے کہا شادی کا جھونٹا وعدہ کرکے جسمانی رشتے نبھانے پر آبرو رویزی کے معاملے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ پریمی کا شروع سے ارادہ جھانسہ دیے کر رشتہ بناناتھا یا نہیں موجودہ معاملے میں بھی نہیں لگتا کہ ملزم مہیشور ٹگانے محبوبہ کو جھانسہ دیا ۔دونوں پڑوسی تھے لیکن ان کے مذہب الگ الگ تھے لڑکی قبائلی تھی جبکہ تگا عیسائی دونوں میں پیار محبت کا رشتہ تقریباً 4برس تک چلا لڑکا اور لڑکی کے رشتہ دار ان کے بیچ قریبی رشتوں سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے لو رشتہ اتنے مضبوط تھے کہ لڑکی اپنے پریمی کے گھر میں تقریباً پندرہ دن تک رہی لڑکا لڑکی کے گھر آتا جاتا تھا شادی سے پہلے ہونے والے رسم ادائیگی بھی ہو چکی تھی لیکن شادی نہیں ہو سکی لڑکے نے کہا کہ اور گھر بسانے کا فیصلہ کیا کہا اس کی شادی ہونے والی تھی شادی سے سات دین پہلے محبوبہ نے پولیس میں ایف آئی آر درج کراد ی سپریم کورٹ نے کہا آئی پی سی کی دفع 90کے تحت یا دھوکہ یا غلط فہمی میں یہ الزام لگایا گیا دونوں میں رضامندی منظوری نہیں مانی جاتی لیکن مسلسل چار سال تک جاری رشتہ بتاتے ہیں کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے رشتہ بنائے اور دونوں کے درمیان لو لیٹرس کی ادلا بدلی ہوتی رہتی تھی ان خطوط کو پڑھنے سے صاف ہے کہ دونوں کے بیچ گہرا پیارتھا انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کا الگ الگ مذہب شادی میں آڑے آئےگا اور وہی ہوا بھی ۔ (انل نریندر)

وہ بولتے ہیں آپ جھوٹے ہیں ،جوکر ہیں ،شٹ اپ مین!

جھوٹا ،باتونی ،چپ رہو،(شٹ اپ)...امریکہ میں صدارتی چناو¿بحث کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور جوائے بیڈن ایک دوسرے کے لئے جس طرح کی زبان کا استعمال کررہے تھے اویو کے کوالیڈنٹ میں گرما گرم بحث کے دوران ناظرین گیلری میں ٹرمپ کی بیوی ملانیہ اور بیٹی کے علاوہ گنتی کے لوگ تھے لیکن پورا امریکہ ٹی وی پر یہ تماشہ دیکھ رہاتھا ۔بیڈن نے کہا کہ آپ امریکی تاریخ کے سب سے بدتر صدر ثابت ہوئے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ ٹرمپ دوسری صدر پوتن کی کٹپتلی کی طرح کام کررہے ہیں ۔ٹرمپ نے جواب دیا لوگ جانتے ہیں میں کیا کررہا ہوں اور اسی وجہ سے ایک بار پھر صدر کے طور پر لوگ مجھے منتخب کرنا چاہتے ہیں ۔90منٹ کی بحث کا انعقاد فوکس نیوز مشہور اینکر کرس والیس کررہے تھے ۔بحث کے دوران بیدن بوالے کہ یہ شرم کی بات ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں کورونا سے دو لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے اور ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس بیماری سے نمٹنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔فروری تک تو ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں تھاکہ یہ کتنی سنگین بیماری ہے وہ دیش کے لوگوں سے سچائی چھپانہ چاہتے تھے ۔ٹرمپ نے کہا جب آپ بھیڑ کے سامنے بات کرتے ہیں تو کیا آپ کو پتہ ہے چین میں کتنے لوگ مرے ہیں اور روس نے بھارت میں کتنی جانیں گئیں ؟یہ دیش میں مرنے والوں کی تعداد صحیح نہیں بتا رہے ہیں ۔میں یہ کہتا ہوں وائرس چین کی وجہ سے پھیلا تو کیا غلط ہے میں نے شاندار کام کیا ہے ۔اب موتیں بھی کافی کم ہیں میری جگہ آپ ہوتے تو دولاکھ نہیں بیس لاکھ لوگ مر چکے ہوتے ۔جوائے بیڈن نے کہا کہ دیش کے لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وبا کے دوران ٹرمپ جیسے عرب پتیوں نے کیسے فائدہ اٹھایا دیش کی معیشت چوپٹ ہو گئی ہے ۔جب تک کورونا کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئے گی ۔ٹرمپ بولے میں نے کب کہا بازار بند رکھو سب کچھ بند کردو اگر آپ ہوتے پورے دیش کو بند کردیتے آپ یہ ہی چاہتے تھے ہم بیماری سے بھی نمٹ رہے ہیں اور معیشت کوبھی سنبھال رہے ہیں ۔بیڈن کا الزام تھا ٹرمپ کے دور میں نسلی تشدد بڑھے ہیں ۔وہ شروع سے ہی نفرت کی سیاست کررہے ہیں ۔انہوں نے سیاہ فام امریکیوں کے لئے کچھ نہیں کیا ۔اس پر ٹرمپ کا جواب تھا کہ آپ ان کی سیاست کیوں کررہے ہیںجوائے بیڈن نے یہ کہتے ہوئے ٹوکا کہ آپ خود نسل وادی ہیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا اوباما کے بعد سب سے زیادہ نسل پرستی کا بٹوارا ہوا ۔آپ کب نائب صدر تھے ان دنوں تو آپ سیاہ فاموں کی بات نہیں کرتے تھے ویسے تو کئی اہم ترین اشوز پر سوال جواب کا سلسلہ چلا ۔میں نے تو کچھ اہم ترین باتوں کا ذکر کیا ہے ۔سی بی سی نیوز کے مطابق ٹرمپ نے بیڈن کو 73بارٹوکا آخر ان کو کہنا پڑا” ول یو شٹ اپ “یہ غیر نظیر ہو رہا ہے ۔بیڈن نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ٹرمپ نے اب تک جو بھی کہا وہ جھونٹ ہے اس پر ٹرمپ نے کہا جھوٹے تو وہ ہیں ۔اگلی بحث میامی میں 15اکتوبر کو ہوگی ۔ (انل نریندر)

پاکستان نارکو ٹورزم میں لگا !

دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کمر ٹوٹنے کے بعد بوکھلائے پاکستان نے ٹیرر فنڈنگ کے لئے نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ تیز کی ہے ۔ پچھلے ایک سال میں جہاں جموں کشمیر میں دہشت گرد سرغنوں کا تیزی سے صفایا ہوا ہے وہیں اس دوران پاکستان سے اسمگل1500کروڑ روپئے کی ہیروئن بھی پکڑی گئی ہے یہ شمار نارکو ٹورزم کا پیمانہ ظاہر کرتے ہیں در اصل جموں کشمیر میں پہلے بھی ڈرگس کی امنگلنگ ہوتی رہی ہے لیکن پچھلے ایک سال میں ڈرگس کے ساتھ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے معاملوں میں اضافہ ہواہے ریاست میں این سی بی ،پولیس،بی ایس ایف فوج وغیرہ نے ملکر پچھلے ایک برس میں ملکر یہ سب سے زیادہ ہیروئن پکڑی ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر ہیروئن کی کھیپ کو بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن سے وابستہ سڑکوں پر پکڑا گیاہے ۔ زیادہ تر معاملوں میں سرحد کے اس پار ڈرگس پہونچنے کے بعد ٹرکوں کے ذریعہ اسے پورے دیش کی ریاستوں میں پہونچایا جارہاتھا اب تک دو درجن سے زیادہ دہشت گرد اور اسمگلرسو سے زیادہ لوگ پکڑے جاچکے ہیں ۔پی او کے سے کشمیر اور پھر اگلے روٹ پر افغان سے لائی گئی اس ہیروئن کو سپلائی کیا جاتاہے ۔اسمگلنگ خاص طور پر پونچھ ،راجوری ،باندی پورہ، بارہمولہ،کپواڑا کی ایل او سی سے اور کٹھوا سے ہوکر لائی جاتی ہےپہلے ہیروئن کو پیک کرتے وقت افغانستان کا مارکہ لگایا جاتا تھا لیکن اب نہیں لگتا اور پیکنگ پر کوڈ ہوتاہے ۔بین الاقوامی بازار میں اس ہیروئن کی قیمت 5کروڑ روپئے ہے ہیروئن سب سے مہنگی ہے ۔ اس کو 2ہزار روپئے میں آدھا گرام بیچا جاتاہے اور اس ہونے والی کمائی کو دہشت گردانہ والی سرگرمیوںمیں لگا یا جاتا ہے اور اس پورے دھندے کو بڑ ی تعداد میں اسمگلر اور آتنکیوں کے گرگے انجام دے رہے ہیں۔ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب گجرات اور دہلی میں این ڈی پی ایس قانون کے تحت قصور وار پائے گئے 872ڈرگس سپلائی کرنے والوں کو قریب 84فیصد نے ماناہے کہ بھارت میں منشیا ت پڑوسی ملکوں خاص کر پاکستان سے آتی ہے ۔ جب کہ 2.52فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے کاروبار کی بات کہی ہے بھار ت میں ڈرگس سپلائی کرنے کا سب سے بڑا آ سا ن پلیٹ فارم پب اور بار ہوتے ہیں ۔ اور اس کے عaلاوہ یہ کمزور طبقوں کے نشیڑیوں کی باز آباد کاری سینٹر اور اسکولوں میں کھلے عام سپلائی کی جاتی ہے اس دھندے میں 1000گنا منافع کماتے ہیں پیڈ لروں نے کہا کہ پرکشش دکھا نے والے گانے نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرتے ہیں 89.36فیصد پیڈلروں نے مانا کہ ڈرگس کو اس کی پبلیسٹی کر کھلانے والی فلموں کی وجہ سے نوجوانوں میں منشیات لینے کا چلن بڑھ رہاہے ۔ (انل نریندر )

02 اکتوبر 2020

بیوی سے مار پیٹ پراسپیشل ڈی جی عہدے سے ہٹائے گئے !

بیوی کو پیٹنے والے مدھیہ پردیش کے سینئر اسپیشل ڈی جی پرشوتم شرما کو ان کے عہدے سے ہٹا کر وزارت داخلہ میں لگا دیا گیاہے شوشل میڈیا پر ان کا ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوا سینئر آئی پی ایس آفسر اپنی بیوی کو زمین پر گراکر بے رحمی سے پٹائی کرتے دکھا ئی دے رہے ہیں افسر کے بیٹے نے اس کی جانکاری وزیر داخلہ ،چیف سیکریٹری ،ڈی جی پی کو دیتے ہوئے والد کے خلاف کاورائی کرنے کی درخواست کی تھی جانکاری کے مطابق ان کی بیوی نے پر شوتم کو ایک دوسری عورت کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا اس بات سے ناراض افسر نے گھر پہونچنے کے بعد بیوی کو پٹائی کرنی شروع کردی ویڈیو میں زمین پر پٹک کر افسر گھونسے مار رہا ہے اس دوران کچھ لوگ بیچ بچاو¿کی کوشش بھی کر رہے ہیں ۔پرشوتم شرماکواسپیشل ڈی جی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا انہیں فی الحال محکمہ داخلہ میں طینات ہونے کے لئے کہا ہے ۔مارپیٹ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک اور ویڈیو وائر ل ہوا اس میں پرشوتم کی بیوی پریا نامی ایک فلیٹ میں داخل ہوتے دکھائی دے رہی ہے فلیٹ کا دروازہ ایک عورت کھولتی ہے یہ بھوپال میں ایک نیوز اینکر ہے پریا جیسے داخل ہوتی ہے تو پرشوتم سیدے صوفے پر بیٹھے دکھا ئی دیتے ہیں کچھ کہا سنی کے بعد وہاں سے نکل جاتے ہیں پریا اور دوسری عورت میں بحث ہوتی ہے پریا نے دو سی سی ٹی وی کیمروں سے میاںکی پوری کرتوت رکارڈ کر لیا ایک کیمرہ گھر کے اندرہے دوسرا کیمرہ پریا ساتھ لیکر عورت کے گھر میں داخل ہوتی ہے ۔ پہلے ویڈیو میں پر شوتم کو مکے مارتے دکھائی دے رہے ہیں پھر انہیں زمین پر گرا دیتے ہیں اس دوران پریا بھی پرشوتم کو کینچی سے مارتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان نے کہا افسر کتنے ہی بڑے رینک کا ہو اس کے خلاف ہم قاعدے کے مطابق کاروائی کی جائے گی اتنے سینئر آفسر وہ بھی پولیس کا تو اس سے ایسی امید نہیں کی جاسکتی یہ تو وردی پر داغ ہے (انل نریندر )

درندگی کی شکار بٹیا زندگی کی جنگ ہار گئی ،نربھیا کی ہوئی یاد تازہ

درندگی کی شکار ہوئی اتر پردیش کے شہر ہاتھرس کی بیٹی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئی 14ستمبر کو درندوں نے اجتماعی آبرع ریزی کر اس کا گلا دبا کر مار ڈال نے کی کوشش کی تھی تب اسے مرا ہوا سمجھ کر درندے چھوڑ گئے تھے متاثرہ لڑکی بول نہیں پا رہی تھی اس کے گلے میں تین فکچر تھے اور وہ کھیت میں بیہوشی کی حالت میں ملی تھی اس کے بعد اسے علی گڑھ کے جواہر لال نہرو میڈکل کالج اسپتال میں داخل کریا گیا تھا وہاں طبیعت بگڑنے پر پیر کو ہی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا جہاں اس نے منگل کے روز صبح 3بجے دم توڑ دیا واردات کے بعد سے وہ بول نہیں پار ہی تھی اشاروں میں بتا تی رہی پچھلی22ستمبر میں جب اس کا بیان لیا گیا تو پولیس نے چارو ملزمان سندیپ ، رامو ، لوکش ،روی کو گرفتار کرلیاہے متا ثرہ لڑکی کے والد نے کہا کہ قصور واروں کو جلد سے جلد پھانسی ہو وہیں ہاتھرس میں متاثرہ بیٹی کی موت کے بعد لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا منگل کی دوپہر کانگریسی ورکروں نے وجے چوک پر مظاہرہ کیا جہاں سے پولیس نے 14عورتوں سمیت 36لوگوں کو حراست میں لیا ان میںدہلی پردیش کانگریس کی مہلا صدر ممتا دھون بھی شامل ہوئیں ۔ جب لڑکی اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں کی طرف جانوروں کے لئے چارہ اکٹھا کرنے گئی تھیں وہیں ماں سے تھوڑا لگ ہوتے ہی ملزمان نے اسے کھینچ لیا اور اس بربریت کی واردات کا انظام دیا ۔ یہ ایک ایسی اکیلی واردات نہیں ہے لیکن اس واقع میں جرم کی جو نوعیت ہے وہ کسی بھی سنجیدہ انسان کو جنجھوڑ دینے میں کافی ہے لڑکی سماجی طور سے دلت تھی اور ملزم اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کیا دیہی علاقوں میں کمزور طبقے سے ہونا ہی جرم کی شکار ہونے کے حالات بنا دیتے ہیں ؟کیا وجہ ہے کہ جرم کو انظام دینے والے ملزمان کو یہ سب کرنے سے پہلے ایک بار سوچ لینا چاہئے تھاکہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اس واردات سے نربھیا کانڈ کی یاد تازہ ہو گئی ایسے درندوں کو موت کی سزا ہونی چاہئے نربھیا کے قصور واروں کو پھانسی پر لٹکایا جانے سے امید بندھی تھی کہ ایسے واقعات پر روک لگے گی ۔ مگر دکھ کے سے کہنا پڑتا ہے جانوروں کی نظریہ رکھنے والے درندوں کو آج بھی کوئی ڈر نہیں ہے ۔ بد قسمتی یہ بھی ہے کہ جس پولیس محکمے کو واردات کی ابتدائی اطلاع ملتے ہی سر گرم ہوکر کاروائی کرنی چاہئے تھی اس نے شروعات میں صرف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا تھا اور اس پر الزام یہ بھی ہے کہ اس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی ۔متاثرہ کے بھائی نے بتایا کہ 10دن بعد بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اس درمیان ملزم پریوار کو دھمکی دیتے رہے جب بربریت آمیز جرم کی شکار ہوئی لڑکی نے سرکل آفسر کو کسی طرح اپنے ساتھ ہوئی درندگی کے بارے میں اشاروں میں بتایا تب جاکر اجتماعی آبروریزی کی دفاع جوڑی گئی۔ یوپی پولیس کا یہ رویہ کوئی حیرانی نہیں پیدا کرتا ہے کیونکہ آبرو ریزی اور قتل جیسے معاملوں میں عام طور پر کمزور طبقوں کے متاثرین کو اکثر یہی جھیلنا پڑتا ہے۔ دہلی میں نربھیا کانڈکے بعد جو سماجی سیاسی بیداری دیکھنے کو ملی اس سے یہ امید بنی تھی کہ اب شاید دیش کی عورتوں ویسی ٹریجڈی سے نہیں گزر نا پڑے لیکن افسوس اس کے بعد بھی زمینی سطح پر عورتوں کی سیکورٹی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ (انل نریندر)

01 اکتوبر 2020

آذر بائیجان اور ارمینیا میں چھڑی جنگ !

سوویت روس کا حصہ رہے دو اہم ملک ارمینیااور آذر بائیجان میں جنگ شروع ہوچکی ہے یہ جنگ علاحدگی پسند علاقے ناگروناقراباخ کو لیکر یہ لڑائی ہو رہی ہے ارمینا کے وزارات دفاع کی اب تک 16فوجی اور دو عام شہری اس لڑائی میں مر چکے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں وہیں پڑوسی ملک ترکی کھل کر آذر بائیجان کی حمایت میں آگیا ہے ترکی کے صدر اردگان نے ارمینیا کو دھمکی دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ جارحیت کے خلاف لڑائی میں اس کا ساتھ دے ارمینیا کے پرانے ساتھی روس نے فوراً جنگ بند کر بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے ۔ آذر با ئیجان کے صدر الہام اولی میف نے کہا کہ ان کی طرف بھی فوجی نقصان ہوا اس سے پہلے1991بنے جنگ کے حالات ۔ارمینیا اورآذر بائیجان پڑوسی ملک ہیں جو ایشیا میں آتے ہیں بھار ت سے قریب 4ہزار کلومیڑ کی دوری پر ارمینیا اور آذربائیجان ایران اور ترکی کے درمیان پڑتے ہیں پورہ تنازع کراباخ نام کی پہاڑی کو لیکر ہے جو چار ہزار مربع کلو میڑ میں پھیلی ہوئی اور دونوں ملکوں کی سرحد پر ہے یہاں پر 1994سے ارمینیا کی طرف سے اس کی فوجوں کا قبضہ ہے اس وقت بھی دونوں ملکوں میں جنگ کے حالات بنے لیکن روس کی مداخلت سے 1994میں جنگ بندی ہوئی تھی ۔ پیر کو بھی ان دونوں ملکوں میںجنگ جاری رہی دونوں فریقین نے گولہ بارود کا استعمال کرنے کا الزام لگایا ارمینیا کی پارلیمنٹ نے آذربائیجان کے فوجی حملے کی ملامت کی اور الزام لگایا کہ اسے ترکی سے مدد مل رہی ہے اس درمیان روس میں مقیم ارمینیا کے سفیر نے کہا ترکی کے قریب 4ہزار جوان جنگ باز آذربائیجان بھیجے گئے ہیں جب کہ آذربائیجان کہ وزارت نے کہا کہ اونچائی والے فوجی اہمیت کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے یہ لڑائی بڑھنے پر روس اور ترکی کی اس میں کود سکتے ہیں کیو نکہ ماسکو ارمینیا کا دفاعی ساجھیدار ہے تو انقرہ ،آذربائیجان کا حمایتی ہے امید ہے کہ روس اور ترکی قابل قدر رول نبھائیں گے اور اس لڑائی کوا ور پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہونگے۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...