Translater

09 مئی 2018

افغانستان میں 7 انجینئروں کا اغوا

خانہ جنگی سے تباہ حال افغانستان کی مدد کرنے اور وہاں ترقی کو رفتار دینے میں لگا بھارت ہمیشہ سے طالبان کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا۔ بغلان صوبہ میں ایتوار کو بجلی ٹرانسمیشن لائن لگانے والی ہندوستانی کمپنی کے ای سی کے 8 ملازمین کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان جنگ باز انہیں سرکاری ملازم سمجھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسوسی ایٹیٹ پریس کے مطابق ان میں 7 ہندوستانی انجینئر شامل ہیں اس کے علاوہ ایک افغان شہری بھی اغوا کیا گیا۔ جس جگہ سے اغوا ہوا وہاں حالیہ دنوں میں طالبان کی طاقت کافی بڑھی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس اغوا میں بھی طالبان کا ہاتھ ہے۔ افغان چینل تولو نیوز نے اپنے حکام کے حوالہ سے بتایا کہ اغوا بغلان کی راجدھانی پل اے خوچر کے باغ شمائل علاقہ میں ہوا۔ سبھی الیکٹرک انجینئرہیں۔ کے ای سی کو اس علاقہ میں ایک بجلی سب اسٹیشن کو چلانے کاکام ملا ہوا ہے۔ ادھر آر پی جی انٹر پرائز کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے انجینئروں کو چھڑانے کے لئے وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج سے مدد مانگی ہے۔ کے ای سی بڑے پیمانے پر بجلی کے سیکٹر میں کام کرتی ہے۔ اس کے افغانستان میں قریب 150 انجینئر و تکنیکی ماہرین مختلف پروجیکٹوں پر کام کررہے ہیں۔ افغانستان میں ہندوستانی ہمیشہ نشانہ پر رہے ہیں۔ پاک حمایتی آتنکی گروپ افغانستان میں بھارت کی موجودگی و ترقی کا کام کرنے سے پریشان رہتا ہے اور یہ گروپ بھارت کو وہاں سے بھگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ افغانستان بھارت کے لئے ہمیشہ اہم ترین ملک رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان کی ہر ممکنہ مدد کی ہے۔ اس کی تعریف امریکہ بھی کرتا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کے ساتھ فوجی تعاون بھی بڑھایا ہے۔ بھارت نے افغانستان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مالی مدد دی تھی اور اس کی تعمیر بھی کروائی تھی۔ حال ہی میں بھارت نے افغانستان کو چار ایم آئی 25 ہیلی کاپٹروں کا تحفہ بھی دیا تھا جبکہ ہر سال سینکڑوں افغان فوجی اور پولیس ملازمین کو بھی ٹریننگ دیتا ہے۔ وہیں طالبان بھارت کی مدد کی مذمت کرتا آرہا ہے۔ جرمنی کی ہائڈل برگ یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشیا معاملوں کے ماہر جگفیلٹ وولف کہتے ہیں کہ کابل میں ہونے والے طالبان کے حملہ صرف افغان سرکار کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ بھارت کے افغانستان سے باہر رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے بھی دسمبر 2003 میں ہندوستانیوں کا اغوا ہوا تھا لیکن انہیں بعد میں چھوڑدیا گیا۔ وہیں جولائی 2004 میں تین ہندوستانی ٹرک ڈرائیوروں کا اغوا کرلیا گیا تھا انہیں چھڑانے کے لئے بھارت سرکار کو کافی مشقت کرنی پڑی تھی۔ وہیں اس کے بعد نومبر 2005 میں ساؤتھ ویسٹ افغانستان میں ایک ہندوستانی سمیت تین شہریوں کا اغوا کرلیا تھا۔ ہندوستانی شہری کٹی کی لاش افغانستان کے جنوبی صوبہ میں سڑک کے کنارہ ملی تھی۔ ہم پرارتھنا کے ساتھ امیدکرتے ہیں کہ ان ساتوں ہندوستانیوں کی رہائی جلد ہوگی۔
(انل نریندر)

کیا پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ رشتے بحال کرنا چاہتی ہے

پاکستانی فوج دیش کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھارت کے ساتھ رشتوں کو بہتربنانا چاہتی ہے۔ یہ نظریہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کے ذہن میں پیدا ہورہا ہے۔ برطانیہ کے رائل یونائیٹس سروس انسٹیٹیوٹ کے پاکستانی ماہر کمال عالم نے کہا پاکستان کی سیاست میں فوج کا موثر دخل رہا ہے۔ ایسے میں باجوا بھارت کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بھارت کی فوجیں بھی ایک دوسرے کا تعاون کرتی دکھائی دے سکتی ہیں۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی طے کرنے میں پاک فوج کا اہم رول ہوتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے 70برسوں میں زیادہ تر وقت اقتدار فوج کے ہاتھ میں رہا ہے۔ جب وہ درپردہ طور سے اقتدار پر قابض نہیں رہی ہے تب بھی اس کی سرکار پر لگام رہی ہے۔ پاکستانی فوج کا نظریہ بدلنے کا ثبوت یہ ہے کہ اپریل میں یوم پاکستان کی فوجی پریڈ میں پہلی بار ہندوستانی سفارتخانہ میں تعینات ملٹری اطاچی اور اس کے ساتھیوں کو مدعو کیا گیا۔ یہ بات کمال عالم نے بھی لکھی ہے اس کے دو ہفتے بعد جنرل باجوا نے پڑوسی دیش کے تئیں اپنے نظریئے میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ رشتوں سے امن اور بات چیت کی شروعات چاہتی ہے اور نزدیک آنے کا یہ بھی اشارہ ہے کہ دونوں دیشوں کی فوجیں ستمبر میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی، اس میں چین بھی شامل ہوگا۔ یہ سارے پیغام سرحد پر پیدا کشیدگی کے درمیان آرہے ہیں۔ اس لئے مانا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج کی سوچ بدل رہی ہے۔ کچھ مہینے پہلے تک نارتھ کوریا نیوکلیائی ہتھیاروں اور میزائلوں اور دھمکی کی جس زبان میں بات کررہا تھا اس میں نہ صرف کوریائی جزیرے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ بتایا جارہا تھا۔ لیکن پچھلے مہینے 27 اپریل کو اسی نارتھ کوریا نے وہ کام کردکھایا جو اب تک ناممکن سمجھا جارہا تھا۔ اس کے نیتا کم جونگ ان نے ساؤتھ کوریا کے ساتھ 1953 سے چلی آرہی خانہ جنگی کی صورتحال ختم کرنے کا اعلان کیا۔نارتھ کوریائی جزیرے کے اس بڑے واقعہ کے بعد سوشل نیٹورک کی ویب سائٹوں پر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اگر نارتھ کوریا اور ساؤتھ کوریا دونوں ایسا کرسکتے ہیں تو بھارت پاکستان کیوں نہیں؟ کیا پاک فوج کے نظریئے میں تبدیلی آرہی ہے؟ پاک ڈیفنس ماہر برگیڈیئر ریٹائرڈ سعاد محمد کھتیال کا کچھ ایسا ہی کہنا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی قیادت یہ سوچتی ہے کہ 70 برسوں کی لڑائی کے باوجود کشمیر تحریک کا کوئی حل نہیں نکلا۔اگر اگلے 300 سالوں تک یہ لڑائی جاری رہی تو بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوں گے۔ایسی صورت بنی تو دونوں دیش ترقی نہیں کرپائیں گے۔ پاک کے سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی کے زمانے میں پہلی بار پاک فوج کے نظریئے میں تبدیلی آئی تھی جب انہوں نے کہا تھا پاکستان کی سلامتی کو بھارت سے خطرہ نہیں ہے بلکہ اندرونی دشمنوں سے ہے جو مسئلہ آج پاک میں ہیں وہ اسی کی دین ہیں۔
(انل نریندر)

08 مئی 2018

نیشنل فلم ایوارڈفنکشن تنازعات میں

نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن کی اپنی اہمیت ہے۔ بڑے سے بڑا فلم ساز نیشنل ایوارڈ پا کر فخر محسوس کرتا ہے ۔ اسے پاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں الگ چمک ہوتی ہے اور ہونٹوں پر ایک الگ مسکان اور چہرے پر ایک الگ سکون ہوتا ہے۔ یہ ایوارڈ جہاں کسی فلم ایکٹر کے فن کی کوالٹی کو ایک پہچان اور منظوری دیتا ہے وہیں دیش کے صدر کے ہاتھوں سے اس کا ملنا ان کی زندگی کا ایک نایاب لمحہ بن جاتا ہے ۔ لیکن اس بار 3 مئی کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں 65 واں نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن تنازعوں میں آگیا ہے۔ خوشی اور جوش کے موقعہ پر یہ غمگین اور مایوسی کا ماحول اچانک تب بنا جب ایوارڈ پانے والوں کو 2 مئی کو فنکشن کی ریہرسل کے دوران پتہ لگا کہ اس مرتبہ صدر جمہوریہ اپنے ہاتھوں سے نہ صرف 11 افراد کو ہی ایوارڈ دیں گے اور دیگر انعام پانے والوں کو اطلاعات و نشریات محترمہ اسمرتی ایرانی نوازیں گی۔انعام ونرس نے اس سے ناراض ہوکر تقریب کا بائیکاٹ کردیا۔ 53 ونر اپنا ایوارڈ لینے نہیں پہنچے۔ دراصل اب تک یہ ایوارڈ صدر جمہوریہ ہی دیتے رہے ہیں۔ صدر کے پریس سکریٹری کا کہنا ہے کہ صدر رامناتھ کووند عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی ایسے پروگراموں کے لئے صرف ایک گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں۔ یوم جمہوریہ یا کوئی بیحد اہم ترین میٹنگ ہی اس کا جواز ہوسکتی ہے۔ منتظمین کو کئی ہفتے پہلے بتادیا گیا تھا کہ صدر اس پروگرام کے لئے ایک گھنٹہ ہی دستیاب رہیں گے۔ پہلی بار یہ انتظام کیا گیا تھا جو نیشنل فلم ایوارڈ تقریب کے بنیادی مقصد کے برعکس تھا، وہ مقصد تھا دیش میں فلم آرٹ کلچر کو بڑھاوا دینے کے لئے حکمرانی کے سب سے اعلی عہدہ پر بیٹھے صدر سے آرٹسٹوں کو اعزاز سے نوازنا۔ اس کے ذریعے فنکاروں کے کام کی سراہنا کے ساتھ ساتھ ان کی قومی اہمیت کی بھی نشاندہی کرنا تھا۔ صدر کو یہ کام کرنا تھا تاکہ آرٹسٹوں میں اپنے ٹیلنٹ دکھانے پر سنمانت ہونے کا سب سے عمدہ احساس ہو لیکن جانے کیا سوچ سمجھ کر یہ کام دو ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا۔ کیا صدر کسی ضروری کام میں مصروف ہوگئے تھے؟ ایسی تو کوئی اطلاع بھی نہیں تھی اور نہ ہی دیش میں کوئی ناگزیں صورتحال پیدا ہوگئی تھی جس میں صدر کا حصہ لینا تقریب سے زیادہ ضروری ہوگیا تھا۔ پھر یہ سسٹم کس کے کہنے پر بنایا گیا؟ کس سے ان فنکاروں توہین ہوئی جنہیں نیشنل ایوارڈ صدر جمہوریہ کے ہاتھوں ملنے تھے۔ رامناتھ کووند سے پہلے جتنے بھی صدر ہوئے ہیں وہ آرٹسٹوں کو اعزاز سے نوازنے کے لئے پورا وقت نکالتے رہے ہیں پتہ نہیں صدر محترم نے ایسا قانون کیوں بنایا کہ وہ ایسی کسی تقریب میں صرف ایک گھنٹہ ہی دیں گے۔جب روایت یہ ہوتی آئی ہے تو اس پر کیوں نہیں عمل کیا گیا؟ اس پر فلمساز شان بینگل کا یہ کہنا صحیح لگتا ہے کہ جب آپ کے پاس ہمیں سنمانت کرنے کا وقت ہی نہیں ہے تو پھر ہمیں بلاتے کیوں ہے؟ ایسا کہنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ظاہرہے اس غیر متوقعہ واقعہ کو فلم صنعت نے اپنے تئیں حکومت کی تقسیم کاری اور حقارت کا احساس مانا ہے۔ اس سے ان کا وقار ڈاؤن ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کے احتجاج کو بھی سمجھنا چاہئے کہ سوال یہ بھی ہے کہ جب وزارت اطلاعات و نشریات کو یہ پہلے سے پتہ تھاتو ایوارڈ ونرس کو اندھیرے میں کیوں رکھا گیا؟ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ بھی ہے کہ نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن جیسا پروگرام صدر موصوف کیلئے کم اہم ترین کیوں ہے؟
(انل نریندر)

ہمیں کیوں نہیں ملتی طوفان آنے کی آہٹ

قدرت کا قہر لمحہ بھر میں ہی تباہی مچا دیتا ہے۔ موسم کے اچانک پلٹنے سے بدھوار کو راجستھان اور اترپردیش میں وسیع تباہی مچی۔ 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی آندھی طوفانی ہوا نے نہ صرف کئی جانیں لے لیں ساتھ ہی گیہوں، آم، سرسوں کی فصل کو بھی نقصان پہنچایا۔ اب تک سوا سو سے زیادہ لوگوں کے مارے جانے کی اطلاع ملی ہے جبکہ 70 سے زیادہ لوگ اترپردیش میں اور 40 سے زیادہ لوگ راجستھان میں اس کی زد میں آگئے ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ بھاری تام جھام اورنامی سائنسدانوں سے بھرے پڑے محکمہ موسم نے مشرقی اور نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں 1 سے4 مئی تک بھاری بارش اور طوفان کی وارننگ دی تھی۔ اس میں کہیں بھی اترپردیش کا ذکر نہیں تھا جبکہ سب سے زیادہ نقصان راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش،بنگال اور بہار میں ہوا جبکہ موسم کی جانکاری دینے والے ادارہ اسکائی مینٹ نے نارتھ انڈیا میں تباہی کا اندیشہ جتایا تھا اور وارننگ بھی جاری کی تھی۔ محکمہ موسمیات کی ایسی ناکامی سرکار اورجنتا دونوں کے لئے تشویش کا سبب ہے۔ سینکڑوں جانور مارے گئے، مکان ڈھے گئے اور پیڑ ٹوٹنے ،بجلی کے کھمبے گرنے کے علاوہ گیہوں اور آم کی فصل بھی برباد ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق زیادہ درجہ حرارت ہوا میں نمی کم دباؤ کا زون بن جانے سے طوفان آنا لازمی ہے اور چونکہ یہ سب کچھ اچانک ہی ہوتا ہے ایسے میں باقاعدہطور پر ایسے بونڈر سے بچنے کا وقت نہیں مل پاتا۔ پریشانی کی بات اس لئے بھی ہے کیونکہ بھارت کی معیشت میں ذراعت کا اہم اشتراک ہے اور اگر کسانوں کو موسم کی ایسی مار جھیلنی پڑے گی تو دیش کی معاشی صورتحال بھی کمزور ہوگی اس کے چلتے موسم کی وقت رہتے پختہ جانکاری بیحد ضروری ہے۔ اگر صحیح وقت سے جانکاری مل جائے تو بہت سے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے محکمہ موسمیات کا اندازہ تقریباً صحیح ہونے لگا تھا اور اڑیسہ میں زبردست طوفان سے جان مان کی حفاظت میں اس کا خاص اشتراک رہا تھا۔ دراصل سونامی جیسی خوفناک تباہی والے خوفناک طوفان کے بعد سرکار جاگی تھی اور اس نے نہ صرف سیٹلائٹ اور مرینوں پر بلکہ ماہرین پر کافی پیسہ خرچ کیا تھا۔ موجودہ چوک اتفاقی قدرتی مار ہوسکتی ہے اور اس کا کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے محکمہ موسمیات کے حکام کو وارننگ دے کر خاموش تو ہوا جا سکتا ہے مگر بہت سے دیشوں میں موسم کے پل پل بدلتے رخ کا پتہ شہریوں کو مہیا کرایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہر طرح کی سہولیات ہونے کے باوجود ہمارے دیش میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

06 مئی 2018

جناح کی تصویرپر جنگ کا میدان بنی مسلم یونیورسٹی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یونین ہال میں محمد علی جناح کی تصویر لگانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ تصویر 1938 سے وہاں لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ایم پی ستیش گوتم اور مہیش گیری نے جناح کی تصویر وہاں ہونے کی مذمت کی ہے۔ بدھ کو کچھ لوگوں نے یونیورسٹی کے باہر نازیب نعرہ بازی کی۔ طلبا نے ان باہری عناصر کی گرفتاری کی مان کی۔ تنازعہ اتنا کھڑا ہوگیا کہ پولیس کوکیمپس میں آنسو گیس کے گولہ چھوڑنے پڑے اور لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس میں اے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کے صدر سمیت درجن بھر طالبعلم زخمی ہوگئے۔ ایس پی سٹی، سی او سمیت آدھا درجن پولیس والے بھی زخمی ہوئے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ محمد علی جناح مسلمانوں کے لئے پاکستان کی مانگ کے پیروکار رہے ہیں۔ ان کی پہل پر بھارت کی تقسیم ہوکر ایک نیا دیش پاکستان بنا اور وہ وہاں کے قائد اعظم کہلائے۔ اس طرح جناح بھارت کے لئے کھلنائک بن گئے۔ تبھی سے عام ہندوستانی میں ان کا نام بٹوارے یا کہئے کہ دیش سے بغاوت کا محاورہ وابستہ ہوگیا لیکن اتنے برسوں سے ٹنگی تصویر پر اب واویلا کیوں؟ پچھلے80 سال پہلے سے یہ تصویر ٹنگی ہوئی ہے۔ تصویر کلیان سنگھ جب وزیر اعلی تھے تب بھی لگی ہوئی تھی، لال کرشن اڈوانی جب دیش کے نائب وزیر اعظم تھے تو وہ جناح کے مزار پر حاضری دے کر آئے تھے۔ اسی جناح کو اڈوانی نے سیکولر کہا، جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں جناح کی تعریف کی۔ ایک پرائیویٹ چینل سے بات کرتے ہوئے اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے کہا کہ جناح نے دیش کا بٹوارہ کرایا تھا۔ بھارت میں جناح کو سمانت نہیں کیا جاسکتا۔ یوگی نے کہا کہ انہوں نے اے ایم یو معاملہ میں جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ جلد ہی انہیں اس کی رپورٹ مل جائے گی۔ رپورٹ ملتے ہی تصویر لگانے والوں پر ایکشن لیا جائے گا۔ اس سے پہلے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے بھی کہا تھا کہ جناح کی وجہ سے دیش کی تقسیم ہوئی جس کا درد آج ہر ہندوستانی جھیل رہا ہے۔ جناح دیش کا دشمن تھا اور اس کے لئے دیش کے لوگوں کے دلوں میں نہ کوئی جگہ تھی نہ ہے اور نہ رہے گی۔ جناح کی جس تصویر کو سیاسی اشو بنایا جارہا ہے وہ اے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کے دفتر میں 1938 سے لگی ہوئی ہے۔ وہاں گاندھی کا فوٹو بھی لگا ہے۔ تصویروں میں گنگا جمنی کلچر اور سیکولر ازم کا پورا سمندر بسایا گیا ہے۔ اے ایم یو سینٹرل یونیورسٹی ہے اور اس کا پورا طریقہ نظام ہندوستانی آئین کے تحت چلتا ہے۔ جناح کی وہاں لگی تصویر کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ وہاں پاکستان کی سرکار کی حکومت چلتی ہے یا اس کے طلبا جناح پرست ہوگئے ہیں، ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ دوسری بات تاریخ کے جناح اہم کردار ہیں چاہے ان کی تنقید نفرت کی حد تک کی جائے وہ رہیں گے ہندوستانی تاریخ کا زندہ ثبوت، ویسے ہی جیسے ہندو بھگت سنگھ، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، پاکستان کی وراثتوں کی دھڑکن میں ہے۔ حال ہی میں میں نے پاکستان ٹی وی پر بھگت سنگھ پر ایک پروگرام دیکھا تھا اس میں بھگت سنگھ کی سوانح حیات اور قربانیاں دکھائی گئی تھیں۔ پاکستان میں تو کسی نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں شامل ہے اس کا اس طرح سے نام خراب کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہوکہ اسے سیاسی جنگ کا حصہ نہ بنایا جائے۔معاملہ کو پرامن طریقے سے نمٹایا جائے۔
(انل نریندر)

پانچ سال :بینک دھوکہ دھڑی بے مثال

پچھلے پانچ برسوں میں دیش کے بینکوں میں 23866 گھوٹالہ پکڑے گئے۔ اس میں 1لاکھ718 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کی گئی یعنی روزانہ بینک دھوکہ دھڑی کی 14 معاملے ہوئے جس میں بینکوں کو ہر دن 778 کروڑ روپے کا چونا لگا۔ یہ سنسنی خیز خلاصہ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں ریزرو بینک نے کیا ہے۔ بینک گھوٹالہ میں سب سے بڑی حصہ داری قرض کی جعلسازی کی ہے۔ فروری میں ایک دوسری آر ٹی آئی کے جواب میں ریزرو بینک نے بتایا کہ 2012-13 سے 2016-17 کے دوران سرکاری بینکوں میں قرض جعلسازی کے 8670 معاملہ ہوئے۔ ان می بینکوں کے 61260 کروڑ روپے پھنسے۔ 2012-13 میں 6357 کروڑ روپے کی جعلسازی ہوئی۔ 2016-17 میں یہ بڑھ کر 17634 کروڑ روپے ہوگئی۔ وزیر مملکت مالیات شیو پرساد شکلا کے مطابق اس میعادتک پنجاب نیشنل بینک کا ایم پی اے 55200 کروڑ ، آئی ڈی بی آئی بینک کا 44542 کروڑ، بینک آف انڈیا کا 43774 کروڑ، بینک آف بروڈہ کا 41649 کروڑ ، یونین بینک آف انڈیا کا 38047 کروڑ، کینرا بینک کا 37794 کروڑ، آئی سی آئی سی آئی بینک کا 73849 کروڑ روپے تھا۔ آئی آئی ایم بنگلورو کی اسٹڈی رپورٹ کے مطابق قریب 55 فیصد بینک جعلسازی سرکاری بینکوں میں ہوئی لیکن رقم کے لحاظ سے ان کی حصہ داری 83 فیصد ہوجاتی ہے۔ دسمبر 2017 تک بینکوں کا 8.41 لاکھ کروڑ روپے کا قرض پھنسا ہوا ہے۔ یہ اعدادو شمار اس نقطہ نظر سے بھی اہم ترین ہے کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کئی بڑے بینکوں کی دھوکہ دھڑی کے معاملوں کی جانچ کررہے ہیں۔ ان میں پنجاب نیشنل بینک کا 13 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ شامل ہے۔ اس گھوٹالہ کا ماسٹر مائنڈ نیرو مودی اور اس کا ماما گیتانجلی گیمس کی کمپنی میہول چوکسی ہے۔ سی بی آئی نے حال ہی میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ساتھ 600 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج کیا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دسمبر 2017 تک سبھی بینکوں کا این پی اے 840959 کروڑ روپے تھا۔ سب سے زیادہ این پی اے پبلک سیکٹر کے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا 201560 کروڑ روپے تھا۔ یہ اعدادو شمار پانچ سال پہلے کے ہیں جن میں سے چار سال مودی سرکار تھی ۔ یعنی سب سے بڑے گھوٹالہ مودی سرکار کے عہد میں ہوئے۔ اس دوران نہ صرف گھوٹالہ ہوئے بلکہ گھوٹالہ کرنے والے صاف نکل گئے۔ پتہ نہیں اتنی بڑی رقم کو کیسے وصول کیا جائے گا؟ بینکوں کا پیسہ کیا یہ تو پبلک کا پیسہ ہے۔ پبلک سخت محنت کرکے بینک میں اپنی کمائی رکھتی ہے اور یہ بینک افسر دونوں ہاتھوں سے اسے لٹاتے ہیں۔
(انل نریندر)

05 مئی 2018

انسداد قبضہ مہم کا خوفناک منظر

قبضہ مخالف مہم کی جم کر مخالفت ہورہی ہے لیکن یہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے یہ اندازہ نہیں تھا۔ ہماچل پردیش کے کسولی میں منگلوار کو جو کچھ ہوا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔اسسٹنٹ ٹاؤن پلانر شیل بالا شرما کی رہنمائی میں جب حکام اور ملازمین کی ٹیم قبضہ ہٹانے کیلئے وہاں پہنچی تو ایک ہوٹل مالک نے گولی مار کر شیل بالا شرما کو مار ڈالا اور ایک ملازم اور ایک مزدور بھی زخمی ہوگئے۔ گولیاں چلا کر جنگلوں میں بھاگ گیا۔ یہ قبضہ مخالف مہم سپریم کورٹ کے حکم پر چلائی جارہی تھی۔ سپریم کورٹ نے 15 دن کے اندر کسولی کے 13 ہوٹلوں کا قبضہ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ یہ میعاد پوری ہونے والی تھی اس لئے توڑ پھوڑ ہونا تقریباً طے تھا۔ ان ہوٹلوں کو حساس ترین پہاڑی جگہ پر ہونے کے سبب دو منزل تک بنانے کی اجازت ملی تھی لیکن کچھ نے تو چھ منزل تک تعمیر کر لی تھیں ۔ شیل بالا کے قتل کی خبر اخباروں اور میڈیا میں ہر جگہ چھا گئی۔ اس لئے بدھوار کو سپریم کورٹ نے نہ صرف معاملہ کا خود نوٹس دیا بلکہ تلخی میں یہ بھی کہا کہ اگر اسی طرح حکام کے قتل ہوتے رہے تو اسے حکم پاس کرنا بند کرنا ہی ہوگا کیونکہ یہ ایک افسر کے قتل کا معاملہ ہے اس لئے ریاست پہلے ہی جرائم پیشہ کو پکڑنے کے لئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ جمعرات کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے شیل بالا کے قتل کے ملزم ہوٹل مالک کو گرفتار کرلیا۔
دہلی اور ہماچل پولیس نے اسے ورنداون سے پکڑا۔ آلوک کمار نے بتایا کہ ہماچل پولیس نے ملزم کی لوکیشن دہلی میں ملنے کے بعد گرفتاری کو لیکر مدد مانگی تھی لیکن جب تک کرائم برانچ کی ٹیم ملزم تک پہنچتی وہ فرار ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی لوکیش متھرا میں ریفائنری کے پاس آئی، ٹیم نے پیچھا کیا تو وہ ورنداون پہنچ گا۔ اسے بانکے بہاری مندر کے پاس سے گرفتار کرلیا۔ ہوٹل مالک کا نام وجے ہے۔ یہ معاملہ تو ایک طرح سے سلجھ گیا لیکن قبضے کو لیکر وہ سوال تو ابھی بنے ہی رہیں گے جو ایسے موقعہ پر اٹھائے جاتے ہیں۔ کیا ان حکام پر کبھی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی تعمیرات نہ صرف ہوتی ہیں بلکہ برسوں برسوں چلتی رہتی ہیں؟ ناجائز قبضہ مہم کے سبب دوکانداروں و دیگر لوگوں میں بہت غصہ بھی ہے۔ حکام کو پوری حفاظت ملنی چاہئے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...