Translater

05 نومبر 2015

ایوارڈ واپسی گینگ کو سرکار نے دیا کرارا جواب

دیش میں بڑھتے عدم تحمل کا حوالہ دیتے ہوئے قومی ایوارڈ لوٹانے والے مصنفوں، آرٹسٹوں، فلم سازوں، مورخوں اور سائنسدانوں کے خلاف اب مرکزی حکومت نے بھی جوابی مورچہ کھول دیا ہے۔حکومت کے تین بڑے لیڈروں و مرکزی وزرا ارون جیٹلی ،راجناتھ سنگھ اور وینکیانائیڈو نے اعزازات واپسی پر زبردست حملہ کیا ہے۔ جیٹلی کا کہنا ہے کہ دیش میں حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور احتجاج کرنے والے دراصل بھاجپا کے مخالفین ہیں۔ ان میں سے کچھ تو لوک سبھا چناؤ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کمپین چلانے وارانسی تک گئے تھے۔ لیفٹ پارٹیوں کی بالادستی کرنے کاتذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا جس طرح سے ایوارڈ یہ لوگ لوٹا رہے ہیں وہ بہار اسمبلی چناؤ میں بھاجپا مخالف ہوا بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایوارڈ واپسی کے ذریعے احتجاج کو سیاسی سازش قراردیا۔ انہوں نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا یہ لوگ تب کہاں تھے جب کانگریس عہد میں فرقہ وارانی فسادات ہوئے تھے ۔ یہ سب سیاسی اسباب سے ہورہا ہے۔ ایسے ہی دوسرے وزیر وینکیانائیڈو نے بڑھتی غیر رواداری کا حوالہ دیتے ہوئے ایوارڈ واپس کرنے والوں پر کٹاش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب گمراہ کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ سرکار کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعے چلائی جارہی منصوبہ بند مہم میں شامل ہیں۔ یہ لوگ مودی کی کامیابی کو ہضم نہیں کرپا رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ وزیر اعظم کامیاب ہوں۔ ادھر دیش میں بڑھتے عدم تحمل اور ایف ٹی آئی آئی کے آندولن کاری طلبا کو اشو بنا کر قومی ایوارڈ واپس کرنے والے فلمسازوں کو اداکار انوپم کھیر نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے فلمی ہستیوں کے اس قدم کو ایک خاص ایجنڈے سے اسپانسر قراردیا۔ کھیر نے ان ہدایتکاروں کے گروپ کو ایوارڈ واپسی گینگ سے تشبیہ دی ہے۔چنڈی گڑھ سے بھاجپا ایم پی کرن کھیر کے شوہر انوپم کھیر کا کہنا ہے کہ جو لوگ نریندر مودی کو پی ایم کے عہدے پر کبھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے ان سبھی نے ایوارڈ واپسی گینگ جوائن کرلیا ہے۔ ان کے مطابق ایوارڈ واپسی گینگ کے کچھ افراد نے جب کانگریس اقتدار میں آئی تو مجھے سینسر بورڈ سے ہٹوانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ بقول انوپم کھیر کے اس گینگ نے نہ صرف سرکار کی توہین کی بلکہ ان لوگوں نے اپنی فلموں کو دیکھنے والی جیوری اور جیوری کے چیئرمین اور ناظرین کی بھی بے عزتی کی ہے۔ سوشل میڈیا میں اس اشو پر بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایک واقف کار نے سوال کیا کہ اس ایوارڈ واپسی گینگ میں سے کتنوں نے ایوارڈ رقم واپس کی؟ کتنوں نے جنہیں سرکاری مکان ملے ہوئے ہیں وہ خالی کئے ہیں؟ ایوارڈ واپسی کی اس مہم میں شامل لوگ موٹے طور پر جن واقعات کا ذکر کررہے ہیں ان میں سے ایک دادری کا واقعہ ہے اور دوسرا کرناٹک میں ایم ایم کلبرگی اور اس سے پہلے مہاراشٹر میں نریندر دوبھولکر کا قتل ہے۔اس کے علاوہ گؤ ود اور گؤ ماس کھانے کا ایک اشو بنایا گیا لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے دوبھولکر کا قتل تب ہوا جب مہاراشٹر اور مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔کلبرگی کا قتل کانگریس حکمراں کرناٹک ریاست میں ہوا اور دادری اترپردیش میں ہے۔ قانون و نظام کا معاملہ ریاستی سرکار کا موضوع ہے اور ان سبھی واقعات سے نہ تو نریندر مودی کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مرکزی سرکار کا۔ زیادہ تر ایوارڈ واپسی گینگ کے افراد لیفٹ نظریہ رکھنے والے نمائندگی کرتے ہیں، ہمیں یہ بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ ان میں سے کئی تو وہ ہیں جنہوں نے لوک سبھا چناؤ کے دوران دیش کی عوام سے یہ اپیل کی تھی کہ نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے روکیں۔ بھاجپا کو روکنے کیلئے دہلی اسمبلی چناؤ میں بھی کوشش کی گئی تھی۔ اگر ایوارڈ لوٹانے والے اس آئیڈیالوجی سے لڑنا چاہتے ہیں جس کی بھاجپا نمائندگی کرتی ہے تو بہتر ہوتا کہ وہ یہ کام اپنے قلم اور اپنے فن سے کرتے۔ قلم اور فن اس کی بڑی طاقت ہے فی الحال تو وہ ایک قسم کے منفی نظریہ پرستی دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے دل میں تو کم سے کم کوئی شبہ نہیں کہ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے اور یہ گینگ نہ صرف اپنی تحریر کو،فن کو بے عزت کررہے ہیں بلکہ دیش میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ماحول تیار کرنے میں مدد کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

چھوٹا راجن کی تصدیق داؤد ابراہیم پاکستان میں ہی ہے

حالانکہ سبھی جانتے ہیں سوائے پاکستان کے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم پاکستان کے کراچی شہر میں ہی رو پوش ہے پھر بھی جب داؤد کا سب سے بڑا جانی دشمن چھوٹا راجن یہ کہے تو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ داؤد اور راجن کے درمیان 36 کا آنکڑا (دشمنی) ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف قاتلانہ حملے کروا چکے ہیں۔ راجن کا کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے سکیورٹی کور دیا ہوا ہے۔ راجن کے اس دعوے کے بعد سے پاکستان نے داؤد ابراہیم کی پہریداری بڑھا دی ہے۔ اب خبر ہے کہ داؤد کی سکیورٹی کے لئے پاکستانی فوج کے اسپیشل کمانڈو تعینات کئے گئے ہیں۔ داؤد کی سلامتی میں اس غیر متوقعہ سکیورٹی بڑھائی گئی ہے اسے چھوٹا راجن کی گرفتاری سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔داؤد کے ساتھ ہی ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ چھوٹا راجن کی گرفتاری کے بعد اب بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی نظر داؤد ابراہیم پر ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بھارت اب پاکستان میں داؤد کے ٹھکانے تک پہنچنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ داؤد کی سکیورٹی میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسی نظریہ سے دیکھا جارہا ہے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا یہ بیان کہ مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کی گرفتاری اور اسے بھارت لانے کی کوششوں کے بعد اگلا نمبر ہندوستان کے انتہائی مطلوب ممبئی سلسلہ وار دھماکوں کے اہم ملزم داؤد ابراہیم کو بھارت لانے اور اس پر قانون کا شکنجہ کسنے کا ہے۔ ان کا یہ بیان یہ یقین دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ نہ صرف صحیح سمت میں جاری ہے بلکہ وہ نتائج کی طرف بھی بڑھنے لگی ہے۔ کبھی داؤد کے داہنے ہاتھ رہے چھوٹا راجن کی گرفتاری اس سمت میں ایک اہم قدم مانا جاسکتا ہے۔ چھوٹا راجن نے بہرحال ممبئی پولیس پر سنسنی خیز الزام لگائے ہیں۔ انڈونیشیا کی راجدھانی بالی میں ہندوستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجن نے کہا کہ اسے ممبئی پولیس پربھروسہ نہیں ہے کیونکہ ممبئی پولیس کے کچھ لوگ داؤد گروہ سے ملے ہوئے ہیں اس لئے حکومت ہند سے اس کی گزارش ہے کہ اسے دہلی لے جایا جائے۔ اس نے کہا ممبئی پولیس نے مجھ پر بہت مظالم ڈھائے ہیں۔ نئی دہلی کی سرکار اسی نظریئے سے دیکھتے ہوئے میرے ساتھ انصاف کرے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے خلاف درج سبھی 70 مقدمات فرضی ہیں۔ اب جب بھارت لانے کی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ آج یا کل میں چھوٹا راجن کو بھارت لایا جاسکے گا، اس سے ملنے والی معلومات ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کیلئے کافی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ چھوٹا راجن اور داؤد کے پاس ایک دوسرے کے بارے میں جتنی پختہ اطلاعات ہوسکتی ہیں اتنی شاید کسی دوسرے ذرائع کے پاس نہ ہوں۔ چھوٹا راجن کو بھارت لانے کیلئے حکومت ہند اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کو مبارکباد۔
(انل نریندر)

03 نومبر 2015

Be it POK or Baluchistan, Pakistan again exposed

Anil Narendra

Pakistan is in the news for the last few days, but for bad reasons. Pakistan has once again been embarrassed in the entire world. Pakistani Prime Minister Nawaz Shareef was ashamed when a demonstrator disrupted his speech in the US capital Washington. Shareef was delivering his speech in the US think tank ‘US Institute of Peace’ when a demonstrator raised slogans for the freedom of Baluchistan. As Shareef started his speech, a demonstrator amongst the audience stood up with a poster. He also claimed that the Al-Qaida’s chief and World’s most wanted terrorist Osama bin Laden had friendly relations with Nawaz Shareef.

US President Barak Obama also ticked off the Pakistan’s President when the latter met him. Obama clearly told Nawaz Shareef that Pakistan must take action against all terrorist organizations without any prejudice.  Further Obama clearly distanced the US. in the Indo-Pak Peace Dialogue process and said that US won’t have any role until both the nations ask together for it.

Further, US totally ruled out US media reports clearly denying reports of any dialogue with Pakistan regarding any nuclear agreement alike with India. To add to Shareef’s  embarrassment a video became viral on Saturday which depicts the truth of atrocities by Pakistani Army and ISI in Baluchistan and POK. The incident occurred on Thursday when hundreds of demonstrators observed Black Day protesting Pak possession in POK. Demonstrators protested under the leadership of National Student Federation leader Meer Afzaal Suleharia against the tortures and exploitation by Pak army and ISI.  Suleharia also addressed a seminar in Muzaffarabad, the so called headquarters of POK.

It is notable that Pakistan had attacked POK in the undivided Jammu & Kashmir for the first time on 22nd October 1947. As per reports such protests have now become common in the POK. Security personnel are seen brutally firing darts and kicking and punching the protestors in the video. India has already said that such videos expose the brutal face of Pak Army and ISI.

This is the consequence of illegal possession of Pakistan in Kashmir. Be it POK or Baluchistan, Pakistan has been exposed once again.

ہائی کورٹ کے فیصلے سے اصل جھٹکا تو دہلی کے شہریوں کو لگا

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کی تینوں پرائیویٹ بجلی کمپنیوں (ڈسکام) کے کھاتوں کی جانچ سی اے جی سے کروانے کے معاملے میں دہلی حکومت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ عدالت کی طرف سے دہلی سرکار کے ان کمپنیوں کے کھاتوں کی جانچ کرانے سے متعلق فیصلے سے اصل جھٹکا تو دہلی کے عوام کو لگا ہے۔ یہ فیصلہ قانونی خامیوں سے اس فیصلے کے بھی خلاف ہے جو عزت مآب سپریم کورٹ نے اسی موضوع پر دیا تھا۔ پچھلے سال 17 اپریل کو سپریم کورٹ کی جسٹس رادھا کرشن اور جسٹس وکرم جیت سین پر مشتمل بنچ نے دوبجلی کمپنیوں کے رول کو خارج کردیا تھا۔جس میں ان دو کمپنیوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا کہ سرکار کو ہمارے کھاتوں کی جانچ سی اے جی سے کروانے کا حکم دیا ہے، یہ غلط ہے۔ آج عزت مآب ہائی کورٹ کہتی ہے کہ نجلی بجلی کمپنیوں کی آڈٹ سی اے جی نہیں کرسکتی۔ اس کا ایک مضر نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دہلی کی عوام نے جو سستی بجلی کی امید لگائی تھی وہ شاید اب نہ ہوپائے؟ کیا اس فیصلے میں ’آپ‘ سرکار نے نا سمجھی یا سوچی سمجھی چال کے ساتھ فیصلے میں مدد کی؟ بھاجپا کے دہلی پردیش پردھان ستیش اپادھیائے نے الزام لگایا ہے کہ بجلی کمپنیوں کے آڈٹ کے معاملے میں دہلی سرکار جھوٹ بول رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کیجریوال 2012ء سے دعوی کررہے ہیں کہ بجلی کمپنیوں کا سی اے جی آڈٹ ہوسکتا ہے۔ سال2013-14 اور 15میں بھی وہ یہی دوہراتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب کی بار سرکار بننے کے بعد سرکاری وکیلوں اور ڈسکام بورڈ میں سرکاری نمائندوں نے نجی بجلی کمپنیوں سے سانٹھ گانٹھ کرلی ہے۔ہائیکورٹ کے نوٹس میںیہ معاملہ لایا ہی نہیں گیا کہ پاور ڈسکام دہلی سرکار اور پرائیویٹ بجلی کمپنیوں کی مشترکہ سانجھے داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے فیصلہ ڈسکام کے حق میں کردیا۔ پچھلے دنوں سی اے جی کی انتم رپورٹ لیک ہوئی تھی جس میں سامنے آیا تھا کہ ڈسکام نے اپنا خسارہ قریب8 ہزار کروڑ روپے بڑھا کردکھایا ہے۔ اس انتم رپورٹ کے بعد دہلی سرکار نے اپنے تیور بجلی کمپنیوں کے تئیں اور سخت کرنے کا ڈرامہ کیا اور کہا تھا کہ سی اے جی آڈٹ رپورٹ آنے کے بعد اس رقم کو ڈسکام سے واپس لے لی جائے گی اور دہلی کی عوام کو سستی بجلی دستیاب کرائی جائے گی۔ ہائی کورٹ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال کی قیادت والی سرکار نے ڈسکام کے کھاتوں میں مبینہ گڑ بڑیوں کو اجاگر کرنے کیلئے سی اے جی آڈٹ کرانے کی دلیل رکھی تھی۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس آر ایس ایڈلو کی بنچ نے صاف کردیا کہ ڈی ای آر سی کوہی ڈسکام کے کھاتوں کی جانچ کا حق ہے اور ریاستی سرکار نے غلط طریقے سے ان کے کھاتوں کی جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ عدالت نے کہا سرکار نے جس کی بھی صلاح پر سی اے جی کو کھاتوں کی جانچ کے احکامات دئے تھے اس نے سرکار کو گمراہ کیا۔ عدالت نے سرکار کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ ڈسکام میں کافی کرپشن ہوا ہے اور اسی وجہ سے ان کے کھاتوں کی جانچ ضروری ہے۔ عدالت نے اپنے 139 صفحات کے فیصلے میں کہا کہ ڈی ای آر سی اگر ایک بار ڈسکام کے ذریعے پیش خرچ کو منظوری دیتی ہے تو کس طرح سی اے جی کو الگ نتیجے پر پہنچنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے انہوں نے کہا عوام کے مفاد میں اسے انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ دہلی والوں کے مفاد میں نہیں ہے، امید کی جائے کہ عزت مآب سپریم کورٹ کمپنی کی خانہ پوریوں سے اوپر اٹھ کر مفاد عامہ میں دہلی کی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرے گی۔ مفاد عامہ ہی جمہوریت میں سب سے اوپر ہوتی ہے۔
(انل نریندر)

کیا واقعی ہی آئی ایس نے روسی مسافر بردار طیارہ گرایا ہے؟

دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ عرف آئی ایس نے دعوی کیا ہے کہ سنیچر کے روز روس کے مسافروں کو لے جارہے ایک مسافر بردار طیارہ کو ہم نے مار گرایا ہے۔ حادثے میں طیارے میں سوار سبھی 224 افراد مارے گئے ہیں۔ یہ طیارہ مصر کے شہر شرم الشیخ سے روس کے سینٹ پٹرس برگ کے لئے اڑا تھا۔ ایئر بس A321 طیارہ مصر کے سینائی جزیرے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں 224 مسافروں میں 17 بچے بھی مارے گئے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم نے ٹوئٹر پر بیان جاری کر اس طیارے کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ آئی ایس کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بھی اس روسی طیارے کو مار گرائے جانے کی ذمہ داری آئی ایس کے ذریعے لینے کا دعوی کیا ہے۔ آئی ایس نے اسے شام میں روس کے ہوائی حملوں میں ہوئی سینکڑوں مسلمانوں کی موت کا بدلہ قراردیا ہے۔ خیال رہے کہ سینائی میں آئی ایس کو مدد دینے والے دہشت گردوں کی کثرت ہے حالانکہ آئی ایس کے اس دعوے کی پوتن حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ آئی ایس نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ آئی ایس کے لڑاکو نے سینائی صوبے میں روسی طیارے کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طیارے میں220 روسی سوار تھے۔ شکر ہے سب کے سب مارے گئے ہیں۔ حالانکہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیسے پتہ تھا کہ جس طیارے کو وہ گرا رہے ہیں وہ روسی طیارہ ہے اور اس میں صرف روسی ہی سوار ہیں؟ دوسرے یہ کہ انہوں نے کیسے اس طیارے کو گرایا؟ روس کے وزیر ٹرانسپورٹ میکسس سوکولاف نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی طرف سے طیارہ گرائے جانے کی خبر کو صحیح نہیں ٹھہرایا ہے۔ مصر میں تباہ ہوا روسی طیارہ آسمان میں ہی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔ یہ بات روسی جہاز رانی کمیٹی کی جانچ کے بعد کہی گئی ہے۔ طیارہ جس وقت گرایا گیا وہ 30 ہزار فٹ کی اونچائی پر پرواز کررہا ہوگا۔ کیا آئی ایس کے پاس ایسی صلاحیت والی میزائلیں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو یہ عالمی دہشت گردی میں ایک نیا باب جوڑتا ہے۔ ایئر فرانس لفتھانزا نے سنیچر کو کہا کہ روسی طیارے کے تباہ ہونے کے بعد وہ مصر کے سینائی جزیرے کے اوپر سے اڑان نہیں بھریں گے۔ اگر آئی ایس نے واقعی ہی اس روسی طیارے کو گرایا ہے تو یہ ایک اور بربریت اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ آپ سویلین طیاروں کو نہیں گرا سکتے اس میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ولادیمیر پوتن اس حملے کاکیا کرارا جواب دیں گے۔ سورگیہ افرادکی آتما کو شانتی دے اوپر والا۔
(انل نریندر)

01 نومبر 2015

اب پچھتائے کا ہوت مشرف جب چڑیا چگ گئی کھیت

یہ سبھی جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص ریٹائر ہوجاتے ہے اوردیش کی سیاست سے بے دخل ہوجاتا ہے تو وہ پھر سے لائم لائٹ میں بنے رہنے کے لئے کئی باتیں بولتا رہتا ہے۔ عام طور پر وہ ایسے رازکھولتا ہے جس کی جانکاری پہلے سے ہوتی ہے پر اس شخص سے اس کی تصدیق ضرور ہوجاتی ہے۔ میں پاکستان کے سابق راشٹر پتی و آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی بات کررہے ہوں۔ مشرف نے جو کچھ کہا اس میں کم سے کم ہمیں تو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ مشرف ایک دہائی سے تھوڑا کم وقت تک پاکستان کے راشٹرپتی رہے ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ ان کا فوجی کیریئرہے اس لئے ان کے پاس وہ سب جانکاری تھی جن کا انہوں نے اب ذکر کیا ہے۔ جنرل مشرف نے قبول کیا ہے کہ ان کے دیش میں کشمیر کو بڑھاوا دینے کیلئے 1990ء کی دہائی میں لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کو سمرتھن اور تربیت دی گئی تھی۔ 72 سالہ سابق فوجی ایڈمنسٹریٹر نے یہ بھی کہا اوسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے نیتا پاکستانی ہیرو تھے لیکن بعد میں ویلن بن گئے۔ مشرف نے یہ باتیں حال ہی میں ’’دنیا نیوز‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں کشمیر میں آزادی کی لڑائی شروع ہوئی اس وقت لشکر طیبہ اور 11 یا12 دوسری تنظیمیں تھیں جن کا ہم نے سمرتھن کیا اور انہیں ٹریننگ دی کیونکہ وہ اپنی زندگی کی قیمت پر کشمیر میں لڑ رہے تھے۔ ہم نے پاکستان کے حق میں مذہبی ملیٹنسی شروع کی۔ ہم پوری دنیا سے مجاہدین لائے۔ ہم نے طالبان کو ٹرین کیا، انہیں ہتھیار دئے اور بھیجا۔ لشکر طیبہ اور اس جیسے تقریباً درجن بھر آتنکی گروپ کھڑے ہوئے جن کا پورا کنٹرول پاکستان کے ہاتھوں میں تھا۔ آئی ایس آئی ایس انکا بہتر طریقے سے بھارت کو لہو لہان کرنے کے لئے استعمال کرتی تھی۔ آتنکی تنظیم لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو تربیت دینا اور ہر ممکن مدد کرنے کی بات قبولنے پر بھارت میں ردعمل ہونا حقیقی ہی ہے۔ پرویز مشرف کے بیان پر بھارت سرکار سیاستداں و سابق ڈپلومیٹ اور سابق جنرلوں سخت الفاظ میں پاکستان کی مذمت کی ہے۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جیسے لوگ ہیں ویسے ہی ان کے ہیرو ہوں گے۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بدلاؤ کے لئے ہی صحیح انہوں نے سچ تو بولا۔اگر وہ صحیح معنوں میں آتنک واد سے لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی آواز اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ان لوگوں (داؤد ) کو بھارت کو سونپنا چاہئے کیونکہ انہوں نے سنگین جرم کیا ہے۔ مشرف خود قبول کرتے ہیں کہ انہوں نے داؤد کو پناہ دی تھی۔سابق آرمی چیف جنرل وی پی ملک نے کہا کہ سچائی سامنے آگئی ہے کہ مشرف کیسے دیش کے اندر اور باہر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ وہیں ریٹائرڈ میجر جنرل جی ڈی بخشی نے کہا کہ مشرف کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو پیدا کیا۔ بھاجپا کے قومی جنرل سکریٹری شری کانت شرما نے کہا کہ اس خلاصے سے پاکستان بے نقاب ہوگیا ہے۔وہیں کانگریسی نیتا پرمود تیواری نے کہا کہ مشرف کے اس بیان سے صاف ہوگیا کہ پاکستان آتنک واد کا گڑھ ہے۔ مشرف کے اس بیان کو سابق خارجہ سکریٹری سلمان حیدر نے بے مقصد ہوچکے جنرل کی بھڑاس نکالنا بتایا۔ خود کو چرچا میں بنائے رکھنے کے لئے پاکستانی سیاست میں بے مقصد ہوچکے مشرف ایسے بیان دے رہے ہیں۔ سیاسی معاملوں کے جانکار معروف رضا کا ماننا ہے کہ مشرف کا پہلا نشانہ نواز شریف پر دباؤ بنانا ہے۔ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ آتنک واد جیسی چنوتیوں کے بارے میں مشرف سے زیادہ جانتے ہیں۔ مشرف کہتے ہیں کہ آج حالات بدل گئے ہیں۔ سوال تو یہی ہے کہ آخر یہ ختم ہوگا تو کیسے؟ پاکستان کشمیر میں سرگرم آتنک وادی گروپوں کے خلاف تو ضروری کارروائی کرتا نہیں اور پاکستان میں سرگرم جن آتنکیوں سے پاک سینا جنگ کررہی ہے ان کی طاقت اتنی ہے کہ ان کا خاتمہ کرنا اس وقت اس کے بوتے کی بات نہیں۔ اسی کو کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت۔پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔
(انل نریندر)

ڈرگس کا شکار بنتے بچوں کو کیسے بچائیں؟

آئے دن خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ کروڑوں کے ڈرگس پکڑے گئے۔حال ہی میں اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر ایک نائجیرین کو ڈرگس اسمگلر کرنے کے الزام میں پکڑا گیا۔ اس سے پہلے ریو پارٹیوں میں ڈرگس استعمال ہونے کے الزام میں کچھ نوجوان پکڑے گئے تھے۔ ابھی حال ہی میں پنجاب کے فیروز پور سیکٹر میں بھارت۔ پاک بین الاقوامی سرحد سے بارڈر سکیورٹی فورس کے جوانوں نے ایم پی بیس چوکی کے نزدیک 6 پیکٹ ہیروئن پکڑی۔ برآمد نشیلی اشیاء کی قیمت بین الاقوامی بازار میں 30 کروڑ روپے آنکی گئی ہے۔صبح سویرے پونے چار بجے کے قریب جوانوں نے محسوس کیا کہ پاک اسمگلر بارڈر سکیورٹی گھیرے کے اندر تاروں کے بیچ سے ایک پائپ میں گھس رہے ہیں۔ اس کے بعد جوانوں نے انہیں للکارا لیکن اس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا اور الٹا اسمگلر حملہ آور ہوگئے۔ اس کے بعد جوانوں نے ان پر گولیاں چلائیں اور وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر موقعے سے فرار ہوگئے۔ تلاشی کے دوران جوانوں نے ایک کلو کے 6 پیکٹ ہیروئن،ایک پاک موبائل اور سم کارڈ برآمد کیا۔ ایک افسر نے بتایا کہ اکیلے پنجاب میں پاکستان سرحد سے اس سال فورس کے جوانوں نے اب تک213 کلو سے زیادہ ہیروئن برآمد کرنے میں کامیابی پائی ہے۔دو دنوں میں یہ دوسری برآمدگی تھی۔ ہماری نوجوان پیڑھی ڈرگس کے جال میں پھنستی جارہی ہے۔ ان کی وجوہات پر سارے سماج کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ گھرمیں خوشحال ماحول کی کمی کی وجہ سے بھی بچے جب اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو وہ ذہنی جنگ سے جوجھتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی صورتحال سے آزادی پانے کے لئے نشیلی اشیاء کا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح انہیں نشیلی اشیاء کی لت لگ جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک بچے نے گھر میں کسی ممبر کے نہ ہونے پر گھر میں رکھی شراب پی لی اور بیہوش ہوکر گرپڑا۔ شراب اور نشیلی اشیاء کا استعمال کرنے والے بچے جسمانی کمزوری کا شکار بھی آسانی سے بنتے ہیں کیونکہ ان بچوں کو نشیلی اشیاء کے استعمال کی وجہ سے سوچنے سمجھنے کی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور ایسے میں اگر خاندان کی طرف سے صحت مند ماحول نہ ملے تو یہ بچے ناجائز رشتوں کی طرف بھی آسانی سے راغب ہوجاتے ہیں۔ بچے غلط راہ کی طرف نہ بڑھیں اس کے لئے ضروری ہے کہ خاندان ایک ساتھ وقت گزارے، ماں باپ بچوں کی اگر کوئی فکر ہے انہیں دور کریں۔ ماں باپ کے اکثر جھگڑوں سے بھی بچے نشیلی اشیاء کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ان گھروں میں جہاں ماں باپ دونوں کام کرتے ہیں وہاں بھی اکیلے پڑے بچے غلط عادتیں اپنا لیتے ہیں۔نشے کی لت میں ڈوبے بچوں کو حزب معمول زندگی کی جانب لانے میں ماں باپ و خاندان کے بڑے ممبران کا یوگدان بہت ضروری ہے۔ اس میں ذرا سی بھی دیری نہ کریں۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...