Translater

22 ستمبر 2026

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پورا دیش کامیاب برکس سمٹ کی خوشیاں منارہا تھا اور سارے دیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی خوشیاں منائی جارہی تھیںیہ کیا صحیح وقت تھا متنازعہ تجویز لانے کا؟عزت مآب امت شاہ جی ممبئی تو گئے تھے مودی سرکار کے 25 سالہ کارناموں کو گنانےاور وہاں پہنچ کر اچانک اعلان کردیاکہ 2029 کے لوک سبھا چنائوسے پہلے دیش کی سبھی 21 بھاجپا حکمراں (بی جے پی۔این ڈی اے) نے یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کا اعلان ہے یا نہیں؟ امت شاہ جی کے بیان کے بعد دیش میں سیاسی ہلچل مچنا فطری ہی تھا اور ہنگامہ کھڑا بھی ہوگیا۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا تو دوسری طرف خود بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے بھی اس کے خلاف کھل کر احتجاج شروع کردیا۔ ادھر تیلگو دیشم پارٹی اب سے نہیں اٹل جی سرکار کے وقت سے ہی اس کی کھلی مخالفت کررہی تھی۔بھاجپا پر الزام لگایا گیا کہ وہ پرسنل لاءاور یکساں اختیارات جیسے پیچیدہ اشوز کو چناوی ہتھیار بنا رہی ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے کہا کہ پرسنل لاء اور یکساں حقوق جیسے پیچیدہ اشوز کو دیش میں نافذ کرنے کی تجویز عام چنائو سے پہلے بھاجپا کے اہم ہندوتو حمایتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ایک واضح سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی نے سرکار کے جنسی برابری اور ایک شکل پر امکانی زور کو خارج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس مسئلہ کو صرف الگ الگ فرقوں کو ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کے تحت لانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔اپوزیشن کا کہنا ہے ایک شکل کا مطلب یکساں نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا بھاجپا بےروزگاری ، مہنگائی اورر زرعی بحران اور طلبہ و زین جی کی پریشانیوں جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے ایک اور بٹوارہ مہم کی تیاری کررہی ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سابق ایم پی اور سینئرسی پی ایم لیڈر حنان ملا نے پیر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا پرسنل لاء میں شادی و طلاق ، وراثت، گود لینےاور خاندانی حقوق سے وابستہ حساس ترین اشو شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے ریاستوں یا فرقوں، قانونی ماہرین اور شہری سماج کے ساتھ ساتھ وسیع خیالات ، دماغی ضرورت سے اغراض مبنی ہوتی ہے۔ مرکز میں موجودہ بھاجپا این ڈی اے سرکار دو بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی جیسی پارٹیاں قومی سطح پر ایک طرفہ یکساں سول کوڈ قانون تھونپنے کے بجائے مقامی رضامندی اور حساسیت اپنانے کے حق میں رہے ہیں جے ڈی یو نیتا اس کے جائزے کی بات کہہ چکے ہیں۔سرکاروں کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے پر مرکزی سرکار پر اتحادی پارٹیوں کی حمایت ضروری ہے۔ اتحادی پارٹیوں کی اپنی اپنی ریاستوں میں الگ مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ اسے کیسے لاگو کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظ...