Translater

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے...