Translater

17 ستمبر 2019

سعودی کی سب سے بڑی تیل کمپنی ارامکو پر ڈرون حملہ

دنیا کی سب سے امیر تیل کمپنیوں میں شامل تیل کی ارامکو تیل کمپنی کی دو تیل ریفاینریوں کے پلانٹ پر سنیچر کی صبح تباہ ہو گئے سعودی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈرون حملوں سے پلانٹ میں لگی آگ پر گھنٹوں بعد قابو پایا جا سکا جس وجہ سے سعودیہ عرب کی پوری دنیا کو تیل سپلائی آدھی رہ گئی ہے اور پچاس لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بند ہوگئی ہے ۔یمن میں ایران حمایتی باغی تنظیم حوثی نے ان حملوں کی ذمہ داری لی ہے ۔تنظیم کے ایک ترجمان یحیٰ نے بتایا کہ حملے کے لئے دس ڈرون بھیجے گئے تھے انہوںنے دھمکی دی تھی کہ سعودی عرب پر مستقبل میں ایسے حملے ہو سکتے ہیں ۔بتا دیں کہ ڈرون 15سو کلو میٹر دور جا کر حملہ کرنے میں اہل ہیں ۔ارامکو کے دو بڑے کارخانوں پر حملوں کے بعد لگی آگ سے آسمان میں دھوئیں گے بادل چھا گئے ایران کے ساتھ چل رہی علاقائی کشیدگی کے درمیان یہ حملہ ہوا ہے ۔حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران سے وابسطہ حوثی باغی سعودی عرب میں تیل کارخانوں کےلئے کیسے سنگین خطرہ بن گئے ہیں ۔سعودی عرب دنیا میں کچے تیل کا سب سے بڑا برآمد کرنے والا ملک ہے ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ حملوں میں کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں اور نہ ہی تیل پر پیداوار کا اثر کا پتہ چلا ہے ۔حالایہ مہینوں میں حوثی باغیو ں نے سرحد پار سعودی عرب کے اڈوں اور دیگر اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں ۔جسے وہ یمن میں کی جارہی بمباری کا بدلہ بتاتے ہیں ارامکو کے فہران ہیڈ کوارٹر سے ساٹھ کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ابکیک پلانٹ کمپنی کے سب سے بڑے تیل ریفائنری کا گڑھ ہے ۔پہلے بھی آتنکوادی اسے نشانہ بناتے رہے ہیں القاعدہ کے فدائی دھماکوں نے فروری 2006میں اس تیل کمپنی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے ۔اس حملے سے دنیا کی طاقت کے ساتھ نیوکلیائی سمجھوتے کو لے کر امریکہ اور ایران کے آمنے سامنے ہونے سے کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے ۔امریکہ ،سعودی عرب خلیج میں ٹینکروں پر حملوں کے لئے ایران کو بھی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔یہ تازہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب سعودی عرب نے ارامکو کو شیر بازار میں اتارنے کی تیاری تیز رکر دی ہے ۔مشرقی وسطہ میں اس حملے سے کشیدگی اور بڑھے گی ۔

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...